International News Agency in english.urdu news feature,Interviews,editorial,audio,video & Photo Service from Rawalpindi/Islamabad,Pakistan.Managing editor M.Rafiq,Editor M.Ali. Chief editor Chaudhry Ahsan Premee email: apsislamabad@gmail.com,+92300 5261843 مینجنگ ایڈ یٹر محمد رفیق، ایڈیٹر محمد علی، چیف ایڈیٹرچو دھری احسن پر یمی

Tuesday, September 16, 2008

پاکستانی قوم کی واشنگٹن پر بداعتمادی ۔ تحریر: اے پی ایس










چیف آف آرمی سٹاف جنرل اشفاق پرویز کیانی نے کہا ہے کہ کوئی بھی مشکل صورتحال پاک فوج کو قومی دفاع کی ذمہ داریوں کو پورا کر نے سے نہیں روک سکتی سیاچن اور شمالی علاقوں میں کنٹرول لائن کے قریب فوجی چوکیوں کے دورے کے موقع پر فوجیوں سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ قومی ذمہ داریاں پوری کر نے کے لئے قوم کی حمایت ضروری ہے انہوں نے فوجیوں پر زور دیا کہ وہ اپنی پیشہ ورانہ صلاحیتوں اور تبادلوں پر بھرپور توجہ دیں انہوں نے فوجیوں کے بلند حوصلے اور پیشہ وارانہ صلاحیتوں کی تعریف کی۔وزیر اعظم سید یوسف رضا گیلانی نے کہا ہے کہ پاک افغان سرحد پر موجودہ صورتحال اور سرحد پار حملوں کو روکنے کے حوالے سے حکومت اور مسلح افواج کے درمیان مکمل ہم آہنگی ہے اسلام آباد میں پیر کو سعودی سفیر کی جانب سے دئیے گئے افطار ڈنر کے بعد صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ مسلح افواج جمہوری حکومت کی پالیسیوں کے مطابق عملدر آمد کر رہی ہیں وزیر اعظم نے کہا کہ ہم ذمہ دار حکومت ہیں ہم نیو کلیئر ریاست ہیںلہذا ہم غیر ذمہدارانہ عمل نہیں کر سکتے وزیر اعظم نے یقین دلایا کہ سفارتی ذرائع سے اتحادی افواج کو قائل کر لیا جائے گا کہ وہ پاکستان کی سالمیت کا احترام کریں انہوں نے کہا کہ فاٹا کے بارے میں امریکہ میں بھی مختلف موقف پایا جاتا تھا میں نے اپنے دورہ امریکہ کے دوران غلط فہمیوں کو دور کیا دونوں امریکی صدارتی امیدواروں سے بھی اس مسئلہ پر بات چیت ہوئی امریکہ نے یقین دہانی کرائی کہ پاکستان میں جمہوری حکومت کی حمایت کی جائے گی انہوں نے کہا کہ صدر آصف علی زر داری بھی دورہ برطانیہ پر ہیں اور برطانیہ کے وزیر اعظم کو پاکستان کے موقف سے آگاہ کریں گے آزادی اور خود مختاری پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ پاک سعودی عرب تعلقات کے حوالے سے وزیر اعظم نے کہا کہ دونوں ممالک کے تعلقات انتہائی قریبی ہیں طویل و دیرینہ تعلقات ہیں دوستی اور تعلقات کی جڑیں انتہائی گہری ہیں عالمی ایشوز کے حوالے سے پاکستان اور سعودی عرب کا مشترکہ موقف ہے دونوں ممالک میں ہم آہنگی پائی جاتی ہے۔امریکی جریدے ٹائم میگزین میں کہا گیا ہے کہملکی صدارت پر فائز ہونے کے بعد آصف علی زرداری کو اپنی قوم کو اس بات پر راضی کرنا ہو گا کہ دہشتگردی کے خلاف جنگ امریکہ کی نہیں بلکہ پاکستان کی اپنی جنگ ہے پاکستان کے نئے صدر کو دہشت گردی کے خلاف جنگ کیلئے امریکہ کے مطالبات اور پاکستانی قوم میں واشنگٹن پر بداعتمادی کے درمیان توازن قائم کرنا ہوگا۔ انہیں اپنی قوم کو قائل کرنا ہوگا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ دراصل ان کی اپنی جنگ ہے۔ جریدے نے اعتراف کیا ہے کہ اس جنگ میںکئی ہزار فوجیوں کی کے جانوںا نذرانہ دینے کے باوجود بیشتر امریکی ارکان کانگریس کا خیال ہے کہ پاکستان اس جنگ میں کچھ زیادہ کردار ادا نہیں کررہاہے۔ جریدے کے مطابق قبائلی علاقوں میںانتہاپسندی کے خاتمے کیلئے طویل المعیاد کوششوں کے علاوہ سڑکوں کی تعمیر، تعلیم و صحت، ملازمتوں کے مواقع، عدالتوں اور قانون کی حکمرانی بھی قائم کرنا ہوگی۔پاکستان سمیت دنیا بھرمیں پندرہ ستمبر کو جمہوریت کا پہلا عالمی دن اس عزم کے ساتھ منایا گیا کہ عوام کی منتخب نمائندہ حکومتیں عوام کو ان کے تمام بنیادی حقوق کی فراہمی اوران کے مسائل کے حل کیلئے کوشاں رہیں گی۔ پاکستان میں جمہوریت کا عالمی دن اس حوالہ سے خصوصی اہمیت کا حامل دیا کہ اس سال 18 فروری کے آزادانہ اور شفاف انتخابات کے نتیجہ میں تقریباً ایک دہائی بعد منتخب جمہوری حکومت قائم ہوئی اور جمہوری عمل نئے سویلین صدر کے انتخاب کے ساتھ مکمل ہوا۔ جمہوریت محض انتخابات منعقد کرنے کا نام نہیں بلکہ جمہوریت، قانون کی حکمرانی، آئین کی بالادستی، عدلیہ اور میڈیا کی آزادی کا نام ہے۔پاکستانی عوام جمہوریت پر یقین رکھتے ہیں جو اپنے جمہوری حقوق کے تحفظ کیلئے پرعزم ہیں اور جمہوری عمل کو پٹڑی سے اتارنے والے غیر جمہوری عناصر کو مسترد کرتے ہیں۔وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی نے جمہوریت کے عالمی دن کے موقع پر اپنے پیغام میں کہا کہ جمہوریت مقصد کے حصول کا نام ہے۔ جمہوریت میں غلطیوں سے سیکھا جاتا ہے اور میرا عقیدہ ہے کہ جمہوریت ایک بہترین نظام ہے جس میں نہ صرف عوام کے مسائل حل کئے جا سکتے ہیں بلکہ یہ لوگوں کو اپنی اقتصادی، سیاسی اور ثقافتی اقدار کے تعین کے آزادانہ اظہار کا موقع فراہم کرتی ہے۔جبکہ انگوراڈہ کے علاقے میں امریکی ہیلی کاپٹروں نے پیر کی صبح سرحد عبور کرکے پاکستانی علاقے میں داخل ہونے کی کوشش کی لیکن ان ہیلی کاپٹروں پر کی جانے والی فائرنگ نے انہیں افغانستان واپس جانے پر مجبور کردیا ۔ فوج کے ایک ترجمان میجر مراد خان نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں اس واقعے کی تصدیق کی ہے لیکن انہوں نے بتایا کہ اتحادی افواج کے ہیلی کاپٹروں نے پاکستان کی سرحد عبور نہیں کی تھی اور نہ ان ہیلی کاپٹروں پر کی جانے والی فائرنگ میں پاکستانی فوج ملوث تھی۔اطلاعات کے مطابق اتحادی افواج کے سات ہیلی کاپٹروں نے سرحد عبور کرنے کی کوشش کی تھی اور ان پر FCکے اہلکاروں کی طرف سے فائرنگ کی گئی۔ افغانستان میں تعینات نیٹو اور اتحادی افواج نے اس واقعے سے لاعلمی کا اظہار کیا ہے۔خیال رہے کہ اس ماہ کے اوائل میں انگور اڈہ کے علاقے میں ہی اتحادی افواج کے چھاتہ برداروں نے القاعدہ اور طالبان کے ایک مشتبہ ٹھکانے کے خلاف زمینی کارروائی کرکے 20افراد کو ہلاک کردیاتھا۔ اس واقعے پر پاکستان میں شدید ردعمل سامنے آیا اور ملک کی سیاسی اور فوجی قیادتوں نے اس کی سخت مذمت کرتے ہوئے متنبہ کیا تھا کہ ایسی کارروائیوں کے خلاف پاکستان کی سرحدوں کا بھرپور انداز میں دفاع کیا جائے گا۔پاکستان کا کہنا ہے کہ امریکی چھاتہ بردار فوجیوں کی کارروائی میں ہلاک ہونے والوں کی اکثریت بے گناہ شہریوں کی تھی جن میں عورتیں اور بچے بھی شامل تھے۔اگرچہ پاکستانی فوج نے پیر کو اتحادی ہیلی کاپٹروں پر کی جانے والی فائرنگ سے لاتعلقی ظاہر کی ہے لیکن مقامی قبائلیوں کا کہنا ہے کہ ہیلی کاپٹر جونہی پاکستانی سرحد کے قریب پہنچے تو سرحدی چوکیوں پر تعینات فوجیوں نے جنگ کا بگل بجایا اور شدید ہوائی فائرنگ شروع کردی جس پر اتحادی ہیلی کاپٹرز واپس افغانستان چلے گئے۔جنوبی اور شمالی وزیرستان کے علاقوں میں افغانستان میں تعینات اتحادی افواج کی طرف سے مشتبہ ٹھکانوں پر میزائل حملوں میں بھی حالیہ دنوں میں تیزی آئی ہے اور امریکی حکام کے مطابق پالیسی میں یہ تبدیلی صدر بش کی طرف سے ان احکامات کے بعد آئی ہے جن کے مطابق امریکی فوجیوں کو ضرورت پڑنے پر پاکستانی علاقوں میں مشتبہ ٹھکانوں کے خلاف ہر ممکن کارروائی کی اجازت جولائی میں دی گئی تھی۔ادھر سوات میں حکومت اور طالبان کے درمیان تازہ ترین امن کوششوں کے نتیجے میں پیر کو عسکریت پسندوں نے ان 25سیکیورٹی اہلکاروں کو رہا کردیا جنہیں وادی سوات میں ایک سیکیورٹی پوسٹ پر حملے کے بعد طالبان نے اغواءکرلیا تھا۔جبکہ پاکستان کے قبائلی علاقوں میں حالیہ دنوں کے دوران امریکی حملوں میں تیزی کے تناظر میں حزب اختلاف کی جماعتوں نے حکومت سے انسداد دہشت گردی پر قومی موقف اختیار کرنے کے لیے پارلیمان کا مشترکہ اجلاس بلانے کا جو مطالبہ کیا تھااس بارے میں تاحال حکومت نے کوئی فیصلہ نہیں کیا۔ پیپلز پارٹی کی ایک سرکردہ رہنما اور رکن قومی اسمبلی فرزانہ راجہ نے اس کی وجوہات بتاتے ہوئے کہا کہ20 ستمبرکو پارلیمان کا ایک مشترکہ پہلے ہی بلایا جاچکا ہے جس سے صدر آصف علی زرداری اپناپہلا خطاب کریں گے۔فرزانہ راجہ کے بقول ایسی صورت میں جب پہلے سے ایک مشترکہ اجلاس بلایا جا چکا ہو ایک اور اجلاس نہیں بلایا جا سکتا۔ جبکہ دوسری جانب حزب اختلاف کی سب سے بڑی جماعت مسلم لیگ ن کے ترجمان صدیق الفاروق کا کہنا ہے کہ صدر کا پارلیمان کے مشترکہ اجلاس سے خطاب ایک آئینی ضرورت ہے لیکن ان کے بقول اس کا حزب مخالف کی جماعتوں کے ا±س مطالبے سے کوئی تعلق نہیں جس میں انہوں نے انسداد دہشت گردی پر قومی موقف اختیار کرنے کے لیے پارلیمان کا مشترکہ اجلاس بلانے کا مطالبہ کیا تھا۔صدیق الفاروق کے بقول جب بھی ملک کواہم مسائل درپیش ہوں تو قومی موقف اختیار کرنے کے لیے مشترکہ اجلاس بلایا جاسکتاہے اور آئین میں اس کی کوئی قید نہیں کہ پارلیمان کے مشترکہ اجلاس کتنے اورکب کب بلائے جا سکتے ہیں۔واضح رہے کہ برسراقتدار آنے کے بعد پیپلز پارٹی کی حکومت بارہا اپنے اس موقف کو دہرا چکی ہے کہ تمام قومی معاملات پر ایوان میں بحث کے بعد ہی حکومتی پالیسیاں وضع کی جائیں گی۔ادھر پاکستانی حدود میں امریکی حملوں میں تیزی کے ساتھ ساتھ حالیہ دنوں میں پاکستان کی سیکورٹی فورسز کی جانب سے بھی باجوڑ میں عسکریت پسندوں کے خلاف کی جانے والی کارروائیوں میں اضافہ ہوا ہے۔جس کے بارے میں ناقدین کا کہنا ہے کہ بظاہر اس طرح کی کاروائیوں سے پاکستان بین الاقوامی برادری خاص طور پر امریکہ کویہ پیغام دیناچاہتا ہے کہ وہ ان عسکریت پسندوں کے خلاف بھرپور اور موثر کارروائی کی اہلیت رکھتا ہے۔جبکہ امریکہ میں متعین پاکستان کے سفیر حسین حقانی نے کہا ہے کہ پاکستان اپنی سرزمین پر کسی غیرملکی فوج کو کارروائی کرنے کی اجازت نہیں دے گا۔ ان کا کہناتھا کہ پاکستان دہشت گردی کے خلاف جنگ میں امریکہ کاایک اہم اتحادی ہے اور اس نے اس جنگ میں کسی بھی ملک سے زیادہ جانی اور مالی قربانیاں دی ہیں۔ پاکستان افغانستان سے اپنے تعلقات کو بہت اہمیت دیتا ہے اور اپنے اس ہمسایہ ملک کے ساتھ تعلقات کو بہتر بنانے کے لیے کام کررہا ہے۔ صدر آصف زرداری کی حلف برداری کی تقریب میں افغان صدر کی شرکت اس امر کا واضح ثبوت ہے کہ نئی جمہوری حکومت اپنے ہمسایہ ممالک سے تعلقات میں بہتری کے لیے سنجیدہ ہے۔ ا مریکہ میں مقیم پاکستانی سفیر نے یہ بھی کہا ہے کہ دہشت گردی کا موثر طورپر مقابلہ کرنے کے لیے ہر فریق کو اپنے حصے کی ذمہ داری ادا کرنی چاہیے۔ امریکہ ، نیٹو اور افغانستان پر بھی اس سلسلے میں ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں۔ دہشت گردوں سے نمٹنا صرف تنہا پاکستان کا ہی ذمہ نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایک دوسرے پر اعتماد اور انٹیلی جنس معلومات کے تبادلے کے نظام میں بہتری لاکر اس مسئلے سے موثر طور نمٹا جاسکتا ہے۔ پاکستان اپنے علاقے میں طالبان اور القاعدہ کے خلاف کارروائی خود کرے گا اور امریکہ ، نیٹو اور افغانستان کو چاہیے کہ اپنی سرحد کی جانب دہشت گردوں کی نقل و حرکت کو وہ خود کنٹرول کریں۔ تجزیہ کا روں کا کہنا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں امریکہ کی نئی حکمت عملی سے دہشت گردی کے خاتمے میں مدد نہیں ملے گی بلکہ اس سے خطے میں امریکہ کے خلاف جذبات مزید بھڑکیں گے اور مسائل میں اضافہ ہوگا۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں نئی حکمت عملی اصل میں بش انتظامیہ کی جانب سے اپنی پارٹی کے صدارتی امیدوار جان مک کین کو کامیابی دلانے کی ایک کوشش ہے۔ ابھی حال ہی میں جان مک کین یہ کہہ چکے ہیں کہ وہ پاکستان کے اندر امریکہ کی جانب سے کسی فوجی کارروائی کے حق میں نہیں ہیں۔ مگر بش انتظامیہ کی جانب سے پاکستان کے قبائلی علاقوں میں میزائل حملے اور ہیلی کاپٹر سے فوجی اتار کر کارروائی کے نتیجے میں سینٹر مک کین کے لیے بھی مشکلات میں اضافہ ہوگا۔ بش انتظامیہ کو ، جن کا اقتدار ختم ہونے میں اب بہت ہی کم وقت رہ گیا ہے، نئی آنےوالی انتظامیہ کے لیے ایسے مسائل چھوڑ کر نہیں جانے چاہیں جن کے سلجھانے میں انہیں دشواریوں کا سامنا کرنا پڑے۔ افغانستان سے ملحق قبائلی علاقوں میں امریکہ کی جانب سے از خود فوجی کارروائیوں سے دہشت گردی کے خاتمے میں مدد نہیں ملے گی۔ ایسے اقدامات سے ایسے فوری فوائد حاصل ہونے کی بھی کوئی توقع نہیں ہے جو امریکی صدارتی انتخابات میں موجودہ انتظامیہ کی مدد کرسکیں۔اے پی ایس

No comments: