International News Agency in english.urdu news feature,Interviews,editorial,audio,video & Photo Service from Rawalpindi/Islamabad,Pakistan.Managing editor M.Rafiq,Editor M.Ali. Chief editor Chaudhry Ahsan Premee email: apsislamabad@gmail.com,+92300 5261843 مینجنگ ایڈ یٹر محمد رفیق، ایڈیٹر محمد علی، چیف ایڈیٹرچو دھری احسن پر یمی

Monday, September 8, 2008

نواز شریف کی آصف زرداری سے معذرت ۔تحریر: اے پی ایس،اسلام آباد





پیپلزپارٹی کی سابق حلیف جماعت پاکستان مسلم لیگ کے سربراہ نواز شریف نے پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین اور نو منتخب صدر آصف علی زرداری کی جانب سے حکومتی اتحاد اور وفاقی کابینہ میں دوبارہ شمولیت کی دعوت قبول کرنے سے معذرت کر لی ہے۔آصف زرداری نے نواز شریف کو یہ پیشکش ایک ملاقات میں کی۔ نواز شریف آصف علی زرداری کو صدر منتخب ہونے پر مبارکباد دینے کے لیے سوموار کے روز لاہور سے خصوصی طور پر اسلام آباد آئے اور ایوان وزیراعظم میں دونوں جماعتوں کے وفود کے درمیان مختصر رسمی ملاقات کا اہتمام کیا گیا تھا۔ حکومتی اتحاد سے مسلم لیگ(ن) کی علیحدگی کے بعد نواز شریف اور آصف علی زرداری کی یہ پہلی باقاعدہ ملاقات تھی جو ماضی کے مقابلے میں خاصی مختصر رہی۔ ملاقات میں موجود مسلم لیگ نواز کے سیکرٹری اطلاعات احسن اقبال نے بعد ازاںبتایا کہ اس ملاقات میں طویل سیاسی تبادلہ خیال نہیں ہوا البتہ نو منتخب صدر نے میاں نواز شریف کو حکومتی اتحاد میں دوبارہ شامل ہونے کی دعوت دی۔ احسن اقبال کے مطابق آصف زرداری نے سابق مسلم لیگی وزرا کو بھی وفاقی کابینہ کا دوبارہ حصہ بنانے کی خواہش کا اظہار کیا جس پر نواز شریف نے معذرت کر لی۔ نوازشریف نے نو منتخب صدر پاکستان کو بتایا کہ ان کی جماعت حزب اختلاف میں بیٹھ کر بھی مثبت اور تعمیری سیاست کرے گی اور یہ کہ اپوزیشن بنچوں پر بیٹھنے کے اصرار کا ہرگز یہ مطلب نہ لیا جائے کہ مسلم لیگ اس نظام سے باہر نکلنا چاہتی ہے۔ احسن اقبال کے مطابق نواز شریف نے آصف زرداری کو بتایا ہے کہ وہ سترہویں ترمیم کے خاتمے کے ذریعے پارلیمنٹ اور ایوان صدر کے درمیان طاقت کے توازن کی بحالی اور معزول ججوں کی بحالی کے لیے حکومت سے غیر مشروط تعاون کی یقین دہانی کروائی۔ احسن اقبال نے کہا کہ ان کی جماعت اس نظام کا حصہ رہتے ہوئے حکومت کی مدد کرتی رہے گی۔ ان کے مطابق ملاقات میں پیپلز پارٹی سے تعلق رکھنے والے پنجاب کے گورنر سلمان تاثیر اور ان کے بعض متنازعہ بیانات بھی زیرِ بحث آئے۔ ایوان وزیراعظم میں ہونے والی اس ملاقات میں وزیراعظم یوسف رضا گیلانی سینیٹ میں قائد ایوان رضا ربانی اور وفاقی کابینہ کے بعض ارکان بھی موجود تھے جبکہ مسلم لیگی وفد میں نواز شریف کے علاوہ پنجاب کے وزیراعلیٰ شہبازشریف، پارٹی چیئرمین راجہ ظفر الحق، سیکرٹری جنرل اقبال ظفر جھگڑا، سینیٹر اسحٰق ڈار، رکن قومی اسمبلی چوہدری نثار علی خان، سیکرٹری اطلاعات احسن اقبال اور بعض دیگر راہنما بھی شامل تھے۔ جبکہ صدیق الفاروق نے بتایا کہ میاں نواز شریف صدِر پاکستان کی تقریبِ حلف برداری میں شریک نہیں ہوں گے کیونکہ انہیں لندن روانہ ہونا تھاجہاں ان کی شریک حیات بیگم کلثوم نواز زیرعلاج ہیں۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ اس تقریب میں مسلم لیگ(ن) کی نمائندگی وزیراعلیٰ پنجاب اور پارٹی صدر میاں شہباز شریف کریں گے۔ آصف زرداری کے صدر بننے پرعوامی ردعمل میں کہا گیا ہے کہ’آصف علی زرداری صدارتی انتخاب میں کامیابی کے بعد ایک امتحان میں پڑگئے ہیں اور اگر وہ اس امتحان میں کامیاب نہ ہوئے تو نہ صرف ان کی ذات بلکہ ان کی جماعت کو ناقابل تلافی نقصان پہنچے گا‘۔ امریکہ کی طرف سے پاکستان کی سرزمین پر حملے ہورہے ہیں اور دیکھنا یہ ہے کہ کیا آصف علی زرداری سابق صدر پرویزمشرف کی پالیسی کو جاری رکھیں گے یا امریکہ کے ساتھ شدت پسندی کی جنگ کے معاملے پر نظرثانی کریں گے۔ آصف زرداری پرویز مشرف کی جگہ بیٹھ کر ملک کی مضبوط شخصیت تو بن گئے ہیں لیکن اس منصب کے کچھ تقاضے ہیں اور انہیں وعدے کے مطابق اس دستور کو بحال کرنا ہوگا جو اکتوبر ننانوے میں پرویز مشرف کی مداخلت سے پہلے موجود تھا۔ ان کے بقول دستور کو بارہ اکتوبر ننانوے سے پہلے کی حالت پر بحال کرنے سے سترہویں ترمیم کا مسئلہ بھی حل ہو جائےگا۔ عوام توقع رکھتے ہیں کہ آصف علی زرداری اسمبلی تحلیل کرنے کے اختیار یعنی اٹھاون ٹو بی سے دستبردار ہوجائیں اور اس کے لیے بقول ان کے نئی ترمیم لانے کی ضرورت نہیں ہے بس دستور کر ننانوے کی پوزیشن پر بحال کیا جائے۔ عوام یہ بھی توقع رکھتے ہیں کہ جسٹس افتخار محمد چودھری اور جسٹس خلیل رمدے کو ان کی سابقہ حیثیت سے بحال کیا جائے۔ اگر آصف زرداری امتحان میں پورے اترتے ہیں تو قوم ان کو مبارک باد دے گی اور اگر وہ اس میں کامیاب نہیں ہوتے تو اس سے ان کی پارٹی کو ناقابل تلافی نقصان ہوگا۔ آصف زرداری اٹھاون ٹو بی اور سترھویں ترمیم کو ختم کریں۔ان کا کہنا ہے کہ این آر او جس کے تحت آصف زرداری نے اپنے خلاف کرپشن کے مقدمات کوختم کیا ہے اس قانون کو مخصوص افراد تک محدور نہ رکھا جائے بلکہ اس کے دائرہ کار کو بڑھا دیا جائے تاکہ ان غریب لوگوں کو بھی فائدہ ہو جو غربت اور افلاس کی وجہ سے چند کلو آٹا چوری کرنے پر جیل کی سلاخوں کی پیچھے چلے جاتے ہیں۔ میجر جنرل صاحبزادہ سید اسکندر مرزا (1956-1958)، پاکستان کے آخری گورنر جنرل اور ملک کے پہلے صدر تھے۔ مرشد آباد انڈیا میں پیدا ہوئے اور متحدہ ہندوستان میں اعلی ترین عہدے پر فائز مسلم آفیسر ہونے کی وجہ سے وہ پہلے سیکریٹری دفاع اور پھر آخری گورنر جنرل بنے۔ ون یونٹ کے ایک بڑے حامی، اسکندر مرزا کو انہی کے لگائے گئے مارشل لا کے بعد جنرل ایوب خان نے برطرف کیا۔ انیس سو انہتر میں لندن میں وفات کے بعد یحٰی خان کی حکومت نے پاکستان میں ان کی تدفین کی اجازت نہیں دی اور شاہ ایران نے ان کے لئے سرکاری سطح پر آخری رسومات کا اہتمام کیا۔ انہوں نے اپنے بچوں کو لکھے ایک خط میں پاکستان کی فوج اور ایوب خان پر اعتبار کرنے کو اپنی بڑی غلطی قرار دیا۔ اس کے بعد فیلڈ مارشل محمد ایوب خان (1958-1969)، ہری پور میں پیدا ہوئے اور پاکستان کے پہلے فوجی حکمران بنے جنہوں نے اسکندر مرزا کو برطرف کر کے اقتدار سنبھالا۔ انیس سو ساٹھ میں ایک صدارتی ریفرنڈم کرایا اور پھر انیس سو چونسٹھ کے الیکشن میں تمام جماعتوں کے طرف سے فاطمہ جناح کی حمایت اور عوامی مقبولیت کے باوجود ایک ایسے الیکشن میں کامیابی حاصل کی جسے تاریخ دان متفقہ طور پرشفاف تسلیم نہیں کرتے۔ انہی کے دور میں پاکستان اور انڈیا کے درمیان پینسٹھ کی جنگ ہوئی جس سے پاکستان کی معیشت پر گہرا اثر پڑا۔ انیس سو انہتر میں اپنے ہی آئین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے اقتدار عوامی نمائندوں کی بجائے اپنے وفادار جنرل یحٰی خان کے حوالے کردیا۔انیس سو چوہتر میں پاکستان میں ہی ان کا انتقال ہوا۔ اس کے بعد آغا محمد یحیٰی خان (1969-1971)، چکوال میں پیدا ہوئے اور انہوں نے پاکستان کی تاریخ کے سب سے پیچیدہ اور کٹھن ترین دور میں ایک فوجی حکمران کے طور پر اقتدار سنبھالا۔ انیس سو انہتر میں ایک طرف جنرل ایوب خان کے گیارہ سالہ دور کے خلاف عوامی جذبات تھے اور دوسری طرف مشرقی پاکستان میں علیحدگی کی تحریک۔ انہوں نے بنگلہ دیش کے قیام کے بعد اقتدار مغربی پاکستان کی مقبول جماعت پیپلز پارٹی کے رہنما ذوالفقارعلی بھٹو کے حوالے کیا۔ ان کا انتقال انیس سو اسی میں راولپنڈی میں ہوا۔اس کے بعدذوالفقار علی بھٹو (1971-1973)، پہلے جنرل ایوب کی کابینہ میں وزیر خارجہ اور پھر ان کے خلاف عوامی تحریک کے بانیوں میں تھے اور بنگلہ دیش کے قیام کے بعد ملک کے پہلے صدر اور سویلین مارشل لا ایڈمنسٹریٹر بنے۔ لاڑکانہ کے بھٹو نے اکہتر کی جنگ کے بعد پاکستان کے ’ٹکڑوں کو اکٹھا کرکے ایک نیا ملک’ بنانے اور جمہوریت کی بحالی کا وعدہ کرکے اقتدار سنبھالا اور دو سال میں نئے آئین کی منظوری کے بعد ملک کے پہلے منتخب وزیر اعظم بننے کا اعزاز حاصل کیا۔اس کے بعدفضل الہی چوہدری (1973-1978)، انیس سو تہتر کے آئین کے تحت ذوالفقار علی بھٹو کے بعد پاکستان کو وہ پہلے صدر بنےجن کے پاس وزیراعظم سے کم اختیارات تھے۔ کھاریاں کے چوہدری قومی اسمبلی کے سپیکر بھی رہ چکے تھے اور پارلیمانی سیاست میں وسیع تجربہ رکھتے تھے۔ وہ انیس سو اٹھہتر تک ملک کے صدر رہے اور جنرل ضیا الحق کی طرف سے اقتدار پر قبضے کے بعد مستعفی ہوگئے۔ اس کے بعد جنرل محمد ضیاالحق(1977-1988)، نے ذوالفقار علی بھٹو کی منتخب حکومت کا تختہ الٹ کر انیس سو ستتر میں اقتدار پر قبضہ کیا اور ملک کے تیسرے فوجی حکمران بنے۔ شروع میں مارشل ایڈمنسٹریٹر رہے اور پھر صدر بن گئے۔ انہوں نے بھی ریفرنڈم کروایا اور غیر جماعتی انتخابات بھی۔ انہی کے دور میں پاکستان سرد جنگ میں امریکہ کا بڑا حلیف بنا اور ملک میں اسلامائزیشن کے تحت خواتین اور اقلیتوں کے خلاف قوانین لاگو کئے گئے۔ جنرل ضیا کا انتقال اگست انیس سو اٹھاسی میں ان کا جہاز ہوا میں پھٹنے سے ہوا۔اس کے بعد محمد غلام اسحاق خان (1988-1993)، انیس سو پچاسی میں سینیٹ کے رکن منتخب ہوئے اور پھر سینیٹ کے چئیرمین بنے۔ سن اٹھاسی میں جنرل ضیا کی ہلاکت کے بعد آئین کے مطابق صدر کا عہدہ سنبھالا اور پھر اس عہدے پر باقاعدہ منتخب ہوئے۔ انہوں نے آٹھویں ترمیم کے تحت صدر کا حاصل اختیارات کا دو بار استعمال کیا اور بے نظیر بھٹو اور میاں نواز شریف کی حکومت برطرف کی۔ لیکن دوسری بار حکومت کی برطرفی کے نتیجے میں پیدا ہونے والے بحران کے بعد انہیں استعفی دینا پڑا۔اس کے بعد وسیم سجاد (1993 اور 1997)، اسی کی دہائی میں سیاست میں آئے اور پہلے سینیٹ کے رکن اور پھر انیس سو اٹھاسی میں چئیرمین بنے اور انیس سو ترانوے میں غلام اسحاق خان کے استعفے کے بعد عبوری طور پر صدر بنے۔ انہوں نے صدر کے باقاعدہ الیکشن میں بھی حصہ لیا لیکن فاروق لغاری نے انہیں ہرا دیا۔ وہ انیس سو ستانوے میں محمد رفیق تارڑ کے انتخاب سے پہلے ایک بار پھر عبوری صدر بنے۔ اس کے بعدسردار فاروق احمد خان لغاری (1993-1997)، پیپلز پارٹی کی بھر پور حمایت کے ساتھ انیس سو ترانوے صدر بنے۔ لیکن ڈیرہ غازی خان کے لغاری نے انیس سو چھیانوے میں اپنی ہی پارٹی کی حکومت کو آٹھویں ترمیم استعمال کرتے ہوئے کرپشن کے الزام میں برطرف کردیا۔ انیس سو ستانوے کے نئے الیکشن میں میاں نواز شریف کی جماعت بھر پور اکثریت کے ساتھ جیتی اور اس نے اسمبلی تحلیل کرنے کے صدارتی اختیارات کو ختم کرنے کی کوشش کی جس پر ایک آئینی بحران پیدا ہوا اور صدر لغاری اور اس وقت کے چیف جسٹس سجاد علی شاہ کو مستعفی ہونا پڑا۔ اس کے بعد محمد رفیق تارڑ (1997-2001)، انیس سو ستانوے سپریم کورٹ کے جج کے طور پر ریٹائر ہونے کے بعد پاکستان مسلم لیگ نواز کے ٹکٹ پر سینیٹ کے رکن منتخب ہوئے اور پھر اسی سال ملک کے صدر بنے۔ ان کے دور میں صدر کے اختیارات کو بتدریج کم کیا گیا اور بالآخر تیرھویں ترمیم کے ذریعے صدر کے اختیارات میں آئین کی روح کے مطابق مکمل طور پر کمی کردی گئی۔ انیس سو ننانوے میں جنرل پرویز مشرف کی طرف سے میاں نواز شریف کی حکومت کی برطرفی کے بعد انہیں عہدے سے نہیں ہٹایا گیا اور وہ سن دوہزار ایک تک صدر رہے۔اس کے بعدجنرل پرویز مشرف (2001-2008)، انیس سو ننانوے میں میاں نواز شریف کی منتخب حکومت کو برطرف کر کے اقتدار پر قابض ہوئے۔ شروع میں چیف ایگزیکیٹو رہے اور پھر صدر بن گئے۔ انہوں نے بھی ریفرنڈم کروایا اور الیکشن بھی لیکن اس عمل کی غیر جانبداری پر سنجیدہ سوال اٹھائے گئے۔ انہی کے دور میں پاکستان ایک بار پھر دہشت گردی کے خلاف جنگ میں امریکہ کا حلیف بنا۔ بےنظیر کی ہلاکت اور دو ہزار آٹھ کے انتخابات میں پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ نون کی کامیابی کے بعد ان پر استعفے کا دباو¿ بڑھا۔ انہوں نے شروع میں ایسا کرنے سے انکار کیا لیکن تمام جماعتوں کی طرف سے ان کے مواخذے کی دھمکی کے بعد وہ اگست دو ہزار آٹھ میں مستعفی ہوگئے۔اس کے بعدپاکستان پیپلز پارٹی کے شریک سربراہ آصف علی زرداری بھاری اکثریت سے پاکستان کے بارہویں صدر منتخب ہو گئے ہیں۔الیکشن کمیشن کی جانب سے جاری کردہ نتائج کے مطابق آصف زرداری نے چار سو اکیاسی، مسلم لیگ(ن) کے جسٹس (ر) سعید الزماں صدیقی نے ایک سو ترپّن جبکہ مسلم لیگ(ق) کے امیدوار سید مشاہد حسین نے چوالیس ووٹ حاصل کیے۔ آصف زرداری نے جیت کے بعد عوام کا شکریہ ادا کرتے ہوئے اپنے مختصر خطاب میں کہا کہ ’میں محترمہ بینظیر بھٹو کے وہ الفاظ دہراو¿ں گا کہ جمہوریت بہترین انتقام ہے‘۔ انہوں نے چاروں صوبوں کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ’جب جمہوریت بولتی ہے تو سب سنتے ہیں‘۔ گذشتہ اتوار کی رات چیف الیکشن کمشنر قاضی محمد فاروق نے صدارتی انتخاب کے حتمی سرکاری نتائج کا اعلان کرتے ہوئے بتایا کہ آصف علی زرداری کو قومی اسمبلی اور سینیٹ سے دو سو اکیاسی ، پنجاب اسمبلی سے بائیس ، سندھ اسمبلی سے تریسٹھ ، سرحد اسمبلی سے چھپن جبکہ بلوچستان اسمبلی سے انسٹھ ووٹ ملے ہیں ۔ سرکاری اعلان کے مطابق کل پچیس الیکٹورل ووٹ ضائع ہوئے جن میں قومی اسمبلی اور سینٹ کے دس ، پنجاب اسمبلی کے دس ، سندھ اسمبلی کا ایک ووٹ ، سرحد کے چار ووٹ شامل ہیں جبکہ بلوچستان اسمبلی کا کوئی ووٹ ضائع نہیں ہوا۔ ادھر مسلم لیگ (ق) کے فارورڈ بلاک کا علیحدہ اجلاس ہوا جس میں ریاض فتیانہ، کشمالہ طارق اور نصر اللہ بجارانی سمیت دو درجن کے قریب اراکین شریک ہوئے۔ ریاض فتیانہ نے کہا تھا کہ ان کے گروپ میں پچیس اراکین شامل ہیں اور انہوں نے آصف علی زرداری کو ووٹ دینے کا فیصلہ کیا ۔آصف علی زرداری کی ابتدائی تعلیم بھی ایل کے اڈوانی، محمد خان جونیجو، شوکت عزیز اور پرویز مشرف کی طرح سینٹ پیٹرکس سکول کراچی میں ہوئی جس کے بعد انہوں نے دادو میں قائم کیڈٹ کالج پٹارو سے انیس سو چوہتر میں انٹرمیڈیٹ کیا۔ کہا جاتا ہے کہ بعد میں انہوں نے لندن سکول آف اکنامکس اینڈ بزنس نامی کسی ادارے میں بھی داخلہ لیا تھا۔ آصف زرداری اوائل عمر سے ہی یاروں کے یار ٹائپ شخص کے طور پر کراچی کے متمول حلقوں میں جانے جاتے تھے۔انیس سو اڑسٹھ میں شوقین مزاج کمسن آصف نے فلمساز سجاد کی اردو فلم ’منزل دور نہیں‘ میں چائلڈ سٹار کے طور پر بھی اداکاری کی۔ فلم کے ہیرو حنیف اور ہیروئن صوفیہ تھیں۔لیکن یہ ایک فلاپ فلم ثابت ہوئی۔ آصف زرداری پولو اور گھڑ سواری کے شوقین تھے اور انکی پولو ٹیم زرداری فور کے نام سے جانی جاتی تھی۔آصف زرداری کے اس زمانے کے ایک ساتھی کے بقول آصف ایک دل والا شخص تھا۔ بقول اس کے ایک مرتبہ کراچی کے مضافات میں ہم لوگ ہارس رائڈنگ کر رہے تھے کہ ہمارے گروپ میں شامل ایک جرمن سفارتکار کی بیٹی کا گھوڑا دلدل میں دھنس گیا۔اس صورتحال میں کوئی آگے نہیں بڑھا۔لیکن آصف دلدل میں اتر گیا اور پہلے لڑکی کو بچایاپھر گھوڑے کو نکالا۔اس زمانے میں کھلنڈرا آصف اپنے پرائیویٹ ڈسکو تھیک کے سبب بھی خوب جانا جاتا تھا۔ سیاست سے آصف علی زرداری کا سن اسی کے وسط تک دور دور تک واسطہ نہیں تھا۔ بس ایک سراغ یہ ملتا ہے کہ انیس سو پچاسی کے غیرجماعتی انتخابات میں آصف علی زرداری نے بھی نواب شاہ میں صوبائی اسمبلی کی ایک نشست سے کاغذاتِ نامزدگی جمع کرائے تھے۔مگر یہ کاغذات واپس لے لئے گئے۔ اسی زمانے میں آصف علی زرداری نے وزیرِ اعلٰی غوث علی شاہ کے ایک وزیر سئید کوڑل شاہ کے مشورے سے کنسٹرکشن کے کاروبار میں بھی ہاتھ ڈالا لیکن اس شعبے میں آصف زرداری صرف دو ڈھائی برس ہی متحرک رہے۔ انیس سو ستاسی آصف زرداری کے لئے سب سے فیصلہ کن سال تھا جب انکی سوتیلی والدہ ٹمی بخاری اور بیگم نصرت بھٹو نے بے نظیر بھٹو کے ساتھ آصف کا رشتہ طے کیا۔اٹھارہ دسمبر انیس سو ستاسی کو ہونے والی یہ شادی کراچی کی یادگار تقریبات میں شمار ہوتی ہے۔ جس کا استقبالیہ امیر ترین علاقے کلفٹن کے ساتھ ساتھ غریب ترین علاقے لیاری کے ککری گراو¿نڈ میں بھی منعقد ہوا اور امرا کے شانہ بشانہ ہزاروں عام لوگوں نے بھی شرکت کی۔ ذوالفقار علی بھٹو کی پھانسی کے بعد بے نظیر بھٹو اور انکے لاکھوں سیاسی پرستاروں کے لیے یہ پہلی بڑی خوشی تھی۔ انیس سو اٹھاسی میں جب بے نظیر بھٹو برسرِ اقتدار آئیں تو آصف زرداری بھی وزیرِ اعظم ہاو¿س میں منتقل ہوگئے۔اور انکی سیاسی زندگی باضابطہ طور پر شروع ہوگئی۔انیس سو نوے میں بے نظیر حکومت کی برطرفی کے بعد ہونے والے انتخابات میں وہ رکنِ قومی اسمبلی بنے۔انیس سو ترانوے میں وہ نگراں وزیرِ اعظم میر بلخ شیر مزاری کی کابینہ میں وزیر بنے پھر بے نظیر بھٹو کے دوسرے دور میں رکنِ قومی اسمبلی اور وزیرِ ماحولیات و سرمایہ کاری رہے۔ وہ انیس سو ستانوے سے ننانوے تک سینٹ کے رکن رہے۔ انیس سو نوے سے دوہزار چار تک کے چودہ برس آصف زرداری کی زندگی کے سب سے ہنگامہ خیز سال ہیں۔ بے نظیر بھٹو کے پہلے دور میں ان پر کرپشن کے الزامات لگنے شروع ہوئے اور ان پر مسٹر ٹین پرسنٹ کا خطاب چپکانے کی کوشش کی گئی۔ سب سے پہلے انیس سو نوے میں انہیں صدر غلام اسحاق خان کے دور میں ایک برطانوی تاجر مرتضٰی بخاری کی ٹانگ پر بم باندھ کر آٹھ لاکھ ڈالر اینٹھنے کی سازش کے الزام میں حراست میں لیا گیا۔ لیکن انہی غلام اسحاق خان نے بعد میں آصف زرداری کو رہا کردیا۔ آڈیٹر جنرل آف پاکستان کی ایک رپورٹ کے مطابق غلام اسحاق خان نے بے نظیر اور آصف زرداری پر کرپشن کے انیس ریفرینسز فائل کئے لیکن ان میں سے کوئی ثابت نہیں ہو سکا۔ پانچ نومبر انیس سو چھیانوے کو دوسری بے نظیر حکومت کی برطرفی کے بعد آصف زرداری کا نام مرتضی بھٹو قتل کیس میں آیا۔ نواز شریف حکومت کے دوسرے دور میں ان پر سٹیل مل کے سابق چیئرمین سجاد حسین اور سندھ ہائی کورٹ کے ایک جج جسٹس نظام احمد کے قتل اور منشیات کی سمگلنگ میں ملوث ہونے، سوئس کمپنی ایس جی ایس کوٹیکنا ، دوبئی کی اے آر وائی گولڈ کمپنی سے سونے کی درآمد، ہیلی کاپٹروں کی خریداری، پولش ٹریکٹروں کی خریداری اور فرانسیسی میراج طیاروں کی ڈیل میں کمیشن لینے، برطانیہ میں راک وڈ سٹیٹ خریدنے، سوئس بینکوں کے ذریعے منی لانڈرنگ اور سپین میں آئیل فار فوڈ سکینڈل سمیت متعدد کیسز بنائے گئے۔ اس طرح کی فہرستیں بھی جاری ہوئیں کہ آصف علی زرداری نے حیدرآباد، نواب شاہ اور کراچی میں کئی ہزار ایکڑ قیمتی زرعی اور کمرشل اراضی خریدی، چھ شوگر ملوں میں حصص لیے۔ برطانیہ میں نو، امریکہ میں نو، بلجئم اور فرانس میں دو دو اور دوبئی میں کئی پروجیکٹس میں مختلف ناموں سے سرمایہ کاری کی۔ جبکہ اپنی پراسرار دولت کو چھپانے کے لئے سمندر پار کوئی چوبیس فرنٹ کمپنیاں تشکیل دیں۔ غلام اسحاق خان سے لے کر نواز شریف اور پرویز مشرف تک کی حکومتوں نے اندرون و بیرونِ ملک ان الزامات ، ریفرینسز اور مقدمات کو آگے بڑھانے کے لیے ایک خطیر رقم خرچ کی ۔آصف زرداری تقریباً مل ملا کر گیارہ برس جیل میں رہے۔ جیل میں بھی آصف زرداری مرکزِ توجہ رہے۔ کیونکہ انہوں نے قیدیوں کی فلاح و بہبود کے لیے کئی کام کئے، جن میں کھانے اور کپڑوں کی تقسیم اور نادار قیدیوں کی ضمانت کے لیے رقم کا بندوبست بھی شامل رہا۔ دورانِ قید ان پر جسمانی تشدد بھی ہوا۔ لیکن کوئی نتیجہ نہیں نکلا۔ قید کے دوران انہیں ذیابیطس اور کمر کے درد کی شکایت بھی پیدا ہوئی ۔دو ہزار پانچ میں آصف زرداری بیرونِ ملک چلے گئے ۔اور سیاست سے الگ تھلگ خود کو دوبئی اور نیویارک تک محدود کر لیا۔ جب پرویز مشرف اور بے نظیر بھٹو کے مابین امریکہ ، برطانیہ اور بعض بااثر دوستوں کی کوششوں سے مصالحت کا آغاز ہوا۔ اسکے بعد سے انکے اور آصف زرداری کے خلاف عدالتی تعاقب سست پڑنے لگا۔ کوئی ایک مقدمہ بھی یا تو ثابت نہیں ہوسکا یا واپس لے لیا گیا یا حکومت مزید پیروی سے دستبردار ہوگئی۔اس سلسلے میں اکتوبر دو ہزار سات میں متعارف کرائے گئے متنازعہ قومی مصالحتی آرڈینننس نے بھی اہم کردار ادا کیا۔ ستائیس دسمبر دو ہزار سات کو بے نظیر بھٹو کی شہادت کے بعد آصف علی زرداری کی قیادت میں پیپلز پارٹی انتخابات میں سب سے بڑی پارٹی بن کر ابھری۔شروع میں اندازہ یہ تھا کہ آصف زرداری صرف پارٹی قیادت پر توجہ مرکوز رکھیں گے اور مسٹر سونیا گاندھی بن کے رہیں گے۔لیکن پھر انہوں نے ملک کا صدر بننے کا فیصلہ کرلیا۔اور آج آصف علی زرداری اپنا یہ ہدف پانے میں کامیاب ہو چکے ہیں۔ ذوالفقار علی بھٹو اور فاروق لغاری کے بعد آصف زرداری پاکستان کے تیسرے ایسے صدر ہیں جو قید کے تجربے کے بعد ملک کے اعلٰی ترین عہدے پر فائز ہوئے ہیں۔انکے صاحبزادے بلاول، صاحبزادی بختاور اور آصفہ کو ستائیس دسمبر کو اپنی والدہ کی شہادت کے بعد پہلی مرتبہ کوئی بڑی خوشی نصیب ہوئی ہے۔ اے پی ایس،اسلام آباد

No comments: