International News Agency in english.urdu news feature,Interviews,editorial,audio,video & Photo Service from Rawalpindi/Islamabad,Pakistan.Managing editor M.Rafiq,Editor M.Ali. Chief editor Chaudhry Ahsan Premee email: apsislamabad@gmail.com,+92300 5261843 مینجنگ ایڈ یٹر محمد رفیق، ایڈیٹر محمد علی، چیف ایڈیٹرچو دھری احسن پر یمی

Thursday, September 18, 2008

پاکستان کے عوام کا خون نچوڑ ا جا رہا ہے ۔ تحریر : اے پی ایس اسلام آباد



قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف چوہدری نثار علی خان نے کہاہے کہ وزیر اعظم سے اعتماد کے نئے ووٹ کا مطالبہ نہیں کیا جائے گا۔ ان کا چھوٹے گروپوں کی بلیک میلنگ کے حوالے سے تحفظ چاہتے ہیں۔ صدر آصف علی زرداری 17 ویں ترمیم کے خاتمے کے لیے ٹائم فریم اور امریکی جارحیت کے خلاف پارلیمنٹ سے خطاب میں ملک و قوم کو واضح روڈ میپ دیں ۔ صدر عوامی ریلیف کے لیے پارلیمانی کمیٹی اور ماضی کے زخم بھرنے کے لیے کمیشن کے قیام کا اعلان کریں ۔ جمعرات کو پنجاب ہاوس اسلام آباد میں قائد حزب اختلاف کی حیثیت سے اپنی پہلی باضابطہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے چوہدری نثار علی خان نے کہا کہ آئینی اور جمہوری صدر کا پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب اچھی شروعات ہو گی ۔ پرویز مشرف کے جانے کے بعد عوام کو بہتری کی توقع تھی ۔ 18 فروری کو مختلف سیاسی جماعتوں کو تبدیلی کے لیے مینڈیٹ ملا تھا ۔ اس تبدیلی کی تلاش میں ہم نے پاکستان پیپلز پارٹی کے ساتھ اتحاد اور اتفاق کیا تھا ۔ ہم بطور پارٹی شروع سے اپوزیشن میں جانا چاہتے تھے تاہم آصف علی زرداری کی درخواست پر نواز شریف حکمران اتحاد کا حصہ بنے ۔ بد قسمتی سے چھ ماہ میں کوئی تبدیلی نہیں آ سکی ۔ انہوں نے کہا کہ صدر کا پارلیمنٹ سے خطاب ایک سنہری موقع ہے ۔آصف علی زرداری نئی شروعات کریں ۔ پارلیمنٹ سے خطاب سے قبل یا خطاب کے موقع پر پارٹی کی صدارت چھوڑنے کا اعلان کریں ۔ توقع ہے انتہائی طاقتور ترین صدر جو کہ آئینی اور قانونی صدر ہیں وہی تقریر کریں گے جو ملک و قوم کی آرزو ہے۔ ان کا خطاب مشکلات کے حل میں پیش خیمہ ثابت ہوناچاہیے ۔ وہ ثابت کریں کہ وہ منتخب جمہوری صدر ہیں ان کے اندر جمہوری رویہ پایا جاتا ہے اور وہ جمہوری انداز میں ملکی معاملات کو چلانے چاہتے ہیں ۔ا نہوں نے اور خود بے نظیر بھٹو نے ملک کے ساتھ جو وعدے کئے تھے مسلم لیگ ن کے ساتھ اس حوالے سے تحریری معاہدے بھی کئے گئے کی پاسداری کرتے ہوئے قوم کو حقیقی خوشخبری سنائیں گے ۔ توقع وہ پارٹی کے شریک چےئرمین کے عہدے سے مستعفی ہو جائیں گے۔ وہ کسی پارٹی نہیں بلکہ پورے پاکستان کی نمائندگی کرتے ہیں ۔ پارٹی کی صدارت سے استعفی اچھا آغاز ہو گا جو ملک و قوم کی ضرورت بھی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ پرویز مشرف دور کے مسائل اب تک موجود ہیں ۔پرویز مشرف کے خلاف جدوجہد اس لیے کی تھی کہ انہوں نے سب کچھ اپنی ذات کے گرد مرکوز کر دیاتھا ۔ پارٹی کے شریک چےئرمین ہوتے ہوئے آصف علی زرداری ڈی فیکٹو حکمران بھی اور منتخب صدر بھی ہیں۔ یہ جمہوری انداز نہیں ہے۔ وہ یا خود کو پاکستان کے صدر کے طور پر پیش کریں ۔ شریک چےئرمین کی حیثیت سے پیش نہ کریں ۔ 17 ویں ترمیم کے خاتمے کا واضح ٹائم فریم دیں۔ پارلیمانی نظام جمہوریت کو بحال کیا جائے ۔ حکمرانی کے تمام معاملات کا محور و مرکز وزیر اعظم کو ہونا چاہیے ۔انہوں نے کہا کہ سترہویں ترمیم کے خاتمے پاکستان مسلم لیگ ن حکومت کی غیر مشروط مدد کرے گی۔ دو تہائی اکثریت کا جواز پیش نہ کیا جائے ۔ پارلیمنٹ میں سترہویں ترمیم کے حق میں ایک ووٹ بھی نہیں ملے گا میرا خیال تمام پارلیمانی جماعتیں سترہویں ترمیم کے خاتمے کے لیے حکومت کے ساتھ تعاون کریں مگر سترہویں ترمیم کے حوالے سے اگر گلہ پسند نا پسند اور مرضی کی آراءکو شامل نہ کیا جائے ۔ میٹھا میٹھا ہپ ہپ کڑوا کڑوا تھو تھو والی پالیسی نہیں چلے گی۔میثاق جمہوریت مسلم لیگ ن کے ساتھ کئے گیءمعاہدے کے مطابق سترہویں ترمیم کو ختم کیا جائے یہ پوری قوم کی آواز ہے ۔ توقع رکھتے ہیں ملکی تاریخ کے سب سے زیادہ طاقتور ترین سو یلین صدر کسی دباو¿ خوف ڈر وسوسے اور کسی کے اثر و رسوخ میں نہیں آئیں گے ۔ بے نظیر بھٹو نے اعلان کیا تھا کہ وہ خود چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کے گھر پر پاکستان کے جھنڈے لہرائیں گے ۔اس حوالے سے مسلم لیگ ن کے ساتھ تین بار تحریری معاہدے بھی کئے گئے پسند نا پسند کے بجائے تین نومبر 2007 ءکو برطرف کئے گئے ۔ تمام ججز کو بحال کیا جائے ۔ ججز کی تقرری کے بارے میں نام نہاد نائیک فارمولا عدلیہ اور قوم کے ساتھ مذاق ہے۔ جو مشرف نے کیا ۔ وہی یہ کر رہے ہیں ۔ اس وقت پرویز مشرف کی پسند کے ججز حلف اٹھا رہے تھے ۔ آج موجودہ حکمرانوں کے پسندیدہ ججز حلف لے رہے ہیں ۔ انہوں نے کہاکہ تین نومبر 2007 ءکو زبردستی نکالے گئے تمام ججز جب تک بحال نہیں ہوں گے یہ مسئلہ ختم نہیں ہو گا ۔پارلیمنٹ کے اندر اور باہر بھرپور جدوجہد کی جائے گی ۔ سول سوسائٹی ، وکلا ءاور قوم کے ساتھ مل کر جدوجہد جاری رکھیں گے ۔ انہوں نے کہا کہ پرویز مشرف کے آمرانہ دور میں جن ججز نے کلمہ حق کہا وہ ججز بے یارو مددگار بیٹھے ہیں ۔ اور جنہو ںنے آمریت کے سامنے سر تسلیم خم کیا اپنے مفاد کو اہمیت دی ۔ انہیں سیلوٹ کیا جارہاہے ۔ اور عدلیہ میں اونچے مقام پر بیٹھا یا جارہاہے ۔ مسلم لیگ ن کو جب بھی پوزیشن ملے گی تمام ججز کو بحال کیا جائے گا۔ چوہدری نثار علی خان نے کہاکہ ملک حالت جنگ میں ہے۔ تاریخ کی سنگین ترین صورتحال سے دوچار ہیں۔ ملک کے اندر اور باہر مشکلات ہیں ۔ انہوں نے کہاکہ در حقیقت عوام ہی اس ملک کے سب سے بڑے محافظ ہیں ۔ فوج ہتھیار حکومت فورسز نہیں عوام محافظ ہیں ۔ لیکن عوام مسائل مشکلات میں گرفتار ہیں انصاف سے محروم ہیں ۔ زندگی کا تحفظ نہیں ہے ۔ ان مشکل ترین حالات کے باوجود حکومت کو پیغام دینا چاہتے ہیں کہ حالت جنگ کی صورتحال میں قوم کو متحرک کیاجائے ۔پاکستان مسلم لیگ ( ن ) قومی غیرت ‘ عزت و بقا اور مستقبل کے اس معاملے پر واضح طور پر حکومت کی حمایت کرے گی ۔ حکمران قوم کی طاقت کو اپنے ساتھ شامل کریں ۔ اپنی سوچ پالیسی کا واضح طور پر اعلان کریں کیونکہ آصف علی زرداری تک امریکی حملوں کے حوالے سے ابھی تک ایک لفظ بھی نہیں کہا ہے ۔ کیا اچھا ہوتا کہ آرمی چیف کے بجائے صدر بیان دیتے اور ہم اس کی تائید کرتے ۔ امید کرتے ہیں کہ اس جنگ کے حوالے سے صدر آصف علی زرداری پارلیمنٹ سے خطاب میں واضح روڈ میپ دیں گے اور حکومتی نکتہ نظر سے آگاہ کریں گے ۔ امریکی جارحیت کے حوالے سے شک و شبہات کے حوالے سے کوئی پالیسی نہیں ہے ۔ امریکی بمباری پر یہ خاموشی شک میں اضافہ کر رہی ہے ۔ امریکہ کے موثر میڈیا میں رپورٹس شائع ہوئی ہیں کہ پرویز مشرف اور امریکہ کے درمیان معاہدہ تھا کہ امریکی فوجی جب چاہیں جہاں چاہئیں پاکستان کی سرزمین پر اتر سکتے ہیں ۔ آصف علی زرداری جو کہ ذوالفقار علی بھٹو اور بے نظیر بھٹو کے وارث ہیں پارلیمنٹ سے خطاب میں فوجی آمر کے دورکے اس معاہدے کو ختم کرنے کا اعلان کریں ۔ زمینی اور فضائی کسی صورت میں امریکی بمباری ناقابل قبول ہے ۔ قوم یہی اعلان آصف علی زرداری سے سننا چاہتی ہے اس حوالے سے خفیہ اور انڈر ٹیبل فیصلے نہ کئے جائیں ۔ چوہدری نثار علی خان نے آئی ایس آئی کے بارے میں رچرڈ باو¿چر کے بیان کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ اگرچہ آئی ایس آئی نے پاکستان مسلم لیگ ( ن) کو دولخت کیا تھا مگر کسی باہر کے ملک یا شخص کو اس بات کی اجازت نہیں دے سکتے کہ وہ ہمارے قومی سلامتی کے ادارے کی تنظیم کی بات کریں ۔ سی آئی اے میں بھی خامیاں ہیں ۔ را بھی بہت سے معاملات میں ملوث ہے ۔ افغانستان ‘ پاکستان بلوچستان کے حوالے سے شواہد موجود ہیں را کی تنظیم نو کی بات تو نہیں کی مگر اپنے بارے میں ایسے کہنے کی ہم نے خود امریکہ کو عادت ڈال دی ہے ۔ چوہدری نثار علی خان نے واضح کیا کہ پاکستان پیپلزپارٹی کو سندھ کے علاوہ کسی صوبے میں مینڈیٹ نہیں ملا ۔ وفاق میں بھی واضح اکثریت نہیں ہے حکومت کے پاس 48 نشستیں کم ہیں ۔ اس کے باوجود صدر وزیر اعظم سپیکر قومی اسمبلی ‘ گورنرز پی پی پی پسند کے ہیں ۔ ظاہر ہے چیئرمین سینٹ اور ڈپٹی چیئرمین کو بھی پی پی پی سے منتخب کیا جائے اختیارات کے لحاظ سے حکومت کمزور نہیں ہے ۔ عوام کے ریلیف کے لئے مطالبہ کرتے ہیں پارلیمانی کمیٹی بنائی جائے ۔ جو 15 دنوں میں اپنی رپورٹ پیش کرے ہم انہی سفارشات سے آگاہ کریں گے ۔ انہوں نے کہا کہ عالمی منڈی میں 34 فیصد تک تیل کی قیمت میں کمی ہوئی ہے ۔ حکومت ڈیزل پر کوئی سبسڈی نہیں دے رہی ہے ایسا ہوتا تو حکومت امپورٹ پرائس پر سبسڈی دیتی ۔ سیل پرائس میں تو کئی ٹیکسز شامل ہیں اس سطح پر سبسڈی دینا مذاق ہے ۔ پاکستان کے عوام کا خون نچوڑ ا جا رہا ہے ۔ انہوں نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کا مطالبہ کیا ۔ ماضی کے زخموں کے مدوا کے لئے قائد حزب اختلاف نے سچائی مفاہمتی کمیشن کے قیام کا مطالبہ کیا اور کہا کہ یہ کمیشن ماضی کے زخم بھرنے کے لئے 3 ماہ میں اپنی رپورٹ پیش کرے ۔ لال مسجد جامعہ حفصہ کے ختم بلوچستان میں ہونے والے قتل ‘ فاٹا میں مظالم ‘ بے نظیر بھٹو ‘ اکبر بگٹی ‘ بالاچ مری کے قتل ‘ 500سے زائد لاپتہ افراد جن کے خاندانوں کا کوئی پرسان حال نہیں ہے ۔ کے حوالے سے کمیشن قوم کے سامنے سفارشات پیش کرے ۔ انہوں نے کہا کہ جی ایچ کیو ‘ ایجنسیوں ‘ فارن آفس کو پارلیمنٹ کے ماتحت رہنا چاہئے وہاں سے پالیسی بیان کرنے چاہیں ۔ ایک سوال کے جواب میں چوہدری نثار علی خان نے کہا ہے کہ وزیر اعظم سے نئے اعتماد کے ووٹ کا مطالبہ نہیں کریں گے ۔ تاہم حکومت کی غیر مشروط حمایت بھی نہیں کی جائے گی پارلیمانی نظام کو غیر مستحکم نہیں ہونے دیں گے ۔ سیاستدانوں کی لڑائی جھگڑے کا تاثر نہیں دینا چاہئے ۔ اسی طرح حکومت کو چھوٹے گروپوں کی بلیک ملینگ سے محفوظ رکھنا چاہتے ہیں ۔ ملکی مفاد کے مطابق ایشو تو ایشو حکومت کے ساتھ تعاون کیا جا سکتا ہے ۔ انہوں نے واضح کیا کہ مسئلہ کشمیر کے حوالے سے حکومت کے پاکستان مسلم لیگ ( ن ) کو اعتماد میں نہیں لیا ہے ۔ ہم سے کشمیر کے لئے خصوصی کاکس بنانے کی بات کی گئی ہے جس کے لئے پارٹی کے چیئرمین راجہ ظفر الحق کو نامزد کردیا گیا ہے ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ آرٹیکل سکس کا نفاذ نہ ہوا تو ملک میں مارشل لاءآتے رہیں گے ۔ ملک توڑا گیا ۔ ادارے اور عدلیہ کو توڑا گیا ۔ ہر بار آمر کو معاف کر دیا جاتا ہے انہوں نے کہا کہ پرویز مشرف کے احتساب کے لئے پاکستان مسلم لیگ ( ن ) پارلیمنٹ میں تحریک یا قرار دادجمع کرانے کا جائزہ لے سکتی ہے ۔ ایک سوال کے جواب میں قائد حزب اختلاف نے کہا کہ پنجاب حکومت کو بچانے کے لئے گندی گیم کا حصہ نہیں بنیں گے نہ کوئی منڈی لگے گی نہ کسی قیمت لگائی جائے گی ۔ ججز کی بحالی کے لئے بھرپور طریقے سے پارلیمانی قوت کو استعمال کریں گے ۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ امریکی حملوں کا نوٹس لینے کے لئے پاکستان مسلم لیگ ( ن ) عیدالفطر کے بعد قومی اسمبلی کے اجلاس میں ریکوزیشن جمع کرائے گی ۔جبکہ وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی نے کہاہے کہ امریکہ کے واضح طور پر بتادیا گیا ہے کہ پاکستان کی سالمیت اور خود مختاری پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیاجائے گا غیر ملکی طاقت کو پاکستان میںہدف کو نشانہ بنانے کی اجازت ہے نہ دی جائے گی صوبہ سرحد کو بجلی کے خاص منافع سے اس کا پورا حق ملے گا کسی صوبے کے ساتھ کوئی زیادتی نہیں ہو گی صدارتی انتخاب کے نتیجہ میں وفاق اور صوبوں میں ہم آہنگی بڑھ رہی ہے۔ان خیالات کا اظہار وزیر اعظم نے جمعرات کو اسلام آباد میں سرحد کابینہ کے اراکین سے خطاب کر تے ہوئے کیا کابینہ کے اراکین نے وزیر اعلی سرحد امیر حیدر ہوتی کی قیادت میں وزیر اعظم سے ملاقات کی صوبہ سرحد اور قبائلی علاقوں میں امن و امان کی صورتحال ،صوبے میں ترقیاتی عمل ،بجلی کے خالص منافع کے ایشو،صوبوں کو وسائل کی فراہمی سے متعلق امور پر تبادلہ خیال ہوا وزیر اعظم نے صدارتی انتخبا کے سلسلے میں سرحد حکومت اور کابینہ کی جانب سے آصف علی زر داری کی حمایت پر شکریہ ادا کیا وزیر اعظم دیامیر بھاشاڈیم کے پی سی ون کی منظوری پر سرحد کابینہ کو مبارکباد دی قومی سلامتی کے ایشو کے حوالے سے وزیر اعظم نے کہا کہ پاکستان کسی بھی غیر ملکی طاقت کو اپنی سر زمین پر کسی حدف کو نشانہ بنانے کی اجازت نہیں دے گا انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ امریکہ نیٹو اور ایساف ہماری فورسز کے ساتھ خفیہ معلومات کے تبادلہ اور مذہبی رابطے کو بہتر بنانے ، وزیر اعظم کے سرحد کابینہ کے اراکین کو امریکی جوائنٹ چیف آف سٹاف کمیٹی کے چیئر مین ایڈمرل مائیکل مولن سے ملاقات کی تفصیلات سے بھی آگاہ کیا وزیر اعظم نے کہا کہ دہشت گرد ی اور انتہا پسندی کے خلاف جنگ پاکستان کے اپنے مفاد میں ہے انہوں نے کہا کہ ملک میں معاشی ترقی کے لئے امن و استحکام ضروری ہے وزیر اعلی سرحد نے ملاقات میں بجلی کے خالص منافع کا معاملہ اٹھایا وزیر اعظم نے وفاقی وزارت پانی و بجلی کو ہدایت کی ہے ملک بھر میں بجلی کے نرخ یکساں ہو نے چاہئیں انہوں نے وزارت کو ہدایت کی کہ بھر پور سرگرمیوں کے موقع بجلی کی بچت کی حوصلہ افزائی کی جائے وزیر اعظم نے سنٹرل ڈویلپمنٹ ورکنگ پارٹی کی جانب سے دیامیر بھاشا ڈیم کے پی سی ون کی منظوری پر سرحد کابینہ کو مبارکباد دی یہ منصوبہ 12ارب 60 کروڑ ڈالر کی لاگت سے تعمیر ہو گا جس سے 4500 میگا واٹ بجلی حاصل کر نے کے علاوہ ڈیم میں 8.1 ملین ایکڑ فٹ پانی ذخیرہ کر نے کی گنجائش ہو گی وزیر اعظم نے متعلقہ اداروں کو ہدایت کی کہ بھاشا ڈیم کے متاثرین کو ڈیم کے نزدیک ترین علاقے میں بسایا جائے مثالی ٹاو¿نز تعیمر کیے جائیں جس میں تمام بنیادی سہولتوں کی فراہمی یقینی ہو گندم کی صورتحال کے حوالے سے وزیر اعظم نے کہا کہ جلد ہی گندم کی سپورٹ پرائس میں اضافہ کیا جائے گا جس سے گندم کی کاشت پر مثبت اثرات مرتب ہوں گے ذرائع کے مطابق وزیر اعظم نے صوبہ سرحد کو بجلی کے خالص منافع سے اس کے حق کے مطابق رائلٹی کی فراہمی کے لئے خصوصی کمیٹی قائم کر دی ہے وزیر اعظم نے مصالحتی کمیٹی کو ہدایت کی ہے کہ وہ عیدالفطر کے بعد اس حوالے سے رپورٹ پیش کرے وزیر اعظم نے یقین دہانی کرائی کہ کسی صوبے کی حق تلفی نہیں ہو گی۔ جبکہ وزیر اعظم سید یوسف رضا گیلانی نے قائد حز ب اختلاف چوہدری نثار علی خان کو قومی اسمبلی کی پبلک اکاو¿نٹس کمیٹی کا چیئر مین مقرر کر نے کے لیے ان سے رابطہ کیا ہے۔ اس حوالے سے چوہدری نثار علی خان نے پارٹی قیادت کو اعتماد میں لینے کے لئے وزیر اعظم سے وقت مانگا ہے۔ ذرائع کے مطابق وزیر اعظم سید یوسف رضا گیلانی نے آج قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف چوہدری نثار علی خان سے رابطہ کیا اور انہیں آگاہ کیا کہ پبلک اکاو¿نٹس کمیٹی کے چیئر مین کے لیے حکومت اور اس کی اتحادی جماعتوں نے ان کے نام پر اتفاق کیاہے ۔ وزیر اعظم نے یہ بات زور دے کر کہی کہ بلکہ انہیں پبلک اکاوئنٹس کمیٹی کا چیئر مین مقرر کیا جا رہا ہے۔ ذرائع کے مطابق اس معاملے کے بارے میں چوہدری نثار علی خان ، پارٹی کے قائد نواز شریف اور پارٹی کے صدر میاں شہباز شریف کو اعتماد میں لینا چاہتے ہیں۔ اس ضمن میں حکومت سے وقت طلب کیا گیا ہے۔ پارٹی قیادت سے مشاورت کے بعد چوہدری نثار علی خان قومی اسمبلی کی پبلک اکاو¿نٹس کمیٹی کا چیئر مین بننے نہ بننے کا حتمی فیصلہ کریں گے۔جبکہ حکومت نے مسئلہ کشمیر کے حوالے سے امریکی کانگریس کی طرز پر کاکس (خصوصی گروپ) تشکیل کے لئے تمام سیاسی جماعتوں سے نمائندوں کے نام طلب کر لئے ہیں حکومت نے اس ضمن میں سیاسی جماعتوں سے رابطے کیے ہیں ذرائع کے مطابق کشمیر کے حوالے سے کاکس کی تشکیل میںسیاسی جماعتوں سے اراکین کی نامزدگی کے لئے سینٹ میں قائد ایوان میاں رضا ربانی نے ان جماعتوں سے رابطے کیے ہیں وہ اس ضمن میں متحرک ہیں حکومت تمام سیاسی جماعتوں کو کاکس میں نمائندگی کی خواہاں ہے ذرائع کے مطابق اپوزیشن کی بڑی جماعت پاکستان مسلم لیگ ن نے کاکس کے لئے پارٹی کے چیئر مین راجہ ظفر الحق کو رکن نامزد کر دیا ہے ذرائع کے مطابق آئندہ چند دنوں میں کاکس کے اراکین کا اعلان کر دیا جائے گا مسئلہ کشمیر کے حوالے سے قومی اتفاق رائے کے حصول کے لئے حکومت نے امریکی کانگریس کی طرز پر خصوصی گروپ کے قیام کا فیصلہ کیا ہے۔ جبکہ جمہوری صدر صدر آصف علی زرادری نے کہا ہے کہ پاکستان کشمیریوں کی جدوجہد کی سیاسی،اخلاقی اور سفارتی حمایت جاری رکھے گا۔ اسلام آباد میں آزاد کشمیر کے وزیر اعظم سردار عتیق احمد سے گفتگوکرتے ہوئے صدرآصف زرداری نے کہاکہ پاکستان کشمیریوں کے حق خود ارادیت کی بھرپورحمایت کرتاہے۔ اس موقع پرسردارعتیق احمدکاکہناتھاکہ حکومت پاکستان کی کشمیر پالیسی سے پاک بھارت مذاکرات میں پیش رفت ہوگی ۔ آصف علی زرداری کو چاہیے کہ وہ پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے اپنے پہلے خطاب میں پیپلز پارٹی کی سربراہی سے مستعفی ہونے اور وزیراعظم کے اختیارات بحال کرنے کے لئے آئین کی سترہویں ترمیم کو ختم کرنے کا اعلان کریں تاکہ وہ کئی ایک مختلف پلیٹ فارموں پر اپنے اس وعدے کی پا سداری کر سکیں۔ نیز قبائلی علاقوں میں فوجی کارروائیوں کے لئے سابق صدر جنرل پرویز مشرف اور امریکہ کے درمیان ہونے والے معاہدے ختم کرنے کا اعلان کریں۔ ’اس حوالے سے مشرف دور کی کہانیاں نہ دہرائی جائیں۔آصف زرداری بھی ایک سے زیادہ عہدے اپنے پاس رکھے ہوئے ہیں جس سے جمہوری روایات کی نفی ہوتی ہے۔ وہ نہ صرف پاکستان کے طاقتور ترین صدر ہیں بلکہ ملک کے اصل حکمران بھی وہی ہیں۔ اسکے ساتھ پیپلز پارٹی کی سربراہی بھی کرتے ہیں ۔پاکستان کے جمہوری عوام نے امید ظاہر کی ہے کہ آصف زرداری پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب میں پارٹی سربراہی سے استعفٰی دے کر یہ ثابت کریں کہ وہ ایک پارٹی کے نہیں بلکہ پورے ملک کے صدر ہیں۔ عوام نے صدر مشرف کے خلاف جن معاملات پر اتنی طویل جدو جہد کی وہ آج بھی اسی طرح موجود ہیں اور اٹھارہ فروری کو عوام نے جس تبدیلی کے لیے ووٹ دیے تھے اسکے رونما ہونے کے کوئی آثار نہیں ہیں۔عوام کو اس پات پر بھی تشویش ہے کہ پاکستان کی سرزمین پر امریکی حملے ہو رہے ہیں اور صدر آصف زرداری نے اس بارے میں ایک لفظ بھی نہیں کہا جبکہ عوام کا یہ بھی مطالبہ ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں گزشتہ حکومت کے دور میں امریکہ کے ساتھ کیے گئے معاہدے ختم کر کے حکومت نئی پالیسی تشکیل دے۔جبکہ نئی جمہوری حکومت کو کام کرنے کے حوالے سے اپوزیشن بھی جمہوری رویہ اختیار کرے ۔ کیونکہ عوام میں اس بات کی بھی بہت تشویش پا ئی جا تی ہے کہ اسحاق ڈار نے چند دن وزارت خزانہ کا قلم سنبھال کر اور سا بقہ حکومت کے خلاف وائٹ پیپر شائع کر کے ملک اورقوم کا بہت نقصان کیا ہے کیونکہ عوام کا خیال ہے کہ ایسا کر نے سے بیرونی سرمایہ کا ری آنا دور کی بات بلکہ رہی سہی پونجی بھی بیرون ملک منتقل ہوگئی ہے عوام کہتے ہیں کہ اسحق ڈار کو کیا ضرورت تھی کہ دنیا بھر کو بتا یا جا تا کہ خزانہ خا لی ہے اور ملک معاشی طور پر تباہ حال ہے۔اور اس وجہ سے اسے کو ئی بھی معاشی سہارا دینے کو تیار نہیں لہذا عوام چودھری نثار سے امید کر تے ہیں کہ وہ کو ئی ایسا کام نہیں کریں گے جس سے ملک و قوم کا وقار مجروح ہو بلکہ با عث افتخار ہو۔ اے پی ایس

No comments: