International News Agency in english.urdu news feature,Interviews,editorial,audio,video & Photo Service from Rawalpindi/Islamabad,Pakistan.Managing editor M.Rafiq,Editor M.Ali. Chief editor Chaudhry Ahsan Premee email: apsislamabad@gmail.com,+92300 5261843 مینجنگ ایڈ یٹر محمد رفیق، ایڈیٹر محمد علی، چیف ایڈیٹرچو دھری احسن پر یمی

Wednesday, September 17, 2008

چار میزائلوں سے ایک اور امریکی حملہ پانچ افراد ہلاک تین زخمی






اسلام آباد ( اے پی ایس )جنوبی وزیرستان کی مقامی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ بدھ کی شام امریکی جاسوس طیارے نے چار میزائل داغے جس سے پانچ افراد ہلاک اور تین زخمی ہوئے۔حکام نے ایک غیر ملکی نشریاتی ادارے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ جنوبی وزیرستان کے تیس کلومیٹر دور باغاڑ چینا میں امریکی جاسوس طیارے نے چار میزائل داغے جن میں سے دو ایک گھر پر گرے اور دو میزائل پہاڑیوں پر لگے۔ مقامی افراد کا کہنا ہے کہ اس حملے میں پانچ طالبان ہلاک ہوئے ہیں جن کا تعلق ملا نذیر گروپ سے تھا اور تمام کے تمام پنجابی طالبان تھے۔ مقامی افراد کا کہنا ہے کہ میزائل حملے سے قبل جاسوس طیارہ علاقے کا چکر لگا رہا تھا۔ واضح رہے کہ باغاڑ چینا انگور اڈہ سے صرف دو کلومیٹر کے فوصلے پر ہے جہاں پر تین ستمبر کو امریکی فوج نے زمینی کارروائی کی تھی۔ یہ حملے اس وقت ہوئے جس روز امریکی فوج کے چےئرمین جوائنٹ چیف آف اسٹاف ایڈمرل مائیک مولن پاکستان کی قیادت کو یقین دہا نیاں کراتے پھر رہے ہیں کہ امریکہ پا کستان کی سا لمیت اور خود مختاری کا احترام کرے گا۔ گذشتہ روز صبح چیف آف آرمی اسٹاف جنرل اشفاق پرویز کیانی اور امریکی فوج کے چےئرمین جوائنٹ چیف آف اسٹاف ایڈمرل مائیک مولن کے درمیان غیر معمولی ملاقات ہو ئی ملاقات میں جنرل کیانی نے سرحدی خلاف ورزیوں اوراس پر ہونے والے شدید احتجاج سے ایڈمرل مائیک مولن کو آگاہ کیا۔راولپنڈی میں جی ایچ کیو میں ہونے والی ملاقات میں دونوں فوجی سربراہوں کے درمیان دہشت گردی کے خلاف جنگ اورپاک افغان سرحدی امورپرتبادلہ خیال کیا گیا ۔جنرل اشفاق پرویز کیانی نے مئوقف اختیار کیا کہ پاکستانی حدودد میں امریکا کو کسی قسم کی کارروائی کی اجازت ہے اور نہ ہی دونوں ممالک کے درمیان ایسا کوئی معاہدہ ہے۔جنرل پرویز کیانی نے ایڈمرل مائیک مولن پر واضح کیا ہے کہ سرحدوں کے اندر کارروائی کا اختیار صرف پاک فوج ہی کو ہے۔جنرل اشفاق کیانی نے کہا ہے کہ انگور اڈہ جیسے واقعات سے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاک امریکا تعاون متاثرہوگا۔جنرل اشفاق پرویز کیانی سے ملاقات کے بعدامریکی ایڈمرل مائیک مولن کی وزیراعظم یوسف رضا گیلانی سے اسلام آبادمیں ملاقات کی ہے ایڈمرل مولن نے مکمل امریکی حمایت کا یقین دلاتے ہوئے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کے ’مثبت‘ کردار کی تعریف بھی کی ہے۔ بیان کے مطابق دوستانہ ماحول میں ہونے والے اس مثبت اور تعمیری تبادلہ خیال کے دوران امریکی فوجی افسر نے امریکہ کی جانب سے پاکستان کی خودمختاری کا احترام کرنے کے امریکی عزم کو دہراتے ہوئے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کے ساتھ تعاون اور رابطے میں اضافے کا بھی یقین دلایا ہے۔ اس سے پہلے منگل کی رات اچانک اسلام آباد پہنچنے والے امریکی ایڈمرل نے اپنے وفد کے ہمراہ ایوان وزیراعظم میں پاکستانی سول اور فوجی حکام سے مشترکہ ملاقات کی۔ پاکستان کی جانب سے ان مذاکرات میں وزیر دفاع احمد مختار، مشیر داخلہ رحمٰن ملک اور قومی سلامتی کے مشیر محمود علی درانی بھی موجود رہے۔ حالیہ دنوں میں پاکستان کی سرحدی خلاف ورزیوں پر امریکہ اور پاکستان کے درمیان تعلقات میں پائی جانے والی کشیدگی کے پس منظر میں ایڈمرل مولن کی پاکستان میں ان مصروفیات کو خاصی اہمیت دی جا رہی ہے۔ ان ملاقاتوں کے بعد جاری ہونے والی امریکی بیان میں ان پاکستانی خدشات کا ازالہ کرنے کی کوشش کی گئی ہے جو پاکستان حالیہ دنوں میں دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کے کردار کے حوالے سے اٹھاتا رہا ہے۔ دو ہفتے قبل پاکستان کے سرحدی علاقے انگور اڈہ میں امریکی فوجی کارروائی کے بعد پاکستانی وزیراعظم نے افغانستان میں تعینات امریکی اور اتحادی افواج سے پاکستانی سرحدوں اور خومختاری کا احترام کئے جانے کا مطالبہ کیا تھا۔ یوسف رضا گیلانی نے امریکی اور پاکستانی افواج کے درمیان معلومات کے تبادلے کے نظام اور پاکستان، افغانستان اور امریکہ کے درمیان قائم سہ فریقی کمیشن کو مو¿ثر بنانے کی ضرورت پر زور دیا تھا۔ اسلام آباد میں امریکی سفارت خانے کے ترجمان نے کہا کہ ایڈمرل مولن پاکستان دورے کے دوران کئی اہم امور پر تبادلہ خیال کریں گے جن میں دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاک افغان سرحد پر تعاون اور رابطوں کو بہتر بنانےکا معاملہ بھی شامل ہے۔ جبکہ اس موقع پر چیف آف آرمی اسٹاف جنرل اشفاق پرویز کیانی بھی موجود تھے۔ مبصرین ایڈمرل مولن کے اس اچانک دورے کو ان کی جانب سے پاکستانی سرحدی حدود کے اندر مشتبہ شدت پسندوں کے خلاف فوجی کارروائی کرنے کے اعلان کے بعد دہشت گردی کے خلاف جنگ میں امریکہ کی اہم ترین اتحادی فوج کے درمیان پیدا ہونے والی غلط فہمیوں کو دور کرنے کی کوشش قرار دے رہے ہیں۔ پاکستان کی سرحدی حدود کی خلاف ورزیوں پر بڑھتی ہوئی کشیدگی کے پس منظر میں امریکی فوج کی جائنٹ چیف آف سٹاف کمیٹی کے چیئرمین ایڈمرل مائیکل مولن گزشتہ منگل کی رات کو پاکستان کے ایک اہم دورے پر اسلام آباد پہنچے تھے۔ دریں اثناءامریکہ کے وزیر خارجہ رابرٹ گیٹس بھی کابل کے دورے پر ہیں جہاں پر انہوں نے منگل کے روز افغان صدر حامد کرزئی سے ملاقات کی ہے۔ جبکہ افغانستان میں امریکی فوج کے اعلیٰ ترین کمانڈر ڈیوڈ میکرینن نے کہا ہے کہ افغانستان میں شورش کو کچلنے کے لیے انہیں مزید دس ہزار فوجیوں کی ضرورت ہے۔ڈیویڈ میکرینن نے جو کہ افغانستان میں امریکی اور اتحادی فوج کے کمانڈر ہیں کہا ہے کہ صدر بش نے افغانستان میں جن تین ہزار فوجیوں کو بھیجنے کا اعلان کیا ہے ان کے علاوہ انہیں مزید دس ہزار فوجی چاہئیں۔ فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق ڈیویڈ میکرینن نے یہ بات افغانستان کے دورے پر آئے امریکہ کے وزیرِ دفاع رابرٹ گیٹس سے ملاقات کے بعد اخبار نویسوں سے بات کرتے ہوئے کہی۔ افغانستان میں بھاری تعداد میں مزید فوجی بھیجنے کی اپیل طالبان اور القاعدہ کے شدت پسندوں کی طرف سے کارروائیوں میں تیزی اور پاکستان میں ان کے مبینہ محفوظ ٹھکانوں کے لیے نئی حکمت عملی تیار کرنے کے پس منظر میں کی گئی ہے۔ میکرینن نے امریکہ کے چیئرمین جوائٹ چیف آف سٹاف ایڈمرل مائیکل مولن کی اسلام آباد روانگی سے قبل کابل میں ملاقات کی۔انہوں نے کہا کہ انہیں کم از کم تین بریگیڈ اور ان کے معاون دستوں کی ضرورت ہے اور یہ ا±ن تین ہزار فوجیوں کے علاوہ ہے جن کو افغانستان بھیجنے کا اعلان صدر بش نے حال ہی میں کیا تھا۔ میکرینن نے کہا کہ گو کہ شدت پسندوں کو کامیابی حاصل نہیں ہو رہی لیکن اس شورش کو دبانے کے لیے کافی وقت لگ سکتا ہے۔اس وقت افغانستان میں تینتیس ہزار امریکی فوجی تعینات ہیں۔انہوں نے کہا کہ افغانستان میں پرتشدد کارروائیوں میں گزشتہ سال کے مقابلے میں تیس فیصد اضافہ ہوا ہے اور شدت پسندوں نے نئے طریقے اپنا لیے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ واشنگٹن نے مزید تین بریگیڈ کو افغانستان بھیجنے کی ضرورت کو مان لیا ہے اور یہ اب یہ دیکھنا ہے کہ کب یہ بریگیڈ بھیجے جاتے ہیں انہوں نے کہا کہ وہ افغانستان میں کمک کو عارضی نہیں کہیں گے بلکہ انہیں اس کی طویل عرصے کے لیے ضرورت ہے۔مبصرین کا خیال جبکہ بعض کا دعوی ہے کہ مغربی پروپیگنڈے کا ہدف ایٹمی پروگرام اور ملک کی سالمیت ہے۔ ممتاز امریکی اخبارات و جرائد مسلسل پاکستان کے خلاف گمراہ کن پروپیگنڈا کررہے ہیں جس میں پاکستان کے ایٹمی ہتھیاروں کو غیر محفوظ قرار دیا گیا ہے۔ 1999ء میں امریکا کے نیول وار کالج میں ایک منصوبہ تیار کیا گیا تھا جس کا اصل مقصد یہ تھا کہ پاکستان کے نہ صرف ایٹمی ہتھیار ختم کئے جائیں بلکہ پاکستان کو دنیا کے نقشے سے غائب کردیا جائے۔ امریکی تھنک ٹینکس اکثر پاکستان کے خلاف زہریلا پروپیگنڈا کرتے رہتے ہیں اور ان کے مطابق امریکا کا اصل نشانہ دہشتگرد نہیں بلکہ دہشتگردی کے خلاف جنگ کی آڑ میں پاکستان کا ایٹمی پروگرام اور پاکستان کی سالمیت ہے۔ امریکی تھنک ٹینک کی رپورٹ کو کے مطابق پاکستان کو2020ءتک صفحہ ہستی سے ختم کردیا جائے گا۔ اس طرح کی رپورٹوں پر سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت ہے،حالات جس سمت جارہے ہیں اور امریکی پالیسیاں کھلم کھلا پاکستان کے خلاف منصوبہ بندی کررہی ہیں اس کے نتائج پاکستان کے لئے تباہ کن بھی ہوسکتے ہیں۔ اس میں شک نہیں کہ امریکی تھنک ٹینکس یہ سمجھتے ہیں کہ امریکا کو جنوبی ایشیا سے خطرہ ہے۔ امریکی تھنک ٹینکس کو بڑی آزادی حاصل ہے اور اس کے پاس ہر طرح کی سہولتیں بھی ہیں جس کا فائدہ اٹھاتے ہوئے وہ غیر ذمہ دارانہ رپورٹیں جاری کرتے ہیں اور غلط نتائج بھی اخذ کرتے ہیںسوویت یونین کے خاتمے کے بعد امریکا میں اسلام پر مرکزی توجہ مبذول ہوگئی جو اب بھی جاری ہے۔9/11 کے بعد یہ تاثر بھی پیدا ہوا کہ چین امریکا کے لئے مستقبل میں بڑا خطرہ ہوسکتا ہے اور اسلام اور اسلامی آئیڈیالوجی کسی بھی مرحلے پر چین کے ساتھ مل کر امریکا کے لئے بڑا خطرہ ثابت ہوسکتے ہیں لہذااس ممکنہ خطرے کے توڑ کیلئے بھارت سے تعلقات استوار کئے جائیں۔ لندن یونیورسٹی کے انٹرنیشنل لاءکے پروفیسر کی لکھی ہوئی ایک کتاب میں یہ انکشاف کیا گیا ہے کہ اس وقت کے برطانوی وزیراعظم ٹونی بلیئر اور صدر بش کے درمیان30 جنوری 2003ءکو ایک خفیہ بات چیت ہوئی جس میں صدر بش نے ٹونی بلیئر کوبتایا کہ عراق کے بعد ایران، شمالی کوریا، سعودی عرب اور پاکستان کی باری آئے گی جبکہ ٹونی بلیئر اور وائٹ ہاوس نے اس انکشاف کی تردید نہیں کی۔ اسی تناظر میں بعض امریکی اعلیٰ عہدیداروں نے واضح طور پر یہ کہنا شروع کیا کہ موجودہ صدی امریکا کی ہے اور اس دوران مکمل امریکی بالادستی دنیا بھر میں قائم ہونی چاہئے۔ واشنگٹن کے اولین مقاصد میں پاکستان کی جوہری طاقت کو ختم کرنا، پاکستان کے نظریاتی تشخص کو کمزور کرنا، چین سے پاکستان کو الگ کرنا اور افغانستان میں جاری مزاحمت کو ختم کرنا شامل ہیں۔ یہ امریکا کے طویل مدتی اہداف ہیں جس کے توڑ کیلئے کام کرنے کی ضرورت ہے۔اے پی ایس۔

No comments: