International News Agency in english.urdu news feature,Interviews,editorial,audio,video & Photo Service from Rawalpindi/Islamabad,Pakistan.Managing editor M.Rafiq,Editor M.Ali. Chief editor Chaudhry Ahsan Premee email: apsislamabad@gmail.com,+92300 5261843 مینجنگ ایڈ یٹر محمد رفیق، ایڈیٹر محمد علی، چیف ایڈیٹرچو دھری احسن پر یمی

Tuesday, September 9, 2008

آٹا،فاٹا مہنگائی بے روزگاری اور آصف زرداری ۔ تحریر :محمد رفیق اے پی ایس



آصف علی زرداری نے حامدکرزئی کے ساتھ پریس کانفرنس کرکے امریکہ کو پہلی صدارتی سلامی دی ہے۔ایوان صدر سے پرویز مشرف رخصت ہوگیاہے مگر اس کی روح،غلامانہ سوچ اور پالیسیاں ابھی تک وہاں موجود ہیں۔ حامد کرزئی کو امریکہ اور نیٹو نے افغانستان پر مسلط کررکھا ہے،اور اس کی عملداری کابل کے صدارتی محل پر ختم ہوجاتی ہے۔ حامد کرزئی کے ساتھ بیٹھ کر آصف زرداری نے مغربی دنیا کو یہ پیغام دیا ہے کہ وہ بھی خطے میں ان کے مقاصد کو پورا کرنے کے لیے کارندے کا کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہیں۔ یہ انتہائی افسوس ناک ہے کہ آصف زرداری نے اپنا آغاز اس طرح کیا ہے جس سے محب وطن لوگ مایوس ہوئے ہیں۔ قوم کو یہ پیغام ملا ہے کہ وہ ایک دہشت گرد ملک کے دو آدمیوں کے نرغے میں آگئی ہے۔اس طرح کا تاثر دیناخودآصف زرداری کے لیے نیک شگون نہیںہے۔ لوگ توقع کررہے تھے کہ وہ ججوں کی 2نومبر کی پوزیشن پر بحالی کی بات کریں گے، جسٹس افتخار چوہدری اور جسٹس خلیل الرحمن رمدے کی عدالت عظمیٰ میں واپسی کا مڑدہ سنائیں گے۔کمر توڑمہنگائی اور بے روزگاری کے خاتمے کے حوالے سے اپنی پالیسی بتائیں گے۔ عوام کو آٹا،بجلی ،گیس اور اشیائے خوردونوش کی قلت کے بحرانوں پر قابوپانے اور ان کی قیمتوں میں کمی کی خوشخبری سنائیں گے۔ امریکی غلامی پر مبنی خارجہ و داخلہ پالیسیوں میں تبدیلی اور نام نہاد ”وارآن ٹیرر “ سے برات کے بارے میں اپنی حکمت عملی سے قوم کو آگاہ کریں گے۔ پاکستانی سرحدوں کی مسلسل خلاف ورزی اور شہریوں کی شہادت پر ٹھوس رد عمل کا اظہارکریں گے۔لیکن انھوں نے پہلے دن ہی لوگوں کو مایوس کیا ہے اور یہ پاکستانی قوم کے لیے ایک بری خبر ہے۔ جو لوگ ان کے حوالے سے کسی خوش فہمی میں مبتلا تھے اور ان سے کچھ توقعات رکھتے تھے، ان کو بھی مایوسی ہوئی ہے جو حکومت اپنی سرحدوں کی حفاظت کرنے میں ناکام ہے اور اپنے شہریوں کو باہر کے حملوں سے تحفظ فراہم نہیں کر سکتی اسے اپنی قوم پر بمباری اور گولہ باری کی شرمناک کارروائی سے فوری طور پر باز آنا چاہیے۔ کشمیر کے لوگ اس وقت خود اٹھے ہوئے ہیں اور اب کشمیر کو اپنے ساتھ رکھنا بھارت کے لیے ممکن نہیں رہا۔ خودبھارت سے آوازیں اٹھ رہی ہیں کہ بھارت اور کشمیر ایک دوسرے سے آزادی حاصل کرلیں۔ بیک ڈور چینل سے کی جانے والی کوششیں دھوکے کے سوا کچھ نہیں،اورآصف زرداری نے مسئلہ کشمیر پر کوئی واضح بات نہ کرکے کشمیری عوام اور پاکستانی قوم کو مایوس کیا ہے۔ پاکستانی حکومت اپنا فرض ادا نہیں کرے گی اور کشمیریوں سے اظہار یکجہتی نہیں کرے گی تو پھر خوشخبری پاکستان اور کشمیر کے بجائے بھارت اور امریکہ کے لیے ہوگی۔ حکومت کشمیریوں کی نئی انتفادہ کا ساتھ دے اور ان کی آزادی کی لہر کو قوت دینے میں اپنا کردار ادا کرے۔ صدر آصف علی زرداری نے اپنی پہلی پریس کانفرنس کے دوران 58 ٹو بی اور 1973 ء کے آئین کی بحالی کی کوئی بات نہیں کی نئے صدراگر ججز کی بحالی 58 ٹو بی کے خاتمے اور 1973 ء کے آئین کی بحالی کی بات کرتے تو قوم کو اچھا پیغام جاتا۔اگرچہ عوام کیلئے یہ انتہائی خوشی کی بات ہے کہ آج ایوان صدر میں ایک منتخب صدر جا بیٹھا ہے ۔ آصف علی زرداری کے حلف اٹھانے کے بعد ہماری پارلیمنٹ مکمل ہوگئی ہے،نئے صد رکی پریس کانفرنس کے دوران 58ٹوبی کے خاتمے اور73ءکے آئین کی بحالی کی بات ہوجاتی تو اچھاتاثر جاتا۔ ہمارے نام نہاد لیڈروں سے تو بہتر فرانس ہے جس نے کم از کم اخلاقی جرات کا مظاہرہ کیا ہے فرانس نے پاکستان کے قبائلی علاقوں میں امریکی فوج کے حملوں کی شدید مذمت کی ہے اور امریکہ کو خبردار کیا ہے کہ اس طرح کی کارروائیوں سے دہشت گردی کے خلاف عالمی جنگ متاثر ہوگی ۔فرانسیسی وزارت خارجہ کے ترجمان ایرک چیوالیئر نے ایک انٹرویو میں قبائلی علاقوں میں بغیر پائلٹ امریکی طیاروں کی بمباری اور بے گناہ لوگوں کے مارے جانے کی مذمت کرتے ہوئے پاکستان کے قبائلی علاقوں میں امریکی فوج کی ان کارروائیوں کو انتہائی افسوسناک قرار دیا ہے ۔اٰنہوں نے کہا کہ ایسی کارروائیاں نہ صرف انسانی المیہ ہیں بلکہ اس طرح کے اقدامات سے دہشت گردی کے خلاف جاری عالمی جنگ میں بری طرح متاثر ہوگی ۔انہوں نے امریکہ کو خبردار بھی کیا کہ قبائلی علاقوں میں امریکی فوج کی کارروائیوں سے پاکستان ،افغانستان اورعالمی برادری کے درمیان تعلقات میں متاثر ہوسکتے ہیں ۔اس لیے جہاں تک ہو سکے ایسی کارروئیوں سے اجتناب کیا جائے۔اے پی ایس

No comments: