
جب امریکہ نے سات اکتوبر 2001ءکو افغانستان پر حملہ کیاتو معروف تجزیہ نگار وں نے کہا کہ امریکہ اب دلدل میں پھنس جائے گااور امریکہ کبھی بھی یہ جنگ نہیں جیت سکتا ۔ اس وقت امریکہ طاقت کے نشے میں مست تھا سمجھتا تھا کہ دنیا کی جدید ترین اسلحہ رکھنے والی امریکی فوج اور فضائی طاقت جو کسی ملک کے پاس نہیں ۔جدید تقاضوں کے مطابق تربیت یافتہ فوج اور مدمقابل دنیا کے پسماندہ ترین ملک افغانستان کے غیر تربیت یافتہ انتہا پسند اس لیئے وہ چند دنوں میں ہی اہداف حاصل کر لے گا۔ اس جنگ کو چنددن بعد سات سال مکمل ہو جائیں گئے آج امریکہ دلدل میں پھنس چکا ہے۔ بتائی گئی تعداد سے زیادہ امریکہ و نیٹو فوجی مارے جا چکے ہیں بے شمارزخمی ہیں ۔ طالبانا کے حملے بڑھتے جارہے ہیں ۔لیکن ہنوز دلی دور است کہے مصداق وہ تاحال ناکام ہے ۔ امریکی و نیٹو فورسز کا کوئی کارنامہ نظر نہیں آرہا۔ اور وہ طالبان کافی عرصہ سے ایک ہی بات کی رٹ لگائی ہوئی ہے کہ پاکستان کے قبائلی علاقوں سے آکر طالبان حملے کرتے ہیں ۔ قبائلی علاقے طالبان کی محفوظ پناہ گاہیں ہیں۔کبھی کہتے ہیں کہ اسامہ اور الظواہری کے ٹو میں چھپے ہوئے ہیں پاکستان نے ہمیشہ کہا کہ اگر آپ کے پاس اس حوالے سے ٹھوس شواہد موجود ہیں تو دیں ہم کارروائی کریں گئے۔ امریکہ نے پاکستان کو ثبوت فراہم کرنے کی بجائے جاسوس طیاروں کے ذریعے قبائلی علاقوں پرمیزائل برسانا شروع کردیئے جس سے معصوم اور نہتے خواتین ،بچے ،بوڑھے شانہ بن رہے ہیں اس صورتحال کو دیکھتے ہوئے پاکستانی فوج نے بھی جوابی کارروائی کا حکم دیا تو امریکہ میں کھلبلی مچ گئی نیٹو کے سربراہ نے پاکستان کے خلاف کارروائی کا حصہ بننے سے انکار کر دیا تو امریکہ مشکل میں پڑ گیاجس کی وجہ سے مائیکل مولن امریکی چیئرمین جوائینٹ چیف آف آرمی سٹاف بھاگم بھاگ پاکستان کے دورے پر پہنچ گئے۔ دورے کے دوران پاکستان کے وزیراعظم نے واضع کہا کہ ملکی سالمیت کا ہر قیمت پر دفاع کریںگے اور جنرل اشفاق جنرل کیانی نے بھی کہا کہ پاکستان کی حدود میں کارروائی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ادھر امریکہ کی طرف سے بھی بیان آتے ہیں کہ امریکہ پاکستان کی خودمختاری کا احترام کرتا ہے مگر حملے بھی جاری ہیں ۔ مائیکل مولن مذاکرات کے لئے آئے ہوئے تو قبائلی علاقوں پر حملہ کیوں ۔ دوغلی پالیسی اب کامیاب نہیں ہو سکتی اگر واقعی پاکستان کی خودمختاری کا احترام کرنا ہے تو حملے بند کریں اور دہشت گردوں کی موجودگی کے ثبوت پاکستان فورسز کو دیں پاکستان فوج خود کارروائی کرے گی پاکستانی فوج بہتر طریقے سے کارروائی کر سکتی ہے ۔ امریکہ ایک بار پھر اسی ہٹ دہرمی سے کام ہے رہا ہے جو سات اکتوبر 2001ءکو دکھائی تھی جس وجہ سے امریکہ میں معاشی بحران پیدا ہو چکا ہے ایک معروف بنک دیوالیہ ہو چکا ہے۔مزید کئی بنک دیوالیہ ہونے کے قریب پہنچ چکے ہیں ۔امریکہ کا خواب تھا کہ پسماندہ ترین طالبان کو چند منٹوں میں زیر کر کے افغانستان کو اپنا مستقل اڈا بنائیں گئے افغانستان میں ہی بیٹھ کر ایران، روس ، پاکستان اور چائنہ کو کنٹرول کریں گے تو یہ امریکی خواب کبھی بھی پورا نہیں ہو گا ۔ اگر امریکہ مزید بربادی سے بچنا چاہتا ہے تو اسکا واحد راستہ یہ ہے کو فوری طور پر افغانستان اور عراق سے نکل جائے کیونکہ افغانستان اور عراق میں لاکھوں شہریو ںکو قتل کیا جا چکا ہے۔ کسی قسم کی کامیابی دور دور تک نظر نہیں آرہی اسکے برعکس امریکی فوج نفسیاتی مریض بن چکی ہے ۔چھٹی پر جانے والے فوجی غائب ہو جاتے نہیں نیٹو فوج کو معلوم ہو چکا ہے کہ وہ افغانستان جنگ نہیں جیت سکتے اور اب پاکستان کے ساتھ جنگ بڑی غلطی ہوگئی بہت سے ممالک امریکہ کو باز رہنے کا مشورہ دے رہے ہیں۔ یہ وقت ہے کہ امریکہ سمجھداری اور دوراندیشی سے کام لے اور وقت کی نذاکت کو سمجھے صرف الیکشن جیتنے کے لئے اس طرح کے اقدامات نہ کرے ۔ کیونکہ اب بین الاقوامی برادری بھی امریکی عزائم جان چکی ہے ۔۔ امریکی معیشت ڈانواں ڈول ہے امریکی حکمراٹھنڈنوں کو چاہیے کہ وہ ے دماغ سے سوچیں۔ اور امریکی عوام کا مستقبل دائو پر نہ لگائیں۔ اے پی ایس
1 comment:
Very excellent your article
Post a Comment