

پی ایم ایل ن کا حکومت سے مزید تعاون سے انکار،تجارتی خسارہ 47 فی صد اضافے کے ساتھ تین ارب ڈالر52 کروڑ ڈالر سے تجاوز ،فاٹا میں18 شرپسند ہلاک ۔رپورٹ :اے پی ایس
امریکی صدر جارج بش نے آصف علی زرداری کو مشورہ دیا ہے کہ وہ عوامی رائے کے بجائے پاکستان کے مفاد میں فیصلے کریں۔صدر بش نے آصف زرداری پر زور دیا ہے کہ قبائلی علاقوں سے دہشت گردی کا خاتمہ پاکستان کی نئی حکومت کی ذمہ داری ہے، اس سلسلے میں صدربش جلد ہی آصف علی زرداری سے اقوام متحدہ میں ملاقات کریں گے۔ یہ بات وائٹ ہاوس کی ترجمان ڈان پیرینو نے واشنگٹن میں پریس بریفنگ کے دوران بتائی۔ انہوں نے کہا کہ نو منتخب صدر کو کئی بحرانوں کا سامنا ہے جس میں پاکستان کی خراب اقتصادی حالت اور قبائلی علاقوں میں امن وامن کی بگڑتی ہوئی صورت حال جیسے معاملات شامل ہیں۔انہوں نے کہا کہ صدر بش پاکستانی قیادت سے مسلسل رابطے میں ہیں۔ صدربش جلد ہی آصف علی زرداری سے اقوام متحدہ میں ملاقات کریں گے۔ ترجمان وائٹ ہاوس نے کہا کہ صدر بش نے صدر آصف علی زرداری اور افغان صدر حامد کرزئی کے درمیان ملاقات کو بھی خوش آئند قرار دیاہے۔ترجمان نے یہ بھی بتایا کہ امریکی صدر بش نے نومنتخب صدر آصف زرداری کو مشورہ دیا ہے کہ وہ عوامی رائے کے بجائے پاکستان کے مفاد میں فیصلے کریں۔ ترجمان کا کہنا تھا صدر بش نے آصف زرداری پر زور دیا کہ قبائلی علاقوں سے دہشت گردی کا خاتمہ پاکستان کی نئی حکومت کی ذمہ داری ہے۔واضح رہے کہ صدر بش نے واشنگٹن کی نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ امریکا پاکستان کے قبائلی علاقوں میں دہشت گردی کے خلاف جنگ میں مکمل تعاون کرے گا۔ صدر بش کا کہنا تھا کہ پاکستان، افغانستان اور عراق میں انتہا پسند وہاں کے عوام پر اپنے نظریات مسلط کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔ صدر بش کا کہنا تھا کہ دہشت گردوں اور انتہا پسندوں کو شکست دینا پاکستان کے اپنے مفاد میں ہے۔ جبکہ وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی نے مسلم لیگ (ن) کے وفاقی وزراءکے استعفے منظور کر لئے ہیں۔آئندہ دو تین روز میں وفاقی کابینہ میں خالی ہونے والے ان قلمدانوں کے حوالے سے نئے وزراءکی تقرری ،کابینہ میں توسیع اور رد وبدل کا مرحلہ مکمل کر لیاجائے گا۔ ذرائع کے مطابق وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی نے سنیئر وفاقی وزیر چوہدری نثار علی خان ، وزیر خزانہ اسحاق ڈار ، وزیر تجارت شاہد خاقان عباسی ، وفاقی وزیر تعلیم احسن اقبال ، وفاقی وزیر پٹرولیم و قدرتی وسائل خواجہ آصف ، وفاقی وزیر سائنس وٹیکنالوجی تہمینہ دولتانہ ، وفاقی وزیر ثقافت و امور نوجوانان خواجہ سعد رفیق ، وفاقی وزیر ریلوے سردار مہتاب احمدخان، وزیر دفاعی پیداوار رانا تنویر کے استعفے منظور کر لئے ہیں ۔ ذرائع نے بتایاہے وزیراعظم کی جانب سے قومی اسمبلی میں متوقع قائد حزب اختلاف چوہدری نثار علی خان پاکستان مسلم لیگ (ن) کے استعفوں کی منظوری کے بارے میں باضابطہ طور پرآگاہ کردیاگیاہے۔ استعفوں کی منظوری کا فیصلہ بدھ کو ایوان صدر میں صدر آصف علی زرداری اور وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کے درمیان ون آن ون ملاقات میں کیاگیا۔ جلد ہی کابینہ ڈویڑن سے ان استعفوں کی منظوری کا نوٹیفکیشن جاری ہو جائے گا۔ استعفوں کی منظوری پر پاکستان مسلم لیگ (ن) قومی اسمبلی کے آئندہ اجلاس میں اپوزیشن بینچوں پر بیٹھے گی ۔ جبکہ چود ھری نثار نے کہا ہے کہ پاکستان مسلم لیگ (ن) پیپلز پارٹی کی حکومت کو غیر مستحکم کرنے کی کسی سازش میں شریک نہیں ہو گی لیکن حکومت یہ غلط فہمی بھی ذہن سے نکال دے کہ مسلم لیگ (ن) اس سے کوئی غیر معمولی تعاون کرے گی ۔ مسئلہ کشمیر کے حوالے سے آصف علی زرداری کا بیان درست نہیں ۔ پاکستان مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی میں مسئلہ کشمیر کے حل پر کوئی اتفاق رائے نہیں ہوا ۔ ہم مسئلہ کشمیر کا حل اقوام متحدہ کی قرار دادوں کے مطابق کشمیر عوام کو حق خود ارادیت دینے میں سمجھتے ہیں ۔ فاٹا سمیت قبائلی علاقوں میں امن کا قیام حکومت کی پہلی ترجیح ہونی چاہیئے۔ اس وقت آپریشن فوج نہیں حکومتی پالیسی کے تحت ہو رہا ہے جسے شروع کرنے یا ختم کرنے کی ہدایات حکومت دے رہی ہے ۔ مسلم لیگ (ن) معزول ججوںکی بحالی کے ایشو پر ایک انچ بھی پیچھے نہیں ہٹی ہے ۔ پنجاب حکومت سے پیپلز پارٹی کے وزراءکو زبردستی نہیں نکالنا چاہتے ۔ مسلم لیگ (ن) اس ایشو پر بیان بازی نہیں کرے گی ۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے لاہور میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔ اس موقع پر وزیر اعلی پنجاب کے مشیر پرویز رشید اور رکن قومی اسمبلی ایاز صادق بھی موجود تھے ۔ چوہدری نثار علی خان نے یہ بھی کہا ہے کہ آصف علی زرداری کا یہ بیان درست نہیں ہے کہ کشمیری پالیسی پر مسلم لیگ (ن) کے ساتھ اتفاق رائے ہو گیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) یہ ضرور چاہتی ہے کہ مسئلہ کشمیر کے حل کیلئے تمام سیاسی جماعتوںکو متفقہ موقف اختیار کرنا چاہیے اور اس کا حل کشمیری عوام کو حق خود ارادیت دینے میں ہی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ماضی میں نام نہاد بیک ڈور ڈپلومیسی کے ذریعے مسئلہ کشمیر کے حل کیلئے فارمولے پیش کئے جاتے رہے ہیں جسے ہم قبول نہیں کرتے ۔ مسلم لیگ کشمیریوں کے 60 سالہ پرانے موقف سے متفق ہے حکومت کو اس مسئلہ کے حل کیلئے کشمیری عوام کی سپورٹ کرتے رہنا چاہیے ۔ انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) بھارت سے اچھے ہمسائیوں جیسے تعلقات کی حامی ہے لیکن یہ تعلقات صرف مسئلہ کشمیر کے حل سے ہی قائم ہو سکتے ہیں جس کے بعد دونوں ممالک ایک دوسرے پر اعتماد کر سکے گے ۔ ہم اپنا یہ موقف اس حوالے سے بنائی جانے والی کمیٹی کے سامنے بھی رکھیں گے ۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم نے مجھے آج فون کر کے بتایا ہے کہ ہمارے 8 وزراء کے استعفےٰ منظور کرلئے گئے ہیں اور انہوں نے یہ بھی یقین دلایا ہے کہ مسلم لیگ (ن) کی اپوزیشن نشستوں پر بیٹھنے اور اس کا قائد پارلیمانی لیڈر مجھے مقرر کرنے پر بھی آئندہ چند دنوں میں عملدرآمد ہو جائے گا ۔ انہوں نے کہا کہ وزارتوں سے الگ اور اپوزیشن میں بیٹھنے کے باوجود مسلم لیگ (ن) حکومت کے ہر اچھے فیصلے اور پالیسی کی تائید کرے گی لیکن جہاں بھی غیر پارلیمانی اور غیر آئینی راستہ اپنایا جائے گا ہم زبردست مزاحمت کریں گے ۔ انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) کی قیادت پر یہ دباو¿ بھی ڈالا جاتا رہا کہ آصف علی زرداری کے ماضی کے حوالے سے ان کی صدارتی اہلیت سے متعلق اعتراضات داخل کئے جائیں لیکن ہم نے ایسا نہیں کیا ہم غیر جمہوری قوتوں کو فائدہ نہیںپہنچانا چاہتے اور حکومت کے ساتھ اچھی ورکنگ ریلیشن شپ چاہتے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی اب ہم سے مزید تعاون کی امید نہ رکھے ہم اس کی کسی ایکسٹرا پارلیمانی کوشش کی حمایت نہیں کریں گے ۔ انہوں نے کہا کہ آئین سے 58 ٹو بی کے خاتمے سے 17 ویں ترمیم ختم نہیں ہو گی بلکہ اس کے بہت سے د وسرے سیکشن بھی ایسے ہیں جنہیں ختم کرنا ضروری ہے۔ 58 ٹو بی اس وقت ختم نہ بھی کی جائے تو پیپلز پارٹی کی حکومت پر کوئی اثر نہیں پڑے گا ۔ مشرف دور میں پاکستان میں عملا صدارتی نظام رائج کردیا گیا۔ گورنروں، چیف الیکشن کمشنر اور آڈیٹر جنرل سمیت بہت سے اہم عہدوں پر تقرریاں کرنا ابھی بھی صدارتی اختیار ہے ۔انہوں نے کہا کہ اس وقت فاٹا کی صورتحال انتہائی پیچیدہ ہے حکومت کی اولین ترجیح فاٹا سمیت قبائلی علاقوں میں امن کا قیام اور معزول ججوںکی 2 نومبر 2007ءکی پوزیشن پر بحالی اولین ترجیح ہونی چاہیئے اور اس کے ساتھ ساتھ مہنگائی ملک میں امن و امان کا قیام اور دیگر مسائل کے حل پر بھی بھرپور توجہ دی جانی چاہیئے، پنجاب میں مسلم لیگ (ن) کے صدارتی امیدوار کے حق میں پیپلز پارٹی کے بغیر 201 ارکان نے ووٹ ڈال کر اکثریت ثابت کردی ہے ۔ حقیقت میں یہ ووٹ 208 تھے جن میں آئندہ دو چار دنوں میں مزید اضافہ بھی ہو گا ۔ انہوں نے کہا کہ پنجاب حکومت کے حوالے سے ہم خوفزدہ نہیں ہیں اور نہ ہی پیپلز پارٹی کے وزیروں کو زبردستی صوبائی حکومت سے نکالنا چاہتے اور ہم نے اس معاملہ پر بیان بازی بند کردی ہے ۔ یہ فیصلہ اب دونوں پارٹی کی اعلی قیادت میاں نواز شریف کی وطن واپسی پر کرے گی تاہم پیپلز پارٹی کی طرف سے ایسے بیانات ابھی بھی جاری ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ معزول ججوں کی بحالی کے مسئلہ پر مسلم لیگ (ن) اپنے موقف سے ایک انچ پیچھے ہٹی ہے اور نہ ہی آئندہ ہٹے گی ۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ چیف آف آرمی سٹاف جنرل کیانی کا کردار بہت مثبت رہا ہے ۔ نئی حکومت کے قیام کے بعد وہ فاٹا سے مسائل لے کر خود سیاسی لیڈر شپ کے پاس آئے اور انہیں بریف کرنے کے بعد ان کا حل تجویز کرنے کیلئے بھی کہا ۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت فاٹا سمیت جہاں بھی آپریشن ہو رہا ہے وہ حکومت کی مرضی سے ہو رہا ہے جہاں حکومت کہتی ہے آپریشن کرو وہاں شروع کردیا جاتا ہے اور جہاں وہ کہتی روک دوں وہاں روک دیا جاتا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ہم اب 1990ء جیسا سیاسی ماحول واپس لانے کے حق میں نہیں ہیں ۔ تاہم کوئی کسی ابہام میں بھی نہ رہے ہم سے جوکوئی جیسا سلوک کرے گا ہم اسے ویسا ہی جواب دیں گے ۔ انہوں نے کہا کہ عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں زبردست کمی ہو گئی ہے لیکن پاکستان میں تیل کی قیمتوں میں کمی نہ کر کے بجٹ کا خسارہ پورا کیا جارہا ہے ۔جبکہ رواں مالی سال 2008-09ء کے پہلے دو ماہ (جولائی ، اگست) کے دوران تجارتی خسارہ 47 فی صد اضافے کے ساتھ تین ارب ڈالر52 کروڑ ڈالر سے تجاوز کر گیا ہے ۔ وفاقی ادارہ شماریات کی جانب سے بدھ کے روز جاری ہونے والے اعداد و شمار کے مطابق رواں مالی سال کے پہلے دو ماہ کے دوران تین ارب 48 کروڑ 94 لاکھ کی برآمدات ہوئیں۔ جو گزشتہ مالی سال کے اسی عرصے کی نسبت 18.85 فیصد زیادہ ہیں۔ اس دوران سات ارب ایک کروڑ سولہ ڈالر مالیت کی درآمدات ہوئیں جو گزشتہ مالی سال کے اسی عرصے کی نسبت 31.77 فیصد زیادہ ہیں۔ اس طرح پہلے دو ماہ کے دوران تجارتی خسارہ 47.67 فیصد اضافے کے ساتھ تین ارب 52 کروڑ 22 لاکھ ڈالر ریکارڈ کیا گیا ہے۔ ڈالر کے مقابلے میں روپے کی جگہ گرتی ہوئی مزید سیاسی سطح پر ہونے والی تبدیلیوں او ر ملک میں دیگر مسائل کے باعث اگست کے دوران تجارتی سرگرمیاں شدید متاثر رہیں اور ملک میں درآمدات اور برآمدات میں منفی رحجان ریکارڈ کیا گیا۔ وفاقی ادارہ شماریات کے مطابق اگست 2008 ء کے دوران محض ایک ارب 58 کروڑ 40 لاکھ ڈالر مالیت کی برآمدات ہوئیں جو اس سے قبل جولائی 2008 ءکی نسبت 16.87 فیصد کم ریکارڈ کی گئیں کیونکہ جولائی 2008 ئ کے دوران ایک ارب 90 کروڑ 54 لاکھ ڈالر مالیت کی برآمدات ریکارڈ کی گئی تھیں۔ اس طرح اگست 2008 ء کے دوران تین ارب 46 کروڑ 17 لاکھ ڈالر مالیت کی درآمدات ہوئیں جو گزشتہ ماہ( جوالائی ) کی پشت محض 2.48 فیصد کم ہیں ۔ اس طرح اگست کے دوران غیر ملکی تجارتی خسارہ ایک ارب 87 کروڑ 77 لاکھ ڈالر ریکارڈ کیا گیا جو جولائی 2008 ءکی نسبت 14.18 فیصد زیادہ ہے۔جبکہ اسلام آباد ہائی کورٹ نے امریکی حراست میں موجود پاکستانی خاتون ڈاکٹر عافیہ صدیقی کے مقدمے کی سماعت میں وزارت خارجہ کو فریق بنانے کی درخواست منظور کرتے ہوئے 2 ہفتے میں جواب داخل کرنے کی ہدایت کی ہے ۔ وزارت داخلہ کی جانب سے داخل کرائے گئے جواب میں عدالت کو ڈاکٹر عافیہ کی وطن واپسی کے لئے حکومت کی کوششوں سے آگاہ کیا گیا اور جواب داخل کرنے میں تاخیر پر معذرت کی گئی ۔ جوائنٹ سیکرٹری داخلہ نے کہا کہ وزارت خارجہ بھی اس معاملے کو دیکھ رہی ہے لہذا اسے بھی مقدمے میں فریق بنایا جائے ۔ فاضل عدالت نے درخواست قبول کرتے ہوئے سماعت 2 ہفتے کے لئے ملتوی کر دی ۔ درخواست گزار بیرسٹر جاوید اقبال جعفری نے میڈیا سے گفتگو میں کہا ہے کہ معاملہ عالمی عدالت انصاف میں لے جانے پر وہ حکومت کو اپنی بلامعاوضہ خدمات پیش کرنے کو تیار ہیں ۔ جبکہ باجوڑ ایجنسی میں سیکیورٹی فورسز نے لوئی سم اور رشکئی کے علاقوں کا کنٹرول حاصل کرنے کے بعد فضائی حملوں میں 7 عسکریت پسند مارے ہیں ۔ذرائع کے مطابق باجوڑ ایجنسی میں سیکیورٹی فورسز نے لوئی سم ،رشکئی اور سم ختہ میں عسکریت پسندوں کے خلاف کارروائی کی جس میں فضائی حملوں کے علاوہ سیکیورٹی فورسز کے زمینی دستوں نے بھی حصہ لیا۔اس دوران جھڑپوں میں سات عسکریت پسند ہلاک ہوئے ۔سیکیورٹی فورسز کے تازہ دم دستے باجوڑ ایجنسی پہنچ گئے ہیں جنہوں نے لوئی سم اور رشکئی کا کنٹرول حاصل کرلیا ہے۔ باجوڑ ایجنسی میں ڈیڑھ ماہ سے جاری عسکریت پسندوں کے خلاف کارروائی میں اب تک 600 سے زائد عسکریت پسند مارے گئے ہیں جب کہ لاکھوں قبائل نے علاقے سے نقل مکانی کی ہے۔جبکہ سوات کے علاقے کوزہ بانڈی میں سیکورتی فورسز کی کارروائی میں 11 شر پسند ہلاک اور 7زخمی ہو گئے۔ تفصیلات کے مطابق تحصیل کبل کے علاقہ کوزہ بانڈی میں سیکورٹی فورسز نے طالبان کے مشتبہ ٹھکانوں پر گولہ باری کی جس کے باعث کم از کم 11 شدت پسند مارے گئے اور 7 سے زائد افراد زخمی ہوئے۔ سوات میڈیا سنٹر کے مطابق کوزہ بانڈی پر جیٹ طیاروں نے پروازیں بھی کیں لیکن طیاروں کے ذریعے کوئی بمباری نہیں کی گئی بلکہ طیاروں کے ذریعے طالبان کے ٹھکانوں کو تلاش کرنا تھا۔جبکہ افغانستان میں بم دھماکے اور فضائی حملوں میں58 طالبان اور 3 اتحادی فوجیوں سمیت 64 افراد ہلاک ہو گئے۔ مشرق افغانستان میں سڑک کے کنارے نصب ببم دھماکے پھٹنے سے ایک افغان باشندے سمیت 4 اتحادی فوجی مارے گئے۔ صوبہ خوست میں شدت پسندوں کے ٹھکانے پر بمباری کی گئی۔نیٹو ترجمان کے مطابق شہری آبادی پر گولہ باری سے دو افغان فوجی ہلاک ہو گئے۔ افغان وزارت دفاع کے مطابق اروزگان میں طالبان کے اجتماع پر اتحادی طیاروں کی فائرنگ سے 16 طالبان ہلاک اور 34 زخمی ہو گئے ۔ پکتیکا میں ایک ضلع پر قبضے کی کوشش کرنے والے طالبان پر اتحادی طیاروں کی بمباری سے 12 طالبان ہلاک ہو گئے ۔ نیٹو افواج نے جنوبی مشرقی افغانستان میں فضائی حملوں کے دوران 23 طالبان کو ہلاک کر نے کا دعویٰ بھی کیا ہے۔جبکہ تیل برآمد کرنے والے ملکوں کی تنظیم اوپیک نے رکن ممالک کو تیل کی پیداوار کو مقررہ کوٹے کے اندر رکھنے کی ہدایت کی ہے جس بنا پر ایک بار پھر ایشیائی منڈیوں میں تیل کی قیمت میں تیزی دیکھنے میں آئی ہے۔اس سے قبل عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت اپریل کے بعد سے پہلی مرتبہ سو ڈالر فی بیرل سے کم ہو گئی تھی۔ تیل کی پیدوار میں کمی کے فیصلے کے بعد ایشیائی مارکیٹوں میں ایک مرتبہ پھر تیل کی قیمت ایک سو چار ڈالر فی بیرل پر پہنچ گئی ہے۔ ویانا میں اوپیک کے اجلاس کے بعد تنظیم کے صدر چاقب خلیل نے کہا کہ مقرر کوٹے سے زائد پیداوار کے مسئلے سے نپٹنے کے لیے تیل کی پیدوار میں آئندہ چالیس روز کے اندر پانچ لاکھ بیس ہزار بیرل یومیہ کی کمی کی جائے گی۔ نارتھ سی برینٹ کی قیمت میں چار اعشاریہ چون ڈالر فی بیرل کی کمی ہوئی اور فی بیرل قیمت ننانوے اعشاریہ چار ڈالر فی بیرل ہوگئی۔ تاہم بعد میں معمولی اضافے کے بعد تیل کی قیمت سو اعشاریہ چونتیس ڈالر فی بیرل ہو گئی۔ تیل کی عالمی منڈی میں امریکی برینٹ کی قیمت میں تین اعشاریہ آٹھ ڈالر کی کمی دیکھنے میں آئی اور فی بیرل قیمت ایک سو تین اعشاریہ چھبیس ڈالر ہوگئی۔ تیل کی ریکارڈ قیمیت جولائی میں دیکھنے میں آئی تھی جب عالمی منڈی میں تیل کی قیمت ایک سو سینتالیس ڈالر فی بیرل ہو گئی تھی۔اس کے بعد سے تیل کی قیمت میں تیس فیصد سے زائد کمی دیکھنے میں آئی ہے کیونکہ عالمی معاشی بحران کی وجہ سے اس کی طلب میں کمی آئی ہے۔ حالیہ مہینوں میں اوپیک کے کچھ رکن ممالک نے تیل کی پیداوار بڑھا دی تھی جن میں سعودی عرب سب سے اہم ہے۔ویانا میں ہونے والے اجلاس میں انڈونیشیا کی رکنیت معطل کرنے کی درخواست بھی منظور کر لی گئی۔ جبکہ صدر آصف علی زرداری نیو یارک میں بھارتی وزیر اعظم ڈاکٹر من موہن سنگھ سے ملاقات کریں گے ۔صدر مملکت بھارتی وزیر اعظم کے درمیان 22 ستمبر کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے سالانہ اجلاس کے دوران نیو یارک میں یہ ملاقات ہو گی۔ذرائع کے مطابق دفتر خارجہ کے ایک سنیئر اہلکار کا کہنا ہے کہ صدر آصف علی زرداری اور بھارتی وزیر اعظم من موہن سنگھ کی ملاقات فی الحال طے نہیں ہوئی تاہم صدر مملکت کی اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کے دوران بین الاقوامی رہنماو¿ں سے ملاقات ہو گی اور اگر بھارتی وزیر اعظم وہاں آتے ہیں تو ہم ان سے ملاقات کو خوش آمدید کہیں گے واضح رہے کہ آصف علی زرداری نے منگل کے روز صدر مملکت کا حلف اٹھایا ہے اور انہوں نے حلف برداری کے بعد افغان صدر حامد کرزئی کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس میں کہا تھا کہ قوم کشمیر کے حوالے سے جلد خوشخبری سنے گی جبکہ ایک غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق پیپلزپارٹی کے ایک سنیئر رہنما نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا ہے کہ آصف زرداری اور میاں نواز شریف کے درمیان ملاقات میں اس بات پر اتفاق کیا گیا ہے کہ مسئلہ کشمیر کا حل اقوام متحدہ کی قرارداروں کے مطابق ہی حل کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا ہے کہ ہم مسئلہ کشمیر پر کوئی سودے بازی نہیں کریں گے بلکہ مسئلہ کشمیر کا حل اقوام متحدہ کی قرارداروں کے مطابق ہی ہمیں قابل قبول ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ پیپلزپارٹی کی حکومت بھارت سے ہر شعبے میں مضبوط دو طرفہ تعلقات چاہتی ہے لیکن مسئلہ کشمیر کا حل کشمیری عوام کی خواہشات کے مطابق ہی حل ہونا چاہیے۔ ادھر سرحدصوبائی حکومت نے پشاور انٹرنیشنل ائیر پورٹ کا نام تبدیل کرکے باچاخان انٹرنیشنل ائیر پورٹ رکھنے کے حوالے سے وفاقی حکومت سے رابطہ کر لیا ہے ۔ سرحد اسمبلی کے ر واں سیشن کے اجلاس میں پشاور انٹرنیشنل ائیر پورٹ کا نام تبدیل کر کے اس کا نام باچا خان انٹرنیشنل ائیر پورٹ رکھنے کے حوالے سے قرار داد منظورکر لی گئی تھی ۔ اے این پی کے رہبر تحریک باچا خان کا شماران شخصیات میں ہوتا ہے جنہوں نے آزادی کے لئے بے پناہ قربانیاں دی تھی ۔ اور پختونوں کے حقوق کے لئے ان کے کارنامے تاریخ میں سنہری حروف سے لکھے گئے ہیں ۔ ذرائع نے بتایا ہے کہ سرحد حکومت نے پشاور انٹرنیشنل ائیر پورٹ کا نام تبدیل کر کے باچا خان انٹرنیشنل ائیر پورٹ رکھنے کے حوالے سے وفاقی حکومت سے رابطہ کر لیاہے اور انہیں اپنی سفارشات ارسال کر دی ہیں ۔سرحد حکومت کی جانب سے وزارت دفاع ، وزارت داخلہ ، سے رابطہ کر لیا ہے اورانہیں سرحداسمبلی سے پاس کر دہ قرار داد کی نقول بھی فراہم کر دی ہیں ۔جبکہ متحدہ قومی موومنٹ نے اپنے سابق وزیر مملکت عامر لیاقت حسین کو مذہبی منافرت پھیلانے کے الزام میں پارٹی سے نکال دیا ہے۔ایم کیو ایم کی رابطہ کمیٹی کی جانب سے جاری کیے گئے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ عامر لیاقت حسین ’ایم کیو ایم دشمن طاقتوں کے ہاتھوں بک چکے ہیں اور ایم کیو ایم کی پالیسی کے خلاف ایسی باتیں کر رہے ہیں جن سے مذہبی منافرت پھل رہی ہے۔‘ رابطہ کمیٹی نے کہا کہ ماضی میں ڈاکٹر حسین کو بار بار تنبیہ کی گئی لیکن وہ اپنے ٹی وی پروگرام میں مذہبی منافرت پھلانے سے باز نہیں آئے جس کی بنیاد پر انہیں ڈیڑھ سال قبل ہی تنظیمی ذمہ داریوں سے سبکدوش کردیا گیا تھا ۔ ایک اعلامیے میں رابطہ کمیٹی نے کہا ہے کہ عامر لیاقت حسین نے ایم کیو ایم کے پلیٹ فارم کو استعمال کرکے شہرت پائی اور پارٹی ٹکٹ پر رکن قومی اسمبلی اور پھر وفاقی وزیر برائے مذہبی امور بنے۔ اس کے باوجود وہ مسلسل ایم کیو ایم کے نظریے کے خلاف باتیں کرتے رہے ہیں اور مذہبی پروگراموں کی میزبانی کے دوران ایسی باتیں کرتے رہے جن سے ملک میں مذہبی روادراری اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی کے بجائے مذہبی منافرت پھیلنے اور مختلف فرقوں میں تصادم ہونے کا خدشہ ہے، جو ایم کیو ایم کی پالیسی کے سراسر خلاف ہے۔ عامر لیاقت حسین نے سن دو ہزار دو کے انتخابات میں متحدہ قومی موومنٹ کے ٹکٹ پر کراچی کے حلقے ایم اے دو سو انچاس پر کامیابی حاصل کی تھی۔ انہوں نے اسپین کی یونیورسٹی سے اسلامک اسٹڈیز میں ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی تھی، جسے مخالف جماعتوں نے جعلی قرار دیا تھا۔پاکستان کے ٹی وی چینل جیو نیٹ ورک پر عامر آن لائن پروگرام کی میزبانی کرکے انہوں نے مقبولیت حاصل کی۔مذہبی امور کے وزیر مملکت سمیت وہ محکمہ خزانہ، اطلاعات و نشریات اور ترقی و منصوبہ بندی کے محکموں کی قائمہ کمیٹیوں کے رکن بھی رہے۔ سابق صدر پرویز مشرف بھی عامر لیاقت کے پرستاروں میں شامل تھے۔عالم آن لائن کے ایک پروگرام میں انہوں نے متنازعہ لکھاری سلمان رشدی کو گستاخ رسول قرار دیکر ان کی تباہی کے لیے دعا مانگی تھی۔ جس کے فوراً بعد متحدہ قومی موومنٹ نے ان سے استعفیٰ لے لیا تھا اور وہ وزارت اور اسمبلی کی رکنیت سے محروم ہوگئے تھے۔ عامر لیاقت کے والد لیاقت حسین ایم کیو ایم کے بنیادی اراکین میں سے ہیں اور وہ متحدہ کی سماجی تنظیم خذمت خلق فاو¿نڈیشن کی نگرانی کرتے رہے ہیں۔ ان دنوں عامر لیاقت حسین دبئی میں ہیں۔ لا ہورصوبائی دارالحکومت میں عوام نے بجلی کی قیمتوں میں اضافہ پر زبردست احتجاج کرتے ہوئے اسے مسترد کردیا ۔ عوام نے روٹی کپڑا اور مکان کا نعرہ لگانے والے نو منتخب صدر کی طرف سے بجلی کی قیمتوں میں اس اضافہ کو غریبوں کیلئے پہلا تحفہ قرار دیا ہے جبکہ اس سے قبل گذشتہ ماہ بھی بجلی کی قیمتوں میں 16 فیصد اضافہ کیا جا چکا ہے ۔ ایک خاتون نے کہا کہ بلا شبہ آصف علی زرداری نے حلف اٹھانے کے فورا بعد بجلی کی قیمت میں 31 فیصد اضافہ دے کر بڑا کارنامہ انجام دیا ہے ۔ حکومت کے اس اعلان سے مستقبل میں عوام پر مسلط ہونے والے مہنگائی کے ایک اور طوفان کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے ۔ محنت کش زاہد کبیر نے کہا کہ پہلے حکومت لوڈ شیڈنگ کرتی تھی اب عوام کریں گے اور بجلی وافر ہو جائے گی ۔ طالب علم اکمل نے کہا کہ عوام کو پہلے ہی بنیادی سہولتیں دستیاب نہیں ہیں ۔ بجلی کے اس اضافہ سے تمام مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ ہو جائے گا ۔ ریڑھی بان اصغر نے کہا کہ بجلی کی قیمت میں اضافہ کا سب سے زیادہ اثر پیپلز پارٹی کے کارکنوں اور ووٹروں پر پڑے گا ۔ قیادت کو یہ فیصلہ واپس لینا چاہیئے ۔ سرکاری ملازم عزاہد حسین نے کہاکہ پٹرول اور بجلی کی قیمت میں گذشتہ تین چار ماہ میں اضافہ سے عوام پہلے ہی شدید معاشی دباو¿ کا شکار ہیں بجلی کی قیمتوں میں مزید 31 فیصد اضافہ غریب عوام کو زندہ درگور کرنے کے مترادف ہے ۔ ایک شہری نے کہا کہ این آر او کے تحت کرپشن معاف کروا کر صدر بننے والے شخص سے عوام کی بہتری کی توقعات نہیں کی جا سکتیں ۔ فیکٹری ورکر رفیق احمد نے حکومت سے بجلی کی قیمت میں اضافہ واپس لینے کا مطالبہ کیا اور کہا کہ اگر ایسا نہ ہوا تو وہ اپنا الیکٹرک پنکھا اور اقساط پر لی گئی واشنگ مشین مال روڈ پر رکھ کر جلائے گا کیونکہ اب وہ ان اشیاءکو استعمال کرنے کی سکت نہیں رکھتا ۔ دیگر شہریوں جن میں ہر طبقہ زندگی کے لوگ شامل ہیں نے بھی حکومت سے بجلی کی قیمت میں اضافہ واپس لینے کا مطالبہ کیا ۔ ان کا کہنا تھا کہ عوام ابھی تیل کی قیمتوں میں اضافہ کے بوجھ تلے دبے ہوئے تھے کہ حکومت نے ان پر چند دن کے اندر بجلی کی قیمتوں میں دو بار اضافہ کر کے انہیں مارنے کی سازش کی ہے ۔ اس سے تو جنرل (ر) پرویز مشرف کی حکومت ہی اچھی تھی جو ڈکٹیٹر تو تھا لیکن اس بڑے پیمانے پر مہنگائی نہیں کی گئی ۔ اگر حکومت اس طرح عوام پر ظلم کرتی رہی تو گو مشرف گو کا نعرہ لگانے والے عوام گو زرداری گو کا نعرہ لگاتے نظر آئیں گے ۔جبکہ گورنر پنجاب سلمان تاثیر نے مسلم لیگ ق کے رہنماوں چوہدری شجاعت حسین اور چوہدری پرویز الٰہی سے ملاقات کی اور صوبہ میں حکومت سازی کے حوالے سے تبادلہ خیال کیا۔ مسلم لیگ ق کے ذرائع کے مطابق پنجاب میں پیپلز پارٹی اور نواز لیگ کی اتحادی حکومت کے درمیان اختلافات کے باعث دونوں بڑی سیاسی جماعتیں نئے اتحادیوں کی تلاش میں ہیں اور مسلم لیگ ق کی حمایت کی بدولت کوئی بھی جماعت مرکز اور صوبہ میں مستحکم حکومت قائم کرسکتی ہے۔ذرائع نے بتایا ہے کہ گورنر پنجاب نے چوہدری برادران کو مرکز اورپنجاب میں پیپلز پارٹی سے تعاون کی پیشکش کی ہے لیکن چوہدری برادران کا کہنا ہے کہ وہ اس سلسلے میں پارٹی کے دیگر سینئر رہنماوں سے مشاورت کے بعد فیصلہ کریں گے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ گورنر پنجاب نے صدارتی انتخاب کے دوران جمہوری کردار ادا کرنے پر مسلم لیگ ق کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ بطور اپوزیشن ان کی جماعت نے نئی سیاسی روایات قائم کی ہیں۔ اے پی ایس
No comments:
Post a Comment