
سپریم کورٹ کے سینئر جج جسٹس خلیل الرحمٰن رمدے نے کہا ہے کہ عدالت عظمٰی تین نومبر دو ہزار سات کو عبوری آئینی حکم نامے کے تحت حلف اٹھانے والے چیف جسٹس عبدالحمید ڈوگر کی آئینی حیثیت کا تعین بھی کرے گی۔ گزشتہ سوموار کے روز جسٹس خلیل الرحمٰن نے یہ ریمارکس سندھ ہائیکورٹ کے تین ججوں کی تقرری کے بارے دائر ایک آئینی درخواست کی سماعت کے دوران اس وقت دیے جب درخواست گزار کے وکیل ملک عبدالقیوم نے یہ نکتہ اٹھایا کہ ان تینوں ججوں کا تقرر سابق چیف جسٹس عبدالحمید ڈوگر کی سفارش پر کیا گیا تھا۔جسٹس خلیل رمدے کا کہنا تھا کہ ایک آئینی چیف جسٹس کی موجودگی میں دوسرے چیف جسٹس کی تقرری کی کیا آئینی حیثیت ہے اس بارے میں بھی یہ عدالت غور کر سکتی ہے۔اگر عدالت جسٹس عبدالحمید ڈوگر کی آئینی حیثیت کا جائزہ لے گی تو اسے صدر پاکستان آصف علی زرداری کی حیثیت پر بھی غور کرنا ہو گا جنہوں نے جسٹس ڈوگر سے حلف لیا تھا۔درخواست گزار کے وکیل ملک عبدالقیوم نے جسٹس رمدے کے سابق چیف جسٹس کی آئینی حیثیت کے بارے میں ریمارکس کے جواب میں کہا کہ اگر عدالت جسٹس عبدالحمید ڈوگر کی آئینی حیثیت کا جائزہ لے گی تو اسے صدر پاکستان آصف علی زرداری کی حیثیت پر بھی غور کرنا ہوگا جنہوں نے جسٹس ڈوگر سے حلف لیا تھا۔ملک قیوم نے جو کہ سابق صدر پرویز مشرف کے دور میں اٹارنی جنرل کی حیثیت سے جسٹس ڈوگر اور تین نومبر کی بعد کی عدلیہ کے حامی ہیں، کہا کہ اسی طرح اگر تین نومبر کے بعد کے صدارتی اقدامات کی آئینی حیثیت پر سوالیہ نشان لگایا گیا تو پھر موجودہ وزیراعظم کے بارے میں بھی نئی رائے دینا ہو گی کیونکہ انہوں نے بھی سابق صدر پرویز مشرف سے وزارت عظمٰی کا حلف لیا تھا۔واضح رہے کہ جسٹس خلیل رمدے چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی سربراہی میں بننے والے اس چودہ رکنی بنچ کا حصہ ہیں جو تین نومبر کے بعد اعلٰی عدلیہ میں تعینات اور برطرف ہونے والے مختلف ججوں کے مقدمات کا جائزہ لے رہا ہے۔یہ مقدمہ بظاہر سندھ ہائیکورٹ کے بعض ججوں کی تین نومبر کے بعد تعیناتی اور برطرفی سے متعلق ہے لیکن عدالت اس پس منظر میں تین نومبر کے بعد سابق صدر اور فوجی سربراہ پرویز مشرف کی جانب سے اعلیٰ عدلیہ میں تقرریوں کے علاوہ بعض دیگر امور کے بارے میں بھی کیے گئے اقدامات کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔ اسی سلسلے میں اس بنچ نے سابق صدر پرویز مشرف کو انتیس جولائی کو عدالت کے سامنے اپنا موقف پیش کرنے کی دعوت دے رکھی ہے۔جسٹس ڈوگر کے چیف جسٹس کی حیثیت کے بارے میں اس وقت بھی دلائل دینا چاہیں تو ضرور دیں کیونکہ ہمیں اس معاملے میں کوئی خوف نہیں ہے۔ گزشتہ پیر کے روز اس مقدمے کی سماعت کے دوران چیف جسٹس افتخار چوہدری نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ تین نومبر کو معزول قرار دیے گئے تمام جج دو نومبر والی پوزیشنز پر بحال ہوئے ہیں اور ان میں سے کسی کی بھی نئی تقرری نہیں ہوئی۔ملک قیوم نے کہا کہ صدر پاکستان، وزیراعظم اور دیگر تمام آئینی شخصیات نے سابقہ دور میں بھی اور اس نئے سیاسی ڈھانچے میں بھی جسٹس ڈوگر کو چیف جسٹس تسلیم کیا تھا لیکن وہ اس مسئلے پر کسی نئی بحث میں نہیں پڑنا چاہتے۔اس موقع پر جسٹس رمدے نے کہا کہ عدالت کو اس سے کوئی سروکار نہیں کہ جسٹس ڈوگر اور صدر مشرف کے درمیان کیا معاملہ تھا یا یہ کہ کون انہیں چیف جسٹس مانتا ہے۔ ہم ان کی چیف جسٹس کے طور پر آئینی حیثیت کا جائزہ لیں گے۔ جبکہ وزیر اعطم سید یوسف رضا گیلانی نے کہا ہے کہ آئی ڈی پیز کی واپسی کا عمل ایک ماہ میں مکمل کر لیا جائے گا ۔ ممبئی واقعات پاکستان کے لئے افسوسناک ہیں ۔ پاکستان بھارت کے ساتھ خوشگوار تعلقات چاہتا ہے اور اس کی کوشش ہے کہ دونوں ممالک مسائل حل نکالیں ۔ برآمدات میں اضافے کی کوشش کی جائے اور بین الاقوامی خریداروں کی حوصلہ افزائی کی جانے ان خیالات کا اظہار انہوں نے گزشتہ پیر کو کابینہ کے اجلاس کے موقع پر کیا ۔ کابینہ کے اجلاس میں نئی تجارتی پالیسی کی منظوری دی گئی ۔ وزیراعظم نے پاک بھارت مذاکرات کے بارے میں اعتماد میں لیا اور کہا کہ حکومت کی یہ کوشش ہے کہ ان لوگوں کی مشکلات کا فوری طور پر ازالہ کیا جائے ۔ انہوں نے سوات میں مسلح افواج کی قربانیوں کو خراج تحسین بھی پیش کیا ۔ وزیر اعظم نے کابینہ کو بھارتی وزیر اعظم من موہن سنگھ کے ساتھ شرم الشیخ ملاقات کی تفصیلات کے بارے میں بریفنگ دی اور کہا کہ یہ ملاقات انتہائی خوشگوار ماحول میں ہوئی ۔ دہشت گردی کے حوالے سے تمام امور پر بھارتی وزیر اعظم سے تبادلہ خیال ہوا ۔ پاکستان بھارت کے ساتھ خوشگوار تعلقات چاہتا ہے اور اس کی کوشش ہے کہ دونوں ممالک مل کر مسائل کا حل نکالیں ۔ دہشت گردی صرف پاکستان کا ہی نہیں بلکہ پوری دنیا کا مسئلہ ہے اور مل جل کر ہی اس سے نمٹنا ہو گا ۔ انہوں نے کہا کہ ممبئی واقعات پاکستان کے لئے بھی افسوس ناک ہیں اور پاکستان اس سلسلے میں بھرپور تعاون کر رہا ہے تاکہ اس میں ملوث عناصر کو بے نقاب کیا جا سکے ۔ جبکہ وزیراعظم نے تجارت کے فروغ کے حوالے سے بھی اہم ہدایات دیں۔ جبکہ ڈیفنس آف ہیومن رائٹس کی چیئر پرسن آمنہ مسعود جنجوعہ کی قیادت میں گزشتہ پیر کو لاپتہ افراد کی بازیابی کے لیے سپریم کورٹ کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کیا گیا ۔ مظاہرین نے پلے کارڈ اٹھا رکھے تھے اور انہوں نے نعرے بازی کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ لاپتہ افراد کو جلداز جلد بازیاب کرایا جائے ۔ مظاہرین نے چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کے حق میں بھی نعرے بازی کی ۔ملک میں لا پتہ افراد کے بارے میں قائم ڈیفنس آف ہیومن رائٹس نے اپنے پیاروں کی بازیابی کے لیے عدالت عظمیٰ کے سامنے 4 روزہ احتجاجی کیمپ لگا دیا ہے۔ ملک میں سینکڑوں افراد کے لاپتہ اور غائب ہونے کو چار سال مکمل ہو گئے ۔ احتجاجی کیمپ 30 جولائی تک جاری رہے گا گزشتہ پیر کوجماعت اسلامی پاکستان اور تحریک انصاف سمیت سول سوسائٹی کی مختلف شخصیات نے کیمپ کا دورہ کیا ۔ تفصیلات کے مطابق ملک میں لا پتہ افراد کی گمشدگی کو چار سال مکمل ہونے پر گزشتہ روز عدالت عظمیٰ کے سامنے 4 روزہ احتجاجی کیمپ لگا دیاگیا ہے۔ ڈیفنس آف ہیومن رائٹس کی چےئر پرسن آمنہ مسعود جنجوعہ دیگر لاپتہ افراد کے خاندانوں کے ہمراہ اس کیمپ میں موجود ہیں ۔ لا پتہ افراد کے بوڑھے والدین ، بیوی بچے بھی کیمپ میں شریک تھے ۔ جماعت اسلامی پاکستان کے نائب امیر سینیٹر پروفیسر محمد ابراہیم ، ضلعی امیر سید محمد بلال کی قیادت میں جماعت اسلامی کے وفد نے کیمپ کا دورہ کیا۔ اور لا پتہ افراد کے خاندانوں کو ان کے پیاروں کی بازیابی کے لیے ہر ممکن تعاون کی یقین دہانی کرائی ۔ تحریک انصاف کے مقامی عہدیداروں نے بھی کیمپ کا دورہ کیا ۔ اس موقع پر میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے آمنہ مسعود جنجوعہ نے کہاکہ ہم نے اپنے پیاروں کی بازیابی کے لیے ہر دروازے پر دستک دی ہے۔ چار سال ہو گئے سینکڑوں لاپتہ افراد کا کچھ پتہ نہیں ہے ۔ انہوں نے کہاکہ ہم نے عدالت عظمیٰ کے دروازے پر بھی دستک دی ہے۔ مارے مارے پھر رہے ہیں ۔ سینکڑوں خاندان در بدر ہیں ۔ ملک میں بجلی کی لوڈشیڈنگ کے خلاف بسوں گاڑیوں ٹرینوں کو جلا دیا جائے تو حکومت حرکت میں آ جاتی ہے۔ ہم چار سالوں سے پر امن احتجاج کر رہے ہیں کسی جگہ سے انصاف نہیں ملا ۔ ا نہوں نے کہاکہ سابق صدر پرویز مشرف کے دور میں امریکی جنگ کو ملک و قوم پر مسلط کر کے سینکڑوں لوگوں کو غائب کر دیاگیا ۔ قوم کے معصوم اور بے گناہ نوجوانوں کو ڈالروں کے عوض امریکا کے حوالے کر دیاگیا ۔کوئی ادارہ نوٹس نہیں لے رہا ہے۔ موجودہ دور میں بھی لوگوں کو اٹھایا جارہا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے عدلیہ کی آزادی کے لیے قربانیاں دی ہیں ۔ عدلیہ کے لیے سڑکوں پر احتجاج کیا۔ ریلیوں اور اجلاسوں میں شریک ہوئے۔ عدالت عظمیٰ کو لا پتہ افراد کے بارے میں یاد دہانی کے لیے یہ کیمپ لگایا ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیاکہ پرویز مشرف پر پاکستانیوں کو ڈالروں کے عوض امریکا کے حوالے کرنے کا مقدمہ بھی چلایا جائے۔ ملک کے عوام کی اکثریت کا یہی کہنا ہے کہ ملک میں امریکی پالیسی چل رہی ہے جنرل پرویز مشرف کو عدالتی کٹہرے میں لا کر انکے جرائم کی سزا دلانی چاہیے تھی مگر حکومت نے اپنی ذمہ داری پوری نہیں کی ۔ جنرل ( ر ) پرویز مشرف نے امریکا کے سامنے جھکنے کا جو کلچر بنایا تھا موجودہ حکومت بدستور اس کلچر کو اپنائے ہوئے ہے ۔ 18 فروری 2007 ءکو جو عوام نے مینڈیٹ دیا تھا حکومت اس کی توہین کر رہی ہے سپریم کورٹ کی جانب سے فوجی ڈکٹیٹر جنرل ( ر ) پرویز مشرف کو عدالت میں بلانے کے فیصلے کو پوری قوم تحسین کی نظر سے دیکھتی ہے۔ اگر ایک دفعہ کسی ڈکٹیٹر کو آئین توڑنے کے جرم میں سزا مل گئی تو پھر کوئی فوجی ڈکٹیٹر جمہوری اداروں پر شب خون نہیں مارے گا یوںجمہوری اداروں کو فروع ملے گا۔سپریم کورٹ نے پرویز مشرف کو نوٹس بھجوا کر اور صفائی کا موقع دے کر عدل کے تقاضوں کو پورا کیا ہے۔جب تک 2 نومبر 2007 کی پوزیشن کو بحال نہیں کیا جائے گا۔ اور 3 نومبر 2007 ءکے اقدامات پر عمل ہو گا تو آئین کی بالادستی اور قانون کی حکمرانی قائم ہو سکتی ہے۔ عوام کا یہ بھی خیال ہے کہ اب بھی قومی نوعیت کے تمام فیصلے پارلیمٹ سے باہر ہو رہے ہیں ۔ ڈرون حملوں میں حکومت کی مرضی شامل ہے۔ ملک میں دہشت گردی اور بلوچستان میں حالات کی خرابی کا ذمہ دار بھارت ہے۔ بھارت کی چیرہ دستیاں پورے ملک میں پھیلی ہوئی ہیں ۔ دنیا کھلی آنکھوں سے دیکھ رہی ہے مگر حکومت بھارت کا نام لینے سے گھبراتی ہے۔اے پی ایس