International News Agency in english.urdu news feature,Interviews,editorial,audio,video & Photo Service from Rawalpindi/Islamabad,Pakistan.Managing editor M.Rafiq,Editor M.Ali. Chief editor Chaudhry Ahsan Premee email: apsislamabad@gmail.com,+92300 5261843 مینجنگ ایڈ یٹر محمد رفیق، ایڈیٹر محمد علی، چیف ایڈیٹرچو دھری احسن پر یمی

Wednesday, September 17, 2008

عوام میدان میں نکلیں تجزیہ کرنے اور اندازہ لگانے ملک و قوم کی خدمت نہیں۔ تحریر: اے پی ایس



پاکستان کے عوام نے مطا لبہ کیا ہے کہ صدر آصف زرداری پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کے دوران اٹھاون ٹو بی سمیت تمام اختیارات کی واپسی کا اعلان کردیں اگرچہ آصف زرداری پرویز مشرف سے ہزار گنا بہتر صدر ہیں لیکن عوام کو ابھی تک جمہوری عمل کے ثمرات نہیں ملے ۔سترہویں ترمیم نے آئین کا حلیہ بگاڑ دیا اسے موجودہ پارلیمنٹ میں دو تہائی اکثریت سے ختم کیا جا سکتا ہے۔ قبائلی علاقوں میں کارروائی کے حوالے سے پرویز مشرف یا موجودہ حکومت کا امریکا سے کوئی معاہدہ ہے تو اسے پارلیمنٹ اور عوام کے سامنے لایا جائے۔ موجودہ حالات میں بھی سیاستدانوں نے خفیہ ہاتھوں کو مورد الزام ٹھہرایا تو یہ نااہلی کا اعتراف ہو گا۔ حکومت قومی اسمبلی کے آئندہ اجلاس میں سترویں ترمیم کے خاتمے کا بل پیش کرے پیپلز پارٹی اور اس کی اتحادی جماعتوں سمیت تمام جماعتیں سترہویں ترمیم کے خاتمے کے حق میں ہیں اس لیے پیپلز پارٹی کا یہ جواز غلط ہے کہ سترہویں ترمیم کے خاتمے کا بل سینیٹ کے انتخابات کے بعد آئندہ سال پیش کیا جائے گا۔جبکہ پاک فوج کو افغانستان سے امریکی فوج کی کسی بھی کارروائی کی صورت میں فوری جوابی کارروائی کاحکم دے دیا گیاہے افواج پاکستان کے ترجمان میجر جنرل اطہر عباس نے خبررساں ایجنسی اے پی کو گفتگو میں کہا ہے کہ فوج کے فیلڈ کمانڈر کو حکم دے دیا گیا ہے کہ سرحد پار سے کسی بھی کارروائی کی صورت میں جوابی کارروائی کی جائے پاکستان نے 3 ستمبر کوجنوبی وزیر ستان کے علاقے انگوراڈہ میں امریکی فوج کی کارروائی کا سخت نوٹس لیا ۔میجر جنرل اطہر عباس نے کہا کہ اس حملے کے بعد فوج کو مستقبل میں اس طرح کی کسی بھی کارروائی کو روکنے کی ہدایت کی گئی ہے اور مستقبل میں فضا ئی یا زمین سے کسی بھی سرحدی خلاف ورزی کی صورت میں جوابی کارروائی کا حکم دیدیا گیا ہے اور مستقبل میں اس طرح کی کوئی بھی خلاف ورزی برداشت نہیں کی جائے گی جبکہ ایک نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے پاک فوج کے ترجمان نے کہا ہے کہ ملکی سلامتی پر کوئی آنچ نہیں آنے دیں گے۔اور کسی بھی جارحیت کامنہ توڑ جواب دیا جائے گا۔ پاک فوج کے ترجمان نے واضح کیا ہے کہ جو بھی پاکستان کی سرحد کی خلاف ورزی کرے گا اس کا اسے منہ توڑ جواب ملے گا۔ ا نہوں نے کہا کہ ہم یہ کسی صورت برداشت نہیںکر سکتے کہ افغانستان سے اتحادی افواج یا امریکی افواج ہماے سویلین یا فوجیوں کو نشانہ بنائیںا ور اگر وہ ایسا کریں گی تو ہم اس کا حق محفوظ رکھتے ہیں کہ ان کے کیے کا بھرپور جواب دیا جائے ۔ انہوں نے کہا کہ سابقہ دنوں آرمی چیف جنرل اشفاق پرویز کیانی اپنا یہ موقف واضح بھی کر چکے ہیں اور انہوں نے یہ بات زور دے کر کہی ہے کہ پاکستان کی سلامیت اور خود مختاری کو کوئی خطرہ لاحق ہو گا تو پاک فوج خاموش نہیں بیٹھے گی اور جوابی کارروائی کی جائے گی ۔ اطہر عباس کا یہ پیغام اس حوالے سے بڑا اہمیت کا حامل ہے کہ ان کا پیغام اس وقت سامنے آیا ہے کہ امریکی فوج کے سربراہ ایڈمرل مائیکل مولن ا ورافغانستان میں اتحادی افواج کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل ڈیود میک میرن دو دن کے دورے پر پاکستان پہنچ رہے ہیں ۔اور ان کے پاکستان آنے سے پہلے اس قسم کا بیان ان کے لیے واضح بیان ہے کہ پاکستان اپنی سالمیت اور خود مختاری کے تحفظ کویقینی بنائے گا۔جبکہ امیر جماعت اسلامی پاکستان قاضی حسین احمد نے کہاہے کہ متحدہ مجلس عمل اب بھی اس ملک کی ضرورت ہے ایم ایم اے میں اس لئے خلل پڑا کہ مولانا فضل الرحمن ہر قیمت پر ہر حکومت کا ساتھ دیناچاہتے ہیں۔فوج کے سربراہ کا بیان یہی ہے کہ امریکہ سے کہاگیا ہے کہ ”تم نہ مارو ہم ماریں گے“ اپنے لوگوں کو قتل کرنے کی پالیسی ختم ہونی چاہیے اسلامی حکومت کا قیام شرعی تقاضا ہے۔ جس نے دستور سے بغاوت کرتے ہوئے انصاف کا خون کیا وہ دوسروں کو کس طرح انصاف دے سکتا ہے۔ کوئی با ضمیر شخص عبدالحمید ڈوگر کی عدالت میں انصاف کیلئے نہیں جا سکتا۔فوج کبھی اپنی وردی سے لال مسجد اور جامعہ حفصہ کے بے گناہ اور معصوم طلبائ وطالبات کے خون کے دھبے نہیں دھو سکے گی۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے منگل کو جماعت اسلامی پاکستان کے زیر انتظام اسلام آباد میں ”دہشت گردی کے خلاف جنگ اپنی نہیں امریکی جنگ ہے “ کے موضوع پر سیمینار سے خطاب اور صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے کیا۔ قاضی حسین احمد نے کہاکہ ہم دہشت گردی کے خلاف ہیں مگر دہشت گردی کے حوالے سے جو جنگ لڑی جارہی ہے وہ ہمارے لئے نہیں بلکہ امریکہ کیلئے ہے۔موجودہ حالات کا تقاضا ہے سربکف ہو کر میدان میں نکلیں کنارے پر بیٹھ کر تجزیہ کرنے اور اندازہ لگانے سے ملک و قوم کی خدمت نہیں کرسکتے جدوجہد میں عملی طور پر شریک ہونے کی ضرورت ہے جو جدوجہد میں شامل نہیں ہوتا اسے راستہ نہیں ملتا وہ مایوسی کا شکار ہو جاتا ہے تبدیلی کیلئے جہاد کی ضرورت ہے ذہن کے دریچے اس وقت کھلتے ہیں جب آدمی جدوجہد میں شریک ہوقوم کو دعوت دیتے ہیں ہمارے ساتھ جدوجہد میں شریک ہو جائے عدل کے بغیر دنیا میں امن قائم نہیں ہوسکتا مادی قوت کی بنیاد پر امریکہ دنیا میں حکومت نہیں کر سکتا امریکہ اپنے عوام کو اطمینان کا زندگی نہیں دے سکتا جبکہ دنیا میں فساد پھیلا رکھاہے دنیا میں ایک ملک کی مرضی نہیں چل سکتی عدل کے ساتھ ہی دنیا میں جی سکتے ہیں اسلامی حکومت کا قیام شرعی تقاضا ہے اٹھارہ فروری کے انتخابات سے کوئی امید نہیں تھی مجھے معلوم تھا ڈیل کے تحت پرویز مشرف کی جگہ امریکہ کسی دوسرے گروہ کو لانا چاہتے پارلیمنٹ عضو معطل ہے نہ کسی قومی پالسیی نہ کسی واضح سوچ وچار کا اظہار کیاہے ۔ المیہ یہی ہے کہ ہماری فوج کہہ رہی ہے کہ افغانستان میں تم مارو اپنے ملک میں ہم ماریں گے ۔ امریکہ اور ہماری فوج میں صرف اسی بات پر اختلاف ہے اور صرف یہی فرق رہ گیا ہے کہ امریکہ کی جانب سے لوگوں کو میزائل سے نشانہ بنایا جاتا ہے جبکہ ہماری فوج ایک بمباری میں 80سے زائد لوگوںکو مار دیتی ہے 4لاکھ افراد اسی کارروائی کے خوف سے بے گھر ہوئے قتل عام کس کیلئے کیا گیا۔انہوںنے کہاکہ ہمیں بتایا گیا کہ باجوڑ کی مہاجر خواتین میں ہجرت کے دوران 5خواتین کے حمل گر گئے۔کیمپوں میں وضو کیلئے پانی تک نہیں تھا اپنی فوج کے ہاتھوں ایسا ہوا ہے مارتے بھی ہیں اور بے گھر بھی کرتے ہیں حکومت نے باجوڑ کے متاثرین کی کوئی خدمت نہیں کی جماعت اسلامی نے خود جا کر تعلیمی اداروں میں کیمپ قائم کئے تھے عوام سے ہمارا مطالبہ ہے کہ ملک کے مستقبل کو بچانے کیلئے ہمارا ساتھ دیں صرف جماعت اسلامی وہ منظم قوت ہے جس کے کارکنان جان کی بازی لگانے کیلئے تیارہیں قوم کے ساتھ جدوجہد میں ہمارے کارکنان ہر قسم کی قربانی کیلئے تیار ہوتے ہیں قاضی حسین احمد نے کہاکہ بڑی تحریک برپا کر کے قوم کو بیدار کرنے کی ضرورت ہے یہ دشمن کے ساتھ اتحادی بنے ہوئے ہیں فوج اور حکومت کو قوم کو بتانا چاہیے کہ امریکہ کے ساتھ اپنے لوگوں کو مارنے کاکوئی معاہدہ نہیں ہے مساجد اور مدارس کو آپریشن میں مسمارکیاجارہا ہے انہوں نے کہاکہ فوج کی وردی کے لال مسجد اور جامعہ حفصہ کے خون کے دھبے کبھی نہیں دھوئے جا سکیں گے کمانڈو ایکشن کے ذریعے بے گناہوں کو قتل کیاگیایہ بے گناہ محفوظ راستہ مانگ رہے تھے ان جرائم کا ذمہ دار صرف پرویز مشرف نہیں ہے اور بھی لوگ ہیںانہوںنے کہاکہ آئین کو دو بار توڑا گیا عدلیہ اس وقت تک آزاد نہیںہو سکتی جب تک تین نومبر 2007ء کے غیر آئینی غیر قانونی اقدامات کو واپس نہ لیاجائے اور ان غیر دستوری اقدامات کے حوالے سے پرویزمشرف پر مقدمہ چلایا جائے اس کے برعکس پرویز مشرف کو پروٹوکول دیاجارہاہے۔انہوں نے کہاکہ پی سی او کے تحت حلف کے ذریعے عدلیہ اور انصاف کا قتل کیاگیا ملک میں ایک طرف محلات تعمیر ہورہے ہیں دوسری طرف لوگ نان شبینہ سے محروم ہیںعوام تعلیم صحت کی سہولتوں ، صاف ستھرے ماحول سے محروم ہے۔ میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے قاضی حسین احمد نے کہا کہ ملک کو مسائل سے نکالنے کیلئے یکسو قیادت کی ضرورت ہے ایم ایم اے ناکام نہیں ہوئی تھی فرقہ وارانہ ہم آہنگی قائم کر کے لوگوں کو مشترکات پر اکٹھا کیاتھااب بھی ایم ایم اے کی اس حوالے سے ملک کو ضرورت ہے ایم ایم اے میں خلل اس لئے پڑا کہ مولانا فضل الرحمن ہر حکومت کا ہر صورت ساتھ دینا چاہتے ہیں مولانا فضل الرحمن چاہتے ہیں اقتدار کیلئے تو ہم سیاست کرتے ہیں اگر سارا اقتدار نہیں ملتا جومل جائے اسے نہیں چھوڑنا چاہیے۔ آرمی چیف کا یہی بیان ہے تم ”نہ مارو ہم انہیں ماریں گے“۔جبکہ اسلامی ممالک کی تنظیم او آئی سی نے کشمیری عوام کی تحریک آزادی کشمیر کی بھر پور حمایت کرتے ہوئے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ وہ کشمیریوں کے حق خود ارادیت کے حصول کے لئے اپنی طرف سے ہر ممکن کوششیں کرے گی اس امر کا اظہار او آئی سی کے اسسٹنٹ سیکرٹری جنرل اور سیکرٹری جنرل کے خصوصی نمائندہ برائے امور کشمیر عزت کمال مفتی نے وفد کے ہمراہ اپنا دورہ آزاد کشمیر کے اختتام پر وزیر اعظم آزاد کشمیر سردار عتیق اور خان کے ہمراہ کشمیر ہاو¿س اسلام آباد میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا انہوں نے کہا کہ او آئی سی کے نمائندہ وفد کے دورہ آزاد کشمیر کا مقصد ہاں کی زمینی صورتحال کا بغور جائزہ لینا تھا اس حوالے کے دوران ہم نے آزاد کشمیر کی سیاسی قیادت اور آزاد کشمیر میں موجودہ کل جماعتی حریت کانفرنس کے رہنماو¿ں سے ملاقات کی یہاں پر کشمیری مہاجرین کے مسائل کو قریب سے دیکھنے کا موقع ملا اور کنٹرول لائن کا دورہ کیا اس حوالے سے ایک تفصیلی رپورٹ تیار کر کے او آئی سی کے سیکرٹری جنرل کو مہیا کی جائے گی یہ رپورٹ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے ساتھ اجلاس کے موقع پر او آئی سی کی کشمیر رابطہ کمیٹی کے اجلاس میں پیش کی جائے گی جس کی روشنی میں کشمیر رابطہ کمیٹی اپنی رپورٹ تیار کرے گی انہوں نے کہا کہ ہم کشمیریوں کے حق خود ارادیت کی مکمل حمایت کرتے ہیں اور بھارت سے کشمیریوں کو انکا حق دلانے کے لئے اپنا ہر ممکن کر دار ادا کر تے رہیں گے انہوں نے کہا کہ اس حوالے سے ہم حکومت پاکستان کی کشمیر پالیسی کی بھر پور حمایت کرتے ہیں اور اس وقت مسئلہ کشمیر او آئی سی کے ایجنڈے میں سر فہرست ہے انہوں نے کہا کہ یہ صرف مسلمانوں کا ہی نہیں بلکہ یہ ایک عالمی مسئلہ بن چکا ہے کیونکہ اس مسئلے کے حل کے لئے اقوام متحدہ کی قرار داد میں بھی پاس ہوئی ہیں انہوں نے کہا کہ سیکرٹری