International News Agency in english.urdu news feature,Interviews,editorial,audio,video & Photo Service from Rawalpindi/Islamabad,Pakistan.Managing editor M.Rafiq,Editor M.Ali. Chief editor Chaudhry Ahsan Premee email: apsislamabad@gmail.com,+92300 5261843 مینجنگ ایڈ یٹر محمد رفیق، ایڈیٹر محمد علی، چیف ایڈیٹرچو دھری احسن پر یمی

Monday, September 15, 2008

شرائن بورڈ تنازعہ --- بھارتی سازش۔ تحریر:ممتاز احمد بھٹی



وادی کشمیر کے ہمالیاتی پہاڑوں میں چودہ ہزار فٹ کی بلندی پر واقع بھگوان شیو کے مندر کو 1860 میں ایک مسلمان نے دریافت کیا تو پھر ہندوستان اور جموں سے ہر سال یاتریوں نے عبادت کی عرض سے یہاں Èنا شروع کیا۔ ایک سو پچاس سال سے زائد کا عرصہ ہوچکا ہے ہزاروں کی تعداد میں یاتری Èتے ہیں مگر کبھی بھی مسلمانوں نے کوئی مسئلہ پیدا نہیں کیا بلکہ مسلمان یاتریوں کے ساتھ ہر ممکن تعاون کرتے ہیں۔ ان مذہبی رسومات کا انتظام فارسٹ ڈویژن کے کنٹرول میں تھا۔ 2000 میں جب مقبوضہ کشمیر میں ڈاکٹر فاروق عبداللہ کی حکومت تھی قانون ساز اسمبلی میں بل پاس کرایا جس سے شرائن بورڈ کا قیام عمل میں Èیا۔ شرائن بورڈ کا مقصد یاتریوں کو سہولتیں پہنچانا بتایا گیا۔ جب یہ بل قانون ساز اسمبلی میں لایا گیا تو ماحولیات کے کارکنوں نے اس بارے میں تحفظات کا اظہار کیا۔ مگر شرائن بورڈ کے قیام پر ماحولیاتی حلقوں نے اور نہ کسی سیاسی جماعت نے اعتراض اٹھایا۔ پانچ سال قبل جیسے ہی سابق نائب سربراہ ریٹائرڈ لیفٹیننٹ جنرل ایس کے سنہا گورنر مقرر ہوئے تو جلد ہی شرائن بورڈ تنازعات میں گھر گیا۔ پہلے یاترا کی معیاد ایک ماہ تھی۔ جنرل سہنا نے یاترا کی معیاد دو ماہ کردی تو اس وقت کے وزیراعلیٰ مفتی سعید نے اس کی مخالفت کی کیونکہ یاترا کے دوران انتظامیہ کا پورا دھیان اسی پر مرکوز رہتا ہے جس سے روزمرہ کے معاملات متاثر ہوتے ہیں مگر گورنر سہنا نے کسی کی نہ سنی۔ قانون ساز اسمبلی کے دو ارکان نے جن کا تعلق حکومتی پارٹی سے تھا نے وشنودیوی شرائن بورڈ اور امرناتھ شرائن بورڈ کے بارے میں چند سوال پوچھے تو گورنر نے کہا کہ میں اسمبلی کے سامنے جوابدہ نہیں ہوں۔ شرائن بورڈ درحقیقت مقبوضہ کشمیر کے مسلمانوں کے خلاف سازش تیار کی گئی جس کے اہم کردار گورنر سہنا ہیں جن کا تعلق ہندو انتہا پسند تنظیم سے بھی ہے گورنر سہنا نے اس گھنانی سازش کی تکمیل کی جدوجہد شروع کی امرناتھ یاترا کے راستے میں زائرین کے قیام و طعام کی سہولتیں اور بیت الخلا تعمیر کرنے کے لئے حکومت سے شرائن بورڈ کے لئے جنگلات کی زمین منتقل کرنے کو کہا اور پہلگام سے بال تل تک کا علاقہ شرائن بورڈ کے کنٹرول میں دینے کی تجویز پیش کی۔ تو ریاستی کابینہ نے ایک سو ایکٹر جنگلات کی زمین شرائن بورڈ کو منتقل کردی۔ زمین منتقل کرنے کے خلاف کچھ وزراءنے Èواز اٹھائی تو ان کو بلیک میل کیا گیا کہ اگر شرائن بورڈ کو زمین منتقل نہ ہوئی تو مغل روڈ پراجیکٹ کو بھی زمین منتقل نہیں ہونے دیں گے(مغل روڈ پراجیکٹ وہ شاہراہ ہے جو مقبوضہ کشمیر کے کئی شہروں کو Èپس میں ملاتی ہے)۔یاد رہے کہ مقبوضہ کشمیر میں تمام عبادت گاہیں جموں و کشمیر وقف بورڈ اور وقف کونسل کے زیر انتظام ہیں یہ واحد عبادت گاہ ہے جس کا انتظام بورڈ کے سپرد کیا گیا۔ 26 مئی 2008 کو ریاستی کابینہ نے سو ایکٹر زمین شرائن بورڈ کو دینے کے فیصلے کی توثیق کی تو مقبوضہ کشمیر میں احتجاج کا نہ ختم ہونے والا سلسلہ شروع ہوگیا۔ سرینگر کے لال چوک میں بہت بڑا اجتماع ہوا ۔ جب احتجاج کا سلسلہ بڑھتا گیا تو ریاستی کابینہ کو اپنا فیصلہ واپس لینا پڑا اور یکم جولائی کو ایک Èرڈر کے ذریعے لینڈ ٹرانسفر کے فیصلے کو منسوخ کردیا۔ اس فیصلے کی منسوخی پر انتہا پسند ہندوں نے احتجاج شروع کر دیا جس سے فرقہ وارانہ فسادات شروع ہوگئے۔ انتہا پسند ہندو غنڈوں نے کشمیری مسلمانوں پر حملے کیے۔ ان کو قتل کیا گیا۔ ان کی جائیدادوں کو جلایا گیا۔ ان کی اقتصادی ناکہ بندی کی گئی۔ گیارہ اگست کے مارچ پر پولیس اور پیراملٹری فورسز کی بلااشتعال فائرنگ کشمیری لیڈر شیخ عبدالعزیز سمیت درجن سے زائد کشمیری شہید ہوئے اور دو سو کے قریب زخمی ہوئے۔بھارتی فورسز کشمیریوں کو مسلسل تشدد کا نشانہ بنا رہی ہے۔ روزانہ کشمیریوں کو قتل اور زخمی کیا جارہا ہے۔ کشمیری لیڈروں کو نظر بند اور گرفتار کیا جاتا ہے ۔ اس پر عالمی برادری خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے۔ یہ بات ثابت ہوچکی ہے کہ شرائن بورڈ کا قیام غیر قانونی، غیر اخلاقی اور غیر منصفانہ تھا جو انتہا پسند ہندوں کی ایک گہری سازش تھی جس کا مقصد وادی کشمیر میں مسلم اکثریتی علاقوں کو اقلیت میں بدلنا تھا۔ مگر ان کی یہ سازش ناکام ہوگئی۔ انتہا پسند ہندوں کے احتجاج کے دوران پولیس اور دیگر ادارے ہندوں کو مسلمانوں پر حملے کی کھلی Èزادی دیتے رہے اور ان غنڈوں کے خلاف کوئی کاروائی نہیں کی بلکہ پولیس اور پیرا ملٹری کے دستے بھی مسلمانوں کو ہی تشدد کا نشانہ بناتے ہیں۔ شرائن بورڈ سازش کوئی پہلی سازش نہیں۔ ایسی سازشیں بے شمار بار بنائی گئی ہیں۔ تاکہ کشمیریوں کے دلوں سے جزبہ Èزادی ختم کیا جا سکے مگر بھارت نے دیکھ لیا ظلم کا ہر طریقہ Èزمایا۔ تشدد کا نہ ختم ہونے والا سلسلہ شروع کر رکھا ہے۔ بے گناہ کشمیریوں کو شہید کرنے کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیا جاتا مگر کشمیروں کے دلوں سے جزبہ Èزادی ختم نہیں کیا جاسکا۔ مقبوضہ کشمیر میں ظلم و بربریت دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کے دعویدار بھارت کے منہ پر زوردار طمانچہ ہے جس کی گونج قیامت تک سنائی دیتی رہے گی۔ اے پی ایس

No comments: