International News Agency in english.urdu news feature,Interviews,editorial,audio,video & Photo Service from Rawalpindi/Islamabad,Pakistan.Managing editor M.Rafiq,Editor M.Ali. Chief editor Chaudhry Ahsan Premee email: apsislamabad@gmail.com,+92300 5261843 مینجنگ ایڈ یٹر محمد رفیق، ایڈیٹر محمد علی، چیف ایڈیٹرچو دھری احسن پر یمی

Tuesday, September 16, 2008

پاکستان اور امریکہ کے د رمیان نئے چیلنجز ۔ تحریر: اے پی ایس




وفاقی وزیر نشریات و اطلاعات شیری رحمان نے کہا ہے کہ پاکستان کو انتہاء پسندی کیلئے استعمال نہیں ہونے دیا جائیگا جبکہ کسی بھی ملک کو پاکستانی علاقوں میںدہشت گردوں کے خلاف کارروائی کی اجازت نہیں دی جائیگی۔ملک سے معاشی بحران سمیت آٹے اور بجلی کے بحران کو ختم کیا جائیگا۔ملک میںا ستحکام کیلئے قومی مفاہمت کی ضرورت ہے۔وانا آپریشن سے متعلق پارلیمنٹ اور اتحادیوں کو اعتماد میں لیا گیا تھا۔ پرامن قبائلیوںسے بات چیت کا عمل جاری رہیگا تاہم انتہاء پسند عناصر کے خلاف کارروائی جاری رہیگی قبائلی علاقوں کو قومی دھارے میں لانے کیلئے وہاںروزگار اور تعلیم کے مواقع پیدا کئے جائیںگے جس کیلئے ملک کو قومی مفاہمت کی سخت ضرورت ہے۔شیری رحمان نے کہاکہ حکومت آزادی اظہار پر یقین رکھتی ہے۔ اس وقت پوری دنیا دباو¿ میںہے۔حکومت مذاکرات پر یقین رکھتی ہے تاہم حکومت کی رٹ کو چیلنج کرنے والے عناصر کے ساتھ بات چیت نہیں ہوگی بلکہ ان کے خلاف کارروائی جاری ر ہے گی ۔ملک میں برسوں کے بعد جمہوریت مکمل ہوئی ہے اب تمام جمہوری ادارے مستحکم ہوئے ہیں۔ہم آزادی اظہار پر یقین رکھتے ہیں ۔اس وقت نہ صرف پاکستان بلکہ ساری دنیا دباو¿ کی کیفیت میں ہے اور تمام ممالک دہشت گردی کا خاتمہ چاہتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ سابقہ حکومت نے ہمیں ورثے میں معاشی و توانائی کے بحران دئے ہیں تاہم موجودہ حکومت ہنگامی بنیادوں پر انرجی پالیسی بنارہی ہے۔ موجودہ حکومت کو سابقہ حکومت کے برسوں کا ملبہ بھی اٹھانا ہے۔ملک سے آٹے کے بحران کو ختم کرنے کیلئے حکومت باہر سے گندم منگوارہی ہے۔انکا کہنا تھا کہ اس وقت پاکستان کو بڑے خطرات لاحق ہیں جبکہ معیشت بھی سست روی کا شکار ہے۔اس وقت ملک میں قومی مفاہمت کی سخت ضرورت ہے جبکہ شہید بے نظیر بھٹو بھی مفاہمت کی پالیسی پر یقین رکھتی تھیںجس کیلئے انہوں نے اپنی جان قربان کی۔انہوں نے کہا کہ بے نظیر بھٹو شہید کی قربانی سے ہمیں 18 فروری کو منشور ملا اور ملک میں پہلی مرتبہ بلامقابلہ وزیراعظم منتخب ہوا۔پاکستان میں نئے صدر کی حلف برداری اور ستمبر کامہینہ شروع ہوتے ہی پاکستان اور امریکہ کے تعلقات ایک نئے چیلنج سے دوچار ہو گئے ہیں۔ پاکستان کے قبائلی علاقوں پر امریکی طیاروں کے حملے اور انسانی جانوں کے زیاں نے جہاں پاکستانی حکومت اور فوج کو امریکہ کے لئے تنبیہی لہجہ اختیار کرنے پر مجبور کردیا ہے وہاں امریکی اخبارات اور تھنک ٹینکس بھی تشویش کا اظہار کر رہے ہیں۔ سات سال پہلے گیارہ ستمبر کے حملوں نے پاکستان اور امریکہ کے درمیان دہشت گردوں کے خلاف تعاون پر مبنی جس پالیسی کا آغاز کیا تھا۔ امریکی ماہرین کے مطابق وہ اب ایک نئے اور مشکل دور میں داخل ہو گئی ہے۔ ۔ گزشتہ ایک ماہ کے دوران ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق پاکستان کے قبائلی علاقوں کے اندر امریکہ کے بغیر پائلٹ طیاروں نے سات میزائل حملے کئےہیں۔ امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ ان حملوں کو خطرناک مگر ناگزیر قرار دے رہا ہے،جبکہ امریکی تجزیہ نگاروں کی رائے میں یہ حملے پاک امریکہ تعلقات کی خرابی کی نشاندہی کر تے ہیں مڈل انسٹی ٹیوٹ کے سکالر مارون وائن بام کہتے ہیں کہ امریکی حملے پاک امریکہ تعلقات کی خرابی کی نشاندہی کرتے ہیں۔ کوئی نہ کوئی افہام و تفہیم لازمی ہے۔ دونوں ملکوں کی فوج کو مل کر سوچنا ہوگا۔ سچی بات یہ ہے کہ واشنگٹن کو پاکستان کی پیرا ملٹری فورسز کی صلاحیتوں پر زیادہ اعتماد نہیں ہے کہ وہ ضرورت پڑنے پر وہ کارکردگی دکھا سکیں گی جیسی موجودہ حالات میں درکار ہے۔ امریکہ اورنیٹو فورسز شدید مایوسی کا شکار ہیں کہ وہ افغانستان میں ہار رہے ہیں اور پڑوسی ملک میں پناہ لئے شر پسندو ں کو شکست نہیں دے پا رہے واشنگٹن کے تھنک ٹینک مڈل ایسٹ انسٹی ٰ ٹیوٹ کے تجزیہ کار مارون وائن بام سمجھتے ہیں کہ امریکہ اور پاکستان دونوں کو ایک دوسرے کی ضرورت ہے اوردونوں ملکوں کی پارٹنر شپ کا خطرے میں پڑنا کسی فریق کے مفادمیں نہیں ۔تاہم وائن بام کا کہنا ہے کہ پاکستان کے قبائلی سرداروں کو ترقیاتی کاموں میں دلچسپی نہیں اور ان سے یہ توقع کرنا کہ صرف مذاکرات کے ذریعے انہیں کسی معاہدے کا پابند بنایا جا سکتا ہے سراسر بیوقوفی ہے۔ مارون وائن بائم کہتے ہیں کہ میرے خیال میں امریکہ تیارہے کہ پاکستان کی مرکزی حکومت اور قبائلی علاقے کی قیادت کے درمیان مذاکرات کئے جائیں مگر میرے خیال میں اب تک پاکستان کے بعض سیاسی حلقے بڑی سادگی سے یہ سمجھتے ہیں کہ صرف مذاکرات کے ذریعے بیت اللہ محسود اور فضل اللہ جیسے شدت پسندوں کوکسی معاہدے کا پابند بنایا جا سکتا ہے جو پاکستان کی سالمیت اور قبائلی علاقوں کے رہنے والوں کے تحفظ کی ضمانت دے گا۔ -مجھے خدشہ ہے کہ قبائلی علاقوں کے زیادہ تر قائدین یا سرداروں کو ترقیاتی کاموں میں کوئی دلچسپی نہیں۔ وہ صرف ایک مخصوص ایجنڈے کو پھیلانا چاہتے ہیں جو میرےخیال میں پاکستان کے زیادہ تر رہنے والوں کے لئے قابل قبول نہیں ہوگا ۔پاکستان اور اس کی فوج پر Crossed swordsکے نام سے کتاب لکھنے والے مصنف شجاع نواز کا کہنا ہے کہ پاکستان میں حکومت نئی ضرور ہے مگر پالیسیاں مشرف دور کی ہی چل رہی ہیں۔ جبکہ امریکہ کے حوالے سے پالیسی پر قوم کو اعتماد میں لینے کی ضرورت ہے ۔وہ کہتے ہیں کہ میرا خیال ہے کہ مشرف پالیسی جیسے چل رہی تھی وہی اب بھی جاری ہے۔ اس وقت بھی یہی ہوتا تھاکہ امریکہ حملہ کرتا تھا۔ پاکستان اس کی مذمت کرتا تھا۔ اور بھول جاتے تھے۔ اگر گورنمنٹ ایسے کرے گی تو ظاہر ہے کہ عوامی حمایت اور بھی کم ہو جائے گی۔ آپ کو چاہئے کہ امریکہ کے ساتھ مل کر بیٹھ کر کوئی اور طریقہ اختیار کریں کہ یا تو آپ جوائنٹ آپریشنز کریں۔ مگر اس سے پہلے قوم کو ساتھ لیں۔ قوم کے ساتھ کھل کر بات کریں۔ اسمبلی میں بحث ہوکہ کیا پاکستان کا رد عمل ہونا چاہئے اور پھر اس کے بعد آپ جو بھی فیصلہ کریں گے وہ پبلک کا فیصلہ ہوگا۔ واشنگٹن کے تمام حلقے ایک بات پر متفق ہیں کہ پاکستان کی خودمختاری کے تحفظ اور امریکہ کے ساتھ تعلقات کی نوعیت کا انحصار پاکستان کی جمہوری حکومت اور فوج کے درمیان دہشت گردی کے خلاف جنگ کے حوالے سے کسی واضح حکمت عملی پر اتفاق سے مشروط ہوگا۔ جبکہ گذشتہ روزامریکی محکمہ دفاع نے پاکستانی قبائلی رہنماو¿ں کے اس الزام کو مسترد کر دیا ہے کہ پاکستانی فوجیوں نے ا±ن امریکی ہیلی کاپٹروں کو زبردستی افغانستان واپس جانے پر مجبور کر دیا جو پاکستانی علاقوں میں داخل ہو گئے تھے۔پینٹا گان کے ترجمان برائن وائٹ مین نے گذشتہ پیر کے روز بتا یا تھاکہ اس مبینہ واقعے کی تحقیق کے بعد معلوم ہوا ہے کہ ’ایسا کوئی واقعہ رونما نہیں ہوا‘۔جنوبی وزیرستان کے قبائلی لیڈروں نے کہا تھا کہ پاکستانی فوجیوں نے پیر کو منھ اندھیرے امریکی ہیلی کاپٹروں پر انتباہی فائرنگ کر کے انہیں واپس افغانستان جانے پر مجبور کردیا۔دوسری طرف پاکستانی فوج کے ترجمان نے بھی اس واقعے کی تردید کی اور کہا کہ امریکی ہیلی کاپٹروں نے پاکستانی فضائی حدود کی نہ تو خلاف ورزی کی اور نہ ہی پاکستانی فوجی کسی فائرنگ کے ذمّہ دار ہیں۔ تاہم انہوں نے فائرنگ کی تصدیق کی ہے۔امریکی محکمہ دفاع کے ترجمان وائٹ مین کا کہنا ہے کہ ایسی کوئی کارروائی نہیں ہوئی جو قبائلی رہنماو¿ں کے اس بیان سے مطابقت رکھتی ہو اور امریکی ہیلی کاپٹروں پر فائرنگ کے بارے میں کوئی فوجی اطلاع نہیں ملی ہے۔ جبکہ امیر جماعت اسلامی پاکستان قاضی حسین احمد نے کہاکہ فوج کا یہ کام نہیں ہے کہ وہ قومی پالیسی کے حوالے سے بیان دے فوج کو اس وقت بیان دینا چاہیے جب حکومت کی طرف سے انہیں اس کا اشارہ اور حکم دیاجائے۔چیف آف آرمی سٹاف کے بیان کے مطابق عمل تو نظر نہیں آرہا پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) کا فرض ہے کہ وہ میثاق جمہوریت پر عمل کریںاور اپنے پاو¿ں پر کلہاڑا نہ ماریں ۔جمہوری حکومت کی اصل قوت آئین اور قانون ہے۔سیاستدان کو اس شاخ کو نہیں کاٹنا چاہیے جس پر وہ بیٹھے ہیں ڈنڈے سے حکومتیں نہیں چلتیں عوام متبادل قیادت کے بارے میں سوچ رہے ہیں۔امریکہ پاکستان کو توڑنا چاہتاہے ملک میں ایسے سیاستدان بھی ہیں جو دشمن کا کھیل کھیل رہے ہیں ۔وسائل سے مالا مال مسلم ممالک دشمن کی صفوں میں کھڑے ہیں ہم نے انتخابات کا بائیکاٹ اس لئے کیاتھا کہ ہمیں کوئی توقع نہیں تھی کہ پالیسی میں کوئی تبدیلی آئے گے ہم سمجھ رہے تھے کہ وہ امریکی منصوبے کے تحت ایک کو دوسرے سے تبدیل کرنا چاہتے ہیں اور ان کا منصوبہ ہے کہ ایسے لوگ اقتدار میں آجائیں پالیسی امریکہ کی چلے اور انہیں عوام کی تائید حاصل ہو ۔ سابق صدر مشرف نے خود بھی کہا تھا کہ میری پالیسی میرے بعد بھی چلتی رہے گی خارجہ پالیسی ، تعلیمی پالیسی ، داخلہ پالیسی ، کشمیر پالیسی ، اقتصادی پالیسی سب وہی پالیسیاں چل رہی ہیں ان میں لوگو ںکو اعتماد میں نہیں لیا گیا جمہوری حکومت ایسی ہونی چاہیے کہ تمام پالیسیاں لوگوں کی مرضی اور خواہش اور امنگوں کی ترجمان ہوں لیکن عوام ناراض ہیں امریکہ کی دشمنی کے باوجود اس کے حملو ںکے باوجود ہم اس کے ساتھ ہیں امریکہ کے کہنے پر ہم خود اپنے لوگوں کو مار رہے ہیں اس لئے عوام پہلے بھی ناراض تھے اور اب بھی نالاں ہیں بلکہ ناراضگی میں اضاضہ ہوا ہے قاضی حسین احمد نے کہاہے کہ جب صوبہ سرحد میں ایم ایم اے کی حکومت تھی اس وقت اس طرح کی صورتحال نہ تھی قبائلی علاقوں میں مرکزی حکومت کا عمل دخل تھا اس وقت بھی وفاقی حکومت کا قبائلی علاقوں میں عمل دخل تھا اور اس وقت بھی ہے تاہم اس وقت سوات میں اس طرح آپریشن نہیں تھا اب چار لاکھ لوگ نقل مکانی کر گئے ہیں انہوں نے کہاکہ یہ سب مبالغہ ہے کہ باہر سے لوگ وہاں آئے ہیں وہاں سے باہر کے کسی آدمی کو گرفتارنہیں کیا گیا نہ کسی کو زندہ یا مردہ دکھایا گیا ہے اگر باہر سے لوگ اتنی تعداد میں آ کر رٹ کو چیلنج کرنے کے قابل ہوں ان میں سے کچھ کو تو لوگوں کے سامنے آنا چاہیے آج تک کوئی بیرونی آدمی لوگوں کے سامنے نہیں آیا انہوں نے خود اپنے لوگوں کو نشانہ بنایا ہے تمام قبائلی علاقوں میں ایک جنگ کی کیفیت ہے وہاں القاعدہ یا جنہیں یہ انتہا پسند کہتے ہیں وہ وہا ںنہیں ہیں یہا ںحکومت نے اندرونی لڑائی چھیڑ دی ہے خیبر ایجنسی میں جو جنگ جاری ہے اس کا القاعدہ یا انتہا پسندوں سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ اسی طرح کرم ایجنسی میں جو شیعہ اور سنی کے درمیان جاری ہے یہ پولیٹیکل ایجنٹ کروا رہے ہیں یہ ہمیشہ پولیٹیکل ایجنٹوں کا طریقہ رہا ہے یہ سبق انہوں نے انگریزوں سے سیکھاہے پاکستان کو کمزور کرنے والے لوگ موجود ہیں یہاں بڑی تعداد میں لوگ موجود ہیں جو براہ راست امریکی سفارت خانے سے ہدایات لیتے ہیں انہیں اس کے پیسے ملتے ہیں وہ ایک تنخواہ حکومت پاکستان سے لیتے ہیں اور اس سے دوگنی تنخواہ این جی اوز سے لیتے ہیں میں نے بڑے بڑے لوگوں سے سنا ہے کہ یہ سب کچھ امریکہ کروا رہاہے اگر بھارت کر بھی رہا ہے تو ان کو امریکہ کی پشتی بانی حاصل ہے امریکہ کا ہدف پاکستان ہے پاکستان کا ایٹمی پروگرام اور اس کا نظیریہ۔ اسرائیل اور امریکہ کو قابل قبول نہیں وہ پاکستان کو توڑنا چاہتا ہے وہ چاہتا ہے کہ عالم اسلام متحد نہ ہو جس سے مسلمان بڑی طاقت بن جائیں وہ اس طرح کا مشرق وسطیٰ چاہتے ہیں جو اسرائیل کے ماتحت ہو وہ اسلام اور پاکستان کے دشمن ہیں۔امریکہ ہمارے ملک کے ٹکڑے ٹکڑے کرنا چاہتا ہے ترکی جو ان کا اتحادی ہے اس کے اندر کردوں کا مسئلہ پیدا کیا جارہا ہے اکثر حکومتیں دشمن کی آلہ کار ہیں سب جانتے ہیں انکو انہوں نے تہذیبی جنگ کا نام دیا ہے امریکیوں نے کہہ دیا ہے کہ ہمارے مد مقابل اسلامی تہذیب کے لوگ ہیں اس تہذیبی جنگ میں ہماری حکومتیں دشمن کی صف میں کھڑی ہیں انہوں نے کہا کہ ہمارے سیاستدانوں میں اچھے برے دونوں ہیں ان میں محب وطن بھی ہیں اور دوسروں کے آلہ کار بھی ہیں ان سیاستدانوں میں اسلامی نظریاتی کے لوگ بھی ہیں جو ملک و قوم اور اس کے اسلامی نظریے اور اس کے دستو رکے ساتھ وفدار ہیں اور ایسے بھی ہیں جو اس ملک کے اندر تعصبات کو ابھارنا چاہتے ہیں اور دشمن کا کھیل کھیل رہے ہیں ایک سوال پر قاضی حسین احمد نے کہاکہ موجودہ حکومت کی کوئی سمت ہی نہیں ہے حکومت کے مقاصد اور طویل المدتی اور قلیل المدتی پالیسیاں ہوتی ہیں اپنے تمام لوگوں کو اعتماد میں لیتی ہے مگر یہاں ایسا نہیں ہے۔ پالیسیاں حکومت اور اپوزیشن دونوں مل کر بناتی ہیں جبکہ ہمارے ملک میں یہ روایت نہیں ہے ایک سوال پر قاضی حسین احمد نے کہاکہ فوج اور حکومت میںاختلافات نہیں ہونا چاہیے فوج کو نہ بیان دینا چاہیے نہ اس کا یہ کام ہے اسے اس وقت بیان دینا چاہیے جب اسے حکومت کی جانب سے اشارہ ملے پالیسیاں پارلیمنٹ میں بننی چاہیں اور عوام کو اعتماد میں لے کر بنانی چاہیں آرمی چیف کو حکومت کے ساتھ مشورہ کرنا چاہیے ہمیں یہ اعتراض ہے کہ آرمی چیف نے بیان دے دیا ہے مگر عمل اس کے برخلاف ہو رہاہے باہر سے جو حملے ہو رہے ہیں اس کا علاج یہ ہے کہ قوم کو اپنے ساتھ لے کر چلا۔ انہو ںنے کہا کہ جامعہ حفصہ اور لال مسجد کے خلاف جو ایکشن ہوا ہے میں نہ نہیںسمجھتا موجودہ حکومت اس سے مبرا ہے یہ آپریشن کرنے والے اب بھی بڑے بڑے عہدوں پر بیٹھے ہوئے ہیں اس کا مشرف اکیلا ذمہ دار نہیں تھا انہوںنے کہاکہ پٹرول کی قیمت کم کر کے ڈیزل کی قیمت بڑھا کر برابر کر دیاہے۔ مٹی کے تیل کی قیمت میں اضافہ ظالمانہ اقدام ہے کیونکہ یہ غریب استعمال کرتے ہیں قاضی حسین احمد نے کہا کہ ن لیگ او رپیپلز پارٹی کا یہ فرض ہے کہ میثاق جمہوریت پر عمل کریں اگر اس پر عمل نہیں کریں گے تو اپنے پاو¿ں پر کلہاڑا ماریں گے ہم نے سائنسدانوں کو مشورہ دیا ہے کہ وہ اس شاخ کو نہ کاٹیں جس پر بیٹھے ہوئے ہیں عوام کی مرضی کے مطابق حکومت چلانی چاہیے طاقت کو لوگوں کا اندر تقسیم کرنا چاہے صوبے اپنے دائرہ کار میں آزاد خود مختار ہوں ہر ایک کے اختیارات کا احترام کیاجائے دونوں جماعتوں میں سازشیں ہو رہی ہیں موجودہ حکومت کی پالیسیوں کو عوام کی تائید حاصل نہیں ہے امریکہ ہمارے مسائل کے حل نہیں غلط پالیسیوں کی وجہ سے ہماری اقتصادیات تباہ ہو گئی ہے ہمیں امریکی پالیسیوں کو خیر آباد کہنا چاہیے اس سے ہمارے مسائل حل ہو جائیں گے ملک کے اندر ایک ہی سیاسی جماعت، جماعت اسلامی ہے باقی کلب ہیں سرمایہ دار ، جاگیر دار ہیں جو حالات بن رہے ہیں جماعت اسلامی زیادہ ووٹ لے لے گی لوگوں کو پتہ ہے کہ ان کے مسائل کون حل کر سکتا ہے ملک میں دیانتدار قیادت کی ضرورت ہے جماعت اسلامی کی حکومت کے ساتھ امریکہ کبھی کبھی جنگ نہیں چھیڑے گا اس کیو جہ ہے کہ ملک کے اندر عوام او رحکومت ایک ہو گی قاضی حسین احمد نے کہاکہ ہمارا پورے پاکستان میں اپنے امیدوار کھڑے کرنے کا ارادہ ہے جو بیداری پیدا ہورہی ہے اس سے توقع ہے کہ ہم جیت جائیں گے لوگ متبادل قیادت کی خواہش کر رہے ہیں ہم نے کبھی نہیں کہا کہ امریکہ سے لڑیں گے اگر آپ اعتماد کے ساتھ اپنا کیس پیش کر سکیں تو یہ نوبت نہیں آئے گی کشمیر کے مسئلے پر ہمارے دورے کے دوران ہر ایک نے کہاکہ یہ منطقی کیس ہے اس میں کسی نے کوئی اعتراض نہیں کیا انہوں نے کہاکہ ہماری کوشش ہے مذہبی طبقات میں بڑا فرق پڑا ہے تصب ختم ہوگیا ہے انشاء اللہ ہم آہنگی مزید بڑھے گی انہوں نے کہاکہ وکلاء مختلف سیاسی جماعتوں میں بٹے ہوئے ہیں اعتراز کو پی پی پی سے نکلنا چاہیے اگر وہ واقعی وکاءتحریک سے مخلص ہیں پی پی پی میں بھی ہیں اور وکلاءتحریک کا دم بھی بھرتے ہیں دونوں ایک ساتھ نہیں چل سکتی ججز کی بحالی میں بڑی رکاوٹ پیپلز پارٹی ہے آصف علی زرداری او راس کی حکومت اس راہ میں رکاوٹ ہے قاضی حسین احمد نے کہاکہ ہم عدلیہ کی آزادی کی تحریک کے ساتھ دل و جان کے ساتھ ہیں۔اے پی ایس




No comments: