International News Agency in english.urdu news feature,Interviews,editorial,audio,video & Photo Service from Rawalpindi/Islamabad,Pakistan.Managing editor M.Rafiq,Editor M.Ali. Chief editor Chaudhry Ahsan Premee email: apsislamabad@gmail.com,+92300 5261843 مینجنگ ایڈ یٹر محمد رفیق، ایڈیٹر محمد علی، چیف ایڈیٹرچو دھری احسن پر یمی

Thursday, September 25, 2008

پاکستان میں شدید معاشی بحران اور امریکہ کے خلاف عوام کی شدید نفرت۔تحریر: محمد رفیق اے پی ایس






بھارت اورامریکا کے مابین سول نیوکلےئر معاہدے سے خطے میں طاقت کا توازن بگڑ جائے گا۔ بھارت امریکا کے بعد اب جلد ہی فرانس سے ایٹمی معاہدہ کرنے والا ہے اگرچہ پاکستان کے ایٹمی اثاثے ہر لحاظ سے محفوظ ہاتھوں میں ہیں ۔پاکستان اس وقت شدید معاشی بحران سے دوچار ہے جس کی بڑی وجہ امن و امان کی بگڑتی ہوئی صورتحال ہے۔ امن و امان کی صورتحال بہتر ہونے سے معیشت بھی بہتر ہو گی اور پاکستان اپنے پر امن ایٹمی پروگرام میں باآسانی آگے لے جا سکتا ہے اس سلسلے میں چین کے ساتھ تعاون پر غور کیا جا ناچاہیے ۔ جو ہمیشہ سے پاکستان کا اچھا دوست رہا ہے ۔ پاکستان کی ایٹمی پالیسی کا بھارتی پالیسی سے گہرا تعلق ہے امریکہ نے بھارت سے معاہدہ کر کے خطے میں طاقت کے توازن کو خراب کرنے کی کوشش کی ہے ۔پاکستان کو بھی اپنی پالیسی پر نظرثانی کرنا چاہئے تاکہ خطے میں طاقت کا توازن برقرار رکھا جا سکے۔ اس ایٹمی معاہدے سے امریکہ نے پاکستان کو نظر انداز کرتے ہوئے بھارت کو ایٹمی قوت تسلیم کر لیا ہے یہ معاہدہ ایٹمی عدم پھیلاو¿ معاہدے کے خلاف ہے پاکستان کو بھی اپنی پالیسی پرنظر ثانی کرتے ہوئے مستقبل کے لئے پائیدار لائحہ عمل اپنانا چاہئے امریکہ بھارت معاہدے سے نہ صرف پاکستان کو خطرہ ہے بلکہ اس سے عالمی سطح پر ایٹمی پھیلاو¿ بڑھے گا۔ پاکستان نے ہمیشہ سے ایٹمی ہتھیاروں کی دوڑ کم کرنے کی کوشش کی ہے کیونکہ ہم دنیا کو تباہی سے بچانا چاہتے ہیں اس معاہدے کا مقصد بھارت کو خطے کی طاقت ور ترین فوجی قوت بنانا ہے ۔پاکستان کو بھی چاہئے کہ اپنی پالیسی پر نظرثانی کرتے ہوئے یہ دیکھے کہ اس معاہدے سے پاکستان کس حد تک متاثر ہو رہا ہے اور اس سلسلے میں فوری اقدامات کئے جانے چاہئیں۔جبکہ ایک امریکی اخبار نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ بھارتی فوجی سرگرمیوں کا محور پاکستان اور چین ہیں،بھارت ایسا اسلحہ خریدرہاہے جسے وہ اپنی سرزمین سے دور جنگی کارروائیوں کے لئے استعمال کرسکے ۔امریکہ کے ساتھ جوہری تعاون اور دیگر شعبوں میں پیش رفت کے ذریعہ بھارت خود کو ایک ایسی فوجی طاقت کے طور پر سامنے لا رہا ہے جو اپنے بحری جہازوں اور تجارتی راستوں کے تحفظ کیلئے ہزاروں میل دور اپنے فوجی تعینات کرنے، مشرقی وسطی میں مقیم اپنے لاکھوں شہریوں کے تحفظ اور بین الاقوامی امن مشنز کیلئے بھاری تعداد میں فوجی دستے فراہم کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ یہ بات ایک معروف امریکی اخبارنے اپنی ایک رپورٹ میں کہی۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اگرچہ بھارت ایک عالمی فوجی طاقت بننے کی کوشش کر رہا ہے تاہم اس کی فوجی سرگرمیوں کا محور اس کے دو ہمسایہ ممالک پاکستان اور چین ہی ہیں جن کے ساتھ ماضی میں وہ جنگیں لڑ چکا ہے۔ رپورٹ کے مطابق بھارت ان دنوں ایسا فوجی اسلحہ خریدنے میں مصروف ہے جسے امریکہ کی طرح اپنی سرزمین سے بہت دور جنگی کارروائیوں میں استعمال کیا جا سکے، اس طرح کے اسلحہ میں طیارہ بردار جنگی بحری جہاز، سی 130 جیسے ٹرانسپورٹ طیارے، لڑاکا طیاروں کو فضا میں ایندھن فراہم کرنے والے جہاز اور دیگر جدید اسلحہ شامل ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ بھارت نے بیرون ملک فوجی اڈہ بھی قائم کیا ہے چنانچہ تاجکستان میں بھارت کی طرف سے تعمیر کردہ ایئر بیس تاجکستان بھی استعمال کر سکتا ہے۔ پاکستان کے انتہائی پسماندہ دور دراز قبائلی علاقے باجوڑ میں جاری جنگ پاکستان آرمی کیلئے ایک کڑی آزمائش ثابت ہو رہی ہے ، امریکی اخبار نیویارک ٹائمز نے ایک ملٹری انٹیلی جنس آفیسر کے حوالے سے بتایا ہے کہ باجوڑ کے قبائلی علاقے کے جنگی حالات میریٹ ہوٹل بم دھماکہ کے تناظر میں ایک نئی شکل اختیار کر رہے ہیں، بعض ماہرین میریٹ بم دھماکہ کو باجوڑ جنگ کے سلسلے کو ایک کڑی سمجھ رہے ہیں اپنی شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بعض آرمی کے ذمہ داران نے کہا اس لڑائی کو ہار یا جیت دوسرے قبائلی علاقوں کو قسمت کا فیصلہ کریگی، وزیرستان کے بعد باجوڑ کو القاعدہ اور طالبان انتہا پسندوں کو محفوظ پناہ گاہ تصورکیا جاتا ہے باجوڑ آپریشن جو اگست میں شروع کیا گیا تھا۔ پاکستان آرمی کو ٹینک اور جنگی جہازوں کے ذریعے بمباری کرنا پڑی جسکے جواب میں انتہا پسندوں نے بھی ہر طرح کا اسلحہ استعمال کیا آرمی آفیشل کے مطابق انتہا پسندوں کے پاس حیران کن جدید اسلحہ، قوت مدافعت اور مواصلاتی نظام ہے یہاں تک کہ وہ اسنیپر رائفل کا استعمال آرمی کے جوانوں سے کئی گنا بہتر کر سکتے ہیں انتہا پسند اب ایک منظم فوج کی شکل میں جنگ کر رہے ہیں باجوڑ کے علاقے اب انتہا پسندوں کے مرکز کی شکل اختیار کر چکے ہیں، جہاں انتہا پسند مختلف قبائلی علاقوں سے نکل کر باجوڑ میں اکٹھے ہو رہے ہیں یہاں تک کہ افغانستان کے صوبے کنڑ سے بھی انتہا پسندوں کی آمد و رفت جاری ہے جو اپنے کمانڈروں کے ماتحت مضبوط ہو رہے ہیں۔ایک آرمی آفیشل کے مطابق مقاصد کے حصول کے بغیر اب پاکستانی فوج ان علاقوں سے واپس نہیں جائیگی کیونکہ یہ علاقے غیر ملکی دہشت گردوں کی آماجگاہ بنے ہوئے ہیں جنکا خاتمہ انتہائی ضروری ہے ۔ سرکاری ذرائع نے بتایا کہ جولائی میں مخلوط حکومت اور جنرل اشفاق پرویز کیانی کے مابین ہونے والی ملاقات میں آرمی چیف کو عسکریت پسندوں سے نمٹنے کیلئے تمام اختیارات سونپ دیئے گئے تھے ، پاکستان کے قبائلی علاقوں میں امریکی مہم جوئی اور تابڑ توڑ حملوں سے پیدا ہونے والی صورتحال کے پیش نظر جنرل پرویز کیانی کو فیصلہ کن حکمت عملی اپنانے میں آسانی ہوگی۔ جبکہ عوامی حلقوں کی رائے کے مطابق 60 سال سے ایک دوسرے کے اتحادی پاکستان و امریکا کے درمیان کشیدگی بڑھ رہی ہے۔ امریکی فوجیں پاکستان کے اندر زمینی حملے بھی کر رہی ہیں۔ جاسوس طیارے بھی پرواز کرتے رہتے ہیں۔ امریکی میزائلوں سے بے گناہ شہری، خواتین، بچے، بزرگ ہلاک ہو رہے ہیں۔ پاکستان کی رائے عامہ میں امریکا کے خلاف نفرت شدت اختیارکرتی جا رہی ہے جب کہ مذہبی انتہاپسندوں کی عوامی حمایت میں اضافہ ہو رہا ہے۔اے پی ایس

No comments: