


تحریر: چو دھری احسن پر یمی اے پی ایس
آصف علی زرداری کو صدر منتخب ہونے کے بعد ملک کو درپیش چیلنجز سے نمٹنا ہو گا ۔ اس وقت ملک کو بڑے چیلنجز درپیش ہیں جن میں امن و امان کی صورت حال پاکستانی حدود کے اندر امریکی حملے اور ان حملوں کے نتیجے میں معصوم اور بے گناہ شہریوں کی ہلاکتیں ہیں اس کے علاوہ ملک کو معاشی بحرانوں کا سامنا ہے جن میں بے روزگاری ‘ غربت مہنگائی شامل ہے اب آصف علی زرداری کا جو امتحان شروع ہوا ہے اس میں دیکھنا ہے کہ وہ ان بحرانوں سے کس طرح نمٹتے ہیں ۔ ابھی آصف علی زرداری نے حلف اٹھایا ہے ایک دو ماہ کے اندر پتہ چل جائے گا کہ وہ صوبوں کو متحد رکھنے کے لئے کس حد تک کامیاب ہوتے سب سے بڑا مسئلہ غربت اور پاکستان کی آزادی کا ہے اور اس سے نمٹنے کے لئے جرات امانت و دیانت کی ضرورت ہے اگر آصف علی زرداری نے جرات کا مظاہرہ کیا اور امانت و دیانت کو اپنایا تو ان تمام بحرانوں کو حل کر سکیں گے ۔ اگرچہ حلف بر داری کا دن جمہوریت کی فتح کا دن تھا اور ساڑھے 8 سال کے دوران قوم کی قربانیوں کا نتیجہ تھا کہ ملک میں پارلیمان مکمل اور نظام کی فتح ہوئی ہے پوری قوم نے گزشتہ ساڑھے 8سال کے دوران جو قربانیاںدیں اس کا ثمرملا ہے ۔ آمریت سے نجات ملی عوام کی اس امید پہ توقع ہے آصف علی زرداری کے صدر بننے سے ادارے مستحکم ہوں گے اور جمہوریت کو فروغ ملے گا پاکستان کو اس وقت معاشی ، سیاسی بڑے چیلنجز کا سامنا ہے اور آمرانہ دور میں آئین میں ہونے والے ترامیم کو ختم کرنا بھی ا یک چیلنج ہے نئے صدر کو میثاق جمہوریت پر عمل درآمد کرنا ہو گا اور تمام معزول ججوں کو بحال کرنا ہو گا۔ گذشتہ نو ستمبر کونو منتخب صدر آصف علی زرداری نے اپنے عہدے کا حلف اٹھا لیا ہے۔ چیف جسٹس آف پاکستان عبد الحمید ڈوگر نے نو منتخب صدر سے حلف لیا ۔ آصف علی زرداری ملک کے بارہویں اور طاقتور ترین سویلین صدر ہیں۔ نو منتخب صدر کی تقریب حلف برداری ایوان صدر کے دربار ہال میں منعقد ہوئی ۔ دن ایک بجکر چھبیس منٹ پر بگل بجا کر نو منتخب صدر کی آمد کا اعلان کیا گیا۔ نو منتخب صدر کی آمد پر دربار ہال جئے بھٹو زندہ ہے بی بی زندہ ہے کے نعروں سے گونج اٹھا۔ تلاوت کلام پاک کے بعد چیف جسٹس آف پاکستان عبد الحمید ڈوگر نے نو منتخب صدر آصف علی زرداری سے حلف لیا ۔ حلف کے بعد ایک بار پھر ایوان صدر جئے بھٹو ، زندہ ہے بی بی زندہ ہے کے نعروں سے گونج اٹھا ۔ حلف نامے پر دستخط کے بعد آئین کے مطابق آصف علی زرداری کے صدر بننے کا اعلان کیا گیا نو منتخب صدر کی تقریب حلف برداری قائم مقام صدر محمد میاں سومرو ، وزیر اعظم سید یوسف رضا گیلانی ، افغان صدر حامد کرزئی ، قائم مقام چےئرمین سینٹ سپیکر قومی اسمبلی ڈاکٹر فہمیدہ مرزا ، گورنرز ، وزراءاعلیٰ ، چیف آف آرمی سٹاف جنرل اشفاق پرویز کیانی ، تینوں مسلح افواج کے سربراہان ، پی پی پی کے چےئرمین بلاول بھٹو زرداری ، مختلف ممالک کے سفیروں ، وفاقی وزراء، سرکردہ ارکان پارلیمٹ ، عوامی نیشنل پارٹی کے سربراہ اسفندیار ولی خان ، پی پی پی پی کے چےئرمین مخدوم امین فہیم ، جے یو آئی ف کے امیر مولانا فضل الرحمان ، سینٹ میں قائد ایوان میاں رضا ربانی ، بے نظیر بھٹو کی ہمشیرہ صنم بھٹو ، نو منتخب صدر کی دونوں صاحب زادیوں بختاور زرداری ، آصفہ زرداری ، جے یو آئی س کے سربراہ سینیٹر مولانا سمیع الحق پاکستان مسلم لیگ ق کے فارورڈ بلاک کے رہنماوں ، فاٹا کے پارلیمانی لیڈر منیر خان اورکزئی ،ایم کیو ایم کے پارلیمانی لیڈر ڈاکٹر فاروق ستار ، پی پی پی شیر پاو¿ کے سربراہ آفتاب احمد خان شیر پاو¿ اور دیگر اعلیٰ سول و فوجی حکام نمایاں شخصیات ، سیاسی رہنماوں نے شرکت کی ۔ نو منتخب صدر آصف علی زرداری کی جانب سے اپنے منصب کا حلف اٹھانے کے بعد انہیں ایوان صدر نے گارڈ آف آنر پیش کیا گیا۔نو منتخب صدر آصف علی زرداری کے حلف کے حوالے سے دربار ہال میں سٹیج پر چار نشستیں رکھی گئیں تھیں جن پر نو منتخب صدر آصف علی زرداری وزیر اعظم سید یوسف رضا گیلانی ‘ چیف جسٹس آف پاکستان عبدالحمید ڈوگر اور قائم مقام صدر محمد میاں سومرو براجمان تھے۔ایوان صدر میں آصف علی زرداری کی تقریب حلف برداری میں افغان صدر آصف علی زرداری نے اپنے وفد کے ہمراہ شرکت کی ۔ وہ دربار ہال میں 1 بجکر 25 منٹ پر وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی اور مشیر داخلہ رحمان ملک کے ہمراہ تشریف لائے انہوں نے دربار ہال میں آنے کے بعد بلاول بھٹو زرداری ‘ آصف بھٹو زرداری اور بختاور بھٹو زرداری سے ملاقات کی ۔نو منتخب صدر آصف علی زرداری کی ایوان صدر کے دربار ہال میں صدارتی عہدے کے حلف کے لئے ایک بجکر 26 منٹ پر آمد ہوئی ۔ بگل بجا کر انکی آمد کا اعلان کیا گیا ۔ ایک بجکر 28 منٹ پر تقریب کا آغاز ہوا ۔ قومی ترانے اور تلاوت کلام پاک کے بعد ایک بجکر 34 منٹ پر نو منتخب صدر کا حلف شروع ہوا ۔ ایک بجکر 37 منٹ پر مکمل ہوا ۔ حلف کے بعد بھی جئے بھٹو زندہ ہے بی بی کے نعرے لگائے گئے ۔ ایک بجکر کر 41 منٹ پر تقریب کے اختتام کا اعلان کیا گیا ۔ نو منتخب صدر آصف علی زرداری نے شیروانی کے بغیر پینٹ کوٹ میں صدارت کا حلف اٹھایا نو منتخب صدر آصف علی زرداری نے ملک کے بارھویں صدر کا حلف اٹھایا تو اس موقع پر انہوں نے شیروانی کی بجائے پینٹ کوٹ پہن رکھا تھا ۔ اسی طرح انہوں نے حلف اٹھایا ۔ آصف زرداری سیاسی جماعتوں کی حمایت سے ملک کے ١٢ ویں صدر منتخب ہوئے ہیں۔اسکندر مرزا کو ان ہی کے لگائے گئے مارشل لاء کے بعد جنرل ایوب خان نے برطرف کیا اور١٩٦٩ ء میں اسکندر مرزا کی لندن میں وفات کے بعد حکومت نے پاکستان میں ان کی تدفین کی اجازت نہیں دی تھی۔ایوب خان کی فاطمہ جناح سے صدارتی انتخاب میں کامیابی کو تاریخ دان شفاف تسلیم نہیںکرتے جبکہ پاکستان کے چوتھے صدر ذوالفقارعلی بھٹو ایوب خان کی کابینہ میں وزیر خارجہ اور پھر ان کے خلاف عوامی تحریک کے بانیوں میں تھے۔فضل الہی چوہدری 1973 ء کے آئین کے تحت ذوالفقارعلی بھٹو کے بعد پاکستان کے وزیراعظم سے کم اختیارات رکھنے والے صدر بنے ۔جنرل ضیاء الحق نے ذوالفقارعلی بھٹو کی منتخب حکومت کاتختہ الٹ کر 1977 ء میں اقتدار سنبھالا ۔١٩٨٨ ء میں ضیاءالحق کے انتقال کے بعد غلام اسحاق خان نے صدر کا عہدہ سنھالا ، بے نظیر بھٹو اور نوازشریف کی حکومتیں برطرف کیں ۔وسیم سجاد 1993 ءمیں عبوری صدر بنے ، صدارتی انتخاب میں فاروق خان لغاری نے انہیں ہرایا ، 1997 ءمیں محمد رفیق تاڑ صدر بنے ،2001 ء میں جنرل پرویز مشرف نے ریفرنڈم کراکے صدر منتخب ہو گئے ۔نو منتخب صدر آصف علی زرداری ملک کے 12 ویں صدر ہیں ملک کی مختلف سیاسی جماعتوں کی حمایت سے وہ 6 ستمبر کے صدارتی انتخاب کے نتیجہ میں بھاری اکثریت سے صدر منتخب ہوئے ۔ اس سے قبل 11 صدور میں سکندر مرزا، فیلڈ مارشل لاء ایوب خان ، جنرل یحیی خان ، فضل الہی چوہدری ، ذوالفقارعلی بھٹو ، جنرل ضیاءالحق ، غلام اسحا ق خان ، وسیم سجاد ، سردار فاروق احمد خان لغاری ، محمد رفیق تارڑ اور جنرل پرویز مشرف شامل ہیں ۔ میجر جنرل صاحبزادہ سید اسکند مرزا پاکستان کے آخری گورنر جنرل ا ور ملک کے پہلے صدر تھے۔ قیام پاکستان کے وقت مسلم آفیسر ہونے کی وجہ سے وہ پہلے سیکرٹری دفاع ا ور آخری گورنر جنرل بنے ۔ اسکندر مرزا کو ان ہی کے لگائے گئے مارشل لاء کے بعد جنرل ایوب خان نے برطرف کیا ۔ 1969 ء میں لندن میں وفات کے بعد یحیی خان کی حکومت نے پاکستان میں ان کی تدفین کی اجازت نہیں دی ۔ اور شاہ ایران نے ان کے لیے سرکاری سطح پر آخری سومات کا اہتمام کیا ۔ اسکندر مرزا نے اپنے بچوں کو لکھے گئے ایک خط میںپاکستان کی فوج اور ایوب خان پر اعتبار کرنے کو اپنی بڑی غلطی قرار دیا ۔ پاکستان کے دوسرے صدر فیلڈ مارشل محمد ایوب خان صوبہ سرحد کے علاقے ہری پور میںپیدا ہوئے اور پاکستان کے پہلے فوجی حکمران بنے ۔ جنہوں نے اسکندر مرزا کو برطرف کرکے اقتدار سنبھالا 1960 ء میں ایک ریفرنڈم کرایا اور پھر 1964 ءکے صدارتی انتخاب میں تمام جماعتوں کی طرف سے فاطمہ جناح کی حمایت اوران کی عوامی مقبولیت کے باوجود ایوب خان نے ایک ایسے الیکشن میں کامیابی حاصل کی جسے تاریخ دان متفقہ طورپر شفاف تسلیم نہیں کرتے ان کے دور میں پاکستان اور بھارت کے درمیان 1965 ء کی جنگ 1969 ءمیں اپنے ہی آئین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے اقتدار عوامی نمائندوں کے بجائے اپنے وفادار جنرل یحیی خان کے حوالے کردیا ۔ 1974 ء میں پاکستان میں ہی ان کا انتقال ہوا ۔جنرل محمد یحیی خان چکوال میں پیدا ہوئے ۔ اور انہوں نے پاکستان کی تاریخ کے سب سے پیچیدہ اور کٹھن ترین دور میں ایک فوجی حکمران کے طور پر اقتدار سنبھالا ۔ 1969 ء میں ایک طرف جنرل ایوب خان کے گیارہ سالہ دور کے خلاف عوامی جذبات تھے اور دوسری طرف مشرقی پاکستان میں علیحدگی کی تحریک تھی انہوں نے بنگلہ دیش کے قیام کے بعد اقتدار مغربی پاکستان کی مقبول جماعت پیپلزپارٹی کے بانی سربراہ ذوالفقارعلی بھٹو کے حوالے کیا جنرل یحیی خان کا انتقال 1980 ء میںر اولپنڈی میں ہوا۔پاکستان کے چوتھے صدر ذوالفقارعلی بھٹو پہلے جنرل ایوب خان کی کابینہ میںو زیر خارجہ اور پھر ان کے خلاف عوامی تحریک کے بانیوں میں تھے اور بنگلہ دیش کے قیام کے بعد ملک کے صدر اور سویلین مارشل لا ء ایڈمنسٹریٹر بنے ۔ لاڑکانہ کے بھٹو نے 1971 ء کی جنگ کے بعد پاکستان کو نیا ملک بنانے اور جمہوریت کی بحالی کا وعدہ کرکے اقتدار سنبھالا اور دو سال میں نئے آئین کی منظوری کے بعد ملک کے پہلے منتخب وزیراعظم کا اعزاز حاصل کیا ۔ فضل الہی چوہدری 1973 ء کے آئین کے تحت ذوالفقارعلی بھٹو کے بعد پاکستان کے وہ پہلے صدر بنے ۔ جن کے پاس وزیراعظم سے کم اختیارات تھے ۔ کھاریاں کے چوہدری ، قومی اسمبلی کے سپیکر بھی رہ چکے تھے۔ اور پارلیمانی سیاست میں وسیع تجربہ رکھتے تھے وہ 1978 ء تک ملک کے صدر رہے اور جنرل ضیاء الحق کی طرف سے اقتدار پر قبضے کے بعد مستعفی ہو گئے ۔جنرل محمد ضیا ء الحق نے ذوالفقارعلی بھٹو کی منتخب حکومت کا تختہ الٹ کر 1977 ء میں اقتدار پر قبضہ کیا اور ملک کے تیسرے فوجی حکمران بنے شروع میںمارشل لاء ایڈمنسٹریٹر رہے اور پھر صدر بن گئے انہوں نے بھی ریفرنڈم کرایا اور غیر جماعتی انتخابات بھی کرائے ۔ ان ہی کے دور میں پاکستان سردجنگ میں امریکہ کا بڑا حلیف بنا ۔ جنرل ضیاءالحق کا انتقال 1988 ء میں ان کا جہاز فضا میں تباہ ہونے سے ہوا ۔محمد غلام اسحاق خان 1985 ء میں سینٹ کے رکن منتخب ہوئے اور پھر سینٹ کے چیئر مین بنے ۔ 1988 ءمیں جنرل ضیاء الحق کے انتقال کے بعد آئین کے مطابق صدر کا عہدہ سنبھالا ۔ اور پھر اس عہدے پر باقاعدہ صدر منتخب ہوئے ۔ اختیارات کا دو بار استعمال کرتے ہوئے بے نظیر بھٹو اور میاں نواز شریف کی حکومت برطرف کی ۔ لیکن دوسری بار حکومت کی برطرفی کے نتیجہ میں پیداہونے والے بحران کے بعد انہین استعفی دینا پڑا۔وسیم سجاد 1980 ء کی دہائی میں سیاست میں آئے اور پہلے سینٹ کے رکن اور پھر 1988 ء میں چےئرمین بنے ۔ 1993 ءمیں غلام اسحاق خان کے استعفے کے بعد عبوری طور پر صدر بنے ۔ انہوں نے صدر کے باقاعدہ الیکشن میں بھی حصہ لیا۔ لیکن فاروق لغاری نے انہیں ہرا دیا وہ 1997 ء میں محمد رفیق تارڑ کے انتخاب سے پہلے ایک بار پھر عبوری صدر بنے ۔ سردار فاروق احمد خان لغاری پیپلز پارٹی کی بھرپور حمایت کے ساتھ 1993 ء میں صدر بنے لیکن ڈیرہ غازی خان کے لغاری نے 1996 ء میں اپنی ہی پارٹی کی حکومت کو 8 ویں ترمیم استعمال کرتے ہوئے کرپشن کے الزامات میں برطرف کر دیا۔ 1997 ئ کے نئے انتخابات میں میاں نواز شریف کی جماعت بھرپور اکثریت کے ساتھ کامیاب ہوئی۔ اس حکومت نے اسمبلی تحلیل کرنے کے صدارتی اختیارات کو ختم کرنے کی کوشش کی جس پر ایک آئینی بحران پیدا ہوا اور صدر لغاری اور اس وقت کے چیف جسٹس سجاد علی شاہ کو مستعفی ہونا پڑا۔محمد رفیق تارڑ 1997 ء میں سپریم کورٹ کے جج کے طور پر ریٹائر ہونے کے بعد پاکستان مسلم لیگ ( ن ) کے ٹکٹ پر سینٹ کے رکن منتخب ہوئے اور پھر اس سال ملک کے صدر بنے ۔ ان کے دور میں صدر کے اختیارات کو بتدریج کم کیاگیا اور بالآخر 13 ویں ترمیم کے ذریعے صدر کے اختیارات میں آئین کی روح کے مطابق مکمل طور پر کمی کر دی گئی۔ 1999 ء میں جنرل پرویز مشرف کی طرف سے میاں نواز شریف کی حکومت کی برطرفی کے بعد انہیں عہدے سے نہیں ہٹایا گیا اور 2001 ء تک صدر رہے جنرل پرویز مشرف 1999 ء میں نواز شریف کی منتخب حکومت کو برطرف کر کے اقتدار پر قابض ہوئے ۔ شروع میں چیف ایگزیکٹو رہے اور پھر صدر بن گئے انہوں نے بھی ریفرنڈم کرایا اور انتخابات بھی لیکن اس عمل کی غیر جانبداری پر سنجیدہ حلقوں میں سوال اٹھائے گئے ۔ ان کے دور میں پاکستان دہشت گردی کے خلاف جنگ میں امریکا کا حلیف بنا ۔ بے نظیر بھٹو کی موت اور 2008 ء کے انتخابات میں پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن کی کامیابی کے بعد ان پر استعفی کا دباو¿ بڑھا۔ انہوں نے شروع میں مستعفی ہونے سے انکار کیا لیکن تمام جماعتوں کی طرف سے ان کے مواخذے کی دھمکی کے بعد وہ اگست 2008 ء میں مستعفی ہوئے پی پی پی کے شریک چےئرمین آصف علی زرداری 6 ستمبر 2008 ءکے صدارتی انتخاب کے نتیجے میں صدر منتخب ہوئے اور 9 ستمبر 2008 بدھ کو صدارتی عہدے کا حلف اٹھایا۔پاکستان اور افغانستان نے اس بات پر اتفاق کیاہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ عوام کی حمایت کے بغیر نہیں جیتی جا سکتی دونوں ممالک نے اس جنگ میں معصوم اور بے گناہ ہلاکتوں پر افسوس کا اظہار کیا ہے اور دونوں ممالک میں خوشحالی ، امن ، ترقی کیلئے مشترکہ جدوجہد کے عزم کا اعادہ کیا ہے ۔ دونوں ممالک نے ایک دوسرے کے مسائل کو اپنے مسائل قرار دیا ہے اور تعلقات کے فروغ ، باہمی تعاون کو مزید مضبوط بنانے پر اتفاق کیاہے اس امر کا اظہار نو منتخب صدرآصف علی زرداری اورافغان صدر حامد کرزئی نے ایوان صدر میں مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔افغان صدر نے اپنے پاکستانی ہم منصب کی تقریب حلف برادری میں شرکت کیلئے پاکستان کا دورہ کیادونوں ممالک کے وفود کے بعد دونوں ممالک کے صدور کے درمیان ون آن ون ملاقات ہوئی جس میں دو طرفہ تعلقات علاقائی صورتحال دہشت گردی کے خلاف جنگ ،پاکستان کے قبائلی علاقوں پر بیرونی حملوں ، فاٹا کے حالات پر گفتگو ہوئی دونوں ممالک کے صدور نے ملاقات کے دوران پائی جانے والی غلط فہمیوں کو بھی دور کرنے کی کوشش کی پریس کانفرنس میں دونوں صدور نے بات چیت کو مثبت اور مفید قرار دیا ملاقات انتہائی خوش گوار ماحول میں ہوئی ۔ دونوں ممالک نے خطے میں دہشت گردی کے خاتمے ،امن واستحکام کیلئے مشترکہ جدوجہد پر بھی اتفاق کیاہے دونوں ممالک نے قرار دیا ہے کہ دہشت گردی اور انتہا پسندی کا خاتمہ نہ صرف پاکستان بلکہ خطے کے بہترین مفاد میں ہے دونوں ممالک نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ خطے کو دہشت گردی سے پاک کرنے کیلئے پاکستان اور افغانستان کی مدد کریں ۔ افغان صدر نے پاکستان کے صدر کی تقریب حلف برداری کی تقریب میں شرکت کی دعوت پر پاکستان اوراس کے عوام کا شکریہ ادا کیا اور پاکستان کے نئے صدر کیلئے نیک خواہشات کا اظہار کیا انہوں نے کہاکہ آج تاریخی اور خصوصی دن ہے کہ پاکستان اور افغانستان کے تعلقات نئی جہت حاصل ہو گی دونوں ممالک کے ایشوز مسائل مشترکہ ہیں توقع ہے پاکستان میں نئے جمہوری دور کے آغاز سے افغانستان کے ساتھ تعلقات مزید مستحکم ہوں گے ۔انہوں نے کہاکہ افغانستان نے دہشت گردی کے خلاف جنگ امن کے قیام ، استحکام کیلئے متعدد اقدامات کئے ہیں میں پاکستان کے عوام کیلئے بھائی چارے کا پیغام لے کر آیا ہوں ہم نے اپنی نوجوان نسل کے روشن مستقبل اور خوشیوں کیلئے کام کرنا ہے افغان حکومت دہشت گردی کے خاتمے کے حوالے سے پاکستان سے بھرپور تعاون کرے گی پاکستان کے نئے صدر دہشت گردی کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کے بارے میں واضح موقف رکھتے ہیں صدر آصف علی زرداری نے کہا کہ پاکستان اور افغانستان قدیم دوست ہیں۔ دونوں ملک عوام کی بہتری کیلئے ایک دوسرے کے خلاف نہیں بلکہ ایک دوسرے کے ساتھ کھڑے ہوں گے پاکستان کے صدر نے کہاکہ یہ پیغام نہ صرف پاکستان بلکہ تمام ہمسایہ ممالک کیلئے ہے انہوںنے کہاکہ ماضی میں دونوں ممالک کو مسائل کا سامنارہا ہے اورمستقبل میں ایسا ہو سکتا ہے لیکن ہم باہمی تعاون کے جذبے سے ان مسائل کو حل کرنے کی اہلیت رکھتے ہیں پاکستان پڑوسی ممالک ، بالخصوص افغانستان کے ساتھ تعلقات کو اہمیت دیتاہے انہوں نے کہاکہ دہشت گردی کے خاتمے کیلئے ہم نے بیش بہا قربانیاں دی ہیں ایشوز پر توجہ دیتے ہوئے انہیں مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کی ضرورت ہے آصف علی زرداری نے کہاکہ وہ بے نظیر بھٹو شہید کے نام پر ایوان صدر میں بیٹھے ہیں۔ایک سوال کے جواب میں آصف علی زرداری نے کہاکہ وہ موجودہ حکومت کو مشورہ دیتے ہیں کہ وہ مہنگائی کے خاتمے کیلئے اشیائے ضروریہ کی طلب و رسد کے نظام کو بہتر بنائیں انہوںنے عوام کو یقین دلایاکہ اس حوالے سے ملک میں کارٹیل نہیں بننے دیں گے ایک سوال کے جواب میں حامد کرزئی نے کہاکہ ملاقات میں دہشت گردی کے خلاف جنگ اور پاکستان کے قبائلی علاقوں میں حالیہ حملوں سے متعلق امور پر بھی تبادلہ خیال ہوا دونوں ممالک نے اس حوالے سے مثبت جذبات اور احساسات کا اظہار کیا ہے ان مسائل سے نمٹ کر ہی امن و خوشحالی ، ترقی ممکن ہو گی۔آصف علی زرداری نے کہاکہ پاکستان نے دہشت گردی اور انتہا پسندی سے نمٹنے کیلئے جامع پلان بنایا ہے دہشت گردی کے خلاف جنگ ہمارے عوام کے تحفظ کی جنگ ہے صدر پاکستان خود دہشت گردی کا نشانہ بن چکا ہے۔ایک سوال کے جواب میں آصف علی زرداری نے کہاکہ مسئلہ کشمیر کے حوالے سے نواز شریف نے بھی مذاکرات شروع کئے تھے پاکستان پیپلز پارٹی کی حکومت بھی اسے جاری رکھنا چاہتی ہے مسئلہ کشمیر کے بارے پارلیمنٹ کے اندر اور باہر تمام سیاسی قوتوں کو اعتماد میں لیں گے مسئلہ کشمیر کے بارے میں پارلیمنٹ پالیسی وضح کرے گا جلد ہی کشمیر کمیٹی بن جائے گی اس مسئلے کے حوالے سے بیک ڈور چینل سے بھی بات چیت ہورہی ہے انہوں نے کہاکہ عوام کو مسئلہ کشمیر کے حوالے سے ایک ماہ کے اندر اچھی خبر سننے کو ملے گی ۔ایک سوال کے جواب میں حامد کرزئی نے کہاکہ دہشت گردی کا خاتمہ اور عوام کا تحفظ دونوں ممالک کا مشترکہ مسئلہ ہے ایک سوال کے جواب میں آصف علی زرداری نے کہا کہ پاکستان کے قبائلی علاقوں پر اتحادی افواج کے حملوں کا شدید احتجاج کیا ہے امریکی سفیر کو دفتر خارجہ طلب کیا گیا اور انہیں آگاہ کیا گیا کہ معصوم لوگ مارے گئے ہیں صدر آصف علی زر داری نے کہا کہ وہ خود بھی اس پر احتجاج کریں گے۔انہوں نے کہاکہ ہم خود دہشت گردی کا شکار رہے ہیں ایک سوال کے جواب میں افغان صدر نے افغان مہاجرین کی میزبانی پر حکومت پاکستان کا شکریہ ادا کیا اور بے نظیر بھٹو کو دنیا کی عظیم رہنما قرار دیا انہوں نے کہاکہ وہ صر ف پاکستان نہیں بلکہ دنیا بھر کی ایک عظیم خاتون رہنما تھیں ایک سوال کے جواب میں آصف علی زرداری نے کہاکہ دہشت گردی کے ایشو کو پارلیمنٹ میں زیر بحث لایاجائے گا قومی مفاہمت کی پالیسی ہمیں شہید بے نظیر بھٹو سے ملی ہے ہم کسی کی ذات کے خلاف نہیں ہیں پرویز مشرف کی معافی کا فیصلہ پارلیمنٹ کرے گی ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہاکہ میری اپنی دلی تمنا اورخواہش یہی کہ پہلا سرکاری دورہ چین کا کروں گا ۔ ذوالفقار علی بھٹو ، پاک چین دوستی کی پالیسی کے بانی ہیں انہوںنے کہا کہ دفتر خارجہ ان کے دورہ چین کی تفصیلات طے کر رہا ہے ایک سوال کے جواب میں آصف علی زرداری نے کہاکہ مسئلہ کشمیر سمیت نواز شریف تمام قومی ایشوز میں ہمارے ساتھ ہوں گے معاشی اور اقتصادی صورتحال کو بہتر بنانا ہے ایک سوال کے جواب میں حامد کرزئی نے کہاکہ مسئلے کے مستقل حل کیلئے سیکیورٹی فورسز افغانستان میں موجود ہیں واحد حل اداروں کی تعمیرنو ہے ہمیں اپنے اداروں کے استحکام کے حوالے تمام ممالک سے تعاون چاہیے ۔ ایک سوال کے جواب میں آصف علی زرداری نے کہاکہ ایران ، پاکستان ، بھارت گیس پائپ لائن کے منصوبے کو پایہ تکمیل تک پہنچانے میں سنجیدہ ہیں ہمیں شدید توانائی کے بحران کا سامنا ہے انہوں نے کہاکہ بے نظیر بھٹو کی شہادت کی تحقیقات کیلئے پارلیمنٹ نے اقوام متحدہ سے مدد طلب کی ہے ہم ذاتی طور پر دہشت گردی کا نشانہ بنے ہیں اور دنیا اس سے آگاہ ہے اصف علی زرداری نے واضح کیا کہ پاکستان کے ایک ایک انچ کا تحفظ کریں گے ہم اپنا دفاع کر رہے ہیں ہمارے کوئی جارحانہ عزائم نہیں ہیں قبائلی علاقوں میں ہتھیار ڈالنے والوں سے بات چیت کریں گے انہوں نے کہاکہ اقوام متحدہ کے منشور کے تحت امریکی افواج افغانستان آئی ہیں اگر آپ اقوام متحدہ کو دہشت گرد سمجھتے ہیں تو یہ آپکی مرضی ہے ۔ ایک سوال کے جواب میں حامد کرزئی نے قبائلی علاقوں میں اتحادی افواج کے حملوں میں معصوم اور بے گناہ جانوں کے ضیائع پر افسوس کا اظہار کیا اور کہاکہ یہ انتہائی اہم مسئلہ ہے بدقسمتی سے دونوں ممالک میں پختون متاثر ہورہے ہیں۔انہوں نے کہاکہ دہشت گردی کے خلاف جنگ اپنے عوام کے ساتھ ہی جیتی جا سکتی ہے ایک سوال کے جواب میں نو منتخب صدر نے کہاکہ حکومت میڈیا کو سہولتوں کی فراہمی کیلئے کام کرتی رہے گی بالخصوص ورکنگ صحافیوں کی فلاح وبہبود کیلئے کام کیاجائے گاانہوں نے کہاکہ توقع ہے کہ آئندہ سال گندم کا بحران نہیں ہو گا کاشتکار کو اس کی محنت کا بہترین معاوضہ ملے گا ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہاکہ دہشت گردی کے خاتمے کے حوالے سے تو ہم اپنادفاع کر رہے ہیں شہید بے نظیر بھٹو اور ہمارے کارکنوں نے کسی کو تو شہید نہیں کیا البتہ وہ مرکر بھی زندہ ہیں اور یہ زندہ رہ کر بھی مرے ہوئے ہیں ۔صدر مملکت آصف علی زرداری صدارت کاعہدہ سنبھالنے کے بعد اپنی پہلی پریس کانفرنس میں اہم ترین سوالات کے جوابات ٹال گئے ۔ ان سے جب سوال کیا گیا کہ معزول چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری اور عدلیہ کو 2 نومبر 2007ءکی پوزیشن پر کیا بحال کیا جارہا ہے تو آصف علی زرداری نے اس سوال کا سرے سے کوئی جواب نہ دیا ۔ صدرمملکت کا عہدہ سنبھالنے کے بعد پارٹی کے شریک چیئرمین کا عہدہ سنبھالنے سے متعلق بھی انہوں نے کوئی واضح جواب نہیں دیا ۔ پاکستان میں امریکی دہشت گردی کو بھی انہوں نے یہ کہہ کر ٹال دیا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ اقوام متحدہ کے چارٹر کے تحت جاری ہے ۔صدر مملکت آصف علی زرداری نے بطور صدر پہلی پریس کانفرنس میں حکومت کا ہر بار ذکر پیپلز پارٹی کی حکومت کہہ کر کیا ۔ انہوں نے پوری پریس کانفرنس میں ایک بار بھی مخلوط حکومت کا نام نہیں لیا ۔پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین کی صدر کے عہدہ کیلئے حلف اٹھانے سے قبل قومی ترانہ سنایا گیا تو اس دوران جیالے ”جئے بھٹو، زندہ ہے بی بی زندہ ہے “ کے فلک شگاف نعرے لگاتے رہے، یہ جیالوں نے قومی ترانہ کا قطعا احترام نہیں کیا ۔ یہ خیال بھی نہیں کیا گیا کہ یہ پروگرام دنیا بھر کے ممالک میں دیکھا جا رہا ہے ۔۔صدارتی عہدے کا حلف اٹھانے پر آصف علی زرداری ملک کے طاقتور ترین سویلین صدر بن گئے ہیں انہیں58 ٹو بی کے تحت حکومت کی برطرفی کے ساتھ ساتھ 17 ویں آئینی ترمیم کے تحت ریاستی انتظام ونظام میں کلیدی اور اہم ترین اختیارات حاصل ہیں۔ اسی طرح نو منتخب صدر ، نیشنل کمانڈ اینڈ کنٹرول اتھارٹی کے چیئرمین بھی ہیں ۔آصف علی زرداری کے صدارتی عہدہ کا حلف اٹھانے پر ملک میں سسر اور داماد کے صدر مملکت بننے کی تاریخ رقم ہو گئی ہے نو منتخب صدر آصف علی زرداری کے سسر اور پی پی پی کے بانی سربراہ ذوالفقارعلی بھٹو 1971 ءمیں سقوط ڈھاکہ کے بعد ملک کے صدر بنے ۔ بھٹو دو سال تک ملک کے صدر رہے ۔ 6 ستمبر 2008 ءکو ذوالفقارعلی بھٹو کے داماد اور پی پی پی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری صدر منتخب ہوئے ہیں جنہوں نے آج اپنے عہدے کا حلف اٹھا لیا ہے ۔ اس طرح ملک میں سسر اور داماد کے صدر بننے کی بھی تاریخ رقم ہوئی ہے ۔صدارتی حلف کے حوالے سے اس عہدے پر فائز شخصیت کواہم تقاضے پورے کرنا ضروری ہے نو منتخب صدر نے حلف اٹھایا کہ ” میں ، آصف علی زرداری صدق دل سے حلف اٹھاتا ہوں کہ میں مسلمان ہوں اور وحدت و توحید قادر مطلق اللہ تبارک و تعالیٰ ، کتب الٰہیہ ،جن میں قرآن پاک خاتم الکتب ہے ، نبوت حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم بحیثیت خاتم النبین صلی اللہ علیہ وسلم جن کے بعد کوئی نبی نہیں ہو سکتا ، روز قیامت اور قرآن پاک و سنت کی جملہ مقتضیات و تعلیمات پر ایمان رکھتا ہوں : کہ میں خلوص نیت سے پاکستان کا حامی اور وفادار رہوں گا : کہ ، بحیثیت صدر پاکستان ، میں اپنے فرائض و کار ہائے منصبی ایمانداری ، اپنی انتہائی صلاحیت اور وفاداری کے ساتھ ، اسلامی جمہوریہ پاکستان کے دستور اور قانون کے مطابق اور ہمیشہ پاکستان کی خود مختاری ، سالمیت ،استحکام ، بہبودی اور خوشحالی کی خاطر انجام دوں گا : کہ میں اسلامی نظریہ کو برقرار رکھنے کے لیے کوشاں رہوں گا جو قیام پاکستان کی بنیاد ہے : کہ میں اپنے ذاتی مفاد کو اپنے سرکاری کام یا اپنے سرکاری فیصلوں پر اثر انداز نہیں ہونے دوں گا : کہ میں اسلامی جمہوریہ پاکستان کے دستور کو برقرار رکھوں گا اور اس کا تحفظ اور دفاع کروں گا : کہ میں ہر حالت میں ہر قسم کے لوگوں کے ساتھ ، بلا خوف و رعایت اور بلا رغبت و عناد ، قانون کے مطابق انصاف کروں گا : اور یہ کہ میں کسی شخص کی بلاواسطہ یا بالواسطہ کسی ایسے معاملے کی نہ اطلاع دوں گا اور نہ اسے ظاہر کروں گا جو بحیثیت صدر پاکستان میرے سامنے غور کے لیے پیش کیا جائے گا یا میرے علم میں آئے گا بجز جب کہ بحیثیت صدر اپنے فرائض کی کماحقہ ، انجام دہی کے لیے ایسا کرنا ضروری ہو ۔(اللہ تعالیٰ میری مدد اور رہنمائی فرمائے ، (آمین ) جبکہ نواز شریف نے کہا ہے کہ ان کی جماعت جمہوریت کے استحکام کے لیے کئے جانے والے ہر اقدام کی حمایت کرے گی آزاد عدلیہ کی بحالی کے موقف پر آج بھی قائم ہیں اور اس کے لیے جدوجہد جاری رکھیں گے۔ لندن روانگی سے پہلے ایئر پورٹ پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے نواز شریف نے کہا کہ آج پاکستان میں صدر اور وزیر اعظم دونوں جمہوری طریقے سے منتخب ہو کر آ ئے ہیں جو ایک اچھی پیشرفت ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی تاریخ کے 62 سالوں میں 34 سال فوجی حکمران اقتدار پر قابض رہے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ آج پاکستان میں بھوک، افلاس، بے روزگاری ، غربت، مہنگائی اور اشیاءضروریہ کی قلت ہے۔ کیونکہ ان فوجی حکمرانوں نے پاکستان اور پاکستانی عوام کی بہتری کے لیے کچھ نہیں کیا۔ اگر اس عرصے میں سویلین جمہوری حکومتیں ہوتیں تو پاکستان کی صورت حال مختلف ہوتی اور پاکستان میں خوشحالی کا دور دورہ ہوتا۔ میاں نواز شریف نے کہا کہ بھارت بھی پاکستان کے ساتھ ہی آزاد ہوا لیکن وہاں ایک دفعہ بھی کسی فوجی حکمران نے مارشل لاءنافذ نہیں کیا اور یہی وجہ ہے کہ کہ وہاں ترقی ہوئی ہے ۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ عدلیہ کا معاملہ بدستور حل طلب ہے اور بحالی اور 17ویں ترمیم کا خاتمہ اور صدر اور وزیر اعظم کے اختیارات میں عدم توازن کا خاتمہ ضرور ی ہے۔ حکومت کو آئین اور قانون کے مطابق عمل پیرا ہو کر اپنی پانچ سال کی مدت پوری کرنی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) اپوزیشن میں رہتے ہوئے پاکستان پیپلز پارٹی کی حکومت کے ہر اس اقدام کی حمایت کرے گی جو جمہوریت کے استحکام کے لیے اٹھے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ اگر میثاق جمہوریت پر پوری طرح عمل کیا جائے پاکستان کی حکومت کبھی کوئی غلط قدم نہیں اٹھا سکتی۔اے پی ایس اسلام آباد

No comments:
Post a Comment