
ریاستی سطح پر خواتین کے تحفظ کے لیے بنائے گئے قوانین کے با وجود ملک میں خاندانی غیرت اور دیگر واقعات میں خواتین کے قتل میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے ۔گزشتہ چھ ماہ کے دوران 225 خواتین کو غیرت کے نام پر قتل کیا گیا جبکہ خاندانی تنازعات اور دیگر واقعات میں قتل کی گئی خواتین کی تعداد 722 ہے۔ پاکستان کے مختلف علاقوں میں غیرت کے نام پر کیے جانے والے قتل کے نام مختلف ہیں لیکن روایات ایک سی ہیں اور انجام بھی یعنی الزامات کے تحت خواتین کا قتل۔ جنوری 2008 سے جون 2008 کے دوران کاروکاری کے الزامات کے تحت قتل کی گئی خواتین کے علاوہ مقامی عدالتوں میں درج ان خواتین کے مقدمات میں سے صرف دو ملزمان کو سزا مل سکی ہے جبکہ بقیہ تمام مقدمات زیر سماعت ہیں۔ ملک میں عدالتی نظام کی کمزوریوں کی وجہ سے کارو کاری کے الزامات کے تحت قتل کی گئی خواتین کے مقدمات عدالتوں میں طویل عرصے تک چلتے ہیں جس کی وجہ سے فوری انصاف کی امید ختم ہو جاتی ہے ۔ بلوچستان میں زندہ درگور کی جانے والی خواتین سمیت دیگر واقعات کی تفصیل بھی میڈیا مین آچکی ہے۔واضح رہے کہ پاکستان میں انسانی حقوق کی تنظیمیں کاروکاری،غیرت کے نام پر قتل اور خواتین سے روا رکھے جانے والے دیگر غیر انسانی سلوک کے خلاف سالوں سے آواز اٹھا رہی ہیں۔حالیہ چند سالوں میں پارلیمان میں ایسی قانون سازی بھی کی گئی ہے جن میں خواتین کے ساتھ غیر انسانی سلوک کی حوصلہ شکنی کے قوانین موجود ہیں لیکن اس کے باوجود کے قتل کے واقعات میں کمی نہیں آسکی ہے۔ کاروکاری یا غیرت کے نام پر قتل کے واقعات کی شرح دیہی علاقوں میں زیادہ ہے اور زیادہ تر واقعات اندرونِ سندھ ،پنجاب اور بلوچستان میں پیش آتے ہیں جہاں جاگیر دارانہ نظام موجود ہے ۔ ملک میں ان واقعات کی روک تھام کے لیے قوانین تو موجود ہیں لیکن یہ قوانین ان جا گیرداروں اور وڈیروں پر لاگو نہیں ہوتے ۔ نہ وہ تھانوں کی سنتے ہیں اور نہ ہی افسران کی بلکہ ان کے منظور ِ نظر افراد ہی وہاں قانون کے رکھوالے ہوتے ہیں ایسے میں کتنے ہی قوانین بنا لیے جائیں یا شواہد پیدا کر لیے جائیں یا میڈیا کے ذریعے کتنی ہی آگاہی پیدا کی جائے جب تک ان علاقوں میں ان قوانین کا نفاذ نہیں ہوگا تبدیلی کی توقع کرنا لا حاصل ہے ۔اگرچہ خواتین کے ساتھ غیر انسانی سلوک کی داستان افسردہ اور ہزاروں سال پرانی ہے اور اس کی اہم وجہ ہم پر مسلط جاگیردارانہ نظام ہے ” آپ کو یہ جان کر حیرت ہو گی کہ بلوچستان میں ایک قبیلے کے فرد نے دوسرے قبیلے کے فرد کے کتے کو مار دیا تھا جس کے بعد ایک جرگہ بٹھایا گیا جس نے پندرہ لڑکیاں سزا میں دینے کا فیصلہ کیا یہ ہے عورت کی حیثیت اور قدر ہمارے اسلامی جمہوریہ پاکستان میں “۔اس غیر انسانی سلوک کو سماجی حمایت حاصل نہیں ہے بلکہ جاگیر داریک دوسرے کی حمایت کر کے اس فرسودہ نظام کو مل کر تحفظ دیتے ہیں ۔ جو خاموش ہیں وہ صرف ڈر اور خوف کی وجہ سے ۔ لوگ اگرچہ خواتین کو تحفظ کے حوالے سے سڑکوں پر صرف مظاہرہ کرتے دیکھتے ہیں۔ وہ اس بات سے لا علم ہیں کہ انھوں نے گزشتہ سات آٹھ سالوں میں با قاعدہ ڈرافٹ تیار کر کے پوری پارلیمان کو دیا جو بدقسمتی سے سیاست کی بھینٹ چڑھ گیا انسا نیت کے سب سے مظلوم طبقہ خواتین کو ان واقعات میں کمی لانے کے حوالے سے انہیں حکومت سے کوئی توقع نہیں کیونکہ توقعات ان سے رکھی جاتی ہیں جو وعدوں کا پاس رکھنا جانتے ہیں ۔ حکومت نے اب تک صرف وعدے ہی کیے ہیں اور پھر بھول گئے ہیں۔اے پی ایس
No comments:
Post a Comment