International News Agency in english.urdu news feature,Interviews,editorial,audio,video & Photo Service from Rawalpindi/Islamabad,Pakistan.Managing editor M.Rafiq,Editor M.Ali. Chief editor Chaudhry Ahsan Premee email: apsislamabad@gmail.com,+92300 5261843 مینجنگ ایڈ یٹر محمد رفیق، ایڈیٹر محمد علی، چیف ایڈیٹرچو دھری احسن پر یمی

Wednesday, September 24, 2008

وزیر اعظم کے ساتھ ایک افطار ڈنر۔ تحر یر : چودھری احسن پریمی اے پی ایس



وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی نے تمام وزراءکو کسی بھی معاملے پر بیان بازی سے روک دیا ہے اور کہا ہے کہ آئندہ پالیسی بیان سیکرٹری اطلاعات دیا کریں گے ۔ وزیراعظم نے میڈیا سے اپیل کی ہے کہ وہ دہشت گردی کے واقعات اور دہشت گردوں کو غیر معمولی طور پر اجاگرنہ کریں اس سے قومی معیشت پر منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں دہشت گردی و انتہا پسندی کا خاتمہ ہم سب کا مشترکہ ایجنڈا ہونا چاہیے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے گزشتہ بدھ کو وزیراعظم ہاوس میں ملکی و غیر ملکی میڈیا کے نمائندوں کے اعزاز میں افطار ڈنر کے موقع پر کیا سانحہ میریٹ پر پوری قوم صدمے سے دو چار ہے ۔ موجودہ حالات کے حوالے سے میڈیا سے بہت زیادہ توقعات ہیں میڈیا دہشت گردی کے خاتمے میں مثبت کردار ادا کرے ہمیں میڈیاکی سپورٹ کی ضرورت ہے قوم کے وسیع تر مفاد میں میڈیا کو اس مسئلے پر حکومت کا ساتھ دینا چاہیے ۔معیشت کو نقصان پہنچ رہاہے وزیراعظم نے کہا کہ اس حوالے سے میڈیا کوعوام میں شعور بیدارکرنا چاہیے اور غیر جانبدارانہ طریقے سے اپنے فرائض سرانجام دینے چاہیں۔ وزیراعظم نے واضح کیا کہ کسی کو حکومتی رٹ چیلنج نہیں کرنے دیں گے دہشت گردی و انتہا پسندی کا خاتمہ مشترکہ ایجنڈا ہونا چاہیے ۔قومی سلامتی کا معاملہ ہے ۔ حکومت خود مختاری اور سالمیت پر سمجھوتہ کرے گی نہ اسکی خلاف ورزی کو برداشت کریں گے نہ صرف اپنے ملک میں امن چاہتے ہیں بلکہ خطے میں بھی امن کے فروغ کے لئے کوشاں ہیں ۔اس حوالے سے ہمارے ساتھ تعاون کیاجائے ۔ سرمایہ کاری کے حوالے سے سرمایہ کاروں کے اعتماد کی بحالی کیلئے میڈیا کو اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔ وزیراعظم نے کہا کہ صدر آصف علی زرداری دورہ امریکہ پر ہیں امریکی صدر بش سمیت اہم رہنماو¿ں جن میں ایران ترکی فرانس بھارت اور دیگر ممالک کی قیادت شامل ہے کے ساتھ بات چیت میں تعلقات کے استحکام اور فروغ سے متعلق بات چیت ہوئی ہے ۔ وزیراعظم نے کہاکہ میریٹ پر حملہ انسانیت پر حملہ ہے یہ سوچ ہونی چاہیے کہ انسانیت متاثر ہوئی ہے پاکستان پیپلز پارٹی اور اس کی اتحادی جماعتیں اظہار رائے اور میڈیا کی آزادی پر یقین رکھتی ہیں ۔ میڈیاکے خلاف کسی کارروائی کا ارادہ ہے نہ ہمارے میڈیا کے خلاف کوئی جارحانہ عزائم ہیں ۔ ملک میں ہم ترقی امن خوشحالی چاہتے ہیں ضابطہ اخلاق کے حوالے سے میڈیاخود ریگولیٹری سسٹم قائم کرے۔ میڈیا نے دہشت گردی کے خاتمے کے حوالے سے مثبت کردار ادا کیا ہے تاہم کچھ عناصر ایسے بھی ہیں جنہوں نے دہشت گردی کے حوالے سے مثبت کردار ادا نہیں کیا انہوں نے کہا کہ میڈیا سے عوام کو بڑی امیدیں ہیں۔ لیکن تمام میڈیا نے ساری امیدوں کا پاس نہیں کیا کچھ عناصر ایسے ہیں جنہوں نے منفی پہلوو¿ں کو اجاگر کیا ہے اور حقائق کا خیال نہیں رکھا۔ انہوں نے کہا کہ میڈیا کا کردار ہے کہ وہ غیر جانبدارانہ کردارادا کرے اور دہشت گردوں کی حوصلہ شکنی میں اہم کردار ادا کریں انہوں نے کہا کہ ان کی حکومت دہشت گردی کے خلاف پالیسی پر عمل پیرا ہے ہماری پالیسی یہ ہے کہ عوام کے ساتھ مذاکرات کئے جائیں اور ان عناصر کے ساتھ مذاکرات کئے جائیں جو شرپسند علاقوں میں موجود ہیں ۔انہوں نے وزراء کے بیان بازی کے حوالے سے کہا ہے کہ ایسے بیان سامنے آ رہے ہیں جن کا حقائق سے کوئی تعلق نہیں ہوتا ان کا اشارہ رحمان ملک اور بعض وزراء کے متضاد بیانات کی طرف ہے جنہوں نے میریٹ ہوٹل بم دھماکے کے بعد دیئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آئندہ ایسے بیانات پر پابندی لگا دی گئی ہے اور اس قسم کے پالیسی بیان صرف سیکرٹری اطلاعات دیا کریں گے اور وزراء کو اس حوالے سے بیان دینے سے روک دیا گیا ہے۔وزیراعظم نے کہا کہ دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے تمام مسائل بروئے کار لائے جائیں گے ۔ انہوں نے کہا کہ میریٹ ہوٹل کے المناک سانحہ پر ذرائع ابلاغ کے کردار کو سراہا۔ وزیر اعظم نے کہا کہ ہم سب جانتے ہیں کہ اس سانحہ سے معیشت پر شدید اثر پڑا ہے وزیراعظم نے بین الاقوامی ذرائع ابلاغ پر زور دیا وہ عالمی مسائل سے متعلق خبریں دیتے وقت پاکستان سمیت علاقائی ذرائع ابلاغ سے تعاون کریں۔قبل ازیں وزیراعظم نے بدھ کو وفاقی کابینہ کے خصوصی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حکومت دہشت گردی کے واقعات سے خوفزدہ ہے نہ دہشت گردوں کے سامنے جھکیں گے عوام کے جان ومال کا تحفظ ریاست کی بنیادی آئینی ذمہ داری ہے یہی وجہ ہے کہ حکومت نے امن وامان کے قیام کو اولین ترجیحات میں شامل کیا ہے اجلاس میں ملک میں مجموعی امن وامان کی صورتحال اسلام آباد میں دہشت گردی کے حالیہ واقعہ ، افغان سفیر کے اغواء ، اسلام آباد کی حفاظت کو مضبوط بنانے ، موثر سیکیورٹی پلان سمیت امن وامان سے متعلق اہم امو رپر غور کیا گیا اجلاس وزیراعظم کی صدارت میں منعقد ہوا اجلاس کے آغاز میں بیس ستمبر کو میرٹ دھماکے میں جاں بحق افراد کیلئے فاتحہ خوانی کی گئی جبکہ اس دھماکے میں ہلاک جمہوریہ چیک کے سفیر کیلئے ایک منٹ کی خاموشی اختیار کی گئی وزارت داخلہ کی جانب سے کابینہ کو افغان سفیر کی بازیابی کیلئے کئے جانے والے اقدامات ، اسلام آباد کی حفاظت کے بارے میں مجوزہ سیکیورٹی پلان سے آگاہ کیاگیا۔ وفاقی کابینہ نے میریٹ دھماکے کی مذمت کرتے غمزدہ خاندانوں کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا ہے ۔ اسلام آباد سانحے کے حوالے سے ابتدائی تحقیقات سے بھی کابینہ کو آگاہ کیا گیا ہے۔کابینہ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہاکہ حکومت دہشت گردی و انتہا پسندی کے خاتمے کے عزم پر قائم ہے دہشت گردوں کے سامنے نہیں جھکیں گے دہشت گردی کے واقعات حکومتی عزم کو پست نہیں کر سکتے انہوں نے کہا کہ عوام کے جان و مال کے تحفظ کے حوالے سے حکومت بنیادی آئینی ذمہد اریوں سے آگاہ ہیں امن وامان کے قیام کے سلسلے میں موثر اقداما جاری رہیں گے کابینہ کے ارکان نے امن وامان اور سیکیورٹی کے حوالے سے مختلف تجاویز پیش کیں ۔اے پی ایس




No comments: