
اجتماعی دعا صبح 10:30 بجے ظہور پیلس گجرات میں ہو گی
لاہور ( احسن پریمی) شہید جمہوریت چوہدری ظہورالٰہی کی 27 ویں برسی جمعرات 25 ستمبر کو عقیدت و احترام سے منائی جائے گی۔ اس موقع پر ظہور پیلس گجرات میں صبح 9:30 بجے قرن خوانی ہو گی جس میں پاکستان مسلم لیگ کے صدر چودھری شجاعت حسین سمیت ممتاز سیاسی شخصیات شرکت کریں گی۔ تقریب کا غاز قرن خوانی‘ چوہدری ظہورالٰہی شہید کی قبر پر پھولوں کی چادر چڑھانے اور فاتحہ خوانی سے ہو گا۔ بعد ازاں 10:30 بجے ظہور پیلس میں اجتماعی دعا ہو گی۔شہید جمہوریت چوہدری ظہورالٰہی کی 7مارچ 1920ءکو گجرات کے ایک چھوٹے سے گائوں ”نت“ میں پیدا ہوئے۔ ملازمت کا غاز محکمہ پولیس سے کیا مگر کچھ عرصہ بعد یہ ملازمت چھوڑ دی۔ 1944ءمیں مسلم لیگ گجرات میں شامل ہو کر مسلمانوں کی خدمت کو شعار بنایا۔ 1945-46ءکے انتخابات میں تحریک پاکستان کے سرگرم کارکن کی حیثیت سے ل انڈیا مسلم لیگ کیلئے بھرپور کام کیا۔ 1947ءمیں قیام پاکستان کے وقت سینکڑوں مغویہ مسلمان عورتوں کو ہندوئوں اور سکھوں کے قبضے سے Èزاد کرایا۔ 1953-54ءمیں انہوں نے ضلعی سیاست میں حصہ لینے کا فیصلہ کیا اور ون یونٹ کے قیام سے ذرا پہلے ضلع کے سیاسی وڈیروں کو سنٹرل کوپریٹو بنک کے ڈائریکٹر کے الیکشن کے موقع پر للکارا اور سحر توڑ دیا کہ نوابزادے ناقابل شکست ہیں کچھ عرصہ بعد ڈسٹرکٹ بورڈ کے انتخابات میں چوہدری ظہورالٰہی بلا مقابلہ صدر منتخب ہو گئے۔ 1958ءمیں مارشل لاءلگنے کے بعد چوہدری ظہورالٰہی شہید کو ایبڈو کے تحت چھ سال کیلئے سیاست بدر کر دیا گیا۔ 1962ءمیں پہلی مرتبہ ان کے گروپ نے نوابزادہ اصغر علی خان کو بھاری اکثریت سے شکست دے کر کامیابی حاصل کی۔ اپنی ذہانت‘ جدید حب الوطنی اور اہم سیاسی زعما سے گہرے تعلقات کے باعث مسلم لیگ کی پارلیمانی پارٹی کے سیکرٹری جنرل بنائے گئے۔ 1968ءمیں وہ کونسل مسلم لیگ میں شامل ہوئے۔ 1976ءکے انتخابات میں علاقے کی اہم شخصیت نوابزادہ اصغر علی خان کو شکست دیکر رکن قومی اسمبلی منتخب ہوئے۔ چوہدری ظہورالٰہی شہید کو حق گوئی کی راہ سے ہٹانے کیلئے ان کے خاتمے کیلئے کئی منصوبے بنائے گئے۔ پیپلزپارٹی کے دور حکومت میں انہیں سازش کے نتیجے میں بلوچستان کے علاقے کوہلو میں بھجوایا گیا تاکہ ان کا وجود ختم کیا جا سکے مگر گورنر بلوچستان نواب اکبر بگتی مرحوم نے اس سازش کو ناکام بنا دیا۔ 1964ءمیں انہوں نے مسلم لیگ ورکنگ کمیٹی کی پارلیمانی پارٹی کی سیکرٹری جنرل شپ سے استعفیٰ دے دیا۔1965ءمیں انہوں نے کنونشن لیگ کو خیر باد کہہ دیا۔ 1965ءکے صدارتی الیکشن میں انہوں نے فیلڈ مارشل ایوب خان کے مقابلہ میں مادر ملت محترمہ فاطمہ جناح کا ڈٹ کر ساتھ دیا۔ اس دوران ان پر بے شمار مقدمات درج ہوئے۔ 1970ءکے انتخابات میں انہوں نے کونسل مسلم لیگ کے پلیٹ فارم سے الیکشن لڑا اور کامیاب رہے۔ بھٹو دور میں انہیں ایک بار پھر ریاستی دہشت گردی کا سامنا کرنا پڑا۔ اپنی قید و بند کے زمانے میں غیر معمولی استقامت اور حاکمانہ جبر کے سامنے سر تسلیم خم نہ کرنے پر انہیں مارچ 1977ءکے انتخابات میں اللہ کا سپاہی کا عوامی لقب ملا۔ جولائی 1977ءمیں بھٹو حکومت کے خاتمے پر وہ رہا ہوئے۔ جولائی 1978ءمیں قومی اتحاد نے حکومت میں شامل ہونے کا فیصلہ کیا تو انہوں نے مسلم لیگی نمائندے کی حیثیت سے وفاقی وزیر محنت و افرادی قوت کا قلمدان سنبھالا۔ 25 ستمبر 1981ءمیں انہیں لاہور میں دہشت گردی کے نتیجے میں شہید کر دیا گیا۔ اے پی ایس
لاہور ( احسن پریمی) شہید جمہوریت چوہدری ظہورالٰہی کی 27 ویں برسی جمعرات 25 ستمبر کو عقیدت و احترام سے منائی جائے گی۔ اس موقع پر ظہور پیلس گجرات میں صبح 9:30 بجے قرن خوانی ہو گی جس میں پاکستان مسلم لیگ کے صدر چودھری شجاعت حسین سمیت ممتاز سیاسی شخصیات شرکت کریں گی۔ تقریب کا غاز قرن خوانی‘ چوہدری ظہورالٰہی شہید کی قبر پر پھولوں کی چادر چڑھانے اور فاتحہ خوانی سے ہو گا۔ بعد ازاں 10:30 بجے ظہور پیلس میں اجتماعی دعا ہو گی۔شہید جمہوریت چوہدری ظہورالٰہی کی 7مارچ 1920ءکو گجرات کے ایک چھوٹے سے گائوں ”نت“ میں پیدا ہوئے۔ ملازمت کا غاز محکمہ پولیس سے کیا مگر کچھ عرصہ بعد یہ ملازمت چھوڑ دی۔ 1944ءمیں مسلم لیگ گجرات میں شامل ہو کر مسلمانوں کی خدمت کو شعار بنایا۔ 1945-46ءکے انتخابات میں تحریک پاکستان کے سرگرم کارکن کی حیثیت سے ل انڈیا مسلم لیگ کیلئے بھرپور کام کیا۔ 1947ءمیں قیام پاکستان کے وقت سینکڑوں مغویہ مسلمان عورتوں کو ہندوئوں اور سکھوں کے قبضے سے Èزاد کرایا۔ 1953-54ءمیں انہوں نے ضلعی سیاست میں حصہ لینے کا فیصلہ کیا اور ون یونٹ کے قیام سے ذرا پہلے ضلع کے سیاسی وڈیروں کو سنٹرل کوپریٹو بنک کے ڈائریکٹر کے الیکشن کے موقع پر للکارا اور سحر توڑ دیا کہ نوابزادے ناقابل شکست ہیں کچھ عرصہ بعد ڈسٹرکٹ بورڈ کے انتخابات میں چوہدری ظہورالٰہی بلا مقابلہ صدر منتخب ہو گئے۔ 1958ءمیں مارشل لاءلگنے کے بعد چوہدری ظہورالٰہی شہید کو ایبڈو کے تحت چھ سال کیلئے سیاست بدر کر دیا گیا۔ 1962ءمیں پہلی مرتبہ ان کے گروپ نے نوابزادہ اصغر علی خان کو بھاری اکثریت سے شکست دے کر کامیابی حاصل کی۔ اپنی ذہانت‘ جدید حب الوطنی اور اہم سیاسی زعما سے گہرے تعلقات کے باعث مسلم لیگ کی پارلیمانی پارٹی کے سیکرٹری جنرل بنائے گئے۔ 1968ءمیں وہ کونسل مسلم لیگ میں شامل ہوئے۔ 1976ءکے انتخابات میں علاقے کی اہم شخصیت نوابزادہ اصغر علی خان کو شکست دیکر رکن قومی اسمبلی منتخب ہوئے۔ چوہدری ظہورالٰہی شہید کو حق گوئی کی راہ سے ہٹانے کیلئے ان کے خاتمے کیلئے کئی منصوبے بنائے گئے۔ پیپلزپارٹی کے دور حکومت میں انہیں سازش کے نتیجے میں بلوچستان کے علاقے کوہلو میں بھجوایا گیا تاکہ ان کا وجود ختم کیا جا سکے مگر گورنر بلوچستان نواب اکبر بگتی مرحوم نے اس سازش کو ناکام بنا دیا۔ 1964ءمیں انہوں نے مسلم لیگ ورکنگ کمیٹی کی پارلیمانی پارٹی کی سیکرٹری جنرل شپ سے استعفیٰ دے دیا۔1965ءمیں انہوں نے کنونشن لیگ کو خیر باد کہہ دیا۔ 1965ءکے صدارتی الیکشن میں انہوں نے فیلڈ مارشل ایوب خان کے مقابلہ میں مادر ملت محترمہ فاطمہ جناح کا ڈٹ کر ساتھ دیا۔ اس دوران ان پر بے شمار مقدمات درج ہوئے۔ 1970ءکے انتخابات میں انہوں نے کونسل مسلم لیگ کے پلیٹ فارم سے الیکشن لڑا اور کامیاب رہے۔ بھٹو دور میں انہیں ایک بار پھر ریاستی دہشت گردی کا سامنا کرنا پڑا۔ اپنی قید و بند کے زمانے میں غیر معمولی استقامت اور حاکمانہ جبر کے سامنے سر تسلیم خم نہ کرنے پر انہیں مارچ 1977ءکے انتخابات میں اللہ کا سپاہی کا عوامی لقب ملا۔ جولائی 1977ءمیں بھٹو حکومت کے خاتمے پر وہ رہا ہوئے۔ جولائی 1978ءمیں قومی اتحاد نے حکومت میں شامل ہونے کا فیصلہ کیا تو انہوں نے مسلم لیگی نمائندے کی حیثیت سے وفاقی وزیر محنت و افرادی قوت کا قلمدان سنبھالا۔ 25 ستمبر 1981ءمیں انہیں لاہور میں دہشت گردی کے نتیجے میں شہید کر دیا گیا۔ اے پی ایس
No comments:
Post a Comment