
حکومت کوزرمبادلہ کے ذخائر میں بہتری کے لئے جنگی بنیادوں پر کام اور سبسڈی کو ختم کرنا ہوگاکیونکہ ماضی کی حکومت نے بھاری سبسڈی دی جس کی وجہ سے قیمتوں میں اضافے کایک دم بوجھ عوام پر پڑا حکومت کو وز یر اعظم ہائو س ، ایوان صدر اور آئے روز بے مقصد ڈنر اور مجموں سمیت ہر سطح پر اخراجات کو کنٹرول کرنا ہوگا۔ تاکہ معاشی صورت حال میں بہتری لائی جاسکے۔اگرچہ صدر آ صف زرداری نے اس عزم کا اعادہ کیا ہوا ہے کہ کام ، کام اور کام اور حکومت کو کفایت شعاری کی بھی تلقین کی ہوئی ہے۔۔ حکومت پاکستان نے آئی ایم ایف اور عالمی بینک کی تجویز پر فیصلہ کیا ہے کہ اگلے سال اپریل کے بعد پاکستان میں پیٹرول اور ڈیزل وغیرہ کی قیمتوں کے تعین کیلئے دوبارہ ”آٹومیٹک سسٹم“ کا اجراءکرایا جائے گا جس کے تحت عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں میں جو بھی کمی بیشی ہوگی اس طرح پاکستان میں بھی اس کی قیمتوں کا تعین کیا جائے گا‘ ملک بھر میں 2004ء میں یہ نظام رائج تھا لیکن اس کے بعد وزیراعظم شوکت عزیز کی حکومت نے اس نظام کو تبدیل کردیا تھا‘ اس کے بعد ملک میں پیٹرول اور ڈیزل وغیرہ کے نرخوں میں ریکارڈ اضافہ ہوا اور اس وقت ایک لیٹر پیٹرول کی قیمت ایک امریکی ڈالر سے بھی بڑھ چکی ہے‘ یعنی پاکستان کا روپیہ ڈالر کے مقابلے میں 77 روپے اور ایک لیٹر پیٹرول 81 روپے تک پہنچ چکا ہے۔ تفصیلات کے مطابق اس وقت عالمی مارکیٹ میں پیٹرول کے نرخوں میں کمی کا رجحان ہے جبکہ پاکستان نے تیل کی درآمدکیلئے 100 ڈالر فی بیرل کی اوسط قیمت مقرر کررکھی ہے جبکہ عالمی سطح پر یہ قیمت 91 ڈالر سے 92 ڈالر کے درمیان ہے۔ اس لحاظ سے حکومت عالمی مارکیٹ سے سستا تیل خرید کر 14 روپے اضافہ کے ساتھ عوام کو پیٹرول ایک سو ڈالر کے ریٹ سے فراہم کررہی ہے جبکہ دوسری طرف عالمی مارکیٹ میں ڈیزل کے ریٹ زیادہ ہونے کی وجہ سے 12 روپے سبسڈی صارفین کو دے رہی ہے۔ چند ہفتہ قبل حکومت پیٹرول پر 19 روپے اضافی وصول کرتی تھی جو پیٹرول کے ریٹ میں حالیہ 5 روپے کی کمی کے بعد 14 روپے رہ گئے ہیں۔ سرکاری ذرائع کے مطابق عالمی مالیاتی اداروں کے دباو¿ پر اگلے سال کی پہلی سہہ ماہی کے بعد پیٹرول اور ڈیزل وغیرہ پر تمام سبسڈیز (رعایتیں) ختم کرکے دوبارہ اوپن مارکیٹ کے حوالے ”آٹومیٹک سسٹم“ کا اجراءکردیا جائے گا۔ 18 ستمبر سے آئی ایم ایف کا وفد وفاقی وزیر خزانہ نوید قمر‘ وزیراعظم یوسف رضا گیلانی اور آخری مرحلے میں صدر آصف علی زرداری سے پاکستان کے موجودہ اقتصادی حالات میں بہتری لانے اور انہیں 5 سال کی مدت کیلئے ”میکرو اکنامک فریم ورک“ کی تجویز دے گا جس کے تحت آئی ایم ایف پاکستان کو ایک بار پھر نئی اقتصادی اصلاحات لانے کیلئے نئی نئی سفارشات اور مختلف شرائط عائد کرے گا اور اس کے بدلے میں پاکستان کو ایک ارب ڈالرز کے مشروط قرض پیش کرے گا۔ اس کے ساتھ ساتھ آئندہ چند ہفتوں میں پاکستان کو سعودی عرب سے بھی 5 ارب سے 6 ارب ڈالر مالیت کے ادھار پر ملنے والے تیل کی فراہمی کے بارے میں بھی سعودی حکام عالمی اداروں کو مشاورت کی روشنی میں حتمی فیصلہ کا اعلان کریں گے۔جبکہ انٹرنیشنل انسٹی ٹیوٹ فار اسٹرٹیجک اسٹیڈیز نے اپنی ایک رپورٹ میں کہا ہے کہ صدر پاکستان آصف علی زرداری کو پاک افغان سرحد پر موجود دہشت گردوں کے ٹھکانوں پر قابو پانے اور دہشت گردی کے خاتمے کو اولین ترجیح بنانی چاہئے تاہم انہیں اس سلسلے میں فوج کا اعتماد حاصل کرنے میں کافی مشکلات درپیش ہوں گی جو ان کی حکومت کے لیے مشکلات پیدا کرسکتی ہے لندن تھنک ٹینک کے سربراہ جان چپمین نے کہا ہے کہ صدر زرداری کو پاک افغان سرحد پر موجود قبائلی علاقوں میں انتہاپسندوں کے خاتمے کو اولین ترجیح دینا چاہئے، انہوں نے کہا کہ آصف زرداری کو دہشت گردی کے خلاف جنگ میں فوج کا اعتماد حاصل کرنے میں مشکلات کا سامنا ہے تاہم فوج کا اعتماد حاصل کرنے کے لئے انہیں قبائلی علاقوں میں امریکی مفادات پر قابو پانا ہوگا، انہوں نے مزید کہا کہ آصف زرداری کے لئے سب سے مشکل کام فوج کا اعتماد حاصل کرنا اور دہشتگردی کے خلاف جنگ میں تمام سیاسی جماعتوں سے مشاورت کرکے مشترکہ حکمت عملی کا اعلان کرنا ہے۔ جبکہ ر فرانس کے کراچی میں مقیم قونصل جنرل پیری سیلان نے کہا ہے کہ فرانس آزاد جمہوری ممالک کا احترام کرتا ہے اور وہ امریکا کی جانب سے آزاد خود مختار ممالک میں فوجی ایکشن کی حمایت نہیں کرتا فرانس اس امر پر متفق ہے کہ دنیا اسی وقت پرامن رہ سکتی ہے کہ جب امریکا دوسرے ملکوں میں مداخلت کی پالیسی سے دوری اختیار کرے۔ انہوں نے بین الاقوامی صورتحال، ملکی صورتحال، باجوڑ، فاٹا اور دیگر قبائل میں جاری آپریشن، کراچی میں طالبانائزیشن، جماعت اسلامی کی پالیسی ، دہشت گردوں سے نمٹنے کے معاملات، امریکا کی جانب سے حملوں اور دیگر اہم سیاسی موضوعات پر گفتگو کی ہے ۔ جماعت اسلامی پاکستان کے نائب امیر پروفیسر غفور احمد نے فرانسیسی سفارتکاروں کو اس بات سے آگاہ کیا کہ پاکستان کے قبائلی علاقوں کی صورتحال امریکی مداخلت اور نہتے شہریوں پر بمباری سے ہونے والے جانی و مالی نقصان کے سبب خراب ہو رہی ہے ۔ انہوں نے نام نہاد دہشت گردی کے خلاف جنگ کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ امریکا افغانستان اور پاکستان کے وسائل پر قبضہ کرنا چاہتا ہے اور افغانستان اور عراق میں شکست کے بعد وہ قبائل میں جنگ کے حالات پیدا کر رہا ہے ۔جبکہ تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے ایک نجی ٹی وی سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ فاٹا میں قبائلی نظام ختم کرنے سے جوخلاءپیدا ہوا اسکی وجہ سے طالبانائزیشن بڑھی اگر پارلیمنٹ بااختیار ہے تو جو معاہدے صدر مشرف نے امریکہ سے کیے ہیں انھیں پارلیمنٹ میں پیش کیا جائے سب سے خطرناک بات یہ ہے کہ دہشت گردی ختم ہونے کی بجائے بڑھ رہی ہے۔پارلیمنٹ کی بہت طاقت ہوتی ہے۔پارلیمنٹ میں بحث کرائی جائے کہ اگر ہماری حدود میں حملے ہوئے اور ہمارے شہری جاں بحق ہوئے تو ہم ان کی لاجسٹک سپورٹ بند کر دیں گے قبائلی نظام بہت مضبوط تھا۔قبائل میں ٰیہ صورتحال اس وقت شروع ہوئی جب 9 فروری 2004میں وزیرستان میں فوج بھیجی گئی ۔ڈاکٹرخلیل نے کہاباجوڑ کو پاکستان نے اپنا حصہ قبول نہیں کیا ہے اور اگر ہم پاکستان کا حصہ ہیں تو وہاں ایف سی آر کا قانوں کیوں موجود ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جس نے بھی یہ جنگ شروع کی ہے ہماری تباہی کے لئے کی ہے۔جبکہ جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ اورکشمیر کمیٹی کے چیئر مین مولانافضل الرحمان نے کہاہے کہ پارلیمنٹ میں دہشت گردی کے خلاف عالمی جنگ میں پاکستان کے کردارپربحث کی جائے گی جس کے بعد نئی پالیسی تشکیل دیں گے، قبائلی علاقوں میں فضائی حملے اس بات کاثبوت ہیں کہ وہاں حکومت کی رٹ ختم ہوچکی ہے۔ فاٹاکاعلاقہ ایک معاہدے کے تحت پاکستان میں شامل ہوااسلحہ رکھناوہاں کے عوام کاحق ہے۔ مولانافضل الرحمان نے کہاکہ فاٹاکے عوام کو سیکورٹی فورسزکی موجودگی پرتشویش ہے۔مسلم ممالک کودہشت گردی کی جنگ میں نشانہ بننے سے محفوظ رکھنے اورمسلم ممالک میں دہشت گردی کے معاملات پراز خود قابوپانے کے لئے مسلم ممالک کی ”متحدہ جوائنٹ فورس“''MATO''مکہ الائنس ٹریٹی آرگنائزیشن“کے قیام پرازسرنوغورشرع کردیاگیاہے۔یہ بات ”اطراقب البلان اسلامی“آبزروراسلامک کنٹریز کے ترجمان عبداللہ بن ابی سعودنے کہی۔ ترجمان کے مطابق مسلم ممالک کی یہ جوائنٹ فورس نیٹوکی طرز پرمسلم ممالک کے مفادت کا تحفظ کرے گی اورمسلم ممالک میں دہشت گردی کے معاملات کوکنٹرول کرنے میں معاونت کرے گی۔ میٹوکی تشکیل کا منصوبہ 2005میں عالمی مذاکراتکارفیصل محمد اورملائیشیاکے رہنما مہاتیرمحمد نے پیش کیاتھاجبکہ میٹوکی دفاعی حکمت عملی پاکستان کے ریٹائرڈ جنرل حمید گل اورسوڈان کے عمرالبشرنے ترتیب دی تھی ۔ادھرتہران سے مسلم ممالک کی دفاعی فورس کے حوالے سے خاموش سفارتکاری کا عمل شروع ہونے کی خبریں موصول ہوئی ہیں۔ دنیا میں جاری اعلانیہ جنگ کو بھی عارضی طور پر روک دینے کی روایت پر عمل کیا جاتا ہے اسی طرح رمضان کے بابرکت مہینے میں بھی فضائی حملوں اور ایسی کارروائیوں کو روک دینا چاہئے رمضان کے بابرکت مہینے میں میزائلوں کے حملے اور فوجی آپریشنز کی کارروائیاں انتہائی نامناسب ہیں۔ فاٹا کے پاکستانی علاقوں میں امریکی اور ناٹو افواج کی فوجی کارروائیاں طیاروں کی پروازوں اور میزائلوں کے حملوں سے پیدا شدہ صورتحال اگلے ہفتے نیویارک میں ہونے والی ”بش۔زرداری“ ملاقا ت پر کیا اثرات ڈالے گی؟ معلوم نہیں کہ صدر زرداری ان واقعات اور اس صورًتحال کے بارے میں صدر بش سے کیا بات کریں گے؟ تاہم خیال ہے کہ صدر زرداری اس مسئلے پر گفتگو کریں گے۔ صدر زرداری اب 25 ستمبر کی صبح اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کریں گے اور وہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اس اجلاس میں سربراہان مملکت کی کیٹگری سے آخری سربراہ مملکت مقرر ہوں گے۔جبکہ امریکہ نے پاکستان پر واضح کردیا ہے کہ قبائلی علاقوں میں سیکورٹی کی صورتحال نہ صرف پاکستان بلکہ امریکہ کی اپنی سلامتی کیلئے بھی اہم ہے اور پاکستان کو اس سے نمٹنے کی ضرورت ہے۔ واشنگٹن میں میڈیا کو بریفنگ کے دوران محکمہ خارجہ کے ترجمان شون مک کارمک نے کہا کہ امریکہ پاکستان کی سیاسی اور فوجی قیادت کے ساتھ رابطے میں ہے انتہا پسندی کا خاتمہ خود پاکستان کے اپنے مفاد میں بھی ہے اور اس کے لیے پاکستان کو خود کام کرنا ہوگا۔ ترجمان نے کہا کہ واشنگٹن پاکستان کی خود مختاری کا احترام کرتا ہے لیکن اسلام آباد پر واضح کردیا ہے کہ قبائلی علاقوں میں سیکورٹی کی صورتحال نہ صرف پاکستان اور خطے بلکہ امریکہ اور پوری دنیا کی سلامتی کے لیے اہم ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ پاکستان کا اپنا علاقہ ہے پاکستان اپنے مسائل حل کررہا ہے اور پاکستانی سرحدوں میں ہونے والی دہشت گردی اور وہاں روپوش شدت پسندوں سے نمٹنا بھی پاکستان ہی کی ذمہ داری ہے اس سلسلے میں پاکستان کی ہر ممکن مدد کرنے کو تیار ہیں لیکن ہم نے واضح کردیا ہے کہ اگر سیکورٹی کی بات آئیگی تو یہ سیکورٹی امریکہ کی نہیں نہ کسی خطے بلکہ یہ پوری دنیا کی ذمہ داری ہے۔ ترجمان نے کہا کہ قبائلی علاقوں میں کارروائیوں کے حوالے سے پاکستانی حکام کے ساتھ بات چیت کے حوالے سے امریکہ کو خوشی ہے اور ہمیں اس بات کی بھی خوشی ہوگی کہ دو طرفہ تعاون مزید فروغ دیا جائے اوراس تعاون کا خیر مقدم کیا جائے گا تاہم انہوں نے اعتراف کیا کہ قبائلی علاقوں کی صورتحال کو کئی زاویوں سے حل کرنے کی ضرورت ہے ان میں سیکورٹی ، سیاسی اور اقتصادی پہلوو¿ں کو سامنے رکھ کر معاملات کو حل کیاجاسکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ اس معاملے پر پاکستان کے ساتھ کئی چینلز پر بات کررہا ہے۔ ہمارے صدر آصف علی زرداری اور ان کی حکومت اور پاکستانی فوج کے ساتھ فوجی اور سیاسی سطح پر قریبی تعلقات قائم ہیں اور جوائنٹ چیفس آف سٹاف ایڈمرل مولن کا حالیہ دورہ اسلام آباد پاکستان میں سیاسی اور فوجی قیادت کے ساتھ رابطے میں رہنے کی امریکی کوششوں کا حصہ تھا۔بش انتظامیہ کی جانب سے پاکستان کے قبائلی علاقوں میں زمینی افواج کے استعمال سے متعلق اپنی پالیسی کو درپیش سنگین خطرات کے پیش نظر کمانڈو کارروائیاں محدود کرنے کا امکان ہے۔ رپورٹ کے مطابق صدر بش کی طرف سے 3 ستمبر کو اسلام آباد کی منظوری کے بغیر جنوبی وزیرستان ایجنسی میں امریکی کمانڈ حملے کی منظوری سے متعلق حکام اور ذرائع نے بتایا کہ یہ کارروائی پاک افغان سرحد پر واقع دہشت گردی کے محفوظ ٹھکانوں کے خلاف امریکہ کی جانب سے بڑے پیمانے پر حملوں کا حصہ تھی۔ پاکستان نے اس کارروائی پر احتجاج کرتے ہوئے اپنی سا لمیت کے دفاع کا اعادہ کیا۔ کشیدگی میں اضافہ کے پیش نظر امریکی چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف مائیک مولن نے اسلام آباد کا دورہ کیا۔ تاہم امریکی حکام اور ذرائع کے مطابق مستقبل میں قبائلی علاقوں میں کوئی بھی کارروائی مشن ٹو مشن بنیادوں پر ہوگی جس کی منظوری امریکی انتظامیہ کے اعلیٰ حکام دیں گے۔ بش انتظامیہ کے ایک اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ یہ انتہائی حساس معاملہ ہے کارروائیوں کے حوالے سے فوجی یا ان کے کمانڈر فیصلہ نہیں لے سکتے۔مبصرین نے کہا ہے کہ امریکہ کی جانب سے زمینی فوجوں کے استعمال سے سیاسی کشیدگی میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ اس سے خاص طور پر پاکستانی فوج کے لئے مسائل پیدا ہوں گے۔ امریکی وزیردفاع رابرٹ گیٹس نے کہا کہ امریکی افواج اور افغان حکام افغانستان میں اتحادی افواج کی بمباری سے ہونے والی شہری ہلاکتوں کی مشترکہ طور پر تحقیقات کریں گے۔ بگرام ایئر بیس پر گفتگو کرتے ہوئے امریکی وزیردفاع نے کہا افغان وزیر دفاع عبدالرحیم وردگ نے اس معاملہ کی مشترکہ تحقیقات پر اتفاق کیا ہے۔ امریکی سینیٹ نے سال 2009ء کے لئے 6125 بلین ڈالر کے دفاعی بل کی منظور ی دیدی جس میں افغانستان اور عرا ق کیلئے 70بلین ڈالر کی رقم مختص کی گئی ہے۔ بدھ کو امریکی سینیٹ میں بل کے حمایت میں 88 اور مخالفت میں آٹھ ووٹ ڈالے گئے۔ پینٹاگون کیلئے 1039 بلین ڈالررکھے گئے ہیں۔ بش نے قومی دفاع کے لئے 611.1بلین ڈالر مختص کرنے کی درخواست کی تھی تاہم سینیٹ نے رقم 1.2بلین ڈالر کااضافہ کردیا۔ بل کی مخالفت میں ووٹ ڈالنے والوں میں پانچ ارکان کا تعلق ری پبلیکن ،دو کا ڈیموکریٹس اور ایک آزاد رکن ہے۔امریکی صدر جارج بش نے کہا ہے کہ واشنگٹن نے عرق اور افغانستان میں خانہ جنگی کا خاتمہ کر کے مسلمانوں کی مدد کی ہے۔ صدر بش کی جانب سے وائٹ ہاو¿س میں امریکی مسلمانوں کے اعزاز میں افطارڈنرکے شرکاسے خطاب کرتے ہوئے جارج بش نے یہ بات کہی افطار ڈنر میں امریکی مسلمانوں، سفارتکاروں، ارکان کانگریس سمیت فوجی حکام نے شرکت کی۔ صدر بش نے کہا کہ وہ ہر طرح کے تعصب کو مسترد کرتے ہیں اور انہیں خوشی ہے کہ گزشتہ 8 سال سے انتظامیہ تمام مذاہب کے درمیان انصاف اور مساوات کے فروغ کیلئے امریکی مسلمانوں کے ساتھ مل کر کام کر رہی ہے۔ انھوں نے کہا کہ امریکہ کے عالم اسلام سے خوشگوار تعلقات ہیں۔ایک اور اطلاع کے مطابق امریکی صدر جارج ڈبلیوبش نے ملک کے حالیہ مالیاتی بحران کے باعث پیدا ہونے والی سنگین صورتحال کے پیش نظر الباما اور فلوریڈا کا دورہ منسوخ کردیا۔ وائٹ ہاوس کے ترجمان ٹونی فریٹونے صحافیوں کوبتایا کہ صدر بش امریکی مارکیٹ کے حالیہ مالی بحران پر اپنے مشیروں سے تبادلہ خیالات کریں گے۔ ذرائع نے بتایا کہ الباما اور فلوریڈا کے مجوزہ دورے کے دوران اب نائب صدر ڈک چینی صدر بش کی نمائندگی کریں گے۔ دریں اثنا امریکہ نے کہا ہے کہ سرمایہ کاری بینک لہمین برادرز کے دیوالیہ ہونے اور اس سے پیدا شدہ مالی بحران پر امریکی معیشت قاپو پانے کی مکمل صلاحیت رکھتی ہے۔وائٹ ہاوس نے سرمایہ کاری بینک کے دیوالیہ ہونے پر امریکی معیشت کے تباہی سے دوچار ہونے کی رپورٹوں پر محتاط ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ امریکی معیشت ایسے معاشی جھٹکوں کو برداشت کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ وائٹ ہاوس کا کہنا ہے کہ مالی بحران وقتی ہے اور جلد اس پر قابو پایا جائے گا۔ امریکی حکومت نے فوری طور پر سرمایہ کاری بنک سے پیدا شدہ بحران کے خاتمے کیلئے امریکی معیشت کو 84 ارب ڈالر کا قرضہ فراہم کر دیا تاہم اقتصادی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ عراق اور افغانستان کی جنگ کی وجہ سے امریکی معیشت کو مزید ایسے جھٹکوں کا سامنا کرنا پڑے گا۔ اے پی ایس۔اسلام آباد
No comments:
Post a Comment