
پاکستان کے عوام کی اس وقت ما یو سی بڑھی ہے جب وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کے بزدلانہ اعتراف نے کہ وہ امریکہ سے نہیں لڑ سکتے، ملک کو مزید گرداب میں پھنسا کر رکھ دیا ہے بش طالبان کی آڑ میں مسلمانوں سے جنگ لڑ رہا ہے تاہم وہ پاکستان پر حملہ کرنے کا سوچ بھی نہیں سکتا ۔ ملک میں امریکی ڈالروں سے نہیں عدل سے استحکام پیدا ہو سکتا ہے ۔ امریکہ عراق اور افغانستان میں پھنس چکا ہے وہ کسی حال میں بھی پاکستان پر حملہ کرنے کی کوشش نہیں کر سکتا ۔ ا مریکی عوام بھی بش کی پالیسیوں سے عاجز آچکے ہیں ۔حالیہ جھڑپوں سے چار لاکھ افراد باجوڑ سے بے گھر ہو گئے ہیں ۔ وہاں کا بچہ بچہ پاکستانی حکمرانوں سے نا لاںہے بد قسمتی ہے کہ قوم کو انصاف نہیں مل رہا اسٹیبلشمنٹ اور سیاسی جماعتوں کے سربراہ امریکی ڈالروں کی بندر بانٹ میں لگے ہوئے ہیں جبکہ وطن عزیز کی حالت دن بدن ابتر ہوتی جارہی ہے ان انتخابات میں عوام سے کئے وعدوں سے حکمران منحرف ہو چکے ہیں ملک کو دیانت دار قیادت کی ضرورت ہے عوام اس وقت مفادات میں تماشبین کا کردار ادا نہیں کر سکتے۔نیو کلیئر اور سیاسی استحکام کیلئے اچھی قیادت وقت کی اہم ترین ضرورت ہے ۔ افسوسناک بات یہ ہے کہ جنرل مشرف جس نے دو مرتبہ آئین توڑ کر عدلیہ اور فوج جیسے اداروں کا بیڑہ غرق کیا اسے مکمل پروٹوکول کے ساتھ رخصت کیا گیا کوئی اسے نہیں پکڑ رہا ۔ 18 فروری کو عوام نے ووٹ کی طاقت سے امریکہ ا ور آمریت سے نفرت کا اظہار کیا تھا مگر حکومتی پالیسیوں سے وہ مطمئن نہیں ہیں امریکہ پاکستان کے عوام کی آزادی پر خطرہ ہے ہمیں اپنی پالیسیوں پر نظر ثانی کرنا ہو گی۔آج افغانستان اور پاکستان کے صدور امریکی کھٹ پتلی بن چکے ہیں خطے میں قیام امن کے لئے امریکہ کو افغانستان سے نکلنے کے لئے ٹائم فریم دینا ہو گا ملک سنگین صورتحال سے گزر رہاہے جس کے ذمہ دار حکمران حکومت ہے حکومت افغانستان میں موجود نیٹو افواج کیلئے پاکستان کے راستے جو لاجسسٹک سپورٹ جاری ہے اسے بند کردیں تو امریکہ مذاکرات کے لئے خود بخود مجبور ہو جائے گا ایک ملک میں کرکٹ ٹیم آنا نہیں چاہتی وہاں سرمایہ دار کیسے آئیں گے پاکستان کے قبائلی علاقوں مین امریکہ کی جانب سے حملو ں میں تیزی نومبر میں امریکہ میں ہونے والے صدراتی انتخابات میں کامیابی حاصل کرنے کے لئے کئے جاریئے ہیں اور پاکستان کو ٹشو پییر کی طرح استعمال کیا جارہا ہے۔ باجوڑ میں جاری فوجی آپریشن کی وجہ سے بے گناہ عوام کے قتل عام کے باعث ملک انتہاپسندی کی طرف جا رہا ہے موجود قبائلی علاقوں میں جاری آپریشنز پاکستا ن کے آئین آڑٹیکل چار کی مکمل خلاف ورزی ہے کیونکہ جب ایک شہر ی مرتا تو اس کی مرنے کی ذمہ داری حکومت پر عائد ہوتی ہے جبکہ یہاں ہزاروں افراد کو بے گناہ مارا رجا رہا ہے اقوام متحدہ میں امریکی سفیر زلمے خلیل زاد کے دوست پاکستان کے دوست نہیں ہوسکتے پہلے عوام گو مشرف گو کے نعرے لگاتے تھے اب یہ عوام گو زرداری گو کے نعرے لگانے پر مجبور ہو جائیں گے ا ٹھارہ فروری کے انتخابات کے بعد صر ف شکلیں بدلی ہے پالیسوں میں کوئی تبدیلی نہیں آئی حکومت کو جب عوامی مدد حاصل نہ ہو ملک میں انتہا پسندی ختم نہیں کی جاسکتی آج عوامی نمائندے عوام کا سودا کررہے ہیں ۔ جبکہ سابق اٹارنی جنرل جسٹس(ر) ملک محمد قیوم نے کہا کہ تین نومبر کا اقدام اس خدشے کے پیش نظر کیاگیا کہ پرویز مشرف کو انصاف نہیں مل سکے گا او ریہ انتہائی اقدام تھا تاہم میں اس کاحصہ نہیں تھا چیف جسٹس افتخار چوہدری کے خلاف بھیجے گئے ریفرنس کے میں خلاف تھا اگر مجھ سے ایڈوائس لی جاتی تو میں ایسا ہر گز نہیں کرنے دیتا اس کی تیاری میں کچھ پردہ نشین بھی شامل تھے ۔ معزول ججوں کی بحالی کے لیے حکومت نے جو عمل شروع کر رکھا ہے وہ ان جج صاحبان کی تضحیک اور تمسخر اڑانے کے مترادف ہے حکومت عوام کے سامنے معزول ججوں کو بحال کرنے میں ناکامی کا اعتراف کرے۔ ایک امریکی نشریاتی ادارے اور ایک نجی ٹی وی انٹرویو میں انہوں نے کہا ہے کہ سپریم کورٹ آئین کے تابع ہے وہ کسی آرٹیکل پر عملدر آمد سے کسی کو نہیں روکتی سابق صدر مشرف نے کہاتھا کہ سپریم کے فیصلے کو سب قبول کریں اور آگے بات کریں پرویز مشرف نے کہاکہ میں نے یہ فیصلہ خوشدلی سے قبول کیا ہے ملک قیوم نے کہاکہ میں تین نومبر کے اقدام کا حصہ نہیں تھا مگر دوسرے دن صبح بتایا گیا ملک قیوم نے کہاکہ میں نے کہہ دیا تھا کہ اس قدر زیادہ تعداد میں جو ججز نکالے جارہے ہیں یہ غلط ہے میرا خیال تھا کہ جن ججز پر اعتراض ہے ان کے علاوہ باقی ججز کو کیوں نکالا جارہا ہے انہوں نے کہاکہ تین نومبر کا پرویز مشرف کا اقدام انتہائی غلط تھا پرویز مشرف سمجھتے تھے کہ سپریم کورٹ اپنی آئینی حد کو کراس کر رہی ہے سابق اٹارنی جنرل نے کہاکہ تین نومبر کے اقدام کے بعد مجھے بتایا گیا اور کاغذات دکھائے گئے میں نے نہ لکھے نہ مجھے اس سے پہلے علم تھا پرویز مشرف اور ان کے رفقاءکہتے تھے کہ ہم نے یہ راستہ اختیار کرنا ہے اور وہ انہوں نے کہاکہ سابق صدر پرویز مشرف اور ان کے رفقاء یہ سمجھتے تھے کہ سابق صدر کو انصاف نہیں مل سکے گا اور اس خطرے کے پیش نظر انہوں نے تین نومبر کا اقدام کیا ایک سوال پر ملک قیوم نے کہاکہ جب چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری بحال ہو گئے تو میں نے ان کے ساتھ تعلقات بحال کرنے کی بڑی کوشش کی میں نے ان سے ملنے کیلئے تین دفعہ پیغام بھیجا میں نے چیف جسٹس کے سیکرٹری سے بھی کہا مگر ہر بار انہوں نے یہی کہہ کر ٹرخا دیا کہ آپ کو چیف جسٹس سے ملوائیں گے مگر ایسا نہ ہوا تا ہم مجھے یہ معلوم ہے سابق صدر پرویز مشرف کے ایک دو رفقاء کار کا چیف جسٹس سے رابطہ تھا ایک تو حامد جاوید تھے جنہوں نے مجھے بتایا کہ وہ چیف جسٹس سے ایک دو مرتبہ ملے ہیں سابق صدر نے بھی اس خواہش کا اظہار کیا کہ چیف جسٹس سے اچھے تعلقات ضروری ہیں مگر میں نے پرویز مشرف سے کہاکہ وہ مجھے ملتے ہی نہیں ہیں تو میں کیا کروں ایک سوال پر ملک قیوم نے کہاکہ پیپلز پارٹی کو میری تعیناتی پر شاید اس لئے تحفظات تھے کہ میں نے بے نظیر بھٹو اور آصف علی زرداری کے خلاف فیصلہ دیا تھا ملک قیوم نے کہاکہ ریفرنس کی تیاری میں جو لوگ شامل تھے میں ان کے نام ظاہر نہیں کر سکتا کیونکہ اس میں کچھ پردہ نشینوں کے نام بھی شامل ہیں تاہم شوکت عزیز وزیراعظم تھے ان کی ایڈوائس کے بغیر ریفرنس ہو ہی نہیں سکتا تھا اور ان کی ایڈوائس پر ہی ریفرنس بھیجا گیا انہوں نے کہاکہ ججز کو بغیر کسی وجہ کے ریفرنس بھیجا اچھی بات نہیں چیف جسٹس کے خلاف بھیجا جانے والے ریفرنس میں باقی تمام باتیں فضول تھیں مگر ان کے بیٹے کے بارے میں باتیں کچھ درست نہیں انہوں نے کہاکہ ایسی باتیں گھڑنے والوں کے خلاف بھی ریفرنس ہونا چاہیے تھا اگر نہیں ہوا تو یہ حکومت کی کوتاہی تھی تاہم بعض دفعہ ایسا ہوتا ہے کہ آدمی کو پتہ بھی نہیں ہوتا اور اس کے بیٹے کو مراعات مل جاتی ہیں متعلقہ حکام خود ہی خوش کرنے کیلئے دے دیتے ہیں یہ اعتراضات سچ تھے یا غلط ہے جوڈیشری کونسل ہی بتا سکتی ہے مگر وہ اس میں جاہی نہیں سکی اگر میں اس وقت موجود ہوتا تو یہ ایڈوائس کرتا کہ یہ ریفرنس نہ بھیجا جائے لا پتہ افراد کے بارے میں سوال پر سابق اٹارنی جنرل نے کہاکہ ان کے بارے میں بھی اتنا ہی متفکر تھا جتنے عام لوگ تھے اوراس کیلئے میں چار پانچ دفعہ سپریم کورٹ میں پیش بھی ہوا میں نے کافی کوشش کی اور بہت سے لوگ رہا کروائے اور لا پتہ افراد کی تعداد جیسے جیسے مقدمہ آگے بڑھتا گیا کم ہوتی گئی ہے لاپتہ افراد کے بارے میں چیف جسٹس بہت متفکر تھے پاکستان کے شہری کایہ تو علم ہونا چاہیے کہ وہ کیاہے تمام ایجنسیوں اور پولیس اہلکاروں سے کہاگیاکہ لا پتہ افراد جہاں کہیں ہیں ان کے بارے میں بتایا جائے جتنے لا پتہ افراد کا علم ہوا وہ ہم نے رہا کروائے جن کا پتہ نہ چلا اس میں ہمارا کوئی قصور نہ تھا یہ درست ہے کہ افراد کا جان و مال کی حفاظت کرنا ریاست کی ذمہ داری ہوتی ہے یہ اس کااولین فرض ہے مجھے بہت سی باتوں میں اعتماد میں نہ لیا گیا میں صدارتی عمل میں بہت کم جاناتھا میرا کام عدالت میں تھا پرویز مشرف کے مشیر اور تھے جو ان کو مشورے دیتے تھے میں تو ان کا عدالت میں وکیل تھا انہوں نے کہاکہ چیف جسٹس افتخار چوہدری نے اپنے اختیارات کا ناجائز استعمال کیا اور بہت سے وکیلوں کے لائیسنس منسوخ کر دئیے پرویز مشرف جس پارٹی کی حمایت کر رہے تھے وہ شکست کھا گئی ایک سوال پر ملک قیوم نے کہاکہ میں از خود نوٹس کے حق میں ہوں مگر اگر حد میں رہ کر کیا جائے انہوں نے کہاکہ میں بی اے کی ڈگری کی حمایت میں نہ تھا انہوں نے کہاکہ سپریم کورٹ پی سی او ہو یا بغیر پی سی او وہ سپریم کورٹ ہی ہوتی ہے ایک سوال پر انہوں نے کہاکہ ججز بحال نہیں ہوئے بلکہ ان کا تقرر کیا گیاہے۔وآئس آف امریکہ سے خصوصی انٹرویو میں انھوں نے حکومت سے کہا ہے کہ حکومت اس مہم کو فوری طور پر روک کر عوام کے سامنے معزول ججو ں کو دو نومبر والی پوزیشن پر بحال کرنے میں ناکامی کا اعتراف کر لے۔ انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی کی حکومت کی پالیسیوں کی وجہ سے وکلائ[L:4 R:4] تحریک تقسیم ہونے کے بعد اپنی حمایت کھو چکی ہے اس لیے معزول چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی بحالی اب مشکل ہو گئی ہے۔سابق اٹارنی جنرل ملک قیوم نے کہا کہ مجھے تو یہ لگتا ہے کہ حکومت کا معزول ججوں کو بحال کرنے کا کوئی ارادہ نہیں ہے ۔ چیف جسٹس آف پاکستان ایک ہی پوسٹ ہوتی ہے اور اس پر قبضہ ہو چکا ہے اس لیے ان کا واپس آنا تو بہت مشکل ہے اگر آتے ہیں تو ایک آئینی ترمیم کے ذریعے آسکتے ہیں جس میں تین نومبر کے اقدام کو ختم کیا جائے تو پھر و ہ بحال ہوتے ہیں ورنہ تو بہت مشکل ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ مجھے علم ہے کہ کم از کم یہ حکومت نہیں چاہتی کہ چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری واپس آئیں۔ملک قیوم نے کہا کہ جب وکلاءکی تحریک زوروں پر تھی تو پیپلز پارٹی اس میں شامل تھی اور اب جب ان کی حکومت ہے تو ان کے بیان آپ پڑھ ہی رہے ہیں۔ وہ کہتے ہیں آ ہی نہیں سکتے، آ ہی نہیں سکتے اور کسی چیف جسٹس کو کہنا کہ آپ جج بن کر آجائیں تو یہ تو مذاق کی بات ہے۔یہ بات درست نہیں ہے۔ آئین میں چیف جسٹس کا عہدہ علیحدہ ہے اور جج کا عہدہ علیحدہ ہے ۔ انہوں نے کہا کہ میرا تو یہی خیال ہے کہ اب تو وکلاءکی بھی دلچسپی نہیں ہے اور جو حمایت حکومتی سظح پر تھی اور جو تھی وہ بھی کوئی نہیں رہی ۔ صرف میاں نواز شریف ہیں ان کی پارٹی اس موقف پر ابھی بھی قائم ہے۔ باقی سب لوگ اپنے موقف سے ہٹ گئے ہوئے ہیں۔ وکلاءجو ہیں ان میں بھی چند بندے رہ گئے ہیں اور ان میں کئی دونوں طرف ملے ہوئے ہیں۔ تو بات ادھر سے بھی اب مشکل ہی بنتی نظر آتی ہے۔انہوں نے کہا کہ وکلاءتحریک ناکام ہوئی ہے کیونکہ عدلیہ کی بحالی ہوتی نظر نہیں آتی جو جج کچھ واپس آئے ہیں ان کی بھی نئے سرے سے تقرر ی ہوئی ہے اور وہ تو اس زمانے میں بھی ان کو کہا جار ہا تھا کہ آپ نیا حلف لے لیں جب پرویز مشرف صاحب صدر تھے۔ ان کو کہا جا رہا تھا نئی تقرری آپ کی کر دیتے ہیں اس وقت وہ مانے نہیں اب میرا خیال ہے بحالت مجبوری مان گئے ہیں۔جبکہ وزیرستان میں امریکی جارجیت کے پیش نظر جنوبی و شمالی وزیرستان ایجنسیوں کے عمائدین اور مشران نے اپنے ممکنہ ردعمل کے بارے میں مشاورت کے لئے رابطے تیز کر دیئے ۔ ذرائع کے مطابق امریکی دھمکیوں کے خلاف شمالی و جنوبی وزیرستان ایجنسی دونوں قبائلی علاقوں کے قبائلی یکجا اور متحد ہوگئے ہیں ۔ اس حوالے سے جنگی تیاریوں کی اطلاعات بھی ہیں ۔ جنوبی و شمالی وزیرستان ایجنسی میں بڑے مقامی قبائل میں وزیر ‘ محسود ‘ داوڑ ‘ سلیمان خیل شامل ہیں ۔ جن کی متعدد ذیلی شاخیں علاقے میں پھیلی ہوئی ہیں ۔ ان قبائل نے روس کے خلاف افغان جنگ میں بھی اہم کردار ادا کیا تھا ۔ امریکہ کی جانب سے قبائلی علاقوں میں کارروائی کی دھمکیوں پر ان قبائل میں شدید اشتعال پایا جاتا ہے ۔ ذرائع کے مطابق ممکنہ جارحیت کا سخت انداز میں جواب دینے کے لئے ان تمام قبائل کے قریبی رابطے ہیں ۔ اس ضمن میں علاقے کے مختلف مقامات کے دورے بھی کئے گئے ہیں جبکہ ان تمام بڑے قبائل کے مشران اور عمائدین کے درمیان مشاورت کا سلسلہ بھی جاری ہے ۔ ان قبائل کا سیکیورٹی فورسز سے بھی قریبی روابط بتایا گیا ہے ۔ مقامی آبادی کے تحفظ کے لئے ان مقامی قبائل کے منتخب نوجوانوں نے مختلف مقامات کا گشت بھی شروع کر دیا ہے ۔جبکہ پاکستان مسلم لیگ (ن) کے صدر و وزیر اعلیٰ پنجاب میاں محمد شہباز شریف نے کہا ہے کہ عوام کے تعاون سے کسی کو بھی جمہوریت پر شب خون مارنے نہیں دیں گے اور غیر جمہوری قوتوں کی طرف سے کی جانے والی تمام سازشوں کو دفن کر دیں گے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان مسلم لیگ (ن) کے قائد میاں محمد نوازشریف کی قیادت میں جمہوریت کا قافلہ اپنی منزل کی جانب رواں دواں رہے گا۔ انہوں نے کہا کہ اگر کوئی یہ سمجھتا ہے کہ سازشوں کے ذریعے جمہوری نظام کو تباہ کر سکتا ہے تو یہ اس کی بھول ہے۔ پاکستان کے 16 کروڑ عوام باشعور ہیں اور وہ جمہوریت کے خلاف سازشوں کا ڈٹ کر مقابلہ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تمام وسائل عوام کے ہیں اور انہیں عوام کے قدموں پر ہی نچھاور کیا جائے گا۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے ایوان وزیر اعلیٰ میں پاکستان مسلم لیگ (ن) کے عہدیداروں اور کارکنوں میں جمہوریت کی بحالی کیلئے گراں قدر خدمات سرانجام دینے پر تقسیم اسناد اور گولڈ میڈلز کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر ڈپٹی سپیکر پنجاب اسمبلی رانا مشہود‘ مشیر حکومت پنجاب پرویز رشید‘ اراکین قومی و صوبائی اسمبلی ‘ مسلم لیگی عہدیداروں اور کارکنوں کی بڑی تعداد تقریب میں موجود تھی۔وزیر اعلیٰ نے کہا کہ سابقہ حکمرانوں نے عوام کی خدمت اور صوبے میں دودھ اور شہد کی نہریں بہانے کے بلند و بانگ دعوئے کئے لیکن عملی طور پر سوائے اپنے محلات اور گاڑیاں خریدنے کے علاوہ کچھ نہ کیا۔ انہوں نے قومی وسائل جس بے دردی سے لوٹے اس کی وجہ سے تمام ادارے آج تباہی کا منظر پیش کر رہے ہیں اور عوام غربت‘ بے روزگاری‘ مہنگائی جیسے مسائل سے دوچار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اب یہ ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم نے ملک کو اندھیروں سے نکال کر روشنیوں کی طرف لانا ہے اور عوام کی مایوسیوں کو خوشیوں میں بدلنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب تک اللہ تعالیٰ نے ہمیں طاقت دی ہے ہم قائد پاکستان مسلم لیگ میاں نواز شریف کی قیادت میں عوام کی خدمت کے لئے دن رات کام کرتے رہیں گے۔ انہوں نے کہا کہ اگر ہم لوگوں کو روزگار‘ تعلیم‘ صحت‘ بنیادی ضروریات اور انصاف فراہم کریں گے تو یقینا پاکستان مضبوط اور مستحکم ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ ماضی کے حکمرانوں کو اس بات کا بخوبی علم تھا کہ عوام کو اشیائے ضروریہ کس طرح سستے داموں فراہم کی جا سکتی ہیں لیکن انہیں اپنی جیبیں بھرنے اور اپنے لئے گاڑیاں خریدنے اور آرام دہ محلات تعمیر کرنے سے فرصت ہی نہیں ملتی تھی۔ انہوں نے کہا کہ قائد اعظم نے جس پاکستان کا خواب دیکھا تھا اور جس کے لئے ہمارے آباو¿ اجداد نے لازوال قربانیاں دی تھیں وہ یہ پاکستان نہیں ہے۔ لوگوں کو تعلیم‘ صحت‘ انصاف اور بنیادی ضروریات میسر نہیں ہیں۔ تھانوں میں ظلم و زیادتی عام ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اگر ہم نے اس ملک کو بچانا ہے تو اپنی عوام کو انصاف فراہم کرنا ہو گا۔وزیر اعلیٰ پنجاب نے کہا کہ گذشتہ آٹھ سالوں میں مسائل کے جو انبار لگ چکے ہیں‘ ہمیں مل جل کر عوام کو ان سے نجات دلانا ہو گی۔ انہوں نے کہا کہ میں وزرائ‘ اراکین اسمبلی اور اپنی ٹیم کے ساتھ عوام کے مسائل کے حل کے لئے سخت جدوجہد کر رہا ہوں اور ہم انشاءاللہ‘ اللہ کے فضل و کرم سے اپنی منزل ضرور حاصل کر لیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ہماری کوششوں سے آج صوبے بھر میں 20 کلو آٹے کا تھیلا 300 روپے میں مل رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب میں نے رمضان المبارک میں آٹا سستا کرنے کا منصوبہ بنایا تو مجھے بتایا گیا کہ آپ کا یہ منصوبہ عوام کا استحصال کرنے والے مافیا کی نظر ہو جائے گا اور آٹا سرحد پار چلا جائے گا۔ تو میں نے کہا کہ اگر میں رمضان میں لوگوں کو آٹا سستا نہیں دے سکتا تو مجھے اقتدار میں رہنے کا بھی کوئی حق نہیں۔ انہوں نے کہا کہ رمضان کی آمد پر استحصالی قوتوں نے کچھ سازشییں کیں لیکن ہم نے منافع خوروں کو نکیل ڈال دی۔ انہوں نے کہا کہ جب تک میں اس صوبے کا خادم اعلیٰ ہوں میری جان تو جا سکتی ہے لیکن عوام کے حق پر کسی کو ڈاکہ نہیں ڈالنے دوں گا۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے آٹا سستا کیا لیکن روٹی بدستور مہنگی فروخت ہوتی رہی لیکن میری توجہ دلانے پر روٹی کی قیمتیں کم کرنے پر افسران نے فوری اقدامات کئے اور آئندہ دو تین دن میں صوبے کے تمام شہروں میں روٹی 2 روپے میں میسر ہو گی۔ انہوں نے کہا کہ ہم عوام کو تعلیم‘ صحت‘ پینے کے صاف پانی اور دیگر بنیادی ضروریات ان کی دہلیز پر پہنچا رہے ہیں۔وزیر اعلیٰ نے کہا کہ پارٹی کارکن ہماری طاقت اور اثاثہ ہیں اور ان کی تجاویز اور آراءکو مکمل اہمیت دی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ 12 اکتوبر 1999ء کو جب ایک آمر نے جمہوریت پر شب خون مارا‘ منتخب حکومت کو ختم کیا اور پورے پاکستان میں آمریت کے اندھیرے چھا گئے تو جو مسلم لیگی کارکن اس وقت ڈٹ گئے اور آمر کے ظلم و ستم کے سامنے سر نہ جھکایا وہ سونے اور چاندی میں تولنے کے برابر ہیں اور میں انہیں سلام پیش کرتا ہوں۔ انہوں نے کہا کہ ان کارکنوں نے ہی اندھیروں اور طوفانوں میں چراغ بجھنے نہیں دیا۔ اس لئے ایسے کارکنوں کی قربانیوں کو کبھی فراموش نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے کہا کہ صوبہ بھر میں ایسی تقریبات منعقد کر کے قید و بند کی صعوبتیں برداشت کرنے والے کارکنوں کو گولڈ میڈل اور اسناد دی جائیں گی۔ انہوں نے کہا کہ مشرف کے دور میں ہمارے خلاف سازشیں ہوئیں اور عدلیہ کی طرف سے مقدمات بنے لیکن میرے قائد اور میری پارٹی کے کارکنوں کو کسی کا خوف نہیں‘ ہم صرف خدا کے آگے سر جھکاتے ہیں بندوں کے سامنے نہیں۔اے پی ایس
No comments:
Post a Comment