International News Agency in english.urdu news feature,Interviews,editorial,audio,video & Photo Service from Rawalpindi/Islamabad,Pakistan.Managing editor M.Rafiq,Editor M.Ali. Chief editor Chaudhry Ahsan Premee email: apsislamabad@gmail.com,+92300 5261843 مینجنگ ایڈ یٹر محمد رفیق، ایڈیٹر محمد علی، چیف ایڈیٹرچو دھری احسن پر یمی

Thursday, September 11, 2008

جاگ رہا ہے پاکستان.. ۔ جنرل اشفاق پر و یز کیانی کا عزم تحریر: اے پی ایس،اسلام آباد


چیف آف آرمی اسٹاف جنرل اشفاق پرویز کیانی نے کہا ہے کہ پاکستان غیر ملکی افواج کو اپنی سرزمین پر آپریشن کرنے کی اجازت نہیں دے گا۔ اتحادی افواج کی جانب سے سرحد پار حملے میں بے گناہ پاکستانی شہریوں کی ہلاکتوں کے حالیہ واقعہ اور امریکی جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کے چیئرمین ایڈمرل مائیکل میولن کے پاکستان میں کارروائی کے حوالے سے آرمڈ فورسز کمیٹی کو دیئے گئے بیان پر اپنے ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے گذشتہ بدھ کی رات جاری کئے گئے بیان میں پاک فوج کے سربراہ نے کہا ہے کہ وطن کی خودمختاری، جغرافیائی یکجہتی و سلامتی کا ہر قیمت پر دفاع کیا جائے گا اور کسی بیرونی طاقت کو پاکستانی حدود کے اندر کارروائیوں کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ اتحادی افواج کے ساتھ ایسا کوئی معاہدہ نہیں کیا گیا جس کے تحت غیر ملکی افواج پاکستانی سرزمین پر کارروائیاں کر سکیں۔ اتحادی افواج کے ساتھ تعاون کیلئے قواعد و ضوابط پہلے سے طے شدہ ہیں اور پاکستانی حدود میں کارروائی کے حوالے سے کوئی معاہدہ نہیں کیا گیا۔ جنرل اشفاق پرویز کیانی نے 27 اگست کو امریکی بحری جہاز یو ایس ایس ابراہام لنکن پر سینئر امریکی فوجی افسروں کے ساتھ اپنی ملاقات کے متعلق کہا کہ اس ملاقات میں امریکی فوجی حکام کو حالات کی سنگینی سے آگاہ کردیا گیا تھا کہ مسئلہ کے جامع حل کے سلسلے میں زیادہ مفاہمت اور مزید صبر کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکی فوجی افسران کو اپنے موقف سے تفصیلی طور پر آگاہ کیا گیا اور اس بات پر زور دیا گیا کہ ایسی صورتحال میں صرف طاقت کا استعمال ہی مسئلہ کا حل نہیں ہو سکتا بلکہ لوگوں کے دل و دماغ کو جیتنے کے لئے طاقت کے ساتھ ساتھ سیاسی مفاہمتی کوششوں کی بھی ضرورت ہے۔ جنرل اشفاق پرویز کیانی نے کہا کہ اس موقع پر فوجی کارروائیوں کے لئے عوامی حمایت کی ضرورت پر بھی غور کیا گیا اور بعد ازاں امریکی فوج کے جوائنٹ چیفس آف اسٹاف ایڈمرل مائیک میولن نے بری فوج کے سربراہ کے زمینی حقائق کو بہتر طور پر سمجھنے کو سراہتے ہوئے کہا تھا کہ پاکستانی بری فوج کے سربراہ نے پاکستان کے بہترین مفاد میں کام کرنے کا تہیہ کر رکھا ہے اور وہ اپنے موقف پر پرعزم ہیں۔ جنرل کیانی نے کہا کہ دہشتگردی کا خاتمہ ہمارا قومی مفاد ہے اور ہم اپنے قومی مفاد کو سامنے رکھیں گے۔ جنرل اشفاق پرویز کیانی نے 4 ستمبر کو انگور اڈہ کے واقعہ میں بے گناہ شہریوں کی ہلاکت پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے خبردار کیا کہ اس طرح کی ”غیر ذمہ دارانہ“ کارروائی سے عسکریت پسندی کو مزید ہوا ملے گی۔ چیف آف آرمی اسٹاف نے کہا کہ باہمی اعتماد میں کمی اور غلط فہمیوں سے مزید پیچیدگیاں پیدا ہوسکتی ہیں اور اس سے سب کیلئے مشکلات میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس جنگ میں کوئی جلد بازی نہیں ہونی چاہئے اور اپنے طویل المدت مفادات کو نظرانداز کرتے ہوئے کسی معمولی فائدے کی خاطر ایسی کارروائیاں کرنا دانشمندی نہیں۔ انہوں نے کہا کہ اتحادی افواج کو کامیابی کیلئے عسکری ضبط و تحمل کا مظاہرہ کرنا ہوگا اور یکطرفہ حکمت عملی اختیار کرنے کی بجائے دوسری طرف مدد کرنی چاہئے کیونکہ یکطرفہ کارروائی نقصان دہ ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ یہ ایک کثیر الجہتی حکمت عملی ہے جس کی پاکستان کے عوام مکمل حمایت کرتے ہیں اور اس سے داخلی دہشتگردی کے خطرے کو شکست دینے میں مدد ملے گی۔ جبکہ امریکا کے جوائنٹ چیفس آف اسٹاف ایڈمرل مائیکل میولن نے افغانستان میں جاری دہشت گردی کے خلاف جنگ سے متعلق دو ٹوک لہجہ اختیار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگرچہ اس جنگ میں کامیابی ممکن ہے لیکن موجودہ حکمت عملی ہمیں اس کامیابی کی طرف نہیں لے جا رہی، نئی حکمت عملی کے تحت افغانستان میں جنگ جیتنے کیلئے پاکستان کے اندر بھی کارروائیاں کی جائیں گی۔ امریکا کی آرمڈ سروسز کمیٹی کے سامنے بیان دیتے ہوئے ایڈمرل مائیکل میولن نے کہا کہ میں بالکل مطمئن نہیں ہوں کہ ہم افغانستان میں جنگ جیت رہے ہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ افغانستان میں بڑھتی ہوئی عسکریت پسندی اور تشدد کو روکنے کیلئے یہ ضروری ہے کہ مزید امریکی فوجی تعینات کئے جائیں اور سرحد پار قبائلی علاقوں کے معاملات سے نمٹنے کیلئے زیادہ سے زیادہ فوجیوں کو شامل کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ میں ایک نئی اور زیادہ جامع حکمت عملی کے بارے میں سوچ رہا ہوں جس میں پاک افغان سرحد کے دونوں جانب معاملات کو دیکھا جائیگا۔ انہوں نے کہا کہ میرے خیال میں یہ دو قومیں (پاکستان اور افغانستان) ایک ایسی مزاحمت کے ذریعے ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں جس سے انہیں جدا کرنا انتہائی مشکل ہے، یہ مزاحمت سرحد کے ایک طرف سے ہوتی ہوئی دوسری طرف پہنچتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وقت ہمارے ہاتھوں سے نکلتا جا رہا ہے، صدر بش کی جانب سے مزید 4500 فوجیوں کو افغانستان بھیجنے کا اعلان ایک اچھی شروعات ہے تاہم فوجیوں کی یہ تعداد انتہائی کم ہے۔ انہوں نے کہا کہ رواں سال پاکستانی فوجی حکام کے ساتھ ہونیوالی تفصیلی ملاقاتوں میں ہم نے اس بات پر زور دیا کہ قبائلی علاقوں میں عسکریت پسندوں کے خلاف مزید اقدامات کئے جائیں اور امریکی فوج کو بھی وہاں جانے کی اجازت دی جائے تاکہ وہ پاکستانی فورسز کی زیادہ بہتر طریقے سے مدد کرسکے۔ انہوں نے کہا کہ جب تک ہم پاکستانی فورسز کے ساتھ مل کر دہشت گردوں کے محفوظ ٹھکانوں کو ختم نہیں کردیں گے اس وقت تک وہ سرحد پار کرکے افغانستان آتے رہیں گے۔ عراق کے حوالے سے بات کرتے ہوئے مائیکل میولن نے کہا کہ عراق کی صورتحال اب بھی غیریقینی کا شکار ہے اور ہوسکتا ہے کہ ہمیں مستقبل میں وہاں مزید فوجیوں کی ضرورت پڑے۔ وزیر دفاع رابرٹ گیٹس نے بھی کمیٹی کے سامنے بیان دیا۔ انہوں نے کمیٹی ارکان کو افغانستان میں عسکریت پسندوں کے ”عظیم مقصد“ سے خبردار کیا اور کہا کہ افغانستان میں 2006ء کے موسم بہار سے حملوں میں اضافہ ہوا ہے اور یہ پاکستان میں موجودہ محفوظ ٹھکانوں کا نتیجہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ 2006ء میں افغانستان میں امریکی فوجیوں کی تعداد 21 ہزار تھی اور اب یہ تعداد 31 ہزار ہے۔ جبکہ دفتر خارجہ میں بریفنگ سے خطاب کرتے ہوئے صدر اور وزیر اعظم نے واضح کیا ہے کہ خارجہ پالیسی کے معاملے پر کوئی بیرونی دباو¿ قبول نہیں کیاجائیگا، وزیر اعظم یوسف رضاگیلانی نے کہا کہ خارجہ پالیسی قومی امنگوں کی عکاس ہونی چاہئے، صدر آصف علی زردری نے کہا ہے کہ تنازعات سے بچاو¿ ، ان کے حل ، تجارت میں اضافے اور ترقیاتی ایجنڈے کوآگے بڑھانے کیلئے سفارتکاری کو استعمال کیاجائے،صدر آصف علی زرداری نے کہا ہے کہ ملک کو سنگین چیلنجوں کا سامنا ہے‘ پاکستان میں جمہوری عمل کی تکمیل سے ہمیں ایک نئی شناخت ملی ہے اور ہم عالمی دھارے میں دوبارہ شامل ہوگئے ہیں‘ دفتر خارجہ میں صدر مملکت کا منصب سنبھالنے کے ایک دن بعد خارجہ پالیسی معاملات کے بارے میں دی جانے والی بریفنگ کی صدارت کرتے ہوئے کہی۔ اس موقع پر قومی سلامتی کے مشیر محمود علی درانی نے بھی بریفنگ میں شرکت کی۔ صدر نے کہا کہ وہ پاکستان کی خارجہ پالیسی اور دفتر خارجہ کے کردار کو انتہائی اہمیت دیتے ہیں۔ صدر نے کہا کہ ملک کو سنگین چیلنجوں کا سامنا ہے اور فارن سروس کے افسروں پر زور دیا کہ وہ سٹریٹجک وڑن اور پیشہ وارانہ عزم کے ساتھ کام کریں اور ان چیلنجوں کو مواقع میں بدلنے میں مدد دیں۔ انہوں نے دفتر خارجہ اور دیگر متعلقہ سرکاری اداروں اور نجی شعبہ کے درمیان رابطے بہتر بنانے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ بیرون ملک مقیم پاکستانی جو ایک بڑا اثاثہ ہیں‘ کو پاکستان میں سرمایہ کاری کو فروغ دینے کے لئے سرگرمی کے ساتھ شریک کیا جائے۔ اس سے قبل وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے پاکستان فارن سروس کی جانب سے آصف زرداری کو صدر پاکستان کا منصب سنبھالنے پر مبارکباد دی۔ انہوں نے کہا کہ اس سے پاکستان پیپلز پارٹی کی طویل اور کٹھن جدوجہد اور شہید محترمہ بے نظیر بھٹو کی قربانیوں کی تکمیل ہوئی ہے۔ وزیرخارجہ نے کہا کہ پاکستان کی خارجہ پالیسی پاکستانی عوام کی فلاح و بہبود اور قومی سلامتی کے خدشات کو سامنے رکھ کر تیار کی گئی ہے۔ ان حدود کے اندر ہمارا بنیادی مقصد ملک کی آزادی‘ خودمختاری‘ علاقائی سالمیت کا تحفظ‘ دیگر ممالک کے ساتھ تجارتی‘ اقتصادی اور سیاسی تعلقات کو فروغ دینا اور قوموں کی برادری میں ملک کے مثبت تشخص کو اجاگر کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ خارجہ پالیسی کی تشکیل ایک پیچیدہ عمل ہے جو ریاست کے مختلف اداروں کے درمیان مشاورتی عمل پر مشتمل ہے۔ سیکرٹری خارجہ سلمان بشیر نے اہم خارجہ پالیسی امور پر تفصیلی پریزنٹیشن دی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان فارن سروس ملک کی ضروریات پوری کر رہا ہے اور اپنی ذمہ داریوں کی ادائیگی میں انتہائی سرگرم ہے۔ انہوں نے قیادت کو یقین دلایا کہ دفتر خارجہ خارجہ پالیسی آپشنز کی تشکیل اور قیادت کے فیصلوں پر عملدرآمد میں مدد دینے کے لئے اپنی بہترین کوششیں کرے گا۔وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی نے کہا ہے کہ خارجہ پالیسی پاکستانی عوام کی امنگوں کی عکاس ہونی چاہیے‘ تاریخ کے اس اہم موڑ پر پاکستان کو بے شمار چیلنجوں کا سامنا ہے اور اسے ایسی خارجہ پالیسی کی ضرورت ہے جو فعال‘ متحرک اور ہمارے اہم قومی مفادات کا تحفظ کرسکے۔ بدھ کو یہاں دفتر خارجہ میں خارجہ پالیسی امور کے بارے میں دی جانے والی بریفنگ سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ خارجہ پالیسی کا بنیادی مقصد پاکستان کی علاقائی سالمیت اور سلامتی کا تحفظ ہے تاہم اس پالیسی کو ہمارے تجارتی اور اقتصادی مفادات کو فروغ دینے‘ ہماری ثقافت کو بیرون ملک اجاگر کرنے‘ سمندر پار پاکستانیوں کے تحفظ اور پاکستان کے نصب العین کے لئے حمایت حاصل کرنے پر بھی بھرپور توجہ دینی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ صدر کے انتخاب کے ساتھ ہی ہمارے ملک میں جمہوری تبدیلی کا عمل اب مکمل ہوگیا ہے‘ آج ہمارے عوام کے پاس ملک کا انتظام چلانے کے لئے ان کا اپنا منتخب صدر‘ وزیراعظم ‘ قومی پارلیمنٹ اور صوبائی اسمبلیاں ہیں۔ ہماری جمہوری حکومت اپنی پالیسیوں میں اپنے عوام کی امنگوں کو اجاگر کرنے کے لئے پرعزم ہے۔ اس لئے ہماری خارجہ پالیسی پاکستانی عوام کی امنگوں کی عکاس ہونی چاہیے۔ وزیراعظم نے کہا کہ ہم عالمی تعلقات کے ایک نئے دور میں رہ رہے ہیں‘ دنیا کو عمومی طور پر انتہا پسندی اور دہشتگردی‘ خوراک کی قلت‘ تیل کی قیمتوں میں اضافے‘ ماحولیاتی انحطاط اور نئے ابھرتے تنازعات کا سامنا ہے۔ ترقی پذیر دنیا اب بھی غربت‘ افلاس‘ ناخواندگی اور متعدی بیماریوں میں گھری ہوئی ہے‘ دوسری طرف منڈی کی معیشت کے سیاسی اور اقتصادی نظریات حاوی ہو رہے ہیں۔ نجکاری‘ معیشت کو آزاد بنانا اور مالیاتی نظم و ضبط ترقی پذیر ممالک کے ساتھ ساتھ ترقی یافتہ ممالک کے لئے بھی ایک حل سمجھے جارہے ہیں لیکن عالمگیریت کا پھیلتا ہوا عمل پاکستان جیسے ترقی پذیرملکوں کے لئے اب بھی متعصب ہے‘ اس لئے ہماری خارجہ پالیسی ایسی ہونی چاہیے جو ان تمام چیلنجوں پر قابو پاسکے۔ جرمنی نے پاکستان کے قبائلی علاقوں میں سرحد پار سے کئے جانے واے حملوں پر پاکستان کے احتجاج کی حمایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان کے قبائلی علاقوں میں سرحد پار سے حملے درست نہیں، جرمن فضائیہ کے چیف آف سٹاف کا کہنا ہے کہ وہ اس معاملے پر افغانستان میں عالمی اتحادی افواج کے ساتھ بات کریں گے، وزیر دفاع احمد مختار اور جرمن فضائیہ کے چیف آف اسٹاف لیفٹیننٹ جنرل کلاز پیٹر کے درمیان دفاعی امور پر بات کی گئی۔ احمد مختار کا کہنا تھا کہ فاٹا اور سوات میں آپریشن میں سیکڑوں دہشت گرد مارے گئے ہیں۔ جرمن فضائیہ کے چیف آف سٹاف نے قبائلی علاقوں میں سرحد پار سے کئے جانے والے حملوں پر کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بے گناہ افراد کا مارا جانا درست نہیں۔ لیفٹیننٹ جنرل کاز پیٹر نے جی ایچ کیو راولپنڈی میں آرمی چیف جنرل اشفاق کیانی سے بھی ملاقات کی، جس میں انسداد دہشت گردی میں تعاون کے امور پر بات چیت کی گئی۔ بعد میں انہوں نے سرگودھا میں مصحف ائیر بیس کا دورہ کیا اور پاک فضائیہ کی جنگی استعداد کے بارے میں بریفنگ لی۔ امریکی صدر پاکستان کو میدان جنگ کہہ چکے ہیں اور یہ کوئی نئی بات نہیں ہے جو لوگ نظر رکھتے ہیں وہ جانتے تھے کہ امریکا کا ہدف پاکستان ہے۔ یہ بڑا اچھا کیا کہ وقت پر پرویز کیانی نے ایک بیان دے ڈالا۔ اس کا اثر یہ ہوگا کہ امریکا کو اس بات کا احساس ہوگا کہ پہلی دفعہ اسے آنکھیں دکھائی گئی ہیں وہ ہماری سر زمین پر 58 حملے کر چکے ہیں، 36 حملے پرویز مشرف کے دور میں کئے گئے جبکہ 22 حملے نئی جمہوری حکومت آنے کے بعد کئے گئے اس میں ہمارے ہزاروں لوگ مارے گئے، اس بیان کا پس منظر بھی دیکھیئے کہ کل جب ہمارے نئے صدر نے حلف لیا اور ایک صحافی نے امریکی حملوں کے متعلق سوال کیا تو انہوں نے کہا کہ ہم کیا کرسکتے ہیںفوجی اور سیاسی قیادت کے درمیان خلا نظر آرہا ہے، ہمارے وزیر دفاع کہہ چکے ہیں کہ اس کا کوئی علاج نہیں ہوسکتا جبکہ ہمارے آرمی چیف کہہ رہے ہیں کہ کسی اتحادی فوج وغیرہ سے کوئی انڈراسٹینڈنگ نہیں،یہ بیان سیاسی قیادت اور پارلیمنٹ کی طرف سے آنا چاہئے تھا، جو عزم امریکا میں نظر آتا ہے کہ ہم نے پاکستان کو Chesetiesکرنا ہے اس لئے مقابلے کا عزم و ارادہ پاکستان کی طرف سے سیاسی طور پر نظر نہیں آتا، جہاں تک ہمارے آرمی چیف کے بیان کا تعلق ہے یہ خوش آئند ہے یہ بہت ضروری ہے کہ طالبان کی جدوجہد میں پاکستان کا علاقہ استعمال نہ ہو لیکن اس کام کو افہام و تفہیم کے ذریعے کیا جاسکتا ہے۔ ہمار١ چیف آف آرمی اسٹاف بے زبان نہیں کیونکہ انہیں بڑا خاموش طبع سمجھا جاتا ہے اور دنیا نے یہ دیکھ لیا کہ جب ملکی دفاع پر بات آتی ہے تو ان کی بھی پھر زبان ہے۔ دنیا جانتی ہے کہ آصف زرداری امریکی حمایت سے آئے ہیں وہ ایک پاور فل صدر ہیں ، پارلیمنٹ ان کے پیچھے ہے۔ دراصل یہ بیان ان کی جانب سے آنا چاہیے تھا اور عوام امید کر تے ہیںکہ آئندہ چند گھنٹوں میں ان کی طرف سے بھی بیان سامنے آئے گا مبصرین کا خیال ہے کہ ری پبلکن پارٹی کی کامیابی کے لئے پاکستان کو قربانی کا بکرا بنایا جارہا ہے۔ اے پی ایس

No comments: