
پاکستان کے عوام کا اپنے ہر دلعزیز صدر آصف زرداری سے مطا لبہ ہے کہ قبائلی علاقوں میں امریکی جارحیت کے حوالے سے لائحہ عمل تیار کرنے اور نئے سرے سے خارجہ پالیسی مرتب کرنے کے لئے فوری طور پر پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس بلایا جانا چاہیے۔ نئی خارجہ پالیسی مرتب کرنا تووقت کی ضرورت ہے اور یہ حکومت کا کام ہے کہ وہ پہلے اس بارے میں فیصلہ کرے ۔ حکومت پیپلز پارٹی کی ہے ۔ وزیر اعظم بھی اس کا ہے اور صدر بھی پاکستانی علاقے میں امریکہ کی فوجی مداخلت کے حوالے سے پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس اچھا ہے ۔ لیکن وزیر اعظم کی یہ بات انتہائی افسوس کا باعث بنی کہ ہم امریکہ کے ساتھ جنگ نہیں کر سکتے ۔ اس وقت تو لوگوں کو اعتماد کی ضرورت ہے اور اگر وزیراعظم ایسی مایوسی کی باتیں کریں گے تو لوگوں میں اعتماد کیسے آئے گا۔پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس بھی ہونا چاہیے اور صدر اور وزیر اعظم کو آرمی چیف کی طرف ایک مضبوط اور ٹھوس بیان دینا چاہیے ۔ یہ کیسے ممکن ہے کہ پاکستان پر امریکہ حملے کرے ۔ پاکستانی لوگوں کو قتل کر ے اور پاکستان اس کے ساتھ اتحاد کر ے ان ہنگامی حالات میں تو فوری طور پر پارلیمنٹ مشترکہ اجلاس بلایا جانا چاہیے۔ جبکہ صدر مملکت کی جانب سے پاکستان مسلم لیگ(ن) کے وزراء کے استعفوں کی باضابطہ منظوری پر پاکستان مسلم لیگ(ن) کو اپوزیشن جماعت کی حیثیت حاصل ہو گئی ہے ۔ پارٹی کے دونوں ایوانوں کے اراکین اپنے اپنے ایوان میں اپوزیشن نشستیں سنبھال لیں گے ۔ صدر آصف علی زردری کے پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس کے خطاب کے موقع پر پاکستان مسلم لیگ(ن) کو ایوان میں اپوزیشن بینچ الاٹ ہوں گے۔ قومی اسمبلی سیکرٹریٹ کے ذرائع کے مطابق پاکستان مسلم لیگ(ن) کو اپوزیشن بینچ الاٹ کیے جانے کے بارے میں ضروری کارروائی شروع کردی گئی ہے ۔ پندرہ ستمبر پیر تک پاکستان مسلم لیگ(ن)کو اپوزیشن نشستیں الاٹ کرنے کا فیصلہ کرلیا جائے گا ۔ا سی روز سپیکر قومی اسمبلی کی جانب سے پاکستان مسلم لیگ(ن) کے رہنما چوہدری نثار علی خان کو قائد حزب اختلاف مقرر کیے جانے کا نوٹیفکیشن جاری کرنے کا بھی امکان ہے۔صدر آصف علی زر داری نے وزیر اعظم سید یوسف رضا گیلانی کی ایڈوائس پر پاکستان مسلم لیگ ن کے9 وزراءکے استعفے منظور کر لیے ہیں ایوان صدر سے سرکاری اعلامیہ جاری کر دیا گیا ہے صدر کو وزیر اعظم کی جانب سے مسلم لیگ ن کے وزراءکے استعفوں کی منظوری کے بارے میں تحریری طور پر مشورہ دیا گیا تھا صدر مملکت نے پاکستان مسلم لیگ ن کے جن وزراءکے استعفے منظور کیے ہیں ان میں سینئر وفاقی وزیر چوہدری نثار علی خان ۔وزیر خزانہ اسحاق ڈار،وزیر پٹرولیم و قدرتی وسائل خواجہ محمد آصف ،وفاقی وزیر تعلیم احسن اقبال،وزیر تجارت شاہد خاقان عباسی،وفاقف وزیر ثقافت و امور نوجوانان خواجہ سعد رفیق،وزیر سائنس و ٹیکنالوجی تہمینہ دولتانہ ، وزیر دفاعی پیداوار رانا تنویر اور وزیر ریلوے سردار مہتاب احمد خان شامل ہیں صدر مملکت کی جانب سے استعفوں کی باضابطہ منظوری پر اب پاکستان مسلم لیگ ن کے اراکین پارلیمنٹ اپوزیشن بینچوں پر بیٹھیں گے۔ججز کی بحالی کے مسئلے پر ن لیگ نے وفاقی کابینہ سے علیحدگی کی ہے حکومت کی جانب سے بار بار ات بات پر اصرار کیا جاتا کہ ن لیگ اپنا یہ فیصلہ واپس لے مگر ججز کی بحالی نہ ہو نے کی وجہ سے مسلم لیگ ن نے اپنا فیصلہ نہ بدلا اور استعفے منظور کر نے پر اصرار کیا جاتا رہا جس پر حکومت کو ان کے استعفیٰ منظور کر نے پڑے دو روز قبل وزیر اعظم اور صدرآصف علی زر داری نے اس بات کا فیصلہ کیا کہ ن لیگ کے وزراء کے استعفیٰ منظور کر لئے جائیں تا کہ وہ باضابطہ طور پر کابینہ سے الگ ہو جائیں دو روزقبل وزیر اعظم نے صدر کو ایڈوائس بھیجی کہ ن لیگ کے وزراءکے استعفیٰ منظور کر لئے جائیں بالاخر ہفتہ کو صدر نے ان کے استعفیٰ منظور کر لئے ہیں ذرائع کے مطابق ن لیگ کے وزراء باضابطہ طور پر حکومت سے الگ ہو گئے ہیں اور کابینہ میں توسیع کا الگ ہفتہ امکان ہے ذرائع کے مطابق کابینہ میں ایم کیو ایم ،اے این پی اور جے یو آئی کے وزراء شامل کیے جائیں گے اور پیپلز پارٹی کے مزید وزراء بھی شامل کیے جائیں گے اس کے علاوہ وزراءمملکت بھی نئے مرحلے میں کابینہ میں شامل ہوں گے۔ جبکہ سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے انتخابات کے لیے شیڈول کا اعلان کردیا گیا ہے یہ انتخابات 28 اکتوبر کو ہوں گے جبکہ انتخابات کے نتائج کا اعلان اکتیس اکتوبر کو کیا جائے گا۔ سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے سیکریٹری چوہدری محمد امین جاوید کی طرف سے جاری ہونے والے بیان کے مطابق ان انتخابات کے لیے کاغذات نامزدگی آٹھ اکتوبر کو اسلام آباد اور لاہور میں سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے دفاتر میں جمع کروائے جاسکتے ہیں۔ سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے سیکرٹری کا کہنا ہے کہ ان انتخابات میں صرف وہی ارکان حق رائے دہی استعمال کر سکتے ہیں جو 25 اکتوبر تک اپنے واجبات ادا کر دیں گے۔ اعتزاز احسن گروپ کی طرف سے وکیل رہنما علی احمد کرد کا نام سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے عہدہ صدارت کے ا?میدوار کے طور پر سامنے آیا ہے۔ مبصرین ان انتخابات کو بڑی اہمیت دے رہے ہیں اور ا?ن کا کہنا ہے کہ اگر اعتزاز احسن گروپ ان انتخابات میں کامیاب ہوجاتا ہے تو پھر سپریم کورٹ کے معزول چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری سمیت اعلیٰ عدالتوں کے دیگر ججوں کی بحالی اور عدلیہ کی آزادی کے لیے جاری تحریک میں تیزی آئے گی اور اگر انتخابات میں حکومت کا حمایتی گروپ کامیابی حاصل کرلیتا ہے تو وکلاءکی یہ تحریک جو پہلے ہی اعلیٰ عدالتوں کے کچھ ججوں کی طرف سے نیا حلف اٹھانے سے ماند پڑ چکی ہے، دم توڑ جائے گی۔ اعلیٰ عدالتوں کے کچھ ججوں بالخصوص سپریم کورٹ کے تین ججوں کے دوبارہ حلف ا?ٹھانے کے بعد وکلاء مختلف دھڑوں میں بٹے ہوئے ہیں اور ان میں سے ایک دھڑا پیپلز پارٹی کے سینیٹر اور اٹارنی جنرل لطیف کھوسہ کے ساتھ بھی ہے۔ اٹارنی جنرل پاکستان لطیف کھوسہ نے یہ بھی کہا ہے کہ آصف علی زر داری چاہیں بھی تو افتخار محمد چوہدری کو بحال کر کے بھی چیف جسٹس نہیں بنا سکتے اٹارنی جنرل نے کہا ہے کہ موجودہ چیف جسٹس عبدالحمید ڈوگر کا تقرر اس وقت کے صدر پرویز مشرف نے کیا تھا کوئی مانے یا نہ مانے پرویز مشرف اس وقت صدر تھے اور انہیں صدر مان کر ہی مسلم لیگ ن سمیت تمام سیاسی جماعتوں نے ان کے مواخذے کا عمل شروع کیا تھا انہوں نے کہا کہ معزول ججز کی بحالی کا عمل ختم نہیں ہوا اور کئی معزول ججز نے حکومت سے رابطہ کیا ہے اٹارنی جنرل لطیف کھوسہ کا کہنا ہے کہ اس وقت وزیر اعظم کے پاس کچھ نہیں تمام اختیارات صدر کے پاس ہیں آئین میں ترمیم تک یہ اختیارات صدر کے پاس رہیں گے جبکہ ترمیم مارچ 2009ء سے پہلے نہیں ہو سکتی۔اے پی ایس
No comments:
Post a Comment