
دہشت گردی کے خلاف جنگ میں جولائی 2007 ء سے پاکستان کے1,386 سیکورٹی اہلکار شہید اور تین ہزار تین سو اڑتالیس زخمی ہوئے ہیں۔نجی ٹی وی نے ذرائع کے حوالے سے رپورٹ دی ہے کہ دہشت گردی کے خلاف امریکی جنگ میں پاکستان کو شدید جانی نقصان اٹھانا پڑر ہا ہے، نائن الیون کے بعد سے اب تک اٹھاسی خودکش حملے ہوئے ہیں جن میں ایک ہزار ایک سو اٹھاسی افراد شہید اور تین ہزار دو سو نو زخمی ہوئے۔ خودکش حملوں کا سب سے بڑا شکار عوام بنے اور آٹھ سو سینتالیس شہری شہید ہوئے۔ خودکش حملوں میں ایک سو چوہتر فوجی، ایک سو بائیس پولیس اور پینتالیس ایف سی اہلکار شہید ہوئے۔ سیکورٹی فورسز نے ملک دشمن سرگرمیوں میں ملوث پینتیس غیر ملکی ایجنٹس گرفتار کئے، ذرائع کے مطابق براہمداغ بگٹی افغانستان میں بیٹھ کر ریاست مخالف سرگرمیوں ملوث تھا۔ براہمداغ بگٹی کی سرگرمیوں کے بارے میں افغان حکومت سے مسلسل رابطے میں ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاک فوج کو کسی قسم کے غیرملکی فنڈز براہ راست نہیں ملے۔ اس جنگ میں امریکا کی جانب سے معلومات کا تبادلہ محض دعوٰی ہے اور بعض اوقات ایک ماہ پرانی معلومات دی جاتی ہیں۔ ذرائع نے یہ بھی کہا ہے کہ بغیر پائلٹ جاسوس طیارے راڈار پر نظر نہیں آتے، ان جاسوس طیاروں کے بارے میں جاننے اور راڈار کی ٹیکنالوجی میں اضافے کی ضرورت ہے۔سوات میں جاری آپریشن کے بارے میں ذرائع کا کہنا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ جاری ہے اور اسے ختم کرنے کی حتمی تاریخ نہیں دے سکتے۔جبکہ ریپبلکن صدارتی امیدوار جان مک کین نے نائب صدر کی امیدوار سارہ پالن کے اس بیان کے بارے میں کہ دہشت گردوں کے خلاف پاکستان کی حدود میں کارروائی بلاجواز نہیں کہا ہے کہ سارہ پالن نے جو کہا وہ پالیسی بیان نہیں تھا اور زیادہ تر امریکی اسے صحیح نہیں سمجھیں گے۔الاسکا کی گورنر سارہ پالن نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ ہم صدر زرداری کے ساتھ مل کر پاکستان سے افغانستان میں داخل ہونے والے دہشت گردوں کو روکنے کے لئے اقدامات کررہے ہیں۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا امریکا پاکستان میں سرحد پار کارروائی کرے گا تو سارہ پالن نے کہا کہ ضرورت پڑنے پر ہمیں ضرور حملہ کرنا چاہئے۔جبکہ یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ صدر پرویز مشرف کے معتمد خاص طارق عزیز کو موجودہ حکومت میں اہم ذمہ داریاں سونپے جانے کا امکان ہے ۔ذرائع کے مطابق اسی مقصد کیلئے صد رمشرف کے دورحکومت میں صدر پرویز کا دائیاں بازوکہلانے والے طارق عزیز پیر کو لندن سے اسلام آباد پہنچیں ہیں۔طارق عزیز کو ایوان صدر یا ملک سے باہر سفیر کے طور پر ذمہ داریاں سونپی جاسکتی ہیں۔طارق عزیز 18اگست کو صدر پرویز کے استعفیٰ کے بعد لندن چلے گئے تھے۔جبکہ ایک خبر رساں ادارے نے یہ بھی دعوی کیا ہے کہ امریکہ کے دورے کے دوران صدر آصف علی زرداری اور مسلم لیگ (ق) کے مرکزی رہنما چوہدری پرویز الٰہی کے درمیان اہم خفیہ ملاقات کا انکشاف ہوا ہے۔ دونوں رہنماو¿ں نے نیو یارک کے کسی خفیہ مقام پر اہم ملاقات کی ہے۔ جس میں اہم امور پر تفصلی تبادلہ خیال ہوا۔ چوہدری پرویز الٰہی کے ساتھ ان کے بیٹے مونس الہیٰ بھی تھے۔ نیویارک میں صدر پاکستان آصف علی زرداری اور پاکستان مسلم لیگ (ق) کے مرکزی رہنما چوہدری پرویز الٰہی جو اپنے بیٹے مونس الٰہی کے ہمراہ امریکہ کے نجی دورے پر تھے کے درمیان نیو یارک کے کسی خفیہ مقام پراہم اور تفصیلی ملاقات ہوئی ہے ۔چوہدری پرویز الٰہی اپنے بیٹے مونس الٰہی کے ہمراہ ہفتہ کے دن دو بجے ورجنیا کے ڈلیس ایئر پورٹ سے امریکہ کی ایک مقامی ایئر لائن کے ذریعے نیو یارک پہنچے ، جہاں ان کی آصف علی زرداری کے ساتھ خفیہ طور پر تفصیلی ملاقات ہوئی ۔چوہدری پرویز الٰہی اسی رات اہم ملاقات کر کے واپس واشنگٹن پہنچ گئے جہاں سے وہ گزشتہ روز شام پانچ بجے برٹش ایئر ویز کے ذریعے واپس پاکستان کے لیے روانہ ہو گئے۔جبکہ قائد حزب اختلاف چوہدری نثار نے کہا ہے کہ آصف علی زرداری نے دورہ امریکہ میں اپنی پالیسی واضح کر دی ہے پارلیمنٹ پر ایک بار پھر پرویز مشرف پالیسی مسلط کی جا رہی ہے۔ آصف علی زرداری کو چاہیے تھا کہ یہاں پارلیمنٹ سے پالیسی لے کر جاتے اور وہاں جا کر صرف آگاہ کرتے لیکن آصف علی زرداری نے بش کی زبان بول کرنا امید کیا ہے۔ بے نظیر بھٹو کے قتل کے بارے میں کہا گیاتھا کہ اس میں طالبان ملوث نہیں امریکی دورے کے بعد کہا جا رہا ہے کہ اس میں بیت اللہ مسعود ملوث ہے۔ ان خیالات کا اظہار قائد حزب اختلاف نے اسلام آباد میں ایک گزشتہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ صدر پاکستان کے حالیہ دورہ امریکہ کا ذکر کرتے ہوئے چوہدری نثار احمد نے کہا کہ سمجھ نہیں آتی کہ ایک با عزت قوم کے سربراہ کے طور پر قوم کا نظریہ اقوام متحدہ میں کیوں نہیں پیش کیا گیا ۔ پاکستانی شہری ہونے کے ناطے میںاور ہر محب وطن پاکستانی یہ کہتا ہے کہ ہمیں ایسا صدر چاہیے جس سے پاکستان کے عوام خوش ہوںا ور جو پاکستان کے مفادات کا تحفظ کر سکے ۔ پارلیمنٹ پر ایک بار پھر مشرف پالیسی مسلط کی جا رہی ہے۔ پیپلز پارٹی کے صدارت کا ذکر کرتے ہوئے چوہدری نثار نے کہا کہ آصف علی زرداری ابھی تک پیپلز پارٹی کے شریک چیئر مین ہیں اور اس سے اس بات کا خدشہ ہے کہ ان کے ارشادات کی روشنی میں پی پی پارلیمنٹیر ینز کو پارلیمنٹ میں کسی حد تک آزادی ہو گی اور وہ دوسرے پارلیمنٹرین کی طرح اپنی سوچ وضع کر سکیں گے۔ خارجہ پالیسی کا ذکر کرتے ہوئے چوہدری نثار نے کہا کہ ایران ہر کڑی آزمائش میں پاکستان کے ساتھ ہمیشہ کھڑا رہا لیکن ہماری خارجی پالیسی کی ترجیحات میں ایران کے بارے میں خاطر خواہ ذکر ہی نہیں۔ انہوں نے کہا کہ آصف علی زرداری کی بات خوشکن تھی کہ صدر بننے کے بعد وہ پہلے چین کا دورہ کرتے لیکن وعدہ کی پاسداری نہ کرتے ہوئے وہ لندن اور امریکہ کے دورے پر چلے گئے ۔ انہوں نے کہا کہ جو بیان حکومت کو دینا چاہیے وہ آرمی چیف سے دلوایا جاتا ہے ۔ اسی طرح چین خود جانا تھا لیکن آرمی چیف کو بھجوا دیا گیا ۔ اقتصادی حالات کا ذکر کرتے ہوئے چوہدری نثار نے کہا کہ موجودہ اقتصادی صور تحال پر پارلیمنٹ میں ایک سحر حاصل گفتگو ہونی چاہیے ۔ انہوں نے کہا کہ اس سے پہلے ہی ایسے حالات آئے لیکن ان پر احسن طریقے سے قابو پایا گیا ۔انہوں نے کہا کہ عین اس موقع پر ایڈ دی جارہی ہے جب ہمیں زیادہ سے زیادہ فوجی کارروائی کرنے کا بھی دباو¿ ہے اور اس سے ایک بار پھر آئی، ایم ایف پروگرام کو قوم پر مسلط کیا جا ئے گا۔خود کش دھماکوں کا ذکر کرتے ہوئے قائد حزب اختلاف نے کہا کہ ابھی تک یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ ان دھماکوں کے پیچھے کون سے غیر ملکی ہاتھ اور ملکی عناصر شامل ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ عوام کو پہلیاں بھجوائی جا رہی ہیں۔ بے نظیر بھٹو کے قتل کے بعد آصف علی زرداری نے کہا کہ اس میں طالبان کا ہاتھ نہیں اور آج امریکہ سے واپسی پر کہا جا رہا ہے کہ بیت اللہ مسعود شامل ہے۔جبکہ حکومت نے گندم کی امدادی قیمت625 روپے سے بڑھا کر 950روپے فی40 کلو گرام کر دی ہے۔ ملک میں افراط زر میں اضافے کی وجہ سے مہنگائی میں اضافہ ہوا ہے حکومت نے فوڈ سیکورٹی کے لئے اہم اقدامات کیے ہیں اس سال کاشتکاری مہم کا آغاز کیا جا رہا ہے۔ اور چاروں صوبوں کے وزراء اعلیٰ کو بھی ہدایت ہے کہ وہ کاشت کاری مہم کا خود افتتاح کریںکسانوں کو بے نظیر زرعی کارڈ جاری کر نے اور ضرورت مند لوگوں کے لئے ایک ہزار روپے ماہانہ دینے کا بھی اعلان کیاجبکہ اسلام آباد میں وفاقی کابینہ کے اجلاس کے بعدمیڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے وزیر اعظم سید یوسف رضا گیلانی نے کہا کہ حکومت نے گندم کی امدادی قیمت625 روپے سے بڑھا کر 950روپے فی40 کلو گرام کر دی ہے انہوں نے کہا کہ گندم کی امدادی قیمت میں اضافے سے اس کی 80فیصد تک اسمگلنگ کم ہو جائے گی انہوں نے کہا کہ کسانوں کی سہولت کے لئے بے نظیر زرعی کارڈ کے اجراء کا فیصلہ کیا گیا ہے وزیر اعظم نے کہا کہ حکومت فصلوں کی انشورنس سکیم شروع کر رہی ہے جس کا پریمیم 1.5 فیصد ہو گا چھوٹے کسانوں کی پریمیم کی رقم حکومت خود ادا کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ گرین ٹریکٹر ز اسکیم کا جائزہ لینے کے لئے کمیٹی قائم کر دی گئی ہے اس اسکیم سے کسانوں کو سستے ٹریکٹرز بھی مل سکیں گے وزیر اعظم نے کاشتکاروں سے اپیل کی کہ گندم کی پیداوار میں 3من فی ایکڑ اضافے کی کوشش کی جائے تا کہ 2کروڑ 50لاکھ ٹن گندم کا پیداواری ہدف حاصل کیا جا سکے وزیر اعظم نے کہا کہ وہ خود گندم کی بوائی مہم کا افتتاح کریں گے اور چاروں صوبوں کے وزراء اعلیٰ کو بھی اس کی تقلید کر نے کو کہا جائے گا تا کہ لوگوں میں زیادہ گندم اگانے کے حوالے سے ضروری آگاہی پیدا کی جا سکے ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ کاشتکار بے نظیر زرعی کارڈ سکیم کے تحت زرعی ترقیاتی بنک کے ساتھ ساتھ کمرشل بینکوں سے بھی قرضہ حاصل کر سکیں گے وہ یہ قرض فصل کاٹنے کے بعد واپس کریں گے وزیر اعظم نے صوبوں اور وزارت داخلہ کو ہدایت کی کہ وہ گندم اور دیگر اجناس کی اسمگلنگ کے خاتمے کے لئے ضروری اقدامات کریں انہو ںنے اس بات کی بھی یقین دہانی کر ائی کہ اس سال کے آخر تک ملک میں پانی کی کوئی کمی نہیں ہو گی اور آئندہ سال کے آخر تک ملک سے لوڈ شیڈنگ کا خاتمہ کر دیا جائے گا ۔ اور کسانوں کی سہولت کے لئے بے نظیر زرعی کارڈ سکیم متعارف کرائی جا رہی ہے اور اس کے علاوہ 34 ارب روپے سے بے نظیر انکم سپورٹس پروگرام شروع کر دیا گیا ہے وزیراعظم نے کہا کہ معاشی حالات کو بہتر بنانے کے لئے حکومت مشکل فیصلے کر رہی ہے پہلا سال مشکل ہو گا پھر بہتری آئے گی انہو ںنے کہا کہ کسانوں کو کھاد اور دیگر ضروری اشیاء کی فراہمی پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے وزیر اعظم نے کہا کہ ابھی تک ڈھائی کروڑ افراد نے نادرا شناختی کارڈ نہیں بنوائے حالانکہ ہم نے بغیر فیس کے بنوانے کا اعلان کر رکھا ہے وزیر اعظم نے کہا کہ جن افراد کے پاس نادرا شناختی کارڈ نہیں ہوں گے وہ حکومت کی طرف سے خصوصی سہولیات سے مستفید نہیں ہو سکیں گے وزیر اعظم نے کہا کہ حکومت غریبوں کو ریلیف دینے کے لئے مختلف سکیمیں شروع کر رہی ہے وزیر اعظم نے کہا کہ گڈ گورننس لانے کے لئے اپنی پالیسیوں کو بہتر بنانا ہے وزیر اعظم نے کہا کہ ہم ایک مستحکم حکومت بنانا چاہتے ہیں اب مانگے تانگے سے کام نہیں چلے گا انہوں نے کہا کہ ایک مستحکم بنیاد کے لئے مشکل فیصلے کر نا پڑ رہے ہیں ہمیں ملک کا مفاد دیکھنا ہے اور دیکھنا ہے کہ ملک کو صحیح سمت پر کیسے لانا ہے وزیر اعظم نے کہا کہ کسانوں کی تمام مشکلات کا ازالہ کیا جائے گا اور ان کی تمام شکایات بہت جلد دور ہو جائیں گی وزیر اعظم نے کہا کہ ترقیاتی کام شروع ہو چکے ہیں پانی کی کمی کے لئے ہم نے چھوٹے ڈیموں پر کام شروع کر دیا ہے اور بہت جلد پانی کی کمی پر قابو پا لیا جئاے گا ایک سوال پر وزیر اعظم نے کہا کہ جب نئی فصل کی گندم مارکیٹ میں آئے گی اگر اس کی قیمت مارکیٹ میں 950سے کم ہوئی تو حکومت اسے 950روپے پر ہی خریدے گی اس موقع پر وزیر اعظم سید یوسف رضا گیلانی نے ضرورت مند لوگوں کے لئے ایک ہزار روپے ماہانہ دینے کا اعلان کیا جس کے تحت 3.4ملین روپے تقسیم کیے جائیں گے اور ان پیسوں کو گھر کی خاتون خانہ ہی وصول کر سکیں گی تا کہ ان کو احساس ہو کہ یہ گھر ان کو چلانا ہے انہوں نے کہا کہ صحیح ضرورت مند لوگوں تک پہنچنے میں شروع میں دشواری ہو گی لیکن ہم جلد ہی ایک صحیح نظام بنانے میں کامیاب ہو جائیں گے۔ اس سے پہلے وزیر اعظم سید یوسف رضا گیلانی کی زیرصدارت وفاقی کابینہ کا خصوصی اجلاس ہوا جس میں قبائلی علاقوں اور ملک بھر میں امن و امان کی صورتحال خوراک،پانی اور بجلی کے بحرانوں سمیت دیگر معاملات پر تفصیلی غور کیا گیا اس موقع پر گندم کی نئی امدادی قیمت اور گندم کی پیداوار میں اضافے کے لئے مختلف اقدامات کا بھی جائزہ لیا گیا۔اے پی ایس
No comments:
Post a Comment