International News Agency in english.urdu news feature,Interviews,editorial,audio,video & Photo Service from Rawalpindi/Islamabad,Pakistan.Managing editor M.Rafiq,Editor M.Ali. Chief editor Chaudhry Ahsan Premee email: apsislamabad@gmail.com,+92300 5261843 مینجنگ ایڈ یٹر محمد رفیق، ایڈیٹر محمد علی، چیف ایڈیٹرچو دھری احسن پر یمی

Friday, September 12, 2008

امریکہ کے غلاموں نے ملک کو کھوکھلا کردیا ہے ۔ تحریر : چو دھری احسن پریمی اے پی ایس



ملک بھر کے عوام نے شمالی وزیرستان میں امریکی جاسوس طیاروں کی طرف سے جمعہ کی صبح کیے جانے والے حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہاہے کہ آرمی چیف سرحدوں کے دفاع میں مخلص ہیں اور ان کا اعلان محض بیان نہیں ہے تو جواب کا وقت آ گیاہے ، پاک فوج کی وارننگ کے بعد سرحد کی خلاف ورزی اور بارہ افراد کی ہلاکت کا نوٹس لیا جانا چاہیے اور اس حملے کا جواب دینا چاہیے۔ امریکہ اور برطانیہ ایک ہی سکے کے دو رخ ہیں۔ آصف زرداری برطانیہ جانے سے پہلے چین کا دورہ کریں۔ سرحدوں کے دفاع کے لیے ضروری ہے کہ فوج اپنی قوم کے خلاف لڑنا بند کردے اور قبائلی علاقوں میں فوجی آپریشن فوری طور پرختم کیا جائے۔ وار آن ٹیرراور مسئلہ کشمیر سمیت خارجہ و داخلہ پالیسی کو پارلیمنٹ کے جوائنٹ سیشن میں زیربحث لایاجائے ، ملک میں سویلین آمریت قائم کرنے کے بجائے تمام فیصلے پارلیمنٹ میں کیے جائیں اور ان پر قوم کو اعتماد میں لیا جائے۔ بیرونی خطرات کا مقابلہ کرنے اورداخلی معاملات سے نمٹنے کے لیے ملک کو جرات مند قیادت کی ضرورت ہے۔ تمام مذہبی و سیاسی جماعتیں اپنے اختلافات بھلا کر امریکہ کے مقابلے میں یک زبان اور سیسہ پلائی ہوئی دیوار بن جائیں صدر بش کے پاکستان کو میدان جنگ قرار دینے اور امریکی آرمی چیف کی طرف سے پاکستانی علاقوں میں کارروائی کے اعلان کے بعد نام نہاد دہشت گردی کے خلاف جنگ کے نام پر امریکی اتحاد میں شامل رہنے اور اس کی خاطر اپنی قوم سے جنگ لڑنے کاکوئی جواز نہیں ہے۔حکومت وار آن ٹیرر میں تعاون کے خاتمے کا اعلان کرے اور امریکی جارحیت سے نمٹنے کے لیے چین کے ساتھ تعلقات کو فروغ دیا جائے امریکہ عراق اور افغانستان میں پھنسا ہوا ہے اور اسے وہاں شکست کا سامنا ہے۔ ایران کو بھی دھمکیاں دی جارہی ہیں مگر اس کا کچھ نہیں بگاڑا جا سکا۔ پاکستان کی اسلامی شناخت اور اس کا ایٹمی پروگرام امریکہ، اسرائیل اور بھارت کے لیے قابل قبول نہیں ہے۔ ریپبلکن پارٹی اپنے امیدوار کو جتوانے کے لیے پاکستان کو قربانی کا بکرا بنانا چاہتی ہے۔مریکی خطرے کا مقابلہ کرنے کے لیے ضروری ہے کہ قوم اور فوج متحد ہوں۔ ہم امریکہ کے ساتھ جنگ نہیں چاہتے مگر اپنی سلامتی اور قومی خودمختاری کا دفاع ہمارا فرض ہے۔مریکہ کی طرف سے مسلسل پاکستانی سرحدوں کی خلاف ورزی ہو رہی ہے ملک جرنیلوں، جاگیرداروں، سرمایہ داروں اور بیوروکریٹس کے کلب کے ہاتھ میںہے۔ یہ سب امریکہ کے غلام ہیں۔ جبکہ وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی نے ایک بار پھر کہا ہے کہ پاکستان کے اندر عسکریت پسندوں کے خلاف کارروائی کرنے کا حق صرف اور صرف پاکستان کو ہے ہم کسی بیرونی فوج کو اپنے ملک کے اندر کارروائی کی اجازت نہیں دیں گے امریکہ سے جنگ نہیں کر سکتے تنازعات کو سفارتی سطح پر حل کیاجائے گا ۔ فرانس ، جرمنی ا ور نیٹو نے پاکستان کے اندر کسی بھی کارروائی کا حصہ بننے سے انکار کر چکے ہیں ۔ امریکہ کو بھی سفارتی سطح پر قائل کرنے کی کوشش کی جائے گی ۔ قوم خوفزدہ نہ ہو ہم ایک آزاد خود مختار ملک ہیں جن کا اپنا ایک دفاعی نظام ہے ۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے وزیراعظم سیکرٹریٹ میں ایک تقریب میں شرکت کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کیا ۔ وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی نے کہا کہ قوم قبائلی علاقو ںمیں امریکی حملوں سے خوفزدہ نہ ہو حکومت پاکستان کا امریکہ کے ساتھ ایسا کوئی معاہدہ نہیں ہوا جس میں امریکی فوج کو پاکستان کے اندر آ کر کارروائیاں کرنے کی اجازت ہو انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان کے اندر دہشت گردوں کے خلاف جو بھی کارروائی ہو گی وہ ہماری اپنی فوج کرے گی کسی بیرونی فوجی کو پاکستانی سرزمین میں داخل ہونے کی اجازت نہیں ہے نہ دی جائے گی ۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے تمام ممالک کے ساتھ اچھے تعلقات ہیں ۔ پاکستان کے بعض علاقوں میں اگرچہ حالات بہتر نہیں ہیں ۔ لیکن یہ پاکستان کا اندرونی معاملہ ہے جسے ہم خود حل کرنے کی بہتر صلاحیت رکھتے ہیں ۔ ہم نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پہلے بھی بہت نقصان اٹھایا ہے تاہم اس میں اگر ہمارے ساتھ کوئی تعاون کرنا چاہتا ہے تو وہ کرے ۔ لیکن وہ بھی معلومات کے تبادلے کی حد تک ۔ انہوں نے کہا کہ اگر پاکستان کے اندر عسکریت پسند ہے تو اس کے خلاف کارروائی کرنے کا حق صرف اور صرف پاکستان کو ہی حاصل ہے ۔ پاکستان امریکہ اور اس کے اتحادیوںپر واضح کر چکا ہے کہ پاکستان ایک آزاد اور خود مختار ملک ہے جس کا اپنا دفاع کا ایک نظام اور طریقہ کار ہے لہذٰا پاکستان نے اتحادی افواج کے ساتھ معلومات کے تبادلے کا جو طریقہ کار طے کررکھا ہے اس کے تحت ہمیں معلومات فراہم کی جائیں ہماری افواج اس کے مطابق خود کارروائیاں کریں گی ۔انہوں نے بتایا کہ اس وقت جرمنی فرانس اور نیٹو پاکستان کے اندر کسی بھی امریکی کارروائی کا حصہ بننے سے انکار کر چکے ہیں اس لئے امریکہ اوربرطانیہ کو بھی باور کرایا جائے گا کہ وہ پاکستان کے اندر کوئی بھی فوجی کارروائی کرنے سے گریز کریں۔ انہوں نے ایک سوال کے جواب میں کہاکہ پاکستان قبائلی علاقوں میں امریکہ سے کوئی جنگ نہیں کرنا چاہتا لہذٰا اس حوالے سے جو بھی مسائل ہیں انہیں سفارتی سطح پر حل کیا جائے گا وزیراعظم نے بتایا کہ اس کیلئے آصف علی زرداری برطانیہ اور امریکہ کا دورہ کرنے والے ہیں جہاں وہ برطانوی و امریکی حکام سے اس سلسلے پر بھی بات کریں گے اور ان کو قائل کریں گے پاکستان کے اند ردہشت گردوں کے خلاف کارروائیاں ہماری اپنی افواج ہی کریں گی ۔ انہوں نے بتایا کہ امریکہ کو قائل کیاجائے گا کہ وہ پاکستان کے اندر حملے کرنے کی پالیسی سے گریز کرے انہوں نے کہا کہ تمام مسائل کا حل جنگ ہی نہیں بلکہ امن کے قیام کیلئے دیگر سلسلے بھی استعمال کئے جا سکتے ہیں ایک اور سوال کے جواب میں وزیراعظم نے کہاکہ قوم کو گھبرانا نہیں چاہیے پاکستان ایک آزاد اور خود مختار ملک ہے جس کا دفاع کا اپنا ایک نظام اور طریقہ کار ہے موجودہ حکومت عالمی امن کے قیام کیلئے اپنی کوشش جاری رکھے گی ایک اور سوال کے جواب میں وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان سب سے زیادہ دہشت گردی کا شکار ہے لہذا وہ اس کے خاتمے کیلئے اپنی کوششیں جاری رکھے گا انہوں نے کہاکہ دہشت گردی کے خلاف پاکستان کی کوششوں پر شک کرنے کی کوئی گنجائش باقی نہیں رہتی پاکستان اس جنگ میں پہلے ہی سے اہم کردار ادا کر رہا ہے۔جبکہ کور کمانڈر کانفرنس نے اعلان کیاہے کہ جمہوری حکومت کے ساتھ مل کر ملکی سالمیت کے لیے کام کریں گے۔ دو روز تک جاری رہنے والی گیارہویں کور کمانڈر کانفرنس جنرل ہیڈ کوارٹرز میں اختتام پذیر ہو گئی ہے۔ کانفرنس کی صدارت چیف آف آرمی سٹاف جنرل اشفاق پرویز کیانی نے کی ۔ کانفرنس میں کور کمانڈرز سمیت تمام سٹاف آفیسرز نے شرکت کی ۔ کانفرنس میں شرکاءکو ملکی موجود سیکیورٹی اور سرحدوں کی صورتحال کے بارے میں تفصیلی بریفنگ دی گئی اور خطے میں امن و استحکام کے حوالے سے اقدامات سے آگاہ کیاگیا ۔ کانفرنس کے اختتام پر چیف آف آرمی سٹاف جنرل اشفاق پرویز کیانی نے کہا کہ نئی جمہوری حکومت کے ساتھ مل کر ملک کی سالمیت اور خود مختاری کی حفاظت کی جائے گی جس کو پاکستان عوام کی مکمل حمایت حاصل ہے کور کمانڈر کانفرنس کا دو روزہ 112 واں اجلاس ختم ہو گیا ۔ کور کمانڈروں نے دہشت گردی کے خلاف چیف آف آرمی سٹاف جنرل اشفاق پرویز کیانی کی متعین کردہ پالیسی کی منظوری دے دی ۔ ذرائع کے مطابق اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ پاکستانی علاقوں میں کارروائی کا حق صرف اور صرف پاک فوج کو حاصل ہے ۔ کسی بھی غیر ملکی فوج کو پاکستان کے اندر کارروائی کی اجازت نہیں دی جائے گی ۔ ذرائع کے مطابق اجلاس میں امریکہ کے ساتھ دہشت گردی کے حوالے سے تعاون کا ازسرنو جائزہ لینے کا فیصلہ کیا گیا اوراس حوالے سے سفارشات سول حکومت کو پیش کی جائیں گی ۔ اجلاس میں قبائلی علاقوں کی صورت حال اور سوات اور باجوڑ میں جاری آپریشن پر بھی غور کیا گیا ۔جبکہ عالمی جوہری توانائی ایجنسی (آئی اے ای اے) نے کہا ہے کہ ایٹمی بلیک مارکیٹ کا نیٹ ورک پاکستان سے چلایا جا رہا ہے، بلیک مارکیٹ میں ایٹم بم بنانے کی معلومات موجود ہیں ویانا سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ خریدارو ں تک معلومات پہنچانے کے لیے کمپیوٹر ٹیکنالوجی کا استعمال کیا جاتا ہے بیان کے مطابق بلیک مارکیٹ میں جوہری بم بنانے کے بارے میں جدید معلومات فراہم کیا جاتی ہیں آئی اے ای اے کا کہنا ہے کہ ایٹم بم بنانے کی ترکیب خریداروں تک ای میلز یا سی دیز سے پہنچانا انتہائی خ طرناک ہے کیونکہ انگفت لوگ ان معلومات تک رسائی حاصل کر سکتے ہیں بیان کے مطابق عالمی توانائی ایجنسی تک یہ معلومات لیبیا سے 2003 ءمیں ملنے والی خفیہ رپورٹ سے حاصل ہوئی ہیں۔اس حوالے سے ممتاز ایٹمی سائنسدان ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے ایٹمی توانائی کے عالمی ادارے کے اس موقف کو غلط قرار دے کر مستر دکر دیا ہے کہ ان کا1984ءمیں لیبیا کے حکام سے ملاقات ہوئی تھی ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے ایک نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ اس قسم کی رپورٹ افشاں کرنے کامقصد پاکستان پر دباو¿ بڑھانا ہے تاکہ وہ قبائلی علاقوں میں امریکہ کی طرف سے کی جانے والی جارحیت کو نہ روکے۔جبکہ برطانوی نشریاتی ادارے کی ایک رپورٹ کے مطا بق پاکستان، افغانستان اور امریکی فوجی حکام نے گزشتہ برس معلومات کے تبادلے کو بہتر بنانے کی غرض سے جوائنٹ انٹیلیجنس آپریشن سینٹرز قائم کیے تھے تاہم فریقین میں بداعتمادی کم کرنے میں ان سے کوئی مدد نہیں ملی ہے۔ امریکی فوجی حکام اب پاکستان کو خفیہ معلومات فراہم کرنے کے بجائے بظاہر خود کارروائیاں کر رہے ہیں۔ اس کی واضح مثال گزشتہ دو ہفتوں کے دوران افغانستان میں موجود امریکی فوجیوں کی جانب سے قبائلی علاقوں میں بغیر پائلٹ کے طیاروں کے ذریعے یکے بعد دیگرے حملے ہیں۔ اس حوالے سے عسکری تجزیہ نگار بریگیڈئر شوکت قادر اعتراف کرتے ہیں کہ پاکستان اور امریکہ اتحادی ہونے کے باوجود ایک دوسرے پر شک کر رہے ہیں۔ ’امریکہ اپنی خفیہ معلومات کی بنیاد پر اب خود کارروائیاں کر رہا ہے لیکن وہ یہ معلومات پاکستان کو دیتا تو عام شہریوں کی ہلاکت سے بچا جاسکتا تھا۔‘ ماہرین کے مطابق قبائلی علاقوں میں دو طریقوں سے خفیہ معلومات اکٹھی کی جا رہی ہیں۔ ایک تو بغیر پائیلٹ کے جاسوس طیاروں کے ذریعے جس کی صلاحیت امریکہ کے پاس ہے۔ دوسرا زمین پر موجود مخبروں کے ذریعے جس کا نیٹ ورک پاکستان کا زیادہ مضبوط ہے۔ امریکہ جدید جاسوسی طیاروں کے ذریعے قبائلی علاقوں پر مسلسل نظر رکھتا ہے۔ ان طیاروں میں نصب کیمرے سے یا تو ویڈیو بنائی جاتی ہے یا پھر کابل کے شمال میں بگرام کے فوجی اڈے پر موجود امریکی ماہرین تک براہ راست فیڈ بھیجی جاتی ہے۔ لیکن قبائلی علاقوں میں سکیورٹی کے سابق سیکرٹری برگیڈئر محمود شاہ کا ماننا ہے کہ اس طرح سے حاصل کی گئی معلومات سو فیصد درست نہیں ہوتیں۔ ان کے مطابق اس معلومات کی بنیاد پر کی گئی کارروائی کا تناسب پچاس فیصد سے بھی کم ہے۔ ’انہوں نے باجوڑ میں ڈمہ ڈولہ کے مقام پر ان معلومات کی بنیاد پر کارروائی کی تھی کہ وہاں ایمن الظواہری موجود ہے لیکن وہ وہاں نہیں تھا اور سترہ عام شہری مارے گئے۔ اسی طرح دیگر حملوں میں بھی ایسا ہوا ہے۔‘ امریکیوں کے پاس زمین پر معلومات اکٹھی کرنے کے وسائل انتہائی کم بلکہ نہ ہونے کے برابر ہیں۔ قبائلی علاقوں سے اکثر مبینہ امریکی جاسوسوں کو ذبح کیے جانے کی خبریں آتی رہتی ہیں لیکن محدود رسائی کی وجہ سے اصل حقائق کبھی سامنے نہیں آپاتے۔ تاہم بریگیڈئر محمود شاہ کہتے ہیں کہ دوسری جانب پاکستان کے پاس انسانی انٹیلجنس کا بہترین نظام موجود ہے۔’تین بڑے خفیہ ادارے وہاں موجود ہیں۔ ان میں آئی ایس آئی، ایم آئی اور آئی بی شامل ہیں جو کسی بھی خبر کی تردید یا تصدیق کے علاوہ معلومات اکٹھی کرتے رہتے ہیں۔‘ عسکری ماہرین کا کہنا ہے کہ شکایت صرف امریکہ کو پاکستان سے نہیں بلکہ پاکستان کو امریکہ سے بھی ہوتی ہیں۔محمود شاہ کا کہنا ہے کہ اکثر ایسا ہوا ہے کہ پاکستان نے امریکیوں کو نشانہ بتایا ہے لیکن امریکی یہ کہہ کر چھوڑ دیتے ہیں کہ موسم خراب ہے طیارہ پرواز نہیں کرسکتا یا کوئی اور مسئلہ ہے۔ دوسری جانب امریکہ کارروائی کے لیے پاکستان کو معلومات دیتا ہے اور وہ اس کی تصدیق کرکے کارروائی نہیں کرتا تو امریکہ کو شکایت ہوجاتی ہے۔ شوکت قادر کہتے ہیں کہ زمینی حقائق کے بارے میں پاکستان کو بہتر خفیہ معلومات میسر آسکتی ہیں۔’ہمارے حملوں اور کارروائیوں کی شرح کامیابی ان کے حملوں سے بہتر ہے۔‘ ان کا کہنا تھا کہ اب یہ اطلاعات بھی ہیں کہ تازہ حملے امریکی فوج نے نہیں امریکی تحقیقاتی ادارے سی آئی اے نے کیے ہیں۔ البتہ مبصرین کے خیال میں امریکہ کی یک طرفہ کارروائی کی وجوہات میں ان کے قریبی حلیف صدر پرویز مشرف کا چلا جانا اور امریکہ میں صدارتی انتخابات کا قریب آنا شامل ہیں۔ سیاسی مبصرین کے خیال میں پاکستان کے پاس امریکہ سے شکایات کے باوجود تعاون جاری رکھنے کے علاوہ کوئی دوسرا راستہ نہیں ہے۔ شوکت قادر کہتے ہیں کہ پاکستان کو مالی امداد کی اس وقت اشد ضرورت ہے اور امریکہ خود مالی امداد کے علاوہ عالمی مالیاتی اداروں میں بھی اثر و رسوخ رکھتا ہے۔ ’آپس میں بداعتمادی کی فضا کو ختم کرنا ہوگا۔ امریکہ کو ہمیں معلومات فراہم کرنا ہوگی تاکہ دونوں کے مشترکہ مفادات حاصل کیے جاسکیں۔‘پاکستان کا کہنا ہے کہ وہ امریکہ کے ساتھ مل کر اب تک افغان سرحد پر سو سے زائد مشترکہ کارروائیاں کرچکا ہیں جوکہ دونوں کے درمیان کامیاب تعاون کی واضح مثال ہے۔ لیکن کئی کارروائیاں ناکام بھی ہوئی ہیں۔ القاعدہ اور طالبان قیادت گھوم پھر رہی ہے جو شک و شبہات پیدا کرنے کے لیے کافی ہے۔ اے پی ایس





No comments: