International News Agency in english.urdu news feature,Interviews,editorial,audio,video & Photo Service from Rawalpindi/Islamabad,Pakistan.Managing editor M.Rafiq,Editor M.Ali. Chief editor Chaudhry Ahsan Premee email: apsislamabad@gmail.com,+92300 5261843 مینجنگ ایڈ یٹر محمد رفیق، ایڈیٹر محمد علی، چیف ایڈیٹرچو دھری احسن پر یمی

Thursday, July 31, 2008

یزیدِ وقت کے دربار میں گیا یوسف“ تحریر: صفدر ھمٰدانی۔۔ لندن








وقت کس طرح بدل گیا ہے کہ وہ جماعت جو عوامی ہونے کی دعویدار ہے وہی اب عوام کی تذلیل کر رہی ہے آج پہلے یہ چند تازہ ترین شعر پڑھ لیجئے اور پھر بات کرتے ہیں ان لوگوں کی جو پچھلی حکومت کو تو“کشکول توڑنے“ کے طعنے دیتے نہیں تھکتے تھے اور خود آج کشکول نہیں بلکہ پورا جہاز لے کر گئے ہیں خیرات حاصل کرنے کے لیئے۔اول تو میں کالم نگار ہی نہیں ہوں اور اگر کسی طرف سے ہوں بھی توان کالم نگاروں میں سے نہیں ہوں جو ایک تو واقعہ رونما ہونے سے پہلے ہی اس پر تبصرہ لکھ ڈالتے ہیں اور دوسرے تبصرہ لکھتے ہوئے خبر،مضمون،تجزیے اور تبصرے میں فرق ہی نہیں کر پاتے۔ میں اگر خود کو کسی خانے میں ڈالوں تو شاید“حقائق نگار“ کہہ سکوں۔اسی حقائق نگاری کو آیئے آج ایک لمحے کے لیئے پہلے اشعار کی شکل میں دیکھیں اور پھر بات کو آگے بڑھائیں
یزیدِ وقت کے دربار میں گیا یوسف


یاجیسے مصر کے بازار میں گیا یوسف۔


۔۔۔۔یہ کیا کہ بھوکے سے کھانے کی بھیک مانگی ہے


یہ کیسے قریہ خونخوار میں گیا یوسف۔


۔۔۔۔صدا یہ آتی ہے ہر لمحہ چاہِ یوسف سےسنو


کہ وادیئ بیزار میں گیا یوسف


۔۔۔۔ضمیر بیچنا اک فن ہے اس زمانے میں


پلٹ کے ذات کے پندار میں گیا یوسف۔


۔۔۔گداگری سے تو بہتر ہے خود کشی یارو


عجب ہے درد کی منجدھار میں گیا یوسف۔


۔۔۔بنامِ تمغہ جمہور یہ ملامت ہےبس ایک


عرصہءآزار میں گیا یوسف


۔۔۔۔یہ اقتدار بھی صفدر عجیب لعنت ہے


نکل کے حجرے سے سرکار میں گیا یوسف
ان اشعار کی وجہ نزول کو سمجھنا کوئی ایسا مشکل بھی نہیں اور جن کے لیئے مشکل ہے انکے لیئے میرے خیال میں یہ ایک پیرا گراف ہی کافی ہے کہ “ صدر جارج ب±ش کی طرف سے پاکستان کو اناج کی خریداری کے لیے اگلے دو سالوں میں ساڑھے گیارہ کروڑ ڈالر کی امداد دینے کا وعدہ بھی کیا گیا ہے اور یہ وزیر اعظم گیلانی کے اس دورے کی ایک بڑی کامیابی ہے“۔ت±ف بر تو اے آسماں۔۔کیا زمانہ آ گیا ہے کہ خیرات کے حصول کو بھی ایسے سرکاری دوروں کی کامیابی کا پیمانہ بتایا جارہا ہے اور یہ تحریریں ایسے ہی مبصروں اور کالم نگاروں میں سے ایک کی ہے جو ہر حکومت میں صدر اور وزیر اعظم کے بیرونی ممالک دوروں میں شامل ہوتا ہے۔ یہ ایک ایسے صحافی یا کالم نگار یا تجزیہ نگار کی بات نہیں گزشتہ تیس سال میں پاکستان میں ایسے صحافیوں کی اسی شاندار فصل تیار ہوئی ہے کہ مولانا ظفر علی خان اور مولانا محمد علی جوہر سے لیکر آغا شورش کاشمیری تک کی روح بے چین ہوتی ہو گی۔اس انٹر نیٹ کی دنیا نے جہاں ہر کس و نا کس کودانشور،ادیب،شاعر،محقق،سفرنامہ نگار،تاریخ نویس،تجزیہ نگار،کالم نویس،صحافی اور نہ جانے کیا کیا بنا دیا ہے وہاں کھمبیوں کی طرح پیدا ہونے والے ایسے ایسے مبصر بھی پیدا کیئے ہیں جو خود اپنے آپ کو اپنے ہی قلم سے “معروف اور مقبول“ بھی لکھتے ہیں۔ ایسے ہی “معروف اور مقبول“ مبصروں اور کالم نگاروں نے روایتی درباری کالم نگاروں اور مبصرین کا کردار ادا کرتے ہوئے وزیر اعظم مخدوم سید یوسف رضا گیلانی کی “امریکہ یاترا“ سے پہلے ہی راگ درباری میں یہ الاپنا شروع کرد یا تھا کہ وزیر اعظم کا یہ تاریخی دورہ نہایت کامیاب رہے گا اور امریکہ و با اعتماد دوستی کے ایک نئے بندھن میں بندھیں گے۔خیر چھوڑیں اس بے بصر عہد میں کامیابی کے حکیمانہ نسخوں کو کہ شاید ہم جیسے قلم کار کبھی “اسٹیبلشمنٹ دوست“ ہو ہی نہیں سکتے اور جن لوگوں کو اپنے اپنے عہد میں مٹی کو سونا بنانے کا فن نہ آتا ہو انہیں اسی قلم کی حرمت کے نام پر رجب اور شعبان میں بھی رمضان کی طرح کے طویل روزے رکھنے چاہئیں۔ہم شاید من حیث المجموع بے حسی کی صورت حال سے بھی آگے نکل چکے ہیں اور گزشتہ ساٹھ سال کے عرصے میں بابائے قوم اور قائد ملت کے بعد آنے والے نام نہاد رہنماو¿ں اور قائدین نے ہمیں “عوامی غلامی“ کے ایسے حصار میں قید کر دیا ہے کہ پہلے ہم گداگروں کو سڑکوں پر بھیک مانگتے دیکھتے تھے تو افسوس کای کرتے تھے لیکن اب جب اپنے قائدین اور رہنماو¿ں کو ملک سے باہر جا کر بھیک مانگتے دیکھتے ہیں تو فخر سے سر اٹھا کر کہتے ہیں کہ ہمارے صدر کا وزیر اعظم کا دورہ نہایت کامیاب رہا ہے۔ یاد رہے ایک آفاقی فارمولا ہے جو افراد اور اقوام پر ایک ہی طرح صادق آتا ہے کہ “بے حسی بے حیائی کو جنم دیتی ہے“۔ یہ بے حیائی صرف جسم فروشی ہی نہیں ملت فروشی اور ضمیر فروشی بھی ہے۔ خبروں کی دنیا سے چوبیس گھنٹے منسلک ہونے کی وجہ سے ہم جیسے لوگوں کو وہ سب کچھ بھی سننا اور پڑھنا پڑتا ہے جو ہم نہیں چاہتے اور جو چاہتے ہیں ایسی کوئی خبر ایک عرصے سے رونما ہی نہیں ہو رہی۔ قائدین اور رہنما تو وہ ہوتے ہیں جو جنگ عظیم کے بعد بھی اپمے ملکوں اور عوام کو اعتماد اور یقین کی دولت بخشتے ہیں اور ملبے کے ڈھیر سے نئے اور روشن شہر تعمیر کرتے ہیں نا کہ اپنے باضمیر عوام کو بے ضمیر بناتے ہیں روشن شہروں کو تاریک گوٹھوں میں بدل دیتے ہیں۔ القمر آن لائن پر بلاگرز کی دنیا میں برسلز بلجیم سے میرے “دیوانے دوست“ عمران چوہدری نے شاید میری ہی بات اپنے الفاظ میں کہہ دی ہے “ہمارے وزیرِاعظم صاحب ہیں کہ م±لک میں عوام الناس آٹا، پانیَ بِجلی اور دیگر اشیاءصرف سے محروم ہوتے جا رہے ہیں اور قوتِ خرید اِتنی کم ہو گئی ہے کہ افراد خود فروشی پر ت±ل گئے ہیں اور پِھر بھی بحران ختم ہونے کا نام نہیں لے رہا اور بجائے اِس کے کہ گندم اور بِجلی کی سمگلنگ کو روکا جائے وہ بذاتِ خود آٹے روٹی کی بھیک مانگنے فرعونِ وقت کے دربار میں حاضر ہو گئے ہیں اور کِتنے فخر کے ساتھ بیان دیا ہے کہ ہمیں چند ملین ڈالر آٹے کی مد میں بھیک مِل گئی ہے۔ جِس روزی سے عِزتِ نفس مجروح ہو رہی ہو ا±س سے بہتر ہے کہ بھوک سے مر جایا جائے۔ اور پِھر کیا ہماری زمینیں بنجر ہو گئی ہیں یا کیا وہ ہاتھ ٹوٹ گئے ہیں جو زمینوں سے سونا نِکالا کرتے تھے اگر نہیں تو پِھر چیف ایگزیکٹیو صاحب اپنی اور اپنی ٹیم کی اِصلاح کرنے کی بجائے آپکو پوری قوم کی توہین کا مینڈیٹ کِس نے دیا ہے، میرا دِل کرتا ہے کہ۔۔۔۔۔۔۔“عمران چوہدری تو شاید اس سے آگے لکھتے ہوئے ر±ک گیا لیکن میرا قلم مجھے اسکی اجازت نہیں دیتا اس لیئے عمران کی اسی بات کو میں آگے بڑھاتا ہوں کہ“چیف ایگزیکٹیو صاحب اپنی اور اپنی ٹیم کی اِصلاح کرنے کی بجائے آپکو پوری قوم کی توہین کا مینڈیٹ کِس نے دیا ہے، میرا دِل کرتا ہے کہ۔۔۔۔۔اگر کوئی عالمی قانون ایسا ہو تو میں آپ کو اور آپ کی پشت پناہی کرنے والوں کو کسی عالمی عدالت میں لے جاو¿ں اور ملزموں کے کٹہرے میں کھڑا کر کے پوچھوں کہ اس ملک کی سونا اگلتی زمینوں کو اور اس ملک کے بیدار مغز عوام کے ذہنوں کو کس نے بنجر بنا دیا ہے۔اگر کہیں اسلامی دور ہوتا تو حاکم وقت سے ملک کے غربت زدہ عوام یہ سوال کر سکتے کہ ہمارے گھروں میں بجلی نہیں،آٹا نہیں، پانی نہیں،بنیادی سہولتیں نہیں اور آپ اتنے بڑے بڑے وفود کے ساتھ شاہی ایوانوں میں بیٹھ کے جو “نائن کورس ڈنر“ کرتے ہیں تو یہ لقمہ تر آپ کے حلق سے کیسے اترتا ہے؟ میرا دل کرتا ہے کہ کاش غربت کی لکیر سے بھی بہت نیچے زندگی گزارنے والے ان عوام کی بڑی تعداد یہ شعور کر لے کہ ان کی زندگیوں کے ساتھ ایس طرح کھیلنے کا حق کسی کو بھی نہیں اور یہ پاو¿ں ننگے عوام ان ایوانوں کا ر±خ کریں جہاں انکے حالات بہتر بنانے کے فیصلے نہیں کیئے جاتے بلکہ انہیں غلام بنائے رکھنے کے فارمولے تیار کیئے جاتے ہیں۔ عوام کا نام دراصل ایک گالی بن گیا ہے اور یہی بات اب عوام کو سوچنا ہوگی۔ صدر بش نے ہمارے وزیرا عظم سے ملاقات کر کے،خیرات میں کچھ دن کے لیئے کھانا مہیا کر کے اور ہماری “خود مختاری“ کے احترام کا اعلان کر جو ساری خفتہ قوم پر جو احسان کیا ہے اسکا بدلہ ہم اگر اتار سکے تو صرف شمالی اور جنوبی وزیرستان میں اتار سکیں گے۔وقت کس طرح بدل گیا ہے کہ وہ جماعت جو عوامی ہونے کی دعویدار ہے وہی اب عوام کی تذلیل کر رہی ہے، وہ سب لوگ جو انتخابات سے قبل یہ کہتے ہوئے نہیں تھکتے تھے کہ ہم اپنے شہروں میں امریکی مفادات کی لڑائی لڑ کر اپنے جوان مروا رہے ہیں اب وہ نہایت دیدہ دلیری سے چہرے پر ایک جھوٹی مسکراہٹ سجا کر کیمروں کی روشنیوں میں یہ بیان دیتے ہیں کہ یہ لڑائی پاکستان کی اپنی لڑائی ہے جو ہم لڑ رہے ہیں۔امریکہ یاترا ہو سکتا ہے کہ حجِ اکبر کی طرح ہو کہ حج اکبر میں “قلب المنقلبون“ کا معجزہ ہو جاتا ہے اور امریکہ یاترا میں دل کے ساتھ نگاہیں بھی اس طرح بدل جاتی ہیں کہ“ لیلیٰ نظر آتا ہے مجنوں نظر آتی ہے“۔ اے پی ایس

لاہور ہائیکورٹ کے فل بینچ نے شہباز شریف کی نا اہلی کے خلاف کیس کی سماعت ستمبر کے تیسرے ہفتے تک ملتوی کردی

لاہور ۔ عدالت عالیہ کے تین رکنی فل بینچ نے وزیر اعلی پنجاب میاں شہباز شریف کی پی پی 48 سے کامیابی کے خلاف درخواستوں کے فیصلہ کو ان کے خلاف نا اہلی کیس کے حتمی فیصلہ سے مشروط کرتے ہوئے مزید سماعت ستمبر کے تیسرے ہفتے تک ملتوی کردی ۔ جمعرات کے روز درخواست گزار شاہد اوکزئی نے دلائل دیتے ہوئے موقف اختیار کیا کہ میاں شہباز شریف کے پی پی 48 بھکر سے بلا مقابلہ کایمابی کے بعد انہیں پی پی 10 راولپنڈی سے بھی بلا مقابلہ کامیاب قرار دے دیا گیا جبکہ ایک رکن کے رکن اسمبلی منتخب ہوجانے کے بعد دوسری نشست خود بخود خالی ہوجاتی ہے لیکن میاں شہباز شریف وزیر اعلی کا منصب سنبھالنے کے باوجود اس نشست سے دستبردار نہیں ہوئے ۔ اس لئے انہیں نا اہل قرار دیتے ہوئے وزیر اعلی کے منصب پر کام کرنے سے روکا جائے جبکہ ایڈووکیٹ جنرل پنجاب خواجہ حارث نے اپنے دلائل میں کہا کہ کسی بھی رکن صوبائی اسمبلی کو دو نشستوں سے منتخب ہونے کی صورت میں 30 دن کے ا ندر ا یک نشست کو چھوڑنا ہوتا ہے اور میاں شہباز شریف نے مقررہ مدت ختم ہونے سے پہلے دوسری نشست چھوڑ دی تھی ۔ عدالت نے مزید ستمبر کے تیسرے ہفتے تک ملتوی کردی ہے ۔

اب کوئی ٥٨ ٹو بی استعمال نہیں کرسکتا موجودہ اسمبلیاں وفاقی و صوبائی حکومتیں اپنی آئینی مدت پوری کریں گی ۔سینٹر رضا ربانی

لاہور۔ سینٹ میں لیڈر آف ہاؤس رضا ربانی نے کہا کہ اسمبلی توڑنے کا مطالبہ کوئی نئی بات نہیں ہے رجعت پسند اور آمرانہ قوتیں حکومت کو عدم استحکام کا شکار کرنا چاہتی ہیں ۔انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم کا دورہ امریکہ اقتصادی طور پر کامیاب رہا ہے ۔پہلی بار امریکی سرزمین پر وزیراعظم نے ملکی سلامتی پر کھل کر بات کی ہے اور امریکہ کو باور کرایا ہے کہ پاکستان کی سلامتی اور خودمختاری کا احترام ضروری ہے۔ انہوں نے کہا ک اگر حکومتی اتحاد ٹوٹتا ہے تو اس کا فائدہ آمرانہ قوتوں کو ہوگا اور نقصان جمہوری قوتوں کو اٹھانا پڑے گا۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے پنجاب اسمبلی کے دورہ کے موقع پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کیا ۔ اس موقع پر سپیکر پنجاب اسمبلی رانا محمد اقبال اور سینئر صوبائی وزیر راجہ ریاض بھی موجود تھے ۔رضا ربانی نے کہا کہ سینٹ وفاق کی نمائندگی کرتا ہے آئین کے مطابق چاروں صوبوں کی برابری کی بنیاد پر نمائندگی ہے ۔اتحادی حکومت اصولی طور پر سمجھتی ہے کہ پارلیمنٹ کی بالادستی اسی صورت ہو سکتی ہے جب بڑے ایشوز پارلیمنٹ میں آئیں اس لئے میں نے بطور لیڈر آف ہاؤس یہ فیصلہ کیا ہے چاروں صوبوں کا دورہ کیا جائے اور چاروں وزرائے اعلیٰ اور سپیکر اسمبلی سے ملاقاتیں کرکے ان سے ایسے ایشوز بارے معلومات حاصل کی جائیں جو وفاق سے متعلقہ ہیں اور انہیں سینٹ میں لاکر ان پر سیر حاصل گفتگو کی جائے اور حکومت کو مناسب تجاویز دی جائیں۔انہوں نے کہا کہ اسمبلی توڑنے کا مطالبہ کوئی نئی بات نہیں ہے رجعت پسند اور آمرانہ قوتیں حکومت کو عدم استحکام کا شکار کرنا چاہتی ہیں بالخصوص 18فروری کو پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) کو ملنے والے مینڈیٹ کے بعد یہ کوششیں جاری ہیں ۔تاہم انہوں نے کہا کہ اب کوئی 58ٹو بی استعمال نہیں کرسکتا موجودہ اسمبلیاں وفاقی و صوبائی حکومتیں اپنی آئینی مدت پوری کریں گی۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم کا دورہ امریکہ اقتصادی طور پر کامیاب رہا ہے اس دورے کے بعد ہمیں جو امداد مل رہی ہے اس کو دیکھتے ہو ئے اس دورے کو ہرگز ناکام نہیں کہا جاسکتا۔ اور پھر پہلی بار امریکی سرزمین پر وزیراعظم نے ملکی سلامتی پر کھل کر بات کی ہے اور امریکہ کو باور کرایا ہے کہ پاکستان کی سلامتی اور خودمختاری کا احترام ضروری ہے ۔ وزیر اعظم کے دورہ امریکہ سے قبل قبائلی علاقوں میں آپریشن سے متعلق سوال پر رضا ربانی نے کہا کہ موجودہ اتحادی حکومت تحفوں پر یقین نہیں رکھتی۔صوبائی حکومت کی درخواست پر قبائلی علاقوں میں آپریشن کیا گیا اور وزیر اعظم کے امریکہ جانے سے پہلے اہداف حاصل کرکے آپریشن ختم کردیا گیا۔ اب فاٹا میں سیکورٹی فورسز پر حملہ ہوا ہے جس کے بعد محدود ایکشن کیا گیا ہے۔ایک اور سوال پر انہو ں نے کہا کہ آئی ایس آئی بلاشبہ پاکستان کی اہم اور بڑی انٹیلی جنس ایجنسی ہے ۔میثاق جمہوریت میں بھی ہم نے اس حوالے سے بات کی ہے اور تمام جمہوری قوتوں میں اس بات پر اتفاق ہے کہ انٹیلی جنس ایجنسیوں کے سیاسی ونگز ختم کئے جائیںتاہم ان کے دیگر آپریشنز چلتے رہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومتی اتحاد اپنی مدت پوری کرے گا ۔آصف علی زرداری اور میاں نواز شریف اچھی طرح سمجھتے ہیں کہ ملک کو اتحاد کی ضرورت ہے اسے برقرار رہنا چاہیے تاہم اگر اتحاد ٹوٹتا ہے تو اس کا فائدہ آمرانہ قوتوں کو ہوگا اور نقصان جمہوری قوتوں کو اٹھانا پڑے گا۔

جاپان کا بھارت میں ممکنہ بم دھماکوں سے محتاط رہنے کا انتباہ ، سفارتخانہ فوری طور پر بند کرنے کا اعلان

ٹوکیو + نئی دہلی ۔ جاپان نے بھارت میں مسلسل بم دھماکوں کے بعد جمعرات کو اپنے شہریوں کو نئی دہلی میں ممکنہ بم دھما کوں کے بارے میں خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان بم دھماکں کے پیش نظر عارضی طورپر سفارتخانہ بند کر دیا جائے گا ۔ جاپانی سفارتخانے کا کہنا ہے کہ انہیں بدھ کے روز ایک ای میل ملی جس میں دارالحکومت کے علاقے سروجینی نگر کے مصروف ترین مارکیٹ میں دھما کے کی دھمکی دی گئی ہے ۔ نئی دہلی میں جاپانی سفارتخانے نے اپنی ویب سائٹ پرایک نوٹس جاری کرتے ہوئے اپنے شہریوں سے مزید اپیل کی ہے کہ وہ محتاط رہیں اور ریلوے سٹیشن ، مارکیٹس ، بس اڈے اور مذہبی ادارہ جات جیسے مصروف ترین مقامات پر جانے سے اجتناب کریں ویب سائٹ پر جاری بیان میں کہاگیا ہے کہ سفارتخانہ عارضی طورپر بند رہے گا۔ کیونکہ اس کا کونسلر شعبہ غیر محفوظ ہے۔ ادھر ٹوکیو میں وزارت خارجہ کے ترجمان نے کہا ہے کہ جاپانی سفارتخانہ کو دھمکانے والی ای میل بھیجی گئی ۔ ترجمان نے مزید تفصیل بتانے سے انکارکردیا کہ جاپانیوں کو کہاں اورکیوں نشانہ بنایا جائے گا۔ واضح رہے کہ حالیہ دنوں میں بھارت کے شہر احمد آباد میں ہونے والے بم دھماکوں میں 49 افراد ہلاک اور 160 سے زائد زخمی ہوئے تھے

سوات کے علاقہ دیولئی اور سکئی میں مارٹر گولے گرنے سے ٥ بچوں سمیت ١٣ افراد جاں بحق

سوات ۔ سوات کی تحصیل کبل میں دو مکانوں پر مارٹر گولے گرنے سے 13 افراد جاں بحق ہو گئے جبکہ سوات اور مینگورہ میں کرفیو میں دو گھنٹے کی نرمی کی گئی۔ جس کے بعد دوبارہ نافذ کردیا گیا ۔سوات آپریشن میں حصہ لینے کے لیے فرنٹیئر کور کے تازہ دم دستے مٹہ اور کبل پہنچ گئے۔ سوات کی تحصیل کبل کے علاقے دیو لئی میں مقامی پیش امام کے گھر پر مارٹر گولہ کرنے سے پیش امام ان کی اہلیہ اور 5 بچے جاں بحق ہو گئے۔ سکئی میں مارٹر گولے گرنے سے 5 افراد جاں بحق ہوئے۔ تحصیل مٹہ میں سیکورٹی فورسز نے متعدد ٹھکانے بھی تباہ کر دیئے گئے۔ ادھر کبل پولیس سٹیشن اور ولئی چیک پوسٹ پر طالبان نے حملہ کیا لیکن جوابی کارروائی کے بعد طالبان فرار ہو گئے جبکہ کبل تھانے کے قریب سے ایک لاش بھی ملی ہے شرپسندوں نے خوازہ خیلہ کے علاقے عالم گنج میں سکول کو آگ لگا دی اور مٹہ میں ایک پل دھماکہ خیز مواد سے تباہ کر دیا ۔ نواکلے میں پولیس نے 5مشتبہ افراد کو گرفتار کر لیا۔

معزول ججوں کی بحالی تک تحریک جاری رکھی جائے گی ۔ ریلی سے رہنماؤں کا خطاب

لاہور ۔ 14 اگست تک معزول جج بحال نہ کئے گئے تو وکلاء قیادت تحریک کو فائنل راؤنڈ میں داخل کرنے کیلئے لائحہ عمل دے گی ۔ پی سی او ججوں کو کسی بھی صورت تسلیم نہیں کیا جا سکتا ۔ وکلاء اور عوام کی قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی ۔ وکلاء اتحاد کو برقرار رکھیں اور وکلاء میں انتشار پیدا کرنے کی کوئی سازش کامیاب نہیں ہونے دی جائے گی ۔ ان خیالات کا اظہار وکلاء رہنماؤں نے وکلاء کی ہفتہ وار ریلی سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔ ریلی کی قیادت لاہور ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر انور کمال نائب صدر میاں اسلم اور سیکرٹری سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن جاوید امین چوہودری نے کی ۔ ریلی میں مسلم لیگ (ن) لاہور کے صدر میاں مرغوب احمد رکن صوبائی اسمبلی سید اشتیاق جماعت اسلامی کے مرکزی سیکرٹری اطلاعات امیر العظیم تحریک انصاف خاکسار تحریک اور دیگر سیاسی رہنماؤں و کارکنوں نے بھی بڑی تعداد میں شرکت کی ۔ قبل ازیں ریلی کا آغاز ایوان عدل سے ہوا ۔ ریلی جی پی او چوک پہنچی تو لاہور ہائیکورٹ سے بھی وکلاء کی بڑی تعداد ریلی میں شامل ہو گئی ۔ دریں اثناء لاہور ہائیکورٹ سمیت وکلاء نے تمام ماتحت عدالتوں میں عدالتی کام کا بائیکاٹ کیا اور عدالتوں میں پیش نہیں ہوئے ۔ وکلاء رہنماؤں نے ایک بار پھر اعادہ کیا کہ کسی بھی صورت عدلیہ کی آزادی اور معزول ججوں کی بحالی سے دستبرداری اختیار نہیں کی جائے گی ۔ انہوں نے مسلم لیگ (ن) سے بھی مطالبہ کیا کہ اب دوہرا کردار چھوڑ کر واضح حکمت عملی اختیار کرے اور وکلاء تحریک میں بھرپور طور پر شامل ہو جائے

نواز شریف کے ساتھ معاملات میثاق جمہوریت کے تحت حل کئے جائیں گے ‘ سید یوسف رضا گیلانی

مانچسٹر ۔ وزیر اعظم سید یوسف رضا گیلانی نے کہا ہے کہ مسلم لیگ ( ن ) کے قائد میاں نواز شریف کے ساتھ معاملات میثاق جمہوریت کے تحت حل کئے جائیں گے ۔ وزیر اعظم تین روزہ امریکی دورے کے بعد مانچسٹر پہنچے تو وہاں اپنے وفد میں شامل صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ عوام کی جانب سے 18 فروری کے انتخابات میں دونوں بڑی سیاسی جماعتوں پر بھاری ذمہ داری عائد کی گئی ہے ۔ وزیر اعظم نے کہا کہ ملک کو درپیش تمام چیلنجوں سے نمٹنے کے لئے ایک سوچ کے ساتھ قدم اٹھانا چاہئے ۔ وزیر اظم نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ معزول ججوں کی بحالی کا معاملہ خوس اسلوبی سے طے کر لیا جائے گا ۔ انہوں نے کہا کہ امریکی انتطامیہ نے ملک میں جمہوری اداروں کے استحکام کے لئے واضح یقین دہانیاں کرائی ہیں انہوں نے کہا کہ سرحدوں پر نقل و حرکت کے حوالے سے بھارتی الزامات سے باہمی تعلقات میں کوئی فرق نہیں آئے گا اور سرحدی معاملات فوجی کمانڈروں کی سطح پر حل کئے جا رہے ہیں ۔

نیب نے نواز شریف ، شہباز شریف سمیت ١٩ افراد کو عدالت میں حاضری کے سمن جاری کرنے کی درخواست کر دی

راولپنڈی ۔ نیب حکام نے سابق وزیر اعظم و مسلم لیگ ( ن ) کے سربراہ میاں محمد نواز شریف ، وزیر اعلیٰ پنجاب محمد شہباز شریف اور ان کے خاندان کے دیگر افراد سمیت 9 افراد کے خلاف تین ریفرنسوں حدیبیہ پیپر ملز ، اتفاق فاونڈریز اور ٹیکسوں میں خردبرد کرنے میں ان کو عدالت میں حاضری کے سمن جاری کرنے کی درخواست کر دی ہے ۔ راولپنڈی احتساب عدالت نمبر 4 کے جج خالد محمود کی عدالت میں دائر ان تینوں ریفرنسوں کو ’’ ری اوپن ‘‘ کرنے کے لیے درخواست پہلے ہی دائر کر دی گئی تھی جس پر آج نیب حکم کی طرف سے ڈپٹی پراسیکیوٹر جنرل ذوالفقار احمد بھٹہ اور پراسیکیوٹر عارف علی ظفر چوہان فاضل عدالت میں پیش ہوئے اور درخواست دائر کرتے ہوئے موقف اختیار کیا کہ ان ریفرنسوں میں میاں محمد نواز شریف ، شہباز شریف ، میاں محمد عباس ، صبحیہ عباس ، مریم صفدر ، اور حمزہ شہباز وغیرہ کو پہلے بھی طلبی کا سمن جاری کیا گیا تھا لیکن ان کے بیرون ملک ہونے کے باعث اس پر عملدرآمد نہ ہو سکا لہذا ان کو عدالت میں پیش ہونے کے لیے سمن جاری کیا جائے اور قانونی کارروائی کی جائے ۔ فاضل عدالت نے درخواست پر بحث کے لیے سماعت 21 اگست تک کے لیے ملتوی کر دی ہے

ہائی کورٹ نے پنجاب کے ٤٨٨ پراسیکیوٹر کی برطرفی کا حکم معطل کردیا

راولپنڈی ۔ عدالت العالیہ راولپنڈی بینچ کے جسٹس خلیل احمد نے عبوری حکم کے تحت پنجاب بھر کے 488 پراسیکویٹر کی برطرفی کے حوالے سے حکومت پنجاب کا حکم نامہ معطل کردیا ہے ۔ اور حکم نامے سے متاثر ہونے والے راولپنڈی ڈویژن کے 29 پراسیکویٹر کو رٹ پٹیشنوں کے فیصلے تک ان کے عہدوں پر کام کرنے کی اجازت دیدی ہے ۔ فاضل عدالت نے اس حوالے سے چار دائر الگ الگ رٹ پٹشنوں کو باقاعدہ سماعت کے لیے منظور کرتے ہوئے حکومت پنجاب سے بھی تفصیلی جواب طلب کر لیا ہے ۔ فاضل جج نے یہ عبوری حکم ملک نازک اور ظفر اللہ سمیت دیگر 29 متاثرہ پراسیکیوٹروں کی طرف سے دائر چار الگ الگ رٹ پٹیشنوں کی ابتدائی سماعت کے موقع پر جاری کیا ۔ راولپنڈی کے 24 ‘ چکوال کے 4 اور اٹک کے 2 متاثرہ پراسیکیوٹر نے سردار عبدا رازق کے ذریعے پراسیکویشن پنجاب کے اس حکم نامے کو چیلنج کیا تھا کہ جس میں صوبہ بھر کے 488 پراسیکیوٹر کو بیک جنبش قلم برطرف کردیا گیا تھا۔ متاثرہ پراسیکیوٹر نے اپنے رٹ پٹیشنوں میں موقف اختیار کیا تھا کہ وہ قواعد وضوابط کے مطابق اسسٹنٹٹ ڈسٹرکٹ پبلک پرسیکیوٹر اور ڈپٹی ڈسٹرکٹ پبلک پراسیکیوٹر کے عہدوںپر تعینات ہوئے اور اپنی پیشہ وارانہ مہارت ‘ تعلیمی قابلیت اور دل جمعی کے ساتھ اپنے فرائض ادا کررہے تھے۔ نو منتخب سیاسی اور جمہوری صوبائی حکومت نے کسی پیشگی یا شوکاز نوٹس کے بغیر ایک حکم نامے کے تحت انہیں برطرف کردیا گیا ۔ رٹ میں کہا گیا تھا کہ انہین سیاسی انتقام کی بھینٹ چڑھا کر صوبائی حکومت ان کی جگہ اپنے منظور نظر افراد کو تعینات کرنا چاہتی ہے ۔ صوبائی حکومت کی ہدایت پر پراسیکیویشن پنجاب کا یہ حکم نامہ بدنیتی پر مبنی ہے لہذا اسے کالعدم قراردے کر انہیں ان کے عہدوںپر بحال کیا جائے جمعرات کے روز سماعت کے موقع پر حکومت کی پیروی ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل پنجاب نے کی ۔ جبکہ درخواست گزاروں کی طرف سے عبدالرازق نے دلائل دئیے ۔ ابتدائی سماعت کے موقع پر سرکاری وکیل نے استدعا کی کہ عدالت کوئی حکم جاری کرنے سے پہلے انہیں تفصیلی جواب داخل کرنے کی مہلت دے ۔ جس پر فاضل جج نے استدعا مسترد کرتے ہوئے عبوری حکم جاری کرنے کے بعد سماعت ملتوی کردی ۔

امریکہ ہمارے ذاتی معاملات میں مداخلت نہ کرے ، چین

بیجنگ ۔ چین نے امریکہ پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکہ چین کے اندرونی معاملات میں دخل اندازی سے گریز کرے چین کی وزارت خارجہ کے ترجمان لی جن چاؤ نے اپنے ایک بیان میں امریکہ چین کے اندرونی معاملات میں دخل اندازی چھوڑ دے اور صدر بش بیجنگ میں ہونے والی اولمپکس گیمز کو سیاسی بنانے کی کوشش نہ کرے۔ چینی وزارت خارجہ کا یہ سخت بیان اس وقت سامنے آیا ہے جب اولمپکس گیمز کو شروع ہونے میں صرف 8دن باقی رہ گئے ہیں۔ لی جن چاؤ نے کہا کہ امریکی صدربش نے واشنگٹن میں 5چین مخالف گروہوں کے رہنماؤں سے ملاقاتیں کی ہیں جو چین کو توڑنے کی سازش کر رہے ہیں

جہاد اکنامکس اینڈ اسلا مک بینکنگ اسلامی معاشی نظام کو کنٹرول کرنے کی امریکی آرمڈ گروپس رپورٹ

مسلمانوں کی اکثریت کے نزدیک دہشت گردی کے خلاف ”مٹھی بھر دہشت گردوں “کے خلاف جنگ نہیں ہے بلکہ دنیا بھر میں ان کے ایمان اور عقیدے کے خلاف جنگ کا نام ہے۔رپورٹ: اے پی ایس ، اسلام آباد
امریکی آرمڈ گروپس نے قومی سلامتی اور دہشت گردی و عسکریت پسندی کے خاتمے کے حوالے سے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ اسلامی شدت پسندی کے خلاف جدید اسلحے اور ٹیکنالوجی کی مدد سے جنگ جیتنا ناممکن ہے اس جنگ کو جیتنے کے لئے تیزی سے پھیلتے ہوئے اسلامک فنانشنل سسٹم ( اسلام کے مالیاتی نظام ) کوکنٹرول کرنا ہو گا جو مغربی معیشت اور منڈیوں پر قبضہ کر رہا ہے ۔ تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتیں اسلامی بینکوں میں سرمائے کو بڑھا رہی ہیں جس سے اسلامی معاشی نظام اور جہاد باالمال کو وسعت مل رہی ہے ۔ دہشت گردی کے خاتمے میں سعودی حکومت کا کردار کس سے ڈھکا چھپا نہیں ۔ 2008 ء میں اسلامی عسکریت پسندی کی سعودی حکومت کی جانب سے مدد کے ثبوت ملے ہیں ۔ شیخ زید بن سلطان پہلا عرب حکمران تھا جس نے معاشی جہاد کی اہمیت کو سمجھا اور تیل کو بطور ہتھیار استعمال کیا ۔ اسلامی شدت پسندی کے خلاف جنگ جیتنے کے لئے اسلام کے معاشی نظام کو پھیلنے سے روکنا ہو گا ۔ ڈاکٹر رچل ارینفیلڈ اور الیسا اے لیپن کی اس رپورٹ میں جس کا عنوان ” جہاد اکنامکس اینڈ اسلامک بینکنگ “ ہے میں کہا گیا ہے کہ امریکہ اور مغربی ممالک اسلامی شدت پسندی کے خلاف جنگ جدید فوجی ٹیکنالوجی سے نہیں جیت سکتے اس جنگ کو جیتنے کے لئے عالمی سطح پر پروان چڑھنے والے نظریئے اور سیاسی تحریک میں شریعت اور اخوان المسلمون کے کردار کو سمجھنے کی ضرورت ہے جس کو اسلام کے معاشی نظام کی زبردست حمایت حاصل ہے یہ معاشی نظام مغربی معیشتوں اور منڈیوں کو زیر کر رہا ہے ۔ تحقیقاتی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اسلامی معاشی نظام ایک نئے ہتھیار کے طور پر سامنے آ رہا ہے ۔ اس اسلامی معیشت کے نظریئے کو استعمال کر کے امت کے تصور کو حاصل کیا جائے گا ۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مغربی ممالک خلیجی ممالک کے تیل پر انحصار کرنے کی وجہ سے ” معاشی جہاد “ کو نظر انداز کر رہے ہیں ۔ اس لئے امریکہ کو اس ” فنانشنل جہاد “ کے خاتمے کے لئے پالیسی ترتیب دینی چاہئے ۔ رپورٹ میں جہاد کی مالی معاونت یا جہاد با المال کو ” فنانشنل جہاد “ کہا گیا ہے اور کہا گیا ہے کہ معروف عالم دین یوسف القرضاوی نے واضح طور پر یہ کہا ہے کہ مجاہدین کے لئے چندہ جمع کرنا صرف ایک تحفہ نہیں بلکہ ہر مسلمان پر فرض ہے کہ وہ جہاد میں مال دے ۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ 1920 ء میں مصر کے اندر اخوان المسلمون کے بانی حسن البناء نے سیاسی معاشی اور مالی بنیادیں فراہم کیں تاکہ ” مالی جہاد “ کیا جا سکے اور یہی وہ پہلا شخص تھا جس نے اس ضرورت پر وزر دیا کہ دنیا پر حکمرانی کرنے کے لئے ایک خود مختار اسلامی معاشی نظام ترتیب دینا ہو گا اور پھر اسی نظریئے کے تحت اسلامی معیشت اور بینکاری کو پروان چڑھایا جا رہا ہے ۔ حالانکہ 1930 ء میں بھارت کے اندر اور 1964 ءمیں جمال عبدالناصر نے مصر میں اسلامی بینک قائم کرنے پر پابندی لگا دی تھی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سعودی عرب نے اس نئے معاشی نظام کو 1954 ء سے 1961 ء تک اپنے ملک میں خوب پروان چڑھایا اور اس کے تحت دنیا بھر میں رفاحی ادارے قائم کئے گئے جو دہشت تنظیموں کی مالی معاونت کر رہے ہیں اسی طرح 1978 ءمیں انٹرنیشنل اسلامک ریلیف کی بنیاد رکھی گئی جو دوسری کئی رفاحی تنظیموں کی طرح 9/11 کے حملوں میں اور فلسطین کی مالی معاونت کر رہی ہے ۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ یہ تمام رفاحی تنظیمیں دراصل اخوان المسلمون اور سعودی سیاسی ایجنڈے کو آگے بڑھا رہی ہیں ۔ اسی طرح اسلامی ترقیاتی بینک بھی یہی کام سرانجام دے رہا ہے اسلامی ترقیاتی بینک تعلیم کے میدان میں شدت پسند اسلام کو پروان چڑھا رہا ہے ۔ اسلامی ترقیاتی بینک نے 2001 ءمیں فلسطین کے دوسرے انتفادہ کے لئے 538 ملین ڈالر کی مدد دی ۔ اسی طرح سے رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ امریکن لائبریری آف کانگریس کی 1991 ءکی رپورٹ کے مطابق اسلامی ترقیاتی بینک سوڈان میں الفیصل اسلامک بینک کی مدد کرتا ہے اور سوڈان کی حکومت نے 1989 ء میں اپنے 25 بینکوں کی اسلامی نظام میں تبدیل کر دیا تھا ۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ تیل کی آمدنی کے بڑھنے کے ساتھ ساتھ اخوان المسلمون کے ویڑن کو نافذ کیا جا رہا ہے اور اسلامک بینکنگ سسٹم ایک جہاد ہے جو مغربی معاشی نظام کے لئے خطرہ ہے ۔ رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتیں اسلامک بینکوں میں سرمائے کو بڑھا رہی ہیں جس سے اسلامی معاشی نظام اور مالی جہاد کو مزید وسعت مل رہی ہے ۔ جو غیر مسلم دنیا کے لئے ایک بڑا خطرہ ہے رپورٹ کے مطابق اسامہ بن لادن نے بھی 9/11 کے حملوں کے وقت مسلمانوں سے کہا تھا کہ وہ امریکی معیشت کو نشانہ بنائیں اور دشمن کے بنیادی ستون کو تباہ کر دیں ۔ اسی طرح سے اس رپورٹ میں اسلام کے اہم ستون زکوٰ? کے بارے میں کہا گیا ہے کہ زکوٰ? بھی دنیا میں دہشت گردی اور انتہا پسندی پھیلانے میں استعمال کی جا رہی ہے کیونکہ جہادی تنظیموں کو زکوٰ? کا ایک بڑا حصہ دیا جاتا ہے ۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ 2007 ء میں سعودی عرب میں 18 بلین ڈالر زکوٰ? کی مد میں جمع کئے گئے اسی طرح سعودی حکومت نے 1970 ء کی دہائی میں 100 بلین ڈالر دنیا بھر میں مساجد اسلامی ادارے اور اسلامی یونیورسٹیاں بنانے پر خرچ کئے تاکہ مسلم امہ کی طاقت کو بڑھاتے ہوئے مغربی معیشت کو زیر کیا جا سکے اور مغربی معیشت ‘ سیاسی نظام ‘ ثقافت ‘ تعلیمی نظام اور قانونی سٹرکچر کی جگہ پر شریعت لاگو کی جائے ۔ اسی طرح سے سعودی حکومت نے گزشتہ 13 سالوں کے دوران برطانوی یونیورسٹیز میں اسلامک سنٹر قائم کرنے کے لئے 459 ملین ڈالر خرچ کئے ہیں ۔ رپورٹ کے مطابق دہشت گردی کی مدد کرنے میں سعودی عرب کا کردار ڈھکا چھپانہیں ہے ۔ 2008 ء کے آغاز میں امریکی حکام نے اس بات کا پتہ چلایا کہ سعودی حکومت عسکریت پسندوں کی مالی معاونت کر رہی ہے ۔ اسی طرح سے عرب امارات کی حکومت بھی اس میں ملوث ہے رپورٹ کے مطابق شیخ زید بن سلطان پہلا عرب حکمران جس نے ” اکنامک جہاد “ کی اہمیت کو سمجھا اور 1973 ءمیں تیل کو بطور سیاسی ہتھیار استعمال کیا اور 1991 ء کی خلیجی جنگ کے دوران اسرائیل کو مسلمانوں کا دوسرا بڑا دشمن قرار دیا جبکہ ہیومن اپیل انٹرنیشنل ایسا ادارہ ہے جس کے بورڈ میں عرب امارات کا صدر بھی ہوتا ہے یہ ادارہ فلسطینی شہید قیدیوں کے خاندانوں اور تنظیموں کی مدد کرتا ہے ۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مغرب کو یہ جنگ جیتنے کے لئے اسلام کے معاشی نظام کو کنٹرول کرنا ہو گا کیونکہ مسلمان دنیا میں اپنی حکومت قائم کرنے کے لئے شریعت کو اپناتے ہیں ۔ جبکہ شریعت کو ایک دشمن کے طور پر نہیں لیاگیا اور نہ ہی اس کو سمجھا گیا ہے ۔ حالانکہ اس کے علاوہ ہمارے پاس کوئی چارہ نہیں ہے ۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اس جنگ کو جیتنے کا طریقہ اس کے علاوہ کوئی نہیں ہے کہ شرعی ریاست کے قیام ،اسلامی رفاحی تنظیموں اور انفرادی سطح پر اس کو روکا جائے ۔ اسی طریقے سے ہم شریعت کے عالمی نظام کو زیر کر سکتے ہیں اور اس کے نظام کو اسی کے خلاف استعمال کر سکتے ہیں ۔ کیونکہ کمیونزم کو بھی اسی طرح سے ختم کیا گیا تھا ۔ جبکہ امریکی وزارت دفاع ”پنٹاگون “سے ملحق ادارے ”رینڈ “ نے امریکہ کو تجویز دی ہے کہ ”دہشت گردی کے خلاف جنگ “ کا استعمال بند کردیا جائے۔ نیز دہشت گرد گروپوں کے خلاف بھاری بھرکم فوجی کارروائیوں پر انحصار ختم کرکے پالیسیاں بنانے اور انٹیلی جنس کے ذریعے معلومات اکٹھی کرنے پر توجہ دی جائے ۔مڈل ایسٹ اسٹڈی سنٹرنے رینڈ کارپوریشن کے حوالے سے انکشاف کیا ہے کہ امریکی حکومت کو تجویز دی گئی ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ کی اصطلاح ترک کردی جائے ۔ رینڈ کارپوریشن کے تحقیقی مطالبے ”دہشت گرد گروپ کس طرح ختم ہوسکتے ہیں ‘القاعدہ کو ختم کرنے سے ملنے والے سبق “میں یہ تجویز دی گئی ہے کہ واشنگٹن ”دہشت گردی کے خلاف جنگ “ کی اصطلاح کو ”دہشت گردی مقابلہ “ کا نام دیا جائے۔ دہشت گردوں کو مجرم سمجھا جائے اور کہا جائے کہ مقدس جنگجو نہ کہا جائے۔ رینڈ کارپوریشن امریکی افواج کے لیے ریسرچ کے ادارے کی حیثیت سے خدمات سرانجام دیتارہاہے۔ رپورٹ میں کہاگیاہے کہ ہم دہشت گردوں کے خلاف جو سٹریٹجی اختیار کرتے ہیں ‘ ان اصطلاحات کا صحیح پس منظر میں ہونا ضروری ہے کیونکہ اس کے بعد ہی آپ یہ فیصلہ کرتے ہیں کہ کس قسم کی قوت کا استعمال کیا جائے ۔ وائٹ ہاو¿س کی ویب سائٹ پر صفحہ موجود ہے جس کا نام ہی ”دہشت گردی کے خلاف عالمی جنگ “ہے ‘ رینڈ کی تحقیق کے مطابق تقریباً امریکہ کے تمام اتحادی مثلاً برطانیہ اور آسٹریلیا نے ”دہشت گردی کے خلاف جنگ “کی اصطلاح کو استعمال کرنا چھوڑ دیا ہے ۔ برطانوی وزارت خارجہ نے دنیا بھر میں موجود اپنے سفیروں اور ترجمانوں سے کہا ہے کہ وہ اس متنارعہ ”جملے “ یا ”عنوان “کو استعمال کرنا بند کردیں تاکہ سیاق و سباق سے ہٹ کر اس کے کوئی دیگر مفاہیم مرتب نہ کئے جاسکیں اور اس سے نقصان ہوسکتاہے۔ مسلمانوں کی اکثریت کے نزدیک دہشت گردی کے خلاف ”مٹھی بھر دہشت گردوں “کے خلاف جنگ نہیں ہے بلکہ دنیا بھر میں ان کے ایمان اور عقیدے کے خلاف جنگ کا نام ہے۔ ناقدین کا کہناہے کہ یہ ”ملٹری “ اصطلاح ہے اور اس میں دہشت گردی کی بنیادی وجوہات کو بیان نہیں کیاگیا۔ دوسروں کاکہناہے کہ عسکریت پسند جنگ کے مفاہیم سے آگاہ ہیں‘ ”تہذیبی کشمکش سے بھی آگاہ ہیں “ اور انہی کو بنیاد بنا کر رضا کار بھرتی کرتے ہیں۔رینڈ تحقیقاتی ادارے کی تحقیق میں اختتام پر بتایا گیاہے کہ امریکہ کی موجودہ پالیسی جس میں فوجی قوت کے دہشت گرد گروپوں کے خلاف زیادہ ”استعمال ‘ ‘ پر زور دیاگیاہے ‘ ناکام ہوچکی ہے ۔ تحقیقی رپورٹ کے مرتب اور سیاسیات کے ماہر سیٹھ جونز کا کہناہے کہ ”امریکہ القاعدہ یا دیگر دہشت گرد گروہوں کے خلاف موثر طویل مدتی مہم اس وقت تک نہیں چلا سکتا جب تک امریکہ کو یہ علم نہ ہو کہ دہشت گردگروپوں کا خاتمہ کس طرح کیا جاتاہے۔ اس کی کئی مثالیں موجود ہیں کہ دہشت گردی کے خلاف فوجی قوت کے استعمال سے کامیابی نہیں ہوئی ہے۔ اس معروف تحقیقی ادارے رینڈ میں کام کرنے والے محققوں نے 648دہشت گرد گروپوں کا مطالعہ کیا کہ جو 1968اور 2006ء کے درمیان منظر عام پر آئے اور ان میں سے چند ایک ہی کو فوجی طریقوں سے شکست دی جاسکی۔ جن گروپوں کامطالعہ کیاگیا ان میں سے صرف 7فیصد کو فوجی کارروائیوں سے ختم کیا جاسکا۔اس مطالعے میں بتایا گیاہے کہ دیگر دہشت گرد گروپ جس طرح ختم ہوئے ‘ اس کی ایک اہم وجہ یہ تھی کہ ان کی اکثریت نے یا تو سیاسی مراحل میں شرکت کرلی یا ان کو پولیس اور انٹیلی جنس افسروں نے گرفتار کرلیا ‘ یا ختم کردیا ۔ اقوام متحدہ کے فارن پالیسی رسالے نے نمایاں امریکی ماہرین اور سابق عہدیداران نے سروے کرکے یہ رپورٹ شائع کی ہے کہ واشنگٹن دہشت گردی کے خلاف جنگ ہار رہاہے۔ رینڈ نے متوازی حکمت عملی کی تجویز دی ہے اور وہ یہ ہے کہ دنیا بھر میں القاعدہ کے خلاف فوجی قوت کا استعمال نہیں بلکہ خفیہ ایجنسیوں کا استعمال کارآمد رہے گا۔ خفیہ ایجنسیوں کے استعمال کو 11ستمبر کے بعد کے مراحل میں کافی اہمیت دی گئی ہے۔ اے پی ایس

مکتوب گجرات عا مربےگ +ضےاءسےد ، ایسوسی ایٹڈ پریس سروس



ڈی پی او گجرات طاہر عالم خان نے صحافےوں کی نشاندہی پر 15رےسکےو کی کارکردگی کا جائزہ لےا اوربلا وجہ فون نمبر مصروف ہونے پر اےکشن لےتے ہوئے محکمہ پی ٹی سی اےل کو ہداےت جاری کےں ہےں کہ فری کال کا دورانےہ 90سےکنڈکےا جائے تاکہ اےمر جنسی نمبر ز پر آنے والی را نگ کالزکا خاتمہ کےا جا سکے اور عوام کو بہتر سہولت فراہم کی جا سکے ڈی پی او نے 15رےسکےو کے آپرےٹر ز کی کارکر دگی پر عدم اعتماد کا اظہار کےا ہے اور کار کردگی بہتر بنانے کی ہداےت کی ہے ۔ حکمران اتحاد انتقامی کار وائےوں مےں مصروف ہے جس کی وجہ سے ق لےگ کے کارکن اپنی بقاءکی جنگ لڑنے کے لےے تےا ر ہوگئے ہےںان خےالا ت کا اظہار پاکستان مسلم لےگ ق ضلع گجرات کے جنرل سےکرٹری چوہدری محمد طفےل نے اپنی رہائش گاہ پر پر ےس کانفرنس سے خطاب کر تے ہوئے کےا انہوں نے کہاکہ وفاقی وزےر دفاع کے غنڈوں نے شادمان مےں واقع کےبل نےٹ ورک کے دفتر پر قبضہ کر لےا جبکہ مےر ے بےٹے چوہدری عمران طفےل کے انمول پلازہ کو بلاوجہ گےرا کر چوہدری برادران کا ساتھی ہونے کی سزا دی جارہی ہے ہمارا خاندان قبضہ گروپ نہےں بلکہ عوامی خدمت گار ہے چوہدری برادران اور ق لےگ سے مضبوط رشتہ قائم ہے ان اوچھی حرکتوں سے ہمےں جھکاےا نہےں جا سکتا ق لےگ نے اپنے دورے اقتدار مےں کسی کے خلاف انتقامی کار وائی نہےں کی جبکہ حکمران اتحاد مےں شامل افراد ق لےگ کے کارکنوں اور رہنمائوں کے خلاف ذاتی عناد پر جھوٹے مقدمے درج کر وا رہے ہےں ضلع گجرات مےں امن وامان کی صورتحال کو خراب کرنے کی کو شش کی جارہی ہے جبکہ ڈی سی او اور ڈی پی او گجرات خاموش بےٹھے ہوئے ہےں اگر ہمارے کارکنوں کے خلاف جھوٹے مقدمے ختم اور مےرے خاندان کے خلاف انتقامی کاروائےوں کا سلسلہ بند نہ کےا گےا تو راست اقدام کرےں گئے اور قانونی چارہ جوئی کا حق محفوظ رکھتے ہےں ڈی سی او اور ڈی پی او سےاسی آلہ کار نہ بنےں بلکہ اصول اور انصاف پر مبنی فےصلے کرےں ضلع گجرات مےں ق لےگ کے ساتھ ہونے والی زےادتےوں پر اقدام اٹھانے کے لےے چار اگست کوچوہدری پروےز الہٰی کی گجرات آمد پر مشاورت کے بعد فےصلہ کےا جائے گا عوامی خدمت کے دعوےداروں سے عوام تنگ آچکے ہےں گجرات سمےت ملک بھر مےں قانون نام کی کوئی چےز نہےں حکمرانوں نے غرےب عوام کو مہنگائی ، بے روزگاری کے تحفے دئےے ہےں عوام آج ق لےگ کے دوراقتدار کو ےاد کرتے ہےں پاکستان کی تارےخ مےں سےاسی بنےادوں پر اتنے مقدمات درج نہےں ہوئے جتنے گزشتہ چار ماہ مےں ضلع گجرات مےں ق لےگ کے کارکنوں کے خلاف درج کئے گئے ہےں اس موقع پر محمد حنےف حےدری ، احمد ندےم گجر ، رفاقت پرنس ، چوہدری انعام الحق ، چوہدری زاہد ، مہر فاروق ، جاوےد پڈا اور دےگر بھی موجود تھے ۔ڈی پی اوگجرات طاہر عالم خان نے گزشتہ روز پولےس بس سروس کا افتتاح کےا اور اس موقعہ پر مےڈےا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ پولےس ملازمےن کو بہتر سفری سہولےات فراہم کرنے کے لےے پولےس بس سروس کا آغاز کےا گےا ہے جس سے دور دراز علاقوں مےںبسنے والے ملازمےن کو تھانہ جات ، کچہری اور دفاتر مےں بر وقت پہنچنے پر آسانی ہو گی اور ملازمےن کی مشکلات مےں کمی واقع ہو گئی طاہر عالم خان نے کہاکہ جلد ہی دےگر علاقوں مےں بھی پولےس بس سروس کا آغاز کر دےا جائے گا اس سلسلہ مےں کام کےا جا رہا ہے ہم چاہتے ہےں کے سائلےن کو جلد سے جلد انصاف مہےا کےا جائے اس سلسلہ مےں پولےس کار کردگی بہتر بنائی جا رہی ہے اےک سوال کا جواب دےتے ہوئے انہوں نے کہاکہ آر پی او ذوالفقار چےمہ جلد ہی نئی تےار ہونے والی رےسکےو 15بلڈنگ کا افتتاح کرےں گئے ڈی پی او نے افتتاح کے بعد بس مےں سوار ہو کر پولےس ملازمےن سے بات چےت کی اور ان کے مسائل سنے اس موقعہ پر اےس پی ہےڈکوآرٹر افضال احمد کوثر ، ڈی اےس پی ملک صدےق اعوان ، انسپکٹر ضےغم ثناءوڑائچ، انسپکٹر ممتاز مےکن کے علاوہ پولےس ملازمےن کی کثےر تعداد موجود تھی ۔پاکستان فےڈرےشن آف جرنلسٹس کا مذمتی اجلا س نوجوان صحافی ضےاءسےد کی زےر صدارت امتےاز لےبر ہال مےں منعقد ہوا جس مےں مقامی اےم پی اے حاجی ناصرمحمود کی جانب سے گجرات کی صحافی برادری پر الزام تراشی وکر دار کشی کی پر زور مذمت کی گئی اور کہاگےا کہ حاجی ناصر محمود کسی بھی شخص کی کر دار کشی کر نے سے پہلے اپنے گرےبان مےں جھانکےںکے وہ پہلے کےا کرتے تھے اور جاہلانہ اورغےر ذمہ دارانہ بےانات ان کو زےب نہےں دےتے صحافی برادری نے کبھی بھی کسی کی کر دار کشی نہےں کی اگر صحافی برادری ان لوگوں جےسا کردار ادا کرنا شروع کر دے تو کئی شرےف زادے بے نقاب ہو ں گئے حاجی ناصر محمود اپنی سےاست کو چمکانے کے لےے سےنئر صحافےوں کی کردار کشی سے باز رہےں نوجوان صحافی اپنے سےنئر صحافےوں کا احترام کرنا اور کروانا جانتے ہےں اجلاس مےں عامربےگ مرزا ، مر ز ا ےوسف ،ظہےر عباس سند ھو ، جواد صدےق گجر ، اسلم بٹ، انورشےخ ، ملک زاہد زمان ، عبدالغفار چوہدری ، شاکر بےگ، ندےم بٹ، مظہر اقبال تارڑ ، رانا گل بہار ، عقےل چوہدری ، راجہ طاسےن سمےت دےگر صحافےوں نے بھر پور شرکت کی ۔سپرےٹےنڈنٹ لا ری اڈا گجرات کے عملہ کے خلاف چند افراد نے ڈی سی او گجرات اکرام جاوےد کو تحرےری درخواست گزاری ہے اور ڈی سی او سے مطالبہ کےا ہے کہ سپرےٹےنڈنٹ لا ری اڈا گجرات کے آفس کا عملہ انتہائی غےر ذمہ دار ہے اور عوام کو شدےد مشکلات کا سامنا ہے لہذا آفس مےں ذمہ دار افراد کو تعےنات کےا جائے جو دفتری اوقات مےں عوام کی سہولت کے لےے موجود ہوں ۔گجرات پولےس مےں موجود کرپٹ ملازمےن اور افسران کی فہرستےں مرتب کی جا رہی ہےں جن کے خلاف جلد کار وائی عمل مےں لائی جائے گئی ان خےالا ت کا اظہار اےس پی ہےڈ کوآرٹرافضال احمد کو ثر نے صحافےوں سے بات چےت کر تے ہوئے کےا انہوں نے کہاکہ پولےس کا اولےن فرض ہے کہ وہ عوام کی خدمت کرے اور عوام کو انصاف کی فراہمی کے ساتھ ساتھ ان کی جان و مال کا تحفظ کر ے محکمہ پولےس مےں موجود کرپٹ ملازمےن سے کسی قسم کی رعاےت نہےں کی جائے گی بلکہ مےڈےا کرپٹ ملازمےن اور معاشرے کی دےگر برائےوں کی نشاندہی کرے تاکہ مل جل کر جرائم کا خاتمہ کےا جا سکے عوام کو چاہئےے کہ وہ بھی جرائم کے خاتمہ کے لےے اپنا کر دار ادا کرےںاورپولےس سے تعا ون کرےں۔اےک سوال کے جواب مےں انہوں نے کہاکہ پنجاب حکومت کی ہداےت کی وجہ سے محکمہ پولےس مےں فی الحال تبادلوں پر بھی پابندی ہے سوسائٹی فار ہےومن رائٹس اےنڈپرزنرز اےڈ (شارپ لاہور) کے زےر اہتمام اےک روزہ فری لےگل کےمپ کا انعقاد کےا گےا جس مےں پاکستان مےں بسنے والے افغان مہاجرےن کے مسائل پر بات چےت کی گئی کےمپ مےں گجرات مےں بسنے والے افغان مہاجرےن کو حکومت پاکستان ، نادرا، UNHCR، RIPA کی حکمت عملی سے آگاہ کےا گےا کےمپ کا انعقاد امن کمےٹی پختون اےسوسی اےشن کے صدر عبدالغنی خان نے کےا تھا جبکہ شارپ لاہور کی جانب سے عےاض احمد خان ، مےمونہ بتول خان ، نبےل شاہ نے شرکت کی افغان مہاجرےن کو بتاےا گےا کہ حکومت پاکستان ، نادرا، UNHCR، RIPAمل جل کر ان کے لےے کام کر رہے ہےں لہذا کسی قسم کے مسائل کے سلسلہ مےں ان اداروں سے مشاورت کی جا سکتی ہے اس موقع پر گجرات مےں بسنے والے افغان مہاجرےن نے شکاےات کے انبار لگاتے ہوئے کہاکہ ہمارے رجسٹرےشن کارڈ کو پولےس بل کل نہےں مانتی اور بلا وجہ تنگ کےا جاتا ہے اس کے علاوہ رجسٹرےشن سے محروم رہ جانے والے افغانےوں نے اپنے مسائل بھی بےان کےے ۔پنجا ب مےں بسنے والے افغانی قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ تعاون کرےں ان خےالات کا اظہار امن کمےٹی پختون اےسوسی اےشن کے صدر عبدالغنی خان نے افغانےوں کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کےا انہوں نے کہاکہ موجودہ حالات مےں افغانےوں کو چاہےے کے وہ پاکستان سے محبت کا اظہار کرتے ہوئے اس کے امن کو تباہ ہونے سے بچانے کے لےے کسی قسم کی قربانی سے درےغ نہ کرےں بلکہ پاکستان کی سلامتی اور تحفظ کے لےے شر پسند عناصر پر نظر رکھےں اور قانون نافذکر نے والے تمام اداروں کے ساتھ تعاون کرےں تاکہ پاکستان مےں بڑھتی ہوئی دہشت گردی کی لہر اور جرائم کی روک تھام کے لےے اپنا کردار ادا کےا جا سکے ۔ اے پی ایس

ترکی ١٣غیر قانونی تارکین وطن کی لاشیں برآمد

انقرہ ۔ استنبول کے مضافات سے تیرہ غیر قانونی تارکینِ وطن کی لاشیں ملی ہیں۔یہ لاشیں استنبول کے مضافات میں کھیتوں میں پھینک دی گئی تھیں۔ پولیس کو شبہ ہے کہ یہ غیر قانونی تارکین وطن سانس بند ہونے سے اس وقت ہلاک ہوئے جب انہیں ایک ٹرک میں لاد کر خفیہ طریقے سے ایک جگہ سے دوسری جگہ لے جایا جا رہا تھا۔ پولیس کا خیال ہے کہ انسانی سمگلر ان غیر قانونی تارکین وطن کی لاشیں استنبول کے مضافات میں کھیتوں میں پھینک کر فرار ہو گئے۔ ایک مقامی شخص نے اناطولیہ نیوز ایجنسی کو بتایا کہ ان تیرہ لاشوں اور ایک سو تیس زندہ غیر قانونی تارکین وطن کو ایک ٹرک میں لاد کر علی الصبح وہاں پہنچایا گیا تھا۔ خیال کیا جاتا ہے کہ انسانی سمگلر ان ہلاکتوں سے بوکھلا کر ان لاشوں اور زندہ غیر قانونی تارکین وطن کو پھینک کر فرار ہو گئے ہیں۔ پولیس وہاں سے فرار ہونے والے غیر قانونی تارکین وطن کو تلاش کر رہی ہے۔ ترکی ایشیا سے مغربی یورپ آنے والے غیر قانونی تارکین وطن کے روٹ میں پڑتا ہے اور وہاں ہر روز بڑی تعداد میں غیر قانونی تارکین وطن کو گرفتار کیا جاتا ہے۔ غیر قانونی تارکینِ وطن یا تو ترکی سے زمینی راستے سے یونان پہنچنے کی کوشش کرتے ہیں یا پھر انہیں پْرانی کشتیوں میں لاد کر یونان یا ترکی پہنچایا جاتا ہے اور اس دوران کئی تارکین وطن حادثات کا شکار ہو جاتے ہیں۔

یکم اگست ، سورج گرہن کا دن ، دُنیا بھر میں دیکھا جائے گا

فلوریڈا ۔ یکم اگست کو دو ہزار چار کے بعد زمین ، چاند اور سورج آسمانی سنگت کی صورت میں ظاہر ہوں گے جس سے پیدا ہونے والا سورج گرہن دنیا بھر میں دیکھا جا سکے گا۔ناسا کے ماہرین کے مطابق چاند ، سورج اور زمین کے آمنے سامنے جائے گا۔زمین ،سورج اور چاند کی سنگت شمالی سائیبیریا ،روس ،اشیاء کے وسطی علاقوں ، منگولیا اور چین میں نمایاں طور پر نظر آئے گی تاہم ایشیا کے بیشتر علاقوں ، شمالی یورپ اور شمالی کینیڈا میں اس کا باریک عکس دیکھا جا سکے گا۔دنیا کی تاریخ میں چار ہزار سال بعد ایسا موقع ہوگا کہ زمین ،چاند اور سورج ایک ہی مدار میں آمنے سامنے نظر آئیں گے جس کے نتیجے میں سورج گرہن پیدا ہو گا۔

معزول چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی صدارت میں معزول ججز کا اجلاس

کراچی ۔ چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی زیر صدارت معزول ججز کا اجلاس چیف جسٹس سندھ صبیح الدین احمد کی رہائش گاہ پر ہوا۔اجلاس میں سولہ ججز نے شرکت کی جس میں سندھ سے جسٹس سجاد علی شاہ ،جسٹس گلزار احمد ،جسٹس مقبول باقر ،جسٹس مشیر عالم ،جسٹس سرمد جلال عثمانی ،جسٹس خلجی عارف حسین ،جسٹس فیصل عرب ،جسٹس امیر ہانی مسلم ،جسٹس انور ظہیر جمالی ،جسٹس سلمان انصاری اور چیف جسٹس صبیح الدین احمد شامل ہیں ۔لاہور ہائی کورٹ سے جسٹس عزیز صدیقی ،جسٹس اقبال حمود الرحمن ،جسٹس عزیز ایم شاہد ،جسٹس خواجہ شریف ،پشاور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس طارق پرویز شریک ہوئے ۔اجلاس تین گھنٹے سے زائد جاری رہا ہے۔جس میں عدلیہ کی بحالی کی تحریک کے آئندہ لائحہ عمل اور ججز سے موجودہ حکومت کے رابطوں پر غور کیا گیا ۔ذرائع کے مطابق تمام ججز نے چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کے ساتھ مکمل اظہار یکجہتی کیا اور تمام ججز کی بحالی تک تحریک کو جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا ۔

افغانستان سے فائر کئے گئے ٣٠ مارٹر گولے پاکستانی علاقے بانگ دار میں آگرے

پاک افغان سرحد پر پاکستانی علاقوں کے قریب اتحادی فوج کے دستوں کی تعداد میں اضافہ کر دیا گیااسلام آباد۔ پاک افغان سرحد پر پاکستانی علاقوں کے قریب اتحادی فوج کے دستوں کی تعداد میں اضافہ کر دیا گیا ہے جبکہ افغانستان سے فائر کئے گئے تیس مارٹر گولے پاکستانی علاقے بانگ دار میں آگرے۔شمالی وزیرستان کے علاقوں غلام خان ،سیدگی ،الوڑہ منڈی اور شوال سے ملحق افغان علاقوں میں اتحادی فوجیوں کی تعدادمیں اضافہ ہورہا ہے ۔عینی شاہدین کے مطابق ان علاقوں میں اتحادی ٹینکوں اور بکتر بند گاڑیوں کی نقل وحرکت میں غیر معمولی اضافہ دیکھنے میں آرہا ہے جس کی وجہ سے مقامی آبادی میں خوف و ہراس پایا جاتاہے ۔ادھر صوبہ پکتیکا میں نیٹو کے کیمپ پر طالبان نے حملہ کیا جس کے بعد اتحادی فوج نے رات بھر مارٹر گولے فائر کئے جن میں سے تیس گولے شمالی وزیرستان کے علاقے اسپین وام کے مقام بانگ دار میں جاگرے تاہم کوئی نقصان نہیں ہوا۔شمالی وزیرستان کے مختلف علاقوں پر بغیرپائلٹ کے امریکی جاسوس طیاروں کی پروازوں کا سلسلہ رات بھر جاری رہا،عینی شاہدین کے مطابق جاسوس طیاروں کی تعداد دو تھی۔جنوبی وزیرستان سے ملحق علاقے جنڈولہ میں سرچ آپریشن کے دوران سیکورٹی فورسز نے بڑی تعداد میں اسلحہ برآمد کرکے دوافراد کو گرفتار کرلیا۔

اولمپک گیمز کے دوران غیر ملکی صحافیوں کو انٹر نیٹ استعمال کر نے کی مکمل آزادی نہیں دی جائے گی ۔ترجمان اولمپک آرگنائزنگ کمیٹی

اسلام آباد۔ چینی حکام کا کہنا ہے کہ 8 اگست سے بینجنگ میں شروع ہونے والے اولمپک کھیلوں کے دوران بیرونی صحافیوں کو انٹرنیٹ استعمال کرنے کے لئے مکمل آزادی نہیں دی جائے گی۔ اولمپک کھیلوں کی آرگنائزنگ کمیٹی کے ترجمان سن وید کا کہنا ہے کہ کھیلوں کے درمیان بعض ویب سائٹس کو بلاک کردیا جائے گا اور خاص طور پر فولانگونگ نامی روحانی تحریک سے متعلق ویب سائٹ کو بلاک رکھا جائے گا۔ واضح رہے کہ سات برس پہلے چین نے جب اولمپک کھیلوں کے بولی لگائی تھی تو اس نے کہا تھا کہ کھیلوں کے دوران صحافیوں کو انٹرنیٹ کی مکمل اور آزادانہ رسائی ہوگی۔ عالمی اولمپک کمیٹی کے سینئر اہلکار کیوان گوسپر کا کہنا ہے کہ وہ یہ معاملہ چین کے سات اٹھائیں گے۔ یہ ایک فکر کن بات ہے اور اس معاملے کی تفتیش کریں گے۔ ہمارا مقصد ہے کہ بیجنگ اولمپک کوور کرنے والے صحافی پہلے کسی بھی اولمپک کھیلوں کے طرح رپورٹنگ کرسکیں اور اگر انہیں انٹرنیٹ کے استعمال کی جہاں کہیں بھی پوری آزادی نہیں ملے گی ہم اس کی تفتیش کریں گے۔چین کے وزارات خارجہ کے ترجمان لیوجیان شو کا کہنا ہے کہ ’جہاں تک فلونگونگ کی سائٹ کا سوال ہے آپ کو معلوم ہے کہ ملک کے قانون کے مطابق فلونگونگ مسلک پر پابندی عائد ہے اور ہم اپنی پوزیشن پر اٹل ہیں۔ان کا مزید کہنا تھا کہ بعض ویب سائٹس کے ساتھ یہ پریشانی ہے کہ وہ آسانی سے کھلتی نہیں ہیں۔اس سے پہلے اولمپک میڈیا سینٹر میں کام کرنیو الے صحافیوں نے شکایت کی تھی کہ انہیں سیاسی طور پر حساس ویب سائٹس دیکھنے سے روکا گیا ہے۔ 2008 کے اولمپک کھیل بیجنگ میں آٹھ اگست سے شروع ہونے والے ہیں اور کھیلوں کے کوریج کے لیے 20 ہزار سے زیادہ صحافیوں کے پہنچنے کی امید ہے۔ لیکن اگر صحافیوں کو انٹرنیٹ کی مکمل اور آزادانہ رسائی حاصل نہیں کی گئی تو چینی حکام کو زبردست تنقید کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے اور اس کے لیے کھیلوں کے شروع ہونے سے پہلے عالمی اولمپک ایسویشن کو یہ یقین دہانی کرانی ہوگی کہ صحافی کھیلوں کا مکمل کوریج کر سکیں۔

عراق کو اولمپکس میں شامل ہونے کی اجازت مل گئی

لوسین۔ بین الاقوامی اولمپک کمیٹی نے عراق کی بیجنگ اولمپکس پر عائد پابندی ختم کردی ہے۔اس بات کا فیصلہ لوسین میں انٹرنیشنل اولمپک کمیٹی اور عراقی حکام کے درمیان مذاکرات کے بعد کیا گیا۔ایتھلیٹس کے نام بھیجنے کی آخری تاریخ گزر جانے کے باعث عراق کے صرف دو ایتھلیٹس آٹھ اگست سے شروع ہونے والے بیجنگ اولمپکس میں حصہ لے سکتے ہیں۔عراق اولمپک کمیٹی نے اسپرنٹر دانما حسین اور ڈسکس تھوور حیدر ناصر کو بیجنگ بھیجنے کا فیصلہ کیا ہے۔عراق کی اولمپکس میں شرکت پر عائد پابندی اٹھانے کا فیصلہ عراقی حکومت کی اس یقین دہانی کے بعد کیا گیا کہ وہ نیشنل کمیٹی کے معاملات میں مداخلت نہیں کرے گی۔انٹرنیشنل کمیٹی کے صدر جاک روگ نے فیصلے کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ اوآئی سی کے حکام عراقی ایتھلیٹس کی بیجنگ اولمپکس میں شرکت کے خواہا ں تھے۔

سوات: گن شپ ہیلی کاپٹروں کی فائرنگ ، مقامی طالبان رہنما مولوی حسین علی سمیت ١٠ طالبان جاں بحق ٦ شدید زخمی

سوات ۔ سوات میں جاری سیکورٹی فورسز کے آپریشن کے دوران گن شپ ہیلی کاپٹروں کی فائرنگ سے مقامی طالبان رہنما مولوی حسین علی سمیت 10 طالبان جاں بحق 6 شدید زخمی ہو گئے ہیں زخمیوں میں زیادہ تر اہم کمانڈر شامل ہیں اطلاعات کے مطابق سوات میں جاری سیکورٹی فورسز کے آپریشن کے دوران گن شپ ہیلی کاپٹروں کی فائرنگ سے مقامی طالبان کے اہم رہنما مولوی حسین علی سمیت10 طالبان جاں بحق ہو گئے ہیں تحصیل مٹا کے دور افتادہ پہاڑی علاقے میں سیکورٹی فورسز کے شپ ہیلی کاپٹروں نے کاروائی کی جس میں 10 طالبان جاں بحق ہو ئے ہیں جس میں طالبان کے اہم رہنما مولوی حسین علی جاں بحق ہو ئے ہیں ان کے علاوہ جاں بحق ہو نے والوں میں دیگر کچھ اہم طالبان کمانڈر بھی شامل ہیں اور 6 اہم رہنما زخمی بھی ہوئے ہیں جن کا امن معاہدے میں اہم رول رہا ہے بتایا جاتا ہے کہ مولوی حسین علی کے انٹر نیشنل سطح کے طالبان کے ساتھ قریبی رابطے رہتے ہیں طالبان ان کو بہت قدر کی نگاہ سے دیکھتے تھے۔

شمالی وزیرستان میں عسکریت پسندوں نے افغان خاتون کو امریکی جاسوسی کے الزام میں قتل کر دیا

میران شاہ ۔ شمالی وزیرستان میں عسکریت پسندوں نے ایک افغان خاتون کو امریکی جاسوسی کے شبہ میں گولی مار کر قتل کر دیا ۔ اینٹلی جنس ذرائع اور عینی شاہدین کے مطابق بدھ کو شمالی وزیرستان میں عسکریت پسندوں نے ایک افغان خاتون گل زادہ بی بی کو امریکی جاسوسی کے شبہ میں قتل کر کے اس کی لاش کو گندے نالے میں پھینک دیا۔ طالبان حمایتی جنگجو شمالی اور جنوبی وزیرستان میں درجنوں افراد کو پاکستانی حکومت کی مدد اور امریکی افواج کے لیے جاسوسی کرنے کے الزام میں قتل کر چکے ہیں۔ تاہم خواتین کے قتل کی وارادتیں کم ہوتی ہیں ۔سرکاری ذرائع کے مطابق 25 سالہ گل زادہ بی بی کی لاش جس کے سینے میں تین گولیاں لگی ہوئی تھیں وزیرستان کے صدر مقام میران شاہ سے تقریباً 35 کلو میٹر دور مغربی علاقے دیگن گاوں سے ملی ہے مقامی لوگوں کے مطابق اس کی لاش کے ساتھ ایک خط ملا ہے جس پر درج ہے کہ وہ افغانستان کے صوبہ پکتیا سے تعلق رکھتی تھی اس کے پاس ایک سیٹلائٹ فون تھا جس سے وہ امریکی افواج کو یہاں کی خبریں دے رہی تھی ۔یہ قتل جنوبی وزیرستان میں امریکی میزائل حملے کے دوران بند کیاگیا ہے اینٹلی جنس ذرائع کے مطابق امریکی میزائل حملے میں القاعدہ کا ایک شخص ابو جناب المسیری جو کہ کیمیکل ہتھیار بنانے کا ماہر تھا بھی مارا جا چکاہے۔

Wednesday, July 30, 2008

ایف سی آر میں متعدد ترامیم کی منظوری دیدی گئی

پشاور۔ وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی کی جانب سے ایف سی آر میں ترامیم کے لئے قائم پارلیمانی کمیٹی کی ذیلی کمیٹی نے ایف سی آر میں متعدد ترامیم کی منظوری دیدی جس کے تحت چالیس ایف سی آر کو آسان بنانے کا فیصلہ کیاگیا ہے ۔اس سلسلے میں ایک اجلاس گورنر فاٹا سیکرٹریٹ میں جسٹس ریٹائرڈ میاں محمد اجمل کی صدارت میں منعقد ہوا جس میں فیصلہ کیاگیا کہ پولیٹکل حکام کے فیصلوں کے خلاف اپیل سیشن جج کے برابر ایپلٹ کورٹ سنے گی یہ بھی فیصلہ کیاگیا کہ ایف سی آر ٹریبونل کا سربراہ پشاورہائیکورٹ کا ریٹائرڈ جج ہو گا ان کے ساتھ آفیسرز بھی ہونگے ۔ٹریبونل کو قبائلی علاقوں میں انسانی حقوق کی خلاف ورزی کے خلاف کاروائی کرنے کا اختیار ہو گا ۔اجلاس میں اے این پی کی نمائندگی کرنے والے پشاورہائیکورٹ بار کے صدر عبد الطیف آفریدی نے ان ترامیم کو ناکافی قرار دیا اور اس سے اختلاف کیا۔انہوں نے کہا کہ اے این پی کا موقف ہے کہ قبائلی علاقوں میں پولیٹکل پارٹیز کو کام کرنے کی اجاز ت دی جائے ،فاٹا کو پاٹا میں تبدیل کیا جائے ،قبائلی علاقوں کو سرحد اسمبلی میں نمائندگی دی جائے ،قبائلی علاقوں کے لئے خصوصی ترقیاتی پیکج منظور کئے جائیں اور فاٹا میں بلدیاتی نظام کو متعارف کرایا جائے ۔انہوں نے کہا کہ اگر اس طرح نہیں کیا جاتا تو یہ اے این پی کی پالیسی کی نفی ہوگی۔کمیٹی نے بتایا کہ اس کے پاس یہ اختیار نہیں بلکہ اس کو یہ اختیار دیاگیا ہے کہ وہ ایف سی آر میں ترامیم تجویز کرے۔

آئین اور قانون کی بالادستی کے بغیر ملک ترقی نہیں کرسکتا ۔چیف جسٹس آف پاکستان افتخار محمد چوہدری



کراچی۔ غیر فعال چیف جسٹس آف پاکستان افتخار محمد چوہدری نے کہا ہے کہ آزاد عدلیہ نے ووٹر لسٹوں میں اندراج سے محروم 3 کروڑ ووٹرز کو حق رائے دہی دلوایا۔انہوں نے کہا کہ آئین اور قانون کی بالادستی کے بغیر ملک ترقی نہیں کرسکتا ہے اور نہ ہی بہترین حکومتی نظم و نسق اسکے بغیر ممکن ہے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے کراچی میں بدھ کو سندھ ہائیکورٹ بارہال اپنے نام سے منسوب ہونے کے حوالے سے یہاں تختی کشائی کے بعد بار ایسوسی ایشن سے خطاب میں کیا۔افتخار محمد چوہدری کا کہنا تھا کہ وکلاء تحریک پاکستان میں آئین اور قانون کی بالادستی کو یقینی بنائیگی۔انہوں نے کہا کہ ان کی بطور چیف جسٹس آف پاکستان عہدیداری کے دوران ملک میں قانون اور آئین کا اطلاق ہوتا تھا۔اس موقع پر سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے نائب صدر اور سکھر ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر ایڈووکیٹ امداد علی اعوان کی وفات کا تذکرہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ میری اور ان کی واقفیت اس وقت سے ہے جب میں وکالت کی پریکٹس کرتا تھا اور ان کی وفات پر ہم سب افسردہ ہیں۔انہوں نے کراچی اپنی آمد پر کراچی کے اخبارات اور نشریاتی اداروں کی جانب سے بہترین کوریج کو بھی سراہا اور کہا کہ وکلاء اور سول سوسائٹی کے ساتھ ساتھ میڈیا کا بھرپور تعاون ہمیں حاصل ہے۔جسٹس افتخار محمد چوہدری نے 12 مئی اور9 اپریل سانحات کے دوران شہید ہوجانے والے افرادکو بھی خراج عیقدت پیش کیا۔انہوں نے کہا کہ منو بھیل جیسے کیسز جلد حل ہونے چاہئیں تاکہ عوام کو ریلیف فراہم کیا جاسکے۔دریں اثناء غیر فعال چیف جسٹس آف پاکستان افتخار محمد چوہدری اسلام آباد کیلئے روانہ ہوگئے جبکہ ان کے ہمراہ بیرسٹر اعتزا ز احسن اور ان کے ترجمان اطہر من اللہ سمیت دیگر بھی موجود تھے۔
۔۔۔۔تفصیلی خبر ۔۔۔۔آزاد عدلیہ نے ووٹر لسٹوں میں اندراج سے محروم 3 کروڑ ووٹرز کو انتخابات میںحق رائے دہی دلوایاملک میں سرمایہ نہیں آ رہا اور صرف اس لئے کہ ملک میں عدلیہ آزاد نہیںہےغیر فعال چیف جسٹس آف پاکستان افتخار محمد چوہدری کا خطاب

کراچی ۔ غیر فعال چیف جسٹس آف پاکستان افتخار محمد چوہدری نے کہا ہے کہ آزاد عدلیہ نے ووٹر لسٹوں میں اندراج سے محروم 3 کروڑ ووٹرز کو انتخابات میںحق رائے دہی دلوایا۔انہوں نے کہا کہ آئین اور قانون کی بالادستی کے بغیر ملک ترقی نہیں کرسکتا ہے اور نہ ہی بہترین حکومتی نظم و نسق اسکے بغیر ممکن ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے بدھ کو سندھ ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن میں اپنے نام سے منسوب کئے جانے والے ہال کی تقریب نقاب کشائی سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر سپریم کورٹ آف پاکستان کے غیر فعال جسٹس راجہ فیاض، غیر فعال جسٹس غلام ربانی، پشاور ہائی کورٹ کے غیر فعال چیف جسٹس طارق پرویز، لاہور ہائی کورٹ کے سینئر ترین غیر فعال جسٹس خواجہ شریف، سندھ ہائی کورٹ کے غیر فعال چیف جسٹس صبیح الدین احمد، سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر اعتزاز احسن اور سندھ ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر جسٹس (ر) رشید اے رضوی سمیت دیگر بھی موجود تھے۔ غیر فعال چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے کہا کہ ملک کی معاشی صورتحال بھی بہترنہیں رہی اور اخبارات سے واضح ہے کہ ملک میں سرمایہ نہیں آ رہا اور صرف اس لئے کہ ملک میں عدلیہ آزاد نہیںہے۔ یہ بات اٹل ہے کہ اگر عدلیہ آزاد اور قانون کی بالادستی نہیں ہوگی تو ترقی نہیں ہو سکتی۔ انہوں نے کہا کہ عدالتوں نے ہی حالیہ انتخابات سے قبل 3کروڑ ووٹرز کو حق رائے دہی دلوایا کیونکہ 18 اکتوبر سے قبل محترمہ شہید بے نظیر بھٹو کی جانب سے سپریم کورٹ میں ایک پٹیشن دائر کی گئی تھی جس میں کہا گیا تھا کہ الیکشن کمیشن کی جانب سے تیار کردہ ووٹر لسٹوں میں 3کروڑ ووٹروں کے نام درج نہیں جس پر سپریم کورٹ نے الیکشن کمیشن سے جواب طلب کیا تو کہا گیا کہ ووٹروں کے اندراج میں ڈیڑھ سال کا عرصہ درکار ہے جس پر سپریم کورٹ کے حکم پر صرف ایک ماہ میںان ووٹروں کا اندراج کیا گیا۔ غیر فعال چیف جسٹس نے عدلیہ کی آزادی پر زور دیتے ہوئے بعض مثالیں بھی دیں۔ انہوں نے بتایا کہ کراچی کے پروفیسر غازی اور ان کی اہلیہ پنشن نہ ملنے کے باعث غربت سے اپنے گھر میں ہی دم توڑ گئے تاہم سپریم کورٹ نے اس پر بھی سوموٹو ایکشن لیا اور حکومت سے جواب طلبی کی۔ انہوں نے کہا کہ عمر کوٹ میں دو بچے نہر میں نہاتے ہوئے بجلی کے کرنٹ سے جاں بحق ہوئے تو اس کی اخبار میں خبر شائع ہوئی جس پر از خود نوٹس کارروائی کی گئی اور متعلقہ محکمہ سے جواب طلب کیا گیا اور مقتولین کے اہل خانہ کو چھ چھ لاکھ روپے ہرجانے کی رقم دلوائی گئی۔ غیر فعال چیف جسٹس نے کہا کہ جب تک قانون کی بالادستی نہیں ہوگی کوئی بھی معاشرہ پھل پھول نہیں سکتا۔ انہوں نے کہا کہ 9 مارچ کے بعد وکلاء نے جس اتحاد کا مظاہرہ کیا ہے اس کی مثال نہیں ملتی اس لئے وکلاء کے ساتھ آج جج صاحبان بھی کھڑے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آئین کی بالادستی تک جدوجہد جاری رہے گی اور کوئی بھی جج متزلزل نہیں ہوگا۔ غیر فعال چیف جسٹس نے کراچی کے 12 مئی اور 9 اپریل کے شہداء کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ وکلاء تحریک کی یہ قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی۔ انہوں نے کہا کہ 9 مارچ کے بعد پوری قوم نے اس بات کا تہیہ کیا ہوا ہے کہ ملک میں آزاد عدلیہ قائم کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ دور دراز دیہاتی علاقوں میں بھی ایسے لوگ ہمارے پاس چل کر آتے ہیں جن کے پاؤں میں جوتے نہیں ہوتے کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ انصاف کے بغیر کچھ نہیں مل سکتا۔ غیر فعال چیف جسٹس نے امداد اعوان کے انتقال پر گہرے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ان کے انتقال سے ماحول سوگوار ہے تاہم وہ اہلیان کراچی کے شکر گذار ہیں کہ انہوں نے مختصر نوٹس پر شاندار استقبال کیا۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے پشاور ہائی کورٹ کے غیر فعال چیف جسٹس طارق پرویز نے کہا کہ غیر فعال چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے 60 سالوں سے سوئی ہوئی قوم کو جگا دیا ہے اور ہمیں زندہ ہونے کا احساس دلایا ہے۔ لاہور ہائی کورٹ کے سینئر ترین جج جسٹس خواجہ شریف نے کہا کہ پی سی او کا حلف اٹھانے سے انکار کر کے ہم نے وہ قرض بھی اتار دیا ہے جو سابقہ ججوں نے ہم پر ڈالا تھا۔ سندھ ہائی کورٹ کے غیر فعال چیف جسٹس صبیح الدین احمد نے کہا کہ پی سی او کا حلف اٹھانے سے انکار کر کے ہمیں کوئی شرمندگی نہیں بلکہ اس فیصلے پر آج بھی ہمیں فخر ہے۔

امریکی سینٹ کی خارجہ کمیٹی نے پاکستان کے لئے ١٥ ارب ڈالر کے غیر فوجی امداد کی منظوری دے دی

واشنگٹن ۔ ( اے پی ایس ) امریکی سینٹ کی خارجہ تعلقات کمیٹی نے متفقہ طور پر بیڈن لوہر بل کی منظوری دے دی ہے ۔ جس کے تحت پاکستان کو آئندہ ایک عشرے میں 15 ارب ڈالر کی ترقیاتی امداد فراہم کی جائے گی ۔ تاہم کانگریس نے پاکستان کے لئے دفاع کی مد میں 29 کروڑ ڈالر کی امداد کی منظور نہیں دی ۔ یہ بل وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی نے امریکہ کے دورے کے موقع پر منظور ہوا ہے اس سے پہلے بل پیش کرنے والے شریک ممبر اور ڈیموکریٹک صدارتی امیدوار بارک اوبامہ نے وزیر اعظم سید یوسف رضا گیلانی سے ملاقات کی اور پاکستان اور امریکہ کے درمیان تعلقات پر تبادلہ خیال کیا ۔ ادھر واشنگٹن میں پاکستان کے سفیر حسین حقانی نے بل کی منظوری پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ اس بل کی منظوری سے پاکستان میں جمہوریت کے مستقبل پر امریکی کانگریس کی حمایت اور اعتماد کا اظہار ہوتا ہے ۔امریکہ پاکستان سے امتیازی سلوک نہ کرے ‘ سول ٹیکنالوجی دی جائے ‘ یوسف رضا گیلانیواشنگٹن ۔ ( اے پی ایس ) وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی نے کہا ہے کہ امریکہ پاکستان کے ساتھ امتیازی سلوک نہ کرے اور پاکستان کو بھی سویلین نیوکلیئر ٹیکنالوجی دی جائے ۔ واشنگٹن میں کونسل آن فارن ریلیشنز اور مڈل ایسٹ انسٹی ٹیوٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ دہشت گردوں کے خلاف موثر کارروائی کے لئے پاکستانی فورسز کو جدید ہتھیاروں کی ضرورت ہے انہوں نے کہا کہ بھارت کے ساتھ بہتر تعلقات ہیں اور پاکستان کشمیر سمیت تمام متنازعہ امور کو بات چیت کے ذریعے حل کرنا چاہتا ہے ۔ وزیر اعظم نے کہاکہ آئی ایس آئی ‘ آئی بی اور فوج سویلین حکومت کے ماتحت کام کر رہی ہیں ۔ انہوں نے مختلف امریکی عہدیداروں سے ملاقاتوں میں دہشت گردی کے خاتمے اور اقتصادی ترقی کے عزم کو دہرایا ۔ رابرٹ گیٹس سے ملاقات میں انہوں نے کہا کہ پاکستان دہشت گردوں کے خلاف بھرپور کارروائیاں کر رہا ہے ۔ مذاکرات صرف مقامی آبادی سے ہو رہے ہیں تاکہ دہشت گردوں کے خلاف کارروائی موثر بنائی جا سکے ۔ ملاقات میں قابل عمل انٹیلی جنس کے تبادلے کا نظام مزید مربوط بنانے پر زور دیا گیا ہے ۔ ڈیموکریٹک صدارتی امیدوار بارک اوبامہ سے ہونے والی بات چیت میں وزیر اعظم نے پاکستان کی امداد کے بل کو سپانسر کرنے پر ان کا شکریہ ادا کیا ۔ اوبامہ کا کہنا تھا کہ وہ پاکستان کے مسائل سے بخوبی آگاہ ہیں اور صدر منتخب ہونے کی صورت میں جمہوری حکومت کے ساتھ مل کر کام کریں گے اور ایسی پالیسی بنائیں گے جس سے قبائلی علاقے کے عوام کی مشکلات دور ہوں اور وہاں دہشت گردی کا خاتمہ ہو ۔ سی آئی اے کے سربراہ مائیکل ہیڈن وزیر خزانہ ہنری پالسن اور دیگر امریکی عہدیداروں سے ملاقات میں پاکستان کی اقتصادی صورت حال پر غور کیا گیا
۔نیب کی وجہ سے مجھے پانچ سال سزا ہوئی تھی، اس ادارے کوختم کردیا جائیگا ۔ یوسف رضا گیلانی
واشنگٹن ۔ ( اے پی ایس) وزیراعظم سید یوسف ر ضا گیلانی نے کہا ہے کہ موجودہ احتساب بیورو کو ختم کرکے ایسا ادارہ قائم کیا جائے گا جو صحیح معنوں میں احتساب کرے گا یہاںپاکستانی برادری سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ پیپلزپارٹی کی حکومت ملک میں بہت سی تبدیلیاں لائی ہے اور ایک سال کے بعد یہ تبدیلیاں نظر آنے لگیں گی ۔ انہوں نے کہا کہ 58 ٹو بی کا استعمال نہیں ہو گا اور 58 ٹو بی والے یہاں نہیں ہیں ۔ وزیراعظم نے کہا کہ جمہوری حکومت نے اس لحاظ سے بہت اہم اقدامات کیے ہیں کہ ہم نے پارٹنر شپ کے ساتھ قوم کو چلانا چاہ ہے ا ور ہم اسی طرح سے ملک کو چلانا چاہتے ہیں وزیراعظم نے غریب ا ور پسماندہ طبقوں کے لیے کیے جانے والے اقدامات کا بھی ذکر کیا ۔ انہوں نے کہا کہ احتساب بیورو کوختم کردیا جائے گا اور اسی نیب کی وجہ سے انہیں ذاتی طورپر پانچ سال کی سزا ہوئی تھی انہوں نے کہا کہ ایک ایسا ادارہ قائم کیا جائے گا جو صحیح احتساب کرے گا اور اس کا سربراہ کوئی جج یا اس اہلیت کا حامل شخص ہوگا ۔ وزیراعظم نے کہا کہ اسلام تشدد کے بجائے امن کا پیغام دیتا ہے لیکن افسوس ہے کہ اسلام کی تشریح غلط کی جا رہی ہے ۔انہوں نے کہا کہ تمام مسلمانوں کا فرض ہے کہ وہ اسلام کی انٹرپریٹیشن کو صحیح کریں اور اسلام کا امیج بلند کریں وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان میںبار بار مارشل لاء لگنے کی وجہ سے ترقی نہیں ہو سکی ۔ انہوں نے کہا کہ 1973 ء کا آئین بحال کیا جائے گا اور عدلیہ کو مکمل طورپر آزاد اور بحال کیا جائے گا۔ وزیراعظم نے کہا کہ احتساب کا عمل انتقام پر مبنی نہیں ہونا چاہیئے ۔ انہوں نے کہا کہ تیل اور اجناس کی قیمتوں میں اضافے کی وجہ سے ملک میں مہنگائی آئیہے اور ایک سال میں پیپلزپارٹی کی حکومت اس مہنگائی کا ازالہ کرے گی اور توانائی کے بحران کا بھی خاتمہ کردیا جائے گا ۔ انہوں نے کہا کہ داخلی طور پر مشکلات ضرور ہیںلیکن حکومت کی رٹ مکمل طورپر بحال کی جائے گی ۔ وزیراعظم نے واشنگٹن ڈی سی میں پرانے سفارت خانے کو جناح کلچرل سنٹر میں تبدیل کرنے کا اعلان کیا اور اس کے لیے دس کروڑ روپے کی رقم فراہم کرنے کا بھی اعلان کیا
سوات ، مالم جبہ میں آرمی ریسٹ ہاوس اور پی ٹی ڈی سی ہوٹل دھماکے سے اڑا دیئے گئے
سوات ۔ ( اے پی ایس )سوات کے علاقے مالم جبہ میں آرمی ریسٹ ہاوس ‘ پی ٹی ڈی سی ہوٹل کو دھماکے سے تباہ کر دیا گیا ۔ سیکیورٹی فورسز اور عسکریت پسندوں کے درمیان مختلف علاقوں میں شدید جھڑپیں بھی شروع ہو گئی ہیں ۔ تفصیلات کے مطابق شرپسندوں نے مالم جبہ میں پی ٹی ڈی سی ہوٹل اور آرمی ریسٹ ہاو¿س کو دھماکہ خیز مواد سے اڑا دیا ۔ جس کے باعث دونوں عمارتیں تباہ ہو گئیں جبکہ کاڑہ اور رونیال کو ملانے والا پل بھی دھماکہ خیز مواد سے اڑا دیا گیا جس کے باعث ٹریفک معطل ہو گئی ۔ گورنمنٹ گرلز ہائی سکول گلی باغ کو بھی نذر آتش کر دیا گیا ۔ دوسری طرف عسکریت پسندوں اور سیکیورٹی فورسز میں جھڑپیں جاری ہیں
۔سوات ‘ سیکیورٹی فورسز کے ساتھ جھڑپوں میں ٢٥ طالبان جاں بحق ‘ متعدد زخمی ‘ غیر معینہ مدت کے لئے کرفیو نافذ
سوات ۔ ( اے پی ایس )سوات کی تحصیل مٹہ میں سیکیورٹی فورسز اور مقامی طالبان کے درمیان جاری جھڑپوں میں 25 طالبان ہلاک اور متعدد زخمی ہو گئے ۔ سوات میں غیر معینہ مدت کے لئے کرفیو نافذ کر دیا گیا ہے ۔ میڈیا سنٹر سوات کے مطابق مٹہ میں سیکیورٹی فورسز اور طالبان کے درمیان جھڑپیں جاری ہیں جن میں اب تک 25 طالبان ہلاک ہو گئے ہیں ۔ طالبان نے سرکاری دعوو¿ں کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ جھڑپوں میں ان کے تین ساتھی ہلاک اور 5 زخمی ہوئے ادھر سوات میں غیر معینہ مدت کے لئے کرفیو نافذ کر کے آمد و رفت کے راستے بند کر دیئے گئے ہیں اور مٹہ پولیس سٹیشن کو فوج نے اپنے کنٹرول میں لے لیا ہے ۔طالبان نے مٹہ میں بکتر بند گاڑی مالم جبہ میں پی ٹی ڈی سی ہوٹل اور آرمی ریسٹ ہاو¿س کو دھماکہ خیز مواد سے تباہ کرنے کی ذمہ داری قبول کر لی ہے ۔ ولی باغ میں گرلز مڈل سکول اور گولڈا رونیال اور میسج بٹر میں تین پلوں کو دھماکہ خیز مواد سے تباہ کر دیا گیا ۔ گزشتہ روز دیولائی چوکی سے یرغمال بنائے گئے سیکیورٹی اہلکاروں کی بازیابی کے لئے سیکیورٹی فورسز کا آپریشن جاری ہے ۔ سیکیورٹی فورسز نے کانجو ایف سی کیمپ اور کبل ریسٹ ہاو¿س سے طالبان کے ٹھکانوں پر رات بھر گولہ باری کی
۔دنیا کی دولتمند ترین خواتین کی فہرست کا اجراء ، رفیق حریری کی بیٹی ارب پتی خواتین میں شامل
لندن ۔ ( اے پی ایس ) دنیا کی نوجوان ارب پتی چالیس سال سے کم عمر کی خواتین کی تعداد گزشتہ 2 سال کے مقابل بڑھ کر 7 ہو گئی ہے اور 50 سال کے لگ بھگ عمر کی دولتمند خواتین کی تعداد فار چون 20 کے مطابق 10 سے بڑھ کر 17 تک پہنچ گئی ہے ۔ دولتمند خواتین کی اوسط عمر ایک سال کے عرصہ میں 62.5 فیصد سے کم ہو کر 61.5 فیصد ہو گئی ہے ۔ مارک ذکربرگ کے بعد کم عمر دولتمندوں کے گروپ میں دوسرے درجہ پر 24 سالہ ہند حریری ہیں ۔ ہند حریری لبنان کے سابق وزیر اعظم رفیق الحریری کی دختر ہیں اور انہوں نے حالیہ عرصہ میں لبنان کی امریکن یونیورسٹی سے گریجویشن کیا ہے ۔ یہ یونیورسٹی بیروت میں واقع ہے ۔ چین کی رہنے والی 26 سالہ یانگ ہیوان جن کے والد نے انہیں اپنی رئیل سٹیٹ کی کمپنی کنٹری گارڈن میں 58 فیصد شراکت داری دی ہے وہ ہند حریری کے بعد دولت کے لحاظ سے تیسرے نمبر پر ہیں ۔ یانگ نے کوئنگ ہوا یونیورسٹی سے گریجویشن کیا ہے اور وہ اعلیٰ تعلیم کے لئے کواہیوا سٹیٹ بھی جا چکی ہیں ۔ 30 سالہ کی دولتمند خواتین کی تعداد فارچون نے 5 بتلائی ہے ان میں سے 4 خواتین کا تعلق ترکی سے ہے اور مذکورہ 4 خواتین میں سے 3 خواتین ترکی کے ذرائع ابلاغ کے تاجر عیدین ڈوگن کی بیٹیاں ہیں
۔صدر سوڈان کو گرفتار کرنے کی کوشش کا مسئلہ ، سیکیورٹی کونسل میں پھوٹ پڑ گئی
نیویارک ۔ ( اے پی ایس) اقوام متحدہ کی سیکیورٹی کونسل اس بات پر بری طرح منقسم ہو گئی ہے کہ آیا اسے سوڈان کے صدر عمر حسن البشیر کو دارفور میں نسل کشی کے الزامات پربین الاقوامی فوجی عدالت کی جانب سے گرفتاری کے وارنٹ کی اجرائی کو روکنا چاہئے یا نہیں ۔ فوج داری عدالت کے چیف پراسیکیوٹر لوئی مورینو اوکیمپو نے عدالت پر زور دیا ہے کہ وہ ان کے پیش کردہ ثبوت کی بنیاد پر صدر سوڈان کی گرفتاری کا وارنٹ جاری کریں ۔ لیکن افریقی ممالک کا یہ احساس ہے کہ ایسا کوئی بھی قدم دارفور میں امن بحال کرنے کی کوششوں پر منفی اثر ڈال سکتا ہے ۔یہ موضوع پیر کو اس وقت بحث کا موضوع بنا جب سیکیورٹی کونسل ایک ایسی قرار داد پر غور کر رہی تھی جس کا مقصد افریقی یونین اور اقوام متحدہ کی مشترکہ امن فوج کی برقراری میں توسیع دینا تھا ۔ امن فوج کے مشن کی مدت جمعرات کو ختم ہو رہی ہے ۔ لیبیا اور جنوبی افریقہ نے روس اور چین کی مدد سے قرار داد کے زبان و بیان میں ایسے اضافہ پر اصرار کیا جس کے نتیجہ میں صدر سوڈان کے خلاف بین الاقوامی فوجداری عدالت کو قدم اٹھانے سے روکا جا سکے گا ۔ لیکن امریکہ ‘ برطانیہ اور اس کے اتحادیوں نے اس کی شدو مد سے مخالفت کی ۔ واشنگٹن ‘ لندن اور پیرس نے یہ تاویل پیش کی کہ دونوں موضوعات علیحدہ ہیں اور ان کے ساتھ علیحدہ طور پر نمٹا جانا چاہئے ۔ بین الاقوامی فوجداری عدالت کی کارروائی امن مشن کے دائرہ اختیار کی توسیع پر بندش نہیں لگاتی ۔ کل مباحث کے دوران کونسل کے ارکان کسی سمجھوتہ پر نہیں پہنچ سکے لیکن جمعرات کی نصف شب سے قبل ہی قرار داد کا منظور کیا جانا ضروری ہے ۔ سفارتکاروں کا کہنا ہے کہ سوڈان کے ساتھ قریبی تعلقات رکھنے والے ملک چین نے بند کمرے کے مباحث میں سرگرم حصہ نہیں لیا ۔ بظاہر وہ یہ نہیں چاہتا کہ ایسے وقت جبکہ بیجنگ اولمپکس بہت قریب ہیں چین کی کوئی منفی انداز میں تشہیر ہو ۔ لیبیا اور جنوبی افریقہ نے صدر سوڈان کے خلاف کارروائی کرنے سے بین الاقوامی فوجداری عدالت کو روکنے کی کوشش کی ۔ سوڈانی سفیر برائے اقوام متحدہ عبدالمحمود ‘ عبدالحلیم نے رائٹر سے کہا ہم چاہتے ہیں کہ سیکیورٹی کونسل یہ کہتے ہوئے کہ کوئی مقدمہ نہیں ہے دارفور میں امن مشن کے عمل کا آغاز کرے “ عرب لیگ اور افریقی یونین نے بھی بین الاقوامی عدالت کے پراسیکیوٹر کے اقدام پر تشویش کا اظہار کیا ہے پروگرام کے مطابق سیکیورٹی کونسل میں قرار داد پر چہار شنبہ کو رائے دہی ہو گی
۔سلامتی کونسل کی جانبداری کے خلاف متحدہ جدوجہد کی جائے ‘ احمدی نثراد
تہران ۔ ( اے پی ایس )صدر ایران محمود احمدی نثراد نے ترقی پذیر ممالک سے اپیل کی ہے کہ وہ سلامتی کونسل اقوام متحدہ اور دیگر عالمی اداروں کے ” جانبدارانہ رویہ “ کے خلاف لڑائی کے لئے متحد ہو جائیں ۔ انہوں نے یہاں غیر جانبدار تحریک ( نام ) کے وزرائے خارجہ کی 15 ویں کانفرنس کے افتتاح کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے کہا کہ عالمی ادارے ‘ بڑی طاقتوں کے مفادات کی تکمیل میں مصروف ہیں ۔ ایران ‘ مغربی ممالک کے ساتھ اپنے نیوکلیئر منصوبوں پر جاری تنازعہ میں اپنے بین الاقوامی تائید کے دائرہ کو وسعت دینا چاہتا ہے ۔ صدر ایران نے کہا کہ مغربی طاقتیں ‘ اسلامی جمہوریہ ایران کے خلاف تین مرتبہ محدودتحدیدات عائد کی ہیں ۔ احمدی نثراد نے الزام لگایا کہ عالمی طاقتیں خود تو جوہری اسلحہ کا ذخیرہ کرتی ہیں لیکن دیگر ممالک کو پرامن نیوکلیئر توانائی کے حصول سے روکنے کی کوشش کرتی ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ ” بڑی طاقتیں ‘ زوال کے راستے پر ہیں ‘ ان کا اثر دن بدن گھٹتا جا رہا ہے ۔ ان طاقتوں کا دور ختم ہونے کے قریب ہے “ ( غیر جانبدار تحریک کا قیام 1961 ء میں کئی تو آزاد ممالک کے گروپ کی جانب سے عمل میں لایا گیا تھا ۔ اب اس تحریک کے ارکان اور مبصرین کی تعداد 118 ہے ۔ اس تحریک سے وابستہ ممالک ‘ امریکہ اور روس کے درمیان سرد جنگ میں پھنسنا نہیں چاہتے ) ۔ احمدی نثراد نے سلسلہ تقریر جاری رکھتے ہوئے کہا کہ جب تک رکن ممالک کے مابین اجتماعی طاقتیں اور موثر کوششیں نہ ہوں ‘ عالمی حالات کو نہیں بدلا جا سکتا اور نہ رکن ممالک کے مشترکہ مفادات کی تکمیل کی جا سکتی ہے ۔ یہ گروپ ‘ کسی بھی رکن ملک کے خلاف جارحیت کو پسپا کر سکتا ہے اور اس ملک کی مدافعت کر سکتا ہے ۔ یہ گروپ دیگر ممالک کے خلاف بڑی طاقتوں کے اقدامات کو روک سکتا ہے ۔ احمدی نثراد نے نام تحریک کے ارکان اور دیگر ممالک کے درمیان تنازعہ کی یکسوئی کے لئے ایک ” ثالثی کونسل “ کی ضرورت پر زور دیا ہے اور غیر جانبدار ممالک کی ترقی کے لئے ایک فنڈ قائم کرنے کی بھی تجویز پیش کی لیکن کوئی تفصیلات نہیں بتائیں ۔ انہوں نے کہا کہ جب تک امریکہ دیگر 4 بڑی طاقتوں کی طرح ایک مستقل نشست کا حال ہے ‘ سلامتی کونسل ( اقوام متحدہ ) امریکہ کے خلاف ہر گز کوئی قرار داد منظور نہیں کرے گا ۔ ( امریکہ ‘ ایران کا کٹر دشمن ہے ) سلامتی کونسل کے 5 ارکان کو ویٹو کا اختیار حاصل ہے ۔
آ سٹر یلیا نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستانی سیکورٹی فورسز کو تربیت دینے کی پیشکش کر دی
کینبرا ۔ ( اے پی ایس ) آسٹریلیا نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستانی سیکورٹی فورسز کو تربیت دینے کی پیشکش کردی ۔ آسٹریلوی وزیر دفاع جوٹل فٹز گبن نے اس بات پر زور دیا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف عالمی جنگ میں بین الاقوامی برادری کو اپنی کوششیں مزید تیز کرتے ہوئے مزید معاشی اور فوجی مددفراہم کرنی چاہیئے ۔ نیشنل پریس کلب میں خطاب کے دوران آسٹریلوی وزیر دفاع نے کہا کہ ہمیں اس جنگ میں پاکستانی فوج کی تربیت کرنی چاہیئے تاکہ وہ بہتر انداز میں عسکریت پسندی کے خاتمے کے لیے کوششیں کر سکے اور پاکستان کو القاعدہ کی آماجگاہ نہ بننے دیاجائے ۔ انہوں نے کہا کہ امید ہے کہ ایک ماہ کے اندر افغانستان میں سیکورٹی کی صورت حال بہتر ہو جائے گی جہاں آسٹریلیا کے 1080 فوجی اہلکار موجود ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ افغانستان امریکی اور اتحادی فوجی اہلکار موجود ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ افغانستان مین امریکی اور اتحادی افواج کی کامیابی کے لیے پاکستان کو محفوظ بنانا ہو گا۔ جوٹل فٹرگبن نے کہا کہ پاکستان نے قبائلی علاقوں میں عسکریت پسندی کے خاتمے کے لیے بہت اقدامات کیے ہیں لیکن ابھی اس حوالے سے مزید کرنے کی ضرور ت ہے