
امریکہ کی جانب سے پاکستان کی مسلسل فضائی حدود کی پامالی پر حکومت کی ساکھ متاثر ہورہی ہے ۔ جغرافیائی حدود میں صرف سرحدات شامل نہیں ہوتیں بلکہ اس میں فضائی اور سمندری حدود بھی شامل ہوتی ہیں ۔ شمالی و جنوبی وزیرستان ایجنسی میں امریکہ کی جانب سے مسلسل فضائی حدود کی پامالی پر اپنے ردعمل میں ملک میں سیاسی اور فوجی قیادت کے درمیان سوچ کا خلا ہے ۔ امریکہ ہماری کمزوری کو بھانپ چکا ہے بھارت کی جانب سے اس قسم کی فضائی حدود کی پامالی اور نشانہ بنایا جاتا تو اعلان جنگ کر دیا جاتا ۔ امریکی حملوں کے خلاف ہمیں مصمم ارادے کی ضرورت ہے ۔ حکمرانوں کو ڈٹ کر کھڑا ہونا چاہئے ۔ ورنہ امریکی کارروائی بڑھتی جائے گی امریکہ کی جانب ان حملوں کا سلامتی کونسل کو نوٹس لینا چاہئے ۔ پاکستان کو یہ معاملہ اقوام متحدہ میں اٹھانا چاہئے قومی خودمختاری اور آزادی پر تو کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا ۔ اس ایشو پر قوم میں کوئی دو رائے نہیں ہے ۔ پوری قوم یکجا اور متحد ہے حکمرانوں کے کھڑے ہونے کی بات ضرور ہو ۔جبکہ امریکی تھنک ٹینک بروکنگ انسٹی ٹیوشن میں خارجہ پالیسی کے ماہر بروس رائیڈل نے پاکستان کے قبائلی علاقوں میں امریکی حملوں پر سخت تنقید کرتے ہوئے بش انتظامیہ کو خبردار کیا ہے کہ پاکستان پر سرحد پار سے حملے دہشت گردی کے خلاف طویل المدتی حل نہیں ہے ۔ رائیڈل جو سی آئی اے اور پنٹاگان میں اعلیٰ عہدوں پر بھی فائز رہ چکے ہیں کونسل ان فارن ریلیشنز ( سی آر ایف ) کے ساتھ انٹرویو میں کہا کہ ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم پاکستانیوں کو اس بات پر قائل کریں کہ یہ جنگ ان کی اپنی ہے اور اس ضمن میں امریکہ میں بعض بڑے نئے اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے ۔ انہوں نے کہا کہ کمانڈو ایکشن اور فضائی حملے دہشت گردی سے نمٹنے کا طویل المدتی حملہ نہیں ہے ۔ رائیڈل نے کہا کہ پاکستان کے قبائلی علاقوں میں افغانستان سے سرحد پار حالیہ امریکی حملے پاکستان کے اندر مخالف امریکی جذبات بھڑکانے کے لئے خطرناک ہیں انہوں نے کہا کہ اس قسم کی سیاسی فضاء اور اس قسم کے آپریشنز بہ آسانی امریکہ مخالف جذبات کو مزید بھڑکا سکتے ہیں ۔ رائیڈل نے بش انتظامیہ پر زور دیا کہ جب تک ہم نئے سرے سے مذاکرات شروع نہیں کرتے اس وقت تک حالیہ سرحد پار سے حملوں کے انتہائی خطرناک نتائج برآمد ہو سکتے ہیں اس لئے آئندہ اس قسم کے حملوں سے گریز کیا جائے ۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ کے اگلے منتخب ہونے والے صدر کو پاکستان کی سویلین حکومت کے ساتھ کام کرنا چاہئے اور انہیں بتا دیں کہ ہم پاکستان میں جمہوریت کے خواہاں ہیں انہوں نے کہا کہ ہمیں پاکستان کے ساتھ بالخصوص اقتصادی شعبوں میں تعاون بڑھانا چاہئے ۔ انہوںنے اس بات پر بھی زور دیا کہ امریکہ افغانستان پر پاکستان کے ساتھ برطانیہ کی طرف سے 1893 ء میں قائم کردہ سرحد کو قبول کرنے کے لئے بھی دباو¿ ڈالے ۔ انہوں نے مسئلہ کشمیر کے حوالے سے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ امریکہ مسئلہ کشمیر کے تمام فریقین کو قابل قبول حل کے لئے بھارت پر بھی اثر و رسوخ بڑھائے ۔ انہوں نے کہا کہ کشمیر کا مسئلہ گزشتہ کئی سالوں سے سردخانے میں پڑا تھا ۔ لیکن اب یہ حقیقت میں تیزی کے ساتھ ابلنا شروع ہو گیا ہے اور جب کشمیر ابلے گا تو اس کے نتیجے میں بھارت اور پاکستان کی کشیدگی جنگ میں تبدیل ہو سکتی ہے ہم صورت حال پر نگاہ رکھے ہوئے ہیں اور رکھنا ہو گا ۔ جبکہ ملک بھر کے عوام نے امریکی حملوں کے متعلق وزیراعظم کے اس بیان کہ ”ہم جنگ نہیں کر سکتے“ کو بزدلی اور بے بسی کا مظہر قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ ایک ایٹمی طاقت کے حامل ملک کے حکمرانوں کو یہ زیب نہیں دیتا‘ انہوں نے کہاکہ سفارتی سطح پر کم از کم یہ احتجاج ضرور ہونا چاہئے کہ پاکستان اپنا سفیر امریکہ سے واپس بلائے اور اپنے ہاں سے امریکی سفیروں کو نکل جانے کا حکم دے‘ پاکستانی باشندوں کا خون اتنا سستا نہیں کہ ہم سفارتی سطح پر بھی احتجاج نہ کر سکیں۔ قوم اب حکمرانوں سے بیانات کی نہیں عملی اقدامات کا تقاضا کرتی ہے۔ پاکستان امریکی حملوںکے ردعمل کے طور پر پہلے مرحلے میں اپنی سرزمین سے نیٹوافواج کی سپلائی لائن روک دے تاکہ اتحادی افواج کی طرف سے ہمارے علاقوں سے اسلحہ‘ تیل اور دیگر اشیاء لے جا کر ہم پر ہی بم برسانے کا سلسلہ بند ہوسکے۔ بعض سیاستدانوںاور امریکہ نواز حلقوں کو جنرل اشفاق پرویز کیانی کا اپنے دفاع کے حوالے سے جرات مندانہ بیان ہضم نہیں ہورہا اور وہ اس بیان کو منفی انداز سے پیش کر رہے ہیں جبکہ حقیقت یہ ہے کہ کیانی کے بیان نے قوم میں حوصلہ پیدا کیا ہے تاہم فوج کی طرف عملی اقدامات کی ضرورت محسوس کی جا رہی ہے۔ ملک بھر کے عوام یہ بھی کہہ رہے ہیں کہ موجودہ حکومت نے سابق ڈکٹیٹر پرویز مشرف کی دہشت گردی کے خلاف پالیسی کو جاری رکھا ہواہے اور ان میں جرات نہیں کہ اسے تبدیل کر سکیں۔حالانکہ امریکی جارحیت کے خلاف پوری قوم متحد اور یک آواز ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت قوم کے جذبات و احساسات کے عین مطابق پالیسیاں بنائے اور نیٹو افواج کی ہر قسم کی لاجسٹک سپورٹ فوری طو رپر روک دے۔عوام نے امریکہ میں متعین پاکستانی سفیر حسین حقانی کے طرز عمل پر بھی افسوس کا اظہار کیا ہے کہ وہ وہاں بیٹھ کر پاکستانی قوم سے غلط بیانی کر رہے ہیں۔ ان کے اب تک کے بیانات سے یوں لگ رہا ہے کہ وہ پاکستان کی بجائے امریکہ کے ترجمان ہیں اور وہ امریکہ کے وکیل صفائی کا کر دار ادا کرتے نظر آ رہے ہیںعوام نے کہا ہے کہ مجموعی طور پر پیپلز پارٹی کی حکومت امریکہ کے سامنے سرنڈر کرتی دکھائی دے رہی ہے او ران کے بیانات کچھ اور ہے اور عملاً کردار کچھ اور ہے۔ یہ جنگ پوری قوم اور ملت کے خلاف ہے۔اے پی ایس
No comments:
Post a Comment