International News Agency in english.urdu news feature,Interviews,editorial,audio,video & Photo Service from Rawalpindi/Islamabad,Pakistan.Managing editor M.Rafiq,Editor M.Ali. Chief editor Chaudhry Ahsan Premee email: apsislamabad@gmail.com,+92300 5261843 مینجنگ ایڈ یٹر محمد رفیق، ایڈیٹر محمد علی، چیف ایڈیٹرچو دھری احسن پر یمی

Tuesday, September 30, 2008

پاکستان کے وجود کو خطرہ ہے، امریکی سینٹرل کمانڈ کے سربراہ ڈیوڈ پٹریئس



اسلام آباد (اے پی ایس )امریکہ کی سینٹرل کمانڈ کے سربراہ ڈیوڈ پٹریئس نے کہا ہے کہ پاکستان کے وجود کو شدت پسندوں سے خطرہ لاحق ہے اور پاکستان کو اس مسئلے سے نمٹنا ہے۔لندن میں برطانوی وزیرِ اعظم گورڈن براون سے ایک ملاقات کے بعد امریکی جنرل نے کہا کہ پاکستان کو اس مسئلے کی اہمیت اور نوعیت کا پہلے سے زیادہ احساس ہو گیا ہے اور اسے اس معاملے کو حل کرنا ہے۔ امریکی جنرل نے یہ بات ایسے وقت کہی ہے جب پاکستان کے وزیرِ خارجہ شاہ محمود قریشی امریکہ میں اعلیٰ حکام سے ملاقاتوں میں مصروف ہیں۔ گذشتہ پیر کو شاہ محمود قریشی نے اعلیٰ امریکی سفارت کار نیگرو پونٹے سے ملاقات کی جس میں پاکستان میں سکیورٹی کی صورتِ حال پر خصوصی طور پر بات کی گئی۔ نیگرو پونٹے شدت پسندی کے مسائل پر بات چیت کے لیے پچھلے کچھ عرصے میں کئی بار پاکستان آئے ہیں۔شدت پسندوں کو پکڑنے اور ان کے خلاف کارروائی کے تناظر میں امریکہ پاکستان کی انٹیلیجینس ایجنسی آئی ایس آئی کی کارکردگی پر بھی نکتہ چینی کرتا رہا ہے۔ گذشتہ پیر کو پاکستان آرمی میں اعلیٰ سطح پر کئی تبدیلی کی گئیں اور کچھ افسران کو ترقی دی گئی جن میں احمد شجاع پاشا کو میجر جنرل کے عہدے سے ترقی دے کر لیفٹیننٹ جنرل بنا دیا گیا ہے اور آئی ایس کا سربراہ مقرر کر دیا گیا ہے۔ اگرچہ لندن میں جنرل پٹریئس نے کہا کہ مستقل مزاجی سے شدت پسندوں سے نمٹنے کے لیے امریکہ پاکستان کی مدد کرے گا۔جنرل پٹریئس کا یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب اسلام آباد اور واشنگٹن کے درمیان شدت پسندوں پر پاکستان میں امریکی حملوں کے تناظر میں کشیدگی پائی جاتی ہے۔ افغانستان میں موجود امریکی فوج نے کارروائی کرتے ہوئے کئی بار سرحد کے پار پاکستان میں موجود شدت پسندوں کو نشانہ بنانے کی کوشش کی ہے جس پر پاکستان نے شدید احتجاج بھی کیا ہے۔ پاکستان کا کہنا ہے کہ ان حملوں میں عام لوگ مارے گئے ہیں۔ستمبر کے اوائل میں انگور اڈہ میں امریکی کمانڈوز نے سرحد عبور کر کے کا رروائی کی تھی جس پر پاکستان کی طرف سے شدید ردِ عمل سامنے آیا تھا۔ حال ہی میں امریکی صدر اور اعلیٰ حکام و فوجیوں کی طرف سے یہ اعادہ کیا گیا کہ امریکہ پاکستان کی خود مختاری کا احترام کرے گا۔تاہم گزشتہ ہفتے پاکستانی فوج نے دو امریکی ہیلی کاپٹروں پر سرحد عبور کرنے کا الزام رکھتے ہوئے فائرنگ کی تھی۔ تاہم ایک امریکی جنرل مائیکل مولن نے کہا تھا کہ یہ معاملہ اتنا تشویشناک نہیں۔ جنرل پٹریئس نے گورڈن براو¿ن سے ملاقات کے بعد یہ بھی کہا کہ پاکستان کو خود بھی یہ معلوم ہے کہ اسے شدت پسندوں سے خطرہ ہے اور’اسلام آباد میں اس معاملے کی اہمیت اور نوعیت دونوں ہی تسلیم کی جا رہی ہیں‘۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ اس مسئلے کے حل کے لیے پاکستان کی کوششوں کی حمایت کی جانی چاہیے۔افغانستان میں موجود امریکی اور اس کی اتحادی فوج نے پاکستان کے قبائلی علاقوں میں حملوں میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ گذشتہ ستمبر کے پہلے ہفتہ میں جنوبی وزیرستان کے علاقے انگور اڈہ کے قریب پہلی دفعہ امریکی اور اتحادی افواج نے پاکستان کے اندر گھس کر زمینی فوج کا استعمال کیا تھا۔ جبکہ اس سے قبل ہونے والے تمام حملے فضا سے کیے گئے تھے۔ اس کے اگلے ہی روز شمالی وزیرستان میں سرحد کے قریب افغان حدود سے میزائل داغے گئے۔ پھرشمالی وزیرستان میں افغان سرحد کے قریب امریکی جاسوس طیاروں سے میزائلوں کے تین حملے کیے گئے۔ اور اس کے بعد شمالی وزیرستان میں واقع طالبان کمانڈر جلال الدین حقانی کے گھر اور مدرسے پر میزائل حملہ کیا گیا تھا۔ ان حملوں کی بڑھتی ہوئی تعداد اور ان کے ممکنہ ردِ عمل پر امریکی تھنک ٹینک سینٹر فار انٹرنیشنل پالیسی واشنگٹن میں ڈائریکٹر ایشیا پروگرام سیلیگ ہیریسن نے کہا تھاکہ پاکستان کے قبائلی علاقوں میں اگر امریکی حملے جاری رہے تو پاکستان میں پشتون آبادی میں احساس محرومی بڑھ جائے گا۔ انہوں نے کہا ’امریکہ کو پشتون علاقوں کے بارے میں زیادہ معلومات نہیں ہیں اور انہوں نے برطانیہ کی تاریخ نہیں پڑھی اور اسی لیے امریکہ وہ تمام غلطیاں کر رہا جواس علاقے میں برطانیہ نے کی تھیں۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کے قبائلی علاقوں میں القاعدہ موجود ہے اور اپنے مالی استحکام کو استعمال کرتے ہوئے طالبان کو اپنا حمایتی بناتی ہے۔’لیکن ابھی بھی دیر نہیں ہوئی اور اس کی تلافی کی جا سکتی ہے۔ ایک ایسی پالیسی بنائی جائے جس سے طالبان کا القاعدہ کی طرف مزید مائل ہونے کو روکا جا سکے۔سیلیگ ہیریسن پانچ کتابوں کے مصنف ہیں جن میں ’اِن افغانستان شیڈو‘ اور ’سٹڈی آف بلوچ نیشنلزم‘ شامل ہیں، سیلیگ ہیریسن واشنگٹن پوسٹ کے سابق شمالی ایشیا کے بیورو چیف بھی رہ چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ ضروری ہے کہ طالبان اور القاعدہ میں تفریق کی جائے کیونکہ القاعدہ ایک عالمی دہشتگرد تنظیم ہے اور دنیا کے لیے خطرہ ہے جب کہ طالبان سے دنیا کو کوئی خطرہ نہیں ہے۔ ’طالبان سے بات چیت کرنے کا جواز درست ہے اور اس کے ساتھ ہی القاعدہ کو ڈھونڈنے اور شکست دینے کے لیے مو¿ثر منصوبہ بندی کی بھی ضرورت ہے۔ان کا کہنا تھا کہ قبائلی علاقوں کے حوالے سے بین الاقوامی سطح میں کافی بے اطمینانی ہے اور دنیا یہ دیکھ رہی ہے کہ آیا نئی حکومت اس صورتحال پر قابو پا سکتی ہے یا نہیں۔ ’ پاکستان کی صورتحال سے دنیا اس وقت کنفیوزڈ اور پریشان ہے۔ اس حوالے سے نئی حکومت کا پہلا امتحان پاکستان کی انٹیلیجینس ایجنسی (آئی ایس آئی) پر قابو پانا ہے۔‘ انہوں نے یہ بھی کہا ہے کہ’یہ کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں ہے کہ آئی ایس آئی میں اسلامی حمایت پسند عناصر موجود ہیں جو کہ القاعدہ کے عناصر کو تحفظ فراہم کرتے ہیں۔ اگر موجودہ حکومت آئی ایس آئی کے بجٹ کو اپنے کنٹرول میں لے آتی ہے تو پھر اس ایجنسی کی کارروائیوں پر نظر رکھی جا سکتی ہے۔‘ طالبان کے مبینہ ٹھکانوں پر امریکی بمباری کی پالیسی غلط ہے چاہے وہ افغانستان میں ہو یا پاکستان میں۔اس قسم کی بمباری سے مزید لوگ طالبان کے حامی ہوتے جا رہے ہیں اور پشتون قبیلے مزید شدت پسند ہو گئے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ نئی حکومت کے لیے سب سے مشکل بات آئی ایس آئی اور اس کے فنڈز پر قابو کرنا ہے۔ اور جب تک حکومت آئی ایس آئی کو اپنے کنٹرول میں نہیں لاتی اس وقت تک القاعدہ کی پاکستان کے قبائلی علاقوں میں موجودگی کے مسئلے کو حل کرنا مشکل ہے۔ ’ضرورت اس بات کی ہے کہ القاعدہ اور طالبان میں تفریق کی جائے۔ یہ درست ہے کہ کچھ طالبان مالی طور پر القاعدہ کے ساتھ ہیں لیکن زیادہ تر جن میں پاکستان طالبان بھی شامل ہیں ان کو القاعدہ سے ملانا غلط ہو گا۔ ایسے طالبان کے ساتھ تعلقات استوار کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ لیکن بدقسمتی سے ان میں تفریق نہیں کی جا رہی جس کا نتیجہ یہ ہے کہ ان انتہا پسندی بڑھ رہی ہے اور ان کو کنٹرول کرنا مشکل سے مشکل ہوتا جا رہا ہے۔‘ امریکی صدر جارج بش نے جولائی میں امریکی خصوصی فورسز کو پاکستان کی حدود میں القاعدہ اور طالبان کے خلاف پاکستانی حکومت کی پیشگی منظوری کے بغیر زمینی کارروائیاں کرنے کی منظوری دے دی تھی۔امریکی اخبار ’نیویارک ٹائمز‘ نے یہ بات امریکی حکام کے حوالے سے اپنی ایک رپورٹ میں بتائی ۔نیویارک ٹائمز کی اس رپورٹ کے مطابق ایک سے زیادہ مختلف سینیئر امریکی عملداروں نے صدر بش کے اس خفیہ حکم کی منظوری کی تصدیق کی ہے کہ بش انتظامیہ میں مہینوں تک بحث کے بعد صدر بش نےامریکی خصوصی فورسز کو پاکستان کے اندر زمینی کارروائیاں کرنے کی خفیہ طور پر منظوری دی ہے۔ نیویارک ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق امریکی خصوصی فورسز کی پاکستان کی حدود میں محدود زمینی کارروائیوں کے بارے میں پاکستانی حکام کو مطلع کیا جائےگا لیکن اجازت کی ضرورت نہیں ہوگی۔اس ضمن میں رپورٹ میں گزشتہ ماہ کو پاکستان کے قبائلی علاقے انگور اڈہ میں امریکی کارروائی کی مثال دی گئی ہے۔ انگور اڈہ میں کارروائی کرنے والے خصوصی دستوں کو ایک سی ون تھرٹی کے مدد حاصل تھی اور کارروائی کے بعد اس میں حصہ لینے والے دستوں کو ہیلی کاپٹروں کے ذریعے لے جایا گیاتھا۔سینیئر امریکی عملدار نے نیو یارک ٹائمز کو بتایاتھا ’قبائلی علاقوں میں صورتحال ناقابل برداشت ہے اور ہمیں مزید اقدامات کی ضرورت ہے جس کے لیے احکامات جاری ہو چکے ہیں۔‘ انگور اڈہ میں امریکی کارروائی کے حوالے سے نیویارک ٹائمز نے لکھا تھا کہ امریکی نیوی سیِلز کے دو درجن سے زائد اراکین نے کئی گھنٹے تک کارروائی جاری رکھی۔ اس کارروائی میں مبینہ طور پر القاعدہ اور طالبان سے تعلق رکھنے والے دو درجن سے زائد عسکریت پسند ہلا ک ہوئے تھے جو افغانستان میں امریکی فوجوں پر حملے کرتے تھے۔ اس رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ کارروائی کرنے والے خصوصی دستوں کو ایک سی ون تھرٹی کے مدد حاصل تھی اور کارروائی کے بعد اس میں حصہ لینے والے دستوں کو ہیلی کاپٹروں کے ذریعے لے جایا گیا۔ اخبار کے مطابق پاکستانی حکومت کا مو¿قف تھا کہ اس کارروائی میں شہری ہلاک ہوئے تھے جس سے امریکہ مخالف جذبات میں مزید شدت آئی ہے۔ شدت پسندوں کے خلاف امریکی خصوصی فورسز کی کارروائیوں کو مربوط اور مزید مو¿ثر بنادیا گیا ہے۔ ان کارروائیوں کی نگرانی اب افغانستان میں بگرام میں سی آئی اے کے ایک اعلیٰ افسر کے حوالے کی گئی ہے۔تاہم اخبار کے مطابق امریکی ایحینسیوں نے طالبان اور القاعدہ کے عسکریت پسندوں کے خلاف ایسی نئی کارروائیوں کی حمایت کی گئی۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ اب شدت پسندوں کے خلاف امریکی خصوصی فورسز کی کارروائیوں کو مربوط اور مزید مو¿ثر بنا دیا گیا ہے۔ ان کارروائیوں کی نگرانی اب افغانستان میں بگرام میں سی آئی اے کے ایک سینیئر افسر کے حوالے کی گئی ۔ اخبار کے مطابق ان کارروائیوں میں امریکی فوج کی ڈیلٹا فورسز اور نیوی سیلز حصہ لے رہی ہیں۔اخبار نے لکھا ہے کہ یہ معلوم نہیں ہوسکا کہ آخر کس قانون کے تحت امریکی فورسز ایک دوست ملک کی حدود میں جا کر کارروائی کرسکتے ہیں۔ تاہم امریکی اخبار نے کہا کہ پاکستانی حکام زمینی کارروائیوں کے بجائے امریکی جاسوسی طیاروں کی کارروائیوں پر راضی ہیں۔عسکری ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان اور امریکہ کے درمیان اس وقت بداعتمادی کی ایک بڑی وجہ شدت پسندوں کے ٹھکانوں سے متعلق معلومات کے تبادلے میں آنے والا تعطل ہے۔ پاکستان، افغانستان اور امریکی فوجی حکام نے گزشتہ برس معلومات کے تبادلے کو بہتر بنانے کی غرض سے جوائنٹ انٹیلیجنس آپریشن سینٹرز قائم کیے تھے تاہم فریقین میں بداعتمادی کم کرنے میں ان سے کوئی مدد نہیں ملی ہے۔ امریکی فوجی حکام اب پاکستان کو خفیہ معلومات فراہم کرنے کے بجائے بظاہر خود کارروائیاں کر رہے ہیں۔ اس کی واضح مثال گزشتہ دو ہفتوں کے دوران افغانستان میں موجود امریکی فوجیوں کی جانب سے قبائلی علاقوں میں بغیر پائلٹ کے طیاروں کے ذریعے یکے بعد دیگرے حملے ہیں۔ پاکستان اور امریکہ اتحادی ہونے کے باوجود ایک دوسرے پر شک کر رہے ہیں۔ ’امریکہ اپنی خفیہ معلومات کی بنیاد پر اب خود کارروائیاں کر رہا ہے لیکن وہ یہ معلومات پاکستان کو دیتا تو عام شہریوں کی ہلاکت سے بچا یاجاسکتا تھا۔ماہرین کے مطابق قبائلی علاقوں میں دو طریقوں سے خفیہ معلومات اکٹھی کی جا رہی ہیں۔ ایک تو بغیر پائیلٹ کے جاسوس طیاروں کے ذریعے جس کی صلاحیت امریکہ کے پاس ہے۔ دوسرا زمین پر موجود مخبروں کے ذریعے جس کا نیٹ ورک پاکستان کا زیادہ مضبوط ہے۔ امریکہ جدید جاسوسی طیاروں کے ذریعے قبائلی علاقوں پر مسلسل نظر رکھتا ہے۔ ان طیاروں میں نصب کیمرے سے یا تو ویڈیو بنائی جاتی ہے یا پھر کابل کے شمال میں بگرام کے فوجی اڈے پر موجود امریکی ماہرین تک براہ راست فیڈ بھیجی جاتی ہے۔ دفاعی تجزیہ کا روں کے مطابق اس طرح سے حاصل کی گئی معلومات سو فیصد درست نہیں ہوتیں۔ان معلومات کی بنیاد پر کی گئی کارروائی کا تناسب پچاس فیصد سے بھی کم ہے۔ ’انہوں نے باجوڑ میں ڈمہ ڈولہ کے مقام پر ان معلومات کی بنیاد پر کارروائی کی تھی کہ وہاں ایمن الظواہری موجود ہے لیکن وہ وہاں نہیں تھا اور سترہ عام شہری مارے گئے۔ اسی طرح دیگر حملوں میں بھی ایسا ہوا ہے۔امریکیوں کے پاس زمین پر معلومات اکٹھی کرنے کے وسائل انتہائی کم بلکہ نہ ہونے کے برابر ہیں۔ قبائلی علاقوں سے اکثر مبینہ امریکی جاسوسوں کو ذبح کیے جانے کی خبریں آتی رہتی ہیں لیکن محدود رسائی کی وجہ سے اصل حقائق کبھی سامنے نہیں آپاتے۔ عسکری ماہرین کا کہنا ہے کہ شکایت صرف امریکہ کو پاکستان سے نہیں بلکہ پاکستان کو امریکہ سے بھی ہوتی ہیں۔ اب یہ اطلاعات بھی ہیں کہ تازہ حملے امریکی فوج نے نہیں امریکی تحقیقاتی ادارے سی آئی اے نے کیے ہیں۔ البتہ مبصرین کے خیال میں امریکہ کی یک طرفہ کارروائی کی وجوہات میں ان کے قریبی حلیف صدر پرویز مشرف کا چلا جانا اور امریکہ میں صدارتی انتخابات کا قریب آنا شامل ہیں۔ سیاسی مبصرین کے خیال میں پاکستان کے پاس امریکہ سے شکایات کے باوجود تعاون جاری رکھنے کے علاوہ کوئی دوسرا راستہ نہیں ہے۔ پاکستان کو مالی امداد کی اس وقت اشد ضرورت ہے اور امریکہ خود مالی امداد کے علاوہ عالمی مالیاتی اداروں میں بھی اثر و رسوخ رکھتا ہے۔ امریکہ کے چئیر مین جوائنٹ چیف آف سٹاف ایڈمرل مائیکل مولن نے دس ستمبر کو کانگریس کو دی جانے والی ایک بریفنگ میں کہا تھا کہ وہ نہیں سمجھتے کہ امریکہ کو افغانستان میں کامیابی حاصل ہوئی ہے لیکن انہیں یقین ہے کہ ایسا کیا جا سکتا ہے۔ایڈمرل مائیکل مولن کی جانب سے یہ بیان ان کی پاکستانی فوج کے سربراہ جنرل پرویز کیانی سے بحرِ ہند میں امریکی بحری بیڑے پر ہونے والی ایک خفیہ ملاقات کے تقریباً دو ہفتوں کے بعد سامنے آیا ۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ دونوں ممالک کے فوجی سربراہان اس ملاقات میں امریکہ کی جانب سے شروع کی گئی دہشت گردی کے خلاف جنگ کے حوالے سے مستقبل کا کوئی مشترک لائحہ عمل بنانے میں ناکام رہے ہیں۔ یہ حملے اس وقت ہوئے جب یہ اطلاعات موصول ہوئیں کہ بش انتظامیہ نے پاکستان کے قبائلی علاقوں میں زمینی حملوں کی اجازت دو ماہ قبل دے دی تھی۔ اس نئے لائحہ عمل کے حوالے سے پاکستانی فوج نے یہ سوال اٹھایا کہ طے شدہ قواعد و ضوابط کی رو سے غیر ملکی فوجی دستوں کو پاکستان کی سر زمین پر کارروائی کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ علاوہ ازیں فوج نے خبردار کیا ہے کہ حملوں کی صورت میں اپنے شہریوں اور فوجیوں کی حفاظت کے لیے جوابی حملے کیے جائیں گے۔ جنوبی وزیرستان میں ہونے والے ایک تازہ واقعے میں مقامی انتظامیہ کے مطابق پاکستانی فوجی دستوں نے امریکی فوجیوں کو افغانستان کی سرحد عبور کرنے سے روکنے کے لیے انتباہی فائر کیے۔ اگر امریکی حملے جاری رہے تو موجودہ جمہوری حکومت پر فوج اور سیاسی حلقوں کی جانب سے امریکہ کے ساتھ تعاون ختم کرنے اور امریکی طیاروں کو نشانہ بنانے کے لیے دباو بڑھ جائے گا۔ اگر پاکستانی حکومت اس حوالے سے کوئی انتہائی قدم اٹھاتی ہے تو عام خیال یہ ہے کہ ایسا صرف اس مفروضے کی بنیاد پر کیا جائے گا کہ امریکہ، پاکستان کی مدد کے بغیر شدت پسندوں سے لڑائی جاری نہیں رکھ سکتا۔ دوسری جانب ایک تجزیے کے مطابق امریکی حکومت دہشت گردی کے خلاف جنگ جیتنے کے لیے بے صبری کا مظاہرہ کرتے ہوئے اس سال امریکی صدارتی انتخاب سے پہلے پاکستانی حدود میں زیادہ سے زیادہ حملے کر سکتی ہے۔ اے پی ایس

No comments: