International News Agency in english.urdu news feature,Interviews,editorial,audio,video & Photo Service from Rawalpindi/Islamabad,Pakistan.Managing editor M.Rafiq,Editor M.Ali. Chief editor Chaudhry Ahsan Premee email: apsislamabad@gmail.com,+92300 5261843 مینجنگ ایڈ یٹر محمد رفیق، ایڈیٹر محمد علی، چیف ایڈیٹرچو دھری احسن پر یمی

Monday, September 15, 2008

پاکستان میں قحط کا خدشہ۔ تحریر : اے پی ایس




پاکستان دنیا کے ان چند ممالک میں شامل ہے جہاں عالمی حدت کے نتیجے میں موسمی تبدیلیوں سے آنے والے برسوں میں طوفان، سیلاب اور قحط پڑنے کا زیادہ خدشہ ہے۔پاکستان کے ماہرین ماحولیات کا کہنا ہے کہ موسمی تبدیلیوں کا سب سے زیادہ اثر ملک کے آبی ذخائر اور زراعت پر پڑے گا۔بین الاقوامی فلاحی تنظیم کیئر انٹرنیشنل اور اقوام متحدہ کے رابطہ دفتر برائے انسانی فلاح و بہبود کے تعاون سے تیار ہونے والی اس رپورٹ میں کرہ ارض کے ان حصوں کی نشاندہی کی گئی ہے جو بڑھتی ہوئی عالمی حدت کے نتیجے میں ہونے والی موسمی تبدیلیوں سے زیادہ متاثر ہوسکتے ہیں۔ ان خطوں کو کلائمینٹ چینج ہاٹ اسپاٹس کا نام دیا گیا ہے۔رپورٹ کے مطابق افریقہ، وسطی اور جنوبی ایشیاء اور جنوب مشرقی ایشیاء دنیا کے وہ خطے ہیں جہاں آنے والی دو سے تین دہائیوں میں موسمی خطرات مثلاً طوفان، سیلاب اور قحط سالی کا سب سے زیادہ خطرہ ہے۔ خاص کر پاکستان، بھارت، افغانستان اور انڈونیشیاءموسم کی ان شدتوں کے خطرے سے سب سے زیادہ دوچار ہیں۔نیشنل ایگریکلچر ریسرچ سینٹر کے سینئر سائنٹفک آفسر ڈاکٹر ارشد اشرف نے برطانوی خبر رساں ادارے کو بتایا کہ پاکستان کے کلائمیٹ چینج ہاٹ اسپاٹس میں شامل ہونے کا مطلب یہ ہے کہ آنے والے برسوں میں ملک کے شمالی علاقوں میں درجہ حرارت بڑھے گا اور اس کے نتیجے میں ہمالیائی گلیشیئرز کے پگھلنے کا عمل تیز ہوگا جو صاف پانی کے محفوظ ترین قدرتی ذخائر ہیں۔ ’اس سے ملک کے زیریں علاقوں خاص کر جنوبی پنجاب اور سندھ میں سیلاب آسکتے ہیں بلکہ پانی کی قلت کا مسئلہ بھی شدت اختیار کرسکتا ہے ساتھ ہی پانی کی قلت بڑھے گی اور اسکا براہ راست اثر ہماری زراعت پر پڑے گا جس کے سبب زرعی پیداوار کم ہوسکتی ہے‘۔ انہوں نے بتایا کہ درجہ حرارت بڑھنے سے فصلوں کی کاشت بھی متاثر ہوگی۔ہر فصل کو تیار ہونے کے لیے ایک خاص وقت درکار ہوتا ہے اور جب درجہ حرارت بڑھے گا تو وہ وقت کم ہوجائے گا اور اس کا اثر فصلوں کی پیداوار پر پڑے گا‘۔ البتہ ان کے بقول شمالی علاقوں میں زراعت پر عالمی حدت کا مثبت اثر پڑ سکتا ہے جب وہاں گرمی بڑھے گی تو پانی کی فراوانی ہوگی اور اس سے گندم کی کاشت بڑھ سکتی ہے‘۔ڈاکٹر ارشد کے مطابق عالمی حدت کے نتیجے میں پاکستان کے ساحلی علاقوں میں سمندری طوفانوں کا زیادہ خطرہ نہیں ہے البتہ بلوچستان میں بارشوں میں کمی واقع ہوگی اور اس کے باعث وہاں خشک سالی بڑھ گی۔ یاد رہے کہ پاکستان میں حالیہ مون سون کے دوران صوبہ سرحد اور قبائلی علاقوں کے علاوہ جنوبی پنجاب میں سیلاب سے کئی ہزار خاندان بے گھر ہوئے تھے جبکہ گزشتہ سال بھی سمندری طوفان اور بارشوں سے تربت سمیت بلوچستان کے متعدد علاقے زیرآب آئے تھے اور ہزاروں لوگوں کو کئی ماہ امدادی کیمپوں میں گزارنے پڑے تھے۔ دوسری طرف ان دنوں آبی ذخائر میں کمی کی وجہ سے ملک میں پانی کی قلت پائی جاتی ہے جس کی وجہ شمالی علاقوں میں درجہ حرارت میں اضافہ اور صوبہ پنجاب کی جانب سے اپنے حصے سے زیادہ پانی حاصل کرنا بتائی جارہی ہے۔ پانی کی کمی کی وجہ سے یہ خدشہ ظاہر کیا جارہا ہے کہ آئندہ زرعی موسم ربیع کے دوران پانی کی قلت 35 سے 40 فیصد تک پہنچ جائے گی جو پچھلے سال سے دس تا پندرہ فیصد زیادہ ہوگی اور اس سے گندم اور گنے کی کاشت بری طرح متاثر ہوسکتی ہے۔ماہرین کے مطابق عالمی حدت کے نتیجے میں دنیا کے دوسرے ملکوں کی طرح پاکستان میں بھی وقت کے ساتھ ساتھ سردیاں مختصر اور گرمیاں طویل ہوتی جائیں گی اور شمالی علاقوں کے موسم پر اس کا ایک اثر یہ بھی ہوسکتا ہے کہ وہاں برف باری میں کمی اور بارشوں میں اضافہ ہوگا۔جبکہ امریکی جنرل نے پاکستان کو دہشتگردی کے خلاف جنگ میں موثر اقدامات نہ کرنے پر نئی جنگ کی دھمکی دی ہے۔امریکی جریدے نے میجر جنرل جیفری جے شلوسر کے حوالے سے کہا ہے کہ پاکستان کو دہشتگردوں کے خلاف موثر اقدامات کرنا ہوں گے۔امریکی جنرل نے دھمکی دی کہ افغانستان سے پاکستانی علاقوں میں آنے والے عسکریت پسندوں کے خلاف اسلام آباد نے کارروائی نہ کی تو نئی طرز کی جنگ شروع ہو جائے گی۔ان کا کہنا تھا کہ مشرقی افغانستان میں سات سے دس ہزار عسکریت پسند موجود ہیں۔انہوں نے کہا کہ وہ موسم سرما میں طالبان کے ٹھکانوں کے خلاف کارروائی کرنے کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں۔جیفری جے شلو سر افغانستان میں انیس ہزار امریکی اہلکاروں کی کمانڈ کر رہے ہیں۔ایسو سی ایٹڈ پریس سروس اسلام آباد




No comments: