

فرینڈز آف پاکستان کانفرنس جمہوریت کی ایک بہت بڑی جیت ہے کیونکہ اس کانفرنس میں پاکستان کے اقتصادی مسائل کو حل کر نے کے لئے بین الاقوامی سطح پر فورم کو باقاعدہ شکل دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے دنیا کے ترقی یافتہ ملکوں پر مشتمل فرینڈز آف پاکستان گروپ کا اجلاس نیویارک میں ہوا صدر آصف علی زر داری سے اجلاس سے خطاب کیا اجلاس میں پاکستان کو اقتصادی بحران سے نمٹنے کے لئے امداد فراہم کر نے کی حکمت عملی پر غور کیا گیا فرینڈز آف پاکستان گروپ کے وزراء خارجہ نے یقین دلایا ہے کہ پاکستان کی اقتصادی حالت بہتر بنانے کے لئے اقدامات کئے جائیں گے فرینڈز آف پاکستان دنیا کے 11ترقی یافتہ ممالک کوپاکستان کو اقتصادی بحران سے نکالنے کے لئے مختلف تجاویز پر غور کر نے کے لئے منعقد کیا گیا فرینڈز آف پاکستان کی تجویز امریکہ کی طرف سے دی گئی جسے ترقی یافتہ ممالک نے پاکستان کے عالمی منظر نامے میں اہمیت کی بنا پر قبول کیا اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 63 ویں اجلاس کے موقع پر فرینڈز آف پاکستان کا اجلاس اقوام متحدہ کی کونسل حال میں ہی ہوا اس میں جن 11ممالک نے شرکت کی ان میں امریکہ ،برطانیہ،چین،جاپان،سعودی عرب،متحدہ عرب امارات اور ڈی ایٹ کے دوسرے ممالک شامل ہیں اجلاس بند کمرے میں ہوا اجلاس میں کلیدی خطاب صدر آصف علی زر داری نے کیا فرینڈز آف پاکستان فورم میں شرکت کے لئے شریک ممالک کے وزراءخزانہ اور وزراء خارجہ نے بھی شرکت کی فرینڈز آف پاکستان گروپ کے اجلاس کے بعد صدر آصف علی زرداری امریکی وزیر خارجہ کونڈا لیزا رائس برطانوی وزیر خارجہ ڈیوڈ ملی بینڈ اور یو اے ای کے وزیر خارجہ نے میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے اجلاس کی تفصیلات بتائیں صدر آصف علی زر داری نے کہا کہ یہ اجلاس جمہوریت کی ایک بہت بڑی جیت ہے کیونکہ فیصلہ کیا گیا ہے کہ پاکستان کے اقتصادی مسائل کو حل کر نے کے لئے بین الاقوامی سطح پر فورم کوباقاعدہ شکل دے دی جائے اس کا آئندہ اجلاس یو اے ای کے دار الحکومت ابو ظہبی میں ہو گا جس میں اس حوالے سے مزید لائحہ عمل طے کیا جائے گا انہو ںنے کہاکہ اجلاس میں بات چیت اتنہائی موثر اور مفید رہی ہے اور پاکستان کے مسائل کا ادراک عالمی برادری کو تو تھا ہی مگر اس کو حل کر نے کے لئے ایکشن پلان بنانا اور اس مقصد کو حاصل کر نے کے لئے یہ پلان انتہائی اہم کر دار ادا کر ے گا جبکہ بریفنگ میں امریکی وزیر خارجہ کونڈا لیزا رائس نے کہا کہ بین الاقوامی برادری کو پوری طرح ادراک ہے کہ پاکستان اس وقت کس قسم کی اقتصادی مشکلات کا سامنا کر رہا ہے اور فرنٹ سٹیٹ ہوتے ہوئے دہشت گردی کے خلاف اس کا کر دار بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ ہے دنیا کے ترقی یافتہ ممالک نے مل کر یہ فورم تشکیل دیا ہے اور اس کے بہت جلد اچھے نتائج نکلیں گے اسی طرح پورے ای اور برطانوی وزیر خارجہ نے بھی اس بات کی توثیق کی کہ فورم نے یہ اہم فیصلے کئے ہیں اور کچھ عرصے میں اس کے نتائج پاکستانی عوام تک پہنچنے شروع ہو جائیں گے۔قبل ازیں پاکستان کے صدر آصف علی زرداری نے اقوام متحدہ سے اپنے خطاب میں زور دیا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ صرف طاقت کے استعمال سے نہیں جیتی جا سکتی۔ صدر آصف زرداری نے جنرل اسمبلی سے خطاب کے دوران سابق وزیر اعظم بے نظیر بھٹو کی تصویر پوڈیم پر رکھی اور اپنے خطاب کے آغاز ہی میں دنیا بھر سے آئے وفود کو بتایا کہ خود ان کا خاندان دہشت گردی کا شکار ہوا ہے۔ اور اقوام متحدہ سے درخواست کی کہ وہ انصاف کے نام پر جلد از جلد بے نظیر بھٹو کے قتل کی تحقیقات کا حکم دے۔ ”اگر ایک ملک کے صدر اور اس کے بچوں کو اقوام متحدہ کےذریعے انصاف نہیں مل سکتا تو دنیا کے غریب لوگوں کو یہ کیسے یقین آئے گا کہ اقوام متحدہ کمزوروں کا دفاع کر سکتی ہے۔” صدر زرداری نے بھٹو ڈاکٹرین یا بھٹو کے منشور کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ یہ اس صدی کا مارشل پلان ہے۔ مارشل پلان کا نقطہ نظر تھا کہ معاشی طور پر مضبوط یورپ کمیونزم کا بہتر طور سے مقابلہ کر سکتا ہے جبکہ بھٹو ڈاکٹرین کے مطابق معاشی طور پر مضبوط پاکستان، انتہا پسندی اور دہشت گردی سے بہتر طور سے نمٹ سکتا ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ یہ ایک خونی جنگ ہے جس میں پاکستان نے اپنے ہزاروں معصوم شہری اور فوجی گنوائے ہیں۔ اور اس جنگ کی بنیادیں سوویت یونین کی افغانستان سے واپسی کے دنوں میں ڈالی گئی تھیں۔ ’دنیا نے سوویت یونین کی ہار کے بعد افغانستان کو بھلا دیا اور پاکستان کو تیس لاکھ پناہ گزینوں کا بوجھ اٹھانا پڑا۔ ان کےکیمپ تشدد اور انتہا پسندی کی درسگاہوں میں بدل گئے۔” صدر زرداری نے زور دیا کے دہشت گردی کا مقابلہ صرف طاقت سے نہیں کیا جاسکتا بلکہ یہ دل و دماغ کی جنگ ہے جسے معاشی ترقی سے جوڑنا ہوگا۔’اس جنگ کو معاشی میدان میں لڑنا ہوگا ۔ہمیں غریبوں کو امید دلانی ہوگی۔ ان کے مستقبل کو روشن بنانا ہوگا۔ انہیں نوکریاں چاہئیں۔ ان کے بچوں کو تعلیم چاہیے۔ انہیں خوراک چاہیے۔ توانائی چاہیے۔ اور ہمیں لوگوں کو ان کی اپنی حکومت میں حصہ دار بنانا ہوگا ۔” انہوں نے مزید کہا کہ یہ تمام اقدامات پاکستان اکیلے نہیں اٹھا سکتا بلکہ اس میں اسے دنیا کی مدد چاہیے۔ اس کے ساتھ ساتھ انہوں نے یہ بھی کہا کہ پاکستان کی خود مختاری کا احترام بھی ضروری ہے۔ ’ہم اس کی اجازت نہیں دے سکتے کہ ہمارے دوست ہماری زمین اور ہماری خود مختاری کو پامال کریں۔ پاکستان کی سرزمین پر کئے گئے حملوں سے دراصل انہیں عناصر کو فائدہ ہوتا ہے جن کے خلاف ہم یہ مشترکہ جنگ لڑ رہے ہیں ۔” انہوں نے کہا کہ پاکستان کی حکومت بات چیت سے مسائل حل کرے گی۔ ’ہم بہت تحمل سے فاٹا اور اپنے پختونخواہ صوبے کے رہنماوں کو اس پر آمادہ کریں گے کہ وہ دہشت گردی کی پشت پناہی ترک کر کے قانون کی پابندی شروع کریں۔ ” اس کے ساتھ ہی صدر زرداری نے واضح کیا کہ جہاں ضرورت پڑے گی، حکومت طاقت کا استعمال بھی کرے گی۔ جموں اور کشمیر کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے بھارتی وزیر اعظم من موہن سنگھ سے اپنی ملاقات کا ذکر کیا اور کہا کہ خطے کی ترقی کے لیے ضروری ہے کہ دونوں ممالک آپس میں بات چیت کریں اور ایک دوسرے کے نقطہ نظر کو سمجھیں۔ ’ہمیں ایک دوسرے کی عزت کرنی ہوگی اور ایک دوسرے سے مل کر پر امن طریقے سے باہمی مسائل حل کرنے ہونگے تاکہ ہم جنوبی ایشیا کو تجارت اور ٹیکنالوجی کی منڈی بنا سکیں۔اے پی ایس
No comments:
Post a Comment