

پاکستان اور امریکہ کو سمجھوتے پر پہنچنا ہو گا: ملی بینڈ برطانوی وزیر خارجہ
لندن /اسلام آباد ( اے پی ایس) برطانوی سیکریٹری قانون جیک سٹرا نے کہا ہے کہ پاکستان ایک آزاد اور خودمختار ملک ہے اور پاکستان میں حملوں کے سلسلے میں پاکستان کی رضا مندی ضروری ہے۔ پاکستان کے قبائلی علاقوں میں امریکی حملوں کے حوالے سے انہوں نے کہا ہے کہ امریکہ اور پاکستان درمیان قواعد و ضوابط طے ہیں اور برطانیہ کا موقف یہ ہے کہ حملے پاکستان حکومت کی پیشگی اجازت سے ہونے چاہئیں۔ ’پاکستان آزاد اور خودمختار ملک ہے اور تمام آزاد ممالک کو اپنی علاقائی خودمختاری کا حق ہے۔ اور امریکی صدر جارج بش نے جولائی میں وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کے ساتھ ملاقات میں یہ بات واضح کی تھی۔اس سوال کے جواب میں کہ کیا اس قسم کے حملے نقصان دہ نہیں ہیں انہوں نے کہا ’کہ کئی بار ایسے حملوں کی افادیت نہیں ہوتی قطع نظر کہ اس کی اجازت لی گئی تھی یا نہیں۔ فوجی آپریشن کا مقصد دہشت گرد رہنماو¿ں کو ہلاک کرنا ہوتا ہے جن کی وجہ سے پاکستان، افغانستان سمیت دیگر ممالک کو دہشت گردی کا سامنا ہے۔ اور یہ آپریشن عام لوگوں کے فائدے کے لیے ہوں نہ کہ ان کو الٹا نقصان پہنچے۔ جیک سٹرا نے یہ بھی کہا ہے کہ پاکستان کا کہنا ہے کہ ایسے حملوں سے حکومت کمزور ہو گی اور ملک میں عدم استحکام پیدا ہو گا، جیک سٹرا نے کہا کہ وہ حیرت زدہ ہیں کہ یہ مسئلہ پاکستان کے میڈیا اور جمہوری رہنماو¿ں کے لیے کتنا بڑا اور متنازعہ ہو گیا ہے۔ ’مجھے یقین ہے کہ امریکہ کو پاکستان کے تحفظات کے بارے میں علم ہو گا۔ پاکستان کے پاس بڑے قابل سفارتکار موجود ہیں اور وہ یہ تحفظات واشنگٹن تک پہنچا رہے ہوں گے۔انہوں نے کہا کہ برطانیہ چاہتا ہے کہ پاکستان اور امریکہ اس معاملے کا حل تلاش کریں۔ انہوں نے کہا کہ برطانیہ میں بھی امریکی فوج موجود ہے لیکن وہ حکومت کی رضامندی سے موجود ہے اور قانونی دائرے میں ہے۔ ایک خاص تحفظ یہ ہے کہ پاکستان کے قبائلی علاقوں سے دہشت گردی کو کیسا روکا جائے۔ اس مسئلے کو اس طرح حل کرنا ہو گا کہ جس سے نقضان نہ ہو اور اس میں اس علاقے کے لوگوں کی رضامندی بھی شامل ہو۔ جیک سٹرا کا کہنا تھا کہ اس مسئلے کو پاکستان اور امریکی حکومت کو ہی حل کرنا ہے لیکن ایسے معاملات پس پردہ زیادہ بہتر طور پر حل ہو سکتے ہیں۔ جیک سٹرا نے کہا کہ اس معاملے میں برطانوی پالیسی صاف ہے جس کا ذکر برطانوی وزیر خارجہ ڈیوڈ ملی بینڈ نے بھی کیا ہے کہ پاکستان اور امریکہ کو سمجھوتے پر پہنچنا ہو گا۔ دیگر ممالک بشمول امریکہ کی طرح برطانیہ اقوام متحدہ کے تمام ممالک کی آزادی اور خودمختاری پر یقین رکھتا ہے۔ برطانوی فوج پاکستان کے اندر حملوں میں حصہ لے گی تو جیک سٹرا نے کہا کہ قوائد و ضوابط کے مطابق برطانوی افواج افغانستان کی حد تک آپریشن کریں گی۔ پاکستان کے صدر آصف علی زرداری نے گذشتہ منگل کو برطانوی وزیرِ اعظم گورڈن براو¿ن سے ملاقات کی جس میں افغان سرحد سے متصل قبائلی علاقوں کی صورتِ حال پر غور کیا گیا۔برطانوی وزیرِ اعظم نے لندن میں ڈاو¿ننگ سٹریٹ میں آصف زرداری کا استقبال کیا۔ اس ملاقات کے بارے میں برطانوی اہلکار کچھ کہنے سے گریزاں ہیں اور اس پر اکتفا کرتے ہیں کہ صدرِ پاکستان نجی دورے پر برطانیہ آئے ہیں۔ملاقات کے بعد 10 ڈاو¿ننگ سٹریٹ کے باہر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے آصف زرداری نے کہا: ’امید ہے کہ پاکستان میں اب امریکی حملے نہیں ہوں گے۔‘ ایک مشترکہ اعلامیے میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ دونوں رہنماو¿ں نے پاک افغان سرحد کے علاقے میں انتہا پسندی کی صورتِ حال پر بات چیت کی اور نوٹ کیا کہ اس سے نہ صرف پاکستان بلکہ افغانسان میں برطانوی فوجیوں پر بھی برا اثر پڑ رہا ہے۔ بیان کے مطابق پاکستان اور افغانستان کے عوام اس انتہا پسندی سے بہت متاثر ہوئے ہیں اور یہ کہ پاکستان اور افغانستان کی حکومتوں کو انتہا پسندی کا مقابلہ کرنے کے لیے کوششوں کی سربراہی کرنا ہوں گی۔ ’اس سلسلے میں برطانوی وزیرِ اعظم نے افغان صدر حامد کرزئی اور پاکستان کے صدر آصف زرداری کے درمیان فوری ملاقات اور دونوں حکومتوں کے مابین بہتر تعاون کے امکانات کا خیر مقدم کیا‘۔ دونوں رہنماو¿ں نے اس بات پر اتفاق کیا ہے کہ خطے میں ایک مضبوط اور مستحکم جمہوریت امن کے فروغ کے لیے ضروری ہے ۔وزیرِ اعظم گورڈن براو¿ن نے اس حوالے سے برطانوی امداد کی ضرورت پر زور دیا۔ آصف زرداری اور گورڈن براو¿ن کے درمیان مذاکرات ایسے وقت ہوئے ہیں جب ’طالبان پاکستان سے افغانستان میں حملوں میں تیزی لا رہے ہیں۔اس مسئلے پر اسلام آباد اور واشنگٹن کے درمیان اختلافات کی بھی خبریں ہیں۔گزشتہ دو ہفتوں میں پاکستان میں امریکی فوج نے پانچ مرتبہ حملہ کیا ہے۔ خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق پاکستان میں اہلکاروں کا کہنا ہے کہ دونوں رہنماو¿ں نے اپنی ملاقات میں قبائلی علاقوں میں القاعدہ اور طالبان کے ساتھ جھڑپوں پر بات چیت کرنا تھی۔ جبکہ برطانوی وزیر جیک سٹرا گذشتہ پیر کی شام بھارت کے دو روزہ دورے کے بعد پاکستان پہنچے اور لاہور میں اپنے کے قیام کے دوران انہوں نے گزشتہ پیر کی شب مسلم لیگ نون کے صدر اور وزیر اعلی پنجاب شہباز شریف اور وکلا رہنماو¿ں سے الگ الگ ملاقاتیں کیں۔ برٹش ہائی کمشن کے مطابق وزیر انصاف جیک سٹرا کے پاکستان میں دو روزہ دورے کا مقصد دونوں ملکوں کے درمیان انسانی حقوق اور قانونی اصلاحات جیسے معاملات پر تعاون کو فروغ دینا ہے۔ برطانوی وزیر نے پنجاب کلب میں دیئے گئے عشائیہ میں بھی شرکت کی اور وہاں پر سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر اعتزاز احسن سمیت دیگر وکلا رہنماو¿ں سے بھی ملاقات کی۔وزیر اعلی شہباز شریف نے برطانوی وزیر انصاف جیک سٹرا کے ساتھ ملاقات کی جس میں باہمی دلچسپی کے مختلف امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ شہباز شریف نے برطانوی وزیر سے ملاقات میں کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان فرنٹ لائن اتحادی ہے تاہم سرحدی علاقوں میں مداخلت یا دخل اندازی کسی بھی صورت میں برداشت نہیں کی جائے گی۔ وزیر اعلی پنجاب نے کہا کہ پاکستان اور برطانیہ کے درمیان گہرے تعلقات قائم ہیں اور یہ تعلقات دونوں ممالک کے درمیان بڑھتے ہوئے تجارتی اقتصادی تعاون سے مزیدمستحکم ہونگے۔ اس موقع پر جیک سٹرا نے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ برطانیہ کو پاکستان کی سالمیت عزیز ہے اور وہ اسے ایک مستحکم ملک دیکھنا چاہتا ہے۔ان کا کہنا تھاکہ دونوں ممالک کے درمیان تعلقات آئندہ مزید مضبوط ہونگے۔ برطانوی وزیر نے پنجاب کلب میں دیئے گئے عشائیہ میں بھی شرکت کی اور وہاں پر سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر اعتزاز احسن سمیت دیگر وکلاءرہنماو¿ں سے ملاقات کی۔ ملاقات کے بعد اعتزاز احسن نے ذرائع ابلاغ سے بات چیت کی اور کہا کہ یہ ملاقات نجی نوعیت کی تقریب میں ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملاقات میں وکلاءتحریک کے بارے میں جو بات ہوئی وہ میڈیا کو نہیں بتاسکتا ہے تاہم آپ(صحافیوں کو) عدلیہ کے بارے میں میرے موقف کا علم ہے ۔ اعتزاز احسن نے کہا کہ پاکستان میں عدلیہ کے ساتھ جو سلوک کیا گیا اور جس طرح برطانیہ اور امریکہ نے اس کو نظر انداز کیا ہے اس بارے میں سب میرے موقف کو جانتے ہیں ۔ان کے بقول یہ امید کی جاسکتی ہے کہ انہوں نے اپنے موقف کے مطابق بات کی ہوگی۔ پاکستان میں صدارتی انتخاب کے بعد کسی بھی برطانوی وزیر کا یہ پہلا دورہ ہے۔ گزشتہ اپریل میںبرطانوی وزیرخارجہ ڈیوِڈ ملی بینڈ نے پاکستان کے دورے کے موقع پرکہا تھا کہ وہ پاکستان کی نئی حکومت کی جانب سے شدت پسندوں کے ساتھ بات چیت کی حمایت کرتے ہیں۔انہوں نے یہ بھی کہا تھاکہ پاکستان کی حکمت عملی برطانیہ کے لیے اس لیے اہم ہے کہ ان کے ملک میں دہشتگردی کے خلاف ستّر فی صد تحقیقات کی کڑیاں پاکستان جا کر ملتی ہیں۔ برطانوی وزیرخارجہ پاکستان کے دو روزہ دورے پرپشاور بھی پہنچے تھے جہاں انہوں نے صوبہ سرحد کے گورنر اور وزیر اعلی سمیت دیگر اہم راہنماو¿ں سے ملاقاتیں کی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ جو لوگ تشدد ترک کرنے پر آمادہ ہوں، ان کو قومی دھارے میں شریک کرنا ضروری ہے۔ ملی بینڈ نے پاکستان کے صدر مشرف اور وزیراعظم گیلانی سے ملاقات بھی کی تھی۔ انہوں نے اس وقت حکمراں جماعت پاکستان پیپلزپارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری اور دوسرے اہم راہنماو¿ں سے اسلام آباد میں ملاقات کی تھی۔ برطانوی وزیرخارجہ نے پشاور میں اخبار نویسوں کوبتایا تھاکہ انہوں نے سنا ہے کہ حکومت ان لوگوں سے مفاہمت چاہتی ہے جو دہشتگردی کی کارروائیاں ترک کرنا چاہتے ہیں ۔ تاہم انہوں نے کہا تھاکہ مصالحت، تشدد اور دہشتگردی کے خاتمے کے لیے ہونی چاہیے اور جو لوگ اس سے ناجائز فائدہ اٹھانے کی کوشش کرتے ہیں ان پر نظر رکھنی چاہیے۔ ایک سوال کے جواب میں ڈیوڈ ملی بینڈ نے کہا تھاکہ ’ہمارا موقف واضح اور صاف ہے، ہمیں ان لوگوں سے بات چیت کرنی چاہیے جو خود مفاہمت چاہتے ہوں اور جو ایسا نہیں کر سکتے ان سے بات چیت کی ضرورت نہیں‘۔ برطانوی وزیر خارجہ نے صوبہ سرحد میں بم دھماکوں سے متاثرہ خاندانوں کے لوگوں سے ملاقاتیں بھی کی تھیں ۔انہوں نے اس بات پر زور دیا تھاکہ ان کا ملک خطے میں طویل اور مضبوط بنیادوں پر امن کے قیام اور دہشتگردی کے خاتمے کے لیے ہر ممکن آپشن پر غور کر رہا ہے۔ برطانوی وزیرخارجہ نے کہا تھاکہ دہشتگردی صرف دنیا کا ہی نہیں بلکہ پاکستان کا اندرونی مسئلہ بھی ہے اور گزشتہ کچھ ماہ کے دوران پاکستان اس سے جس قدر متاثر ہوا ہے اس کا انہیں بخوبی علم ہے۔ گزشتہ اپریل میں برطانوی وزیرخارجہ نے سرحد کے وزیراعلیٰ امیر حیدر خان ہوتی اور عوامی نیشنل پارٹی کے سربراہ اسفندیار ولی خان سے فرنٹیر ہاو¿س پشارو میں ملاقات کی۔ اس موقع پر اے این پی کے صوبائی صدر افراسیاب خٹک بھی موجود تھے۔ ڈیوڈ ملی بینڈ نے فرنٹیر ہاو¿س پشاور میں صوبہ سرحد میں مختلف خود کش حملوں اور دھماکوں میں ہلاک ہونے والے افراد کے لواحقین سے بھی ملاقات اور غمزدہ خاندانوں سے یکجہتی اور ہمدردی کا اظہار کیا بھی کیا تھا۔ بعد ازاں برطانوی وزیرخارجہ نے گورنر ہاو¿س پشاور کا دورہ کیا تھا اور گورنر اویس احمد غنی سے ملاقات کی۔ اس موقع پر ایک قبائلی جرگہ نے بھی اعلیٰ برطانوی اہلکار کو علاقے کے مسائل سے آگاہ کیا۔ برطانوی وزیرخارجہ کے دور پشاور کے موقع پر شہر میں کوئی غیر معمولی سیکیورٹی اقدامات دیکھنے میں نہیں آئے۔ تاہم اعلیٰ اہلکار کی پریس کانفرنس کا اہتمام ایک مقامی ہوٹل میں دوپہر تین بجے کیا گیا تھا لیکن سیکیورٹی خدشات کے باعث اخباری کانفرنس وقت سے پہلے شروع کی گئی جس کی وجہ سے کئی صحافی پریس کانفرس میں شرکت نہیں کرسکے تھے۔ برطانوی وزیر خارجہ ڈیوڈ ملی بینڈ نے پاکستانی عوام سے کہا تھا کہ پاکستان کی نئی مخلوط حکومت کی تعریف ہونی چاہیے کہ اس نے بینظیر بھٹو کے قتل کے بعد مشکل حالات میں جمہوری انداز میں منتخب ہو کر اقتدار سنبھالا ہے۔ ڈیوڈ مِلی بینڈ نے پاکستان کے دو روزہ دورے کے بعد سابق وزیر اعظم نواز شریف اور آصف علی زرداری کے ساتھ عشایئے میںکہا تھاکہ وہ اس بات سے بہت متاثر ہوئے تھے کہ دونوں رہنماءایک دوسرے سے جمہوریت کے بارے میں بات کر رہے تھے۔ ملی بینڈ نے یہ بھی کہا تھاکہ اس بات سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ پاکستان کی مخلوط حکومت کو بڑی مشکلات کا سامنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس بات کے شواہد ہیں کہ القاعدہ پاکستان اور افغانستان کی سرحد کے دونوں جانب موجود ہے۔ برطانیہ پاکستانی حکومت کی شدت پسندوں کے ساتھ مذاکرات کے ذریعے امن کی کوشش کے حق میں ہے۔ تاہم ملی بینڈ نے ان لوگوں کو متنبہ کیا جو کہتے ہیں کہ پاکستانی فوج کو شدت پسندوں کے خلاف استعمال نہیں کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے یہ بھی کہا تھا کہ’مفاہمت کا مطلب یہ نہیں ہونا چاہیے کہ دہشت گردوں کو کام کرنے کا موقع دیا جائے۔پاکستانی وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کے ساتھ ایک مشترکہ اخباری کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ملی بینڈ کا موقف تھا کہ اب جبکہ پاکستان میں جمہوریت اور صحافتی آزادیاں بحال ہوچکی ہیں تو پاکستان کی دولت مشترکہ کی رکنیت بحال ہو جانی چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ آئندہ ماہ دولت مشترکہ کے اجلاس میں اس موضوع پر یقیناً بات ہوگی۔ ’میں چاہتا ہوں کہ برطانیہ اب پاکستان کی دولت مشترکہ میں واپسی کے لیے بڑھ چڑھ کر اپنا کردار ادا کرے۔ دولت مشترکہ کے خاندان میں اسے اس کا مقام ملنا چاہیے‘۔ شاہ محمود قریشی کا اس موقع پر کہنا تھا کہ برطانوی ہم منصب سے بات چیت میں دولت مشترکہ پر بھی بات ہوئی اور انہیں امید ہے کہ رکنیت جلد بحال کر دی جائے گی۔ برطانیہ ہتھیار پھینک دینے والے عسکریت پسندوں سے مذاکرات کا حامی ہے کیونکہ اس سے دہشت گردی کو کم کرنے میں مدد ملے گی۔برطانوی وزیر کا کہنا تھا کہ پاکستان میں گزشتہ چند ماہ کی جمہوری تبدیلیاں دنیا کے لیے خوش آئند بات ہے۔ ’ایک ایسا ملک جہاں ایک سیاسی رہنما کو دہشت گردی کے ذریعے ہلاک کیا گیا۔ وہ پھر بھی ایک نئے جمہوری جذبے کے ساتھ دنیا کے سامنے آتا ہے، سب کی تعریف کا مستحق ہے‘۔ طالبان کے ساتھ مذاکرات کی بات کرتے ہوئے ملی بینڈ کا کہنا تھا کہ اب تک کے مذاکرات میں انہیں یہ بات واضح ہوئی ہے کہ انہیں تفصیل کےساتھ درست طور پر یہ معلوم کرنا ہوگا کہ وہ کن لوگوں کے ساتھ مصالحت کی بات کر رہے ہیں ’اس لیے ضروری ہے کہ ہم واضح کریں کہ مصالحت کس سے کیوں اور کس مقصد کے لئے ہو رہی ہے۔ انہوں نے کہا تھاکہ ہم اور حکومت پاکستان اس بات پر کافی واضح ہیں کہ مصالحت صرف ان کے ساتھ ہوجو مصالحت چاہتے ہیں اور یہ مصالحت آئین کے مطابق پرامن قوانین کے تحت ہوسکتی ہے۔اے پی ایس
No comments:
Post a Comment