

ایسے موقع پر جب جمہوریت مکمل ہوئی، بزدلوں نے خوشی کو غم میں بدل دیا بزدلوں کی ایسی کارروائیوں سے حکومت اور عوام کے حوصلے پست نہیں ہونگے پاکستان کو ایسے لوگوں سے پاک کیا جا ئے گا۔جبکہ صدر پا کستان آصف زرداری نے اس عزم کا اعادہ کیا ہوا ہے کہ دہشت گردی کا کینسر ختم کرکے رہیں گے دہشت گردی کے خلاف جمہوری قوتیں اور سیاسی جماعتیں حکومت کے ساتھ مل کر کام کریں۔ اسلام آباد میں بم دھماکہ سے پوری قوم کو جس غم کا سا منا ہے جناب آصف زرداری خود اس غم سے گزر چکے ہیں اوراپنی بیوی کی تدفین کر چکے ہیںشہداء کے لواحقین یہ سمجھیں کہ ان کے پیارے وطن کی خدمت کرتے ہوئے شہید ہوئے، پاکستان ایک نڈر قوم ہے، جبکہ صدر مملکت آصف علی زرداری نے آئین میں سترہویں ترمیم اور صدر کے اسمبلی توڑنے کے اختیار 58 ٹو بی پر نظرثانی کیلئے تمام جماعتوں پر مشتمل کمیٹی کے قیام کا اعلان کردیا ہے۔ آصف زرداری اور ان کی حکومت عدلیہ کی آزادی پر یقین ر کھتی ہے انھوں نے اس عزم کا اعادہ کیا ہوا ہے کہ وہ دہشت گردی کے خلاف جنگ کے نام پر کسی بھی طاقت کی طرف سے اپنی حاکمیت اعلیٰ، خود مختاری اور علاقائی سا لمیت کی خلاف ورزی کو برداشت نہیں کریں گے وہ اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ پاکستان سے کسی کے خلاف دہشت گردی ہو نہ ہم پر حملے کئے جائیں۔انہوں نے ایک عر صہ دراز سے حل طلب مسئلہ صوبہ سرحد کے نام کی تبدیلی کو حل کر دکھا یا ہے کیو نکہ با قی تین صوبوں کے نام وہاں کی اکژیت کی پہنچان سے پکا رے جا تے ہیں جبکہ اس ضمن میں سرحد والوں سے اس تنا ظر میں نا انصافی ہو رہی تھی لہذا انھوں نے گذشتہ دو روز قبل اپنے پا رلیمنٹ کے خطاب کے دوران اعلان کیا کہ اب صوبہ سرحد کو پختونخواہ پکارا جائے، انہوں نے واضح کیا کہ حکومتی رٹ چیلنج کرنیوالوں کیخلاف طاقت کا استعمال آخری آپشن ہو گا۔ آئین سے انحراف کے دن اب ماضی بن چکے ہیں اور انھوں نے اس عزم کا بھی اعادہ بھی کیا ہے کہ،ملک کو قائداعظم اور قائد عوام کے تصورکے مطابق آگے لے کر چلوں گا، صدر نے کہا کہ میں پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کے موقع پر اللہ تعالیٰ کے سامنے سجدہ شکر بجا لاتا ہوں اور میں اپنے اوپر اعتماد کا اظہار کرنے اور اس اعلیٰ منصب پر منتخب کرنے کیلئے پارلیمنٹ اور تمام صوبائی اسمبلیوں کے ارکان کا شکریہ ادا کرتا ہوں مجھے یہ اعزاز و استحقاق شہید محترمہ بینظیر بھٹو کے نام پر ملا ہے اور میں آج پاکستان میں جمہوری طاقت کی اس علامت کے سامنے انکساری کے ساتھ کھڑا ہوں اور یہ اہم دن ہمیں مسلم دنیا کی پہلی خاتون وزیراعظم شہید محترمہ بینظیر بھٹو کی یاد دلاتا ہے جو دو مرتبہ پاکستان کی وزیراعظم منتخب ہوئیں اور جن کی قربانی اور جرات سے یہاں جمہوریت ممکن ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ کاش آج میری جگہ وہ اس پارلیمنٹ سے خطاب کر رہی ہوتیں آمریت کے دور میں پارلیمنٹ کو اس کے اختیارات سے محروم کر دیا گیا اور اسے اس کا جائز مقام اور عزت نہیں دی گئی۔ ہر صدارتی انتخاب اور نئے پارلیمانی سال کے آغاز پر صدر کا پارلیمنٹ سے خطاب آئینی تقاضا ہے۔ اس کے باوجود گذشتہ 8 سال کے دوران سربراہ مملکت نے صرف ایک بار پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کیا لیکن میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ قومی اہمیت کے امور پر پارلیمنٹ کو نظرانداز کرنے اور آئین سے انحراف کے دن اب ماضی بن چکے ہیں۔ بطور سربراہ مملکت میں یہ بات واضح کر دینا چاہتا ہوں کہ صدر اور حکومت اپنی ذمہ داریوں کی ادائیگی کیلئے ہمیشہ پارلیمنٹ سے رہنمائی حاصل کرے گی۔ ہم آئین کے تقدس، پارلیمنٹ کی بالادستی اور قانون کی حکمرانی کو ہر قیمت پر یقینی بنائیں گے 18 فروری کو عوام کی طرف سے دیئے گئے مینڈیٹ کا احترام ہماری حکمرانی کا حقیقی اصول ہوگا۔آصف زرداری کا ایک خواب ہے اور یہ خواب اپنے اس عظیم ملک کو غربت، بھوک، دہشت گردی اور باہمی اختلافات کے شکنجے سے آزاد کرنا ہے ہر امید کیلئے ایک منصوبے کی ضرورت ہوتی ہے اور ہر منصوبہ ایک ایجنڈے کا متقاضی ہوتا ہے۔ بلاشبہ حکومت کو ایک بھاری ایجنڈے کا چیلنج درپیش ہے اور یہ ایجنڈا ماضی کے زخموں پر مرہم رکھنے اور وفاق پر اعتماد کی بحالی کیلئے تیزی سے اقدامات کرنا ہے اور بلوچستان کے عوام سے معافی مانگنا بھی ایک ایسا اقدام ہے جو بہت پہلے کیا جانا چاہئے تھا۔ بلوچستان کے سابق وزیراعلیٰ کی جیل سے رہائی بھی ایک مثبت اقدام ہے جبکہ حال ہی میں بلوچستان کے دیرینہ تنازعہ کا حل اور اربوں روپے کی ادائیگی بھی درست سمت میں کئے گئے اقدامات ہیں لیکن ابھی بہت کچھ کرنا باقی ہے۔ صدر نے کہا کہ ماضی میں کئے جانے والے پے در پے غیرآئینی اقدامات نے وفاق کو کمزور کر دیا ہے، جسے اب مضبوط بنانے کی ضرورت ہے۔ اس مقصد کیلئے ماضی کی تلخیوں کو بھلا کر مصالحت اور ہم آہنگی کو فروغ دینا ہوگا۔ مجھے یقین ہے کہ 1973ءکا آئین ہی وہ واحد متفقہ دستاویز ہے جو اس سماجی معاہدے کو خدوخال دے سکتی ہے۔ انہوں نے حکومت سے درخواست کی کہ وہ صوبائی خود مختاری اور ایک نئے فارمولے کے ذریعے وسائل کی تقسیم کیلئے اتفاق رائے پیدا کرنے کا عمل شروع کرے جو متحدہ وفاق کی ضرورت کو پورا کر سکے۔صدر نے کہا کہ پاکستان کے منتخب صدر کے طور پر میں درخواست کرتا ہوں کہ پارلیمنٹ 17 ویں آئینی ترمیم اور 58 ٹو بی پر نظرثانی کیلئے تمام پارٹیوں پر مشتمل پارلیمانی کمیٹی قائم کرے۔ انہوں نے کہا کہ اس ملک کی تاریخ میں اس سے پہلے ایسا کبھی نہیں ہوا کہ کسی صدر نے خود پارلیمنٹ کے سامنے آ کر اپنے اختیارات سے دستبردار ہونے کا اعلان کیا ہو۔ صدر نے کہا کہ پاکستان آج اپنی سلامتی کے حوالے سے ایک نازک موڑ پر کھڑا ہے۔ قبائلی علاقوں میں دہشت گرد اور انتہاپسند عناصر کی طرف سے درپیش چیلنج سے نمٹنے کیلئے حکومت نے ایک جامع سہ نکاتی حکمت عملی تیار کی ہے کہ ایسے امن پسند لوگوں کے ساتھ امن قائم کرنا جو تشدد کو ترک کر دیں اور مقامی لوگوں کی ترقی اور سماجی بہتری کیلئے سرمایہ کاری کو فروغ دیں، طاقت کا استعمال صرف آخری حل کے طور پر ان عناصر کے خلاف کرنا جو ہتھیار ڈالنے سے انکار کر دیں، قانون کو اپنے ہاتھ میں لے کر حکومت کی رٹ کو چیلنج کریں اور سیکورٹی فورسز پر حملے کریں۔ صدر نے کہا کہ میں حکومت سے درخواست کرتا ہوں کہ اس پالیسی کے بارے میں تمام فریقوں کو ذمہ داری دینے کیلئے وہ بند کمرے میں پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس کو قومی سلامتی کے بارے میں بریفنگ دے تاکہ ہر رکن وطن عزیز کو درپیش خطرات کے بارے میں معلومات پر مبنی رائے قائم کر سکے اور ان خطرات سے نمٹنے کیلئے حکومت ارکان پارلیمنٹ کی آراءکی روشنی میں اپنی ذمہ داریوں کو ادا کرتے ہوئے واضح وڑن کے ساتھ آگے بڑھ سکے۔ انہوں نے کہا کہ میں اس موقع پر حکومت سے کہوں گا کہ وہ اس بات کو یقینی بنائے کہ پاکستان کی سرزمین کسی دوسرے ملک کے خلاف دہشت گردی کیلئے استعمال نہ ہو اور میں اس کے ساتھ ساتھ یہ واضح کرنا چاہتا ہوں کہ ہم دہشت گردی کے خلاف جنگ کے نام پر کسی بھی طاقت کی جانب سے اپنی حاکمیت اعلیٰ، خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی خلاف ورزی کو برداشت نہیں کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ اقتصادی چیلنج اس حکومت کو درپیش بڑے چیلنجوں میں سے ایک ہے، کوئی منتخب حکومت اپنے عوام کی غربت نہیں دیکھ سکتی، حکومت کے سامنے فوری اور انتہائی اہم کام عام لوگوں کو غذائی تحفظ فراہم کرنا ہے جنہیں اشیائے خوردونوش کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے مسئلے کا سامنا ہے لیکن ہمیں اس بات کا احساس کرنا چاہئے کہ آج پوری دنیا کو درپیش تیل اور خوراک کے بحرانوں اور گزشتہ 9 سالوں میں زرعی شعبہ کو نظرانداز کئے جانے سے ہمارے عوام کو بڑھتی ہوئی غربت کا سامنا ہے جسے ختم کرنے کیلئے حکومت نے کسی سیاسی مقصد کے بغیر غریب ترین لوگوں کو فوری ریلیف فراہم کرنے کیلئے ملک بھر میں بینظیر انکم سپورٹ اسکیم جیسے فلاحی منصوبے متعارف کرائے۔ صدر نے کہا کہ میں سرمایہ کاروں کے اعتماد کی بحالی، غیرملکی سرمایہ کاری کے دوبارہ آغاز، زرمبادلہ میں بتدریج اضافے، شرح مبادلہ کے استحکام اور سب سے بڑھ کر پائیدار ترقی کی بحالی کے پروگرام کے ساتھ معیشت کے ایک نئے دور کا آغاز دیکھ رہا ہوں۔ صدر نے کہا کہ خواتین کو انصاف کی فراہمی، بغیر منصفانہ ترقی ممکن نہیں۔ میں دکھ کے ساتھ یہ بات کہہ رہا ہوں کہ خواتین کے تحفظ کیلئے قانون سازی کے باوجود اس عظیم قوم کی خواتین کے خلاف جرائم میں اضافہ ہو رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت سے درخواست کروں گا کہ وہ نہ صرف خواتین کو تحفظ فراہم کرنے کی پوری کوشش کر ے بلکہ انہیں مملکت کے مکمل شہریوں کی حیثیت حاصل ہونے کے طویل سفر کے ہر قدم پر بااختیار بنایا جائے پاکستان کی خواتین اس جدوجہد میں میرے ساتھ کھڑی ہوں گی پاکستان پیپلز پارٹی کی حکومت کی طرف سے نجی ٹی وی چینلز کو نشریات کی اجازت کے پہلے دن سے اب تک ذرائع ابلاغ نے ایک طویل سفر طے کر لیا ہے۔ حکومت نے پیمرا اور پرنٹ میڈیا آرڈیننسوں کو ختم کرنے میں ذرا بھر تاخیر نہیں کی جسے سابق حکومت تشدد کے ذرائع کے طور پر چھوڑ گئی تھی اور جو ذرائع ابلاغ کے سر پر ایک تلوار کی طرح لٹک رہے تھے۔ صدر نے نے حکومت سے درخواست کی ہے کہ ہر صوبہ میں تمام صحافیوں کیلئے کم لاگت کی ہاوسنگ کالونیوں اور ویج سپورٹ کا جائزہ لیا جائے عوام کو ایک بہتر مستقبل چاہئے، وہ ایک ایسا پاکستان چاہتے ہیں جس کا تصوّر قائداعظم محمد علی جناح اور قائد عوام شہید ذوالفقار علی بھٹو نے دیا تھا اور درحقیقت اسی پاکستان کیلئے محترمہ بینظیر بھٹو نے اپنی جان قربان کی اور ہم اسی پاکستان کیلئے زندہ رہیں گے اور اسی پاکستان کیلئے آصف زرداری صدر کی حیثیت سے حکومت اور عوام کی بھرپور مدد فراہم کریں گے۔ انہوں نے ارکان پارلیمنٹ سے اس عزم کا اعادہ بھی کیا ہے کہ آئیے ہم ایک مضبوط، محفوظ اور خوشحال پاکستان کی مل جل کر تعمیر کرنے کا عہد کریں۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ اس عظیم مقصد کے حصول میں ہماری مدد فرمائے۔اے پی ایس۔
No comments:
Post a Comment