
امریکی وزیرِ دفاع رابرٹ گیٹس نے پاکستانی سرزمین پر امریکی فوج کی کارروائیوں کا دفاع کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکہ کو اپنے فوجیوں کی حفاظت کے لیے جو بھی اقدامات اٹھانے پڑے وہ اٹھائے گا۔افغانستان کے دورے کے بعد نیٹو وزراء سے بات چیت کے لیے لندن میں موجود رابرٹ گیٹس نے برطا نوی نشریاتی ادارے کو ایک انٹرویو میں بتایا ہے کہ امریکہ چاہتا ہے کہ پاکستان شدت پسندوں سے خود نمٹے۔ تاہم اس سوال پر کہ کیا پاکستان نے امریکہ کو اپنی علاقے میں فضائی کارروائی کی اجازت دی ہے امریکی وزیرِ دفاع نے کہا کہ ’میں تفصیلات میں نہیں جانا چاہتا۔ میں صرف یہ کہوں گا کہ ہم اپنے فوجیوں کی حفاظت کے لیے جو بھی کارروائی ضروری ہوئی کریں گے‘۔ امریکی وزیرِ دفاع نے یہ بھی کہا کہ شدت پسند پاکستان، افغانستان، امریکی اور ان کے اتحادی فوجیوں کے ’مشترکہ‘ دشمن ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ’ہمارا مقصد پاکستان کو اس کی سرحدوں پر درپیش خطرے سے نمٹنے کے قابل بنانا اور اس کا ساتھ دینا ہے۔رابرٹ گیٹس نے یہ بھی کہا کہ امریکہ کو کارروائیوں کے دوران عام شہریوں کی ہلاکتوں کی تعداد کم سے کم کرنا ہو گی۔ اس سے قبل جمعرات کو ہی صحافیوں سے بات چیت کے دوران امریکی وزیرِ دفاع نے کہا تھا کہ افغانستان میں حکمتِ عملی کو بدلتے حالات کے ساتھ بدلنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ’ہم ایسا عراق میں کر چکے ہیں۔ ہم نے عراق میں اپنی حکمتِ عملی تبدیل کی اور ہم افغانستان میں بھی صورتحال کا جائزہ لیتے رہیں گے۔یاد رہے کہ امریکی وزیرِ خارجہ نے یہ بات ایک ایسے موقع پر کہی ہے جب امریکی جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی کے چیئرمین ایڈمرل مائیک مولن کی جانب سے ان کے دورہ پاکستان کے دوران پاکستان کی خودمختاری کا احترام کرنے کا یقین دلائے جانے کے باوجود مبینہ امریکی جاسوس طیاروں کی جانب سے پاکستان کے قبائلی علاقوں میں میزائل حملوں کا سلسلہ جاری ہے۔ اس بارے میں حکومتِ پاکستان کا کہنا ہے کہ امریکہ نے اسے جنوبی وزیرستان میں گذشتہ بدھ کو کیے جانے والے مبینہ میزائل حملے کی پیشگی اطلاع نہیں دی تھی اور اس طرح کے یکطرفہ حملوں سے حالات کی بہتری میں کوئی مدد نہیں ملے گی۔ وزارت خارجہ میں گذشتہ جمعرات کو صحافیوں سے بات کرتے ہوئے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا تھاکہ امریکی فوج کے سربراہ ایڈمرل مائیکل مولن کی یقین دہانی کے چند گھنٹوں بعد ہی اس تازہ حملے سے یہ محسوس ہوتا ہے کہ امریکی اداروں میں رابطوں کی کمی ہے۔ گذشتہ ہفتے پاکستان کے قبائلی علاقے جنوبی وزیرستان کے سرحدی علاقے انگور اڈہ کے قریب افغانستان کے علاقے میں امریکی گن شپ ہیلی کاپٹروں اور جہازوں کی آمد پر انہیں کسی ممکنہ سرحدی خلاف ورزی سے باز رکھنے کے لیے پاکستان فوجیوں نے ہوائی فائرنگ کی تھی۔مقامی لوگوں کا کہنا تھا کہ اتوار کی رات وانا سے تیس کلومیٹر دور مغرب کی جانب انگور اڈہ کے جنوبی حصہ میں واقع زوبہ کے پہاڑی سلسلے کے قریب افغانستان کے علاقے میں سات امریکی گن شپ ہیلی کاپٹر اور دو چھاتہ بردار جہاز اترے اور فضاءمیں ایک بی باون بھی چکر لگا رہا تھا۔ امریکی ہیلی کاپٹروں اور جہازوں کی آمد سے علاقے میں شدید خوف ہراس پھیل گیاتھا۔مقامی لوگوں کے مطابق امریکی گن شپ ہیلی کاپٹروں اور جہازوں کے اترنے کے بعد قریبی پہاڑی سلسلوں میں موجود پاکستانی فوج کے ٹھکانوں سے بگل بجائے گئے اور زوبہ، صدیق نارائی اور پش خینہ سے شدید فائرنگ بھی شروع ہوئی۔ مقامی انتظامیہ نے اس واقعہ کی تصدیق کی تھی لیکن اہلکاروں کا کہنا تھا کہ امریکی جہاز پاکستان کے علاقے میں داخل نہیں ہوئے ہیں اس لیے اس پر کسی تبصرے کی ضروت نہیں ہے۔ اطلاعات کے مطابق انگور اڈہ کی آبادی نے رات گھروں سے باہر گزاری تھی۔ اطلاعات کے مطابق فائرنگ کی آواز سنی گئی لیکن کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں تھی۔اس دوران مقامی آبادی کو بھی معلوم ہوگیا کہ سرحد کے قریب امریکی جہاز پہنچ گئے ہیں۔ سرحد کے قریب ہزاروں لوگوں نے چند ہی گھنٹوں میں پورے علاقے کو خالی کر دیا۔ مقامی لوگوں کے مطابق ہزاروں کی آبادی نے اپنے بچے اور خواتین کو باغڑ کے علاقے میں منتقل کر دیا اور مردوں نے اسلحہ اٹھا کر مقابلے کے لیے پہاڑی سلسلوں میں مورچے سنھبال لیے ہوئے تھے۔ انہوں نے کہا کہ پیر کی صبح چار بجے امریکی گن شپ ہیلی کاپٹر اور جہاز مچاداد کوٹ واپس لوٹ گئے انہوں نے کہا امریکی جہازوں کے واپس لوٹنے کے بعد مقامی لوگ بھی واپس اپنے گھروں میں آگئے ۔یاد رہے کہ جنوبی؛ شمالی وزیرستان کے مختلف علاقوں پر گزشتہ دو ہفتوں سے امریکی میزائل حملے میں اضافہ ہوا ہے۔ تین ستمبر کو جنوبی وزیرستان کے علاقے انگور اڈہ میں امریکہ کی کارروائی کے دوران بیس عام شہری ہلاک ہو گئے تھے۔امریکہ کے اعلی ترین فوجی کمانڈر نے گذشتہ بدھ کو ہی پاکستانی سیاسی اور عسکری قیادت سے ملاقات کی تھی ۔جنوبی وزیرستان کی مقامی انتظامیہ کا کہنا تھا کہ بدھ کی شام امریکی جاسوس طیارے نے چار میزائل داغے جس سے پانچ افراد ہلاک اور تین زخمی ہوئے۔حکام نے کہا کہ جنوبی وزیرستان کے تیس کلومیٹر دور باغاڑ چینا میں امریکی جاسوس طیارے نے چار میزائل داغے جن میں سے دو ایک گھر پر گرے اور دو میزائل پہاڑیوں پر لگے۔ مقامی افراد کا کہنا ہے کہ میزائل حملے سے قبل جاسوس طیارہ علاقے کا چکر لگا رہا تھا۔ واضح رہے کہ باغاڑ چینا انگور اڈہ سے صرف دو کلومیٹر کے فاصلے پر ہے جہاں پر تین ستمبر کو امریکی فوج نے زمینی کارروائی کی تھی۔جبکہ قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف چوہدری نثار علی خان نے صدر پاکستان آصف علی زرداری سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے اپنے پہلے خطاب میں پیپلز پارٹی کی سربراہی سے مستعفی ہونے اور وزیراعظم کے اختیارات بحال کرنے کے لئے آئین کی سترہویں ترمیم کو ختم کرنے کا اعلان کریں۔ قائد حزب اختلاف نے صدر مملکت سے یہ بھی مطالبہ کیا ہے کہ وہ قبائلی علاقوں میں فوجی کارروائیوں کے لئے سابق صدر جنرل پرویز مشرف اور امریکہ کے درمیان ہونے والے معاہدے ختم کرنے کا اعلان کریں۔ ’اس حوالے سے مشرف دور کی کہانیاں نہ دہرائی جائیں۔قائد حزب اختلاف مقرر ہونے کے بعد پہلی پریس کانفرنس سے خطاب میں چوہدری نثار علی خان نے کہا ’صدر مشرف کی طرح آصف زرداری بھی ایک سے زیادہ عہدے اپنے پاس رکھے ہوئے ہیں جس سے جمہوری روایات کی نفی ہوتی ہے۔ وہ نہ صرف پاکستان کے طاقتور ترین صدر ہیں بلکہ ملک کے اصل حکمران بھی وہی ہیں۔ اسکے ساتھ پیپلز پارٹی کی سربراہی بھی کرتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کی سرزمین پر امریکی حملے ہو رہے ہیں اور صدر آصف زرداری نے اس بارے میں ایک لفظ بھی نہیں کہا۔ چوہدری نثار نے مطالبہ کیا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں گزشتہ حکومت کے دور میں امریکہ کے ساتھ کیے گئے معاہدے ختم کر کے حکومت نئی پالیسی تشکیل دے۔ صدر مشرف کی طرح آصف زرداری بھی ایک سے زیادہ عہدے اپنے پاس رکھے ہوئے ہیں جو جمہوری روایات کی نفی کرتی ہے۔ وہ نہ صرف پاکستان کے طاقتور ترین صدر ہیں بلکہ ملک کے اصل حکمران بھی وہی ہیں۔ اسکے ساتھ پیپلز پارٹی کی سربراہی بھی کرتے ہیں۔چوہدری نثار کا کہنا تھا کہ اسی طرح صدر مشرف کے دور میں بھی ذاتی پسند اور ناپسند کی بنیاد پر ججوں کی تقرری اور برطرفی ہوتی تھی اور آج بھی نام نہاد نائیک فارمولے کے تحت اپنی پسند کے ججوں کو بحال کیا جا رہا ہے۔ چوہدری نثار نے کہا کہ انکے قائد حزب اختلاف مقرر ہونے کے بعد ’مسلم لیگ ن با ضابطہ طور پر حزب اختلاف کا حصہ بن چکی ہے اور اب حکومت کو اس سابق حلیف جماعت کی غیر مشروط حمایت حاصل نہیں رہی۔انہوں نے کہا کہ وہ بہت جلد ان ایشوز کا اعلان کریں گے جن پر حکومت کو ان کی ہمہ وقت حمایت حاصل رہے گی۔ ان میں ممکنہ طور پر دہشت گردی کے خلاف جنگ کے بارے میں پالیسی کی حمایت شامل ہوگی جبکہ دیگر تمام سیاسی معاملات پر موقع کی مناسبت سے اپنا جمہوری موقف اختیار کرنے میں انکی جماعت آزاد ہوگی۔ تاہم انہوں نے واضح کیا کہ انکی جماعت اس موقف پر قائم ہے کہ ’اس حکومت کو چھوٹے گروپوں کی بلیک میلنگ سے بچائیں گے اور اسے غیر مستحکم کرنے کی سازش کا حصہ نہیں بنیں گے۔پارلیمنٹ سے صدر مملکت کے خطاب کے دوران حزب اختلاف کی حکمت عملی کے بارے میں پوچھے گئے ایک سوال پر چوہدری نثار نے کہا کہ حزب اختلاف خطاب کے دوران جمہوری رویہ اختیار کرے گی۔ حکومتِ پاکستان کا کہنا ہے کہ امریکہ نے اسے جنوبی وزیرستان میں گزشتہ روز کے مبینہ میزائل حملے کی پیشگی اطلاع نہیں دی تھی اور اس طرح کے یک طرفہ حملوں سے حالات کی بہتری میں کوئی مدد نہیں ملے گی۔وزیر خارجہ شاہ محمودنے اس تاثر کی نفی کی کہ انہیں اس کارروائی کی پیشگی اطلاع دی گئی تھی۔ انہوں نے بتایا کہ صدر آصف علی زرداری کی قیادت میں بائیس ستمبر سے اقوام متحدہ کے اجلاس میں شرکت کے لیے جانے والا پاکستانی وفد وہاں امریکی حکام سے اس موضوع پر بات کرے گا۔ ’ہم ضرور پوچھیں گے کہ آخرامریکہ افغانستان اور پاکستان میں دہشت گردوں کے خلاف کارروائیوں کے لیے پہلے سے طے شدہ اصولوں کی پاسداری کیوں نہیں کر رہا۔‘تاہم وزیر خارجہ کی باتوں سے یہ ظاہر تھا کہ حکومت پاکستان کا سابقہ ، موجودہ اور آئندہ ہونے والے حملوں پر امریکہ سے کسی باضابطہ احتجاج کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔ اے پی ایس
No comments:
Post a Comment