APS ASSOCIATED PRESS SERVICE, ایسوسی ایٹڈ پر یس سروس، بین الا قوامی خبر رساں ایجنسی

International News Agency in english.urdu news feature,Interviews,editorial,audio,video & Photo Service from Rawalpindi/Islamabad,Pakistan.Managing editor M.Rafiq,Editor M.Ali. Chief editor Chaudhry Ahsan Premee email: apsislamabad@gmail.com,+92300 5261843 مینجنگ ایڈ یٹر محمد رفیق، ایڈیٹر محمد علی، چیف ایڈیٹرچو دھری احسن پر یمی

Monday, July 27, 2009

لا پتہ افراد کے لواحقین کو کسی جگہ سے انصاف نہیں ملا۔چودھری احسن پر یمی




سپریم کورٹ کے سینئر جج جسٹس خلیل الرحمٰن رمدے نے کہا ہے کہ عدالت عظمٰی تین نومبر دو ہزار سات کو عبوری آئینی حکم نامے کے تحت حلف اٹھانے والے چیف جسٹس عبدالحمید ڈوگر کی آئینی حیثیت کا تعین بھی کرے گی۔ گزشتہ سوموار کے روز جسٹس خلیل الرحمٰن نے یہ ریمارکس سندھ ہائیکورٹ کے تین ججوں کی تقرری کے بارے دائر ایک آئینی درخواست کی سماعت کے دوران اس وقت دیے جب درخواست گزار کے وکیل ملک عبدالقیوم نے یہ نکتہ اٹھایا کہ ان تینوں ججوں کا تقرر سابق چیف جسٹس عبدالحمید ڈوگر کی سفارش پر کیا گیا تھا۔جسٹس خلیل رمدے کا کہنا تھا کہ ایک آئینی چیف جسٹس کی موجودگی میں دوسرے چیف جسٹس کی تقرری کی کیا آئینی حیثیت ہے اس بارے میں بھی یہ عدالت غور کر سکتی ہے۔اگر عدالت جسٹس عبدالحمید ڈوگر کی آئینی حیثیت کا جائزہ لے گی تو اسے صدر پاکستان آصف علی زرداری کی حیثیت پر بھی غور کرنا ہو گا جنہوں نے جسٹس ڈوگر سے حلف لیا تھا۔درخواست گزار کے وکیل ملک عبدالقیوم نے جسٹس رمدے کے سابق چیف جسٹس کی آئینی حیثیت کے بارے میں ریمارکس کے جواب میں کہا کہ اگر عدالت جسٹس عبدالحمید ڈوگر کی آئینی حیثیت کا جائزہ لے گی تو اسے صدر پاکستان آصف علی زرداری کی حیثیت پر بھی غور کرنا ہوگا جنہوں نے جسٹس ڈوگر سے حلف لیا تھا۔ملک قیوم نے جو کہ سابق صدر پرویز مشرف کے دور میں اٹارنی جنرل کی حیثیت سے جسٹس ڈوگر اور تین نومبر کی بعد کی عدلیہ کے حامی ہیں، کہا کہ اسی طرح اگر تین نومبر کے بعد کے صدارتی اقدامات کی آئینی حیثیت پر سوالیہ نشان لگایا گیا تو پھر موجودہ وزیراعظم کے بارے میں بھی نئی رائے دینا ہو گی کیونکہ انہوں نے بھی سابق صدر پرویز مشرف سے وزارت عظمٰی کا حلف لیا تھا۔واضح رہے کہ جسٹس خلیل رمدے چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی سربراہی میں بننے والے اس چودہ رکنی بنچ کا حصہ ہیں جو تین نومبر کے بعد اعلٰی عدلیہ میں تعینات اور برطرف ہونے والے مختلف ججوں کے مقدمات کا جائزہ لے رہا ہے۔یہ مقدمہ بظاہر سندھ ہائیکورٹ کے بعض ججوں کی تین نومبر کے بعد تعیناتی اور برطرفی سے متعلق ہے لیکن عدالت اس پس منظر میں تین نومبر کے بعد سابق صدر اور فوجی سربراہ پرویز مشرف کی جانب سے اعلیٰ عدلیہ میں تقرریوں کے علاوہ بعض دیگر امور کے بارے میں بھی کیے گئے اقدامات کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔ اسی سلسلے میں اس بنچ نے سابق صدر پرویز مشرف کو انتیس جولائی کو عدالت کے سامنے اپنا موقف پیش کرنے کی دعوت دے رکھی ہے۔جسٹس ڈوگر کے چیف جسٹس کی حیثیت کے بارے میں اس وقت بھی دلائل دینا چاہیں تو ضرور دیں کیونکہ ہمیں اس معاملے میں کوئی خوف نہیں ہے۔ گزشتہ پیر کے روز اس مقدمے کی سماعت کے دوران چیف جسٹس افتخار چوہدری نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ تین نومبر کو معزول قرار دیے گئے تمام جج دو نومبر والی پوزیشنز پر بحال ہوئے ہیں اور ان میں سے کسی کی بھی نئی تقرری نہیں ہوئی۔ملک قیوم نے کہا کہ صدر پاکستان، وزیراعظم اور دیگر تمام آئینی شخصیات نے سابقہ دور میں بھی اور اس نئے سیاسی ڈھانچے میں بھی جسٹس ڈوگر کو چیف جسٹس تسلیم کیا تھا لیکن وہ اس مسئلے پر کسی نئی بحث میں نہیں پڑنا چاہتے۔اس موقع پر جسٹس رمدے نے کہا کہ عدالت کو اس سے کوئی سروکار نہیں کہ جسٹس ڈوگر اور صدر مشرف کے درمیان کیا معاملہ تھا یا یہ کہ کون انہیں چیف جسٹس مانتا ہے۔ ہم ان کی چیف جسٹس کے طور پر آئینی حیثیت کا جائزہ لیں گے۔ جبکہ وزیر اعطم سید یوسف رضا گیلانی نے کہا ہے کہ آئی ڈی پیز کی واپسی کا عمل ایک ماہ میں مکمل کر لیا جائے گا ۔ ممبئی واقعات پاکستان کے لئے افسوسناک ہیں ۔ پاکستان بھارت کے ساتھ خوشگوار تعلقات چاہتا ہے اور اس کی کوشش ہے کہ دونوں ممالک مسائل حل نکالیں ۔ برآمدات میں اضافے کی کوشش کی جائے اور بین الاقوامی خریداروں کی حوصلہ افزائی کی جانے ان خیالات کا اظہار انہوں نے گزشتہ پیر کو کابینہ کے اجلاس کے موقع پر کیا ۔ کابینہ کے اجلاس میں نئی تجارتی پالیسی کی منظوری دی گئی ۔ وزیراعظم نے پاک بھارت مذاکرات کے بارے میں اعتماد میں لیا اور کہا کہ حکومت کی یہ کوشش ہے کہ ان لوگوں کی مشکلات کا فوری طور پر ازالہ کیا جائے ۔ انہوں نے سوات میں مسلح افواج کی قربانیوں کو خراج تحسین بھی پیش کیا ۔ وزیر اعظم نے کابینہ کو بھارتی وزیر اعظم من موہن سنگھ کے ساتھ شرم الشیخ ملاقات کی تفصیلات کے بارے میں بریفنگ دی اور کہا کہ یہ ملاقات انتہائی خوشگوار ماحول میں ہوئی ۔ دہشت گردی کے حوالے سے تمام امور پر بھارتی وزیر اعظم سے تبادلہ خیال ہوا ۔ پاکستان بھارت کے ساتھ خوشگوار تعلقات چاہتا ہے اور اس کی کوشش ہے کہ دونوں ممالک مل کر مسائل کا حل نکالیں ۔ دہشت گردی صرف پاکستان کا ہی نہیں بلکہ پوری دنیا کا مسئلہ ہے اور مل جل کر ہی اس سے نمٹنا ہو گا ۔ انہوں نے کہا کہ ممبئی واقعات پاکستان کے لئے بھی افسوس ناک ہیں اور پاکستان اس سلسلے میں بھرپور تعاون کر رہا ہے تاکہ اس میں ملوث عناصر کو بے نقاب کیا جا سکے ۔ جبکہ وزیراعظم نے تجارت کے فروغ کے حوالے سے بھی اہم ہدایات دیں۔ جبکہ ڈیفنس آف ہیومن رائٹس کی چیئر پرسن آمنہ مسعود جنجوعہ کی قیادت میں گزشتہ پیر کو لاپتہ افراد کی بازیابی کے لیے سپریم کورٹ کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کیا گیا ۔ مظاہرین نے پلے کارڈ اٹھا رکھے تھے اور انہوں نے نعرے بازی کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ لاپتہ افراد کو جلداز جلد بازیاب کرایا جائے ۔ مظاہرین نے چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کے حق میں بھی نعرے بازی کی ۔ملک میں لا پتہ افراد کے بارے میں قائم ڈیفنس آف ہیومن رائٹس نے اپنے پیاروں کی بازیابی کے لیے عدالت عظمیٰ کے سامنے 4 روزہ احتجاجی کیمپ لگا دیا ہے۔ ملک میں سینکڑوں افراد کے لاپتہ اور غائب ہونے کو چار سال مکمل ہو گئے ۔ احتجاجی کیمپ 30 جولائی تک جاری رہے گا گزشتہ پیر کوجماعت اسلامی پاکستان اور تحریک انصاف سمیت سول سوسائٹی کی مختلف شخصیات نے کیمپ کا دورہ کیا ۔ تفصیلات کے مطابق ملک میں لا پتہ افراد کی گمشدگی کو چار سال مکمل ہونے پر گزشتہ روز عدالت عظمیٰ کے سامنے 4 روزہ احتجاجی کیمپ لگا دیاگیا ہے۔ ڈیفنس آف ہیومن رائٹس کی چےئر پرسن آمنہ مسعود جنجوعہ دیگر لاپتہ افراد کے خاندانوں کے ہمراہ اس کیمپ میں موجود ہیں ۔ لا پتہ افراد کے بوڑھے والدین ، بیوی بچے بھی کیمپ میں شریک تھے ۔ جماعت اسلامی پاکستان کے نائب امیر سینیٹر پروفیسر محمد ابراہیم ، ضلعی امیر سید محمد بلال کی قیادت میں جماعت اسلامی کے وفد نے کیمپ کا دورہ کیا۔ اور لا پتہ افراد کے خاندانوں کو ان کے پیاروں کی بازیابی کے لیے ہر ممکن تعاون کی یقین دہانی کرائی ۔ تحریک انصاف کے مقامی عہدیداروں نے بھی کیمپ کا دورہ کیا ۔ اس موقع پر میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے آمنہ مسعود جنجوعہ نے کہاکہ ہم نے اپنے پیاروں کی بازیابی کے لیے ہر دروازے پر دستک دی ہے۔ چار سال ہو گئے سینکڑوں لاپتہ افراد کا کچھ پتہ نہیں ہے ۔ انہوں نے کہاکہ ہم نے عدالت عظمیٰ کے دروازے پر بھی دستک دی ہے۔ مارے مارے پھر رہے ہیں ۔ سینکڑوں خاندان در بدر ہیں ۔ ملک میں بجلی کی لوڈشیڈنگ کے خلاف بسوں گاڑیوں ٹرینوں کو جلا دیا جائے تو حکومت حرکت میں آ جاتی ہے۔ ہم چار سالوں سے پر امن احتجاج کر رہے ہیں کسی جگہ سے انصاف نہیں ملا ۔ ا نہوں نے کہاکہ سابق صدر پرویز مشرف کے دور میں امریکی جنگ کو ملک و قوم پر مسلط کر کے سینکڑوں لوگوں کو غائب کر دیاگیا ۔ قوم کے معصوم اور بے گناہ نوجوانوں کو ڈالروں کے عوض امریکا کے حوالے کر دیاگیا ۔کوئی ادارہ نوٹس نہیں لے رہا ہے۔ موجودہ دور میں بھی لوگوں کو اٹھایا جارہا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے عدلیہ کی آزادی کے لیے قربانیاں دی ہیں ۔ عدلیہ کے لیے سڑکوں پر احتجاج کیا۔ ریلیوں اور اجلاسوں میں شریک ہوئے۔ عدالت عظمیٰ کو لا پتہ افراد کے بارے میں یاد دہانی کے لیے یہ کیمپ لگایا ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیاکہ پرویز مشرف پر پاکستانیوں کو ڈالروں کے عوض امریکا کے حوالے کرنے کا مقدمہ بھی چلایا جائے۔ ملک کے عوام کی اکثریت کا یہی کہنا ہے کہ ملک میں امریکی پالیسی چل رہی ہے جنرل پرویز مشرف کو عدالتی کٹہرے میں لا کر انکے جرائم کی سزا دلانی چاہیے تھی مگر حکومت نے اپنی ذمہ داری پوری نہیں کی ۔ جنرل ( ر ) پرویز مشرف نے امریکا کے سامنے جھکنے کا جو کلچر بنایا تھا موجودہ حکومت بدستور اس کلچر کو اپنائے ہوئے ہے ۔ 18 فروری 2007 ءکو جو عوام نے مینڈیٹ دیا تھا حکومت اس کی توہین کر رہی ہے سپریم کورٹ کی جانب سے فوجی ڈکٹیٹر جنرل ( ر ) پرویز مشرف کو عدالت میں بلانے کے فیصلے کو پوری قوم تحسین کی نظر سے دیکھتی ہے۔ اگر ایک دفعہ کسی ڈکٹیٹر کو آئین توڑنے کے جرم میں سزا مل گئی تو پھر کوئی فوجی ڈکٹیٹر جمہوری اداروں پر شب خون نہیں مارے گا یوںجمہوری اداروں کو فروع ملے گا۔سپریم کورٹ نے پرویز مشرف کو نوٹس بھجوا کر اور صفائی کا موقع دے کر عدل کے تقاضوں کو پورا کیا ہے۔جب تک 2 نومبر 2007 کی پوزیشن کو بحال نہیں کیا جائے گا۔ اور 3 نومبر 2007 ءکے اقدامات پر عمل ہو گا تو آئین کی بالادستی اور قانون کی حکمرانی قائم ہو سکتی ہے۔ عوام کا یہ بھی خیال ہے کہ اب بھی قومی نوعیت کے تمام فیصلے پارلیمٹ سے باہر ہو رہے ہیں ۔ ڈرون حملوں میں حکومت کی مرضی شامل ہے۔ ملک میں دہشت گردی اور بلوچستان میں حالات کی خرابی کا ذمہ دار بھارت ہے۔ بھارت کی چیرہ دستیاں پورے ملک میں پھیلی ہوئی ہیں ۔ دنیا کھلی آنکھوں سے دیکھ رہی ہے مگر حکومت بھارت کا نام لینے سے گھبراتی ہے۔اے پی ایس

Sunday, July 26, 2009

ہر فیصلے ہر معاملے پر حاوی صدر آصف زرداری۔ چودھری احسن پر یمی




صدرمملکت آصف علی زرداری کی ہدایت پر ان کی 54ویں سالگرہ گزشتہ چھبیس جولا ئی کو انتہائی سادگی سے منائی گئی کراچی میں ان کی موجودگی کے باوجود کوئی بڑی تقریب منعقدنہ کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔بلاول ہاوس کے ترجمان اعجازدرانی نے کہا کہ پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری کی ہدایت پر کراچی،اندرون سندھ اورملک بھر میں ان کی سالگرہ کے موقع پر ملک کی ترقی وخوشحالی اورشہید محترمہ بے نظیر بھٹوکے مشن کی تکمیل کے لئے دعائیں مانگی گئیں اورغریب لوگوں میں لنگرتقسیم کیا گیا۔ جبکہ آصف زرداری کی درازی عمرکیلئے بلاول ہاوس کے باہر بکروں کا صدقہ بھی دیا گیا۔ صدر پاکستان اور پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری جب صدارت کے عہدے پر بھی فائز ہوئے تھے تو انھوںنے تمام وفاقی وزارتوں اور سرکاری محکموں کو ہدایت دی تھیں کہ وہ ان کے بطور صدر منتخب ہونے پر مبارک باد پر مبنی اشتہارات کی اشاعت سے گریز کریں آصف زرداری کی ایوان صدر آمد پر بکروں کا صدقہ دیا گیا تھا۔اس موقع پر صدر آصف زرداری نے کہا تھاکہ ایک غریب ملک ہونے کے ناطے وہ اس طرح پاکستانی ٹیکس دہندگان کے پیسے کو استعمال نہیں ہونے دیں گے۔ ’دنیا ہمیں دیکھ رہی ہے۔ نئی جمہوری حکومت کو اندرونی اور بیرونی سطح پر کئی چیلنجوں کا سامنا ہے۔ نئی حکومت اور عوام کو یہ ثابت کرنا ہوگا کہ ان کی معاشرے اور معشیت میں بہتری لانے کی خواہش ہے اس موقع پر آصف علی زرداری کے حکم پر ہی حکومت سندھ نے ان کے انتخاب کی خوشی میں جو چھٹی کا اعلان کیا تھا وہ بھی واپس لے لیا تھا۔ اس کی وجہ آصف علی زرداری کا وہ عزم تھا کہ ملک کو چھٹیوں کی نہیں کام کی ضرورت ہے۔ کیو نکہ صدر آصف علی زرداری کے خیال میں آمریت کی وجہ سے پاکستان کی شبہیہ بری طرح متاثر ہوئی ہے۔ اس عزت کو واپس حاصل کرنا ایک مشکل عمل ہے تاہم انہیں امید ہے کہ وہ مل کر اس ہدف کو حاصل کر لیں گے۔ اس موقع پر انہوں نے محنت کرنے اور فضول خرچی سے بچنے کی ضرورت پر زور دیا تھا۔تیئس برس قبل انیس سو ستاسی میں بینظیر بھٹو کی آصف علی زرداری کے ساتھ شادی ہوئی تھی تو کئی دنوں تک لوگوں کے ذہنوں میں کئی سوال اٹھتے رہے۔ بےنظیر بھٹو کی وصیت کے مطابق پارٹی کے سربراہ کے طور پر ان کی نامزدگی پر بھی کچھ ویسی ہی صورتحال پیدا ہوگئی تھی۔نواب شاہ سے تعلق رکھنے والے آصف زرداری کا تعلق ایک درمیانہ بزنس کلاس سے ہے۔ ان کے والد حاکم علی زرداری پی پی ٹکٹ پر ستر کی دہائی میں الیکشن جیت چکے ہیں۔ بڑی مونچھیں اور مخصوص سندھی اسٹائل رکھنے والے چوون سالہ پر اعتماد آصف زرداری پولو اور گھڑ سواری کے شوقین تھے۔ یہاں تک کہ انہوں نے وزیر اعظم ہاو¿س میں پولو گراو¿نڈ تعمیرکرایا تھا۔ جس وجہ سے کئی مخالف سیاسی رہنما ان پر برہمی کا اظہار کرتے رہے اور اس حوالے سے کئی کہانیاں میڈیا میں آئیں تھیں۔ آصف زرداری بینظیر حکومت میں مختلف معاملات میں اہم کردار ادا کرتے رہے۔ انیس سو اٹھاسی کے عام انتخابات کے نتیجے میں جب بے نظیر بھٹو کی قیادت میں پیپلز پارٹی پہلی مرتبہ برسر اقتدار آئی تو پارٹی کے کئی پرانے لیڈروں اور کارکنوں کو یہ شکایت تھی کہ حکومت اور پارٹی میں کسی عہدہ دار کی نہیں چلتی۔ ہر فیصلے اور ہر معاملے پر آصف زرداری حاوی ہیں۔ پارٹی کے بعض اراکین کے تحفظات اور مختلف حلقوں کی جانب سے اٹھائے گئے اعتراضات کے باوجود بینظیر کے دوسرے دور حکومت میں انہوں نے سیاسی رول بھی ادا کرنا شروع کیا۔ آصف زرداری کے بارے میں مشہور ہے کہ وہ دوست نواز ہیں۔ جب وہ جیل میں سنگین حالات سے دوچار تھے تو ان کے والد حاکم علی زرداری نے ایک مرتبہ کہا تھا کہ آصف دوستوں کی وجہ سے ہی یہ دکھ دیکھ رہا ہے۔ آصف زرداری نے ایک مرتبہ اپنی گرفتاری پر کہا تھا کہ ان کا ایک پاو¿ں جیل میں اور دوسرا وزیر اعظم ہاو¿س میں ہے۔ یہ بات سچ بھی ثابت ہوئی کہ ان کی شادی کے بعد جب بینظیر حکومت میں رہیں تو وہ وزیر اعظم ہاو¿س میں رہے اور جب اپوزیشن میں رہیں تو وہ جیل میں یا پھر بیرون ملک۔ پانچ نومبر سن انیس سو چھیانوے کو جب ان کی جماعت کی حکومت ان ہی کے منتخب کردہ صدر فاروق احمد خان لغاری کے ہاتھوں برطرف ہونے سے لیکر دو ہزار چار تک وہ مسلسل جیل میں رہے۔ اور یوں آٹھ سال کا عرصہ انہوں نے قید میں گزارا۔ اس دوران چار حکومتیں آئیں اور گئیں، لیکن آصف زرداری کے لیے جیل کے دروازے نہیں کھلے۔یہ ہی وجہ ہے کہ وہ ایک طاقتور سیاسی شخصیت بن کر سامنے آئے ۔ آصف زرداری کا صدر منتخب ہونا مسائل کے حل کی طرف ایک تاریخی سفر کا آغاز تھا ۔ اس وقت عوام کا یہ بھی کہنا تھا کہ ملک میں مکمل جمہوریت اس وقت ہوگی جب معزول چیف جسٹس کو بحال کیا جائے گا۔ وہ دن بھی آیا جب معزول چیف جسٹس افتخار محمد چودھری بحال بھی ہوگئے آصف زرداری کے صدر منتخب ہونے کے بعد سالوں سے پارلیمان اور ایوان صدر کے درمیان جاری تصادم ختم ہوگیا۔آصف زرداری کا انتخابی عمل آئین اور قانون کے مطابق ہوا اور یہ ہی عوام کی فتح تھی انہوں نے صدارتی انتخاب میں پیپلز پارٹی کی فتح کو ایک تاریخی دن قرار دیتے ہوئے کہا تھاکہ ملک کو درپیش تمام مسائل کو ایک دن میں حل نہیں کیا جا سکتا ہے لیکن آج کا دن مسائل کے حل کی طرف ایک تاریخی سفر کی شروعات ہے۔ بھٹو خاندان کے سیاسی وارث صدر پاکستان آصف علی زرداری جس خوش اسلوبی سے فلسفہ بھٹو کی روشنی میں ملک کا نظم و نسق چلارہے ان کے جاری سیاسی عمل سے جمہوریت کو کوئی خطرہ لاحق نہیں اس طرح کی باتیں ملک دشمن عناصر و غیر جمہوری طاقتیں پھیلا رہی ہیں۔ کیو نکہ سیاسی عمل میں شامل تمام فریق ملک میں جمہوری نظام کی کامیابی اور اس کے برقرار رہنے کے بارے میں متفق ہیں لہذا اس نظام کو کوئی خطرہ نہیں ہے۔ کسی کو پاکستانی قوم کے عزم، اس کے اداروں کی طاقت اور رہنماو¿ں کی ملک کو مشکلات سے نکالنے کے ارادے پر شک نہیں ہونا چاہیے۔ ملک دشمن عناصر اس طرح کا پروپیگنڈا کر کے ملک اور عوام کی توجہ اصل مسائل کی طرف سے ہٹانا چاہتے ہیں۔ ’لیکن موجودہ قیادت نے ماضی میں بھی شدت پسندی اور دہشت گردی کے چیلنج سے مقابلہ کیا ہے اور آئندہ بھی اس دشمن سے لڑنے کا عزم اور صلاحیت رکھتے ہیں۔‘ آج پاکستان ایک پھلتی پھولتی جمہوریت رکھتا ہے جس میں آزاد میڈیا اور شہری حقوق رائج ہیں۔ ’ جمہوری نظام، ہمارے ادارے اور انکی صلاحیت میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے اور اس بارے میں کسی کو غلط فہمی نہیں ہونی چاہئے’۔ پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف زرداری اور انکی جماعت جمہوریت کی علم بردار ہے اور اسکی مرحوم سربراہ شہید بے نظیر بھٹو کی کوششوں سے آج ملک میں جمہوری دور رائج ہے۔ پاکستان کے صدر آصف علی زرداری دنیا کو بتانا چاہتے ہیں کہ پاکستانی اپنے مسائل خود حل کریں گے اور اپنی جنگیں خود لڑیں گے۔ انھیں سکھانے کے ضرورت نہیں بلکہ دنیا کی قدیم جمہوریت اور سب سے بڑی جمہوریت کوان سے سیکھنے کی ضرورت ہے ۔کیونکہ انھوںنے اپنے رہنماءاور لوگ کھوئے ہیں اور انھیںپتا ہے کہ کیسے انتقام لیا جائے۔‘ آصف زرداری اس بات پر بھی یقین رکھتے ہیں کہ پاکستان ناکام ریاست نہیں ہے ’مگروہ تسلیم کرتے ہیں کہ ملک کو کینسر ہے جس کا علاج جمہوریت ہے۔‘ آصف زرداری نے اس عزم کا بھی اعادہ کیا ہوا ہے کہ وہ بے وطن کرداروں کواپنا ایجنڈا مسلط کرنے نہیں دیں گے اور نہ ہی انھیں اپنے ناپاک عزائم میں ہونے دیں گے ۔وہ امریکی صدر اوباما کے خیال سے متفق ہیں کہ اس کینسر کا ریجنل علاج ہونا چاہیے۔ جبکہ آصف زرداری اپنے کئی ایک خطاب میں یہ بھی کہہ چکے ہیں کہ انھیں بینظیر کے قاتلوں کا علم ہے اور وہ انہیں بے نقاب کریں گے مگر وقت کا انتظار کرنا چاہیے ۔ ان کے مطابق قاتل یہ چاہتا ہے کہ ہم جلد بازی کریں اور طیش میں آئیں مگر ہم ایسا ہرگز نہیں کریں ہم اپنے فیصلے کا وقت خود طے کریں گے۔ آپ سب کو اختلاف رائے کا حق ہے مگر آصف زرداری کو فیصلے کرنے کا حق عوام نے دیا ہے۔‘ انہیں ملکی مسائل کے حل کا علم ہے زراعت سے لیکر بجلی پانی اور صنعت کے مسائل کا حل وہ جانتے ہیں مگر انہیں وقت درکار ہے۔ ان کی جماعت اقتدار کے ایوانوں میں عوامی ووٹ کے ذریعے پہنچی ہے کسی کی رعایت یا سفارش سے نہیں ۔ پاکستان کی جمہوریت کو خطرات لاحق ہیں مگر ان کی جماعت کے شریک چئیر مین آصف زرداری ان خطرات سے نمٹ لیں گے ۔ آصف زرداری بے آواز لوگوں کی آواز ہیں اور بعض قوتوں سے ان کی اقتدار کے ایوانوں میں موجودگی برداشت نہیں ہو پا رہی ہے۔ صدر آصف علی زرداری کے نزدیک دہشتگردی ایک فلسفہ ہے جو پاکستان میں پروان نہیں چڑھا بلکہ کسی اور ملک میں تخلیق کرکے پاکستان منتقل کیا گیاتاکہ ہم ایک سپر پاور کا مقابلہ کرسکیں اور ہم نے اس سپرپاور کا مقابلہ کیا۔ لیکن اس بلا کو بنانے والوں نے اسکا علاج نہیں بنایا اور اب یہ کینسر ایک بلا بن گئی ہے۔‘ پیپلز پارٹی کی حکومت کو گرانے میں بھی انہی دائیں بازو کی قوتوں کا ہاتھ رہا ہے جو شدت پسندی کے اس فلسفے کو پروان چڑھاتی رہی ہیں۔ ان قوتوں کا انداز فکر ہی جارحیت ہے کہ ہم اقلیت ہیں لیکن اکثریت پر طاقت کے زور پر حکمرانی کریں گے جو کہ غلط ہے۔‘ تاہم یہ قوتیں عوام سے جیت نہیں سکتیں۔ ’قوموں پر امتحان آتے ہیں، یہ امتحان کی گھڑی ہے مگر آصف علی زرداری کو اپنے آپ پر اور پاکستان کے عوام پر یقین ہے۔ آج معاشی دہشتگردی کا زمانہ ہے اور وہ فلسفہ بھٹو کی روشنی میں ثابت قدمی سے ان کا مقابلہ کر رہے ہیں۔ صدر آصف علی زرداری نے عالمی سطح پر پاکستان کی ساکھ بحال کی ہے اور دنیا اس بات کو تسلیم کر رہی ہے کہ پاکستان دہشتگردی کا شکار ہے۔ گزشتہ مہینوں’ فرینڈز آف پاکستان کا ایک اجلاس ہوا اس میں جرمنی کے نمائندے نے کہا کہ ہمیں پاکستان کی مدد کرنی چاہیے اور یہ موجودہ حکومت کی غلطی نہیں ہے بلکہ سابقہ حکومت سے انہیں یہ صورتحال ورثے میں ملی ہے ۔ صدر زرداری امریکہ کے صدر براک اوباما سے بھی پاکستان کی امریکی میزائیل حملوں کے بارے میں شکایت کا از سر نو جائزہ کیلئے بھی کہہ چکے ہیں۔ کیو نکہ صدر آصف علی زرداری سمجھتے ہیں کہ امریکی میزائیل حملے ہماری خودمختاری کی خلاف ورزی ہیں اور انہیں عوامی سطح پر ناپسندیدگی سے دیکھا جاتا ہے۔ صدر زرداری سمجھتے ہیں کہ اس جنگ کا پہلا مقصد لوگوں کے دل دماغ جیتنا ہے صدر آصف علی زرداری کئی بار امریکہ سے کہہ چکے ہیں کہ دہشتگردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کی مدد کرے کیونکہ دہشتگردی علاقائی نہیں بلکہ عالمی مسئلہ ہے۔ افغانستان میں منشیات کے ناجائز کاروبار کا سرمایہ پاکستان کے اندر عسکریت پسندی کو بھڑکانے کے لیے استعمال کیا جارہا ہے۔ امریکہ کو چاہیے کہ زمینی حقائق کو اچھی طرح سمجھے۔ افغانستان میں پیدا ہونے والے منشیات کی آمدنی سے پاکستان کے اندر دہشتگردی کو ہوا دی جاتی ہے اور امریکہ افغانستان میں پوست کی کاشت کو رکوائے۔اے پی ایس

Wednesday, October 8, 2008

پارلیمنٹ مشترکہ اجلاس میں دہشتگردی کا حل نکلنے کی توقع نہیں،نواز شریف




لاہور (اے پی ایس )مسلم لیگ ن کے قائد میاں نواز شریف نے کہا ہے کہ پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں دہشت گردی کا حل نکلنے کی توقع نہیں تاہم ایسے اجلاس ہوتے رہنے چاہئیں۔ شیخ زید اسپتال لاہورمیں مسلم لیگ ن کے رہنما رشید نوانی کی عیادت کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے میاں نواز شریف نے کہا کہ ملک میں دہشت گردی ایک ناسور بن چکا ہے جسے ختم کرنے کیلئے پوری قوم کو مل کر جدوجہد کرنا ہو گی۔ان کا کہنا تھا کہ دہشت گردی کے خاتمے کیلئے قومی پالیسی ترتیب دی جانی چاہئے۔انہوں نے ملک میں جاری دہشت گردی کوپرویز مشرف کے آٹھ سالہ آمرانہ دور کا تحفہ قرار دیا۔نواز شریف کا کہنا تھا کہ معزول ججز کو بحال کرنے کی بجائے عدلیہ کی بے حرمتی کی گئی ہے۔اس کے بعد میاں نواز شریف اور وزیراعلی پنجاب میاں شہباز شریف پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں شرکت کرنے کیلئے علیحدہ علیحدہ لاہور کے پرانے ائیرپورٹ پہنچے جہاں سے وہ اسلام آباد روانہ ہوگئے۔اس موقع پرسیکورٹی کے انتہائی سخت انتظامات کئے گئے تھے۔ اے پی ایس
Posted by APS ASSOCIATED PRESS SERVICE at 6:21 PM 0 comments

پارلیمنٹ میں بحث کے بغیرمتفقہ لائحہ عمل پرپہنچنا مشکل ہے،قاضی حسین احمد

اوکاڑہ :جماعت اسلامی کے امیرقاضی حسین احمدکاکہناہے کہ پارلیمنٹ کے اِن کیمرہ سیشن میں آرمی کی جانب سے بریفنگ دی جا رہی ہے،بحث نہیں کی جا رہی، اسلئے بحث کے بغیرکسی متفقہ لائحہ عمل پرپہنچنے میں کامیابی مشکل ہے۔اوکاڑہ میں ٹرین مارچ کے استقبالی ہجوم سے خطاب کرتے ہوئے قاضی حسین احمدنے کہا ہے کہ18فروری کے انتخابات بھی ملک میں سیاسی استحکام نہیں لا سکے اورناکام داخلہ اور خارجہ پالیسی سابق حکومت کاتسلسل ہے،ان کاکہناتھا کہ جماعت اسلامی کااجتماع عام ایسا لائحہ عمل دے گاجس سے ملکی سیاست امریکی مداخلت سے آزادہوجائے گی،جماعت اسلامی کے نائب امیرلیاقت بلوچ کاکہناتھاکہ حکومت عوام کے جان و مال کا تحفظ کرنے میں ناکام ہو چکی ہے اسلئے اسے مستعفی ہو جاناچاہیے۔
Posted by APS ASSOCIATED PRESS SERVICE at 6:16 PM 0 comments

پاکستان دہشت گردی کا نشانہ ہے عالمی برادری مدد کرے۔صدر زرداری

اسلام آباد (اے پی ایس )صدر آصف علی زرداری نے کہا ہے کہ پاکستان دہشت گردی کا نشانہ ہے عالمی برادری اسے مشکلات سے نکالنے میں مدد کرے ۔ انہوں نے یہ بات برطانیہ کے پاکستان میں سفیر رابرٹ برنکلے سے بات چیت کے دوران کہی۔ جنہوں نے ایوان صدر اسلام آباد میں ان سے ملاقات کی۔ ذرائع کے مطابق صدر آصف علی زرداری کا کہنا تھا کہ دہشت گرد پاکستان کو غیر مستحکم کرنے کے مذموم مقاصد میں کبھی کامیاب نہیں ہوں گے ۔ ذرائع کے مطابق برطانوی سفیر نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ پاکستان کی مدد کے بغیر نہیں جیتی جا سکتی۔ صدر آصف علی زرداری نے اسلام آباد میں سفارت کاروں اور ان کے اہل خانہ کو فول پروف سیکیورٹی فراہم کرنے کی یقین دہانی کرائی ۔ اس سے پہلے لیبیا کے سفیر Ibrahim Mukthar Henitish نے بھی صدر زرادری سے ملاقات کی۔ صوبہ سرحد کے گورنر اویس غنی نے صدر زرداری سے ملاقات میں امن و امان اور قبائلی علاقوں کی صورت حال پر تبادلہ خیال کیا۔اے پی ایس
Posted by APS ASSOCIATED PRESS SERVICE at 6:07 PM 0 comments

آٹھ اکتوبر: حکومت نے تعمیر نو اور نو آباد کاری کا عزم کر رکھا ہے ۔وزیر اعظم گیلانی

اسلام آباد (اے پی ایس) گذشتہ روز پاکستان کے زیر انتظام کشمیر اور شمال مغربی علاقوں میں آٹھ اکتوبر 2005ء کو آنے والے تباہ کن زلزلے کی تیسری برسی منائی گئی۔ اس موقع پر زلزلے سے شدید متاثر ہونے والے ضلع مظفرآباد سمیت ملک میں خصوصی تقریبات منعقد کی گئیں۔ اسی سلسلے میں دارلحکومت اسلام آباد میں ہونے والی ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم یوسف رضا گیلانی نے کہا کہ ملک میں قدرتی آفات سے نمٹنے کا ایک جامع نظام وضع کیا جارہا ہے جس کی عدم موجودگی میں ان کے بقول پائیدار اقتصادی ترقی پر برے اثرات مرتب ہوسکتے ہیں۔وزیراعظم نے کہا ہے کہ حکومت نے تعمیر نو اور نو آباد کاری کے ذریعے آٹھ اکتوبر کے زلزلے کی تباہ کاریوں کو ختم کرنے کا عزم کر رکھا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ خود نیشنل ڈیزاسٹرمینجمنٹ کمیشن کی سربراہی کررہے ہیں جو ملک میں قدرتی آفات اور حادثات سے نمٹنے کے لیے حکمت عملی کی نگرانی کرتا ہے ۔ وزیراعظم نے کہا کہ نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی قائم کی گئی ہے جب کہ صوبائی اور ضلعی سطح پر بھی ہر طرح کی آفت سے نمٹنے کے لیے سیل موجود ہیں تاہم انہوں نے کہا کہ ان کی استطاعت میں اضافے کی ضرورت ہے۔یوسف رضا گیلانی کا کہنا تھا کہ پاکستان کو سیلاب ، خشک سالی اور پہاڑی تودے گرنے جیسی آفات اور دہشت گردی کے خطرات کا سامنا ہے جن سے ہونے والی تباہی اربوں ڈالر کے نقصان کا سبب بنتی ہے۔انہوں نے کہا کہ نیشنل مینجمنٹ اتھارٹی کی طرف سے 50ایسے اضلاع کی نشاندہی کی گئی ہے جہاں قدرتی آفات کے خطرات زیادہ ہیں اور حکومت نے ان علاقوں کے لیے مناسب فنڈز مختص کررکھے ہیں۔وزیراعظم کا کہنا تھا کہ سیلاب زلزلوں اور خشک سالی جیسی آفات کا مقابلہ کرنے کے لیے پیشگی اطلاع کا نظام مزید مئوثر بنانے کی ضرورت ہے۔ وزیراعظم نے بتایا کہ 8اکتوبر 2005کو پاکستان کے زیرانتظام کشمیر اور شمالی علاقوں میں آنے والا 7.6شدت کا تباہ کن زلزلہ تقریباً 75ہزار افراد کی ہلاکت اور 35لاکھ افراد کو بے گھر کرنے کا سبب بنا تھا۔حکام کے مطابق زلزلے کی تباہ کاریوں سے نمٹنے کے لیے 5.6ارب ڈالر کی رقم خرچ کی جارہی ہے۔واضح رہے کہ تین سال کا عرصہ گزرنے کے بعد بھی حکومت کو زلزلے سے متاثرہ علاقوں میں تعمیر نو کے کام کے حوالے سے تنقید کا سامنا ہے۔اے پی ایس
Posted by APS ASSOCIATED PRESS SERVICE at 5:54 PM 0 comments

کم تنخواہ والے طبقے کی اقتصادی مشکلات میں کمی کے لئے بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کا اجرائ

اسلام آباد (اے پی ایس)وفاقی حکومت نے کم تنخواہ والے طبقے کی اقتصادی مشکلات میں کمی کے لئے بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام شروع کیا ہے جس کے تحت چھ ہزار سے کم آمدن والے خاندانوں کو ہر ماہ حکومت کی طرف سے ایک ہزار روپے کی امداد دی جائے گی۔بدھ کو وفاقی دارلحکومت میں نیوز کانفرنس کے دوران تفصیلات بتاتے ہوئے وفاقی وزیر اطلاعات شیری رحمان نے کہا کہ اس پروگرام کا مقصدبڑھتی ہوئی مہنگائی سے متاثرہ افراد کو کھانے پینے کی اشیاءکی خرید میں سہولت فراہم کرنا ہے۔ اس پروگرام کے تحت پاکستانی کشمیر، شمالی علاقوں اور فاٹا سمیت ملک بھر میں مستحق افراد اپنے اپنے علاقے کے سینٹر یا ممبران قومی اسمبلی سے ایک فارم حاصل کر سکتے ہیں۔ جس کی نادرہ کی طرف سے جانچ پڑتال کے بعد اس خاندان کو انکم سپورٹ کارڈ جاری کر دیا جائے گا۔ تاہم یہ کارڈ صرف اس خاندان کی خاتون ہی حاصل کر سکے گی۔انہوں نے بتایا کہ پروگرام کے لیے 34 ارب روپے کی رقم رکھی گئی ہے جس سے ملک کی 12 سے 14 فیصد آبادی مستفید ہو سکے گی۔ عوام کی فلاح ریاست کی ذمہ داری ہے اور عالمی سطح پر تیل اور خوراک کے قیمتوں میں اضافے سے جو اقتصادی تنزلی آئی ہے اس کے اثرات سے غریب عوام کو بچانے کے لیے بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام شروع کیا گیا ہے۔دوسری طرف ناقدین کاکہنا ہے کہ اس پروگرام کے لیے 34 ارب روپے کی خطیر رقم مختص کرنے سے بدعنوانی کے امکانات پید ا ہونگے اور ان کے بقول بہتر ہوتا اگراس رقم سے ملک میں صنعتی یونٹ قائم کر کے روزگار کے مواقع پیداکیے جاتے۔تاہم حکومت کا کہنا ہے کہ اس پروگرام میں مکمل شفافیت کو یقینی بنایا گیا ہے۔ اے پی ایس
Posted by APS ASSOCIATED PRESS SERVICE at 5:42 PM 0 comments

افغا نستان میں مشکل صورتحال ہمارے غلط اندازے کی وجہ سے ہے۔اوبامہ

نیو یارک (اے پی ایس )امریکی صدارت کے لیے ڈیموکریٹک پارٹی کے امیدوار سینیٹر باراک اوبامہ نے کہا ہے کہ امریکہ کو پاکستان کے بارے میں اپنی پالیسی بدلنا ہوگی صدر بش کی طرف سے ڈکٹیٹرشپ کی حمایت سے کچھ بھی حاصل نہیں ہوا ہے- انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان میں جمہوری حکومت کو مستحکم بنانے کی ضرورت ہے۔ تاہم انہوں نے کہا کہ اگر انہیں یہ معلوم ہو کہ اسامہ بن لادن پاکستان میں ہیں تو پھر اسے ہلاک کرنے کےلیے وہ پاکستان میں ضرور کارروائی کریں گے- ریپبلیکن پارٹی کے صدارتی امیدوار سینٹیر جان مکین نے کہا کہ وہ سینیٹر باراک اوبامہ کے برعکس اسامہ بن لادن کو گرفتار کرنے کےلیے پاکستانی حکومت اور عوام کا تعاون چاہیں گے۔ امریکی صدارتی امیدوار انتخابات سے صرف ستائیس روز قبل منگل کی شب ہونے والے مباحثے میں ووٹروں کے سوالوں کے جواب دے رہے تھے- صدارتی امیدواروں کے دوسرے مباحثے میں ملک میں آنےوالے اقتصادی بحران، ٹیکسوں، ہیلتھ انشورنس، گھروں کی بڑھتی ہوئی قیمتیں، اور سوشل سکیورٹی سمیت معاشی مسائل ووٹروں کے سوالوں کے محور رہے۔ خارجہ پالیسی اور قومی سلامتی مسائل کے متعلق سوالات میں پاکستان، افغانستان اور ایران کے موضوعات نمایاں رہے۔ پاکستان پر امریکی پالسیوں میں تبدیلی کی ضرورت ہے- ہم ماضی کی طرح ڈکٹیٹر کی حمایت نہیں کر سکتے- ہم نے دہشتگردی کےحلاف جنگ کے نام پر اسے اربوں ڈالر دیئے اور اس نےطالبان اورعسکریت پسندوں سے امن معاہدے کیے۔دونوں صدارتی امیدواروں سے خارجہ پالیسی کے میدان میں ان کی ایک ووٹر ٹمی ہاک کا سوال تھا ’ کیا ہمیں پاکستان کی خود مختاری کا اس وقت بھی احترام کرنا چاہیے جب القاعدہ کے دہشتگرد اس کی حدود میں ہو؟ کیا ہمیں سرحد تک ان کا تعاقب نہیں کرنا چاہیے یا پھر ہمیں پاکستان میں بھی اس طرح پالیسی اپنانی جیسی ہم نے ویتنام جنگ کے دوران کمبوڈیا میں اپنے دشمنوں سے کیا تھا؟‘ ڈیموکریٹک پارٹی کےصدارتی امیدوار سینیٹر باراک اوبامہ نے سوال کو عمدہ قرار دیتے ہوئے کہا ’ پاکستان میں ہمارے ساتھ بہت ہی مشکل صورتحال ہے۔’مشکل صورتحال ہمارے غلط اندازے کی وجہ سے ہے کہ ہم نے ابھی افغانستان میں اپنا کام ختم ہی نہیں کیا تھا کہ القاعدہ کو کچلنے سے قبل ہم نے عراق میں مداخلت کردی-‘ انہوں نے کہا کہ امریکہ کے ساتھ یہ ہوا کہ ہم نے اپنی تمام حکمت عملی اور وسائل عراق میں لگائے اور اسامہ بن لادن کو اس بیچ میں پاکستان میں صوبہ سرحد کے پہاڑی علاقوں میں فرار ہوجانے کا موقعہ مل گیا۔ اب وہ ہمارے فوجیوں پر حملے کر رہے ہیں اور افغانستان کی صورتحال سنہ دو ہزار ایک سے بھی کافی درجہ خراب ہو چکی ہے اور یہی دہسشتگردی کا مرکزی علاقہ ہے جہاں وہ اب بھی امریکیوں کو قتل کرنے کے منصوبہ بنا رہے ہیں -‘ سینیٹر اوبامہ نے امریکی وزیر دفاع کی بات کا حوالہ دیتے ہوئےکہا کہ دہشتگردی کےخلاف جنگ افغانستان میں شروع ہوئی تھی اور افغانستان میں ہی ختم ہوگی- ایسے ملک میں جب آپ کو کسی اور ملک کےخلاف حمایت کی ضرورت ہو تو اس ملک کی حکومت سے تعاون درکار ہوتا ہے نہ کہ عوامی رائے عامہ اپنے خلاف کر دینا۔اوبامہ نے کہا ’دہشتگردی کےخلاف جنگ کا مرکز افغانستان ہے اس لیے افغانستان کی حکومت پر وہاں (افغانستان) کی صورتحال میں بہتری لانے کےلیے دباو¿ بڑھانا چاہیے- عراق میں جنگ ختم کر کے امریکی فوجیوں کی تعداد بڑھا کر افغانستان میں متعین کرنی چاہیے- افغانستان میں منشیات کی سمگلنگ روکنی چاہیے جس سے آنیوالی رقم دہشتگردی پر خرچ ہورہی ہے- انہوں نے کہا کہ امریکہ کو پاکستان پر اپنی پالیسیوں میں تبدیلی کی ضرورت ہے- انہوں نے جنرل مشرف کا نام لیے بغیر کہا ہم ماضی کی طرح ڈکٹیٹر کی حمایت نہیں کرسکتے- ’ ہم نے دہشتگردی کےخلاف جنگ کے نام پر اسے اربوں ڈالر دیئے اور اس نےطالبان اورعسکریت پسندوں سے امن معاہدے کیے-انہوں نے کہا ’ہمیں پاکستان میں جمہوریت کو مضبوط بنانا چاہیے اور فوجی امداد کے بجائےغیر فوجی امداد میں توسیع کرنی چاہیے تاکہ پاکستان ہمارے ساتھ کام کرنے کےلیے مزید مستحکم ہو سکے-دونوں امیدواروں کے درمیان آخری اور تیسرا مباحثہ پندرہ اکتوبر کو نیویارک میں ہوگی ان کا کہنا تھا کہ اگر ہماری معلومات یا نظر میں اسامہ بن لادن آتا ہے اور پاکستان کی حکومت ان کے خلاف کارروائی کرنے کے قابل نہیں یا اس کا ارادہ نہیں رکھتی تو ہم خود کارروائی کریں گے- اسامہ بن لادن کو ہلاک کریں گے اور القاعدہ کو کچل کر رکھ دیں گے اور ہماری قومی سلامتی کی یہی سب سے بڑی ترجیح ہے-جان مکین نے اپنے حریف صدارتی امیدوار اوبامہ کی طرف سے طالبان کے تعاقب میں پاکستان کے اندر حملے کرنے کی بات کو احمقانہ قرار دیا ہے۔جان مکین نے کہا کہ ایک ایسے ملک میں جہاں سے آپ کو کسی اور ملک کےخلاف حمایت کی ضرورت ہو تو اس ملک کی حکومت سے تعاون درکار ہوتا ہے نہ کہ عوامی رائے عامہ اپنے خلاف کر دینا- انہوں نے اعتراف کیا کہ افغانستان میں ’افغان حریت پسندوں‘ کی طرف سے سابقہ سوویت یونین کی شکست کے بعد امریکہ کو علاقے سے ہاتھ صاف کرکے واپس آجانا غلطی تھی جس سے طالبان واپس آ گئے- دونوں امیدوار ایک سوال کے جواب میں اس پر متفق دیکھے گئے کہ اسرائیل پر ایرانی حملے کی صورت میں امریکہ کو اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل کے فیصلے کا انتظار کرنا ہوگا- البتہ باراک اوبامہ نےایران اور شمالی کوریا سے بات چیت کا دروازہ کھلا رکھنے پر زور دیا جبکہ سینیٹر جان مکین نے کہا کہ ہم اب ایک نئی ’ہولو کسٹ‘ نہیں دیکھنا چاہتے- اے پی ایس
Posted by APS ASSOCIATED PRESS SERVICE at 5:27 PM 0 comments

ملکی سلامتی کے حوالے پارلیمنٹ کا بند کمرہ اجلاس،ڈی جی آئی ایس آئی بریفنگ دیں گے۔تحریر : اے پی ایس




پاکستان کی پارلیمانی تاریخ کا تیسرا مشترکہ بند کمرہ اجلاس بدھ کو شام پانچ بجے پارلیمنٹ ہاوس میں ہوگا۔ سخت سیکیورٹی میں ہونیوالے اس اجلاس میں ملک کی موجودہ داخلی وخارجی صورتحال اور ملکی سلامتی کو درپیش خطرات پر غور اور ارکان پارلیمنٹ کو اعتماد میں لیا جائے گا۔ اسپیکر قومی اسمبلی ڈاکٹر فہمیدہ مرزا اجلاس کی صدارت کرینگی، ایجنڈا تیار، ارکان پارلیمنٹ کو داخلی و خارجی صورتحال سمیت ملکی سلامتی کو درپیش خطرات کے حوالے سے اعتماد میں لیا جائیگا۔ اجلاس ٹھیک شام 5 بجے شروع ہوگا، اسمبلی ہال کے دروازے بند کردیئے جائینگے جس کے بعدکسی کو اندر آنے یا باہر جانے کی اجازت نہیں ہوگی، اجلاس میں آئی ایس آئی کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل احمد شجاع پاشا شرکائ کو بریفنگ اور ان کے سوالات کے جواب دیں گے۔ پارلیمانی ذرائع کے مطابق ارکان پارلیمنٹ کو فاٹا کی صورتحال، دہشت گردی اور انتہا پسندی کے خلاف جاری جنگ کے مختلف پہلووں پر جی ایچ کیو کی طرف سے بریفنگ دی جائے گی، یہ اجلاس ایک دن میں بھی ختم ہوسکتا ہے جبکہ کئی روز جاری بھی رہ سکتا ہے۔ سرکاری حکام کی بریفنگ کے بعد وزیراعظم یوسف رضا گیلانی، قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر چوہدری نثار علی خان، سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر کامل آغا اور دیگر پارلیمانی لیڈر اظہار خیال کریں گے۔ میڈیا کو اس اجلاس کی کوریج کی اجازت نہیں ہوگی۔ سیکیورٹی خدشات کے پیش نظر دارالحکومت میں فوج کو طلب اور ریڈ زون نو گو ایریا قرار دیدیا گیا ہے۔ مسلم لیگ (ن) کے قائد میاں نواز شریف وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی کی دعوت پر اجلاس میں شرکت کر رہے ہیں۔ تفصیلات کے مطابق قومی اسمبلی سیکرٹریٹ نے اجلاس کیلئے تمام انتظامات کو حتمی شکل دیدی ہے جبکہ اسپیکر قومی اسمبلی نے وزیراعظم کی مشاورت سے اجلاس کا ایجنڈا تیار کرلیا ہے۔ منگل کو قومی اسمبلی سیکرٹریٹ میں اعلیٰ سطحی اجلاس کے دوران مشترکہ اجلاس کے انتظامات اور خاص طورپر سکیورٹی کو فول پروف بنانے کیلئے اقدامات کو حتمی شکل دی گئی۔ ارکان پارلیمنٹ یا ایجنڈے کے حوالے سے مدعوئین کے علاوہ کسی کو اجلاس میں شرکت کی اجازت نہیں ہوگی۔ پاک فوج کے ترجمان میجر جنرل اطہر عباس کے مطابق لیفٹیننٹ جنرل احمد شجاع پاشا پارلیمنٹ کو بریفنگ دیں گے۔ جنرل احمد شجاع پاشا کو چند روز قبل ہی آئی ایس آئی کا سربراہ مقرر کیا گیا ہے۔ جنرل احمد شجاع پاشا جو پاکستان فوج میں بطور ڈائریکٹر جنرل قبائلی علاقوں میں فوجی کارروائیوں اور سرحدوں پر ہونے والی سرگرمیوں پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں، پاکستان کو لاحق اندرونی و بیرونی خطرات اور قومی مفادات کے تقاضوں کے بارے میں سینیٹ اور قومی اسمبلی کے اراکین کو بریفنگ دیں گے اور اس حوالے سے وہ ارکان پارلیمنٹ کے سوالات کے جواب بھی دیں گے۔ پارلیمنٹ کے ان کیمرہ مشترکہ سیشن کے موقع پر تمام اراکین سینٹ وقومی اسمبلی کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ اجلاس میں بروقت شرکت کو یقینی بنائیں۔ قومی اسمبلی سیکرٹریٹ اور سینٹ سیکرٹریٹ کے ذرائع کے مطابق پاکستان پیپلزپارٹی کے چیف وہپ وفاقی وزیر محنت وافرادی قوت سید خورشید شاہ اور مسلم لیگ (ن) کے چیف وہپ شیخ آفتاب احمد سینٹ میں حکومتی چیف وہپ مولانا عبدالغفور حیدری، مسلم لیگ مسلم لیگ (ق) کے قومی اسمبلی میں چیف وہپ ریاض حسین پیرزادہ اور سینٹ میں اپوزیشن لیڈر کامل علی آغا سے کہا گیا ہے کہ وہ اپنے اپنے اراکین کی پارلیمنٹ کے ان کیمرہ مشترکہ سیشن میں بروقت شرکت کو یقینی بنائیں۔ دریں اثناء وزارت پارلیمانی امور کے مشیر اظہار امروہوی نے بتایا ہے کہ صدرمملکت کو آئین کے آرٹیکل 54 کے تحت یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ کسی بھی قومی نوعیت کے معاملے پر پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس طلب کرسکتے ہیں۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ یہ ضروری نہیں ہے کہ پارلیمنٹ کا ”ان کیمرہ“ سیشن ایک دن کیلئے ہو، اس کی مدت میں معاملات کی نوعیت کے حوالے سے اضافہ ہوسکتا ہے، ممکن ہے کہ اجلاس آئندہ دوچار روز تک جاری رہے ۔ انہوں نے کہا کہ اس اجلاس کی صدارت قواعدوضوابط کے تحت اسپیکر قومی اسمبلی کرتا ہے۔ تاہم اگر اسپیکر موجود نہ ہو تو چیئرمین سینٹ اجلاس کی صدارت کرتا ہے، دونوں کی عدم موجودگی میں ڈپٹی اسپیکر اور ڈپٹی چیئرمین سینٹ کو اجلاس کی صدارت کا اختیار حاصل ہوتا ہے۔ اسپیکر قومی اسمبلی کی جانب سے وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی، مشیر داخلہ رحمن ملک یا ملک کی انٹیلی جنس ایجنسیوں کے حکام میں سے جس کو بھی اجازت دی جائے گی وہ اراکین کو بریفنگ دیں گے۔ قومی اسمبلی سیکرٹریٹ کے ذرائع کے مطابق پارلیمنٹ کے مشترکہ سیشن کے موقع پر سخت ترین حفاظتی اقدامات کئے گئے ہیں اور امن وامان قائم رکھنے والے اداروں کو ”ہائی الرٹ“ رہنے کی ہدایت جاری کی گئی ہیں۔اے پی ایس
Posted by APS ASSOCIATED PRESS SERVICE at
5:05 AM 0 comments

کیا امریکہ کے ہاتھوں پاکستان کے شہریوں کا قتل عام حکومت کی اجازت سے ہورہا ہے ؟۔ رپورٹ اے پی ایس

سیکرٹری دفاع کامران رسول نے سینیٹ قائمہ کمیٹی برائے دفاع کے اجلاس میں انکشاف کیا ہے کہ امریکی طیارے حکومت کی اجازت سے پاکستان کی فضائی حدود کو نگرانی کیلئے استعمال کر رہے ہیں، پاکستان امریکا کی امداد پر انحصار کرتا ہے اور امریکا سے دشمنی مول نہیں لے سکتا، امریکی خفیہ اطلاعات، تربیت و ہتھیاروں کے بغیر پاکستان دہشت گردی کیخلاف جنگ نہیں جیت سکتا، اگر امریکا اور برطانیہ نے دہشت گردی کے الزامات لگا کر اقتصادی پابندیاں عائد کردیں تو پاکستان گھٹنے ٹیکنے پر مجبور ہوجائے گا کیونکہ پاکستانی معیشت دیوالیہ ہونیوالی ہے، اتحادی افواج نے پاکستان میں مخصوص اہداف کے سرگرم تعاقب (ہاٹ پرسوٹ) کی متعدد مرتبہ درخواست کی جس کو حکومت نے ہمیشہ رد کیا ہے۔ سینیٹ قائمہ کمیٹی برائے دفاع کا اجلاس چیئرمین نثار میمن کی صدارت میں ہوا جس میں سینیٹر پروفیسر خورشید، دلاور عباس، نعیم حسین چٹھہ، کامل علی آغااور کامران مرتضی شریک تھے۔ اجلاس میں کمیٹی نے حکومت بالخصوص صدر آصف زرداری سے مطالبہ کیا ہے کہ کشمیری مجاہدین کے حوالے سے سوچ سمجھ کر بیان دیئے جائیں، کشمیری اپنی آزادی کی جنگ لڑ رہے ہیں اس قسم کے بیانات سے ان کے احساسات مجروح ہونگے، اب وقت آ گیا ہے کہ ہم اپنی خارجہ و دفاعی پالیسیوں اور امریکا کے ساتھ تعلقات پر نظر ثانی کریں اور پارلیمان کو تمام معاملات طے کرنے کے اختیارات دیں۔ اس موقع کمیٹی کے چیئرمین نثار میمن نے کہا کہ قبائلی علاقوں میں فوجی طاقت کے ساتھ سیاسی حل بھی تلاش کرنے کی ضرورت ہے جبکہ ہماری خفیہ ایجنسیوں کو چاہئے کہ وہ اپنے انٹیلی جنس نیٹ ورک کو مزید مربوط اور موثر بنائیں ۔ نثار میمن نے کہا کہ کمیٹی کے اس اجلاس کا بنیادی مقصد قائمہ کمیٹی کے دورہ برطانیہ اور برطانوی دارا لعوام کی دفاعی کمیٹی سے ملاقات کے ایجنڈے سے متعلق مختلف دفاعی ماہرین سے مشاورت ہے۔ اس موقع پر کمیٹی کو بریفنگ دیتے ہوئے انسٹی ٹیوٹ آف اسٹرٹیجک اسٹڈیز کی سابق سربراہ شیریں مزاری نے کہا کہ پاکستان میں دہشت گردی کو ختم کرنے کیلئے ضروری ہے کہ ہم سب سے پہلے اپنے قبائلی علاقوں پر امریکی حملوں کو روکیں ورنہ مستقبل میں ایک ایسا وقت آئے گا جب پاکستان خانہ جنگی کی لپیٹ میں ہو گا اور اقوام متحدہ ہمارے ایٹمی اثاثوں کو اپنی تحویل میں لے لے گا، امریکا نے خطے میں اپنے مقاصد پورے کرنے کیلئے دہشت گردی کے خلاف جنگ کے محور کو افغانستان سے پاکستان منتقل کر دیا ہے، امریکا پاکستان کا دوست نہیں بلکہ ایک بدترین دشمن ہے۔ اس موقع پر سینیٹر کامل علی آغا نے کہا کہ جن کشمیری مجاہدین کو ہم نے خود پروان چڑھایا آج انہی کو صدر مملکت دہشت گرد قرار دے کر زیادتی کر رہے ہیں، صدر پاکستان کے اس بیان سے کہ حکومت نے امریکا کو حملے کرنے کی اجازت دی، دہشت گردی کو فروغ حاصل ہوگا۔ اس موقع پر کمیٹی کے ارکان نے کہا کہ امریکا اب ہمارا اتحادی نہیں رہا، 18فروری کے انتخابات میں عوام نے امریکی اور پاکستانی حکومت کی امریکا نواز پالیسیوں کو مسترد کر دیا تھا۔ سینیٹر پروفیسر خورشید نے کہا کہ پاکستان کے قبائلی علاقوں میں حالات کی خرابی کا سبب افغانستان میں موجود بھارتی، روسی اور اسرائیلی ایجنٹ ہیں جو کہ سرحد پار حالات خراب کرنے کیلئے مختلف قسم کی کارروائیوں میں ملوث ہیں۔ اے پی ایس
Posted by APS ASSOCIATED PRESS SERVICE at
4:50 AM 0 comments

فضائی حدود کی خلاف ورزی، ایرانی جیٹ طیاروں نے امریکی فوجیوں کو لے جانے والا طیارہ اتارلیا

تہران : ایرانی جیٹ طیاروں نے فضائی حدود کی خلاف ورزی کرنے والے طیارے کو ایران میں اتارلیا ،طیارے میں 5امریکی فوجیوں سمیت 8افراد سوار تھے جن سے پوچھ گچھ کے بعد طیارے کو افغانستان جانے کی اجازت دے دی گئی۔ ایرانی ٹی وی العالم کے مطابق طیارہ ترکی سے افغانستان جارہاتھا کہ اس دوران غلطی سے ایرانی حدود میں داخل ہوگیا جس پر ایرانی طیاروں نے اس کا پیچھا کیا اور اسے اترنے پر مجبور کردیا، طیارہ ریڈار سے بچنے کیلئے نچلی پرواز کر رہا تھا۔ٹی وی نے سرکاری حکام کے حوالے سے بتایا ہے کہ طیارہ ہنگری کا تھا جو کہ امدادی سامان لے کر افغانستان جارہا تھا۔ٹی وی کے مطابق طیارے میں پانچ امریکی فوجیوں سمیت آٹھ افراد سوار تھے۔ پائلٹ نے ایرانی حدود کی خلاف ورزی کرنے کا اعتراف کرلیا اور طیارے کو پوچھ گچھ کے بعد افغانستان جانے کی اجازت دیدی۔قبل ازیں ایرانی نیوز ایجنسی نے رپورٹ دی تھی کہ ایرانی حدود کی خلاف ورزی کرنے والے امریکی طیارے کو اتارلیاگیا ہے جس کے بعد پینٹاگون نے اپنے کسی طیارے کو ایران میں اتارے جانے کی تردید کی تھی۔
Posted by APS ASSOCIATED PRESS SERVICE at
4:44 AM 0 comments

دہشت گردی کے خاتمے کیلئے تمام جماعتوں کو اعتماد میں لیا جائے، نواز شریف

لاہور:پا کستان مسلم لیگ (ن) کے قائد میاں نواز شریف نے کہا ہے کہ دہشت گردی کا خاتمہ حکومت سمیت کسی بھی اکیلے کے بس کی بات نہیں ‘پا رلیمنٹ سے باہر بھی سیا سی جما عتوں کو اعتماد میں لیا جا ئے‘دہشت گرد ملک اور قوم کے دشمن ہیں مگر ضرورت ہے کہ دہشت گردی میں اضا فے کی وجو ہات کو تلاش کر کے مسئلہ حل بھی کیا جا ئے ۔وہ گز شتہ روز جدہ سے واپسی پر پارٹی رہنما ؤں سردار ذالفقار کھو سہ ‘چوہدری عبد الغفور اور دیگر سے پر انے اےئر پورٹ پر گفتگو کر رہے تھے ۔ اس مو قع پر وزیر اعلیٰ پنجاب میاں شہباز شر یف نے بھی ان کا استقبال کیا ۔میاں نواز شریف نے کہا کہ دہشت گردی کے واقعات کی جتنی بھی مذمت کی جا ئے، کم ہے لیکن ضرورت اس بات کی ہے کہ ان وجوہات کو بھی تلاش کیا جائے جن کی وجہ سے آج قبائلی علاقوں سمیت دیگر علاقوں میں امن و امان کی صورتحال خراب ہے ۔
Posted by APS ASSOCIATED PRESS SERVICE at
4:37 AM 0 comments

بینکاری نظام کو کوئی خطرہ نہیں،سرمائے میں کمی عید پر رقوم نکلوانے سے ہوئی، گورنراسٹیٹ بینک

کراچی: گورنر اسٹیٹ بینک ڈاکٹر شمشاد اختر نے کہا ہے کہ بینکاری نظام کو کوئی خطرہ نہیں، سرمائے میں کمی عید پر رقوم نکلوانے سے ہوئی، پاکستان کا بینکاری شعبہ دھچکے برداشت کرنے کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہے، پاکستان کا بینکاری شعبہ مختلف اقسام کے مارکیٹ دھچکوں اور سخت مجموعی معاشی حالات کا مقابلہ کرتا رہا ہے اور کرتا رہے گا، آج ایک بیان میں گورنر، اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے کہا کہ یہ صلاحیت گزشتہ چند برسوں کے دوران کی جانے والی مالی اصلاحات کے مسلسل عمل کے ذریعے حاصل کی گئی ہے ، بینکنگ سسٹم کے استحکام کے بارے میں کسی قسم کی کوئی تشویش موجود نہیں، اُنہوں نے کہا کہ بینکنگ سسٹم نے ٹھوس کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے اور اس کا مستقبل روشن ہے اسی وجہ سے سرمایہ کاروں نے بینکنگ سسٹم پر اعتماد ظاہر کیا ہے اور اُنہوں نے 2006ء ء کے بعد سے اب تک تقریباً 500/ ملین ڈالر کا اضافی سرمایہ لگایا ہے جس سے بینکوں کی سرمائے کی بنیاد بہتر ہوئی ہے اُنہوں نے کہا کہ بینکنگ سیکٹر کی کیپٹل ایڈیکوئیسی کم از کم سطح سے کافی اوپر ہے، بینکنگ سسٹم کا کیپٹل ایڈیکوئیسی ریشو جون 2008ء ء کو 12.1 ہے جو بین الاقوامی حد سے کافی اوپر ہے، غیرفعال قرضوں کا تناسب اور سرمائے اور غیرفعال قرضوں کا تناسب بھی بہت کم ہے اور قابل قبول حد کے اندر ہے اُنہوں نے کہا کہ infection ratio (net) بہتر ہو کر جون 2008ء ء میں 1.1 فی صد تک آ گیا جو دسمبر 2006ء ء میں 1.6 فی صد تھا پاکستان کا بینکاری نظام بتدریج ترقی کر رہا ہے اور اطمینان بخش کارکردگی کا مظاہرہ کر رہا ہے، منی مارکیٹ ریٹس پر حالیہ دباوٴ کے حوالے سے اُنہوں نے کہا کہ اس دباوٴ کا تعلق عید کے موقع پر نقدی نکلوائے جانے سے ہے، عید کی تیاریوں کے سلسلے میں کھاتیداروں نے بینکاری نظام سے بھاری رقوم نکلوائیں تاہم یہ صورت حال عید کے بعد کے دنوں میں بالآخر بہتر ہو جائے گی کیونکہ بالآخر یہ رقوم دوبارہ بینکاری نظام میں آ جائیں گی، گورنر، اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے بینکوں پر زور دیا کہ وہ ڈپازٹس کے حصول کے لیے اقدامات کریں۔
Posted by APS ASSOCIATED PRESS SERVICE at
4:31 AM 0 comments

بے نظیر قتل کی تحقیقات نہیں کی جارہی، کمیٹی قتل کے حقائق معلوم کرے گی، اقوام متحدہ

نیویارک: اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل بان کی مون نے کہا ہے کہ بے نظیر بھٹو کے قتل کے حقائق جاننے کیلئے کمیشن جلد بنایا جائیگا۔ نیویارک میں نیوز کانفرنس کرتے ہوئے بان کی مون نے کہا کہ پاکستان کی سابق وزیر اعظم محترمہ بے نظیر بھٹو قتل کیس کی تحقیقات نہیں کرائی جائیں گی بلکہ قتل کے حقائق تلاش کئے جائیں گے اور اس سلسلے میں کمیشن کی تشکیل کیلئے حکومت پاکستان سے بات چیت جاری ہے۔ بان کی مون کا کہنا تھا کہ بے نظیر بھٹو قتل کیس کے شواہد جمع کرنے میں کچھ وقت لگے گا۔
Posted by APS ASSOCIATED PRESS SERVICE at
4:28 AM 0 comments

سرحد حکومت کی عملداری ختم ہوچکی، امریکی ایماء پرجغرافیہ تبدیل کیا جارہا ہے، فضل الرحمن

جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ اور پارلیمنٹ کی خصوصی کشمیر کمیٹی کے چیئرمین مولانا فضل الرحمن نے کہا ہے کہ امریکی خواہش اور دباؤ پر سرحد کا جغرافیہ تبدیل کیا جا رہا ہے، کشمیر کا حل صرف کشمیریوں کو حق رائے دہی دینے میں ہے، سرحد میں حکومت کی رٹ عملاً ختم ہو چکی ہے اور سرحدی علاقے عملاً عسکریت پسندوں کے کنٹرول میں ہیں، صدر آصف علی زرداری کو سفارتی گفتگو میں الفاظ کا استعمال سوچ سمجھ کر کرنا چاہئے، افغانستان میں شروع کی گئی جنگ کے اثرات اب پاکستان بھگت رہا ہے اور بھارت بھی اس سے محفوظ نہیں رہے گا ، حکومت کو چاہئے کہ فوری طور پر پالیسی پر نظرثانی کرے۔ وہ ڈیرہ میں صحافیوں سے گفتگو کر رہے تھے۔ مولانا فضل الرحمن نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ اگر سرحد حکومت عسکریت پسندوں، عوام اور قبائلیوں نے ہوش کے ناخن نہ لئے اور فوج نے آپریشن بند نہ کیا تو اس کے انتہائی سنگین نتائج برآمد ہو سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بدقسمتی سے صوبہ میں اے این پی کی حکومت ہے جو سرے سے ڈیورنڈ لائن کو تسلیم ہی نہیں کرتی اور اس پر ظلم یہ ہے کہ اپنے ہی عوام پر فضائی اور زمینی حملے کئے جا رہے ہیں جس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ حکومت کی رٹ ختم ہو چکی ہے۔
Posted by APS ASSOCIATED PRESS SERVICE at
4:25 AM 0 comments

پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کا اجلاس، واپڈا، سی ڈی اے، این ایچ اے، نادرا اور پی آئی اے کا اسپیشل آڈٹ ہوگا

اسلام آباد: قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف اور پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے چیئرمین چوہدری نثار علی خان نے کہا ہے کہ پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کی 56فیصد تجاویز اور احکامات پر عمل درآمد نہ ہونا افسوسناک ہے آئندہ اس عمل کو برداشت نہیں کیا جائے گا اور13ہزار آڈٹ اعتراضات کو تین ماہ میں نمٹانے کیلئے پانچ سب کمیٹیاں تشکیل دیدی ہیں جبکہ واپڈا‘ریلوے‘سی ڈی اے‘این ایچ اے ‘ مقتدرہ قومی زبان ‘نادرا اورپی آئی اے کا سپیشل آڈٹ کرانے کا فیصلہ کیا ہے اس سلسلے میں جلد ان محکموں سے رپورٹیں طلب کی جائیں گی-پاکستان کرکٹ بورڈ میں مالی بے ضابطگیوں کا آڈٹ کرنے کیلئے آڈیٹر جنرل کو خصوصی ہدایات دی گئی ہیں۔ تفصیلات کے مطابق کمیٹی کا پہلا اجلاس پارلیمنٹ ہاؤس میں چوہدری نثار کی صدارت میں منعقد ہوا جس میں آڈیٹر جنرل آف پاکستان نیر آغا نے بریفنگ دی۔ جس کے بعد چوہدری نثار علی خان نے پانچ سب کمیٹیاں تشکیل دیں جن کے چیئرمین اسفندیار ولی خان‘صدر آصف زرداری کی ہمشیرہ عذرا پیچوہو، خواجہ آصف، ریاض حسین پیرزادہ اور حیدر عباس رضوی ہوں گے۔ اکاؤنٹس کمیٹی نے آڈیٹر جنرل آف پاکستان کو واپڈا ،ریلویزاور سی ڈی اے کی آڈٹ رپورٹس 4 ماہ کے اندر مکمل کر کے اسے صدر پاکستان کو بجھوانے کی ہدایت کی ہے۔
Posted by APS ASSOCIATED PRESS SERVICE at
4:23 AM 0 comments

Information Minister’s explanation falls short of clear denial on perception


ISLAMABAD — Pakistan’s people and politicians have criticised President Asif Ali Zardari’s remarks about Indian threat and Kashmiri rebels.The reaction to Zardari’s perception have, however, surprisingly less strident and aggressive than could be expected in the past.In an interview to Wall Street Journal, Zardari said India has never been nor is a threat to Pakistan and that the Kashmiri rebels are ‘terrorists’. Traditionally such talks would have shocked Pakistanis in general and radicals in particular provoking violent response.The remarks have attracted statements by politicians and editorial comments in a section of the Press. Zardari was accused of falsifying history and betraying the struggle of Kashmiri people who have always been characterised as ‘freedom fighters”. It was pointed out that the two countries fought three wars, two over the status of Kashmir, though current public mood is widely supportive of the ongoing peace processInformation Minister Sherry Rehman issued an explanation that fell short of a clear denial. She said the government is firmly committed to extending moral and diplomatic support to the just cause of Kashmiris for their right of self-determination, which has remained the central position of the Pakistan People’s Party (PPP) for the past 40 years. “While insisting that there is no change in this policy, Rehman said: “The president has never called the legitimate struggle of Kashmiris an expression of terrorism, nor has he downplayed the sufferings of the Kashmiris. All his statements on India should be viewed in the context of Pakistan’s current bilateral relations with that country.Maulana Fazlur Rehman, chairman of the prestigious Kashmir Committee of the Parliament regretted characterisation of Kashmiri militants as terrorists but appreciated the observation that Pakistan does not consider India as a threat. He said he would ask Zardari to take back his words about militants.Fazl who also heads religio-political party and a component of the ruling coalition, the Jamiat-e-Ulema Islam, said Zardari’s remarks about India as no threat to Pakistan, is motivated by sentiments of goodwill that reflects current national outlook of building peaceful ties with India.Asked how would the military establishment react to the statement, Maulana Fazl said that he was not sure but conceded that traditionally every Pakistani soldier is trained on the concept of viewing India as the ‘enemy’.But former ISI chief General (r) Hamid Gul said only a person “living on Mars” could say India has never been a threat to Pakistan.He said India has fought three wars with Pakistan and continues to destabilise it even today.Kashmiri militant and Mujahideen leader Hafiz Saeed accused Zardari of being too dovish towards India and pours salt on the sufferings of the Kashmiri people who have made tremendous sacrifices for freedom.Prominent journalist and secretary general South Asia Free Media Association (SAFMA), Imtiaz Alam, said there is need to effect a paradigm shift in Pakistan’s policy towards India.Alam, whose organisation has played a pioneering role in forging India-Pakistan peace process, welcomed Zardari’s statement that India poses no threat to Pakistan. He, however, noted that Zardari is not very articulate in diplomatic jargon and often generates controversy over his observations. “But his gut sense is right and sharp,” he said.PPP spokesman Farhatullah Babar said Zardari meant that “foreign jihadi militants” who have “sneaked into Kashmir” are to be condemned as terrorists. He said the WSJl writer had read too much into Zardari’s quote, and that the president was talking in generalities about fighting terrorism.“The official position is that we do not allow foreign incursions into Pakistani territory and not support such infiltration in any other,” Babar said.
Posted by APS ASSOCIATED PRESS SERVICE at
3:39 AM 0 comments

123... Bush to Sign Indo-US Nuclear Deal Bill Today

WASHINGTON — President George W. Bush will sign into law on Wednesday the Congressional ratification of the India-US civil nuclear deal to pave the way for the two countries to formally ink the implementing 123 accord.“On Wednesday, at 2:50 p.m. in the East Room, the President will sign the India civil nuclear bill,” White House spokesman Scott Stanzel told reporters travelling with Bush in San Antonio, Texas on Tuesday.Lawmakers, prominent members of the Indian American community, leading businessmen of the two countries besides officials and diplomats, who all played a major role in pushing the deal through before the Congress took a break for the Nov 4 election have been invited for the signing ceremony.Bush is also expected to take care of Indian concerns over a couple of new riders in the legislation that apparently came in the way of US Secretary of State Condoleezza Rice and Indian External Affairs Minister Pranab Mukherjee signing the 123 agreement during her visit to New Delhi over the weekend.Bush would likely seek to allay India’s concerns regarding nuclear fuel assurances, technology transfers foruranium enrichment and reprocessing of spent nuclear fuel with a signing statement as he did over certain “extraneous and prescriptive” provisions in the US enabling law, the Hyde Act in December 2006.US presidents have often used such signing statements to interpret a law the way they choose without taking the extreme step of rejecting a bill outright with a veto. Usually these are quietly listed in the Federal Register recording all executive actions without a public announcement. However, despite the White House announcement of signing ceremony, the State Department was still unwilling to commit when the two countries would formally enter into the 123 agreement to resume nuclear commerce after 30 years. Nor would it comment on the reported Indian concerns.“I don’t know when it will be signed,” spokesman Robert Wood told reporters. But “I’m not aware of any concerns that the Indian Government may have, but I’d refer you to them with regard to any concerns that they might have.”Like Rice, he too attributed the delay in signing the 123 agreement to “just administrative matters.”“We’ve had extensive discussions with the Indians with regard to this agreement and we’ve covered a wide range of areas,” Wood said without elaborating.“I think the fact that we were able to get this agreement done says a lot about what we’ve all gone through in terms of working with Congress, with the Indian Government and with others in the international community to bring thisagreement to fruition,” he said.Denying any hiccups had delayed the signing, Wood said: “Well, it’s — formally, it’s not signed, but let’s be real. I mean, the deal has been reached, and it’s a great deal for both India and the United States.
Posted by APS ASSOCIATED PRESS SERVICE at
3:35 AM 0 comments

Lebanese singer Najwa Sultan on 07 October 2008 shows the singer herself performing in a concert held in Rotana Beach hotel in Abu Dhabi.

An undated handout picture made available by the information office of Lebanese singer Najwa Sultan on 07 October 2008 shows the singer herself performing in a concert held in Rotana Beach hotel in Abu Dhabi.
Posted by APS ASSOCIATED PRESS SERVICE at
3:31 AM 0 comments

Visitors look at a model of Burj and Mall Dubai complex by property company Emaar during the Cityscape exhibition in Dubai,

Visitors look at a model of Burj and Mall Dubai complex by property company Emaar during the Cityscape exhibition in Dubai, United Arab Emirates, on Monday. Cityscape Dubai, in its 7th year, is the largest business-to-business real estate investment and development event in the world. It attracts regional and international investors, property developers, governmental and development authorities, leading architects, designers, consultants and all senior professionals involved in the property industry.
Posted by APS ASSOCIATED PRESS SERVICE at
3:25 AM 0 comments

Picture made available on Tuesday shows Emirates singer Remas performing in a scene of her new clip 'Merat Moustafa', which is written by Ahmed Sheta,

Picture made available on Tuesday shows Emirates singer Remas performing in a scene of her new clip 'Merat Moustafa', which is written by Ahmed Sheta, composed by Hani Farouk and directed by Gamil Gamil Moughazy in Cairo, Egypt.
Posted by APS ASSOCIATED PRESS SERVICE at
3:23 AM 0 comments

روپے کی قدر میں مسلسل کمی، پاکستان کے دیوالیہ ہونے کا خطرہ بڑھ گیا۔تحریر: محمد رفیق


ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر میں مزید کمی کے بعد پاکستان دیوالیہ ہونے کے قریب تر پہنچ گیا ہے۔ ایک رپورٹ کے مطابق ڈالر روپے کو مسلسل پچھاڑ تے ہوئے 78 کی ریکارڈ ترین سطح سے تجاوزکر گیا ہے، سال رواں کے آغاز سے روپے کی قدر میں 21 فیصد کمی ہوئی ہے۔ا سٹیٹ بنک کے پاس صرف 2 ماہ کی درآمدات کیلئے زرمبادلہ کے ذخائر موجود ہیں جبکہ مالی اور کرنٹ اکاونٹ خسارہ ناقابل برداشت جبکہ مہنگائی میں 25 فیصد سے زیادہ اضافہ ہو چکا ہے۔اسٹینڈرڈ اینڈ پورز نے پاکستان کی ساورن کریڈٹ ریٹنگ کم کر دی ہے جو دیوالیہ کی سطح سے تھوڑی سی اوپر ہے۔ سنگا پور میں این آئی بی بنک کے اکانومسٹ ٹم کونڈن نے کہا ہے کہ پاکستانی حکام کو فوری طور پر یہ ظاہر کرنے کی ضرورت ہے کہ وہ ادائیگیوں میں توازن کے مالیاتی گیپ کو پورا کرنے کی اہلیت رکھتے ہیں۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ پاکستان کی امید دوست ممالک امریکہ اور سعودی عرب سے وابستہ ہے کہ کیا وہ چھ ماہ کی جمہوری حکومت کو کامیاب اور دہشتگردی کیخلاف جنگ میں فرنٹ لائن ملک کو انتشار کی جانب بڑھنے سے روک سکتے ہیں۔ امریکی مالیاتی فرم کے عہدیدار نے نام نہ ظاہر کرنے پر بتایا کہ صرف یہی چیز پاکستان کو بچا سکتی ہے۔ 27ستمبر کو ختم ہونے والے ہفتے میں 8.13 بلین ڈالر کے زرمبادلہ کے ذخائر میں 690 ملین ڈالر کی کمی واقع ہوئی۔ درآمدی بلوں کی ادائیگی کے مستقل دباو¿ کی وجہ سے حکومت مرکزی بنک سے قرض لینے پر مجبور ہوئی ہے۔ یکم جولائی سے شروع ہونے والے مالی سال میں حکومت کی جانب سے سٹیٹ بنک سے قرضہ لینے کی شرح 100 فیصد سے بھی تجاوز کر چکی ہے، اس عرصے میں حکومت نے سٹیٹ بنک سے 2.21 بلین ڈالر کی رقم حاصل کی۔ پاکستانی بنکرز نے سرمائے کی اس مسلسل کمی کو روکنے کیلئے سٹیٹ بنک سے ہنگامی اقدامات کا مطالبہ کیا ہے۔ سینئر بنکر نے نام نہ ظاہر کرنے پر بتایا کہ سٹیٹ بنک کو فوری طور پر کچھ کرنا چاہئے ورنہ نظام کی ناکامی خطرہ منڈلا رہا ہے۔ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر میں کمی کا تسلسل برقرار ،ڈالر اٹھتر روپے چو نسٹھ پیسے کی سطح پر پہنچ گیا ۔ کراچی انٹربینک مارکیٹ میں کاروباری ہفتے کے دوسرے روزڈالر میں خریداری دیکھی جارہی ہے اور کاروبار کے دوران روپے کی قدر میں دس پیسے کی کمی سے ڈالر اٹھتر روپے چالیس پیسے کی سطح پر ٹریڈ ہورہا ہے۔واضح رہے کہ گزشتہ روز ڈالر اٹھتر روپے پینسٹھ پیسے کی ریکارڈ سطح تک پہنچ گیا تھا۔ ماہرین کے مطابق بیرونی ادائیگیوں کے حجم میں کم نہ ہونے کے باعث ملکی زرمبادلہ کے ذخائر میں مسلسل کمی ہورہی ہے۔ اسٹیٹ بینک کے مطابق زرمبادلہ کے ذخائر کی مالیت آٹھ ارب دس کروڑ ڈالر رہ گئی ہے۔ انٹربینک کاروبار کے آغاز پر روپے کے مقابلے میں ڈالر نئی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا۔اطلاعات کے مطابق، انٹربینک میں ٹریڈنگ کے دوران ڈالر78 روپے80 پیسے کی بلند ترین سطح پر ٹریڈ ہورہا ہے۔اوپن مارکیٹ میں ڈالر30 پیسے اضافے کے ساتھ78 روپے80 پیسے پر ٹریڈ ہورہا ہے۔گزشتہ روزہفتے کے آغاز پرپہلے کاروباری روزا نٹر بینک مارکیٹ میں ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر میں اتارچڑھاو دیکھا گیا ،جس کے بعد روپے کی قدر میں13 پیسے کا استحکام دیکھا گیا اور ڈالر78 روپے 35 پیسے پر بند ہوا۔اے پی ایس
Posted by APS ASSOCIATED PRESS SERVICE at
12:56 AM 0 comments

دنیا کا سب سے بڑا دہشت گرد اور فسادی امریکہ ہے مہنگائی، بد امنی ، دھماکے ، مشرک کی پالیسیوں کے تسلسل کا نتیجہ ہے۔قاضی حسین احمد

اٹک ( اے پی ایس ) امیر جماعت اسلامی پاکستان قاضی حسین احمد نے کہا ہے کہ ملکی مسائل کی جڑ امریکی پالیسیاں اور ان کے مسائل کا حل مینارِ پاکستان کے سائے تلے اجتماعِ عام میں بتائیں گے ،حکومت اور فوج امریکی صف میں کھڑے ہیں۔آزادی اور خود مختاری سے ہم محروم ہو چکے ہیں، دنیا کا سب سے بڑا دہشت گرد اور فسادی امریکہ ہے مہنگائی، بد امنی ، دھماکے ، مشرک کی پالیسیوں کے تسلسل کا نتیجہ ہے حکمرانوں کا رویہ انتہائی شرمناک ہے امریکہ سے جان چھڑانی ہو گی 24تا26اکتوبر سہ روزہ اجتماع عام میں ان کا حل بتائیں گے، ان خیالات کا اظہار انہوں نے اٹک ریلوے اسٹیشن پر ”۔ٹرین مارچ“ کے استقبالیہ ہجوم سے خطاب کرتے ہوئے کیا ان کے ہمراہ لیاقت بلوچ، سراج الحق، اور شبیر احمد خان سابق ایم این اے تھے جبکہ نائب امیر جماعت اسلامی پنجاب میاں محمد اسلم ، امیر ضلع اٹک، ناصر اقبال خان اور محمد اقبال ملک نے ریلوے اسٹیشن پر ٹرین مارچ کا استقبال کیا قبل ازیں اٹک شہر کے جنرل بس سٹینڈ سے میاں محمد اسلم ایم این اے اور ناصر اقبال خان کی قیادت میں ایک بڑی ریلی نکالی جس نے کچہری چوک، کالج روڈ، پائلٹ سیکنڈری سکول، بلدیہ چوک ، سول بازار، چوک فوارہ، مدنی چوک سے ہوتے ہی ریلوے اسٹیشن تک پہنچی ، قاضی حسین احمد نے کہا کہ امریکہ مسلمانوں اور اسلام کے خلاف حملہ آور ہے ملک میں ہونے والے دھماکے حکمرانوں کی امریکہ نواز پالیسیوں اور دوستی کا نتیجہ ہیں، ملک میں امن و امان کے قیام کیلئے حکمرانوں کو امریکہ نوا زپالیسیاں ختم کرنا ہونگی ، پاکستانی عوام حکمرانوں کی امریکہ نواز پالیسیوں سے سخت نالاں ہیں انہوں نے کہا کہ ان ہی امریکہ نواز پالیسیوں کے باعث ہم اپنے بھائیوں کا با جوڑ ،وزیرستان ، قبائلی علاقہ جات، میں خون بہا رہے ہیں ان علاقوں میں امریکی شہ سے کیا جانا والا آپریشن فوراً بند کیا جائے انہوں نے کہا کہ فلسطین ، کشمیر، افغانستان، اور عراق کی صورت حال کا ذمہ دار امریکہ ہے کشمیری حق خود ارادیت حاصل کر کے پاکستان سے ملنا چاہتے ہیں بعد ازاں ٹرین مارچ کا قافلہ حسن ابدال کے لئے رواہو گیا۔اے پی ایس
Posted by APS ASSOCIATED PRESS SERVICE at
12:27 AM 0 comments

غیر ملکی کما نڈروں کی ا فغا نستان میں حالیہ شکست کی ما یوسی پرامریکی وزیر دفاع کا رد عمل

واشنگٹن:(اے پی ایس) امریکی وزیرِ دفاع رابرٹ گیٹس نے کہا ہے کہ وہ افغانستان میں تعینات برطانوی فوجی کمانڈر کے اس بیان کی حمایت کرتے ہیں کہ افغانستان کے مسئلے کے حل کے لیے طالبان سے بات چیت کرنا پڑے گی۔تاہم ان کا کہنا تھا کہ برطانوی کمانڈر کا یہ کہنا درست نہیں کہ افغانستان کی جنگ جیتی نہیں جا سکتی۔افغان صوبے ہلمند میں برطانوی فوج کے کمانڈر بریگیڈیئر مارک کارلٹن سمتھ نے حال ہی میں ایک برطانوی اخبار کو دیے گئے انٹرویو میں کہا تھا کہ برطانیہ کو افغانستان میں فیصلہ کن جیت کی امید نہیں رکھنی چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ جب بین الاقوامی فوج افغانستان سے واپس جائے گئی اس وقت بھی ملک میں شورش کی چنگاری سلگتی رہے گی۔ برطانوی کمانڈر کے بیان کے بعد افغانستان میں برسرِ پیکار اتحادی افواج کے کمانڈر بریگیڈیئر رچرڈ بلانشٹ نے بھی کہا ہے کہ افغانستان کا کوئی عسکری حل نہیں ہے جبکہ افغانستان میں اقوامِ متحدہ کے خصوصی نمائندے کائی عیدی کا کہنا ہے کہ ’ہم سب جانتے ہیں کہ ہم یہاں عسکری لحاظ سے نہیں جیت سکتے اور یہاں فتح کے لیے سیاسی ذرائع استعمال کرنا ہوں گے۔ان بیانات پر نیٹو میں شامل ممالک کے وزرائے دفاع سے ملاقات کے لیے بوڈا پسٹ جاتے ہوئے رابرٹ گیٹس نے دورانِ سفر صحافیوں کو بتایا کہ اگرچہ برطانوی کمانڈر کی جانب سے’فیصلہ کن عسکری فتح‘ کو ناممکن قرار دینا درست نہیں تاہم اس مسئلے کے پائیدار حل کے لیے ایسے طالبان سے بات چیت کرنے کی ضرورت پڑ سکتی ہے جو افغان حکومت سے مل کر کام کرنے پر تیار ہوں۔ طالبان سے رابطہ کے بارے میں انہوں نے کہا کہ ’جو ہم نے عراق میں میں دیکھا وہی افغانستان پر لاگو ہوتا ہے۔ اس مسئلے کے حل کا ایک حصہ افغان سکیورٹی فورس کو طاقتور بنانا ہے جبکہ دوسرا حصہ ان لوگوں سے مفاہمت کرنا ہے جو افغان حکومت کے ساتھ کام کرنے پر راضی ہیں‘۔ رابرٹ گیٹس کا یہ بھی کہنا تھا کہ وہ نیٹو ممالک پر زور دیں گے کہ وہ افغانستان میں مزید فوج بھیجیں۔ اے پی ایس
Posted by APS ASSOCIATED PRESS SERVICE at
12:13 AM 0 comments

باجوڑایجنسی سے افغان مہاجرین کا انخلا

با جوڑ(اے پی ایس) باجوڑایجنسی کی انتظامیہ کی طرف سے ایجنسی میں مقیم افغان مہاجرین کو علاقہ چھوڑ نے کے لیے دی گئی ڈیڈ لائن ختم ہونے کے دو روز بعد بڑی تعداد میں افغان خاندان سرحد عبور کر کے یا تو افغانستان واپس جارہے ہیں یا پھر دیر کے راستے صوبے سرحد کے شہری علاقوں کا رخ کر رہے ہیں۔ منگل کو حکام نے سرکاری احکامات کے خلاف ورزی کرنے والے افغانوں کے خلاف کاروائی کرتے ہوئے 20مہاجرین کو گرفتار کرنے کے علاوہ ان کی متعدد دکانوں اور گھروں پر تالے بھی لگا دیے۔ حکام نے دو اکتوبر کو افغان مہاجرین کو باجوڑ سے تین دن کے اندر نکلنے کا حکم دیا تھا اور علاقے میں مقیم لگ بھگ ستر ہزار افغانوں کو اس حکم نامے سے آگاہ کرنے کے لیے اردو زبان میں تحریر کیے گئے اشتہارات تقسیم کرنے کے ساتھ ساتھ ایجنسی بھر کی مساجد اور سرکاری گاڑیوں پر نصب لاو¿ڈ سپیکروں کے ذریعے بھی یہ اعلانات کیے جاتے رہے ۔ انتظامیہ نے افغان مہاجرین کے ساتھ ساتھ مقامی لوگوں کو بھی متنبہ کیا تھا کہ جن لوگوں کے پاس یہ مہاجرین رہا ئش پذیر ہیں یا جن مقامی لوگوں نے انھیں اپنے مکانات اوردکانیں کرایہ پر دے رکھی ہیں وہ فوری طور پر انھیں خالی کرا کے افغان شہریوں کو علاقہ بدر کرنے میں انتظامیہ سے تعاون کریں۔ حکام نے مقامی لوگوں اور افغان مہاجرین کو سختی سے متنبہ کیا کہ اگر مقررہ معیاد کے اندر اندر افغان مہاجرین ایجنسی سے نہیں نکلے یا مقامی لوگوں کے پاس پائے گئے تو انتظامیہ افغان مہاجرین اور ان کو پناہ دینے والے مقامی لوگوں کے خلاف سخت کاروائی عمل میں لائی گی۔محتاط اندازوں کے مطابق لگ بھگ چودہ ہزار افغان مہاجرین اب تک ایجنسی سے نکل گئے ہیں جنھوں نے انخلا کے لیے دو مختلف راستے اختیار کیے ایک راستہ صدرمقام خار سے 30 کلومیٹر شمال مغرب کے جانب واقعہ غاخی پاس نامی پاک افغان سرحد اور دوسرا راستہ باجوڑایجنسی اورضلع دیر کے سرحدی علاقہ طور غنڈئی تھا ۔ اطلاعات کے مطابق مالی طور پر کمزور افغان خاندانوں نے وطن واپسی کے لیے غاخی پاس کا راستہ اختیار کیا کیونکہ یہ راستہ ایک تو نزدیک بھی ہے اور سفر کے لحاظ سے سستا بھی لیکن وعینی شاہدین کے مطابق باجوڑایجنسی میں مقیم مخیر افغانیوں نے وطن واپس جانے کی بجائے صوبہ سرحد کے مختلف بندوبستی علاقوں جن میں پشاور، مردان، نوشہرہ ، دیر اورملاکنڈ شامل ہیں کا رخ کیا جس کے لیے انھوں نے طور غنڈئی کا راستہ اختیار کیا ۔ واضح رہے کہ باجوڑایجنسی میں افغان مہاجرین گزشتہ 30 سالوں سے رہائش پذیر ہیں اور دو سال قبل حکومت پاکستان نے UNHCR کے مالی تعاون سے ایجنسی کے مختلف علاقوں میں قائم دس پناہ گزین کیمپوں اور مختلف رہائشی علاقوں میں مقیم قریباً اسی ہزار مہاجرین کو افغانستان واپس جانے میں مدد کی تھی۔ تاہم افغانستان میں سیکورٹی کی خراب صورت حال کو وجہ بنا کر ان افغانوں کی اکثریت واپس باجوڑ آ کر غیر قانونی طور پر دوبارہ آباد ہو گئی ہے۔ پاکستانی حکام کا موقف ہے کہ ان افغان باشندوں میں سے بیشتر لوگ باجوڑ ایجنسی میں امن وامان کی صورتحال خراب کرنے میں ملوث ہیں اور ان کے غیر ملکی عسکریت پسندوں کے ساتھ قریبی رابطے ہیں۔ بیشتر افغان مہاجرین نے انتظامیہ کے طرف سے دی گئی میعاد کو انتہائی کم قرار دیا ہے جبکہ زیادہ تر نے حکومت پاکستان اور اقوام متحدہ سے مطالبہ کیاہے کہ انہیں وطن واپس جانے کے لیے ٹرانسپورٹ فراہم کی جائے اور انہیں مناسب خرچہ بھی دیا جائے ۔ واضح رہے کہ پاکستانی فوج باجوڑ میں اگست کے اوائل سے ایک بڑے آپریشن میں مصروف ہے جس کا مقصد علاقے سے مقامی اور غیر ملکی جنگجووں کا خاتمہ ہے۔ اس آپریشن کی وجہ سے ہزاروں کی تعداد میں لوگ علاقے سے ہجرت کرکے صوبہ سرحد کے شہروں اور عارضی کیمپوں میں پناہ لینے پر بھی مجبور ہوئے ۔اے پی ایس
Posted by APS ASSOCIATED PRESS SERVICE at
12:00 AM 0 comments
Tuesday, October 7, 2008

امریکہ تائیوان کو ہتھیار نہ دے: چین کا انتباہ

اسلام آباد (اے پی ایس) چین نے خبردار کیا ہے کہ امریکہ کی جانب سے تائیوان کو ہتھیار بیچنے کے فیصلے سے چین کے ساتھ امریکہ کے تعلقات خراب ہوں گے۔ چین کے وزیر ِ خارجہ نے امریکہ کے اس فیصلے کی مذمت کی ہے کہ وہ تائیوان کے ہاتھ فوجی سازوسامان فروخت کرے گا۔ چین تائیوان کو اپنے ملک کا حصہ تصور کرتا ہے۔امریکی محکمہ دفاع نے گذشتہ ہفتے کروڑوں ڈالر کے میزائل، ہیلی کاپٹر اور دوسرا فوجی سامان تائیوان کو فروخت کرنے کے منظوری دی تھی۔امریکی اور تائیوانی قانون سازوں نے ابھی اس کی منظوری نہیں دی تاہم چینی حکام نے فوری طور پر اس کی مذمت بھی کر دی ہے۔ چینی وزارتِ خارجہ کے ترجمان قِن گیَنگ نے کہا کہ اس اقدام سے چین کی سلامتی کو خطرہ ہے اور یہ امریکہ کے ساتھ چین کے تعلقات پر نہایت برا اثر مرتب کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ اسکے نتائج خطرناک ہوں گے اور امریکہ کے اس اقدام سے چین امریکہ تعلقات کے ہر پہلو کو نقصان ہوگا۔چین نے سینکڑوں میزائلوں کا رخ تائیوان کی طرف کر رکھا ہے اور اس نے عہد کیا ہے کہ وہ ایک نہ ایک دن اس جزیرہ کو چین کا حصہ بنا کر رہے گا، خواہ اس کے لیے طاقت کا استعمال ہی کیوں نہ کرنا پڑے۔ دونوں مملکتوں میں علاحدگی اسوقت ہوئی جب1949 ء میں چین میں کمیونسٹوں نے خانہ جنگی میں فتح حاصل کی تو قوم پرست جماعتوں نے بھاگ کر تائیوان میں پناہ لی تھی۔امریکی قانون کے مطابق حکومت کو اختیار ہے کہ وہ تائیوان کے ہاتھ فوجی ہتھیار فروخت کرے۔ پینٹگان کا کہنا ہے کہ مجوّزہ منصوبہ قانون کے عین مطابق ہے۔اے پی ایس
Posted by APS ASSOCIATED PRESS SERVICE at
11:49 PM 0 comments

In-camera joint sitting to discuss security, counter terrorism measures

ISLAMABAD: An in-camera joint sitting of both houses of the parliament will be held at National Assembly hall on Wednesday to discuss the current security situation in the country and to devise a consensus strategy to counter the scourge of terrorism. President Asif Zardari, on the recommendation of the Prime Minister has called the session at 5 p.m.The army, security and law enforcing agencies will brief the parliamentarians about the prevailing security, law and order situation and rise in suicide attacks over the past 12 months.The army and security agencies representatives will take into confidence the public representatives on the measures to be taken to counter these threats in the greater national interest.Sources said the session will be very exhaustive in which there will be an open debate on the security threats to Pakistan and some pointed questions will be asked by the parliamentarians.The army will explain the need for operation in the tribal areas and how long they will take to conclude.The army will also apprise of the steps being taken to reduce the civilian casualties, and to win the hearts and minds of the people.Parliament sources said that the in-camera session will provide the parliamentarians all the necessary inside information required to understand the issue in its entirety.The sources also said that Director General Military Operation will speak on behalf of the army.Meanwhile, it was learnt that speaker National Assembly will chair the House Business Advisory Committee meeting prior to the start of the session.Leaders of all the political parties will attend the meeting in which they will chalk out the strategy for the session.The speaker has also sent invitation to all the political forces, not represented inside the parliament to make the session a true representative of the public aspirations.Deputy Speaker of the National Assembly Faisal Karim Kundi said that since it was an in-camera session, no one will be allowed to witness the proceedings, including the journalists.He said there will be no guests or special invitees for the session, except for those who will brief the parliamentarians.He said the employees of the parliament have also been barred from entering the premises on Wednesday.Replying to a question he said after the conclusion of the sitting, a press release will be issued and there will be no briefing for the media as it is an in-camera session.Meanwhile the local administration has put in place tight security around the Parliament House. All the vehicles entering Constitution Avenue will be subjected to thorough search by the law enforcing personnel.
Posted by APS ASSOCIATED PRESS SERVICE at
11:43 PM 0 comments

Three blasts occur in Garhi Shahu

LAHORE:Five persons were injured in three blasts which occurred in Garhi Shahu area while a vehicle of Bomb Disposal Squad (BDS) was also damaged. Police and Bomb Disposal Squad (BDS) sources told news agency that all three blasts occurred within 25 minutes.However, the sources could not confirm the types of explosives used for blasts.SSP Operation Lahore Ch Shafiq said that five persons suffered minor injuries in the blasts which were of low intensity.Police and other rescue teams reached the spot and cordoned off the area.
Posted by APS ASSOCIATED PRESS SERVICE at
11:32 PM 0 comments

"NAQSH-E-SANI" POETIC COLLECTION OF ATHAR QAYYUM RAJA LAUNCED


Posted by APS ASSOCIATED PRESS SERVICE at 11:28 PM 0 comments

عید

یکم اکتوبر کوملکی تاریخ میں طویل عرصہ بعد پہلی بار پاکستانیوں نے ایک قوم ہونے کا مظاہرہ کیا جب ملک بھر میں ایک عید منائی گی۔بظاہر یہ بہت اچھی بات ہے مگر لوگوں کا ماننا ہے کہ اصل میں بات کچھ اور ہے اور وہ بالکل اچھی نہیں ہے۔ملکی تاریخ میں طویل عرصے بعد متفقہ عید ہی نہیں منائی گئی بلکہ اس کے ساتھ یہ بھی پہلی بار ہوا کہ چاند نظر آنے کا اعلان بھی آدھی رات کے قریب جا کر کیا گیا تب تک تمام میڈیا بتا رہا تھا کہ چاند نظر آنے کی شہادتیں نہیں ملیں، اس سے ایک روز قبل 28رمضان کو ماہرین فلکیات کہہ چکے تھے کہ 29رمضان کو چاند نظر آنے کا کوئی امکان نہیں، سارا الیکٹرانک میڈیا اگلے روز ہی بتا رہا تھا کہ ملک کے اکثر علاقوں سے چاند نظر آنے کی شہادت نہیں ملی ہم یہ خبریں سن کر گھر سے مارکیٹ کی طرف نکل گئے۔ذہن بن چکا تھا کہ صبح روزہ ہے اور عید پرسوں ہے لہٰذا کوئی ایمرجنسی نہیں، نہ خریداری کی، نہ پیکنگ کی، نہ آبائی علاقے کو روانگی کی، مارکیٹ پہنچنے سے پہلے ہی ایس ایم ایس بھی آ گیا۔”محترمہ(........)صاحبہ کا سوٹ سل کر نہیں آیا، اس لئے عید کل نہیں پرسوں ہو گی“خیر یہ تو ایک سیاسی لطیفہ تھا جو حکومت کے مخالفوں نے گھڑ کر چلا دیا، اس لئے ہم محترمہ کا نام حذف کر رہے ہیں تاہم لطیفے کے اس حصے سے ہم بھی متفق ہو چکے تھے کہ عید کل نہیں پرسوں ہو گی مگر جونہی ہم مارکیٹ پہنچے تو چاند نظر آ چکا تھا اور صبح عید کا اعلان بھی ہو چکا تھا، ہماری طرح پوری قوم کیلئے یہ ایک غیر متوقع اعلان تھا، کوئی بھی اس کیلئے ذہنی طور پر تیار نہ تھا۔مذکورہ بالا تمام پس منظر میں یہ بات ابھر کر سامنے آتی ہے کہ یہ ایک ”انجیئرڈ فیصلہ“ تھافطری یا قدرتی نہیں، یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس طرح عید کے اعلان میں حکومت کے کیا مقاصد کارفرما تھے؟انجیئرڈ عیدیں پہلے بھی منائی جاتی رہی ہیں، اس ملک میں جمعہ کی عید سے بچنے کی کوششیں ہوتی رہی ہیں کیونکہ ایسا مانا جاتا ہے کہ ایک دن میں دو خطبے حکمران پر بھاری ہو سکتے ہیں مگر یہ فیصلہ اس لئے منفرد ٹھہرا کہ کم از کم ہماری یادداشت میں ایسی کوئی عید نہیں گزری جس کا اعلان آدھی رات کے قریب کیا گیا ہو اس لئے ہم حق بجانب ہیں کہ یکم اکتوبر کی عید انجیئرڈ تھی، نیچرل نہیں، اب آتے ہیں حکومت کے مقاصد کی طرف، ہماری رائے میں اس سے دو فوائد حاصل کئے گئے۔(1)حکومت کی پہلی عید متفقہ ہوئی، موجودہ سیٹ اپ کے قیام کے بعد جو پہلی عید آئی وہ پوری قوم نے ایک ساتھ منائی، گویا قومی مصالحت و موافقت(اتفاق رائے)کا جو پرچار حکمران پچھلے کئی مہینوں سے کر رہے تھے عید پر اس کا عملی مظاہرہ دیکھنے میں آ گیا عید جو امت مسلمہ کیلئے مقدس، متبرک اور پرمسرت ترین دین ہے یہ اہم ترین دن پوری قوم ایک ساتھ منا رہی تھی، حکومت کو اس کا کریڈٹ نہ دیا جائے تو بھی اس کی Good Willمیں اضافہ ضرور ہوا، ایسا تاثر ضرور ابھر آیا کہ موجودہ حکومت کی وجہ سے ملک میں یہ برکت ہوئی کہ قوم نے متفقہ عید منائی، امریکہ اور آرمی تو حکومت کے ساتھ تھے ہی، اللہ کی بھی تائید حاصل ہونے کا ماحول بن گیا۔(2)قومی یا شرعی حوالے سے اہم دن حکومتوں کیلئے بڑے بھاری ہوتے ہیں، خاص طور پر جب حالات بھی ایسے جا رہے ہوں جیسے کہ آج کل ہیں، 14اگست ہو، محرم یا عیدین، حکومت کو سب سے زیادہ فکر اس بات کی ہوتی ہے کہ کہیں کوئی دہشتگردی نہ ہو جائے، یکم اکتوبر کی عید خیر خیریت سے گزر گئی، یہ انہونی کیوں کر ہوئی، جب 28رمضان سے29رمضان کی آدھی رات تک ایسی خبریں آ رہی تھیں کہ چاند نظر آنے کا امکان نہیں، شہادتیں نہیں ملیں تو بچے بچے کے ذہن میں یہی تھا کہ روزے30ہوں گے اور عید 2اکتوبر کو ہو گی لہٰذا جس جس نے عید کی جو جو تیاری کرنا تھی وہ یکم اکتوبر یعنی30رمضان تک اٹھا رکھی جس نے کپڑے لینے تھے اس نے بھی اور جس نے بم پھوڑنے تھے اس نے بھی، یہاں حکومت نے دہشتگردوں کے ساتھ ہاتھ کیا اور آدھی رات کو اگلی صبح عید کا اعلان کر کے دہشتگردوں کیلئے تیاری کا وقت انتہائی تنگ کر کے رکھ دیا چند گھنٹے کے اندر منصوبہ بندی، روانگی، تنصیب اور تکمیل تک کے مختلف مراحل طے کرنا ممکن نہ تھا لہٰذا دہشتگرد ہاتھ ملتے رہ گئے اور عید امن سے گزر گئی۔یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ دہشتگرد بھی بڑے سیانے ہیں، عیدیں 29روزوں کے بعد بھی ہوتی رہی ہیں اور 30کے بعد بھی، وہ دونوں امکانات سامنے رکھ کر دونوں دونوں پر واردات کی تیاری کر سکتے تھے لہٰذانمبر 2پر جو نکتہ اٹھایا گیاہے ضروری نہیں کہ اس میں وزن ہو مگر تھوڑا غور کرنے سے اس کا جواب بھی مل جاتا ہے، پہلی بات یہ ہے کہ اگر عید دو اکتوبر کو ہوتی تو یکم اکتوبر کے روز دہشتگرد اپنے وسائل دائو پر نہیں لگاتے وہ خاص دن ہی کونشانہ بنائیںگے اور اس سے ایک روز پہلے اپنی توانائیاں مجتمع کریں گے، صرف نہیں کریں گے۔ مزید یہ کہ اگر ایک روزپہلے وہ واردات کرگزریں تو خاص دن کو کچھ نہیں کر پائیں گے کیونکہ ساری ریاستی مشینری خبردار ہو چکی ہو گی اور کیل کانٹے سے لیس ہو کر میدان میں اتر چکی ہو گی، تب کامیابی کے امکانات بہت کم اور ناکامی کے خطرات بہت زیادہ ہوں گے ویسے بھی آج کل جتنی چیکنگ ہو رہی ہے اس میں یہ ممکن ہی نہیں کہ کوئی خودکش حملہ آور یا بارود سے بھرا ٹرک زیادہ دیر نظروں سے اوجھل رہ جائے اس کا عملی مظاہرہ ہم خود دیکھ بلکہ بھگت چکے ہیں جب اسلام آباد کی راحت بیکرز پر ابھی ہمیں صرف ایک گھنٹہ ہی ہوا تھا گاڑی کھڑی کئے ہوئے کہ دو فرض شناس پولیس والوں نے آ کر اس کی تلاشی لے ڈاتی، ہم نے ان سے دریافت کیا کہ بھائی تلاشی لے لو مگر اطلاع کیلئے اتنا بتا دو کہ ہماری کس بات یا حرکت سے ہم مشکوک قرار پائے تاکہ آئندہ اس سے پرہیز کر سکیں اس پر پولیس اہلکار کا کہنا تھا کہ آپ کی گاڑی کافی دیر سے یہاں کھڑی تھی، مقصد کہنے کا یہ ہے کہ دہشتگردوں کو مختصر وقت میں کمین گاہ سے چل کر جلد از جلد ٹارگٹ کو ہٹ کرنا ہوتاہے اس سے پہلے کہ چیک کر لیا اور پکڑ لیا جائے۔ہم دیکھ سکتے ہیں کہ یہ بات ولی باغ خودکش دھماکے سے ثابت بھی ہو گئی یہ حملہ کب ہوا؟2اکتوبر کو اگر29رمضان کی آدھی رات عید کا اعلان نہ ہوتا تو عید کب ہوتی؟2اکتوبر کو اس سے ایک اور بڑی دلچسپ بات بن جاتی ہے حکومت نے عید کی تاریخ بدل کر عید کے ساتھ ساتھ ساکھ بھی بچا لی اور دہشتگردوں نے دو اکتوبر کو اسفند یار ولی کے حجرے کو نشانہ بنا کر واضح کر دیا کہ وہ عید کے روز واردات کرنے کی صلاحیت رکھتے تھے، دونوں کا کام ہو گیا۔کیسا ہے؟اب آتے ہیں درمیان والوں کی طرف، معاف کیجئے درمیان والوں سے مراد تیسری دنیا نہیں بے چارے عوام ہیں، اپنا اپنا کام تو ”رِٹ“والوںنے بھی کر لیا اور ”رَٹ“والوں نے بھی مگر عام آدمی دونوں کی چکی میں پس کر رہ گیا خوار الگ ہوا اورگناہ گار الگ، آئیے جائزہ لیتے ہیں حکومت کو جس کام سے دو فائدے ہوئے اس سے عوام کو کتنے نقصانات ہوئے۔(1)عیدکاچاند نظر آنے کی جو خوشی ہوتی ہے اس بار عوام اس سے محروم رہ گئے، ان سے یہ خوشی بھی چھین لی گئی، آدھی رات کو اعلان ہونے پر عوام خوش کم اور حیران پریشان زیادہ ہوئے۔(2)چاند رات غائب ہو گئی، ہمارے ہاں اکثر لوگ چاند رات کو بھی بڑے جوش و جذبے سے مناتے ہیں اور اسی رات خریداری کرتے ہیں، آدھی رات کو اعلان ہوا تو چاند رات کوئی خاک مناتا اور بچوں کو لے کر خریداری کرنے کیسے جاتا؟(3)دیہات اور چھوٹے شہروں و قصبوں سے بڑے شہروں میں آ کر ملازمت و کاروبار کرنے والوں کی اکثریت اپنے گھر والوں کے پاس نہیں پہنچ سکی اور جو تھوڑے بہت پہنچ سکے وہ بھی بس اڈوں پر ذلیل و خوار ہو کر ہی نہیں بلیک میل ہو کر بھی، ٹرانسپورٹروں نے منہ مانگے کرائے وصول کئے اورسیٹ بھی نہیں دی، ڈنڈے سے لٹکا کر یا پائدان پر چڑھا کر اس حالت میں گھر پہنچایا کہ جیسے بھیڑ بکریاں مذبح خانے لے جائی جا رہی ہوں۔(4)چونکہ اکثر پردیسی گھر نہیں پہنچ سکے اس لئے بہت سے بچے عیدی سے محروم رہ گئے۔(5)ایک روزہ کم کر کے اور غلط دن عید ڈیکلیئر کرنے والے خود تو گناہ گار ہوئے ہی ساتھ ہی کروڑوں مسلمانوں کو بھی گناہ گار کر دیا یہ الگ بات ہے کہ اس کی ذمہ داری اعلان کرنے والوں کے سر ہے۔(6)اکثر توگوں نے بوجھل دل کے ساتھ بلکہ بادل نخواستہ عید کی کیونکہ ان کو یقین ہی نہیں آ سکا کہ آج واقعی عید ہے۔لہٰذا ہم اس حد تک تو حکومت سے متفق ہیں کہ اس روز پوری قوم ایک تھی، اختلاف صرف اس بات پر ہے کہ کس پر ایک تھی، حکومت کے نزدیک متفقہ و مشترکہ عنصر یہ تھا کہ پوری قوم ایک ساتھ عید منا رہی ہے ہماری رائے میں متفقہ و مشترکہ عنصر وہ بوجھ تھا جو ہر بندہ دل پر لے کر عید منا نہیں نمٹا رہا تھا۔ان دونوں آراءسے ہٹ کر ایک رائے اپوزیشن والوں کی بھی ہے اور واقعی ذرا نہیں کافی ہٹ کے ہے، حزب مخالف کے ایک بزلہ مسخ دوست کی رائے یہ ہے کہ ”29رمضان کو چاند نظر آنے یا نہ آنے کی بحث ہی فضول ہے کیونکہ چاند تو اس سے بھی کئی روز پہلے نظر آ چکا تھا، ہمارے صدر صاحب کو، جب وہ امریکہ میں سارہ پالن سے ملے تھے“ ہمارا اس پر کوئی تبصرہ نہیں۔
Posted by APS ASSOCIATED PRESS SERVICE at
6:11 PM 0 comments