International News Agency in english.urdu news feature,Interviews,editorial,audio,video & Photo Service from Rawalpindi/Islamabad,Pakistan.Managing editor M.Rafiq,Editor M.Ali. Chief editor Chaudhry Ahsan Premee email: apsislamabad@gmail.com,+92300 5261843 مینجنگ ایڈ یٹر محمد رفیق، ایڈیٹر محمد علی، چیف ایڈیٹرچو دھری احسن پر یمی

Wednesday, August 27, 2008

Pakistan presidential candidate Asif Ali Zardari 'suffering from severe mental problems'




Asif Ali Zardari, the widower of former Pakistan prime minister Benazir Bhutto and himself a leading contender for the country's presidency, was suffering from severe mental illness as recently as last year, it has been reported.


Mr Zardari, co-chair of the Pakistan People's Party, was diagnosed with a range of psychiatric illnesses, including dementia, major depressive disorder and post-traumatic stress disorder.
The illnesses were said to be linked to the fact that he has spent 11 of the past 20 years in Pakistani prisons fighting charges of corruption. He claims to have been tortured during his incarceration.
In March 2007 New York psychiatrist Philip Saltiel found that Mr Zardari's time in detention left him with severe "emotional instability", memory loss and concentration problems, according to court documents seen by the Financial Times.
"I do not see any improvement in these issues for at least a year," he wrote.
Stephen Reich, a psychiatrist from New York State, said Mr Zardari was unable to recall the birthdays of his wife and children and had thought about suicide.
Mr Zardari used the medical reports to successfully fight a now defunct English High Court case in which the Pakistan government sought to sue him over alleged corruption. The case was dropped in March.
Mr Zardari was not available to comment on the documents, but Wajid Shamsul Hasan, the Pakistan high commissioner to London said he was now fit and well.
Mr Zardari is his party's candidate to succeed Pervez Musharraf as president of the nuclear-armed country.
However, his coalition government with former prime minister Nawaz Sharif, fell apart yesterday after Mr Sharif withdrew his party, the The Pakistan Muslim League-N.

صدارتی امیدوار آصف زرادری کے ذہنی توازن پر شکوک و شبہات کااظہار۔ تحریر : محمد رفیق اے پی ایس





بش انتظامیہ نے اقوام متحدہ میں امریکہ کے افغان نڑاد سفیر زلمے خلیل زاد کے پیپلز پارٹی کے شریک چیئر مین آصف زرداری کے ساتھ براہ راست خفیہ رابطوں پرسخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ سفیر کو پاکستان کی سیاست اور دوسرے معاملات میں مداخلت کا کوئی حق حاصل نہیں ہے ۔ بش انتظامیہ کی جانب سے زلمے خلیل زاد کو سخت سوالات کا سا منا ہے اور امریکی نائب وزیر خارجہ جان نیگرو پونٹے اور جنوبی ایشیاء کے لیے امریکی نائب وزیر خارجہ رچرڈ باوچر نے زلمے خلیل زاد کے اس اقدام پر سخت ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے ان سے وضاحت طلب کی ہے ۔امریکی اخبار ”نیو یارک ٹائمز “کے مطابق اقوام متحدہ میں امریکی سفیر زلمے خلیل زاد نے گذشتہ چند ہفتوں کے دوران پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری سے کئی مرتبہ ٹیلی فون پر رابطہ کیا جس کے وہ مجاز نہیں تھے۔ حتیٰ کہ دونوں رہنماوں کے درمیان اگلے ہفتے دبئی میں ملاقات کا پروگرام بھی طے پا گیا تھا جسے امریکی نائب وزیر خارجہ برائے جنوبی ایشیا رچرڈ باوچر کو پتا چلنے کے بعد منسوخ کر دیا گیا۔ اخبار کے مطابق رچرڈ باوچر کو خود آصف علی زرداری نے ایک ملاقات میں بتایا تھا کہ زلمے خلیل زاد کی طرف سے مسلسل ہدایات اور مدد مل رہی ہے۔ جس کے بعد رچرڈ باوچر نے زلمے خلیل زاد کو خط لکھ کر ان سے وضاحت طلب کی کہ وہ زرداری کو کس قسم کی ہدایات اور مدد فراہم کر رہے ہیں۔ رچرڈ باو¿چر نے18اگست کو زلمے خلیل زاد کو لکھے گئے خط میں سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے لکھا ہے کہ جب امریکہ نے پاکستان کی سیاست اور دوسرے معاملات میں مداخلت نہ کرنے اور سیاسی پارٹیوں کے ساتھ محدود تعلقات رکھنے کا فیصلہ کر لیا ہے تو ایسے میں آپ کس قسم کی ہدایات اور امداد فراہم کر رہے ہیں؟ کیا آپ یہ سمجھنے میں میری مدد کریں گے کہ یہ کیا ہو رہا ہے؟ اخبار کے مطابق امریکہ کے نائب وزیر خارجہ نیگروپونٹے نے بھی ان خفیہ رابطوں پر سخت برہمی کا اظہار کیا ہے اور کہا ہے کہ پاکستان کے ساتھ امریکی تعلقات کے لیے اقوام متحدہ کے سفیر کی کوئی براہ راست ذمہ داری نہیں ہے ۔ واضح رہے کہ خلیل زاد زلمے کے شہید محترمہ بے نظیر بھٹو سے قریبی تعلقات تھے اور گزشتہ گرمیوں میں اسپن کولو میں ایک کانفرنس میں شرکت کے لیے دونوں نے ایک نجی طیارے میںسفر کیا تھا۔ اخبار کے مطابق آصف زرداری کے ساتھ اس قسم کے رابطوں کے انکشاف کے بعد امریکہ میں یہ تاثر جنم لے رہا ہے کہ زلمے خلیل زاد افغانستان کی صدارت کے لئے ذاتی تعلقات استوار کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ زلمے خلیل زاد کو اس سال جنوری میں سوٹزرلینڈ میں ورلڈ اکنامک فورم کے موقعے پر ایرانی وزیر خارجہ کے ساتھ بیٹھنے اور افغان حکام سے تعلقات استوار کرنے پر بھی شدید تنقید کا سامنا ہوا تھا۔امریکی حکام کے مطابق اس واقعے کے بعد زلمے خلیل زاد کو آزادانہ اظہار رائے سے اجتناب برتنے کی ہدایت دی گئی ہے تاہم ان کے خلاف تادیبی کارروائی خارج از امکان نہیں ہے۔ ادھر ایک سینئر پاکستانی اہلکار نے بتایا کہ زلمے خلیل زاد اور آصف علی زرداری کے درمیان کئی سالوں سے تعلقات ہیں اور یہ تعلقات اس وقت سے استوار ہوئے ہیں جب شہید بے نظیر بھٹو نیویارک میں وقت گزار رہی تھیںا ور آصف علی زرداری ان کے ہمراہ تھے پاکستانی اہلکار نے کہا کہ دونوں آصف علی زرداری اور خلیل زاد کے درمیان مشاورت معلومات کا کھلم کھلا تبادلہ خیال تھا اور دونوں رہنما ایک دوسرے کی سیاسی بصیرت سے استفادہ کرتے رہے انہوں نے کہا کہ خلیل زاد ایک سیاسی شخصیت ہیں وہ پاکستانی سیاسی قیادت کی امریکی محکمہ خارجہ میں بیورو کریٹس تک رسائی اور ان سے مستقبل میں استفادہ سے بخوبی واقف ہیں پاکستانی اہلکاروں نے بتایا کہ سفیر پالیسی بناتے یا تبدیل کرتے نہیں وہ صرف ایک متبادل چینل ہوتے ہیں۔ جبکہ پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چےئرمین اور صدارتی امیدوار آصف زرادری کے ذہنی توازن پر شکوک و شبہات کااظہار کیا جارہاہے کیونکہ سوائس عدالت میں ان کے خلاف منی لانڈرنگ کیس کے دوران ان کے ڈاکٹروں کی طرف سے پیش کئے گئے عدالتی دستاویزات میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ وہ حالیہ گزشتہ سال سے شدید نفسیاتی دباو کاشکا رہے ہیں گزشتہ روز سوئس حکومت نے آصف زرداری کے خلاف منی لانڈرنگ کے مقدمات ختم کر کے ضبط کی گئی رقم جنیوا حکومت کے حوالے کرنے کا فیصلہ کیا ہے دریں اثناء برطانیہ کے لیے پاکستان کے ہائی کمشنر واجد شمس الحسن نے کہا ہے کہ آصف زرداری مکمل فٹ اور تندرست ہیں اور ڈاکٹروں نے انہیں پارٹی امور چلانے کے لیے اہل قرار دیاہے ۔ برطانوی اخبار ” فنانشنل ٹائمز “ کے مطابق یہ بات آصف علی زرداری کے ڈاکٹروں کی طرف سے عدالت میں پیش کئے گئے دستاویزات میں کہی گئی ہے ۔ دو سال سے زائد عرصے پر مشتمل میڈیکل رپورٹس کے مطابق آصف علی زرداری کی تشخیص میں یہ بات سامنے آئے تھی کہ وہ پاگل پن ، شدید ذہنی دباو اور کوفت کاشکار ہیں۔ آصف زرداری جو گزشتہ بیس سالوں کے دوران کرپشن کے الزامات میں 11 سال جیل میں رہے صدر پرویز مشرف کو ہٹانے میں کامیاب ہوئے اخبار کے مطابق ان میڈیکل رپورٹس پر تبصرہ کرنے کے لیے آصف زرداری سے رابطہ نہ ہو سکا تاہم برطانیہ کے لیے پاکستان کے ہائی کمشنر واجد شمس الحسن نے ان کی طرف سے کہا کہ آصف زرداری اب مکمل فٹ اور صحت مند ہیں نیویارک میں مقیم ماہر نفسیات فلپ سلٹائل کی طرف سے فنانشنل ٹائمز کو بھیجے گئے عدالتی دستاویزات میں کہا گیا ہے کہ قید سے رہائی کے بعد مارچ 2007 میں آصف زرداری کی تشخیص کی گئی جس میں ان کی یادداشت اور ذہنی مسائل کے علاوہ جذباتی عدم استحکام سامنے آیا سلٹائل نے بتایا کہ گزشتہ ایک سال سے میں نے ان کے مسائل میں بہتری نہیں دیکھی نیویارک کے ایک اور ماہر نفسیات سٹیفن رائچ نے بتایا کہ آصف زرداری کو اپنی بیوی اور بچوں کا یوم پیدائش یاد نہیں رہتا اور مسلسل یہ خدشہ موجود ہے کہ وہ کہیں خودکشی کے بارے میں نہ سوچیں آصف علی زرداری کی طرف سے سوئس عدالت میں ان دستاویزات کے پیش کیے جانے کے باعث عدالت کی جانب سے وہ اپنے خلاف کیس خارج کرنے میں کامیاب رہے گزشتہ مارچ میں ان کے برطانیہ میں منجمند اثاثے بھی واپس بحال کیے گئے ہیں اورساتھ ہی پاکستان میں کرپشن کے الزامات مسترد کردئیے گئے پاکستان کے ہائی کمشنر شمس الحسن جو آصف علی زرداری اور بھٹو خاندان کے طویل عرصے سے سیاسی ساتھی ہیں نے فنانشل ٹائمز کو بتایا کہ آصف علی زرداری باقاعدگی سے اپنا طبی معائنہ کر رہے ہیں اور ان کے ڈاکٹروں نے انہیں مکمل طورپر فٹ قرار دیا ہے اور وہ اپنی جماعت کو چلانے کے مکمل اہل ہیں انہوں نے کہا کہ آپ کو سمجھ لینا چاہیئے کہ آصف علی زرداری جن الزامات میں قید تھے ان پر کوئی الزام ثابت نہیں ہوا حتی کہ ان پر جیل میں قاتلانہ حملہ بھی ہوا اسی صورت حال میں جب آپ ہر وقت خوف میں ہو کوئی بھی انسان ذہنی کوفت کا شکار رہے گا۔ اے پی ایس


Monday, August 25, 2008

The White House is desperate for a new strategy in Pakistan





By Eric S Margolis

WASHINGTON: President Pervez Musharraf’s long and painful goodbye has left in its wake a Pakistan awash in political uncertainty and rising violence. Pakistanis danced with joy in streets at the fall of Musharraf, who ruled his strife-torn nation of 165mn for nine years. Meanwhile, Washington frantically scrambled to find a replacement for the accommodating Musharraf, its favourite, most co-operative dictator. I interviewed Musharraf when he first seized power in 1999. I’d known every Pakistani leader since tough, capable General Zia ul-Haq in the mid-1980s. After the meeting, I said to myself, “Mush, you’re no Zia”. I found Musharraf a rather sour little man with no evident qualities who had come to lead Pakistan almost by accident. He certainly did not seem ready to lead the world’s most important Muslim nation. September 11 turned Musharraf from a nobody into a prime American ally and national dictator. The humiliated Bush administration needed revenge. Though the plot was hatched in Germany and Spain, Osama bin Laden’s Afghan base was chosen as the target. But the US first needed to use Pakistan’s air bases, supply depots, army and intelligence services to invade and occupy Afghanistan.Pakistan’s then director general of ISI intelligence, Gen Mahmoud, told me the US threatened to bomb Pakistan back to the Stone Age if Islamabad didn’t allow Washington to take command of its military forces and bases, and wage war on Taliban. Musharraf confirmed this threat in his autobiography.The little general gave in with unseemly haste. He quickly rented the Pakistani Army and ISI to the US for $1.1bn in official annual payments, and billions more in covert CIA payments to top generals, high officials, politicians and journalists. Musharraf ruled as both army chief and Washington’s paymaster-general in Pakistan. Musharraf sent his soldiers and intelligence agents to fight pro-Taliban Pashtun tribesmen along Pakistan’s northwestern frontier, and allowed the US to use Pakistan airbases and supply depots. Without these bases, the US and its Nato allies could not have waged war in Afghanistan. Thousands of Pakistani civilians, most of them Pashtun tribesmen, were killed by Musharraf’s armed forces.The general was feted in Washington and hailed as a “statesman”. When he first overthrew the then prime minister Nawaz Sharif, Musharraf had some popularity. But over 80% of Pakistanis came to detest Musharraf, branding him an American agent for selling out his nation’s national interests in Afghanistan and Kashmir. Musharraf was accused of handing over up to 1,000 Pakistanis to CIA, all of whom have vanished. Finally, he was left with almost no support at home save for a few fat cat politicians.Good riddance, say Pakistanis. Few will mourn Musharraf or his nine-year rule. But what next? The rival leaders of the democratically elected coalition government, People’s Party chief Asif Ali Zardari, the widower of the slain Benazir, and Muslim League (N) leader, Sharif, are vying to see who will become the next president or prime minister. Sharif is better qualified, but Zardari has a bigger following and the mantle of martyred Benazir. Both vow to restore the judiciary purged by Musharraf with US, British and Canadian backing. However, Zardari is dragging his feet, fearing reinstated justices may reopen serious corruption charges that have dogged him for decades. He claims these accusations were all politically inspired. But many Pakistanis see him as corrupt and the wrong person to represent their nation, which so badly needs an image improvement.The powerful military watches from the sidelines. Its dour, highly professional commander, Gen Afshaq Kiyani, has so far stayed out of politics. But now that Musharraf is gone, Washington’s Plan B is to push Kiyani into power as a new military dictator though he has given no sign he wants the job. The White House is desperate for a new strategy in Pakistan. The Bush administration has been so preoccupied by its failing war in Afghanistan, and so busy forcing Musharraf to follow policies hated by his people, that it failed to see Pakistan was turning into a volcano of anti-Western hatred and violence. Some US conservatives are calling for Pakistan to be branded a “terrorist state” and its nuclear arsenal destroyed by US forces. Meanwhile, Pakistan’s politicians keep squabbling while the nation drifts on a sea of dangers.

ملک اور عوام کو دو نوںہاتھوں سے لوٹا جا رہا ہے۔ تحریر : اے پی ایس



قاضی حسین احمد نے کہا ہے کہ خود کش حملوں کی بنیادی وجہ امریکی جنگ پاکستان میں لانا ہے ، افتخار محمد چوہدری کی بحالی میں سب سے بڑی رکاوٹ این آر او ہے نواز شریف پنجاب حکومت کی قربانی دے کر صدارتی الیکشن کور کوا سکتے ہیں، میاں شہباز شریف اسمبلی توڑنے کی ایڈوائس دے کر پنجاب اسمبلی توڑ سکتے ہیں، جماعت اسلامی امریکہ کی پردوردہ اور انگریزوں کے مراعات یافتہ خاندانوں سے تعلق رکھنے والے ابن الوقت سیاستدانوں کے مقابلے میں وطن عزیز کو اچھی حکومت اور بہترین قیادت فراہم کر سکتی ہے آصف زرداری کو صد ر بنانے کا فیصلہ فوج کی مداخلت کے لیے راستہ صاف کرنے کا ایک عمل اور شازش ہے اس کے نتیجے میں پیپلز پارٹی کبھی نہ چل سکے گی اور نہ ہی ان سے حکومت ہو سکے گی لوگ ان کے مخالف ہو جائیں گے، امریکہ چاہتا ہے کہ پاکستان میں کمزور حکومتیں قائم رہیں اسے ایسے لوگوں کی ضرورت ہے جو قوم کو امریکی خوشنودی کے لیے قتل کر سکے چند با اثر افراد نے رشوت کے کھربوں روپے غیر قانونی طریقے سے بیرون ملک بینکوں میں رکھے ہوئے ہیں یہ حکومتیں یہ رقم ہمیں واپس کر دیں تو ہمارے سارے مسائل حل ہو جائیں گے پاکستان میں دنیا کی ہر نعمت موجود ہے ہمیں دونوں ہاتھوں سے لوٹا جا رہا ہے ، این آر او چوہدری افتخار کی عدالت میں زیر سماعت ہے اور آصف زرداری آئندہ صدارت کے امید وار ہیں حکمران عوام کو بتائیں کہ این آر او کس قانون کے تحت جائزہے، پوری دنیا میں جاری فساد کی امریکہ کی بالا دستی قائم کرنے کی وجہ سے ہے امریکہ ہر کام میں اپنی مرضی چلانے کو اپنا حق سمجھتا ہے اس بناء پر دنیا امن سے مرحوم ہے ورلڈ ٹریڈ سنٹر پر حملے میں ان کے ایئر پورٹوں سے طیارے اڑے وہاں سازش تیار ہوئی ، اور مورو الزام افغانستان کے دشوار گزار پہاڑی علاقوں میں مکین نہتے مسلمانوں کو ٹھہرا دیا گیا، امریکہ نے اپنی ہی بنائی گئی طالبان حکومت کو دنیا میں اپنی دہشت قائم کرنے کے لیے تباہ و برباد کرنے میں کوئی کسر اٹھا نہیں رکھی ، امریکہ کے ایک ادنیٰ سرکاری افسر کے اشارے پر پاکستان کا کمانڈو جرنیل صدر ڈھیر ہو گیا اور اس نے امریکہ کی جانب سے دیئے گئے 8نکات میں سے اپنے پاس سے مزید 2شامل کر کے ان کو حیران کر دیا اور افغانستان کے بے گناہ اور معصوم مسلمانوں کے قتل عام کے لیے اپنے ایئرپورٹ ، لاجسٹک سیل، فضائی حدود اور ہر طرح کی مراعات ان کے سامنے رکھ دیں امریکی صدر بش کے مظالم کے خلاف مشرف نے گھنٹے ٹیک دیئے تھے امریکہ کی نفرت اور بدامنی کو پاکستان میں لایا گیا آج تمام خود کش حملے اسی سلسلے کی کڑی ہیں جن میں اب تک ہزاروں بے گناہ لوگ شہید ہو چکے ہیں اس جرم میں نہ صرف سابق صدر مشرف بلکہ بعض فوجی جرنیل بھی شامل ہیں لال مسجد ، جامعہ حفصہ آپریشن جو ایک ایس ایچ او کی سطح کا کام تھا صرف امریکہ کو خوش کرنے کے لیے بے گناہ معصوم بچوں اور بچیوں کو نہ صرف فاسفورس بم بلکہ بارود کی بوچھاڑ کر کے شہید کیا گیا اور مسجد کا تقدس بھی پامال کرنے کا کوئی موقع ہاتھ سے نہ جانے دی گیا یہ سب امریکہ کو خوش کرنے کے لیے کیا گیا کہ ہم امریکہ خوشنودی کے لیے نہ صرف اپنے معصوم بچوں کا قتل بلکہ مسجد کا تقدس بھی پامال کر سکتے ہیں آ ج حکمرانوں کی غلط پالیسیوں اور پاکستان سے محبت کرنے والے قبائلوں کو اپنی ہی افواج نہ صرف موت کے گھاٹ اتار رہی ہیں بلکہ ان کی زندگی اجیرن کی ہوئی ہے۔ اس بناء پر پورا باجوڑ شمالی اور جنوبی وزیر ستان سمیت قبائلی علاقے خالی ہو چکے ہیں ظلم کا انتہا کی جارہی ہے امریکی پالیسیاں افغانستان ، عراق اور دوسرے ممالک میں بری طرح پٹ چکی ہیں اسرائیل کو برقرار رکھنے لیے مسلمانوں پر ظلم وستم امریکہ طویل عرصے تک برقرار نہیں رکھ سکے گا، ہم نے بھارت کی کشمیر کے معاملے میں بالا دستی قبول کر لی ہے پوری کشمیری قوم اس وقت اپنے حقوق کے لیے اٹھ کھڑی ہوئی ہے ان کو تقویت پہنچانے کا یہ سہنری موقع تھا تاہم حکمران بھارت سے دوستی کی پینگیں بڑھا رہے ہیں، دیر میں جماعت اسلامی کے تین لاکھ سے زائد مرد و خواتین کا اجتماع حکومت کی آنکھیں کھول دینے کے لیے کافی ہے۔ اے پی ایس

Sunday, August 24, 2008

آصف زرداری کی فکر ا گیز گفتگو۔ تحریر : چو د ھری احس پر یمی ،اے پی ایس



پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمی آصف علی زرداری ے کہا ہے کہ صدر پرویز مشرف کے استعفے کا د یادگار د تھاخصوصا ا قوتوں کے لیے جوجمہوریت پر یقی اور اسی کو بہتری بدلہ سمجھتی ہیں صدر پرویز مشرف کے ملک میں رہ ے یا ہ رہ ے کا فیصلہ پارلیم ٹ کرے گی سابق صدر کے خلاف عدالتی کارروائی کے بارے میں آءدہ صدر طے کرے گا اوروہی اس کو معافی بھی دے سکتا ہے ۔ ذاتی طور پر معزول چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی بحالی کی حمایت میں ہوں لیک میری پارٹی سمجھتی ہے کہ وہ گزشتہ کئی مہی وں سے ریلیوں کی قیادت کر ے کے بعد سیاسی ہوچکے ہیں۔ پاکستا کا صدر ب ے کے بارے سوچا بھی ہ تھا کیو کہ بے ظیر بھٹو کی موجودگی میں ا کی پارٹی کا کوئی بھی شخص لیڈر ب ے کا ہیں سوچ سکتا تھا۔ا خیالات کا اظہار ا ہوں ے امریکی اخبار کو ا ٹرویو دیتے ہو ئے کیا۔آصف علی زرداری ے کہاکہ سابق صدر پرویز مشرف کے استعفے کا د یادگار د تھاخصوصا ہم جیسی قوتوں کے لیے جوجمہوریت کو بہتری بدلہ سمجھتے ہیں صدر پرویز مشرف کے ملک میں رہ ے یا ہ رہ ے کا فیصلہ پارلیم ٹ کرے گی ۔ ا ہوں ے کہا کہ یہ بات عام طورپر سمجھی جا رہی ہے کہ ہم کسی بھی محاذ آرائی می ہیں پڑ ا چاہتے اور ہ ہی پرویز مشرف کے خلاف کچھ کررہے ہیں کیو کہ ہم جمہوریت کی مکمل م تقلی چاہتے ہیں ایک سوال کے جواب میں ا ہوں ے کہا کہ پرویز مشرف کو ملک میں کیوں ہیں رہ ا چاہیے ہم ا کے پاکستا میں رہ ے کو خوش آمدید کہتے ہیں پرویز مشرف کے خلاف عدالتی کارروائی کے بارے پارلیم ٹ طے کرے گی ا ور ہر کسی کو علم ہے کہ پاکستا پیپلزپارٹی کسی بھی قسم کی محاذ آرائی کی پوزیش میں ہیں ہے آصف علی زرداری ے کہاکہ سابق صدر کے خلاف عدالتی کارروائی کے بارے میں آءدہ صدر طے کرے گا اوروہی اس کو معافی بھی دے سکتا ہے ا کاکہ ا تھا کہ ہم ے یہ ج گ جمہوریت کے لیے لڑی ہے اور جو طاقتیں پرویز مشرف استعمال کرتے رہے ہیں وہ سب غیر جمہوری تھیں اس بات کی بحث پارلیم ٹ میں ہو گی اور وہی طے کرے گی کہ آءدہ صدر کے پاس کت ے اختیارات ہو ے چاہئیں اور وزیراعظم کو کس طرح بااختیار ب ایا جا سکتا ہے ا ہوں ے کہا کہ میرے خیال میںصدر کے پاس اسمبلی کو تحلیل کر ے کے اختیارات ہیں ہو ے چاہئیں ۔ کہ آءدہ صدر کا زیادہ تر رسمی کردار ہو گا۔ پارلیم ٹ بااختیار ہے اور اس وقت پاکستا کو جمہوریت کی طرف لے جا ے کے بارے میں سوچ ا چاہیے جو ملکی مفاد فرد واحد سے زیادہ ا ہم ہے ا ہوں ے کہاکہ مجھے امید ہے کہ ہمارا اتحاد واز شریف کے ساتھ قائم رہے گا اور میںا تمام مسائل میں ج کا ہمیں سام ا ہے دوسروں کو حصہ دار بتا ا چاہتا ہوں کیو کہ ہمیں مستحکم پاکستا اچھی حالت میں معیشت اور سرحدوں پر کوئی اچھی صورت حال ورثے میں ہیں ملی ا تمام مسائل کو حل کر ے کے لیے ایک مفاہمت کی ب یاد پر قائم حکومت کی ضرورت ہے ۔ آصف علی زرداری کا کہ ا تھا کہ میں ذاتی طور پر معزول چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی بحالی کی حمایت میں ہوں لیک میری پارٹی سمجھتی ہے کہ وہ گزشتہ کئی مہی وں سے ریلیوں کی قیادت کر ے کے بعد وہ سیاسی ہوچکے ہیں ا ہوں ے کہا کہ سابق صدر پرویز مشرف کے استعفے کے بعد پاک امریکہ تعلقات پر کوئی فرق ہیں پڑے گا کیو کہ امریکہ کا فوجی ج رل کے ساتھ تجربہ اکام ہو چکاہے اس لیے امریکہ ے فیصلہ کیا ہے کہ وہ جمہوری قوتوں کی حمایت کرے گا ۔ا ہوں ے کہا کہ مسائل کی وجہ سے موجودہ عوامی حکومت کمزور ہو گی لیک ہم اپ ی غلطیوں سے سبق حاصل کرتے ہوئے آگے بڑھیں گے اور ترقی کریںگے۔ ا ہوں ے کہا کہ یہی وہ سفر ہے جس سے ملک اور عوام ایک مضبوط جمہوریت قائم کر سکتے ہیں ا کا کہ ا تھا کہ بے ظیر بھٹو کی شہادت کے بعد جو خلا پیدا ہوا اس کی وجہ سیملک کے ا در موجودہ صورتحال پیدا ہوئی ہے ۔بے ظیر بھٹو ے اپ ی کتاب میں کہا تھا کہ میری موت تبدیلی کے لیے عمل ا گیز کا کام کرے گی ا ہوں ے کہاکہ پرویز مشرف ے بے ظیر بھٹو کو مطلوبہ سیکورٹی فراہم ہیں کی جس کی وجہ سے وہ ا کی شہادت کے ذمہ دار ہیں لیک میں پرویز مشرف پرالزام ہیںلگاتا بلکہ میں اس کے لیے تحقیقات کا مطالبہ کرتا ہوں ا ہوں ے کہا کہ اقوام متحدہ کی طرف سے بے ظیر کی تحقیقات میں دخل دی ے کی ضرورت ہے لیک ہم کسی شخص کو سزا دلوا ے کے حق میں ہیں ہیں ا ہوں ے کہا کہ ہم ایک یا اور جمہوری پاکستا ب ا ا چاہتے ہیں۔ بے ظیر بھٹو کی ز دگی جمہوریت کے لیے جدوجہد تھی اور اگر جمہوریت اپ ی اصل شکل میں آجاتی ہے تو یہ بے ظیر کی شہادت کا اصل بدلہ ہو گا ا ہوں ے کہا کہ میں ے کبھی بھی پاکستا کا صدر ب ے کے بارے میں ہیں سوچا تھا کیو کہ بے ظیر بھٹو کی موجودگی میں ا کی پارٹی کا کوئی بھی شخص لیڈر ب ے کا ہیں سوچ سکتا تھا مجھے اس عہدے کے لیے صرف بے ظیر بھٹو کے بعد پیدا شدہ خلا کی وجہ سے م تخب کیا گیا ہے ا ہوں ے کہاکہ میں چاہتا ہوں کہ پرویز مشرف ملک میں ہی رہیںاور ہمیں دیکھیں کہ ہم کس طرح ملک کو کامیابی کی طرف لے کر جاتے ہیں اور یہی بے ظیر بھٹو کی شہادت کا اصل بدلہ ہو گا۔ایک سوال کے جواب میں ا ہوں ے کہاکہ میں سمجھتا ہوں کہ فوج اپ ے دائرہ کار میں رہے گی اور آئی کا احترام کریگی کیو کہ ا ہوں ے کہا کہ ا کا کام حکومت کر ا ہیں ہے اور میں سمجھتا ہوں کہ فوج ے عوامی حکومت کا احترام کریں گے اگر فوج کی مداخلت ہوتی تو پرویز مشرف بھی موجود ہوتے ۔ا ہوں ے کہا کہ افغا ستا میں بھارتی سفارتخا ے پر حملے میں آئی ایس آئی کی مداخلت کی پاکستا تردید کر چکا ہے آئی ایس آئی اس قسم کے کسی حملے میں ملوث ہیں ہے اور آئی ایس آئی کو ک ٹرول کیا جا رہا ہے کیو کہ آئی ایس آئی ریاست کا حصہ ہے ا ہوں ے کہا کہ میں یہ ہیں کہتا کہ آئی ایس آئی ماضی میں مسئلہ ہیں تھی لیک ہرکوئی اپ ی غلطیوں سے سیکھتا ہے ۔ آصف علی زرداری ے کہا کہ حکومت گزشتہ پا چ سالوں کی حکومت سے زیادہ مستحکم ہے کیو کہ مغربی حکومتوں کو اتحادی حکومت کے ساتھ کام کر ے کا ابھی کم وقت ملا ہے لیک اگر آپ بھارتی تجربے کو دیکھیں توآپ کو معلوم ہو گا کہ وہاں سترہ جماعتیں اتحاد میں موجود ہیں اس لیے چار یا پا چ جماعتوں کے اتحاد کو ہم قائم رکھ سکیں گے ا ہوں ے کہا کہ ملک میں کسی قسم کا عدم استحکام پیدا ہیں ہوگا۔ ا ور ہ ہی کوئی ئے ا تخابات ہوں گے اور اگر ئے ا تخابات ہوئے تو ہر کوئی اس میں حصہ لے گا اگر کوئی جماعت پیپلزپارٹی سے زیادہ مقبول ہے تو اسے حکومت کر ے کا حق ہے اوراگر ہیں تو ہم حکومت ب ائیں گے ا ہوں ے کہاکہ پاکستا پیپلزپارٹی اور اپوزیش کی جماعتیں دہشت گردی کے خلاف ہیں یہ ج گ پاکستا کے خلاف ج گ ہے اور یہ ج گ ہماری سرزمی پر ہے اس ج گ میں ہمارے بچے ‘لڑکے مر رہے ہیں ‘بے گھر ہو رہے ہیں اور ہماری بیٹیاں جو بے گھر ہوگئی ہیں ا س لیے ہم اپ ی سرزمی کی حفاظت کریں گے ۔ آصف علی زرداری ے کہا کہ میں بے ظیر بھٹو کی اس بات سے اتفاق کرتا ہوں کہ ملک میں دہشتگردی توقع سے زیادہ بڑھ گئی ہے اور اس کا ذمہ دار صرف پرویز مشرف ہیں بلکہ یہ اس وقت بھی بہت بڑھ گئی تھی جب ہماری گزشتہ حکومت قائم تھی لیک یہ اس لیے پھیلی کیو کہ جمہوری قوتیں ملک میں موجود ہ تھیں اوردہشت گردی کے خلاف ج گ میں تو پوری د یا پرویز مشرف کے ساتھ تھی اس لیے وہ تمام اس کے ذمہ دار ہیں ا ہوں ے کہا کہ میرے خیال میں ہر کوئی دہشت گردی کے خلاف ج گ میں اکام ہوا ہے اس لیے ہمیںدہشت گردی کی اصل وجوہات ڈھو ڈ ے کی ضرورت ہے جو جمہوریت جمہوری سوچ کے ذریعے ہی ہو سکتا ہے ایک آمرا ہ ذہ یہ ہیں کرسکتا۔اے پی ایس پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمی آصف علی زرداری ے کہا ہے کہ صدر پرویز مشرف کے استعفے کا د یادگار د تھاخصوصا ا قوتوں کے لیے جوجمہوریت پر یقی اور اسی کو بہتری بدلہ سمجھتی ہیں صدر پرویز مشرف کے ملک میں رہ ے یا ہ رہ ے کا فیصلہ پارلیم ٹ کرے گی سابق صدر کے خلاف عدالتی کارروائی کے بارے میں آءدہ صدر طے کرے گا اوروہی اس کو معافی بھی دے سکتا ہے ۔ ذاتی طور پر معزول چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی بحالی کی حمایت میں ہوں لیک میری پارٹی سمجھتی ہے کہ وہ گزشتہ کئی مہی وں سے ریلیوں کی قیادت کر ے کے بعد سیاسی ہوچکے ہیں۔ پاکستا کا صدر ب ے کے بارے سوچا بھی ہ تھا کیو کہ بے ظیر بھٹو کی موجودگی میں ا کی پارٹی کا کوئی بھی شخص لیڈر ب ے کا ہیں سوچ سکتا تھا۔ا خیالات کا اظہار ا ہوں ے امریکی اخبار” یوز ویک“ کو دئیے گئے خصوصی ا ٹرویو میں کیا ۔آصف علی زرداری ے کہاکہ سابق صدر پرویز مشرف کے استعفے کا د یادگار د تھاخصوصا ہم جیسی قوتوں کے لیے جوجمہوریت کو بہتری بدلہ سمجھتے ہیں صدر پرویز مشرف کے ملک میں رہ ے یا ہ رہ ے کا فیصلہ پارلیم ٹ کرے گی ۔ ا ہوں ے کہا کہ یہ بات عام طورپر سمجھی جا رہی ہے کہ ہم کسی بھی محاذ آرائی می ہیں پڑ ا چاہتے اور ہ ہی پرویز مشرف کے خلاف کچھ کررہے ہیں کیو کہ ہم جمہوریت کی مکمل م تقلی چاہتے ہیں ایک سوال کے جواب میں ا ہوں ے کہا کہ پرویز مشرف کو ملک میں کیوں ہیں رہ ا چاہیے ہم ا کے پاکستا میں رہ ے کو خوش آمدید کہتے ہیں ا ہوں ے کہاکہ پرویز مشرف کے خلاف عدالتی کارروائی کے بارے پارلیم ٹ طے کرے گی ا ور ہر کسی کو علم ہے کہ پاکستا پیپلزپارٹی کسی بھی قسم کی محاذ آرائی کی پوزیش میں ہیں ہے آصف علی زرداری ے کہاکہ سابق صدر کے خلاف عدالتی کارروائی کے بارے میں آءدہ صدر طے کرے گا اوروہی اس کو معافی بھی دے سکتا ہے ا کاکہ ا تھا کہ ہم ے یہ ج گ جمہوریت کے لیے لڑی ہے اور جو طاقتیں پرویز مشرف استعمال کرتے رہے ہیں وہ سب غیر جمہوری تھیں اس بات کی بحث پارلیم ٹ میں ہو گی اور وہی طے کرے گی کہ آءدہ صدر کے پاس کت ے اختیارات ہو ے چاہئیں اور وزیراعظم کو کس طرح بااختیار ب ایا جا سکتا ہے ا ہوں ے کہا کہ میرے خیال میںصدر کے پاس اسمبلی کو تحلیل کر ے کے اختیارات ہیں ہو ے چاہئیں ۔ا ہوں ے کہا کہ آءدہ صدر کا زیادہ تر رسمی کردار ہو گا۔ پارلیم ٹ بااختیار ہے اور اس وقت پاکستا کو جمہوریت کی طرف لے جا ے کے بارے میں سوچ ا چاہیے جو ملکی مفاد فرد واحد سے زیادہ ا ہم ہے ا ہوں ے کہاکہ مجھے امید ہے کہ ہمارا اتحاد واز شریف کے ساتھ قائم رہے گا اور میںا تمام مسائل میں ج کا ہمیں سام ا ہے دوسروں کو حصہ دار بتا ا چاہتا ہوں کیو کہ ہمیں مستحکم پاکستا اچھی حالت میں معیشت اور سرحدوں پر کوئی اچھی صورت حال ورثے میں ہیں ملی ا تمام مسائل کو حل کر ے کے لیے ایک مفاہمت کی ب یاد پر قائم حکومت کی ضرورت ہے ۔ آصف علی زرداری کا کہ ا تھا کہ میں ذاتی طور پر معزول چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی بحالی کی حمایت میں ہوں لیک میری پارٹی سمجھتی ہے کہ وہ گزشتہ کئی مہی وں سے ریلیوں کی قیادت کر ے کے بعد وہ سیاسی ہوچکے ہیں ا ہوں ے کہا کہ سابق صدر پرویز مشرف کے استعفے کے بعد پاک امریکہ تعلقات پر کوئی فرق ہیں پڑے گا کیو کہ امریکہ کا فوجی ج رل کے ساتھ تجربہ اکام ہو چکاہے اس لیے امریکہ ے فیصلہ کیا ہے کہ وہ جمہوری قوتوں کی حمایت کرے گا ۔ا ہوں ے کہا کہ مسائل کی وجہ سے موجودہ عوامی حکومت کمزور ہو گی لیک ہم اپ ی غلطیوں سے سبق حاصل کرتے ہوئے آگے بڑھیں گے اور ترقی کریںگے۔ ا ہوں ے کہا کہ یہی وہ سفر ہے جس سے ملک اور عوام ایک مضبوط جمہوریت قائم کر سکتے ہیں ا کا کہ ا تھا کہ بے ظیر بھٹو کی شہادت کے بعد جو خلا پیدا ہوا اس کی وجہ سیملک کے ا در موجودہ صورتحال پیدا ہوئی ہے ۔بے ظیر بھٹو ے اپ ی کتاب میں کہا تھا کہ میری موت تبدیلی کے لیے عمل ا گیز کا کام کرے گی ا ہوں ے کہاکہ پرویز مشرف ے بے ظیر بھٹو کو مطلوبہ سیکورٹی فراہم ہیں کی جس کی وجہ سے وہ ا کی شہادت کے ذمہ دار ہیں لیک میں پرویز مشرف پرالزام ہیںلگاتا بلکہ میں اس کے لیے تحقیقات کا مطالبہ کرتا ہوں ا ہوں ے کہا کہ اقوام متحدہ کی طرف سے بے ظیر کی تحقیقات میں دخل دی ے کی ضرورت ہے لیک ہم کسی شخص کو سزا دلوا ے کے حق میں ہیں ہیں ا ہوں ے کہا کہ ہم ایک یا اور جمہوری پاکستا ب ا ا چاہتے ہیں۔ بے ظیر بھٹو کی ز دگی جمہوریت کے لیے جدوجہد تھی اور اگر جمہوریت اپ ی اصل شکل میں آجاتی ہے تو یہ بے ظیر کی شہادت کا اصل بدلہ ہو گا ا ہوں ے کہا کہ میں ے کبھی بھی پاکستا کا صدر ب ے کے بارے میں ہیں سوچا تھا کیو کہ بے ظیر بھٹو کی موجودگی میں ا کی پارٹی کا کوئی بھی شخص لیڈر ب ے کا ہیں سوچ سکتا تھا مجھے اس عہدے کے لیے صرف بے ظیر بھٹو کے بعد پیدا شدہ خلا کی وجہ سے م تخب کیا گیا ہے ا ہوں ے کہاکہ میں چاہتا ہوں کہ پرویز مشرف ملک میں ہی رہیںاور ہمیں دیکھیں کہ ہم کس طرح ملک کو کامیابی کی طرف لے کر جاتے ہیں اور یہی بے ظیر بھٹو کی شہادت کا اصل بدلہ ہو گا۔ایک سوال کے جواب میں ا ہوں ے کہاکہ میں سمجھتا ہوں کہ فوج اپ ے دائرہ کار میں رہے گی اور آئی کا احترام کریگی کیو کہ ا ہوں ے کہا کہ ا کا کام حکومت کر ا ہیں ہے اور میں سمجھتا ہوں کہ فوج ے عوامی حکومت کا احترام کریں گے اگر فوج کی مداخلت ہوتیتو پرویز مشرف بھی موجود ہوتے ۔ا ہوں ے کہا کہ افغا ستا میں بھارتی سفارتخا ے پر حملے میں آئی ایس آئی کی مداخلت کی پاکستا تردید کر چکا ہے آئی ایس آئی اس قسم کے کسی حملے میں ملوث ہیں ہے اور آئی ایس آئی کو ک ٹرول کیا جا رہا ہے کیو کہ آئی ایس آئی ریاست کا حصہ ہے ا ہوں ے کہا کہ میں یہ ہیں کہتا کہ آئی ایس آئی ماضی میں مسئلہ ہیں تھی لیک ہرکوئی اپ ی غلطیوں سے سیکھتا ہے ۔ آصف علی زرداری ے کہا کہ حکومت گزشتہ پا چ سالوں کی حکومت سے زیادہ مستحکم ہے کیو کہ مغربی حکومتوں کو اتحادی حکومت کے ساتھ کام کر ے کا ابھی کم وقت ملا ہے لیک اگر آپ بھارتی تجربے کو دیکھیں توآپ کو معلوم ہو گا کہ وہاں سترہ جماعتیں اتحاد میں موجود ہیں اس لیے چار یا پا چ جماعتوں کے اتحاد کو ہم قائم رکھ سکیں گے ا ہوں ے کہا کہ ملک میں کسی قسم کا عدم استحکام پیدا ہیں ہوگا۔ ا ور ہ ہی کوئی ئے ا تخابات ہوں گے اور اگر ئے ا تخابات ہوئے تو ہر کوئی اس میں حصہ لے گا اگر کوئی جماعت پیپلزپارٹی سے زیادہ مقبول ہے تو اسے حکومت کر ے کا حق ہے اوراگر ہیں تو ہم حکومت ب ائیں گے ا ہوں ے کہاکہ پاکستا پیپلزپارٹی اور اپوزیش کی جماعتیں دہشت گردی کے خلاف ہیں یہ ج گ پاکستا کے خلاف ج گ ہے اور یہ ج گ ہماری سرزمی پر ہے اس ج گ میں ہمارے بچے ‘لڑکے مر رہے ہیں ‘بے گھر ہو رہے ہیں اور ہماری بیٹیاں جو بے گھر ہوگئی ہیں ا س لیے ہم اپ ی سرزمی کی حفاظت کریں گے ۔ آصف علی زرداری ے کہا کہ میں بے ظیر بھٹو کی اس بات سے اتفاق کرتا ہوں کہ ملک میں دہشتگردی توقع سے زیادہ بڑھ گئی ہے اور اس کا ذمہ دار صرف پرویز مشرف ہیں بلکہ یہ اس وقت بھی بہت بڑھ گئی تھی جب ہماری گزشتہ حکومت قائم تھی لیک یہ اس لیے پھیلی کیو کہ جمہوری قوتیں ملک میں موجود ہ تھیں اوردہشت گردی کے خلاف ج گ میں تو پوری د یا پرویز مشرف کے ساتھ تھی اس لیے وہ تمام اس کے ذمہ دار ہیں ا ہوں ے کہا کہ میرے خیال میں ہر کوئی دہشت گردی کے خلاف ج گ میں اکام ہوا ہے اس لیے ہمیںدہشت گردی کی اصل وجوہات ڈھو ڈ ے کی ضرورت ہے جو جمہوریت جمہوری سوچ کے ذریعے ہی ہو سکتا ہے ایک آمرا ہ ذہ یہ ہیں کرسکتا۔

امریکی حملوں تک آئینی بحران جا ری رکھنے کا فیصلہ۔تحر یر: محمد رفیق اے پی ایس






اگر چہ ملک و قوم جو اس وقت عدم استحکام کا شکار ہے اور اس کو دوبارہ استحکام کی راہ پر لا نے کیلئے آئینی بحران کا خا تمہ اس ضمن میں آزاد منش معزول ججز کی بحالی نا گز یر ہے لیکن بعض عوامی حلقوں میں یہ بھی قیاس آرا ئیاں گر دش میں ہیں کہ مشرف دور میں ایک سو چی سمجھی سا زش کے تحت آ ئینی بحران پیدا کیا گیا تا کہ پا کستان کے عوام قبا ئلی علا قوں میں ہو نے والے امر یکی حملوں کے رد عمل میں سڑکوں پر نہ آ ئیں اور نہ ہی سا بقہ حکومت کی قو می خزانے کو بے دردی سے لو ٹنے سے پیدا ہو نے والے کئی ایک بحرا نوں، جس میں مہنگا ئی ، بے روز گا ری ،نا انصافی اور خاص کر تو ا نا ئی کے بحران جیسے مختلف بحرانوں سے عوامی تو جہ ہٹا نے کیلئے آ ئینی بحران پیدا کیا گیا ہے۔ اور قبا ئلی علا قو ں میں امریکی حملوں کے تسلسل کیلئے ایک خا ص حکمت عملی کے تحت ضروری سمجھا گیا ہے امریکی حملوں کے جا ری رہنے تک آئینی بحران کو بھی جا ری رکھا جا ئے صرف اس لئے کہ پا کستان کے عوام اگر سڑکوں پر آئیں تو صرف معزول ججز کی بحالی کی بات کر یں نہ کہ پا کستان پر امریکی حملوں کیلئے۔ جبکہ آصف علی زرداری کے بیان” معاہدے اور عہد کوئی قرآن وحدیث نہیں“ کو قرآن پاک وحدیث مبارکہ کی توہین قرار دیتے ہوئے کہا گیاہے کہ قرآن پاک کی 21آیات میںبدعہدی پر سخت و تا کید کی گئی ہے اور عہد نبھانے کا حکم دیا گیا ہے۔ قرآن پاک میں جن چار افراد پر لعنت کی گئی ہے ان میں سے ایک بدعہد اور ایک جھوٹا ہے۔ بدقسمتی یہ ہے کہ اسلامی جمہوریہ پاکستان کی صدارت پر وہ آدمی فائز ہورہا ہے جو بدعہدی کو اپنی سیاست کہتا ہے اور اس پر فخر کرتا ہے۔ قوم نے پہلے ایک بدعہد سے بمشکل جان چھڑائی ہے۔ ہر نیا صدر پاکستان خود حلف اٹھا کر ایک عہد کرتا ہے پاکستان اس وقت ایک لحاظ سے حالت جنگ میں ہے۔ ایسی حالت میں ہماری پارلیمنٹ، ہماری سالمیت اور ہمارے اثاثے کسی ایسے فرد کے ہاتھ میں ہونا کہ جو عہد کی پاسداری کا سرے سے قائل ہی نہ ہو قوم کی بڑی بدقسمتی ہوگی۔جبکہ جمعیت علمائے اسلام ف کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ ججوں کی بحالی کو خوامخواہ بڑا مسئلہ بنایا جارہا ہے ۔نواز شریف کا صرف ایک مسئلے پر سخت مئوقف اپنانا مناسب نہیں۔ججز کی بحالی دیگر مسائل کے مقابلے میں قطعاً اہم نہیں ہے ۔ سب سے بڑا مسئلہ ملکی مخدوش صورتحال ہے ۔ملک ٹوٹ رہا ہے اور مسائل کا فوری سیاسی حل تلاش کرنا ہوگا۔انہوں نے کہا کہ ملک کے اندر قوت کے استعمال کے بجائے مذاکرات کا راستہ اختیار کرنا ہوگا ۔مولانا فضل الرحمان نے نواز شریف کی جانب سے دی گئی ڈیڈ لائن کے حوالے سے کہا کہ انہیں نوازشریف کا بیان سمجھ نہیں آیا اور جہاں تک اتحاد کی بات ہے تو ہمار ا معاہدہ پیپلز پارٹی کیساتھ ہے ۔ واضح رہے مسلم لیگ ن کے قائد میاں نوازشریف نے پیپلزپارٹی سے ججوں کی بحالی کے وعدوں کی پاسداری نہ کرنے اور صدارتی انتخاب کے شیڈول کے حوالے سے اعتماد میں نہ لینے کا شکوہ کیا تھا ۔ جبکہ پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری نے کہا ہے کہ قبائلی علاقوں میں صورتحال معمول پر لانا پیپلز پارٹی کی حکومت کی پہلی ترجیح ہے جس کے لیے امریکا کے تعاون کی ضرورت ہے۔ آصف علی زرداری نے کہا کہ پاکستان میں جمہوریت کے استحکام ، معاشی حالات بہتر بنانے اور خطے کو درپیش مسائل کے حل کے لیے بھرپور امریکی تعاون درکار ہے۔اپنے اوپرعائد کیے گئے کرپشن کے الزامات کے بارے میں ان کاکہناتھا کہ تمام مقدمات سیاسی بنیادوں پر قائم کیے گئے تھے جنہیں پاکستانی عوام مسترد کر چکی ہے۔اگر ان الزامات میں حقیقت ہوتی تو عوام کبھی پیپلزپارٹی کو ووٹ نہ دیتے۔ آصف علی زرداری نے کہا کہ صدارتی انتخابات میں پیپلز پارٹی کا امیدوار لانے کا مقصد ملک میں جمہوری استحکام ہے۔انہوں نے امید ظاہر کی ہے کہ آنے والے دنوں میں حالات بہتر ہو جائیں گے۔ جبکہ مسلم لیگ ن کے مرکزی سیکریٹری اطلاعات احسن اقبال نے کہا ہے کہ آصف زرداری کی سیاست میں معاہدوں اور قول کی کوئی اہمیت نہیں ہوتی ہوگی۔ہم چاہتے ہیں کہ اب پاکستان کی سیاست سے بے اصولی کو ختم ہو جانا چاہیئے۔آصف علی زرداری کے بیان سے بہت مایوسی ہوئی ہے ۔اگر آصف علی زرداری کی بات مان لی جائے کہ معاہدوں اور قول کی کوئی اہمیت نہیں تو ہمیں سوچنا ہوگاکہ قائد اعظم نے کون سی سیاست کی ۔ احسن اقبال نے کہا کہ مسلم لیگ ن نے آصف علی زرداری سے اپنے لئے کوئی عہدہ نہیں مانگا، ہم نے صرف سترہویں ترمیم کے خاتمے اور ججز کی بحالی کا مطالبہ کیا تھا۔ان کا کہناتھا کہ مسلم لیگ ن آئندہ کے اجلاس میں لائحہ عمل طے کریگی۔ابھی تک صدارتی امیدوار کے لئے کسی نام کا فیصلہ نہیں ہوا۔ صدارتی امیدوار کی خواہش جاوید ہاشمی کا ذاتی فیصلہ ہے ۔تاہم پارٹی اس پر غور کر ے گی۔ جلد بازی حکمراں جماعت کی طرف سے دکھائی گئی۔اور اسی جلد بازی میں صدارتی انتخابات کے شیڈول کا اعلان کیا گیا ۔نواز شریف نے کہہ دیا تھا کہ اگر صدارتی انتخابات سے قبل ججز کی بحالی اور سترہویں ترمیم کا خاتمہ کیا تو مسلم لیگ ن پیپلزپارٹی کے امیدوار کی حمایت کریگی۔ جبکہ تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے آصف علی زرداری کو امریکہ کا آلہ کار اور پرویز مشرف کی دوسری شکل قرار دیا ہے۔ برطانوی اخبار سے انٹرویو میں عمران خان نے کہا کہ پاکستان خانہ جنگی کی جانب بڑھ رہا ہے انہوں نے آئندہ چھ ماہ کو ملک کے لیے انتہائی مشکل قرار دیا ۔ عمران خان نے کہا کہ آصف علی زرداری صدر بن گئے تو حالات مزید خراب ہو جائیں گے وہ ملک کے اقتصادی اور سیکورٹی معاملات درست کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتے ۔ انہوں نے آصف علی زرداری کو امریکہ کا آلہ کار اور پرویز مشرف کی دوسری شکل قرار دیا ۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے دہشت گردی کے خلاف جنگ کی غیر مقبول امریکی پالیسی نہ بدلی تو ملک میں انارکی پھیل جائے گی ۔ پرویز مشرف کے دور میں جس خانہ جنگی کا خطرہ تھا وہ آصف علی زرداری کی صدارت میں شروع ہوجائے گی ۔ جبکہ قوم پرست جماعت عوامی نیشنل پارٹی نے صدراتی انتخاب میں پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری کی حمایت کا اعلان کر دیا ہے۔یہ اعلان اتوار کو پشاور میں پارٹی کے مرکزی دفتر باچا خان مرکز سے اے این پی کے سربراہ اسفندیار ولی خان کی طرف سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کیا گیا ہے۔ بیان کے مطابق اکثریتی پارٹی ہونے کے ناطے پاکستان پیپلز پارٹی کو صدارتی امیدوار چننے کا حق حاصل ہے جبکہ آصف علی زرداری کا تعلق بھی ایک چھوٹے صوبے سندھ سے ہے۔ عوامی نیشنل پارٹی امن، وفاقی جمہوری نظام، عدلیہ، میڈیا کی آزادی اور صوبائی خودمختاری کے مشترکہ پروگرام کی بنیاد پر آصف علی زرداری کو اتحاد کا امیدوار سمجھتی ہے اور چھ سمتبر کو ملک کا صدر منتخب ہونے کے بعد آصف زرداری ملک کے سیاسی نظام سے آمریت کے باقیات کے خاتمے کے لیے فیصلہ کن اقدامات کریں گے۔ اے این پی ملک میں جمہوری نظام کے استحکام کے لیے جمہوری قوتوں کے درمیان تعاون کو بہت اچھا سمجھتی ہے اور عوام کی نمائندہ جمہوری جماعتیں سیاسی بصیرت کا مظاہرہ کرتے ہوئے کم سے کم پروگرام پر ایک دوسرے کے ساتھ تعاون جاری رکھیں گی۔ واضح رہے کہ گزشتہ روز آصف زرداری کی طرف سے صدارتی انتخاب لڑنے کے اعلان کے بعد عوامی نیشنل پارٹی حکمران اتحاد کی پہلی جماعت ہے جس نے زرداری کی حمایت کا باضابطہ اعلان کیا ہے جبکہ اس سے قبل متحدہ قومی موومنٹ کے قائد الطاف حسین نے پیپلز پارٹی کی جانب سے آصف زرداری کی عہدہ صدارت کے لیے نامزدگی سے قبل ہی اعلان سے ان کی حمایت کا اعلان کر دیا تھا۔ جبکہ آئی ایس آئی کے سابق سربراہ لیفٹیننٹ جنرل(ر) حمید گل نے کہا ہے کہ امریکہ اس خطے میں چین کو ایک کنارے پر رکھ کر قدرتی وسائل پر قبضہ کرنا چاہتا ہے ۔ یہ امریکہ کاہمیشہ سے طریقہ کار رہا ہے کہ اس نے اس ابھرتی ہوئی طاقت کو کچلنے یا روکنے کی کوشش کی جو اس کی عالمی استعماریت کے لیے خطرہ بن سکتی تھی ۔ جنرل(ر) حمید گل نے کہا ہے کہ امریکہ کا آئی ایس آئی کا عسکریت پسندوں کے ساتھ تعلقات کا الزام غلط ہے ا ور ضروری بھی نہیں کہ امریکہ کا ہر الزام صحیح ہو ۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ جنگ ہار چکا ہے اور و ہ ماضی کی طرح آئی ایس آئی کو اپنے ساتھ شامل کرنا چاہتا ہے اور اس بات میں کوئی شک نہیں کہ ضیاءالحق کے اشارے پر آئی ایس آئی نے امریکہ کے ساتھ مل کر روس کے خلاف جنگ لڑی ۔ انہوں نے کہا کہ یہ امریکہ کی جنگ ہے اور یہاں عام لوگ طالبان مخالف جذبات نہیں رکھتے تاہم طالبان کے آئی ایس آئی اور پاکستانی افواج پر حملوں کے بعد آئی ایس آئی کو ان لوگوں سے خفیہ تعلقات نہیں رکھنے چاہیے اس وقت ہماری فوج تربیت یافتہ جنگجوو¿ں سے لڑرہی ہے ۔ افغانستان کے حوالے سے بات چیت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ افغان لوگوں کے اندر امریکہ اوروہاں کرزئی حکومت کے خلاف نفرت بڑھ رہی ہے ۔ القاعدہ کے نائن الیون بم حملوں میں ملوث ہونے کے حوالے سے جنرل (ر) حمید گل نے کہا کہ میں نہیں سمجھتا کہ القاعدہ اس میں ملوث تھی یہ منصوبہ بندی افغانستان میں نہیں بلکہ جرمنی میں تیار کی گئی۔ بعض تجزیہ کا روں اور سیا سی رہنمائو ں اور عوامی حلقوں کا خیال ہے کہ آصف علی زرداری صدر پاکستان کے عہدے کیلئے انتہائی ناموزوں شخص ہیں۔ ان پر کرپشن اور منی لانڈرنگ کے کئی مقدمات اندرون وبیرون ملک کی عدالتوں میں زیر سماعت تھے جنہیں این آر او کے ذریعے ختم کیا گیا۔ مہذب دنیا کے کسی ملک کے حکمران پر کرپشن کا الزام لگ جائے تو وہ اقتدار سے الگ ہوجاتا ہے جبکہ آصف علی زرداری پر کرپشن کے کئی الزامات ثابت بھی ہوچکے ہیں۔ انہوں نے ججوں کی بحالی کے لئے اب تک کئے گئے تمام معاہدوں کی خلاف ورزی کی ہے اس لئے اخلاقی طور پر بھی وہ صدارت کے اہل نہیں ہیں۔ پیپلز پارٹی نے آصف علی زرداری کو صدارتی امیدوار نامزد کرکے سنگین غلطی کی ہے۔ صدارت کیلئے ایسی شخصیت کو نامزد کیا جانا چاہئے تھا جس پر تمام جماعتوں اور پوری قوم کا اتفاق ہو۔ آصف علی زرداری متنازعہ شخصیت ہیں اور کرپشن میں سے سے پاو¿ں تک لتھڑے ہوئے ہیں۔ این آر او کے چشمے میں غسل کرلینے سے وہ پاک نہیں ہوگئے۔ پھر ایسے شخص کو صدر بنانا جو معاہدوں کا لحاظ ہی نہیں رکھتا اور ان کا یہ کہہ کر مذاق اڑاتا ہے کہ ” معاہدے قرآن وسنت کے الفاظ نہیں کہ بدل سکیں“ ان کا یہ طرز عمل دنیا میں پاکستان کی کیا تصویر پیش کرے گا اور اس کے بعد دنیا کے ممالک میں پاکستان کے معاہدوں کی کیا حیثیت رہ جائے گی۔ جو لوگ آصف علی زرداری کو صدر بنانے میں تعاون کریں گے وہ قومی مجرم قرار پائیں گے اور عوام ان کا کڑا احتساب کریں گے۔ قرآن وحدیث کی روشنی میں آصف علی زرداری کو اپنے کردار کا جائزہ لینا چاہئے۔ پیپلز پارٹی کی حکومت نے پرویز مشرف کو ہٹانے کیلئے امریکہ کو مشرف سے بڑھ کر وفاداری کی یقین دہانی کرائی تھی اور باجوڑ میں فوج کے ذریعے اپنے عوام پر شدید بمباری اس بات کا ثبوت ہے۔ کسی ملک کی فوج اپنے شہریوں پر بمباری کرکے انہیں اپنے ہی ملک میں ہجرت پر مجبور کردے یہ دنیا کی نادر مثال ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آصف علی زرداری ججز کو بحال نہیں کرنا چاہتے کیونکہ آزاد عدلیہ کی موجودگی میں وہ من مانی کاروائیاں نہیں کرسکیں گے۔ جمہوری معاشروں میں آزاد عدلیہ کا اہم کردار ہے لیکن جہاں آمریت ہو وہ آزاد عدلیہ کو کسی صورت برداشت نہیں کرسکتی۔ آصف علی زرداری ملک پر آمریت مسلط کرنا چاہتے ہیں انہوں نے پہلے ہی تمام اختیارات اپنے پاس رکھے ہوئے ہیں۔ صدر بننے کے بعد وہ آمر مطلق بن جائیں گے۔ تمام جمہوری قوتوں کو مل کر ملک میں آمریت کا راستہ روکنا چاہئے۔اے پی ایس

سیاست سے بے اصولی کا خا تمہ نا گزیر ہے۔تحر یر: محمد رفیق اے پی ایس






جمعیت علمائے اسلام ف کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ ججوں کی بحالی کو خوامخواہ بڑا مسئلہ بنایا جارہا ہے ۔نواز شریف کا صرف ایک مسئلے پر سخت مئوقف اپنانا مناسب نہیں۔ججز کی بحالی دیگر مسائل کے مقابلے میں قطعاً اہم نہیں ہے ۔ سب سے بڑا مسئلہ ملکی مخدوش صورتحال ہے ۔ملک ٹوٹ رہا ہے اور مسائل کا فوری سیاسی حل تلاش کرنا ہوگا۔انہوں نے کہا کہ ملک کے اندر قوت کے استعمال کے بجائے مذاکرات کا راستہ اختیار کرنا ہوگا ۔مولانا فضل الرحمان نے نواز شریف کی جانب سے دی گئی ڈیڈ لائن کے حوالے سے کہا کہ انہیں نوازشریف کا بیان سمجھ نہیں آیا اور جہاں تک اتحاد کی بات ہے تو ہمار ا معاہدہ پیپلز پارٹی کیساتھ ہے ۔ واضح رہے مسلم لیگ ن کے قائد میاں نوازشریف نے پیپلزپارٹی سے ججوں کی بحالی کے وعدوں کی پاسداری نہ کرنے اور صدارتی انتخاب کے شیڈول کے حوالے سے اعتماد میں نہ لینے کا شکوہ کیا تھا ۔ جبکہ پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری نے کہا ہے کہ قبائلی علاقوں میں صورتحال معمول پر لانا پیپلز پارٹی کی حکومت کی پہلی ترجیح ہے جس کے لیے امریکا کے تعاون کی ضرورت ہے۔ آصف علی زرداری نے کہا کہ پاکستان میں جمہوریت کے استحکام ، معاشی حالات بہتر بنانے اور خطے کو درپیش مسائل کے حل کے لیے بھرپور امریکی تعاون درکار ہے۔اپنے اوپرعائد کیے گئے کرپشن کے الزامات کے بارے میں ان کاکہناتھا کہ تمام مقدمات سیاسی بنیادوں پر قائم کیے گئے تھے جنہیں پاکستانی عوام مسترد کر چکی ہے۔اگر ان الزامات میں حقیقت ہوتی تو عوام کبھی پیپلزپارٹی کو ووٹ نہ دیتے۔ آصف علی زرداری نے کہا کہ صدارتی انتخابات میں پیپلز پارٹی کا امیدوار لانے کا مقصد ملک میں جمہوری استحکام ہے۔انہوں نے امید ظاہر کی ہے کہ آنے والے دنوں میں حالات بہتر ہو جائیں گے۔ جبکہ مسلم لیگ ن کے مرکزی سیکریٹری اطلاعات احسن اقبال نے کہا ہے کہ آصف زرداری کی سیاست میں معاہدوں اور قول کی کوئی اہمیت نہیں ہوتی ہوگی۔ہم چاہتے ہیں کہ اب پاکستان کی سیاست سے بے اصولی کو ختم ہو جانا چاہیئے۔آصف علی زرداری کے بیان سے بہت مایوسی ہوئی ہے ۔اگر آصف علی زرداری کی بات مان لی جائے کہ معاہدوں اور قول کی کوئی اہمیت نہیں تو ہمیں سوچنا ہوگاکہ قائد اعظم نے کون سی سیاست کی ۔ احسن اقبال نے کہا کہ مسلم لیگ ن نے آصف علی زرداری سے اپنے لئے کوئی عہدہ نہیں مانگا، ہم نے صرف سترہویں ترمیم کے خاتمے اور ججز کی بحالی کا مطالبہ کیا تھا۔ان کا کہناتھا کہ مسلم لیگ ن آئندہ کے اجلاس میں لائحہ عمل طے کریگی۔ابھی تک صدارتی امیدوار کے لئے کسی نام کا فیصلہ نہیں ہوا۔ صدارتی امیدوار کی خواہش جاوید ہاشمی کا ذاتی فیصلہ ہے ۔تاہم پارٹی اس پر غور کر ے گی۔ جلد بازی حکمراں جماعت کی طرف سے دکھائی گئی۔اور اسی جلد بازی میں صدارتی انتخابات کے شیڈول کا اعلان کیا گیا ۔نواز شریف نے کہہ دیا تھا کہ اگر صدارتی انتخابات سے قبل ججز کی بحالی اور سترہویں ترمیم کا خاتمہ کیا تو مسلم لیگ ن پیپلزپارٹی کے امیدوار کی حمایت کریگی۔ جبکہ تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے آصف علی زرداری کو امریکہ کا آلہ کار اور پرویز مشرف کی دوسری شکل قرار دیا ہے۔ برطانوی اخبار سے انٹرویو میں عمران خان نے کہا کہ پاکستان خانہ جنگی کی جانب بڑھ رہا ہے انہوں نے آئندہ چھ ماہ کو ملک کے لیے انتہائی مشکل قرار دیا ۔ عمران خان نے کہا کہ آصف علی زرداری صدر بن گئے تو حالات مزید خراب ہو جائیں گے وہ ملک کے اقتصادی اور سیکورٹی معاملات درست کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتے ۔ انہوں نے آصف علی زرداری کو امریکہ کا آلہ کار اور پرویز مشرف کی دوسری شکل قرار دیا ۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے دہشت گردی کے خلاف جنگ کی غیر مقبول امریکی پالیسی نہ بدلی تو ملک میں انارکی پھیل جائے گی ۔ پرویز مشرف کے دور میں جس خانہ جنگی کا خطرہ تھا وہ آصف علی زرداری کی صدارت میں شروع ہوجائے گی ۔ جبکہ آئی ایس آئی کے سابق سربراہ لیفٹیننٹ جنرل(ر) حمید گل نے کہا ہے کہ امریکہ اس خطے میں چین کو ایک کنارے پر رکھ کر قدرتی وسائل پر قبضہ کرنا چاہتا ہے ۔ یہ امریکہ کاہمیشہ سے طریقہ کار رہا ہے کہ اس نے اس ابھرتی ہوئی طاقت کو کچلنے یا روکنے کی کوشش کی جو اس کی عالمی استعماریت کے لیے خطرہ بن سکتی تھی ۔ جنرل(ر) حمید گل نے ” وائس آف امریکہ سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ کا آئی ایس آئی کا عسکریت پسندوں کے ساتھ تعلقات کا الزام غلط ہے ا ور ضروری بھی نہیں کہ امریکہ کا ہر الزام صحیح ہو ۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ جنگ ہار چکا ہے اور و ہ ماضی کی طرح آئی ایس آئی کو اپنے ساتھ شامل کرنا چاہتا ہے اور اس بات میں کوئی شک نہیں کہ ضیاءالحق کے اشارے پر آئی ایس آئی نے امریکہ کے ساتھ مل کر روس کے خلاف جنگ لڑی ۔ انہوں نے کہا کہ یہ امریکہ کی جنگ ہے اور یہاں عام لوگ طالبان مخالف جذبات نہیں رکھتے تاہم طالبان کے آئی ایس آئی اور پاکستانی افواج پر حملوں کے بعد آئی ایس آئی کو ان لوگوں سے خفیہ تعلقات نہیں رکھنے چاہیے اس وقت ہماری فوج تربیت یافتہ جنگجوو¿ں سے لڑرہی ہے ۔ افغانستان کے حوالے سے بات چیت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ افغان لوگوں کے اندر امریکہ اوروہاں کرزئی حکومت کے خلاف نفرت بڑھ رہی ہے ۔ القاعدہ کے نائن الیون بم حملوں میں ملوث ہونے کے حوالے سے جنرل (ر) حمید گل نے کہا کہ میں نہیں سمجھتا کہ القاعدہ اس میں ملوث تھی یہ منصوبہ بندی افغانستان میں نہیں بلکہ جرمنی میں تیار کی گئی۔اے پی ایس

Humbled by people's power, General retreats


Nasim Zehra

General retired Pervez Musharraf resigned from the presidential slot because all his survival options had evaporated.
His impeachment was guaranteed since the parliamentarians the judges for his impeachment had given their verdict. The army leadership working on its professionalism plus over-engaged in a threatening internal and external strategic environment was busy working on their former chief's safe.
The Americans as early as May had begun trying to facilitate General Musharraf's 'peaceful' exit. Hence the political, the institutional, constitutional, the legal, the ballot, the internal security and the external factor all worked against him. He had to exit. A fight-back was never on the cards.
Musharraf, the reluctant coup maker who began with the genuine desire to reform state, society and politics, exited as a resounding political failure. If the elections presented a scorecard for his political allies the provincial assembly votes demanding his impeachment was an 'all-in-red' scorecard of his political career.
For all the political engineering over almost a decade Musharraf quit leaving Pakistan's political stage in the hands of those very people he had vowed to 'cleanse' the society of. Pakistan's political maturing in the Musharraf years touched unprecedented heights. The autocratic Musharraf provided a politically conscious society the wherewithal for no-holds-barred public discussion of politics, politicians and those wielding State power.
The free and expanding media combined with developing art and culture brought into open the blaring contradictions between Musharraf's stated objectives and the sullied political process adopted by his regime to achieve those goals. Meanwhile, the geo-strategic challenges post 9/11 also worked as a double-edged sword. If it ended Musharraf regime's short-lived isolation abroad, at home it earned him growing anger and criticism. Minus genuine political support any kind of US partnership in fighting terrorism and dealing with the increasing internal security crisis underscored by suicide bombings, was always going to be politically costly. Understanding the dynamics of political processes and public opinion was never the General's strength. He believed he could defy dynamics with good intentions and patriotism. He had won peculiar logic intrinsic to his training and to his personality.
General Musharraf acted, ironically as if to ensure that the consciousness is not wasted. He fired the Chief Justice of Pakistan. The dye was then cast for Musharraf with the initial lawyers' reaction to the March 9 ouster of the Chief Justice. Soon the lawyers which began to spread across Pakistan's hitherto politically inactive sections of society, the educated middle class, the students, the professionals, housewives, political workers etc. Never before in Pakistan's history had such a cross-section of people had risen in unity around issues of principles and law. Never before since the anti-Ayub Khan movement had peoples' outrage been converted into street power at such a scale and on such an ongoing basis.
The media proliferated the message effectively and the public heard it attentively. Talk shows became more popular than soap operas. At every level there was a new political awakening. The sense of outrage grew.
The message covered the cumulative lesson of the decades but its relevance was for the immediate context and the target was present unconstitutional president. In public perception, through his treatment of the two ballot-authenticated genuine national leaders, through the Balochistan Operation, the Lal Masjid operation, the question of the missing persons, the Bugti killing, the imposition of the Emergency, the sacking of the judges, the arrest of the judges, General Musharraf personified the cause for this absence of the rule of law. Historical and institutional causes did not matter. In 2007 the all-powerful man, taking decisions mostly with input from his khaki advisors, had become the embodiment of the violation of the Constitution.
The popular peoples' power that began crystallising in the form of this ongoing movement forced a rethink in the two A's known to be key players in Pakistan's politics — Army and America. Late 2007 Washington was forced to reassess Musharraf's political standing at home.
Washington increased the pressure it was already exerting on Musharraf to align with a genuine political force. The Benazir-Musharraf negotiations were brokered. Perhaps Musharraf believed there was survival for him as president in the deal.
Injection of Benazir Bhutto, the charismatic and popular leader back into Pakistan gave the needed impetus to the peoples movement. For Musharraf keeping Nawaz Sharif, the other genuinely popular national leader out of Pakistan was impossible.
The two were back in the fray to comprehensively overturn all of Musharraf's political planning. Both returned and promptly traded in their support for the peoples movement demanding restoration of the judiciary and the ouster of Musharraf for growing popularity.
An army chastened by its many problems within and outside, now with a changed leadership, knew it could not go along with any political manipulation plans.
The heart-wrenching assassination of Pakistan's brave and bold leader Benazir merely meant greater strength to peoples power.
The election results comprehensively declared the Musharraf era was over.
Such was the Musharraf journey to his political end. The man who started off his journey with the motto that" I stand for the poor of this country" and I believe in "complete freedom of the press" has exited a highly unpopular and disliked political figure. Three days into the October 12 coup, in a background discussion Mushararf had rebuffed the idea of a National Security Council because "it was unthinkable to put an unelected body on an elected one."
The lesson then for us of the Musharraf phenomenon? Our commitment to a democratic system must be unrelenting. The sanctity of the Constitution and of the system is paramount to all else. Even if an angel walked in to tell us that he/she has the answers to our troubles, we must say 'no thank you'. And for the Khaki adventurer an even louder and clearer 'no thank you.' In Pakistan with a strengthened democratic context the space has greatly shrunk for military adventurers. Democracy with its twists and turns is now again on test.

Nasim Zehra is a fellow of Harvard University Asia Center, Cambridge, Mass. and Adjunct professor at SAIS Johns Hopkins University, Washington DC.

Pentagon considers independent operations in Pakistan





WASHINGTON - Senior Pentagon officials are debatingwhether the US militay should undertake independent operations against Islamic militants operating in Pakistan's northwestern tribal areas, The Los Angeles Times reported on Saturday.
The newspaper said these internal debates followed US intelligence warnings that Al-Qaeda and other militant groups are consolidating their hold on northwestern Pakistan.
The report came as Pakistani soldiers killed up to 35 militants in a massive offensive in northwest Pakistan, and at least six people were killed in separate bomb attacks, according to Pakistani military and police officials.
Troops are battling Taliban militants in the Swat valley in North West Frontier Province where the violence has left dozens of dead and wounded.
But there is a growing belief within the US government that the new leadership in Islamabad has proved to be ineffectual in the fight against the militants.
"Radical terrorist groups in the border regions have undermined and fought against the central government of Pakistan and carved out sanctuaries and training bases," an unnamed senior US officer in Afghanistan is quoted by The Times as saying. "They have come back, and they are presenting a significant challenge."
A team of as many as 30 trainers was supposed be sent to Pakistan this summer to operate out of a base near the northwestern city of Peshawar.
But Pentagon officials said the training has been blocked by the Pakistani government for months, in part because of anger over the June killing of 11 Frontier Corps members in a US airstrike near the Afghan border.

پا کستان ایک نئے ما رشل لاءکی طرف تیزی سے گا مزن ہے۔ تحریر : اے پی ایس



پی ایم ایل ن کے پاکستان پیپلز پارٹی کے ساتھ ہونے والے بہت سے معاہدے پورے نہیں ہوئے جمہوری ذہن عوام کو پی پی پی اور ن لیگ کا اتحاد ٹوٹنے کا دکھ ہے ، عوامی حلقوں کے مطابق اتحاد توڑنے کا اقدام خود پی پی پی نے یکطرفہ طور پر کیا ہے جبکہ بعض سیا سی رہنماءاتحاد برقرار رکھنے کیلئے ہر ممکن کوشش کر رہے ہیں پی پی پی کی جانب سے اعلان مری پر عمل نہیں ہوا بارہ مئی کے فیصلے پر عمل نہیں ہوا سات اگست کے فیصلے پر عمل نہیں ہوا متنازعہ گورنر پنجاب کا تقرر عمل میں لایا گیا پی سی او ججز کے ذریعے نواز شریف کی اہلیت کو نا اہلی میں تبدیل کیا گیا (ن) لیگ نے جمہوریت کے فروغ کی خاطر بہت سے کڑوے گھونٹ پیئے ہیں جبکہ پی پی پی نے اتحاد کو ختم کرنے کا یکطرفہ طور پر حتمی اقدام اٹھایا ہے ان کے مطا بق وہ چاہتے تھے کہ ہر قیمت پر اتحاد کو چلائیں تاکہ دونوں جماعتیں مل کر دہشت گردی مہنگائی ، بے روز گاری اور دیگر مسائل مل کر حل کریں ججز کی بحالی کے بارے میں بعض غلط سگنل آنے پر عوامی شدید رد عمل میں کہا گیا ہے کہ پی پی پی کے بعض لیڈر چیف جسٹس افتخار چوہدری کی کردار کشی کر رہے ہیں ملک میں بے یقینی پیدا ہو رہی ہے جبکہ اس بے یقینی کو بچانے کیلئے ہر ممکن کوشش نا کا م ہو رہی ہے اور پا کستان ایک نئے ما ر شل لا ءکی طرف تیزی سے گا مزن ہے۔ عوام کو دکھ ہے کہ مو جو دہ دیا سی قیا دت نے گذشتہ نو سال تک ذلیل و رسوا ہو نے کے با و جود بھی کو ئی سبق نہیں سیکھا اور نہ ہی کسی طرح سے یہ معاملہ حل ہو سکا ہے ۔لیکن عوام کو بھی افسوس ہے کہ معاہدوں پر عمل نہیں کیاگیا اور اس کی خلاف ورزی کی گئی ان کے نزدیک سترہویں ترمیم کے خاتمے کے بعد آصف زرداری کی نامزدگی ہوئی ۔ جبکہ آئین ایک ایسی دستاویز کا نام ہے جو زندہ قوموں کی شناخت اور ان کی منزل کا تعین کرتی ہے‘ جس کی راہ پر چل کر قومیں اپنے مستقبل کا تعین کرتی ہیں‘ مگر بدقسمتی سے پاکستان کی آئینی تاریخ فوجی طالع آزماو¿ںکے ہاتھوں تار تار ہونے سے عبارت ہے۔ جب بھی جمہوریت پرآمریت نے شب خون مارا تو پہلا وارآئین پر ہی ہوا‘ آئین کی دھجیاں بکھیر کر ہی جمہوریت کی بساط لپیٹی گئی۔ پاکستان میں قائم کی جانے والی آمریت کی تاریخ میںپرویز مشرف کی آمریت کا دور وہ سیاہ دور ہے جس میں پاکستان کے مسلمہ اور متفقہ آئین کو ایک نہیں بلکہ دو مرتبہ پامال کیا گیا۔1973ء کاآئین وہ متفقہ آئین ہے جس پر پاکستان کی تمام چھوٹی بڑی سیاسی و دینی جماعتیں متفق ہیں‘ پرویزمشرف نے اس متفقہ آئین کو پامال کر کے پاکستان کو مملکت بے آئین بنانے کی کوشش کی۔اب جب کہ ملک میں جمہوریت بحال ہوگئی ہے ‘ نئی حکومت کے لئے ناگزیر ہے کہ وہ آئین کی حقیقی بالادستی کے لئے اقدامات کرے اور73ءکے آئین کو 12 اکتوبر99ءکی پوزیشن پر بحال کیا جائے ۔پرویز مشرف کا9 سالہ دور اقتدار پاکستان کی تاریخ کا سیاہ باب ہے جسے قوم کبھی فراموش نہیں کرسکتی‘ پرویز مشرف نے آئین ‘ قانون اوردستور کو پامال کرکے صدارت کامنصب حاصل کیا تھا‘ قوم اورملک کی دینی و سیاسی جماعتوں نے انہیں کبھی آئینی صدر تسلیم نہیں کیا ۔ پرویز مشرف نے افغانستان پر حملے کیلئے امریکا کو لاجسٹک سپورٹ فراہم کی جس کے نتیجے میںلاکھوں افغانیوں کا خون ہوا‘اپنے اقتدارکوبچانے کیلئے قبائلی علاقوں میں فوجی آپریشن کیا اوراپنے ہی عوام کو خاک و خون میںنہلایا گیا۔ روشن خیالی کے نام پر پاکستان میں مغربی اورہندوانہ تہذیب وثقافت کو رواج دینے کی کوشش کی گئی ‘ حقوق نسواں کے نام پر حدود قوانین میں تبدیلی کی گئی‘ جامعہ حفصہ ، اور لال مسجد آپریشن کر کے معصوم اور پاک باز طالبات کے خون سے ہولی کھیلی گئی اور طلبہ وطالبات پر فاسفورس بم پھینک کر انہیں بارود کے ڈھیر میں تبدیل کردیا گیا۔فوج جو پاکستان کے عزت و وقار کی علامت اور پاکستان کی بقاء و سلامتی کی ضامن تھی اسے امریکا کے کرائے کی فوج میں تبدیل کیا گیا۔ دینی مدارس جو نہ صرف پاکستان کی اسلامی اور نظریاتی تشخص کے امین ہیں ان کے خلاف بے بنیاد پروپیگنڈہ کیا گیا ‘غیر ملکی طالب علموں کو امریکا کے کہنے پر ملک بدر کیا گیا۔پاکستان کے معصوم شہریوں کو پکڑ پکڑ کر چند ڈالروں کے عوض امریکا کے ہاتھوں فروخت کیا گیا۔صحافت جو ریاست کا چوتھا ستون ہے اس پر کاری ضرب لگانے کی کوشش کی گئی اورریاست کے تمام ستونوںکو باری باری گراتے ہوئے آخری وار 9 مارچ 2007ءکو آزاد اور خود مختار عدلیہ پرکیا گیا‘ چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری سمیت اعلی عدالتوں کے 60 سے زائد ججز کو نظر بند کردیا گیا اس ضمن میں آل پارٹیز کانفرنس نے بھی مطالبہ کیا ہے کہ پرویز مشرف کامحاسبہ پاکستان کے 16 روڑ عوام کامطالبہ ہے‘ اگر انہیں محفوظ راستہ دینے کی کوشش کی گئی تو یہ ملک و قوم سے غداری اور پاکستانی عوام کی امنگوں کے منافی ہوگا۔ انہیں انصاف کے کٹہرے میں کھڑا کیا جائے۔ پرویز مشرف کا نام ای سی ایل میںڈالا جائے اوران کے جرائم کے خلاف مقدمات دائر کئے جائیں مزید براں آئین پاکستان کو دومرتبہ توڑنے پرآئین کی شق 6 کے تحت بغاوت کامقدمہ چلایا جائے۔ججز کی معطلی کا اقدام خلاف آئین اقدام تھا‘ موجودہ حکومت نے اعلان بھوربن کے ذریعے قوم سے وعدہ کیا تھا کہ اسمبلی کے قیام کے بعد 30 دنوںمیں ججز بحال کردئیے جائیں گے‘ مگر یہ وعدہ پورا نہیں کیاگیا اورکہا گیا کہ ججز 12 مئی کوبحال کئے جائیں گے اور جب ججز 12 مئی کو بھی بحال نہیں کئے گئے تو کہا گیا کہ پرویز مشرف کے مستعفی ہونے کے 24 گھنٹوں کے اندر ججوں کوبحال کردیا جائے گا مگر پرویز مشرف کو مستعفی ہوئے 6 دن گزرگئے اس کے باوجود ججز بحال نہیں کئے جاسکے اب قوم کوایک نئی ڈیڈ لائن دیدی گئی ہے کہ ججز آنے والے ہفتے میں بحال کردئیے جائیں گے حکمران جماعت میں شامل بعض جماعتیں عدلیہ کی بحالی سے خوفزدہ ہیں اسی لئے مسلسل ڈیڈلائنوں میں اضافہ کیا جارہا ہے اورعدلیہ کی بحالی کے سلسلے میں لیت و لعل سے کام لیاجارہا ہے جبکہ آل پارٹیز کانفرنس یہ بھی مطالبہ کیا ہے کہ عدلیہ کی بحالی کے لئے دی جانے والی ڈیڈ لائن پرسختی سے عمل درآمدکیا جائے تاکہ قوم عصابی تناو سے باہر نکل سکے۔صدر کا منصب ایک انتہائی حساس اور غیر جانبدارانہ منصب ہے،اس منصب کے لیے کسی ایسے شخص کاانتخاب کیا جائے جو سیاسی وابستگی سے بالاترہوکر تمام سیاسی و دینی جماعتوں اور پاکستانی عوام کے لیے قابل قبول ہو۔اے پی ایس

Saturday, August 23, 2008

آزاد عدلیہ ہی پا کستان کا مستقبل ہے ۔ تحریر : محمد رفیق اے پی ایس






حکمراں اتحاد کی طرف سے معزول ججوں کو بحال نہ کرنے سے عوام میں مایوسی پھیلی ہے اور متعدد بار اس ضمن میں وعدے پورے نہیں کیے گئے جبکہ تجزیہ کا روں کا خیال ہے کہ آ صف زرداری معزول ججز کی بحالی سے پہلے ایوان صدر پہنچ کر ان کے اندر کا زہر نکا ل کر بحال کر نا چا ہتے ہیں تا کہ کم از کم وہ کسی معزول جج کے ڈسنے سے محفوظ رہ سکیں اور دوسری بات وہ ان معزول ججز کا کر یڈٹ بھی نواز شریف کو نہیں دینا چا یتے جن کی بنیاد پر ان کے نزدیک نواز شریف اپنی سیا سی دوکا ن چمکا ءرہے ہیں۔ جبکہ بعض تجزیہ کا روں کا خیال ہے کہ اگر آصف زرداری ایوان صدر پر قا بض ہو جا تا ہے تو نواز شریف کو بھی اس پر تحفظات ہیں کیونکہ اگر مو جو دہ صورتحال کا تسلسل یو نہی بر قرار رہا تو دو ما ہ یا چار ماہ بعد دوبارہ الیکشن ہوتے ہیں تو مو جودہ حکومت کی طرف سے معزول ججز کو بحال نہ کر نے کے عوامی نفرت کے شدید رد عمل میں دو بارہ نواز شریف بھا ری اکثریت سے کا میاب ہو تا ہے۔ تو ایوان صدر میں گھات لگا ئے بیٹھا جیا لا نئی منتخب حکومت کو نقصان پہنچا کر اسے عدم استحکام کا نشانہ بنا سکتا ہے۔ جبکہ پاکستان پیپلزپارٹی نے آصف علی زر داری کو صدارتی امیدوار نامزد کر دیا ہے جبکہ آصف علی زر داری نے اس عہدے کے لئے امیدوار ہو نا قبول کر لیا ہے اس بات کا اعلان پی پی پی کے سیکرٹری جنرل سینیٹر رضا ربانی نے اسلام آباد میں وفاقی وزراء سید خورشید شاہ اور شیری رحمان کے ہمراہ پریس کانفرنس کر تے ہوئے کیا رضا ربانی نے کہا کہ پارٹی کا متفقہ فیصلہ ہے کہ سینیٹر آصف علی زر داری پی پی پی کے صدارتی امیدوار ہوں گے اور وہ ٦ ستمبر کو ہو نے والے صدارتی امیدوار میں حصہ لیں گے جبکہ آصف علی زر داری نے اس عہدے کے لئے امیدوار ہو نا خندہ پیشانی سے قبول کر لیا ہے ججز کی بحالی کے بارے میں رضا ربانی نے کہا کہ ججز ضرور بحال ہوں گے تاہم اس کے لئے کوئی حتمی ٹائم فریم نہیں دیا جا سکتا انہوں نے کہا کہ پی پی پی کی قیادت نے عوام کو کبھی دھوکہ نہیں دیا اور ججز کی بحالی میں بھی دھوکہ نہیں دے گی اور تمام ججز کو ضرور بحال کیا جائے گا انہوںنے کہا کہ ہماری پارٹی نے جو معاہدے کیے ہیں اس پر کار بند ہے وہ کبھی ان کی خلاف ورزی نہیں کرے گی ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ آصف علی زر داری کا صدارتی امیدوار ہو نے کا اعلان بے نظیر بھٹو کی جدوجہد کو سامنے رکھتے ہوئے کیا گیا ہے اور آصف زر داری نے بھی اسی بات کے پیش نظر یہ فیصلہ قبول کر لیا ہے کہ آصف زر داری نے آمریت کے خلاف جدوجہد کی ان کی حکمت عملی کی ہی بدولت آمر سے نجات ملی اور پہلی بار آمر کو عوام کے سامنے جھکنا پڑا حکمران اتحاد کے بارے میں سوال پر انہوں نے کہا کہ اتحاد قائم رہے گا اور اس حوالے سے خبریں بے بنیاد ہیں ہم سب مل کر ہی عوام کو مشکلات سے نجات دلا سکتے ہیں انہوںنے کہا کہ اتحاد ٹوٹنے کی باتیں کر نے والے جمہوریت کے دشمن ہیں۔ جبکہ پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری نے میاں نواز شریف کے ساتھ ججوں کی بحالی اور دیگر امور پر ہونے والے معاہدوں کے متعلق کہا ہے کہ یہ کوئی قرآن کے الفاظ یا حدیث تو نہیں ہیں کہ ان میں بدلتی ہوئی صورتحال کے ساتھ تبدیلی نہ لائی جاسکے۔آصف علی زرداری کے نہیں نزدیک سیاسی جماعتوں میں کوئی معاہدے نہیں ہوتے بلکہ مفاہمت ہوتی ہے۔ ان کے بقول سیاسی مفاہمت میں کبھی پچاس فیصد کامیابی ہوتی ہے تو کبھی کچھ زیادہ تو کبھی انہیں کامیاب مانا جاتا ہے۔ آصف علی زرداری نے ججوں کی بحالی اور اس سے متعلق ٹائم فریم کے بارے میں کوئی واضح جواب نہیں دیا۔ ٹائم فریم پر انہوں نے کہا ہے کہ نہ وہ الٹی گنتی میں یقین رکھتے ہیں نہ سیدھی گنتی میں اور نہ ہی کوئی ٹائم فریم دے سکتے ہیں۔ صدر پرویز مشرف کے مواخذے کے متعلق انہوں نے کہا ہے کہ پیپلز پارٹی نے کبھی انتقام میں یقین نہیں رکھا۔ ان کے بقول ذوالفقار علی بھٹو نے یحیٰ خان کا مواخذہ نہیں کیا۔ ان کے مطابق بھٹو صاحب نے یحیٰ خان کا مواخذہ اس لیے نہیں کیا کیونکہ پھر زیر حراست جنرل نیازی کا بھی مواخذا ہوتا اور شیخ مجیب تو بھارت سے کہہ رہے تھے کہ جنرل نیازی ان کے حوالے کیا جائے۔ ذوالفقار علی بھٹو کا عدالتی قتل کرنے والے نسیم حسن شاہ کے اقرار کے باوجود بینظیر بھٹو نے کچھ نہیں کیا۔ ’شہید بینظیر بھٹو نے ہمیشہ کہا کہ جمہوریت ہی بہتر انتقام ہوتی ہے۔‘ آصف علی زرداری نے ایک سوال کہ کیا مسلم لیگ (ن) کے ساتھ ان کا ساتھ چلنا اب مشکل نہیں رہا ؟تو انہوں نے کہا کہ میاں نواز شریف کافی عرصہ جمہوریت پسند قوتوں سے دور رہے ہیں۔ ’ہم اب بھی کوشش کریں گے کہ انہیں جمہوری قوتوں کو ساتھ لے کر چلیں۔‘ جبکہ سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر چوہدری اعتزاز احسن نے کہا ہے کہ اگر معزول جج بحال نہ ہوئے تو وکلاء28 اگست کو ملک کی اہم شاہراہوں پر دو گھنٹے تک دھرنادیں گے۔نہوں نے کہا کہ اگر معزول جج بحال نہ ہوئے تو دھرنے کا دورانیہ اور دن بڑھائے جا سکتے ہیں۔ یہ دھرنا دوپہر بارہ بجے سے لیکر دو بجے تک ہوگا اور ملک بھر کے تاجروں سے بھی دو گھنٹے کے لیے شٹر ڈاو¿ن کے لیے کہا جائے گا۔ اس کے علاوہ 4 ستمبر کو پارلیمنٹ ہاو¿س کے سامنے شاہراہ دستور پر دھرنا دیا جائے گا جس میں ملک بھر کی وکلا نمائندہ تنظیموں کے ارکان شرکت کریں گے۔ اعتزاز احسن کا کہنا تھا کہ یہ دھرنے پر امن ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ ان دھرنوں کو منظم کرنے کے لیے ایک کمیٹی بنائی گئی ہے اور کمیٹی کے ارکان اس حوالے سے ملک بھر کی تمام بار ایسوسی ایشنز کے ساتھ رابطے میں رہیں گے۔ مقامی ٹریفک پولیس کے تعاون سے دھرنے کے دوران صرف سکول وین، ایمبولنس اور ڈاکٹروں کو جانے کی اجازت ہوگی۔ حکمراں اتحاد کی طرف سے معزول ججوں کو بحال نہ کرنے سے عوام میں مایوسی پھیلی ہے اور متعدد بار اس ضمن میں وعدے پورے نہیں کیے گئے۔اعتزاز احسن نے کہا کہ اگرچہ عوام کو ان دھرنوں کی وجہ سے مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا لیکن وہ تحمل کا مظاہرہ کریں اور وکلاء برادری کا ساتھ دیں۔ انہوں نے کہا کہ معزول ججوں کو بھوربن معاہدے کے تحت بحال ہونا چاہیے تھا۔ اجلاس میں پاکستان بار کونسل کے فیصلوں کو یکسر مسترد کر دیا گیا ہے۔ جبکہ پاکستان مسلم لیگ (ن) کے قائد اور سابق وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف نے حکمران اتحاد کی بقا کے لیے پاکستان پیپلز پارٹی کو پیر تک ججز کی بحالی کا روڈ میپ دے دیا ہے۔ انہوں نے واضح کیا ہے کہ عوامی قوت کی وجہ سے پرویز مشرف مستعفی ہوئے۔ صدارتی انتخاب کا شیڈول عجلت میں جاری کیا گیا ۔ یہ اعلان قبل از وقت ہے۔ ” حصول اقتدار “ نہیں ” اقدار“ کا شو ق ہے۔ پی پی پی کے وفد سے ملاقات کے بعد یہاں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے نواز شریف نے کہا ہے کہ پیپلز پارٹی کے وفد نے صدر کے انتخاب کے لیے آصف علی زرداری کی حمایت کے لیے بات کی۔ اس سلسلے میں وہ ہم سے تعاون چاہتے ہیں ہم نے 5اور 7 اگست کے معاہدے انہیں یاد دلائے کہ اس کی رو سے آگے چلنا ہے ۔ جماعتوں کے درمیان معاہدے اور ان کی دستاویز مقدس ہوتی ہیں معاہدے کے گواہ بھی اور میرے اور آصف علی زرداری کے دستخط بھی موجود ہیں۔علان مری سے ایفاءعہد نہیں کیا گیا تھا۔ 7 اگست کو تیسر امعاہدہ ہوا دو ہفتوں قبل طے پانے والے ان معاہدہ کے تحت صدر پرویز مشرف کے استعفی یا مواخذہ دونوں صورتوں میں 24 گھنٹوں میں ججز کو بحال ہونا تھا اس معاہدے میں درج سے ججز کی بحالی کے بعد آئندہ صدر کے انتخاب سے سترہویں ترمیم کو آئین سے دور کرنا تھا۔ جس کے بعد پاکستان پیپلزپارٹی صدر کے عہدے کے لیے جسے نامزد کرے گی چاروں اتحادیوں کا اس سے اتفاق رائے ہو گا۔ معاہدے کے مطابق ایسا نہ ہوا اور سترہویں ترمیم آئین سے دو رنہ کیا جا سکا تھا یہی اتفاق رائے ہوا کہ پورے ملک میں ایسا قومی رہنما جو ملک بھر کی نمائندگی کرتے ہوں ۔ وفاق کی علامت نظر آئیں جس کی کوئی سیاسی وابستگی نہ ہو صدر بنانے پر چاروں اتحادیوں کے درمیان اتفاق رائے ہے دونوں جماعتیں معاہدے کی پابند ہوں گی ۔نواز شریف نے کہا کہ پاکستان میںسیاسی استحکام کا مسئلہ ہے پاکستان کا معاملہ ہے 9,8 سالوں سے پاکستان اور اس کے اداروں کو تباہ کردیا گیا ہے نواز شریف اور نہ پاکستان مسلم لیگ (ن) صدر کے عہدے کی خواہش رکھتی ہے اگر دیکھا جائے تو بڑے اتحادی ہونے کے ناطے اس پر پی ایم ایل ن کا حق ہے کیونکہ وزارت عظمی ، سپیکر قومی اسمبلی کاتعلق پاکستان پیپلزپارٹی سے ہے ۔ ملک کے وسیع تر مفاد میں صدارتی عہدہ طلب کیا تھا نوز شریف اتحاد کو برقرار رکھنا چاہتے ہیں ۔ کیونکہ دو متحارب جماعتوں کا اتحاد پاکستان کی سلامتی کی ضمانت ہے ۔ دو طرفہ تعاون ہونا چاہیے نواز شریف نے تیس دنوں میں ججز کی بحالی کا اعلان کیا تھا لیکن اعلان مری کو پانچواں ماہ شروع ہو چکا ہے ۔ بار بار اتفاق کیا گیاکہ ججز کو بحال کیا جائے ۔ آزا د عدلیہ سے پاکستان اور آنے والی نسلوں کا مستقبل وابستہ ہے ۔ آئین قانون کی حکمرانی آزاد عدلیہ نوز شریف کا مقصد ہے تاکہ اگر کل کو کوئی طالعآزما آنے کی جرات کر ئے تو آزاد عدلیہ آئین اور قانون کو قائم کرتے ہوئے اس طالع آزما کو عبرت ناک سزا د ے سکے ۔ نواز شریف نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ پاکستان مسلم لیگ ن کو وزارت عظمی صدارت ، کابینہ کسی کا لالچ نہین ہے۔ حصول اقتدار کا نہیں ، اقدار کا شوق ہے کیونکہ طالع آزما نے پاکستان کے ماضی ، حال ، مستقبل کو تاریک کر دیا ہے نواز شریف نے یہ بھی کہا ہے کہ مستقبل کو تاریک کردیا ہے مستقبل کو نہ بچایا گیا تو پھر کوئی طالع آزما آئین و قانون کو توڑ کر جمہوریت کی بساط لپیٹ سکتا ہے ۔ ملک میں جمہوریت ہوتی تو قبائلی علاقوں کی یہ صورت حال نہ ہوتی جمہوریت میںاحسن طریقے سے ہر معاملے کو حل کیا جاتا ہے ا مریت کیونکہ خلا میں ہوتی ہے اس لیے وہ تباہی لے کر آتی ہے ملک آئینی ڈگر پر ہوتا تو کبھی مشرقی پاکستان نہ ٹوٹتا اس وقت بھی عوامی مینڈیٹ کو تسلیم نہیں کیا گیا تھاملک خطرات سے دوچار ہو نہ یہ چاہتے ہیں کہ بار بار اسمبلیاں آئین قانون عدلیہ ٹوٹے ۔ کوئی دوبارہ عدلیہ کو برطرف اور ججز کو گرفتار نہ کر سکے ۔ 34 سالوں میں طالع آزماو¿ں کا اور قوم کے ساتھ مذاق تھا۔ پاکستان مزید تباہی کا متحمل نہیں ہو سکتا یہی وہ راستہ ہے پاکستان کو بچا سکتا ہے سترہویں ترمیم کے تحت اگر آصف علی زرداری کے پاس اختیارات ہوتے تو ہمیں اس سے کوئی خوف نہیں ہے ۔ ہم وزیراعظم اور پارلیمنٹ کے اختیارات کی بحالی چاہتے ہیں ۔ پیر کو ججز کی بحالی ہونی چاہیے پیر کی شام ججز کی بحالی کا ایگزیکٹو آرڈر جاری ہونا چاہیے اور رات کو ججز کو بحال ہو جانا چاہیے یہی روڈ میپ نواز شریف نے پاکستان پیپلزپارٹی کو دیا ہے ۔ جبکہ نواز شریف نے یہ بھی وا ضح کیا ہے مشرف نے عوامی قوت کی وجہ سے استعفی دیا ۔ جو کہ عوام کے اٹھارہ فروری کو ہار گیا تھا۔ عوامی قوت کے علاوہ وہ کسی دوسری قوت کو نہیں جانتے ہمارے موقف میں کمزوری ہوتی تو پرویز مشرف کبھی مستعفی نہ ہوتے۔ پانچ اور سات اگست کے معاہدے کی دستاویز خفیہ ہیں اخلاقی تقاضا ہے کہ اس کی پاسداری کی جائے صدارتی انتخاب کے شیڈول کے بارے میں ہمیں اعتماد میں نہیں لیا گیا جلدی میں صدارتی انتخاب کے شیڈول کا اعلان کیا گیا نوز شریف نے یہ بھی کہا ہے کہ آئندہ کے اعلان کے حوالے سے وہ پارٹی کو اعتماد میں لیں گے۔پیپلز پارٹی کے وفد سے ملاقات کے بعد مسلم لیگ (ن) کے قائد میاں نوازشریف نے اپنی پریس کانفرنس کے دوران ماہ اگست کے پہلے ہفتے میں صدر کے مواخذہ واستعفے اور اس کے 24گھنٹے بعد معزول ججوں کی بحالی کا معاہدہ دو بار صحافیوں کو دکھایا۔ میاں نوازشریف نے بتایا کہ اس معاہدہ پر ان کے اور آصف علی زرداری دونوں کے دستخط ہیں لیکن افسوس پیپلز پارٹی سے کئے گئے اعلان مری پر بھی عمل نہ ہوسکا اور اب اس معاہدہ پر بھی عمل نہیں کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ میں ان معاہدوں کوبہت مقدس اور ان پر عملدرآمد کرنا اخلاقی فرض سمجھتا ہوں۔ جبکہ پاکستان مسلم لیگ (ن) کے ترجمان صدیق الفاروق نے بھی کہا ہے کہ پارلیمنٹ کی قرار داد ججز کی بحالی کو دنیا بھر میں قانونی حیثیت دے گی اعلان مری سے این آر او کا کوئی تعلق نہیںہے اعلان مری کے وقت آئینی اور قانونی ماہرین کی مشاورت کے مطابق مذاکرات کئے گئے تھے یہ لکھا تھا کہ جب پارلیمنٹ میں قرار داد آئے گی تو اس کو قانونی حیثیت دی جا ئے گی۔جیسا کہ آپ جانتے ہیں کہ عالمی سطح پر جمہوری ممالک میں پارلیمنٹ ہی فیصلے کرتی ہے اور پارلیمنٹ پر یقین اور اعتماد کیا جاتا ہے ۔ پارلیمنٹ سے قرار داد پاس کر کے یہ پیغام دینا ہے کہ عدلیہ کی بحالی کا فیصلہ پارلیمنٹ نے کی جو ساری دنیا میں قابل قبول ہو گا این آر او کا اعلان مری سے کوئی تعلق نہیں ہے لیکن بعض مسائل این آر او کی وجہ سے التواءکا شکار ہیں۔ اول تو یہ پیپلز پارٹی کا موقف ہے اور شاید یہ بالکل صحیح ہو کر یہ کیسز ان کے خلاف غلط تھے اور اس لیے کے اگر یہ کیسز غلط تھے تو پیپلز پارٹی کو دیگر معاملات سے روگردانی نہیں کرنی چاہیے ۔ جس ملک میں آپ رہتے ہو اور وہ امریکہ ہو اگر ایک قیدی ماچس کی ڈبی پرانصاف لکھ دے اور اگر یہ ماچس کی ڈبی چیف جسٹس کے پاس پہنچ جائے تو وہ اسکو انصاف فراہم کرتا ہے۔ یہ ممکن نہیں ہے کہ ایک خود مختار ملک میں ایک خود مختار شخص کو حراست میں رکھا جائے اور اس سے ان کی اہلیہ خاندان اور عزیز واقف نہ ہو ۔پھر آپ ان کو چند ڈالرز کے عوض کسی اور کے حوالے کر دیں اگر عدلیہ عام شہریوں کے حقوق کی تحفظ کرتی ہے تو وہ انہیں انصاف بھی دیتی اور اگر جج اس میں اپنا کردار آئین کے تحت ادا کر رہے ہوں تو انہیں سراہنا چاہیے اگر آپ تاخیری حربے استعمال کریں گے تو ہرشخص کو اختیار حاصل ہے کہ وہ اپنے طریقے سے رسائی حاصل کرے۔یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ پاکستان الیکٹرک پاور کمپنی(پیپکو) آئی پی پیز کی اور آئی پی پیز آئل مارکیٹ کمپنیوں کے نادہندہ ہوگئے ہیں۔نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) کی جانب سے سرکلر ڈیبٹ نظام میں درستگی کیلئے پاور ڈسٹری بیوشن کمپنیوں کے ٹیرف میں 61 فیصد اضافے کی تجویز جبکہ حکومت کی جانب سے یہ اضافہ مکمل طور پر صارفین کو منتقل کرنے کا امکان ہے۔وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کی جانب سے بھی وفاقی وزیر پانی و بجلی راجہ پرویز اشرف کو بجلی کے نرخوں میں اضافے کا گرین سگنل دیا جاچکا ہے۔پاور ڈسٹری بیوشن کمپنیوںکے ٹیرف میں مذکورہ اضافہ ملک میں افراط زر کی شرح اور رمضان سے قبل اشیائے خوردونوش کی قیمتوں میں اضافے کا باعث ہوگا۔وزارت مالیات کے ذرائع کے مطابق مارچ2008ء سے بجلی کے نرخوں میں کوئی اضافہ نہیں کیا گیا حالانکہ ایندھن کی قیمتوں میں حددرجہ اضافہ ہوا تھا تاہم اب ایندھن کی قیمتیں قابو سے باہر ہوگئی ہیں جن کے اثرات کو جزب کرنا حکومت کیلئے ناممکن ہوتا جارہا ہے۔پاکستان الیکٹرک پاور کمپنی (پیپکو) بھی انہی مسائل کے باعث شدید مالیاتی بحران کا شکار ہے اور سیالیات زر (لیکویڈیٹی) کی عدم دستیابی سے یہ بجلی کے نجی پیداواری ذرائع (آئی پی پیز) کو ادائیگیوں سے قاصر ہے جنہوں نے پیپکو کو بجلی کی فراہمی میں انقطاع کی دھمکی بھی دی ہے۔آئی پی پیز کی جانب سے حکومتی سیکیورٹیز کی منتقلی زر (انکیشمنٹ)کا عندیہ بھی دیا گیا جو فنڈز کی عدم دستیابی سے آئل مارکیٹنگ کمپنیوں سے تیل نہیں خرید پارہی ہیں جو پلانٹ کی پیداواری سرگرمیوں میں استعمال کیا جاتا ہے۔اس طرح اس سرکلر ڈیبٹ کے نظام میں خرابیوں سے تمام فریقین متاثر ہورہے ہیں اسلئے پیپکو کو مالیاتی بحران سے نکالنے کیلئے نرخوں میں اضافے کی سفارش کی گئی ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ نیپرا انتظامیہ اس سلسلے میں تاحال مصروف ہے اور اضافے کی حتمی شرح کا تعین نہیں ہوسکا ہے تاہم ابتدائی حساب کے بعد منسٹری آف فنانس کو نیپرا کی جانب سے 61 فیصد اضافے کی تجوزیز دی گئی ہے۔واٹر اینڈ پاور ڈیویلپمنٹ اتھارٹی کے ذرائع کے مطابق رواں ماہ کے اختتام تک نرخوں میں اضافے کا تعین ہوجائیگا جبکہ منسٹری آف فنانس کی اعلیٰ انتظامیہ سے بات چیت کے بعد اسے حتمی شکل دی جائیگی۔ پا کستان کے عوام نے وزیر اعظم پا کستان سید یو سف رضا گیلانی سے مطا لبہ کیا ہے کہ عوام دشمن پا لیسیون کا مطا لبہ کیا گیا ہے کہ آ پکو" یس مین" کے کر دار سے نکلنا ہوگا۔ کیو نکہ ابھی تک ملک بھر کے عوام یہی محسوس کر رہے ہیں کہ اب بھی وزیر اعظم جیسے شو کت عزیز ہی ہے۔ جبکہ عا لمی ذرائع ابلاغ بھی اپنی رپو ر ٹوں میں یہی لکھ رہے کہ سید یو سف رضا گیلانی ایک یس مین یعنی ربڑ سٹیمپ وزیر اعظم ہیں جو کہ ایک جمہوری دعوے دار حکومت کیلئے بد نا می کا با عث ہے۔اے پی ایس



Presidential candidate will be supported as per accord with PPP: Nawaz







LAHORE : PML-N Chief Mian Mohammad Nawaz Sharif has said that his party, committed to agreements reached with PPP on 5th and 7th of this month, would support presidential candidate under these accords. “Under the agreement it is the prerogative of PPP to nominate its candidate for the office of president if 17th amendment is scraped,” he said on Saturday while addressing a press conference after meeting with PPP delegation comprising Leader of the house in Senate Raza Rabbani,Federal Information Minister Sherry Rehman, Federal Minsiter Khurshid Shah and Sind Chief Minsiter Qaim Ali Shah.
Nawaz Sharif said under the aforementioned agreement, if 17th amendment remains part of the constitution, then a national figure having national stature is to be nominated by four coalition partners with consensus.
He said following announcement of the schedule for presidential election PML-N wants restoration of judges on Monday.
“I have asked them to let us know by tonight if they are ready to reinstate judges on Monday or not”, he said. He said a “resolution” in this regard should be tabled on Monday, discussion should be held same day and by evening restoration order must be issued.
Nawaz Sharif said his party would evolve its future line of action after the response from PPP regarding restoration of judges.
To a question, he said PML-N wants to settle issue of reinstatement of judges and presidential election as per agreement signed by him and Asif Ali Zardari on 5th and 7th of this month.
He said under these agreements judges were to be restored within 24 hours after impeachment/resignation of Pervez Musharraf.
To a question, he said, though it is PML-N’s right that it should be given the presidentship,being the second major partner of ruling coalition, but added that the party has no desire for it.
While referring to Murree declaration, as well as his rounds of talks with PPP
Co-Chairman Asif Ali Zardari in Dubai and London, Nawaz Sharif regretted that promises made for the reinstatement of judges were not fulfilled.
Reiterating his commitment to reinstatement of judges, he said, “We want restoration of judges to ensure rule of law as it was essential to block adventurers to go for derailing democracy in the country.”
He said in the past, the country had to face crisis including debacle of East Pakistan due to dictatorial rule asserting “I am of the firm view if there were democracy in the country we would not have to face this tragedy.”
Asserting that PML-N would never compromise on independence of judiciary, he said, it is necessary for supremacy of constitution, rule of law and continuity of democracy.
He said, “We have no lust for power and are ready to offer any sacrifice for the security and integrity of the country.”
Holding dictatorial rule responsible for all ills facing the country, he said violence and lawlessness in tribal areas were also result of it.
To a question, Nawaz Sharif said he has great respect for Asif Ali Zardari but PML-N wants to ensure powers of Parliament and Prime Minister as per origional 1973 constitution.
To another question, he said, Presidential election’s schedule was announced in haste without consultation with PML-N.
When asked about the role of some forces in resignation of Pervez Musharraf, he said, “It was only masses pressure that forced him to quit. I have no knowledge of any other forces’s role in this regard.”
Earlier, PML-N leaders and PPP delegation held 3-hour meeting to discuss political issues especially nomination of PPP Co-Chairman Asif Ali Zardari as presidential candidate by PPP’s Central Executive Committee.

معزول چیف جسٹس ا فتخار چودھری کو بحال نہ کر نے کی اصل وجہ تحریر : محمد رفیق اے پی ایس، اسلام آباد




تحریر : محمد رفیق اے پی ایس، اسلام آباد
حکمران اتحاد کے قول و فعل کے تضاد،عوام سے بار بار جھوٹ بولنے ،وعدے پر وعدہ اور چکر پر چکرکی وجہ سے عوام میں ان کے خلاف شدید نفرت کا پیما نہ لبریز ہو گیا ہواہے۔ چیف جسٹس افتخار محمد چو دھری و دیگر معزول ججز کو بحال نہ کر نے کی وجہ منظر عام پر آنے سے ہما ری نا م نہاد سیا سی قیادت کے ساتھ سا تھ ان عا لمی طا قتوں کا چہرہ بھی بے نقاب ہو گیا ہے جو انھوں نے منا فقت کا لبادہ پہن کر دہرا معیار اپنا یا ہوا ہے۔ جن قو توں نے مشرف پر دبائو ڈال کر اس کو استعفی دینے پر مجبور کیا ۔ انہی طا قتوں نے مو جو دہ حکمران اتحاد سے گا ر نٹی لی ہو ئی ہے۔ کہ آپ نے حکومتی امور کو مشرف فا ر مو لے کے تحت ہی چلا نا ہے۔ اور مو جودہ حکومت یعنی حکمران اتحاد ان طا قتوں سے اپنے وعدے کی پا س داری کر تے ہو ئے اپنے مو قف پر قا ئم ہے۔ اور پر ویز مشرف فا ر مو لے کو تیز ترین رفتار سے آگے بڑھا نے میں انھوں نے دن رات ایک کیا ہوا ہے جس میں فا ٹا، وزیر ستان اور وانا میں امریکی مزائلوں کی با رش، پا کستانیوں کا قتل عام، اور لا قا نونیت کا بازار گرم رکھنا پاکستان کے عوام پر ہر طرف سے انصاف کے دروازے بند کر دینا ہی معزول چیف جسٹس افتخار محمد چو دھری و دیگر ججزکو بحال نہ کر نے کی اصل وجہ ہے۔ کیونکہ چیف جسٹس افتخار محمد چو دھری کو بحال کر دینے سے پا کستان کے سو لہ کروڑ عوام پر مسلط نام نہاد سابقہ و موجودہ قیادت کا وہ اصل مکرہ چہرہ بے نقاب ہو جا تا ہے کہ وطن عزیز میں چند ڈالرز کے عوض پا کستانیوں کے قتل اور ان کے اغوا کیلئے آپ کر ائے کے قا تل اور غنڈے کیوں بنے ہو ئے ہیں؟ ہماری نام نہاد قیادت کو یہ خوف ہے کہ جن کے ساتھ ظلم ہو رہا ہے انھوں نے تو چودھری افتخار محمد چودھری سے رجوع کرنا ہے اور افتخار محمد چود ھری نے حکومت سے اپنے عوام پر اس غیر آئینی اقدام پر جواب ما نگنا ہے اور اس تنا طر میں افتخار محمد چو دھری کے سا منے جوابدہ نہ ہو نے اور اس غیر آئینی اقدام سے بچنے کیلئے ہماری اس نام نہاد قیادت کے اندر کا یہ چور بولتا ہے کہ چو دھری افتخار کو بحال نہ کیا جا ئے۔ سابقہ فوجی آمر پرویز مشرف کے ساتھ بھی یہی مسئلہ تھا۔ کیو نکہ اس نے بھی جو ایک خونخوار امریکی کتے والا کر دار ادا کیا ہے اس کے اندر بھی یہی خوف تھا کہ کہیں قا نون کی گرفت میں نہ ا جا ئوں۔ سا بقہ و موجودہ قیادت معزول ججز کو یہ کہہ کر اعتماد میں لے سکتی تھی کہ ملک کے معا شی و دفاعی استحکام کیلئے ضروری ہے کہ ہم ایک مصنوعی د ہشت گر دی کی جنگ میں میں ڈالر کے حصول کیلئے یہ جنگ لڑ رہے ہیں۔ لہذا ملکی سلامتی کا تقا ضا ہے کہ ملک ہوگا تو باقی سب امور اور معا ملات ہونگے تو یقینا صا حب بصیرت معزول ججز ان کی راہ میں ر کاوٹ نہ بنتے لیکن یہ بھی سا بقہ و مو جو دہ قیادت نے ضروری اس لیئے نہیں سمجھا ۔ کہ ملکی سلا متی کا مسئلہ نہیں بلکہ ملک و قوم کو عدم استحکام کر نے کا مسئلہ تھا اور اس کے عوض ملنے والی خیرات کا کسی کو حساب کتاب بھی نہ دینا پڑ ے جیسا کہ اس حوالے سے میڈیا میں یہ با تیں آچکی ہیں کہ جس میں امریکی احکام پا کستان کے ان حکمرانوں پر یہ الزام تراشی کر چکے ہیں کہ پا کستان کو انسداد دہشت گردی کے حوالے سے دی جا نے والی امداد کے حساب کتاب میں گڑ بڑ ہے۔ موجودہ حکومت اور پا رلیمنٹ میں بیٹھے حکومتی و مخالف اراکین نے ابھی تک جس کسی ایک امور پر اتفاق کیا ہے۔ وہ انھوں نے اپنی سا بقہ کر پشن چھپانے اور آ ئندہ لوٹ مار کر نے کے راستے کو ہموار کر نے کیلئے ا حتساب بیورو کو ختم کرنے کا عزم کیا ہے۔ اگرچہ احتساب بیورو کی بنیاد سا بقہ حکمرانوں کی بد نیتی پر مبنی تھی۔ ایک دوسرے کو سیاسی بلیک میل کر نے کیلئے احتساب بیورو کو استعمال کیا گیا۔ حکمرانوں کی یہ گٹھیا روش جو ایک قو می ادارے کی بد نا می کا با عث بنی۔ معزول ججز کی بحالی کے حوالے سے عوام پر مسلط سیا سی قیا دت کی گھٹیا ذ ہنیت کا آپ اندازہ اس با ت سے لگا سکتے ہیں کہ افتخار محمد چو دھری سو مو ٹو ایکشن نہ لینے کا وعدہ کر تے تو شا ید بات بن جا تی۔ سو مو ٹو ایکشن کس کا لیا جا تا ہے جس کیلئے انصاف کے با قی دروازے بند کر دیے جا تے ہیں ۔ ما ضی میں افتحار محمد چودھری نے صرف وہ سو موٹو ایکشن لئے جن کمزور افراد اور خا ندانوں پر با ثر افراد کی طرف سے ظلم و تشدد کیا گیا۔ اس کے علاوہ بے گناہ جو پا کستانیوں کو چند ڈالروں کے عوض فروخت کیا گیا۔ اس کے علاوہ سا بقہ حکومت نے جس بے دردی سے قو می خزانے کو لو ٹا ان قو می مجر موں نے افتخار محمد چو دھری کو اپنے راستے کا پتھر سمجھتے ہو ئے اسے اپنے منصب سے ہٹا نا ضروری سمجھا۔ قصہ مختصر ہما رے سا بقہ و مو جودہ حکومت و سیا سی قیادت کی نیتوں میں اتنا زیا دہ فتور ہے کہ اب عوام کو بے و قوف بنا نے اور ان کے جذبات سے کھیلنے کا حکمرانوں کا بھا نڈہ پھوٹ گیا ہے کیونکہ وہ یہی چا ہتے ہیں کہ ان کی لو ٹ مار اور کسی قسم کے غیر آئینی اقدام کے رستے میں کسی قسم کا کو ئی سپیڈ بر یکر نہ آئے۔ وطن عزیز میں قیادت کے فقدان کا اندازہ آپ اس بات سے بھی لگا سکتے ہیں کہ پو رے ملک کے عوام کے جذبات سے کھیلا جا تا ہے کہ ہما را میزائل پروگرام دنیا کا بہترین نظا م ہے اور ہم ایک ایٹمی طاقت ہیں لیکن حقیقت یہ ہے کہ اس ایٹمی طاقت رکھنے والے ملک کا جب ایک سفارت کار اغوا ہو جا تا ہے تو ہم اس کا تاوان دے کر اسے آزاد کرواتے ہیں۔ ایران پر میزائل کیوں نہیں گرتے، جنوبی کو ریا پر مزائل حملے نہیں ہو تے کیو نکہ ان کی قیادت میں اتنی غیرت ہے کہ وہ اپنے عوام کے جذبات و احسا سات کے سا تھ ساتھ اپنے ملک کے وقار کا خیال رکھنا جا نتے ہیں۔ پا کستان ایک اسلامی جمہوریہ جو سو لہ کروڑ عوام کا ملک ہے اس کی بدنامی کے ذمہ دار اس پر زبر دستی مسلط کئے گئے سا مراج کے ایجنٹ حکمران ہیں۔ شوکت عزیز کے ایک واقعہ کو ہی لے لیجئے کہ شوکت عزیز جو پا رلیمنٹ کے اجلاس میں بھی بیٹھتا تھا ہما ری پا رلیمنٹ کی عمارت پر کلمہ شریف لکھا ہوا ہے جہاں اپنے دفتر میں بیٹھتا تھا وہاں اس کے سر کے اوپر با نی پا کستان قا ئد اعظم محمد علی جنا ح کی تصویر لگی ہو ئی ہے اور اسکی یک انتہائی گٹھیا اور شر مناک بات یہ ہے کہ جب اسے ایک امریکی دورے کے دوران بش کے اوول آفس میں جا نے کا اتفاق ہوا تو اس وقت بش کی میز پر اس کا ایک پا لتو کتا بیٹھا ہوا تھا تو اس مو قع پر سو لہ کروڑ عوام اور ایک اسلامی ملک کا وزیر اعظم بش کے کتے کا منہ چو متا ہے۔ اور اسے پیار کرتا ہے۔ اس طرح کے حکمران ہم پر مسلط ہیں یعنی ملک و قوم اپنے ان لیڈروں سے کس خیر کی تو قع کر سکتی ہے جو بش کے کتوں کو Kiss اور ان کے جھوٹے گلا سوں میں شراب پی کر آ جا تے ہیں وہ ملک کو کیا استحکام دیں گے۔بات ہو رہی تھی معزول ججز کی بحالی پر تو اس ضمن میں یہی گذارش ہے عوام پر مسلط بد نیت اور بد دیانت جعلی قیادت یہی چا ہتی ہے کہ اس کے کسی قسم کے غیر آئینی اقدام کے خلاف پا کستان کا کو ئی بھی شہری رکا وٹ نہ بنے۔ جس ملک میں کسی با اثر شخص کے خلاف ایف آئی تک درج نہ ہو سکے وہاں انصاف کی تو قع کیسے کی جا سکتی ہے پا کستان میں طا قتور تو سزا سے بچ جا تا ہے لیکن عام آدمی کے خلاف جھوٹے مقدمات کی لا ئن لگا دی جا تی ہے۔ لیکن عوام پر مسلط جرائم پیشہ جعلی قیادت یہ بات بھی اپنے پلے با ندھ لے کہ چیف جسٹس افتخار محمد چو دھری اب ایک کر دار کا نام ہے جو پا کستان کے عوام کے دل و دما غ ُ ُ پر اپنے نقش گہرے چھوڑ گیا ہے اور انھیں بیدار کر گیا ہے۔ اب پا کستان کا مستقبل پا کستان کے عوام کی کو ششوں اور ا للہ کی مدد سے افتخار پا کستان ہوگا۔ اب قیادت سمیت تمام اعلی حکومتی حکام کا مستقبل بھی افتخار چو دھری کے عزم کو عملی طور پر اپنا نے سے مشروط ہو گیا ہے۔ اگر وہ ایسا نہیں کر یں گے تو عوام اب ان کی دکانداری چلنے نہیں دیں گے۔ اس کے علاوہ آپ سا ٹھ سا لہ دور کا جا ئزہ لیں تو آپ اس نتیجہ پر پہنچیں گے کہ جب تک ہمارا الیکشن کمیشن اور سپریم کو رٹ آزاد نہیں ہوتا۔ وہ نتا ئج حا صل نہیں ہو سکتے جن کیلئے مسلما نوں کیلئے ایک علیحدہ وطن کے قیام کی ضرورت پیش آئی تھی ۔ اس کے علا وہ ہمارے ہا ں ایک اور جو بہت بڑا المیہ ہے وہ یہ کہ ایک بد عنوان اور منا فق معاشرے میں کسی انقلاب کی تو قع نہیں کی جا سکتی۔ لہذا ضروی ہے کہ ایسی اصلا حات کے ذریعے تبدیلی لا ئی جا ئے کہ جس سے اس ملک کے اصل حقدارعوام اور دیانت دار افراد کی رسائی کو ایوانوں تک ممکن بنا یا جا سکے۔ اس کے لئے ضروری ہے۔ کہ الیکشن کمیشن صرف ان شہریوں کا ووٹ کا اندراج کر نے اور ووٹ دینے کا اہل قرار دے جو پا کستان کا شہری کم از کم میٹرک پاس ہو اور امیدوار برائے قومی و صوبائی اسمبلیوں کیلئے ووٹ حا صل کر نے کا کم از کم ہدف کی شرط بھی عا ئد کر دی جا ئے اس سے ایک وقت میں کئی ایک فوائد حا صل ہو نگے۔ ایک تو یہ عوام کو یر غمال بنا نے والا جا گیر دار جس کے ووٹر اس کی اپنی نجی جیلوں میں پڑے ہو تے ہیں۔اس کا خا تمہ ہو جا ئے گا جبکہ دوسری بات وہی جا گیر دار جو اپنے علا قوں میں سکول بنا نے اور تعلیم کو عام نہین کر نے دیتا کہ کہیں میرے ووٹر میں شعور نہ آ جا ئے۔ وہ بھی اقتدار کے حصول کیلئے اپنے علاقوں میں نا خواندگی کے خا تمے اور خواندگی کی شرح بڑھا نے کیلئے ہا تھ پا ئوں ما رنا شروع کر دے گا۔ جبکہ تیسری بات جمہوریت کی وہ غلط تشریح بھی ختم ہو جا ئے گی جس میں ایک لا کھ آدمی اگر ایک کتے کو ا نسان کہنا شروع کر دیں تو اس کتے کو با قی افراد کا انسان تسلیم کرنا مجبوری بن جا تا ہے۔ لیکن سوال یہ پیدا ہو تا ہے کہ ان ایوانوں میں بیٹھے موجودہ ضمیر فروش لوگ یہ کا م کر نے دیں گے جو عوام کیلئے انصاف کے دروازے پہلے ہی بند کر کے بیٹھے ہو ئے ہیں۔ یہ مسئلہ اللہ پر چھوڑ دیا جا ئے اور عوام اس دن کا انتظار کر یں جب خدا اس ملک اور عوام کی خا طر اس کی بھاگ دوڑ کسی ایسے شخص کے ہا تھ دے ۔ جو خا لصتنا پا کستانی ہو اور ہر وہ کا م کر گزرے جس کے حصول کیلئے پا کستان حا صل کیا گیا تھا۔ اگرچہ ججز کی بحالی کے سلسلے میں اتحادی راہنما ایک بار پھر نئی ڈیڈ لائن پر متفق ہو گئے ہیں جمعہ کے روز مسلم لیگ نواز کے قائد میاں نواز شریف اے این پی کے سربراہ اسفند یار ولی اور جے یو آئی کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے پریس کانفرنس میں اس کا اعلان کیا۔ میاں نواز شریف نے کہا کہ وہ قرارداد کے ذریعے ججوں کی بحالی کے لیے تیار ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ ڈرافٹ کمیٹی کی جانب سے تیار کیا جانے والا مسودہ پیر کو پارلیمنٹ میں پیش کیا جائے اس پر دو دن بحث کی جائے اور بدھ کو ججوں کی بحالی کا دن ہونا چاہیے ۔ نواز شریف نے مزید کہا کہ ان کی خواہش ہے کہ حکومت سے اتحاد قائم رہے اور مشرف کا استعفیٰ بھی حکمران اتحاد کی مضبوطی کا نتیجہ ہے ۔ دوسری جانب مولانا فضل الرحمان اور اسفند یارولی خان نے کہا کہ وہ مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کی جانب سے ججوں کی بحالی کے لیے تیار کئے جانے والے مسودے پر متفق ہیں واضح رہے کہ 18اگست کو صدر پرویز مشرف کے استعفےٰ کے بعد نواز شریف اور آصف علی زرداری میں معاہدہ ہوا تھا کہ ججوں کو 24 گھنٹے کے اندر بحال کیا جائے گا لیکن ڈیڈ لائن میں 72 گھنٹے کی توسیع کے باوجود بھی جج بحال نہیں ہو سکے۔مسلم لیگ(ن) کے قائد اور پاکستان کے سابق وزیراعظم میاں نواز شریف نے خبردار کیا تھا کہ اگر گذشتہ جمعہ تک معزول ججوں کی بحالی کا فیصلہ نہ کیا گیا تو ان کی جماعت حکمراں اتحاد کا ساتھ چھوڑ دے گی۔’ ہم حکومت گرانے کی کوشش نہیں کریں گے لیکن ہمارے پاس حزبِ اختلاف میں بیٹھنے کے سوا کوئی چارہ نہ ہوگا‘۔ نواز شریف کا کہنا تھا کہ ججوں کی معزولی نے پاکستان کی بنیادیں ہلا کر رکھ دی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آصف علی زرداری نے انہیں یقین دہانی کروائی تھی کہ صدر مشرف کے مواخذے کے چوبیس گھنٹے کے اندر ججوں کو بحال کر دیا جائے گا۔ مسلم لیگ(ن) کے قائد نے کہا کہ’ہم نے مواخذے کے لیے ان کا ساتھ دیا، اب ان کی باری ہے کہ وہ ججوں کی بحالی کے معاملے میں ہماری حمایت کریں‘۔ نواز شریف کے خیال میں ایک شخص جس نے پارلیمنٹ کو برطرف کیا ہو، آئین کو بگاڑا ہو اور ججوں کو گرفتار کیا ہو، اسے عوام کو یہ ضرور بتانا چاہیے کہ اس نے ایسا کیوں کیا۔ قانون کے مطابق جو بھی فورم ہو اسے ان سوالات کے جواب دینے چاہیئیں۔نواز شریف نے یہ بھی کہا ہے کہ’میں بدلے پر یقین رکھنے والا شخص نہیں۔ اگرچہ انہوں نے مجھ سے اچھا سلوک نہیں کیا لیکن میں ان سے اس کا بدلہ نہیں لینا چاہتا۔ صدر مشرف کے استعفٰی کے بعد ججوں کی بحالی کے حوالے سے حکمران اتحاد کا اجلاس دو دن جاری رہنے کے بعد کسی فیصلے پر پہنچے بغیر منگل کو ختم ہوگیا تھا۔ اس اجلاس کے پہلے دن وزیرِ قانون اور پی پی پی کے رہنما فاروق ایچ نائیک نے کہا تھا کہ ججوں کی بحالی کے بارے میں فیصلہ منگل تک کر لیا جائے گا مگر ایسا نہ ہوا۔ اجلاس کے خاتمے پر کہا گیا کہ بات چیت میں شامل دو چھوٹی جماعتوں جمعیت علمائے اسلام، عوامی نیشنل پارٹی اور قبائلی علاقے کے اراکین نے معزول ججوں کی بحالی اور دیگر معاملات پر پارٹی کے اندر اور ایک دوسرے سے مشاورت کے لیے تین دن کی مہلت مانگی ہے۔ یہ تین روزہ مہلت بھی گذشتہ جمعہ کو ختم ہو گئی ہے۔ جبکہ پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چئرمین آصف علی زرداری نے کہا ہے کہ صدر پرویز مشرف سے استعفیٰ لینے اور ان کے پرامن طریقے سے جانے میں متحدہ قومی موومنٹ نے کلیدی کردار ادا کیا ہے۔انہوں نے الطاف حسین کا شکریہ ادا کیا ہے اور کہا ہے کہ گزشتہ چند روز کی سیاسی سرگرمیوں میں الطاف حسین نے مثبت کردار ادا کیا ہے۔ آصف علی زرداری نے فون پر الطاف حسین سے بات بھی کی ہے ۔آصف علی زرداری نے اپنی قائد بینظیر بھٹو کا کی بات دوہرائی اور کہا کہ ’جمہوریت بہترین انتقام ہوتا ہے‘ اور ایک بار پھر یہ ثابت ہوا ہے کہ جمہوریت ہی پر امن طریقے سے تبدیلی لاتی ہے۔ ادھر گزشتہ بدھ کو آصف علی زرداری نے اپنی جماعت کے بعض سینئر رہنماو¿ں سے صدر پرویز مشرف کے مستعفی ہونے کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال، ججوں کی بحالی کے طریق کار پر مسلم لیگ (ن) کے ساتھ اختلاف رائے اور نئے صدر کی نامزدگی کے بارے میں بھی مشاورت کی ۔ اس مشاورتی اجلاس کے بعد وفاقی وزیر برائے پانی و بجلی راجہ پرویز اشرف نے صحافیوں کو بتایا کہ ملک کے نئے صدر کے امیدوار کا فیصلہ گذشتہ جمعہ کو پیپلز پارٹی کی مرکزی مجلس عاملہ کے اجلاس میں کیا جائےگا۔ راجہ پرویز اشرف نے ایک سوال کے جواب میں متحدہ قومی موومنٹ کے سربراہ الطاف حسین کی جانب سے آصف علی زرداری کو صدر بنانے کی حمایت کے بارے میں دیے گئے بیان کا خیر مقدم کیا اور کہا کہ آصف علی زرداری ایک بڑی حکومتی جماعت کے سربراہ ہیں اور اس ناطے وہ صدر بن سکتے ہیں۔ دریں اثناءاسی روز اسفد یار ولی، مولانا فضل الرحمٰن اور وفاق کے زیر انتظام قبائلی علاقوں یعنی فاٹا سے منتخب اراکین کے نمائندے منیر اورکزئی نے آصف علی زرداری سے ملاقات کی ۔ حکومتی اتحاد کے تینوں چھوٹے فریقوں نے ججوں کی بحالی کے طریقہ کار پر پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) کے درمیان اختلاف رائے ختم کرنے کے لیے مختلف تجاویز پیش کیں۔ پروگرام کے مطابق اسفند یار ولی، مولانا فضل الرحمٰن اور منیر اورکزئی مسلم لیگ (ن) کے رہنماو¿ں سے بھی ملے۔آصف علی زرداری سے رات کو وکیل رہنما اعتزاز احسن نے بھی ملاقات کی اور اکھٹے کھا نا بھی کھا یا۔ اس کے بعد اعتزاز احسن نے معزول چیف جسٹس چو د ھری افتخار سے ملا قات بھی کی بعد ازاںعتزاز نے میڈ یا سے گفتگو کر تے ہو ئے کہا کہ یہ ملاقات روٹین کی تھی میں کسی کا پیغام لے کر نہیں گیا اس بات پر بعض تجزیہ کا روں کا کہنا تھا کہ اعتزاز احسن کا دل کا چور بول رہا تھا زرداری کا پیغام ہی لے کر گئے ہوں گے کیونکہ زرداری صا حب ہی اس وقت اعتزاز کی پا رٹی کے سر براہ ہیں۔ پاکستان کے اٹارنی جنرل ملک قیوم اپنے عہدے سے مستعفی ہوگئے ہیں اور ان کی جگہ لطیف کھوسہ کو نیا اٹارنی جنرل تعینات کیا گیا ہے۔ ملک قیوم نے پی سی او کے تحت معرض وجود میں آنے والی سپریم کورٹ کے چیف جسٹس عبدالحمید ڈوگر سے بھی گز شتہ بدھ کے روز الوداعی ملاقات کی تھی۔ ملک قیوم کو مستعفی ہونے والے صدر جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف نے ا±س وقت اٹارنی جنرل مقرر کیا تھا جب پی سی او کے تحت حلف نہ ا±ٹھانے والے سپریم کورٹ کے چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کے خلاف گزشتہ سال نو مارچ کو صدارتی ریفرنس میں ا±س وقت کے اٹارنی جنرل مخدوم علی خان مستعفی ہوگئے تھے۔ ملک قیوم جب لاہور ہائی کورٹ میں بطور جج کام کر رہے تھے تو ا±س وقت ایک آڈیو کیسٹ منظر عام پر آئی تھی جس میں انہوں نے مبینہ طور پر پیپلز پارٹی کی چیئرپرسن بےنظیر بھٹو مرحوم اور ا±ن کے خاوند آصف علی زرداری کو ایک مقدمے میں سزا س±نائی تھی۔ یہ کیسٹ منظر عام پر آنے کے بعد نہ صرف ملک قیوم کو اپنی نوکری سے ہاتھ دھونا پڑا تھا بلکہ سپریم کورٹ نے بےنظیر بھٹو اور آصف علی زرداری کو دی جانے والی سزائیں بھی کالعدم قرار دیکر مقدمے کی از سر نو سماعت کے احکامات بھی دیئے تھے۔ اٹارنی جنرل ملک قیوم کی دوسری کیسٹ انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ہومین رائٹس واچ نے گزشتہ سال ا±س وقت جاری کی جب وہ کسی عزیز کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے کہہ رہے تھے کہ اگر جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف کی حمایتی جماعت پاکستان مسلم لیگ قاف کی طرف سے آئندہ انتخابات میں حصہ لینے کے لیے ٹکٹ ملتی ہے تو لے لیں کیونکہ انہوں نے (مسلم لیگ قاف) کی حکومت نے بڑے پیمانے پر دھاندلی کرنی ہے۔ اٹھارہ فروری کو ملک میں ہونے والے عام انتخابات میں پرویز مشرف کی حمایتی جماعت کی شکست کے جہاں دیگر اسباب تھے تو وہاں پاکستان کے چیف لائافسر کی اس کیسٹ کی وجہ سے بھی انہیں شدید نقصان ا±ٹھانا پڑا۔ جنرل ریٹائرڈ پرویزمشرف کے اٹھارہ اگست سنہ دو ہزار آٹھ کو عہدہ صدارت سے مستعفی ہونے کے بعد ا±ن کے قریبی رفقاء بھی اپنے عہدوں سے مستعفی ہوگئے ہیں ا±ن میں پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین ڈاکٹر نسیم اشرف بھی شامل ہیں جبکہ نیشنل سیکورٹی کونسل کے سیکرٹری طارق عزیز کے بھی مستعفی ہونے کی اطلاعات ہیں۔ صدر پرویز مشرف کے مستعفی ہونے کے اعلان کے بعد زرداری ہاو¿س اسلام آباد میں حکمراں اتحاد کے رہنماو¿ں کا سربراہی اجلاس چار گھنٹے جاری رہنے کے بعد بغیر کسی فیصلے کے ختم ہوگیا تھا۔زرداری ہاوس میں اس اجلاس میں پیپلز پارٹی کے شریک چیرمین آصف علی زرداری، مسلم لیگ ن کے نواز شریف، عوامی نیشنل پارٹی کے اسفندیار ولی خان اور جمعیت علماءاسلام کے مولانا فضل الرحمان سمیت اتحادی جماعتوں کے دیگر اہم رہنما شریک ہوئے تھے۔ اجلاس کے اختتام پر اس میں شریک رہنما ایک ایک کر کے بغیر کسی اعلان یا پریس کانفرنس کے روانہ ہوگئے تھے۔ مسلم لیگ (ن) کے رہنماوں کے مطابق اجلاس میں سرفہرست معاملہ معزول ججوں کی بحالی کاتھا۔مذاکرات کے آغاز سے قبل مسلم لیگ (ن) کے رہنما چوہدری نثار نے کہا تھا کہ عوام کو آئندہ چوبیس گھنٹوں میں معزول ججوں کی بحالی سے متعلق خوش خبری ملے گی۔ تاہم اجلاس کے اس طرح خاتمے سے محسوس ہوتا تھا کہ ایسا ممکن نہیں۔پیپلز پارٹی رہنماو¿ں کا کہنا تھا کہ مذاکرات کا یہ سلسلہ اب اگلے روز کو بھی جاری رہے گا۔ چوہدری نثار کا کہنا تھا کہ مذاکرات میں ان کی جماعت کی جانب سے صرف اور صرف عدلیہ اور ججز کی بحالی پر بات ہوگی۔ان کا کہنا ہے کہ ان کی جماعت کا واضح مو¿قف ہے کہ پرویز مشرف کے مواخذہ کے فورا بعد ہی ججز کو بحال کیا جائے اور انہوں نے کہا کہ وہ اپنے اس فیصلے پر چٹان کی طرح قائم ہیں۔ ان کی پارٹی کا مو¿قف ہے کہ پرویز مشرف کو محفوظ راستہ نہیں دیا جائے گا بلکہ ان کا احتساب ہونا چاہیے۔ جبکہ پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری نے صدر پرویز مشرف کے مستعفی ہونے پر کہا کہ سیاسی قوتوں نے آمریت کی بساط پلٹنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ زرداری ہاو¿س سے جاری ایک بیان میں اپنے پہلے ردعمل میں انہوں نے متحدہ قومی موومنٹ سمیت تمام جمہوری قوتوں کا شکریہ ادا کیا جن کی مدد سے اتحادی حکومت صدر کے استعفے کے اہم ہدف کو حاصل کیا تھا۔ چوہدری نثار علی خاں نے یہ بھی کہا کہ صدر پرویز مشرف کا مستعفی ہوجانا ہی کافی نہیں ہے۔ ’انہیں اپنے آٹھ سالہ تمام جرائم کا جواب انصاف کے کٹہرے میں آکر دینا ہوگا۔‘ صدر مشرف کے مستعفی ہونے کا سہرا حکمران اتحادکی بجائے پاکستان کے عوام، وکلاءاور میڈیا کو دینا چا ہیے ۔ صدر مشرف کا استعفیٰ جمہوریت اور عوام کی فتح ہے۔ اٹھارہ اگست کا دن پاکستانی تاریخ میں جمہوریت اور عوام کے لیئے انتہائی اہم دن ہے۔ جمہوریت کی جانب واپسی میں بینظیر بھٹو جیسی شخصیت کی قربانی بھی دینی پڑی۔پاکستان کے صدر جنرل (ریٹائرڈ) پرویز مشرف کے انتہائی شدید سیاسی و عوامی دباو¿ کے نتیجے میں اپنے عہدے سے مستعفی ہونے کے بعد چیئرمین سینیٹ محمد میاں سومرو نے قائم مقام صدر کی ذمہ داریاں سنبھال لیں۔دوسری طرف حکومت میں شامل اتحادی جماعتوں کے سربراہوں کا اجلاس پیپلز پارٹی کے قائم مقام چیئرمین آصف علی زرداری کی رہائش گاہ پر منعقد ہوا۔ اس اجلاس میں ججوں کی بحالی کے لیے مشاورت کی گئی۔ پرویز مشرف کے اپنے عہدے سے مستعفی ہونے کے بعد شام کو ایوان صدر میں الوداعی تقریب منعقد ہوئی۔ اس تقریب میں صدر کوگارڈ آف آنر پیش کیا گیا جس میں تینوں مسلح افواج کے سربراہان شریک ہوئے۔ پرویز مشرف کی طرف سے سپیکر نیشنل اسمبلی ڈاکٹر فہمید مرزا کو بھجوایا گیا۔ استعفیٰ سوموار کی شام کو ہی قبول کر لیا گیا اور یوں مشرف کا نو سالہ دورے اقتدار اپنے اختتام کو پہنچ گیا۔آئین کے مطابق تیس دن کے اندر نئے صدر کا انتخاب ہونا ہے۔ اس سے قبل پرویز مشرف نے قوم سے خطاب کرتے ہوئے مستعفی ہونے کا اعلان کیا تھا۔ یہ اعلان انہوں نے ایوان صدر سے براہ راست خطاب میں کیا اور کہا کہ انہوں نے یہ فیصلہ ملک وقوم کی خاطر کیا تھا۔ ایک گھنٹے کے خطاب میں انہوں نے اپنے دور حکومت کی تمام پالیسیوں اور فیصلوں کا بھرپور دفاع کیا اور حکمران اتحاد کی جانب سے لگائے گئے الزامات کو بے بنیاد قرار دیا۔ صدر نے کہا کہ انہوں نے اپنے دورِ حکومت میں معاشی ترقی کے بارے میں ایک تفصیلی دستاویز تیار کی ہے جو ذرائع ابلاغ کو جاری کر دی جائے گی۔ ’پاکستان کے سیاسی دنگل میں میری کوشش مفاہمت کی رہی لیکن بدقسمتی سے میری تمام اپیلیں ناکام ہوگئیں۔‘ صدر مشرف نے کہا کہ انہیں اللہ پر بھروسہ ہے اور کوئی الزام ان پر ثابت نہیں ہوسکتا۔ ’یہ وقت بہادری دکھانے کا نہیں ہے۔۔ مواخذا جیتوں یا ہاروں لیکن شکست قوم کی ہوگی اور ملکی وقار پر ٹھیس آئے گی۔‘ بحران سے پاکستان کو نکالنے کی خاطر کچھ کر بھی سکتے ہیں لیکن اس سے ملک میں غیر یقینی بڑھے گی اور جو فیصلہ کیا ہے وہ وقت کا تقاضا ہے۔ اسی روز پاکستان کے وزیر قانون فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ حکمران اتحاد اگلے روز معزول ججوں کی بحالی اور آئینی پیکیج کے بارے میں فیصلہ کرے گا۔ جو کہ حتمی ہوگا۔ اس مو قع پروزیر قانون فاروق ایچ نائیک نے یہ بھی کہا کہ صدر مشرف کو محفوظ راستہ فراہم کرنے کا فیصلہ بھی حکمران اتحاد ہی کرےگا۔ اور صدر مشرف کی طرف استعفیٰ کے بعد مواخذہ ممکن نہیں ہے۔ وزیر قانون نے دعویٰ کیا کہ صدر مشرف کا استعفیٰ کسی ڈیل کا نتیجہ نہیں ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ سابق صدر کے کڑے احتساب پر تقریباً تمام اتحادیوں میں اتفاق رائے پایا جاتا ہے تاہم جب ان سے دریافت کیا گیا کہ آیا فوج ایسا ہونے کی اجازت دے گی تو ان کا کہنا تھا کہ حکمراں اتحاد اس ایشو پر ایک موقف تو اختیار کر سکتا ہے۔ ’اگر ہمت دکھائی جائے تو تاریخ رقم کی جاسکتی ہے‘۔ جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف کی جگہ نئے صدر کے انتخاب کے لیے پاکستانی ذرائع ابلاغ میں متعدد نام سامنے آ رہے ہیں جبکہ مسلم لیگ (ن) یہ عہدہ بلوچستان میں سردار عطا اللہ مینگل جیسے شخصیت کو دینی کی تجویز پیش کرچکی ہے۔ تاہم اتحاد کی سب سے بڑی جماعت ہونے کے ناطے سب جماعتوں کا اتفاق ہے کہ صدر نامزد کرنے کا اختیار پیپلز پارٹی کو حاصل ہے۔ پیپلز پارٹی کی جانب سے آصف زرداری کا نا م تجویز کیا گیا ہے تاہم اس سلسلے میں ذرائع ابلاغ میں سپیکر قومی اسمبلی فہمیدہ مرزا، آفتاب شعبان میرانی اور پی پی پی کے شریک چیئرمین آصف زرداری کی بہن اور ممبر قومی اسمبلی فریال تالپور جیسے ناموں کی بھی بازگشت سنائی دے رہی ہے۔ پرویز مشرف کے استعفے کی خوشی میں پاکستان بھر میں وکیلوں نے یوم نجات بھی منایا جس میں وکلاءرہنماو¿ں نے ججوں کی ایگزیکٹو آڈر کے ذریعے فوری بحالی کا مطالبہ کیا ور کہا کہ وہ کسی آئینی پیکج اور پی سی او ججوں کو تسلیم نہیں کریں گے۔پاکستان کے مختلف اضلاع میں وکیلوں نے پرویزمشرف کے استعفے کی خوشی میں اجتماعات کیے، مٹھایاں تقسیم کیں اور اسلام آباد سمیت ملک بھر کی دکا نوں سے مٹھائی ختم ہو نے کی بھی اطلاعات آئیں اور وکیلوں نے اپنے بار رومز پر لگے احتجاجی سیاہ پرچم اتار دئیے ہیں۔ لاہور ہائی کورٹ بار میں عدلیہ کی بحالی میں عوام کے کردار کے موضوع پر ایک سمینار ہوا جس سے خطاب کرتے ہوئے جسٹس ریٹائرڈ وجیہہ الدین نے حکومت کے تیارکردہ آئینی پیکج کو ایک شرمناک دستاویز قراردیا۔ انہوں نے کہاکہ وکیل ججوں کی صرف ایگزیکٹو آّرڈر کے ذریعے بحالی کو ہی قبول کریں گےاورانہوں نے پرویز مشرف کی سبکدوشی کو وکلاء جدوجہد کا ثمر قراردیا۔ مشرف کے استعفی کے بعداسلام آباد میں حکمراں اتحاد کا دو روز سے جاری سربراہی اجلاس ججوں کی بحالی کے حوالے سے بغیر کسی فیصلے یا اعلان کے ختم ہوگیا تھا۔وفاقی وزیر قانون کے اعلان کے باوجود کہ معزول ججوں کی بحالی کے بارے میں آج فیصلہ ہو جائے گا ایسانہ ہو سکا۔ مسلم لیگ (ن) نے مذاکرات میں کسی تعطل سے انکار کیا جبکہ اے این پی اور جمیعت علمائے اسلام نے مشترکہ فیصلوں کے لیئے مزید بہتر گھنٹوں کا وقت مانگا تھا۔ چاروں اتحادی جماعتوں کے رہنماوں کے علاوہ اجلاس میں پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری بھی شریک ہوئے اوراجلاس میں معزول ججوں کی بحالی، سابق صدر کے محاسبے اور نئے صدر کے انتخاب کے بارے میں بات چیت ہوئی تھی۔ اجلاس میں شامل دو چھوٹی جماعتوں جمعیت علمائے اسلام، عوامی نیشنل پارٹی اور قبائلی علاقے کے اراکین نے معزول ججوں کی بحالی اور دیگر معاملات پر پارٹی کے اندر اور ایک دوسرے سے مشاورت کے لیے تین دن کی مہلت مانگی تھی۔ اجلاس کے بعد صحافیوں سے بات کرتے ہوئے جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ یہ مشاورت وہ جماعت کے اندر اور دو بڑی جماعتوں کے رہنماو¿ں سے کریں گے۔ عوامی نیشنل پارٹی کے سربراہ اسفندیار ولی نے اس سوال پر کہ مذاکرات میں ترجیح کس ایک ایشو کو زیادہ دی جا رہی ہے، کہا کہ جب وہ محاسبے کی بات کرتے ہیں تو میڈیا چلّاتا ہے کہ پہلے عدلیہ اور اگر وہ عدلیہ کی بات کرتے ہیں تو اس کے مخالف بات کی جاتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ سب ایشوز پر بات ہو رہی ہے۔ اجلاس میں شرکت کے لیے زرداری ہاو¿س میں آمد پر مسلم لیگ کے سربراہ نواز شریف نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا تھاکہ پیپلز پارٹی نے ان سے وعدہ کر رکھا ہے کہ صدر کے چلے جانے کے بعد معزول ججوں کو بحال کر دیا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ ’مجھے امید ہے کہ اب وعدے پر عمل درآمد ہوگا۔یہ آج یا کل تک ہو جانا چاہیے‘۔ سابق وزیر اعظم نے ایسی کسی تجویز سے لاعلمی کا اظہار کیا جس میں موجودہ اور معزول چیف جسٹس دونوں کو مستعفی ہونا ہوگا۔ انہوں نے اس تاثر کی بھی نفی کی کہ صدر کے چلے جانے سے اتحاد کے اندر کے اختلافات بڑھیں گے۔ ’اگر یہ اتحاد ملک کی بہتری اور ترقی کے لیے ہے تو پھر اسے مزید مضبوط ہونا چاہیے‘۔ استعفے کے بعد کی صورتحال پر غور کے لیے حکمران اتحاد کے سربراہان اور مرکزی رہنماو¿ں کا اہم اجلاس پیر کو زرداری ہاو¿س میں چھ گھنٹے تک جاری رہنے کے بعد کسی اہم فیصلے پر پہنچے بغیر ہی ختم ہوگیا تھا۔ اے پی ایس