
اس سے ہماری براہ راست صرف ایک ملاقات ہے۔ یہ چھ ستمبر 2008 کی دوپہر تھی۔ جب صدارتی الیکشن کی پولنگ جاری تھی اور ”زرداری سب پہ بھاری“ کی گردان پیپلز پارٹی کے کارکنوں کے لبوں سے جاری تھی۔ کچھ خواتین ایم این اے ایک دوسرے کی قمیض کا کپڑا دیکھ دیکھ کر چہک رہی تھیں۔ جب قمر زمان کائرہ خوشی خوشی اِدھر ُادھر کاغذات ہاتھ میں تھامے گھوم رہے تھے بلکہ سب سے زیادہ وہ ہی متحرک تھے!! جب حنیف عباسی اپنی دلفریب مسکراہٹ کے ساتھ وزیراعظم سے بغل گیر ہوچکے تھے ۔ جب سپیکر قومی اسمبلی وزیر اعظم کے برابر کی نشست پر جلوہ افروز ہو چکی تھیں۔ جب فوزیہ حبیب اسمبلی میں اپنے لئے نشست تلاش کر رہی تھیں اور جب دوست محمد مزاری سینئر ممبران اسمبلی کو تابعداری سے سینے پر ہاتھ رکھ کے جھک جھک کر مل رہے تھے تو ہماری برابر کی نشست پر بیٹھے ساتھی نے زلزلہ نے کے بارے میں بتایا۔ کچھ نے ان کے خیال کو رد کر دیا اور کچھ سچ سجھ کر اپنی محسوس کرنے کی حس سے زمین کو محسوس کرنے لگے اور پھر انکار کر دیا۔ لیکن جب چند ہی لمحوں بعد بھی زمین کو پھر جھرجھری ئی تو یہ جھرجھری قدرے تیز تھی ۔ بس پھر کیا تھا۔ اکتوبر کی مد مد ہے اور پھر رمضان میں زلزلے کے خوف نے تو تقریباً سب کے جسم میں ایک برقی رو گزار دی ہو۔ سب لوگ اسمبلی سے باہر جانے لگے کہ سب کو 8 اکتوبر 2005 کا کبھی نہ بھولنے والا سانحہ یا د گیا۔ کشمیر اور سرحد کا حسن ابھی تک ماند ہے۔ دنوں اور راتوں میں تین سال کا فاصلہ نے کے باوجود اس زلزلے کا نام لیں تو رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں۔ گھر کے گھر زمین بوس ہوگئے تھے۔ گاں کے گاں اجڑ گئے شہروں کے درودیوار نوبہاتیابیوہ کے بکھرے بالوں کی طرح ادھر ادھر بکھرے پڑے تھے۔ ہم لوگ بھی اونچی منزلوں سے اسمبلی کے باہر والے گیٹ پر Èگئے۔اس گیٹ پر میری اس سے پہلی ملاقات ہوئی تھی۔ کوئی افسرانہ اکڑ فوں نہیں تھی اور نہ ہی چیئرمینوں والی پھوں پھاں تھی ........ سوٹ تو پہن رکھا تھا مگر ٹائی کے بغیر تھا اور سب کے ساتھ واقعی گھل مل گیا اور باتیں کرنے لگا۔ اس کی باتوں سے، اس کی باڈی لینگویج سے اس کے حوصلے اور عزم کا پتہ چلتا تھا وہ واقعی کچھ کرنے اور کر گزرنے کے جذبے سے سرشار ہے۔ اس کا بچپن سعودی عرب میں گزرا ہے۔ ایف ایس سی ڈی جے سائنس کالج کراچی سے کرنے کے بعد سندھ میڈیکل کالج سے ایم بی بی ایس کیا گویا وہ واقعی ”ڈاکٹر“ ہے لیکن خداداد صلاحتیں منہ زور پانی کی طرح ہوتی ہیں۔ وہ یہ نہیں دیکھتیں کہ کوئی ڈاکٹر ہے ، کوئی حساب دان ہے، کوئی کچھ بھی نہیں مگر وہ اپنے اظہار کے راستے خود تلاش کرتی ہیں۔ لہٰذا یہی کچھ اس کے ساتھ ہوا اور وہ ایک عمدہ کالم نگار صحافی بن گیا۔خدا لگتی تو یہ ہے کہ مجھے اس کی وکالت کا شوق نہیں اور نہ ہی میری اس کی کوئی بڑی گوڑی یاری ہے کہ میں اس کا بھرم نبھاتا پھروں لیکن یہ ضرور ہے کہ کسی شریف انسان کے ساتھ کوئی زبردستی چھیڑ چھاڑ کرے تو برداشت نہیں ہوتا۔ اب اگر انہیں پی ٹی وی کا قبلہ درست کرنے کے لئے چیئرمین بنا ہی دیا گیا ہے تو یار لوگ کچھ صبر کرکے بیٹھیں اور شکر بھی کریں کہ کوئی اہل شخص درست جگہ پر بٹھایا گیا ہے ورنہ تو ایک مدت سے نااہل لوگوں کو اہلیت کی سند دے کر بہت کچھ بنایا جاتا رہا ہے۔ رہی ان کی تنخواہ کی بات تو جو کام کرے گا اور اپنے کام کا دھنی ہوگا اس کا معاوضہ تو زیادہ ہی ہوگا۔ ان لوگوں کو یہ سوچنا چاہیے کہ بے حساب لوگ وہ ہیں جو بغیر کسی کام کے بڑے بڑے معاوضے وصول کر رہے ہیں اور دولت کما رہے ہیں۔ بلکہ بہت کام کرنے کے دعوے کرنے والے اکثر و بیشتر ایسے کام دکھاتے ہیں کہ عقل دھنگ رہ جاتی ہے۔ ابھی کچھ ہی برس پہلے کی بات ہے سابق وزیر خزانہ اسحاق ڈار ایک معصوم شکل و صورت کے شخص کو امریکہ سے لے ئے تھے۔ انہوں نے بڑے بڑے دعوے کئے اور پھر وہ معصوم شکل و صورت کے مالک پہلے وزیر خزانہ بنے اور پھر وزیر اعظم بن گئے۔ یہ شارٹ کٹ عزیز نامی صاحب پہلے سادگی کا درس دیتے نہیں تھکتے تھے۔ جب وہ خود وزیر اعظم بنے تو سب نے دیکھا کہ انہوں نے کیا کیا گل کھلائے ہیں۔ وہ جہاد پرویزی میں اعتدال پسندی روشن خیالی کے بعد ملک کو ”ان دی لائن ف فائر .... سب سے پہلے پاکستان کو پہنچانے میں ہراول دستے میں شامل تھے پھر ملک کی دولت کو لوٹنے میں پیش پیش ہوگئے۔ اس لئے عرض یہ ہے کہ ڈاکٹر شاہد مسعود کو کام تو کرنے دیں ۔ کچھ قبلے کا رخ تو بنتا نظر ئے۔ صاف ظاہر ہے کام درست نہ ہوا تو وہی ہوگا جو ہر غلط کام کرنے والے کے ساتھ ہونا ہے۔ ڈاکٹر صاحب ذہن پر سوار تھے کہ چند روز سے یار لوگ انہی کی بابت باتیں کئے جارہے تھے۔ لہٰذا یہ سب لکھا گیا۔ حالانکہ لکھنے بیٹھے تو خیال وہی تھا کہ کوئٹہ کے ان مناظر کے بارے میں لکھا جائے جہاں بھوک سے بلکتی روزہ دار عورتوں کو لاٹھیاں ماری جارہی تھیں۔ بھوک کا عذاب کس قدر سخت ہے کہ مار کھاتی عورتیں گرتی پڑتی پھر ٹے کے پیکٹوں کو پکڑنے کی کوشش کرتی نظر رہی تھیں۔ اور حد تو یہ ہے کہ وہ اس ٹے کو بھی اٹھا کر گھر لے جانا چاہتی تھیں جو زمین پر بکھر چکا تھا۔ اس لمحے اس صوبائی وزیر غزالہ گل کے دل پر کیا گزری ہوگی۔ ہر دو صورتوں میں احساس ندامت نے ہی گھیرا ہوگا کہ کاش میں یہ کام نہ کرتی یا پھر یہ کہ کاش ٹا بہت زیادہ ہوتا ........ لیکن کاش اس نیک دل وزیر کو کوئی یہ بتائے کہ پورے ملک میں ٹے کا عذاب اسی طرح ہے لوگ دو دو کلو ٹے کے لئے پریشان ہےں۔ اب عوام کے مسائل کے حل کرنے کے لئے حکومت کو جلد از جلد کچھ کرنا ہوگاکیونکہ ابھی تک تو صرف مشرف ”ہٹا“ اور جو لوگ معزول ہو چکے ہیں انہیں ”محکوم“ بنا۔ جو اعلان مری کے وقت ساتھ تھے اپوزیشن میں ”بٹھا“ اور کچھ بھولے بسرے دوستوں کو جلد از جلد گلے ”لگا“ اور انہیں وزارتیں ”تھما“ کے علاوہ کوئی کام نہیں کیا۔ اب حکومت کو عوام کے بنیادی مسائل کو حل کرنے کے لئے بھی کچھ وقت نکالنا چاہیے۔ صرف عوام کو جناب صدر محترم کے کمرشل فلائٹ پر سفر کرکے لندن جانے کا انکشاف کرنا کافی نہیں بلکہ ابھی عشق کے امتحان اور بھی ہیں شیری رحمن صاحبہ!!!کچھ ایسا انکشاف کیجئے کہ استحصال زدہ قوم کے چہروں پر خوشی کی دلفریب لہر دوڑ جائے!!
No comments:
Post a Comment