International News Agency in english.urdu news feature,Interviews,editorial,audio,video & Photo Service from Rawalpindi/Islamabad,Pakistan.Managing editor M.Rafiq,Editor M.Ali. Chief editor Chaudhry Ahsan Premee email: apsislamabad@gmail.com,+92300 5261843 مینجنگ ایڈ یٹر محمد رفیق، ایڈیٹر محمد علی، چیف ایڈیٹرچو دھری احسن پر یمی

Monday, July 27, 2009

لا پتہ افراد کے لواحقین کو کسی جگہ سے انصاف نہیں ملا۔چودھری احسن پر یمی




سپریم کورٹ کے سینئر جج جسٹس خلیل الرحمٰن رمدے نے کہا ہے کہ عدالت عظمٰی تین نومبر دو ہزار سات کو عبوری آئینی حکم نامے کے تحت حلف اٹھانے والے چیف جسٹس عبدالحمید ڈوگر کی آئینی حیثیت کا تعین بھی کرے گی۔ گزشتہ سوموار کے روز جسٹس خلیل الرحمٰن نے یہ ریمارکس سندھ ہائیکورٹ کے تین ججوں کی تقرری کے بارے دائر ایک آئینی درخواست کی سماعت کے دوران اس وقت دیے جب درخواست گزار کے وکیل ملک عبدالقیوم نے یہ نکتہ اٹھایا کہ ان تینوں ججوں کا تقرر سابق چیف جسٹس عبدالحمید ڈوگر کی سفارش پر کیا گیا تھا۔جسٹس خلیل رمدے کا کہنا تھا کہ ایک آئینی چیف جسٹس کی موجودگی میں دوسرے چیف جسٹس کی تقرری کی کیا آئینی حیثیت ہے اس بارے میں بھی یہ عدالت غور کر سکتی ہے۔اگر عدالت جسٹس عبدالحمید ڈوگر کی آئینی حیثیت کا جائزہ لے گی تو اسے صدر پاکستان آصف علی زرداری کی حیثیت پر بھی غور کرنا ہو گا جنہوں نے جسٹس ڈوگر سے حلف لیا تھا۔درخواست گزار کے وکیل ملک عبدالقیوم نے جسٹس رمدے کے سابق چیف جسٹس کی آئینی حیثیت کے بارے میں ریمارکس کے جواب میں کہا کہ اگر عدالت جسٹس عبدالحمید ڈوگر کی آئینی حیثیت کا جائزہ لے گی تو اسے صدر پاکستان آصف علی زرداری کی حیثیت پر بھی غور کرنا ہوگا جنہوں نے جسٹس ڈوگر سے حلف لیا تھا۔ملک قیوم نے جو کہ سابق صدر پرویز مشرف کے دور میں اٹارنی جنرل کی حیثیت سے جسٹس ڈوگر اور تین نومبر کی بعد کی عدلیہ کے حامی ہیں، کہا کہ اسی طرح اگر تین نومبر کے بعد کے صدارتی اقدامات کی آئینی حیثیت پر سوالیہ نشان لگایا گیا تو پھر موجودہ وزیراعظم کے بارے میں بھی نئی رائے دینا ہو گی کیونکہ انہوں نے بھی سابق صدر پرویز مشرف سے وزارت عظمٰی کا حلف لیا تھا۔واضح رہے کہ جسٹس خلیل رمدے چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی سربراہی میں بننے والے اس چودہ رکنی بنچ کا حصہ ہیں جو تین نومبر کے بعد اعلٰی عدلیہ میں تعینات اور برطرف ہونے والے مختلف ججوں کے مقدمات کا جائزہ لے رہا ہے۔یہ مقدمہ بظاہر سندھ ہائیکورٹ کے بعض ججوں کی تین نومبر کے بعد تعیناتی اور برطرفی سے متعلق ہے لیکن عدالت اس پس منظر میں تین نومبر کے بعد سابق صدر اور فوجی سربراہ پرویز مشرف کی جانب سے اعلیٰ عدلیہ میں تقرریوں کے علاوہ بعض دیگر امور کے بارے میں بھی کیے گئے اقدامات کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔ اسی سلسلے میں اس بنچ نے سابق صدر پرویز مشرف کو انتیس جولائی کو عدالت کے سامنے اپنا موقف پیش کرنے کی دعوت دے رکھی ہے۔جسٹس ڈوگر کے چیف جسٹس کی حیثیت کے بارے میں اس وقت بھی دلائل دینا چاہیں تو ضرور دیں کیونکہ ہمیں اس معاملے میں کوئی خوف نہیں ہے۔ گزشتہ پیر کے روز اس مقدمے کی سماعت کے دوران چیف جسٹس افتخار چوہدری نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ تین نومبر کو معزول قرار دیے گئے تمام جج دو نومبر والی پوزیشنز پر بحال ہوئے ہیں اور ان میں سے کسی کی بھی نئی تقرری نہیں ہوئی۔ملک قیوم نے کہا کہ صدر پاکستان، وزیراعظم اور دیگر تمام آئینی شخصیات نے سابقہ دور میں بھی اور اس نئے سیاسی ڈھانچے میں بھی جسٹس ڈوگر کو چیف جسٹس تسلیم کیا تھا لیکن وہ اس مسئلے پر کسی نئی بحث میں نہیں پڑنا چاہتے۔اس موقع پر جسٹس رمدے نے کہا کہ عدالت کو اس سے کوئی سروکار نہیں کہ جسٹس ڈوگر اور صدر مشرف کے درمیان کیا معاملہ تھا یا یہ کہ کون انہیں چیف جسٹس مانتا ہے۔ ہم ان کی چیف جسٹس کے طور پر آئینی حیثیت کا جائزہ لیں گے۔ جبکہ وزیر اعطم سید یوسف رضا گیلانی نے کہا ہے کہ آئی ڈی پیز کی واپسی کا عمل ایک ماہ میں مکمل کر لیا جائے گا ۔ ممبئی واقعات پاکستان کے لئے افسوسناک ہیں ۔ پاکستان بھارت کے ساتھ خوشگوار تعلقات چاہتا ہے اور اس کی کوشش ہے کہ دونوں ممالک مسائل حل نکالیں ۔ برآمدات میں اضافے کی کوشش کی جائے اور بین الاقوامی خریداروں کی حوصلہ افزائی کی جانے ان خیالات کا اظہار انہوں نے گزشتہ پیر کو کابینہ کے اجلاس کے موقع پر کیا ۔ کابینہ کے اجلاس میں نئی تجارتی پالیسی کی منظوری دی گئی ۔ وزیراعظم نے پاک بھارت مذاکرات کے بارے میں اعتماد میں لیا اور کہا کہ حکومت کی یہ کوشش ہے کہ ان لوگوں کی مشکلات کا فوری طور پر ازالہ کیا جائے ۔ انہوں نے سوات میں مسلح افواج کی قربانیوں کو خراج تحسین بھی پیش کیا ۔ وزیر اعظم نے کابینہ کو بھارتی وزیر اعظم من موہن سنگھ کے ساتھ شرم الشیخ ملاقات کی تفصیلات کے بارے میں بریفنگ دی اور کہا کہ یہ ملاقات انتہائی خوشگوار ماحول میں ہوئی ۔ دہشت گردی کے حوالے سے تمام امور پر بھارتی وزیر اعظم سے تبادلہ خیال ہوا ۔ پاکستان بھارت کے ساتھ خوشگوار تعلقات چاہتا ہے اور اس کی کوشش ہے کہ دونوں ممالک مل کر مسائل کا حل نکالیں ۔ دہشت گردی صرف پاکستان کا ہی نہیں بلکہ پوری دنیا کا مسئلہ ہے اور مل جل کر ہی اس سے نمٹنا ہو گا ۔ انہوں نے کہا کہ ممبئی واقعات پاکستان کے لئے بھی افسوس ناک ہیں اور پاکستان اس سلسلے میں بھرپور تعاون کر رہا ہے تاکہ اس میں ملوث عناصر کو بے نقاب کیا جا سکے ۔ جبکہ وزیراعظم نے تجارت کے فروغ کے حوالے سے بھی اہم ہدایات دیں۔ جبکہ ڈیفنس آف ہیومن رائٹس کی چیئر پرسن آمنہ مسعود جنجوعہ کی قیادت میں گزشتہ پیر کو لاپتہ افراد کی بازیابی کے لیے سپریم کورٹ کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کیا گیا ۔ مظاہرین نے پلے کارڈ اٹھا رکھے تھے اور انہوں نے نعرے بازی کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ لاپتہ افراد کو جلداز جلد بازیاب کرایا جائے ۔ مظاہرین نے چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کے حق میں بھی نعرے بازی کی ۔ملک میں لا پتہ افراد کے بارے میں قائم ڈیفنس آف ہیومن رائٹس نے اپنے پیاروں کی بازیابی کے لیے عدالت عظمیٰ کے سامنے 4 روزہ احتجاجی کیمپ لگا دیا ہے۔ ملک میں سینکڑوں افراد کے لاپتہ اور غائب ہونے کو چار سال مکمل ہو گئے ۔ احتجاجی کیمپ 30 جولائی تک جاری رہے گا گزشتہ پیر کوجماعت اسلامی پاکستان اور تحریک انصاف سمیت سول سوسائٹی کی مختلف شخصیات نے کیمپ کا دورہ کیا ۔ تفصیلات کے مطابق ملک میں لا پتہ افراد کی گمشدگی کو چار سال مکمل ہونے پر گزشتہ روز عدالت عظمیٰ کے سامنے 4 روزہ احتجاجی کیمپ لگا دیاگیا ہے۔ ڈیفنس آف ہیومن رائٹس کی چےئر پرسن آمنہ مسعود جنجوعہ دیگر لاپتہ افراد کے خاندانوں کے ہمراہ اس کیمپ میں موجود ہیں ۔ لا پتہ افراد کے بوڑھے والدین ، بیوی بچے بھی کیمپ میں شریک تھے ۔ جماعت اسلامی پاکستان کے نائب امیر سینیٹر پروفیسر محمد ابراہیم ، ضلعی امیر سید محمد بلال کی قیادت میں جماعت اسلامی کے وفد نے کیمپ کا دورہ کیا۔ اور لا پتہ افراد کے خاندانوں کو ان کے پیاروں کی بازیابی کے لیے ہر ممکن تعاون کی یقین دہانی کرائی ۔ تحریک انصاف کے مقامی عہدیداروں نے بھی کیمپ کا دورہ کیا ۔ اس موقع پر میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے آمنہ مسعود جنجوعہ نے کہاکہ ہم نے اپنے پیاروں کی بازیابی کے لیے ہر دروازے پر دستک دی ہے۔ چار سال ہو گئے سینکڑوں لاپتہ افراد کا کچھ پتہ نہیں ہے ۔ انہوں نے کہاکہ ہم نے عدالت عظمیٰ کے دروازے پر بھی دستک دی ہے۔ مارے مارے پھر رہے ہیں ۔ سینکڑوں خاندان در بدر ہیں ۔ ملک میں بجلی کی لوڈشیڈنگ کے خلاف بسوں گاڑیوں ٹرینوں کو جلا دیا جائے تو حکومت حرکت میں آ جاتی ہے۔ ہم چار سالوں سے پر امن احتجاج کر رہے ہیں کسی جگہ سے انصاف نہیں ملا ۔ ا نہوں نے کہاکہ سابق صدر پرویز مشرف کے دور میں امریکی جنگ کو ملک و قوم پر مسلط کر کے سینکڑوں لوگوں کو غائب کر دیاگیا ۔ قوم کے معصوم اور بے گناہ نوجوانوں کو ڈالروں کے عوض امریکا کے حوالے کر دیاگیا ۔کوئی ادارہ نوٹس نہیں لے رہا ہے۔ موجودہ دور میں بھی لوگوں کو اٹھایا جارہا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے عدلیہ کی آزادی کے لیے قربانیاں دی ہیں ۔ عدلیہ کے لیے سڑکوں پر احتجاج کیا۔ ریلیوں اور اجلاسوں میں شریک ہوئے۔ عدالت عظمیٰ کو لا پتہ افراد کے بارے میں یاد دہانی کے لیے یہ کیمپ لگایا ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیاکہ پرویز مشرف پر پاکستانیوں کو ڈالروں کے عوض امریکا کے حوالے کرنے کا مقدمہ بھی چلایا جائے۔ ملک کے عوام کی اکثریت کا یہی کہنا ہے کہ ملک میں امریکی پالیسی چل رہی ہے جنرل پرویز مشرف کو عدالتی کٹہرے میں لا کر انکے جرائم کی سزا دلانی چاہیے تھی مگر حکومت نے اپنی ذمہ داری پوری نہیں کی ۔ جنرل ( ر ) پرویز مشرف نے امریکا کے سامنے جھکنے کا جو کلچر بنایا تھا موجودہ حکومت بدستور اس کلچر کو اپنائے ہوئے ہے ۔ 18 فروری 2007 ءکو جو عوام نے مینڈیٹ دیا تھا حکومت اس کی توہین کر رہی ہے سپریم کورٹ کی جانب سے فوجی ڈکٹیٹر جنرل ( ر ) پرویز مشرف کو عدالت میں بلانے کے فیصلے کو پوری قوم تحسین کی نظر سے دیکھتی ہے۔ اگر ایک دفعہ کسی ڈکٹیٹر کو آئین توڑنے کے جرم میں سزا مل گئی تو پھر کوئی فوجی ڈکٹیٹر جمہوری اداروں پر شب خون نہیں مارے گا یوںجمہوری اداروں کو فروع ملے گا۔سپریم کورٹ نے پرویز مشرف کو نوٹس بھجوا کر اور صفائی کا موقع دے کر عدل کے تقاضوں کو پورا کیا ہے۔جب تک 2 نومبر 2007 کی پوزیشن کو بحال نہیں کیا جائے گا۔ اور 3 نومبر 2007 ءکے اقدامات پر عمل ہو گا تو آئین کی بالادستی اور قانون کی حکمرانی قائم ہو سکتی ہے۔ عوام کا یہ بھی خیال ہے کہ اب بھی قومی نوعیت کے تمام فیصلے پارلیمٹ سے باہر ہو رہے ہیں ۔ ڈرون حملوں میں حکومت کی مرضی شامل ہے۔ ملک میں دہشت گردی اور بلوچستان میں حالات کی خرابی کا ذمہ دار بھارت ہے۔ بھارت کی چیرہ دستیاں پورے ملک میں پھیلی ہوئی ہیں ۔ دنیا کھلی آنکھوں سے دیکھ رہی ہے مگر حکومت بھارت کا نام لینے سے گھبراتی ہے۔اے پی ایس

Sunday, July 26, 2009

ہر فیصلے ہر معاملے پر حاوی صدر آصف زرداری۔ چودھری احسن پر یمی




صدرمملکت آصف علی زرداری کی ہدایت پر ان کی 54ویں سالگرہ گزشتہ چھبیس جولا ئی کو انتہائی سادگی سے منائی گئی کراچی میں ان کی موجودگی کے باوجود کوئی بڑی تقریب منعقدنہ کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔بلاول ہاوس کے ترجمان اعجازدرانی نے کہا کہ پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری کی ہدایت پر کراچی،اندرون سندھ اورملک بھر میں ان کی سالگرہ کے موقع پر ملک کی ترقی وخوشحالی اورشہید محترمہ بے نظیر بھٹوکے مشن کی تکمیل کے لئے دعائیں مانگی گئیں اورغریب لوگوں میں لنگرتقسیم کیا گیا۔ جبکہ آصف زرداری کی درازی عمرکیلئے بلاول ہاوس کے باہر بکروں کا صدقہ بھی دیا گیا۔ صدر پاکستان اور پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری جب صدارت کے عہدے پر بھی فائز ہوئے تھے تو انھوںنے تمام وفاقی وزارتوں اور سرکاری محکموں کو ہدایت دی تھیں کہ وہ ان کے بطور صدر منتخب ہونے پر مبارک باد پر مبنی اشتہارات کی اشاعت سے گریز کریں آصف زرداری کی ایوان صدر آمد پر بکروں کا صدقہ دیا گیا تھا۔اس موقع پر صدر آصف زرداری نے کہا تھاکہ ایک غریب ملک ہونے کے ناطے وہ اس طرح پاکستانی ٹیکس دہندگان کے پیسے کو استعمال نہیں ہونے دیں گے۔ ’دنیا ہمیں دیکھ رہی ہے۔ نئی جمہوری حکومت کو اندرونی اور بیرونی سطح پر کئی چیلنجوں کا سامنا ہے۔ نئی حکومت اور عوام کو یہ ثابت کرنا ہوگا کہ ان کی معاشرے اور معشیت میں بہتری لانے کی خواہش ہے اس موقع پر آصف علی زرداری کے حکم پر ہی حکومت سندھ نے ان کے انتخاب کی خوشی میں جو چھٹی کا اعلان کیا تھا وہ بھی واپس لے لیا تھا۔ اس کی وجہ آصف علی زرداری کا وہ عزم تھا کہ ملک کو چھٹیوں کی نہیں کام کی ضرورت ہے۔ کیو نکہ صدر آصف علی زرداری کے خیال میں آمریت کی وجہ سے پاکستان کی شبہیہ بری طرح متاثر ہوئی ہے۔ اس عزت کو واپس حاصل کرنا ایک مشکل عمل ہے تاہم انہیں امید ہے کہ وہ مل کر اس ہدف کو حاصل کر لیں گے۔ اس موقع پر انہوں نے محنت کرنے اور فضول خرچی سے بچنے کی ضرورت پر زور دیا تھا۔تیئس برس قبل انیس سو ستاسی میں بینظیر بھٹو کی آصف علی زرداری کے ساتھ شادی ہوئی تھی تو کئی دنوں تک لوگوں کے ذہنوں میں کئی سوال اٹھتے رہے۔ بےنظیر بھٹو کی وصیت کے مطابق پارٹی کے سربراہ کے طور پر ان کی نامزدگی پر بھی کچھ ویسی ہی صورتحال پیدا ہوگئی تھی۔نواب شاہ سے تعلق رکھنے والے آصف زرداری کا تعلق ایک درمیانہ بزنس کلاس سے ہے۔ ان کے والد حاکم علی زرداری پی پی ٹکٹ پر ستر کی دہائی میں الیکشن جیت چکے ہیں۔ بڑی مونچھیں اور مخصوص سندھی اسٹائل رکھنے والے چوون سالہ پر اعتماد آصف زرداری پولو اور گھڑ سواری کے شوقین تھے۔ یہاں تک کہ انہوں نے وزیر اعظم ہاو¿س میں پولو گراو¿نڈ تعمیرکرایا تھا۔ جس وجہ سے کئی مخالف سیاسی رہنما ان پر برہمی کا اظہار کرتے رہے اور اس حوالے سے کئی کہانیاں میڈیا میں آئیں تھیں۔ آصف زرداری بینظیر حکومت میں مختلف معاملات میں اہم کردار ادا کرتے رہے۔ انیس سو اٹھاسی کے عام انتخابات کے نتیجے میں جب بے نظیر بھٹو کی قیادت میں پیپلز پارٹی پہلی مرتبہ برسر اقتدار آئی تو پارٹی کے کئی پرانے لیڈروں اور کارکنوں کو یہ شکایت تھی کہ حکومت اور پارٹی میں کسی عہدہ دار کی نہیں چلتی۔ ہر فیصلے اور ہر معاملے پر آصف زرداری حاوی ہیں۔ پارٹی کے بعض اراکین کے تحفظات اور مختلف حلقوں کی جانب سے اٹھائے گئے اعتراضات کے باوجود بینظیر کے دوسرے دور حکومت میں انہوں نے سیاسی رول بھی ادا کرنا شروع کیا۔ آصف زرداری کے بارے میں مشہور ہے کہ وہ دوست نواز ہیں۔ جب وہ جیل میں سنگین حالات سے دوچار تھے تو ان کے والد حاکم علی زرداری نے ایک مرتبہ کہا تھا کہ آصف دوستوں کی وجہ سے ہی یہ دکھ دیکھ رہا ہے۔ آصف زرداری نے ایک مرتبہ اپنی گرفتاری پر کہا تھا کہ ان کا ایک پاو¿ں جیل میں اور دوسرا وزیر اعظم ہاو¿س میں ہے۔ یہ بات سچ بھی ثابت ہوئی کہ ان کی شادی کے بعد جب بینظیر حکومت میں رہیں تو وہ وزیر اعظم ہاو¿س میں رہے اور جب اپوزیشن میں رہیں تو وہ جیل میں یا پھر بیرون ملک۔ پانچ نومبر سن انیس سو چھیانوے کو جب ان کی جماعت کی حکومت ان ہی کے منتخب کردہ صدر فاروق احمد خان لغاری کے ہاتھوں برطرف ہونے سے لیکر دو ہزار چار تک وہ مسلسل جیل میں رہے۔ اور یوں آٹھ سال کا عرصہ انہوں نے قید میں گزارا۔ اس دوران چار حکومتیں آئیں اور گئیں، لیکن آصف زرداری کے لیے جیل کے دروازے نہیں کھلے۔یہ ہی وجہ ہے کہ وہ ایک طاقتور سیاسی شخصیت بن کر سامنے آئے ۔ آصف زرداری کا صدر منتخب ہونا مسائل کے حل کی طرف ایک تاریخی سفر کا آغاز تھا ۔ اس وقت عوام کا یہ بھی کہنا تھا کہ ملک میں مکمل جمہوریت اس وقت ہوگی جب معزول چیف جسٹس کو بحال کیا جائے گا۔ وہ دن بھی آیا جب معزول چیف جسٹس افتخار محمد چودھری بحال بھی ہوگئے آصف زرداری کے صدر منتخب ہونے کے بعد سالوں سے پارلیمان اور ایوان صدر کے درمیان جاری تصادم ختم ہوگیا۔آصف زرداری کا انتخابی عمل آئین اور قانون کے مطابق ہوا اور یہ ہی عوام کی فتح تھی انہوں نے صدارتی انتخاب میں پیپلز پارٹی کی فتح کو ایک تاریخی دن قرار دیتے ہوئے کہا تھاکہ ملک کو درپیش تمام مسائل کو ایک دن میں حل نہیں کیا جا سکتا ہے لیکن آج کا دن مسائل کے حل کی طرف ایک تاریخی سفر کی شروعات ہے۔ بھٹو خاندان کے سیاسی وارث صدر پاکستان آصف علی زرداری جس خوش اسلوبی سے فلسفہ بھٹو کی روشنی میں ملک کا نظم و نسق چلارہے ان کے جاری سیاسی عمل سے جمہوریت کو کوئی خطرہ لاحق نہیں اس طرح کی باتیں ملک دشمن عناصر و غیر جمہوری طاقتیں پھیلا رہی ہیں۔ کیو نکہ سیاسی عمل میں شامل تمام فریق ملک میں جمہوری نظام کی کامیابی اور اس کے برقرار رہنے کے بارے میں متفق ہیں لہذا اس نظام کو کوئی خطرہ نہیں ہے۔ کسی کو پاکستانی قوم کے عزم، اس کے اداروں کی طاقت اور رہنماو¿ں کی ملک کو مشکلات سے نکالنے کے ارادے پر شک نہیں ہونا چاہیے۔ ملک دشمن عناصر اس طرح کا پروپیگنڈا کر کے ملک اور عوام کی توجہ اصل مسائل کی طرف سے ہٹانا چاہتے ہیں۔ ’لیکن موجودہ قیادت نے ماضی میں بھی شدت پسندی اور دہشت گردی کے چیلنج سے مقابلہ کیا ہے اور آئندہ بھی اس دشمن سے لڑنے کا عزم اور صلاحیت رکھتے ہیں۔‘ آج پاکستان ایک پھلتی پھولتی جمہوریت رکھتا ہے جس میں آزاد میڈیا اور شہری حقوق رائج ہیں۔ ’ جمہوری نظام، ہمارے ادارے اور انکی صلاحیت میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے اور اس بارے میں کسی کو غلط فہمی نہیں ہونی چاہئے’۔ پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف زرداری اور انکی جماعت جمہوریت کی علم بردار ہے اور اسکی مرحوم سربراہ شہید بے نظیر بھٹو کی کوششوں سے آج ملک میں جمہوری دور رائج ہے۔ پاکستان کے صدر آصف علی زرداری دنیا کو بتانا چاہتے ہیں کہ پاکستانی اپنے مسائل خود حل کریں گے اور اپنی جنگیں خود لڑیں گے۔ انھیں سکھانے کے ضرورت نہیں بلکہ دنیا کی قدیم جمہوریت اور سب سے بڑی جمہوریت کوان سے سیکھنے کی ضرورت ہے ۔کیونکہ انھوںنے اپنے رہنماءاور لوگ کھوئے ہیں اور انھیںپتا ہے کہ کیسے انتقام لیا جائے۔‘ آصف زرداری اس بات پر بھی یقین رکھتے ہیں کہ پاکستان ناکام ریاست نہیں ہے ’مگروہ تسلیم کرتے ہیں کہ ملک کو کینسر ہے جس کا علاج جمہوریت ہے۔‘ آصف زرداری نے اس عزم کا بھی اعادہ کیا ہوا ہے کہ وہ بے وطن کرداروں کواپنا ایجنڈا مسلط کرنے نہیں دیں گے اور نہ ہی انھیں اپنے ناپاک عزائم میں ہونے دیں گے ۔وہ امریکی صدر اوباما کے خیال سے متفق ہیں کہ اس کینسر کا ریجنل علاج ہونا چاہیے۔ جبکہ آصف زرداری اپنے کئی ایک خطاب میں یہ بھی کہہ چکے ہیں کہ انھیں بینظیر کے قاتلوں کا علم ہے اور وہ انہیں بے نقاب کریں گے مگر وقت کا انتظار کرنا چاہیے ۔ ان کے مطابق قاتل یہ چاہتا ہے کہ ہم جلد بازی کریں اور طیش میں آئیں مگر ہم ایسا ہرگز نہیں کریں ہم اپنے فیصلے کا وقت خود طے کریں گے۔ آپ سب کو اختلاف رائے کا حق ہے مگر آصف زرداری کو فیصلے کرنے کا حق عوام نے دیا ہے۔‘ انہیں ملکی مسائل کے حل کا علم ہے زراعت سے لیکر بجلی پانی اور صنعت کے مسائل کا حل وہ جانتے ہیں مگر انہیں وقت درکار ہے۔ ان کی جماعت اقتدار کے ایوانوں میں عوامی ووٹ کے ذریعے پہنچی ہے کسی کی رعایت یا سفارش سے نہیں ۔ پاکستان کی جمہوریت کو خطرات لاحق ہیں مگر ان کی جماعت کے شریک چئیر مین آصف زرداری ان خطرات سے نمٹ لیں گے ۔ آصف زرداری بے آواز لوگوں کی آواز ہیں اور بعض قوتوں سے ان کی اقتدار کے ایوانوں میں موجودگی برداشت نہیں ہو پا رہی ہے۔ صدر آصف علی زرداری کے نزدیک دہشتگردی ایک فلسفہ ہے جو پاکستان میں پروان نہیں چڑھا بلکہ کسی اور ملک میں تخلیق کرکے پاکستان منتقل کیا گیاتاکہ ہم ایک سپر پاور کا مقابلہ کرسکیں اور ہم نے اس سپرپاور کا مقابلہ کیا۔ لیکن اس بلا کو بنانے والوں نے اسکا علاج نہیں بنایا اور اب یہ کینسر ایک بلا بن گئی ہے۔‘ پیپلز پارٹی کی حکومت کو گرانے میں بھی انہی دائیں بازو کی قوتوں کا ہاتھ رہا ہے جو شدت پسندی کے اس فلسفے کو پروان چڑھاتی رہی ہیں۔ ان قوتوں کا انداز فکر ہی جارحیت ہے کہ ہم اقلیت ہیں لیکن اکثریت پر طاقت کے زور پر حکمرانی کریں گے جو کہ غلط ہے۔‘ تاہم یہ قوتیں عوام سے جیت نہیں سکتیں۔ ’قوموں پر امتحان آتے ہیں، یہ امتحان کی گھڑی ہے مگر آصف علی زرداری کو اپنے آپ پر اور پاکستان کے عوام پر یقین ہے۔ آج معاشی دہشتگردی کا زمانہ ہے اور وہ فلسفہ بھٹو کی روشنی میں ثابت قدمی سے ان کا مقابلہ کر رہے ہیں۔ صدر آصف علی زرداری نے عالمی سطح پر پاکستان کی ساکھ بحال کی ہے اور دنیا اس بات کو تسلیم کر رہی ہے کہ پاکستان دہشتگردی کا شکار ہے۔ گزشتہ مہینوں’ فرینڈز آف پاکستان کا ایک اجلاس ہوا اس میں جرمنی کے نمائندے نے کہا کہ ہمیں پاکستان کی مدد کرنی چاہیے اور یہ موجودہ حکومت کی غلطی نہیں ہے بلکہ سابقہ حکومت سے انہیں یہ صورتحال ورثے میں ملی ہے ۔ صدر زرداری امریکہ کے صدر براک اوباما سے بھی پاکستان کی امریکی میزائیل حملوں کے بارے میں شکایت کا از سر نو جائزہ کیلئے بھی کہہ چکے ہیں۔ کیو نکہ صدر آصف علی زرداری سمجھتے ہیں کہ امریکی میزائیل حملے ہماری خودمختاری کی خلاف ورزی ہیں اور انہیں عوامی سطح پر ناپسندیدگی سے دیکھا جاتا ہے۔ صدر زرداری سمجھتے ہیں کہ اس جنگ کا پہلا مقصد لوگوں کے دل دماغ جیتنا ہے صدر آصف علی زرداری کئی بار امریکہ سے کہہ چکے ہیں کہ دہشتگردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کی مدد کرے کیونکہ دہشتگردی علاقائی نہیں بلکہ عالمی مسئلہ ہے۔ افغانستان میں منشیات کے ناجائز کاروبار کا سرمایہ پاکستان کے اندر عسکریت پسندی کو بھڑکانے کے لیے استعمال کیا جارہا ہے۔ امریکہ کو چاہیے کہ زمینی حقائق کو اچھی طرح سمجھے۔ افغانستان میں پیدا ہونے والے منشیات کی آمدنی سے پاکستان کے اندر دہشتگردی کو ہوا دی جاتی ہے اور امریکہ افغانستان میں پوست کی کاشت کو رکوائے۔اے پی ایس