جنرل او آئی سی ذاتی طور پر مسئلہ کشمیر کے حل میں دلچسپی لے رہے ہیں اور ہم نے کئی مرتبہ کوشش کی کہ بھارت ہمیں مقبوضہ کشمیر کا دورہ کر نے کی اجازت دے تا کہ ہم وہاں پر اصل زمینی صورتحال کو دیکھ سکیں مگر بدقسمتی سے بھارت کی جانب سے ابھی تک اس کا مثبت جواب نہیں مل رہا انہوں نے کہا کہ حکومت پاکستان کی جانب سے بھارت کے ساتھ حالیہ مذاکرات کے نتیجے میں کشیدگی کم ہوئی ہے اور اس مسئلے پر مذاکراتی عمل چل رہا ہے ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ مسئلہ کشمیر کا حل مذاکرات کے ذریعے پر امن طریقے سے چاہتے ہیں کیونکہ کسی بھی مسئلے کا طاقت کے ذریعے نکالا جانے والا حل پائیدار ثابت نہیں ہوا بلکہ اس سے مسائل بڑھ جاتے ہیں انہوں نے کہا کہ بھارت کو مسئلہ کشمیر حل کر نے کے لئے راضی کر نے کے لئے معاشی دباو¿ اہم ثابت ہو سکتا ہے جبکہ مسلمان ممالک کو اپنا اثر و رسوخ استعمال کر نا چاہیے انہوں نے کہا کہ کشمیریوں کے مسائل کے حل کے لئے او آئی سی جو کچھ کر سکتی ہے وہ کرتا رہے گی انہوں نے کہا کہ دورے کے دوران ہم نے زلزلے سے متاثرہ علاقوں میں تعمیر نو اور بحالی کا عمل بھی دیکھا ہے جو بہترین انداز میں چل رہا ہے جبکہ کشمیر مہاجرین کے مسائل حل کر نے کے لئے ہم مالی تعاون کا بھی ارادہ رکھتے ہیں مغربی ممالک میں توہین آمیز کارٹونوں کی اشاعت کے خلاف او آئی سی کے کردار کے حوالے سے پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ یہ کیسے ممکن ہے کہ گستاخ رسول پر مبنی توہین آمیز کارٹونوں کے خلاف او آئی سی اپنا کر دار ادا کرے جب بھی ایسا واقعہ ہوا ہوا ہم نے موثر طریقے سے مغربی ممالک سے احتجاج کیا ہماری کوشش ہے کہ اقوام متحدہ ایک ایسی قرار داد منظور کرے جس میں کسی نہ ہی شخصیت کی توہین کو عالمی جرم قرار دیا جائے تاہم انہوں نے کہا کہ اگر کہیں ایسا واقعہ ہو تا ہے تو مسلمانوں کو پر امن طریقے سے رد عمل کا اظہار کر نا چاہیے کیونکہ جب مسلمان رد عمل کے طور پر تشدد مظاہرے کر تے ہیں تو ان سے مغرب کے مقاصد پورے ہو تے ہیں کہ اسلام پر تشدد مذہب ہے انہوں نے کہا کہ اسلام دنیا میں تیزی کے ساتھ پھیل رہا ہے جس سے مغرب ممالک اس سے پریشان ہیں اور اس لئے وہ ایسی سازشیں کر رہے ہیں اس موقع پر وزیر اعظم آزاد کشمیر سردار عتیق احمد نے کہا کہ او آئی سی کے نمائندہ وفد کا دورہ آزاد کشمیر انتہائی مفید رہا ہم او آئی سی کو بڑی اہمیت دیتے ہیں کیونکہ یہ مسلمان ممالک کی واحد نمائندہ تنظمی ہے انہوں نے کہا کہ یہ دورہ ایک ایسے موقع پر ہوا جب جنرل اسمبلی کا اجلاس ہو نے جا رہا ہے نمائندہ وفد اپنی رپورٹ وہاں پر کشمیر رابطہ کمیٹی کے اجلاس میں پیش کرے گا۔اےسوسی ایٹڈپریس سروس اسلام آباد (اے پی ایس

No comments: