
ڈاکٹر عافیہ صدیقی۔ یہ وہ نام ہے جسے سن کر انسانیت پر سے یقین اٹھ جاتا ہے۔ عافیہ کی بپتا سن کر پتھر سے پتھر دل انسان کا دل بھی کانپ اٹھتا ہے اور ظالم سے ظالم دمی بھی عافیت کا طلب گار ہو جاتا ہے۔ عافیہ پر بہت کچھ لکھا جاچکا ہے مگر چند باتیں ایسی ہیں جن کی طرف بہت کم لوگوں کا دھیان گیا ہے اور ان میں سے بھی بہت کم نہ ہونے کے برابر لوگوں نے تحقیق اور سوال کرنے کی کوشش کی ہے۔ پہلی بات یہ ہے کہ عافیہ کے باقی دو بچے (ایک غالباً تین سال کا بیٹا اور سات یا ٹھ سال کی بیٹی) کہاں ہیں۔ دوسرا سوال یہ ہے کہ عافیہ کا خاوند امجد کدھر گیا؟ وہ اتنا سب کچھ ہو جانے کے باوجود منظر سے کیوں غائب ہے؟شروع میں ہمارا خیال تھا کہ جب عافیہ کو کراچی میں اغواءکیا گیا تو اغواءکاروں نے ننھے بچوں کو اس سے الگ کر لیا ہو گا اور ان کے والد امجد کے سپرد کرکے کہا ہو گا کہ بچوں کی سلامتی چاہتے ہو تو انہیں لے کر روپوش ہو جا اور امجد نے ایسا ہی کیا ہو گا کیونکہ اس کے پاس اور کوئی چارہ نہیں ہو گا اور ویسے بھی بچوں کا مل جانا کیا کم غنیمت تھا مگر یہ صرف ہماری سوچ تھی کیونکہ ہمارے خیال میں اغواءکاروں میں اتنی تو انسانیت ہو گی مگر یہ صرف خام خیالی نکلی جب افغانستان میں عافیہ کے ہمراہ اس کے بڑے بیٹے کی تصویریں اور مووی کلپ انٹرنیٹ پر جاری ہوئے۔ اس میں افغان حکام کو ماں بیٹے سے پوچھ گچھ کرتے ہوئے دکھا یاگیا تھا مگر اب جبکہ عافیہ کے بعد اس کا بڑا بیٹا بھی بگرام کے جہنم سے نکل یا ہے تو باقی دو بچوں کا خیال تا ہے کہ وہ کس کے پاس ہوں گے؟۔ اس سوال کا جواب ڈھونڈنے کے لیے میں نے چند ٹیلی فون کئے اور کچھ لوگوں سے بات چیت کی۔ یقین سے کوئی کچھ نہیں کہہ سکتا مگر اس بات چیت سے میں نے جو نتیجہ نکالا اس کے مطابق عافیہ کے باقی دونوں بچے افغانستان ہی میں ہیں مگر امریکی تحویل میں جہاں تک خود افغان حکام کی بھی رسائی نہیں تاوقتیکہ خود امریکی حکام انہیں ورثاءکے حوالے کرنے کا فیصلہ نہ کر لیں۔ عافیہ کو دریافت کرنے کا سہرا تو برطانوی نو مسلم صحافی ریڈلی کے سر ہے اور انہوں نے یہ انکشاف عمران خان کے ہمراہ پریس کانفرنس میں کیا جس کے بعد ہمارے سابق ہیرو نے بھی عافیہ کے لیے بہت Èواز بلند کی مگر اس کی بگرام سے نجات‘ امریکہ منتقلی اور اس کے بیٹے کی ورثاءکو حوالگی تک کے مراحل بڑے مشکل تھے اور یہ مراحل ان لوگوں کی سرتوڑ کوششوں سے سر ہوئے جن کو ہم ہمیشہ تنقید کا نشانہ بناتے رہتے ہیں۔ خاص طور پر جب معاملہ امریکہ سے ہو تو ان کی طرف سے ہم حق بات کا تصور بھی نہیں کر سکتے۔ ان لوگوں میں سرفہرست کوئی اور نہیں‘ ہمارے مشیر داخلہ رحمان ملک ہیں۔ شاید میں اس وقت ان کے خلاف لکھ رہا ہوتا مگر جب عافیہ کے ورثاءمانتے ہیں کہ ان کو جتنا ریلیف یا انصاف ملا وہ رحمان ملک کی تگ و دو سے ملا تو ہمیں بھی ان کو سراہنے میں کوئی عار نہیں۔ رحمان ملک کو اس نیک کام میں اپنی وزارت کے سیکرٹری کمال شاہ کا خصوصی تعاون حاصل رہا اور یقیناً انہیں یہ ٹاسک صدر صف زرداری نے دیا تھا اس لیے وہ بھی مبارکباد اور تحسین کے لاحق ہے۔ ویسے تو انہوں نے جو کیا وہ ان کا بنیادی فرض تھا مگر جووقت (دور) جارہا ہے اس میں کوئی اپنا فرض بھی ادا کر دے تو اس کی مہربانی ہے۔عافیہ کے خاوند امجد کی ابھی تک کوئی خیر خبر نہیں۔ یہ امجد کون ہے؟ پہلے اس پر بات کر لیتے ہیں۔ امجد کراچی کی ایک بڑی اور معزز فیملی کا چشم و چراغ ہے۔ وائز اور بوٹسمین نام کی دوا ساز کمپنیاں اسی فیملی کی ملکیت ہیں۔ امجد کے دو اور بھائی بھی ہیں جن کے نام اشرف اور ارشد ہیں۔ امجد کا ایک بھائی ان کمپنیوں کا ایم ڈی ہے امجد امریکہ میں تھا جب عافیہ اور بچوں کو کراچی میں غائب کیا گیا اور پھر پانچ برس بعد اس کی پہلی خبر ریڈلی کی زبانی افغانستان سے ملی۔ امجد کو امریکہ میں نائن الیون کے بعد ایف بی ئی نے حراست میں لے کر پوچھ گچھ بھی کی تھی۔ یہ امجد عافیہ پر مصیبتوں کا پہاڑ ٹوٹنے کے ساتھ ہی غائب ہو گیا۔ عافیہ جو اس کی اہلیہ اور اس کے تین بچوں کی ماں تھی۔ اس امجد کو اپنی بیوی کی تو درکنار اپنے تین بچوں کی بھی پانچ سال تک کوئی فکر لاحق نہیں ہوئی کہ وہ کہاں ہیں اور کس حال میں ہیں؟۔ یہ امجد‘ عافیہ کی داستان الم کا بڑا عجیب و غریب کردار ہے بلکہ اس کہانی کا سب سے زیادہ پراسرار کردار ہے ۔ یہ امجد عافیہ کے والد کے سوئم پر ان کے داماد کی حیثیت سے موجود تھا۔ مہمانوں کو مل بھی رہا تھا۔ مگر سوئم کے بعد اچانک غائب ہو گیا۔ اس کے چند ہفتے بعد عافیہ کو ڈاک سے ایک لفافہ ملا۔ یہ لفافہ امجد نے بھیجا تھا اور جب عافیہ نے یہ لفافہ کھولا تو اس پر قیامت ٹوٹ پڑی۔ یہ بالکل غیر متوقع تھا اور بظاہر اس کی کوئی وجہ نظر نہیں تی تھی۔ لفافے کے اندر طلاق نامہ تھا ........ مگر اس سے بھی زیادہ حیران کن ایک اور بات بھی تھی۔ طلاق نامے پر تاریخ اس روز کی تھی جس روز عافیہ کے والد کا سوئم تھا اور امجد اس میں داماد کی حیثیت سے شریک تھا۔ عافیہ کی کہانی کا یہ ایک ایسا موڑ ہے جس پر جاکر گہرائی سے واقعات کا مشاہدہ‘ تجزیہ اور تحقیق کی جائے تو اصل بات نکل سکتی ہے۔ جو اس وقت میرے پاس بھی نہیں‘ مگر جس طرح عافیہ سامنے گئی ہے ایک روز امجد کے راز بھی کھل کر رہیں گے۔اس کیس میں اسرار کے اور بھی پردے ہیں جن کے پیچھے امجد کے علاوہ بھی کچھ پردہ نشین چھپے بیٹھے ہیں، عافیہ کہانی کا ایک اور کردار بھی بہت سے لوگوں کی نظروں سے اب تک اوجھل ہے۔ یہ کردار امجد سے بھی زیادہ پراسرار ہے۔ عافیہ کی مخبری کس نے کی؟ کس نے اغواءکاروں کو بتایا کہ عافیہ اس وقت کہاں ہے؟ یہ مخبر بھی کوئی اور نہیں‘ امجد ہی کی ایک قریبی رشتہ دار صائمہ سید ہے۔ واقفان حال بتاتے ہیں کہ یہ امجد کی کزن ہے۔ یہ صائمہ امریکہ اور پاکستان دونوں کی شہریت رکھتی ہے اور اسلام باد بھی اس کا نا جانا لگا رہتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ امجد نے عافیہ کو ناحق طلاق کیوں دی اور اس پر پچھلی تاریخ کیوں ڈالی۔ پھر غائب کیوں ہو گیا کہ بچوں سے بھی بے نیازی اختیار کر لی۔ صائمہ نے یہ ظلم کیوں ڈھایا۔ اس کو عافیہ کے امریکیوں کے ہاتھ نے سے کیا دلچسپی تھی؟ ایک عام ذہن تو یہی سوچ سکتا ہے کہ امجد اور صائمہ میں افیئر ہو گا اور دونوں شادی کرنا چاہتے ہوں گے جس کے لیے عافیہ کو راستے سے ہٹانے کے لیے یہ سب کیا ہو گا مگر اس کے لیے اتنا بڑا ظلم کرنے کی کیا ضرورت تھی؟ یہ کوئی بہت بڑی گیم ہے۔ جس کا شاید تصور بھی نہیں کیا جاسکتا۔ اس کیس پر کام کرنے والی اتھارٹیز سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ ان خطوط پر بھی کام کرائیں اور اپنا کردار ادا کرتے رہیں جب تک دونوں بچے بھی بازیاب نہیں ہو جاتے ان بچوں کو ممکنہ طور پر یرغمال رکھ لیا گیا ہے تاکہ نہ تو عافیہ امریکی عدالت میں اغواءکاروں کا پول کھول سکے اور نہ اس کا بیٹا ان چہروں پر سے نقاب اتار سکے جنہوں نے عافیہ کی عفت اور بچوں کا بچپن چھین لیا، بچوں کو بطور ضمانت رکھنے والوں کا مقصد یہ ہو سکتا ہے کہ دنیا کے سامنے ایک اور ابو غریب نہ سکے اور مہذب امریکہ کا سفید چہرہ جو پہلے ہی معصوموں کے خون سے رنگین ہے مزید داغدار نہ ہو سکے۔
No comments:
Post a Comment