

میاں نواز شریف نے مطالبہ کیا ہے کہ سابق صدر پرویز مشرف نےامریکہ سے جو خفیہ معاہدے کیے تھے انھیںمنظر عام پر لایا جائے۔ چند افراد کے ایک کمرے میں بیٹھ کر اہم فیصلے کرنے کا سلسلہ بند ہونا چاہیے اورملک کی تمام پالیسیاں پارلیمنٹ میں تشکیل دی جائیں۔ کچھ لوگ اپنے ذاتی مفاد کے لیے سیاسی افرتفری پیدا کرنا چاہتے ہیں انہوں نے کہا کہ پنجاب میں عدم استحکام سے ملک میں جمہوریت کو نقصان ہوگا، پیپلز پارٹی اس معاملے کو جتنی جلدی سمیٹ لے اتنا ہی اچھاہے۔انہوں نے مسلم لیگ قاف سے اتحاد کے امکان کو مسترد کیا اور کہا کہ اگر ایسا کرنا ہوتا تو صدارتی انتخاب سے پہلے کر لیا جاتا۔ انہوں نے آئین کی سترہویں ترمیم کے خاتمے کا مطالبہ بھی کیا اور کہا کہ معزول ججوں سے حلف اٹھوا کر صدر مشرف کے تین نومبر سنہ دوہزار سات کے اقدامات کی توثیق کی جا رہی ہے۔ میاں نواز شریف اپنی اہلیہ کے علاج کی غرض سے دو ہفتے پہلے لندن گئے تھے۔گزشتہ دنوں صدر پاکستان آصف زرداری بھی لندن کے نجی دورے پر گئے تاہم اس دوران ان کی نوازشریف سے ملاقات نہیں ہوئی تھی۔ پاکستان مسلم لیگ نون کے سرکردہ لیڈر اور قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف چوہدری نثار علی خان کوقومی اسمبلی کی پبلِک اکاونٹس کمیٹی کا بلامقابلہ چیئرمین منتخب کر لیا گیا ہے۔ پبلک اکاونٹس کمیٹی کے چیئرمین کے انتخاب کے لیے پارلیمنٹ ہاوس میں سیکرٹری قومی اسمبلی کرامت حسین نیازی کی صدارت میں اجلاس ہوا جس میں قومی اسمبلی میں نمائندگی رکھنے والی سیاسی جماعتوں کے انیس ارکان قومی اسمبلی نے شرکت کی۔ عوامی نیشنل پارٹی کے سربراہ اور خارجہ امور کے بارے میں قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی کے چیئرمین اسفندیار ولی خان نے چوہدری نثار علی خان کا نام بطور چیئرمین پبلک اکاونٹس کمیٹی کے تجویز کیا جبکہ پاکستان پیپلز پارٹی سے تعلق رکھنے والے رکن قومی اسمبلی امتیاز صفدر وڑائچ اور پاکستان مسلم لیگ قاف کے ریاض حسین پیرزادہ نے ان کی تائید کی۔ یہ پہلا موقع ہے کہ حزب اختلاف سے تعلق رکھنے والے رکن قومی اسمبلی کو پبلک اکاونٹس کمیٹی کا چیئرمین منتخب کیا گیا ہے۔ اس انتخاب کے بعد پارلیمنٹ ہاوس کے باہر میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو ہوئے چوہدری نثار علی خان نے کہاہے کہ وہ پارٹی وابستگی سے بالا تر ہوکر کام کریں گے اور ہر ایک کا احتساب ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ پبلک اکاونٹس کمیٹی کی سب کمیٹیاں بنائی جائیں گی جو گزشتہ پندرہ سال سے زیرالتوا کیسز کو نمٹائیں گی۔ چوہدری نثار علی خان کا بطور چیئرمین پبلک اکاونٹس کمیٹی انتخاب جمہوری روایات سے مطابقت رکھتا ہے اور دوسرے جمہوری ملکوں میں بھی یہی روایت ہے کہ قائد حزب اختلاف کو پبلک اکاونٹس کمیٹی کا چیئرمین بنایا جاتا ہے۔چوہدری نثار علی خان اس سے پہلے جتنی بھی پبلک اکاونٹس کمیٹیاں بنی ہیں ان میں سب میں شامل رہے ہیں۔پبلک اکاونٹس کمیٹی کو پارلیمنٹ کی سب سے بااختیار کمیٹی تصور کیا جاتا ہے اور یہ کمیٹی سرکاری اداروں میں ہونے والی بےضابطگیوں اور بالخصوص مالی بدعنوانیوں کا پتہ چلاتی ہے اور اس ضمن میں وہ کسی بھی اعلی شخصیت اور کسی بھی ادارے کے سربراہ کو طلب کرسکتی ہے۔ پاکستان پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ نون کے درمیان طے پانے والی میثاق جمہوریت میں یہ کہا گیا تھا کہ پبلک اکاونٹس کمیٹی کا چیئرمین حزب اختلاف سے ہوگا۔ واضح رہے کہ قومی اسمبلی میں 46 قائمہ کمیٹیاں ہیں جن میں سے چار قائمہ کمیٹیوں کے چیئرمین کا انتخاب ہوچکا ہے اور چاروں قائمہ کمیٹیوں کے چیئرمین بلا مقابلہ منتخب ہوئے ہیں۔ ا±ن میں جمعیت علمائے اسلام کے اپنے ہی دھڑے کے سربراہ مولانا فضل الرحمن کو قومی اسمبلی کی کشمیر کمیٹی، عوامی نیشنل پارٹی کے سربراہ اسفندریار ولی کو خارجہ امور جبکہ پاکستان پیپلز پارٹی کے غلام مصطفی شاہ کو پانی وبجلی کی قائمہ کمیٹیوں کآ چیئرمین منتخب کیا گیا ہے۔ دریں اثناء پاکستان میں تعینات امریکی سفیر این پیٹرسن نے بھی قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف چوہدری نثار علی خان سے ملاقات کی جس میں ملکی سیاسی صورتحال اور دوطرفہ امور پر تبادلہ خیال کیا گیا ہے۔ واضح رہے کہ امریکی سفیر نے چند روز قبل وفاقی وزیر قانون فاروق ایچ نائیک سے ملاقات کی تھی اور ان سے لاپتہ ہونے والے افراد کے بارے میں تبادلہ خیال ہوا تھا۔ قومی اسمبلی سیکرٹیریٹ نے گذشتہ بدھ کو پاکستان مسلم لیگ نون کے سینئر نائب صدر چوہدری نثار علی خان کا قومی اسمبلی میں بطور قائد حزب اختلاف کا نوٹیفکیشن جبکہ قومی اسمبلی کی سپیکر ڈاکٹر فہمیدہ مرزا نے قومی اسمبلی میں سابق قائد حزب اختلاف چوہدری پرویز الہی کا استعفی بھی منظور کر لیا تھا۔ پاکستان مسلم لیگ قاف کے مرکزی رہنما اور پنجاب کے سابق وزیر اعلی چوہدری پرویز الہی قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف تھے لیکن پاکستان مسلم لیگ نون کے حکمراں اتحاد سے علیحدہ ہونے اور ان کی قومی اسمبلی میں زیادہ نشستیں ہونے کی وجہ سے چوہدری پرویز الہی اس عہدے سے مستعفی ہوگئے تھے۔ پاکستان مسلم لیگ نون اس وقت پاکستان پیپلز پارٹی کے بعد قومی اسمبلی میں دوسری بڑی سیاسی جماعت ہے اور اس ایوان میں ان کے ارکان کی تعداد اکیانوے ہے جبکہ پاکستان مسلم لیگ قاف کے ارکان کی تعداد 54 ہے۔ پاکستان مسلم لیگ نون نے اپوزیشن بینچوں پر ان کی جماعت کو نشستیں الاٹ کرنے کی درخواست قومی اسمبلی میں پہلے سے ہی جمع کر وارکھی ہے۔ لیکن کسی و جوہات کی بنا پر پاکستان مسلم لیگ نون کے ارکان کو اپوزیشن بینچوں پر نشستیں صدر آصف علی زرداری کے 20 ستمبر کو پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس کے بعد الاٹ کی جائیں گی۔ عوام نے پاکستان مسلم لیگ نون سے اس توقع پر امید کا اظہار کیا ہے کہ وہ حزب اختلاف میں رہ کر اپنا کردار موثر طریقے سے ادا کرے گی اور وہ قومی امور اور اچھے اقدامات پر حکومت کا ساتھ دے گی اور کسی بھی ایسے عمل کا حصہ نہیں بنے گی جو عوام اور ملک دشمن پالیسیوں کا حصہ ہوگا۔ اور نہ ہی ذاتیات پر آکر ایسا کوئی اقدام کرے گی جس میں موجودہ حکومت کو غیر مستحکم کیا جاسکے اور حکومت سے عوام یہ بھی درخواست کرتے ہیں کہ پارٹی کے اندر ایسے بے لگام افراد کو لگام دی جائے جوجمہوریت کو پٹری سے اتارنے کیلئے پنجاب حکومت کو گرانے کیلئے اپنی توانائیاں صرف کر رہے ہیں۔ اگر انھیں ایسی ہی کسی مہم جوئی اور منصو بہ بندی کا شوق ہے تو ملک میں عوام کا خون نچوڑا جا رہا ہے اس حوالے سے کوئی منصوبہ بندی کرکے حکومت کی معاونت کریں تا کہ عوام یہ جان سکیں کہ اب مشرف کا عملی طور پر دور ختم ہو چکا ہے۔اے پی ایس
No comments:
Post a Comment