International News Agency in english.urdu news feature,Interviews,editorial,audio,video & Photo Service from Rawalpindi/Islamabad,Pakistan.Managing editor M.Rafiq,Editor M.Ali. Chief editor Chaudhry Ahsan Premee email: apsislamabad@gmail.com,+92300 5261843 مینجنگ ایڈ یٹر محمد رفیق، ایڈیٹر محمد علی، چیف ایڈیٹرچو دھری احسن پر یمی

Tuesday, September 30, 2008

عید پر وفاقی دارلحکومت میں آٹے کا بحران،حکمرانوں کی ناقص کاردگی پر عوامی غصے کی لہر





اسلام آباد (اے پی ایس) حکومتی نام نہاد دعوئوں کے با وجود عید الفطر پر و فاقی دارالحکومت کی تمام ما ر کیٹوں میں آ ٹے کی قلت کی و جہ سے اسلام آباد کے شہریوں کو سخت پر یشانی کا سا منا ہے۔ متعلقہ ذمہ دار حکام کی ناقص کا ردگی پر اسلام آباد کے شہریوں میں سخت غصے کی لہر دیکھنے میں آئی ہے۔مارکیٹوں میں آٹے کی قلت کی وجہ سے لوگوں نے غصے میں موجودہ حکمرانوں سے مخاطب ہوکر کہا کہ اگر وہ عوام کو بنیادی سہو لتوں اور روز مرہ کی اشیاءکی فراہمی کو یقینی نہیں بنا سکتی تو اقتدار سے الگ ہو جا ئیں۔جبکہ بعض افراد نے کہا ہے کہ آصف زرداری اور یوسف رضا گیلانی اگر ذرا بھر بھی کوئی عوامی ہمدردی کا جذبہ رکھتے ہیں تو عید پڑھنے سے قبل اسلام آباد کی ما ر کیٹوں میں آٹے کی دستیابی کو یقینی بنا ئیں ورنہ آپ کا عید پڑھنا بے کار ہے کیونکہ جس رعایا کے آپ حکمران ہیں عید پر اس رعیت کے چولہے بجھے ہوئے ہیں۔اے پی ایس

ملک دشمنوں کا ناپاک عزائم ایجنڈا تیز ترین رفتار سے آگے بڑھ رہا ہے۔ تحریر: چودھری احسن پر یمی اے پی ایس





وطن عزیز کو ہر طرح سے عدم استحکام کرنے کیلئے ملک دشمن عالمی طاقتوں اور ان کے بے شرم اور بے غیرت قسم کے دلالوں کی وجہ سے ان کا ناپاک عزئم کا ایجنڈا تیز ترین رفتار سے آگے بڑھ رہا ہے۔ جہاں ان طاقتوں نے ملک و قوم کو مختلف بحرانوں میں دھکیل دیا ہوا ہے ان میں سے ایک معاشی بحران ہے۔آج وطن عزیز کا نا ک نقشہ یہ ہے کہ آج وطن عزیز کو معاشی امداد کی ضرورت ہے۔اور مجبور حکومت معاشی امداد کیلئے ادھر ادھر ہاتھ پا ئوں مار رہی ہے لیکن کو ئی بھی گھاس نہیں ڈال رہا اس کی بھی ایک وجہ ہے کہ بیرونی طاقتوں و عالمی معاشیاتی اداروں کی بھی ملک و عوام دشمن شرائط بھی ہوتی ہیں جن پر عملدرآمد کی یقین دہانی بھی کرانا پڑتی ہے ۔اور یہی مشکلات موجودہ حکومت کو در پیش آرہی ہیں۔ کیونکہ موجودہ حکومت عجلت میں کو ئی بھی ایسا فیصلہ نہیں کر نا چاہتی جس سے عوامی نفرت میں مزید اضافہ ہوا کیونکہ موجودہ حکومت کو سابقہ دور حکومت میں بوئے گئے بیج سے تیار کی گئی فصل کو کا ٹنے میں جو دشواری پیش آرہی ہے وہی موجودہ حکومت کی بدنامی اور اس کو چلتا کرنے کیلئے کا فی ثابت ہو گی۔ ایک مخصوص طبقہ جو ساٹھ سال تا حال کسی نہ کسی طرح اقتدار کے مزے لوٹنے کے ساتھ ساتھ عوام کا خون چوسنے کے علاوہ قو می خزانے کو بھی بے دردی سے لو ٹتا رہا ہے۔ وہ آج وطن عزیز کی معاشی بدحالی پر بے حس،بے شرم اور بے غیرت بن چکا ہوا ہے انھیں آج کوئی بھی پوچھنے والا نہیں اگرچہ ملک بھر کے نام نہاد سیاسی جما عتوں کے سربراہ کسی بھی ایجنڈے پر اتفاق نہیں کرتے لیکن یہ بے غیرت قومی خزانے کی لوٹ مار اور مراعات لینے پر سب اتفاق کرتے ہیں ۔ آج وطن عزیز کو معاشی بد حالی کا سا منا ان بے غیرتوں کے کرتو توں کی وجہ سے کرنا پڑ رہا ہے آج کوئی بھی قا نون اور قا نون نافذ کر نے والا یا کوئی بھی ملک کی سلامتی کا ضامن ریاستی ادارہ ان کو ہاتھ ڈالنے کو تیار نہیں اور ملک بھر کے عوام کے خیال کے مطابق یہی وجہ ہے کہ چیف جسٹس افتخار چودھری کو بحال نہیں کیا گیا تا کہ ملک اور عوام کے دشمن پاکستان کو عدم استحکام کرنے کیلئے پاک سرزمین پر کھل کر رقص ابلیس کر سکیں۔موجودہ حکومت کی اگرچہ کچھ مجبوری ہے کہ وہ کھل کر پالیسی بیان میں ان ملک دشمن طاقتوں کو بے نقاب نہیں کر رہی ۔لیکن ملک بھر کے عوام یہ بات اچھی طرح جانتے ہیں کہ ملک دشمن عالمی طاقتیں پاکستان کو عدم استحکام، اس کو توڑنے اور اس کی اپنی مرضی سے جغرافیائی سرحد بندی کے علاوہ اس کے نیوکلیئر پاور کا خاتمے کے علاوہ مستقبل قریب میں اس سرزمین کو چین کے خلاف استعمال کرنے کے علاوہ اس خطے میں اجارہ داری قا ئم کرنا چا ہتی ہیں۔ یہ وہ حقیقت ہے جو حرف آخر ہے اور یہی ان کے وہ نا پاک عزائم ہیں جن کی پا یہ تکمیل کیلئے یہ نا سور خود ساختہ تخلیق کردہ نام نہاد دہشت گردی کی جنگ لڑ رہے ہیں تا کہ ان ملک دشمنوں کے اپنے ہی قبا ئلی علاقوں میں موجود ایجنٹ ایسی کار وائیاں کر تے رہیں اور ان کو پاک سرزمیں پر حملوں کا جواز ملتا رہے۔جبکہ امریکہ کی سینٹرل کمانڈ کے سربراہ ڈیوڈ پٹریئس نے کہا ہے کہ پاکستان کے وجود کو شدت پسندوں سے خطرہ لاحق ہے اور پاکستان کو اس مسئلے سے نمٹنا ہے۔لندن میں برطانوی وزیرِ اعظم گورڈن براون سے ایک ملاقات کے بعد امریکی جنرل نے کہا کہ پاکستان کو اس مسئلے کی اہمیت اور نوعیت کا پہلے سے زیادہ احساس ہو گیا ہے اور اسے اس معاملے کو حل کرنا ہے۔ امریکی جنرل نے یہ بات ایسے وقت کہی ہے جب پاکستان کے وزیرِ خارجہ شاہ محمود قریشی امریکہ میں اعلیٰ حکام سے ملاقاتوں میں مصروف ہیں۔ گذشتہ پیر کو شاہ محمود قریشی نے اعلیٰ امریکی سفارت کار نیگرو پونٹے سے ملاقات کی جس میں پاکستان میں سکیورٹی کی صورتِ حال پر خصوصی طور پر بات کی گئی۔ نیگرو پونٹے شدت پسندی کے مسائل پر بات چیت کے لیے پچھلے کچھ عرصے میں کئی بار پاکستان آئے ہیں۔شدت پسندوں کو پکڑنے اور ان کے خلاف کارروائی کے تناظر میں امریکہ پاکستان کی انٹیلیجینس ایجنسی آئی ایس آئی کی کارکردگی پر بھی نکتہ چینی کرتا رہا ہے۔ گذشتہ پیر کو پاکستان آرمی میں اعلیٰ سطح پر کئی تبدیلی کی گئیں اور کچھ افسران کو ترقی دی گئی جن میں احمد شجاع پاشا کو میجر جنرل کے عہدے سے ترقی دے کر لیفٹیننٹ جنرل بنا دیا گیا ہے اور آئی ایس کا سربراہ مقرر کر دیا گیا ہے۔ اگرچہ لندن میں جنرل پٹریئس نے کہا کہ مستقل مزاجی سے شدت پسندوں سے نمٹنے کے لیے امریکہ پاکستان کی مدد کرے گا۔جنرل پٹریئس کا یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب اسلام آباد اور واشنگٹن کے درمیان شدت پسندوں پر پاکستان میں امریکی حملوں کے تناظر میں کشیدگی پائی جاتی ہے۔ افغانستان میں موجود امریکی فوج نے کارروائی کرتے ہوئے کئی بار سرحد کے پار پاکستان میں موجود شدت پسندوں کو نشانہ بنانے کی کوشش کی ہے جس پر پاکستان نے شدید احتجاج بھی کیا ہے۔ پاکستان کا کہنا ہے کہ ان حملوں میں عام لوگ مارے گئے ہیں۔ستمبر کے اوائل میں انگور اڈہ میں امریکی کمانڈوز نے سرحد عبور کر کے کا رروائی کی تھی جس پر پاکستان کی طرف سے شدید ردِ عمل سامنے آیا تھا۔ حال ہی میں امریکی صدر اور اعلیٰ حکام و فوجیوں کی طرف سے یہ اعادہ کیا گیا کہ امریکہ پاکستان کی خود مختاری کا احترام کرے گا۔تاہم گزشتہ ہفتے پاکستانی فوج نے دو امریکی ہیلی کاپٹروں پر سرحد عبور کرنے کا الزام رکھتے ہوئے فائرنگ کی تھی۔ تاہم ایک امریکی جنرل مائیکل مولن نے کہا تھا کہ یہ معاملہ اتنا تشویشناک نہیں۔ جنرل پٹریئس نے گورڈن براون سے ملاقات کے بعد یہ بھی کہا کہ پاکستان کو خود بھی یہ معلوم ہے کہ اسے شدت پسندوں سے خطرہ ہے اور’اسلام آباد میں اس معاملے کی اہمیت اور نوعیت دونوں ہی تسلیم کی جا رہی ہیں‘۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ اس مسئلے کے حل کے لیے پاکستان کی کوششوں کی حمایت کی جانی چاہیے۔افغانستان میں موجود امریکی اور اس کی اتحادی فوج نے پاکستان کے قبائلی علاقوں میں حملوں میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ گذشتہ ستمبر کے پہلے ہفتہ میں جنوبی وزیرستان کے علاقے انگور اڈہ کے قریب پہلی دفعہ امریکی اور اتحادی افواج نے پاکستان کے اندر گھس کر زمینی فوج کا استعمال کیا تھا۔ جبکہ اس سے قبل ہونے والے تمام حملے فضا سے کیے گئے تھے۔ اس کے اگلے ہی روز شمالی وزیرستان میں سرحد کے قریب افغان حدود سے میزائل داغے گئے۔ پھرشمالی وزیرستان میں افغان سرحد کے قریب امریکی جاسوس طیاروں سے میزائلوں کے تین حملے کیے گئے۔ اور اس کے بعد شمالی وزیرستان میں واقع طالبان کمانڈر جلال الدین حقانی کے گھر اور مدرسے پر میزائل حملہ کیا گیا تھا۔ ان حملوں کی بڑھتی ہوئی تعداد اور ان کے ممکنہ ردِ عمل پر امریکی تھنک ٹینک سینٹر فار انٹرنیشنل پالیسی واشنگٹن میں ڈائریکٹر ایشیا پروگرام سیلیگ ہیریسن نے کہا تھاکہ پاکستان کے قبائلی علاقوں میں اگر امریکی حملے جاری رہے تو پاکستان میں پشتون آبادی میں احساس محرومی بڑھ جائے گا۔ انہوں نے کہا ’امریکہ کو پشتون علاقوں کے بارے میں زیادہ معلومات نہیں ہیں اور انہوں نے برطانیہ کی تاریخ نہیں پڑھی اور اسی لیے امریکہ وہ تمام غلطیاں کر رہا جواس علاقے میں برطانیہ نے کی تھیں۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کے قبائلی علاقوں میں القاعدہ موجود ہے اور اپنے مالی استحکام کو استعمال کرتے ہوئے طالبان کو اپنا حمایتی بناتی ہے۔’لیکن ابھی بھی دیر نہیں ہوئی اور اس کی تلافی کی جا سکتی ہے۔ ایک ایسی پالیسی بنائی جائے جس سے طالبان کا القاعدہ کی طرف مزید مائل ہونے کو روکا جا سکے۔سیلیگ ہیریسن پانچ کتابوں کے مصنف ہیں جن میں ’اِن افغانستان شیڈو‘ اور ’سٹڈی آف بلوچ نیشنلزم‘ شامل ہیں، سیلیگ ہیریسن واشنگٹن پوسٹ کے سابق شمالی ایشیا کے بیورو چیف بھی رہ چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ ضروری ہے کہ طالبان اور القاعدہ میں تفریق کی جائے کیونکہ القاعدہ ایک عالمی دہشتگرد تنظیم ہے اور دنیا کے لیے خطرہ ہے جب کہ طالبان سے دنیا کو کوئی خطرہ نہیں ہے۔ ’طالبان سے بات چیت کرنے کا جواز درست ہے اور اس کے ساتھ ہی القاعدہ کو ڈھونڈنے اور شکست دینے کے لیے مو¿ثر منصوبہ بندی کی بھی ضرورت ہے۔ان کا کہنا تھا کہ قبائلی علاقوں کے حوالے سے بین الاقوامی سطح میں کافی بے اطمینانی ہے اور دنیا یہ دیکھ رہی ہے کہ آیا نئی حکومت اس صورتحال پر قابو پا سکتی ہے یا نہیں۔ ’ پاکستان کی صورتحال سے دنیا اس وقت کنفیوزڈ اور پریشان ہے۔ اس حوالے سے نئی حکومت کا پہلا امتحان پاکستان کی انٹیلیجینس ایجنسی (آئی ایس آئی) پر قابو پانا ہے۔‘ انہوں نے یہ بھی کہا ہے کہ’یہ کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں ہے کہ آئی ایس آئی میں اسلامی حمایت پسند عناصر موجود ہیں جو کہ القاعدہ کے عناصر کو تحفظ فراہم کرتے ہیں۔ اگر موجودہ حکومت آئی ایس آئی کے بجٹ کو اپنے کنٹرول میں لے آتی ہے تو پھر اس ایجنسی کی کارروائیوں پر نظر رکھی جا سکتی ہے۔‘ طالبان کے مبینہ ٹھکانوں پر امریکی بمباری کی پالیسی غلط ہے چاہے وہ افغانستان میں ہو یا پاکستان میں۔اس قسم کی بمباری سے مزید لوگ طالبان کے حامی ہوتے جا رہے ہیں اور پشتون قبیلے مزید شدت پسند ہو گئے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ نئی حکومت کے لیے سب سے مشکل بات آئی ایس آئی اور اس کے فنڈز پر قابو کرنا ہے۔ اور جب تک حکومت آئی ایس آئی کو اپنے کنٹرول میں نہیں لاتی اس وقت تک القاعدہ کی پاکستان کے قبائلی علاقوں میں موجودگی کے مسئلے کو حل کرنا مشکل ہے۔ ’ضرورت اس بات کی ہے کہ القاعدہ اور طالبان میں تفریق کی جائے۔ یہ درست ہے کہ کچھ طالبان مالی طور پر القاعدہ کے ساتھ ہیں لیکن زیادہ تر جن میں پاکستان طالبان بھی شامل ہیں ان کو القاعدہ سے ملانا غلط ہو گا۔ ایسے طالبان کے ساتھ تعلقات استوار کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ لیکن بدقسمتی سے ان میں تفریق نہیں کی جا رہی جس کا نتیجہ یہ ہے کہ ان انتہا پسندی بڑھ رہی ہے اور ان کو کنٹرول کرنا مشکل سے مشکل ہوتا جا رہا ہے۔‘ امریکی صدر جارج بش نے جولائی میں امریکی خصوصی فورسز کو پاکستان کی حدود میں القاعدہ اور طالبان کے خلاف پاکستانی حکومت کی پیشگی منظوری کے بغیر زمینی کارروائیاں کرنے کی منظوری دے دی تھی۔امریکی اخبار ’نیویارک ٹائمز‘ نے یہ بات امریکی حکام کے حوالے سے اپنی ایک رپورٹ میں بتائی ۔نیویارک ٹائمز کی اس رپورٹ کے مطابق ایک سے زیادہ مختلف سینیئر امریکی عملداروں نے صدر بش کے اس خفیہ حکم کی منظوری کی تصدیق کی ہے کہ بش انتظامیہ میں مہینوں تک بحث کے بعد صدر بش نےامریکی خصوصی فورسز کو پاکستان کے اندر زمینی کارروائیاں کرنے کی خفیہ طور پر منظوری دی ہے۔ نیویارک ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق امریکی خصوصی فورسز کی پاکستان کی حدود میں محدود زمینی کارروائیوں کے بارے میں پاکستانی حکام کو مطلع کیا جائےگا لیکن اجازت کی ضرورت نہیں ہوگی۔اس ضمن میں رپورٹ میں گزشتہ ماہ کو پاکستان کے قبائلی علاقے انگور اڈہ میں امریکی کارروائی کی مثال دی گئی ہے۔ انگور اڈہ میں کارروائی کرنے والے خصوصی دستوں کو ایک سی ون تھرٹی کے مدد حاصل تھی اور کارروائی کے بعد اس میں حصہ لینے والے دستوں کو ہیلی کاپٹروں کے ذریعے لے جایا گیاتھا۔سینیئر امریکی عملدار نے نیو یارک ٹائمز کو بتایاتھا ’قبائلی علاقوں میں صورتحال ناقابل برداشت ہے اور ہمیں مزید اقدامات کی ضرورت ہے جس کے لیے احکامات جاری ہو چکے ہیں۔‘ انگور اڈہ میں امریکی کارروائی کے حوالے سے نیویارک ٹائمز نے لکھا تھا کہ امریکی نیوی سیِلز کے دو درجن سے زائد اراکین نے کئی گھنٹے تک کارروائی جاری رکھی۔ اس کارروائی میں مبینہ طور پر القاعدہ اور طالبان سے تعلق رکھنے والے دو درجن سے زائد عسکریت پسند ہلا ک ہوئے تھے جو افغانستان میں امریکی فوجوں پر حملے کرتے تھے۔ اس رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ کارروائی کرنے والے خصوصی دستوں کو ایک سی ون تھرٹی کے مدد حاصل تھی اور کارروائی کے بعد اس میں حصہ لینے والے دستوں کو ہیلی کاپٹروں کے ذریعے لے جایا گیا۔ اخبار کے مطابق پاکستانی حکومت کا مو¿قف تھا کہ اس کارروائی میں شہری ہلاک ہوئے تھے جس سے امریکہ مخالف جذبات میں مزید شدت آئی ہے۔ شدت پسندوں کے خلاف امریکی خصوصی فورسز کی کارروائیوں کو مربوط اور مزید مو¿ثر بنادیا گیا ہے۔ ان کارروائیوں کی نگرانی اب افغانستان میں بگرام میں سی آئی اے کے ایک اعلیٰ افسر کے حوالے کی گئی ہے۔تاہم اخبار کے مطابق امریکی ایحینسیوں نے طالبان اور القاعدہ کے عسکریت پسندوں کے خلاف ایسی نئی کارروائیوں کی حمایت کی گئی۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ اب شدت پسندوں کے خلاف امریکی خصوصی فورسز کی کارروائیوں کو مربوط اور مزید مو¿ثر بنا دیا گیا ہے۔ ان کارروائیوں کی نگرانی اب افغانستان میں بگرام میں سی آئی اے کے ایک سینیئر افسر کے حوالے کی گئی ۔ اخبار کے مطابق ان کارروائیوں میں امریکی فوج کی ڈیلٹا فورسز اور نیوی سیلز حصہ لے رہی ہیں۔اخبار نے لکھا ہے کہ یہ معلوم نہیں ہوسکا کہ آخر کس قانون کے تحت امریکی فورسز ایک دوست ملک کی حدود میں جا کر کارروائی کرسکتے ہیں۔ تاہم امریکی اخبار نے کہا کہ پاکستانی حکام زمینی کارروائیوں کے بجائے امریکی جاسوسی طیاروں کی کارروائیوں پر راضی ہیں۔عسکری ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان اور امریکہ کے درمیان اس وقت بداعتمادی کی ایک بڑی وجہ شدت پسندوں کے ٹھکانوں سے متعلق معلومات کے تبادلے میں آنے والا تعطل ہے۔ پاکستان، افغانستان اور امریکی فوجی حکام نے گزشتہ برس معلومات کے تبادلے کو بہتر بنانے کی غرض سے جوائنٹ انٹیلیجنس آپریشن سینٹرز قائم کیے تھے تاہم فریقین میں بداعتمادی کم کرنے میں ان سے کوئی مدد نہیں ملی ہے۔ امریکی فوجی حکام اب پاکستان کو خفیہ معلومات فراہم کرنے کے بجائے بظاہر خود کارروائیاں کر رہے ہیں۔ اس کی واضح مثال گزشتہ دو ہفتوں کے دوران افغانستان میں موجود امریکی فوجیوں کی جانب سے قبائلی علاقوں میں بغیر پائلٹ کے طیاروں کے ذریعے یکے بعد دیگرے حملے ہیں۔ پاکستان اور امریکہ اتحادی ہونے کے باوجود ایک دوسرے پر شک کر رہے ہیں۔ ’امریکہ اپنی خفیہ معلومات کی بنیاد پر اب خود کارروائیاں کر رہا ہے لیکن وہ یہ معلومات پاکستان کو دیتا تو عام شہریوں کی ہلاکت سے بچا یاجاسکتا تھا۔ماہرین کے مطابق قبائلی علاقوں میں دو طریقوں سے خفیہ معلومات اکٹھی کی جا رہی ہیں۔ ایک تو بغیر پائیلٹ کے جاسوس طیاروں کے ذریعے جس کی صلاحیت امریکہ کے پاس ہے۔ دوسرا زمین پر موجود مخبروں کے ذریعے جس کا نیٹ ورک پاکستان کا زیادہ مضبوط ہے۔ امریکہ جدید جاسوسی طیاروں کے ذریعے قبائلی علاقوں پر مسلسل نظر رکھتا ہے۔ ان طیاروں میں نصب کیمرے سے یا تو ویڈیو بنائی جاتی ہے یا پھر کابل کے شمال میں بگرام کے فوجی اڈے پر موجود امریکی ماہرین تک براہ راست فیڈ بھیجی جاتی ہے۔ دفاعی تجزیہ کا روں کے مطابق اس طرح سے حاصل کی گئی معلومات سو فیصد درست نہیں ہوتیں۔ان معلومات کی بنیاد پر کی گئی کارروائی کا تناسب پچاس فیصد سے بھی کم ہے۔ ’انہوں نے باجوڑ میں ڈمہ ڈولہ کے مقام پر ان معلومات کی بنیاد پر کارروائی کی تھی کہ وہاں ایمن الظواہری موجود ہے لیکن وہ وہاں نہیں تھا اور سترہ عام شہری مارے گئے۔ اسی طرح دیگر حملوں میں بھی ایسا ہوا ہے۔امریکیوں کے پاس زمین پر معلومات اکٹھی کرنے کے وسائل انتہائی کم بلکہ نہ ہونے کے برابر ہیں۔ قبائلی علاقوں سے اکثر مبینہ امریکی جاسوسوں کو ذبح کیے جانے کی خبریں آتی رہتی ہیں لیکن محدود رسائی کی وجہ سے اصل حقائق کبھی سامنے نہیں آپاتے۔ عسکری ماہرین کا کہنا ہے کہ شکایت صرف امریکہ کو پاکستان سے نہیں بلکہ پاکستان کو امریکہ سے بھی ہوتی ہیں۔ اب یہ اطلاعات بھی ہیں کہ تازہ حملے امریکی فوج نے نہیں امریکی تحقیقاتی ادارے سی آئی اے نے کیے ہیں۔ البتہ مبصرین کے خیال میں امریکہ کی یک طرفہ کارروائی کی وجوہات میں ان کے قریبی حلیف صدر پرویز مشرف کا چلا جانا اور امریکہ میں صدارتی انتخابات کا قریب آنا شامل ہیں۔ سیاسی مبصرین کے خیال میں پاکستان کے پاس امریکہ سے شکایات کے باوجود تعاون جاری رکھنے کے علاوہ کوئی دوسرا راستہ نہیں ہے۔ پاکستان کو مالی امداد کی اس وقت اشد ضرورت ہے اور امریکہ خود مالی امداد کے علاوہ عالمی مالیاتی اداروں میں بھی اثر و رسوخ رکھتا ہے۔ امریکہ کے چئیر مین جوائنٹ چیف آف سٹاف ایڈمرل مائیکل مولن نے دس ستمبر کو کانگریس کو دی جانے والی ایک بریفنگ میں کہا تھا کہ وہ نہیں سمجھتے کہ امریکہ کو افغانستان میں کامیابی حاصل ہوئی ہے لیکن انہیں یقین ہے کہ ایسا کیا جا سکتا ہے۔ایڈمرل مائیکل مولن کی جانب سے یہ بیان ان کی پاکستانی فوج کے سربراہ جنرل پرویز کیانی سے بحرِ ہند میں امریکی بحری بیڑے پر ہونے والی ایک خفیہ ملاقات کے تقریباً دو ہفتوں کے بعد سامنے آیا ۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ دونوں ممالک کے فوجی سربراہان اس ملاقات میں امریکہ کی جانب سے شروع کی گئی دہشت گردی کے خلاف جنگ کے حوالے سے مستقبل کا کوئی مشترک لائحہ عمل بنانے میں ناکام رہے ہیں۔ یہ حملے اس وقت ہوئے جب یہ اطلاعات موصول ہوئیں کہ بش انتظامیہ نے پاکستان کے قبائلی علاقوں میں زمینی حملوں کی اجازت دو ماہ قبل دے دی تھی۔ اس نئے لائحہ عمل کے حوالے سے پاکستانی فوج نے یہ سوال اٹھایا کہ طے شدہ قواعد و ضوابط کی رو سے غیر ملکی فوجی دستوں کو پاکستان کی سر زمین پر کارروائی کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ علاوہ ازیں فوج نے خبردار کیا ہے کہ حملوں کی صورت میں اپنے شہریوں اور فوجیوں کی حفاظت کے لیے جوابی حملے کیے جائیں گے۔ جنوبی وزیرستان میں ہونے والے ایک تازہ واقعے میں مقامی انتظامیہ کے مطابق پاکستانی فوجی دستوں نے امریکی فوجیوں کو افغانستان کی سرحد عبور کرنے سے روکنے کے لیے انتباہی فائر کیے۔ اگر امریکی حملے جاری رہے تو موجودہ جمہوری حکومت پر فوج اور سیاسی حلقوں کی جانب سے امریکہ کے ساتھ تعاون ختم کرنے اور امریکی طیاروں کو نشانہ بنانے کے لیے دباو بڑھ جائے گا۔ اگر پاکستانی حکومت اس حوالے سے کوئی انتہائی قدم اٹھاتی ہے تو عام خیال یہ ہے کہ ایسا صرف اس مفروضے کی بنیاد پر کیا جائے گا کہ امریکہ، پاکستان کی مدد کے بغیر شدت پسندوں سے لڑائی جاری نہیں رکھ سکتا۔ دوسری جانب ایک تجزیے کے مطابق امریکی حکومت دہشت گردی کے خلاف جنگ جیتنے کے لیے بے صبری کا مظاہرہ کرتے ہوئے اس سال امریکی صدارتی انتخاب سے پہلے پاکستانی حدود میں زیادہ سے زیادہ حملے کر سکتی ہے۔ اے پی ایس



پاکستان کے وجود کو خطرہ ہے، امریکی سینٹرل کمانڈ کے سربراہ ڈیوڈ پٹریئس



اسلام آباد (اے پی ایس )امریکہ کی سینٹرل کمانڈ کے سربراہ ڈیوڈ پٹریئس نے کہا ہے کہ پاکستان کے وجود کو شدت پسندوں سے خطرہ لاحق ہے اور پاکستان کو اس مسئلے سے نمٹنا ہے۔لندن میں برطانوی وزیرِ اعظم گورڈن براون سے ایک ملاقات کے بعد امریکی جنرل نے کہا کہ پاکستان کو اس مسئلے کی اہمیت اور نوعیت کا پہلے سے زیادہ احساس ہو گیا ہے اور اسے اس معاملے کو حل کرنا ہے۔ امریکی جنرل نے یہ بات ایسے وقت کہی ہے جب پاکستان کے وزیرِ خارجہ شاہ محمود قریشی امریکہ میں اعلیٰ حکام سے ملاقاتوں میں مصروف ہیں۔ گذشتہ پیر کو شاہ محمود قریشی نے اعلیٰ امریکی سفارت کار نیگرو پونٹے سے ملاقات کی جس میں پاکستان میں سکیورٹی کی صورتِ حال پر خصوصی طور پر بات کی گئی۔ نیگرو پونٹے شدت پسندی کے مسائل پر بات چیت کے لیے پچھلے کچھ عرصے میں کئی بار پاکستان آئے ہیں۔شدت پسندوں کو پکڑنے اور ان کے خلاف کارروائی کے تناظر میں امریکہ پاکستان کی انٹیلیجینس ایجنسی آئی ایس آئی کی کارکردگی پر بھی نکتہ چینی کرتا رہا ہے۔ گذشتہ پیر کو پاکستان آرمی میں اعلیٰ سطح پر کئی تبدیلی کی گئیں اور کچھ افسران کو ترقی دی گئی جن میں احمد شجاع پاشا کو میجر جنرل کے عہدے سے ترقی دے کر لیفٹیننٹ جنرل بنا دیا گیا ہے اور آئی ایس کا سربراہ مقرر کر دیا گیا ہے۔ اگرچہ لندن میں جنرل پٹریئس نے کہا کہ مستقل مزاجی سے شدت پسندوں سے نمٹنے کے لیے امریکہ پاکستان کی مدد کرے گا۔جنرل پٹریئس کا یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب اسلام آباد اور واشنگٹن کے درمیان شدت پسندوں پر پاکستان میں امریکی حملوں کے تناظر میں کشیدگی پائی جاتی ہے۔ افغانستان میں موجود امریکی فوج نے کارروائی کرتے ہوئے کئی بار سرحد کے پار پاکستان میں موجود شدت پسندوں کو نشانہ بنانے کی کوشش کی ہے جس پر پاکستان نے شدید احتجاج بھی کیا ہے۔ پاکستان کا کہنا ہے کہ ان حملوں میں عام لوگ مارے گئے ہیں۔ستمبر کے اوائل میں انگور اڈہ میں امریکی کمانڈوز نے سرحد عبور کر کے کا رروائی کی تھی جس پر پاکستان کی طرف سے شدید ردِ عمل سامنے آیا تھا۔ حال ہی میں امریکی صدر اور اعلیٰ حکام و فوجیوں کی طرف سے یہ اعادہ کیا گیا کہ امریکہ پاکستان کی خود مختاری کا احترام کرے گا۔تاہم گزشتہ ہفتے پاکستانی فوج نے دو امریکی ہیلی کاپٹروں پر سرحد عبور کرنے کا الزام رکھتے ہوئے فائرنگ کی تھی۔ تاہم ایک امریکی جنرل مائیکل مولن نے کہا تھا کہ یہ معاملہ اتنا تشویشناک نہیں۔ جنرل پٹریئس نے گورڈن براو¿ن سے ملاقات کے بعد یہ بھی کہا کہ پاکستان کو خود بھی یہ معلوم ہے کہ اسے شدت پسندوں سے خطرہ ہے اور’اسلام آباد میں اس معاملے کی اہمیت اور نوعیت دونوں ہی تسلیم کی جا رہی ہیں‘۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ اس مسئلے کے حل کے لیے پاکستان کی کوششوں کی حمایت کی جانی چاہیے۔افغانستان میں موجود امریکی اور اس کی اتحادی فوج نے پاکستان کے قبائلی علاقوں میں حملوں میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ گذشتہ ستمبر کے پہلے ہفتہ میں جنوبی وزیرستان کے علاقے انگور اڈہ کے قریب پہلی دفعہ امریکی اور اتحادی افواج نے پاکستان کے اندر گھس کر زمینی فوج کا استعمال کیا تھا۔ جبکہ اس سے قبل ہونے والے تمام حملے فضا سے کیے گئے تھے۔ اس کے اگلے ہی روز شمالی وزیرستان میں سرحد کے قریب افغان حدود سے میزائل داغے گئے۔ پھرشمالی وزیرستان میں افغان سرحد کے قریب امریکی جاسوس طیاروں سے میزائلوں کے تین حملے کیے گئے۔ اور اس کے بعد شمالی وزیرستان میں واقع طالبان کمانڈر جلال الدین حقانی کے گھر اور مدرسے پر میزائل حملہ کیا گیا تھا۔ ان حملوں کی بڑھتی ہوئی تعداد اور ان کے ممکنہ ردِ عمل پر امریکی تھنک ٹینک سینٹر فار انٹرنیشنل پالیسی واشنگٹن میں ڈائریکٹر ایشیا پروگرام سیلیگ ہیریسن نے کہا تھاکہ پاکستان کے قبائلی علاقوں میں اگر امریکی حملے جاری رہے تو پاکستان میں پشتون آبادی میں احساس محرومی بڑھ جائے گا۔ انہوں نے کہا ’امریکہ کو پشتون علاقوں کے بارے میں زیادہ معلومات نہیں ہیں اور انہوں نے برطانیہ کی تاریخ نہیں پڑھی اور اسی لیے امریکہ وہ تمام غلطیاں کر رہا جواس علاقے میں برطانیہ نے کی تھیں۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کے قبائلی علاقوں میں القاعدہ موجود ہے اور اپنے مالی استحکام کو استعمال کرتے ہوئے طالبان کو اپنا حمایتی بناتی ہے۔’لیکن ابھی بھی دیر نہیں ہوئی اور اس کی تلافی کی جا سکتی ہے۔ ایک ایسی پالیسی بنائی جائے جس سے طالبان کا القاعدہ کی طرف مزید مائل ہونے کو روکا جا سکے۔سیلیگ ہیریسن پانچ کتابوں کے مصنف ہیں جن میں ’اِن افغانستان شیڈو‘ اور ’سٹڈی آف بلوچ نیشنلزم‘ شامل ہیں، سیلیگ ہیریسن واشنگٹن پوسٹ کے سابق شمالی ایشیا کے بیورو چیف بھی رہ چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ ضروری ہے کہ طالبان اور القاعدہ میں تفریق کی جائے کیونکہ القاعدہ ایک عالمی دہشتگرد تنظیم ہے اور دنیا کے لیے خطرہ ہے جب کہ طالبان سے دنیا کو کوئی خطرہ نہیں ہے۔ ’طالبان سے بات چیت کرنے کا جواز درست ہے اور اس کے ساتھ ہی القاعدہ کو ڈھونڈنے اور شکست دینے کے لیے مو¿ثر منصوبہ بندی کی بھی ضرورت ہے۔ان کا کہنا تھا کہ قبائلی علاقوں کے حوالے سے بین الاقوامی سطح میں کافی بے اطمینانی ہے اور دنیا یہ دیکھ رہی ہے کہ آیا نئی حکومت اس صورتحال پر قابو پا سکتی ہے یا نہیں۔ ’ پاکستان کی صورتحال سے دنیا اس وقت کنفیوزڈ اور پریشان ہے۔ اس حوالے سے نئی حکومت کا پہلا امتحان پاکستان کی انٹیلیجینس ایجنسی (آئی ایس آئی) پر قابو پانا ہے۔‘ انہوں نے یہ بھی کہا ہے کہ’یہ کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں ہے کہ آئی ایس آئی میں اسلامی حمایت پسند عناصر موجود ہیں جو کہ القاعدہ کے عناصر کو تحفظ فراہم کرتے ہیں۔ اگر موجودہ حکومت آئی ایس آئی کے بجٹ کو اپنے کنٹرول میں لے آتی ہے تو پھر اس ایجنسی کی کارروائیوں پر نظر رکھی جا سکتی ہے۔‘ طالبان کے مبینہ ٹھکانوں پر امریکی بمباری کی پالیسی غلط ہے چاہے وہ افغانستان میں ہو یا پاکستان میں۔اس قسم کی بمباری سے مزید لوگ طالبان کے حامی ہوتے جا رہے ہیں اور پشتون قبیلے مزید شدت پسند ہو گئے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ نئی حکومت کے لیے سب سے مشکل بات آئی ایس آئی اور اس کے فنڈز پر قابو کرنا ہے۔ اور جب تک حکومت آئی ایس آئی کو اپنے کنٹرول میں نہیں لاتی اس وقت تک القاعدہ کی پاکستان کے قبائلی علاقوں میں موجودگی کے مسئلے کو حل کرنا مشکل ہے۔ ’ضرورت اس بات کی ہے کہ القاعدہ اور طالبان میں تفریق کی جائے۔ یہ درست ہے کہ کچھ طالبان مالی طور پر القاعدہ کے ساتھ ہیں لیکن زیادہ تر جن میں پاکستان طالبان بھی شامل ہیں ان کو القاعدہ سے ملانا غلط ہو گا۔ ایسے طالبان کے ساتھ تعلقات استوار کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ لیکن بدقسمتی سے ان میں تفریق نہیں کی جا رہی جس کا نتیجہ یہ ہے کہ ان انتہا پسندی بڑھ رہی ہے اور ان کو کنٹرول کرنا مشکل سے مشکل ہوتا جا رہا ہے۔‘ امریکی صدر جارج بش نے جولائی میں امریکی خصوصی فورسز کو پاکستان کی حدود میں القاعدہ اور طالبان کے خلاف پاکستانی حکومت کی پیشگی منظوری کے بغیر زمینی کارروائیاں کرنے کی منظوری دے دی تھی۔امریکی اخبار ’نیویارک ٹائمز‘ نے یہ بات امریکی حکام کے حوالے سے اپنی ایک رپورٹ میں بتائی ۔نیویارک ٹائمز کی اس رپورٹ کے مطابق ایک سے زیادہ مختلف سینیئر امریکی عملداروں نے صدر بش کے اس خفیہ حکم کی منظوری کی تصدیق کی ہے کہ بش انتظامیہ میں مہینوں تک بحث کے بعد صدر بش نےامریکی خصوصی فورسز کو پاکستان کے اندر زمینی کارروائیاں کرنے کی خفیہ طور پر منظوری دی ہے۔ نیویارک ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق امریکی خصوصی فورسز کی پاکستان کی حدود میں محدود زمینی کارروائیوں کے بارے میں پاکستانی حکام کو مطلع کیا جائےگا لیکن اجازت کی ضرورت نہیں ہوگی۔اس ضمن میں رپورٹ میں گزشتہ ماہ کو پاکستان کے قبائلی علاقے انگور اڈہ میں امریکی کارروائی کی مثال دی گئی ہے۔ انگور اڈہ میں کارروائی کرنے والے خصوصی دستوں کو ایک سی ون تھرٹی کے مدد حاصل تھی اور کارروائی کے بعد اس میں حصہ لینے والے دستوں کو ہیلی کاپٹروں کے ذریعے لے جایا گیاتھا۔سینیئر امریکی عملدار نے نیو یارک ٹائمز کو بتایاتھا ’قبائلی علاقوں میں صورتحال ناقابل برداشت ہے اور ہمیں مزید اقدامات کی ضرورت ہے جس کے لیے احکامات جاری ہو چکے ہیں۔‘ انگور اڈہ میں امریکی کارروائی کے حوالے سے نیویارک ٹائمز نے لکھا تھا کہ امریکی نیوی سیِلز کے دو درجن سے زائد اراکین نے کئی گھنٹے تک کارروائی جاری رکھی۔ اس کارروائی میں مبینہ طور پر القاعدہ اور طالبان سے تعلق رکھنے والے دو درجن سے زائد عسکریت پسند ہلا ک ہوئے تھے جو افغانستان میں امریکی فوجوں پر حملے کرتے تھے۔ اس رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ کارروائی کرنے والے خصوصی دستوں کو ایک سی ون تھرٹی کے مدد حاصل تھی اور کارروائی کے بعد اس میں حصہ لینے والے دستوں کو ہیلی کاپٹروں کے ذریعے لے جایا گیا۔ اخبار کے مطابق پاکستانی حکومت کا مو¿قف تھا کہ اس کارروائی میں شہری ہلاک ہوئے تھے جس سے امریکہ مخالف جذبات میں مزید شدت آئی ہے۔ شدت پسندوں کے خلاف امریکی خصوصی فورسز کی کارروائیوں کو مربوط اور مزید مو¿ثر بنادیا گیا ہے۔ ان کارروائیوں کی نگرانی اب افغانستان میں بگرام میں سی آئی اے کے ایک اعلیٰ افسر کے حوالے کی گئی ہے۔تاہم اخبار کے مطابق امریکی ایحینسیوں نے طالبان اور القاعدہ کے عسکریت پسندوں کے خلاف ایسی نئی کارروائیوں کی حمایت کی گئی۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ اب شدت پسندوں کے خلاف امریکی خصوصی فورسز کی کارروائیوں کو مربوط اور مزید مو¿ثر بنا دیا گیا ہے۔ ان کارروائیوں کی نگرانی اب افغانستان میں بگرام میں سی آئی اے کے ایک سینیئر افسر کے حوالے کی گئی ۔ اخبار کے مطابق ان کارروائیوں میں امریکی فوج کی ڈیلٹا فورسز اور نیوی سیلز حصہ لے رہی ہیں۔اخبار نے لکھا ہے کہ یہ معلوم نہیں ہوسکا کہ آخر کس قانون کے تحت امریکی فورسز ایک دوست ملک کی حدود میں جا کر کارروائی کرسکتے ہیں۔ تاہم امریکی اخبار نے کہا کہ پاکستانی حکام زمینی کارروائیوں کے بجائے امریکی جاسوسی طیاروں کی کارروائیوں پر راضی ہیں۔عسکری ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان اور امریکہ کے درمیان اس وقت بداعتمادی کی ایک بڑی وجہ شدت پسندوں کے ٹھکانوں سے متعلق معلومات کے تبادلے میں آنے والا تعطل ہے۔ پاکستان، افغانستان اور امریکی فوجی حکام نے گزشتہ برس معلومات کے تبادلے کو بہتر بنانے کی غرض سے جوائنٹ انٹیلیجنس آپریشن سینٹرز قائم کیے تھے تاہم فریقین میں بداعتمادی کم کرنے میں ان سے کوئی مدد نہیں ملی ہے۔ امریکی فوجی حکام اب پاکستان کو خفیہ معلومات فراہم کرنے کے بجائے بظاہر خود کارروائیاں کر رہے ہیں۔ اس کی واضح مثال گزشتہ دو ہفتوں کے دوران افغانستان میں موجود امریکی فوجیوں کی جانب سے قبائلی علاقوں میں بغیر پائلٹ کے طیاروں کے ذریعے یکے بعد دیگرے حملے ہیں۔ پاکستان اور امریکہ اتحادی ہونے کے باوجود ایک دوسرے پر شک کر رہے ہیں۔ ’امریکہ اپنی خفیہ معلومات کی بنیاد پر اب خود کارروائیاں کر رہا ہے لیکن وہ یہ معلومات پاکستان کو دیتا تو عام شہریوں کی ہلاکت سے بچا یاجاسکتا تھا۔ماہرین کے مطابق قبائلی علاقوں میں دو طریقوں سے خفیہ معلومات اکٹھی کی جا رہی ہیں۔ ایک تو بغیر پائیلٹ کے جاسوس طیاروں کے ذریعے جس کی صلاحیت امریکہ کے پاس ہے۔ دوسرا زمین پر موجود مخبروں کے ذریعے جس کا نیٹ ورک پاکستان کا زیادہ مضبوط ہے۔ امریکہ جدید جاسوسی طیاروں کے ذریعے قبائلی علاقوں پر مسلسل نظر رکھتا ہے۔ ان طیاروں میں نصب کیمرے سے یا تو ویڈیو بنائی جاتی ہے یا پھر کابل کے شمال میں بگرام کے فوجی اڈے پر موجود امریکی ماہرین تک براہ راست فیڈ بھیجی جاتی ہے۔ دفاعی تجزیہ کا روں کے مطابق اس طرح سے حاصل کی گئی معلومات سو فیصد درست نہیں ہوتیں۔ان معلومات کی بنیاد پر کی گئی کارروائی کا تناسب پچاس فیصد سے بھی کم ہے۔ ’انہوں نے باجوڑ میں ڈمہ ڈولہ کے مقام پر ان معلومات کی بنیاد پر کارروائی کی تھی کہ وہاں ایمن الظواہری موجود ہے لیکن وہ وہاں نہیں تھا اور سترہ عام شہری مارے گئے۔ اسی طرح دیگر حملوں میں بھی ایسا ہوا ہے۔امریکیوں کے پاس زمین پر معلومات اکٹھی کرنے کے وسائل انتہائی کم بلکہ نہ ہونے کے برابر ہیں۔ قبائلی علاقوں سے اکثر مبینہ امریکی جاسوسوں کو ذبح کیے جانے کی خبریں آتی رہتی ہیں لیکن محدود رسائی کی وجہ سے اصل حقائق کبھی سامنے نہیں آپاتے۔ عسکری ماہرین کا کہنا ہے کہ شکایت صرف امریکہ کو پاکستان سے نہیں بلکہ پاکستان کو امریکہ سے بھی ہوتی ہیں۔ اب یہ اطلاعات بھی ہیں کہ تازہ حملے امریکی فوج نے نہیں امریکی تحقیقاتی ادارے سی آئی اے نے کیے ہیں۔ البتہ مبصرین کے خیال میں امریکہ کی یک طرفہ کارروائی کی وجوہات میں ان کے قریبی حلیف صدر پرویز مشرف کا چلا جانا اور امریکہ میں صدارتی انتخابات کا قریب آنا شامل ہیں۔ سیاسی مبصرین کے خیال میں پاکستان کے پاس امریکہ سے شکایات کے باوجود تعاون جاری رکھنے کے علاوہ کوئی دوسرا راستہ نہیں ہے۔ پاکستان کو مالی امداد کی اس وقت اشد ضرورت ہے اور امریکہ خود مالی امداد کے علاوہ عالمی مالیاتی اداروں میں بھی اثر و رسوخ رکھتا ہے۔ امریکہ کے چئیر مین جوائنٹ چیف آف سٹاف ایڈمرل مائیکل مولن نے دس ستمبر کو کانگریس کو دی جانے والی ایک بریفنگ میں کہا تھا کہ وہ نہیں سمجھتے کہ امریکہ کو افغانستان میں کامیابی حاصل ہوئی ہے لیکن انہیں یقین ہے کہ ایسا کیا جا سکتا ہے۔ایڈمرل مائیکل مولن کی جانب سے یہ بیان ان کی پاکستانی فوج کے سربراہ جنرل پرویز کیانی سے بحرِ ہند میں امریکی بحری بیڑے پر ہونے والی ایک خفیہ ملاقات کے تقریباً دو ہفتوں کے بعد سامنے آیا ۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ دونوں ممالک کے فوجی سربراہان اس ملاقات میں امریکہ کی جانب سے شروع کی گئی دہشت گردی کے خلاف جنگ کے حوالے سے مستقبل کا کوئی مشترک لائحہ عمل بنانے میں ناکام رہے ہیں۔ یہ حملے اس وقت ہوئے جب یہ اطلاعات موصول ہوئیں کہ بش انتظامیہ نے پاکستان کے قبائلی علاقوں میں زمینی حملوں کی اجازت دو ماہ قبل دے دی تھی۔ اس نئے لائحہ عمل کے حوالے سے پاکستانی فوج نے یہ سوال اٹھایا کہ طے شدہ قواعد و ضوابط کی رو سے غیر ملکی فوجی دستوں کو پاکستان کی سر زمین پر کارروائی کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ علاوہ ازیں فوج نے خبردار کیا ہے کہ حملوں کی صورت میں اپنے شہریوں اور فوجیوں کی حفاظت کے لیے جوابی حملے کیے جائیں گے۔ جنوبی وزیرستان میں ہونے والے ایک تازہ واقعے میں مقامی انتظامیہ کے مطابق پاکستانی فوجی دستوں نے امریکی فوجیوں کو افغانستان کی سرحد عبور کرنے سے روکنے کے لیے انتباہی فائر کیے۔ اگر امریکی حملے جاری رہے تو موجودہ جمہوری حکومت پر فوج اور سیاسی حلقوں کی جانب سے امریکہ کے ساتھ تعاون ختم کرنے اور امریکی طیاروں کو نشانہ بنانے کے لیے دباو بڑھ جائے گا۔ اگر پاکستانی حکومت اس حوالے سے کوئی انتہائی قدم اٹھاتی ہے تو عام خیال یہ ہے کہ ایسا صرف اس مفروضے کی بنیاد پر کیا جائے گا کہ امریکہ، پاکستان کی مدد کے بغیر شدت پسندوں سے لڑائی جاری نہیں رکھ سکتا۔ دوسری جانب ایک تجزیے کے مطابق امریکی حکومت دہشت گردی کے خلاف جنگ جیتنے کے لیے بے صبری کا مظاہرہ کرتے ہوئے اس سال امریکی صدارتی انتخاب سے پہلے پاکستانی حدود میں زیادہ سے زیادہ حملے کر سکتی ہے۔ اے پی ایس

Monday, September 29, 2008

بے نظیر زرعی کارڈ کا اجرائ۔تحریر : اے پی ایس



دہشت گردی کے خلاف جنگ میں جولائی 2007 ء سے پاکستان کے1,386 سیکورٹی اہلکار شہید اور تین ہزار تین سو اڑتالیس زخمی ہوئے ہیں۔نجی ٹی وی نے ذرائع کے حوالے سے رپورٹ دی ہے کہ دہشت گردی کے خلاف امریکی جنگ میں پاکستان کو شدید جانی نقصان اٹھانا پڑر ہا ہے، نائن الیون کے بعد سے اب تک اٹھاسی خودکش حملے ہوئے ہیں جن میں ایک ہزار ایک سو اٹھاسی افراد شہید اور تین ہزار دو سو نو زخمی ہوئے۔ خودکش حملوں کا سب سے بڑا شکار عوام بنے اور آٹھ سو سینتالیس شہری شہید ہوئے۔ خودکش حملوں میں ایک سو چوہتر فوجی، ایک سو بائیس پولیس اور پینتالیس ایف سی اہلکار شہید ہوئے۔ سیکورٹی فورسز نے ملک دشمن سرگرمیوں میں ملوث پینتیس غیر ملکی ایجنٹس گرفتار کئے، ذرائع کے مطابق براہمداغ بگٹی افغانستان میں بیٹھ کر ریاست مخالف سرگرمیوں ملوث تھا۔ براہمداغ بگٹی کی سرگرمیوں کے بارے میں افغان حکومت سے مسلسل رابطے میں ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاک فوج کو کسی قسم کے غیرملکی فنڈز براہ راست نہیں ملے۔ اس جنگ میں امریکا کی جانب سے معلومات کا تبادلہ محض دعوٰی ہے اور بعض اوقات ایک ماہ پرانی معلومات دی جاتی ہیں۔ ذرائع نے یہ بھی کہا ہے کہ بغیر پائلٹ جاسوس طیارے راڈار پر نظر نہیں آتے، ان جاسوس طیاروں کے بارے میں جاننے اور راڈار کی ٹیکنالوجی میں اضافے کی ضرورت ہے۔سوات میں جاری آپریشن کے بارے میں ذرائع کا کہنا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ جاری ہے اور اسے ختم کرنے کی حتمی تاریخ نہیں دے سکتے۔جبکہ ریپبلکن صدارتی امیدوار جان مک کین نے نائب صدر کی امیدوار سارہ پالن کے اس بیان کے بارے میں کہ دہشت گردوں کے خلاف پاکستان کی حدود میں کارروائی بلاجواز نہیں کہا ہے کہ سارہ پالن نے جو کہا وہ پالیسی بیان نہیں تھا اور زیادہ تر امریکی اسے صحیح نہیں سمجھیں گے۔الاسکا کی گورنر سارہ پالن نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ ہم صدر زرداری کے ساتھ مل کر پاکستان سے افغانستان میں داخل ہونے والے دہشت گردوں کو روکنے کے لئے اقدامات کررہے ہیں۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا امریکا پاکستان میں سرحد پار کارروائی کرے گا تو سارہ پالن نے کہا کہ ضرورت پڑنے پر ہمیں ضرور حملہ کرنا چاہئے۔جبکہ یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ صدر پرویز مشرف کے معتمد خاص طارق عزیز کو موجودہ حکومت میں اہم ذمہ داریاں سونپے جانے کا امکان ہے ۔ذرائع کے مطابق اسی مقصد کیلئے صد رمشرف کے دورحکومت میں صدر پرویز کا دائیاں بازوکہلانے والے طارق عزیز پیر کو لندن سے اسلام آباد پہنچیں ہیں۔طارق عزیز کو ایوان صدر یا ملک سے باہر سفیر کے طور پر ذمہ داریاں سونپی جاسکتی ہیں۔طارق عزیز 18اگست کو صدر پرویز کے استعفیٰ کے بعد لندن چلے گئے تھے۔جبکہ ایک خبر رساں ادارے نے یہ بھی دعوی کیا ہے کہ امریکہ کے دورے کے دوران صدر آصف علی زرداری اور مسلم لیگ (ق) کے مرکزی رہنما چوہدری پرویز الٰہی کے درمیان اہم خفیہ ملاقات کا انکشاف ہوا ہے۔ دونوں رہنماو¿ں نے نیو یارک کے کسی خفیہ مقام پر اہم ملاقات کی ہے۔ جس میں اہم امور پر تفصلی تبادلہ خیال ہوا۔ چوہدری پرویز الٰہی کے ساتھ ان کے بیٹے مونس الہیٰ بھی تھے۔ نیویارک میں صدر پاکستان آصف علی زرداری اور پاکستان مسلم لیگ (ق) کے مرکزی رہنما چوہدری پرویز الٰہی جو اپنے بیٹے مونس الٰہی کے ہمراہ امریکہ کے نجی دورے پر تھے کے درمیان نیو یارک کے کسی خفیہ مقام پراہم اور تفصیلی ملاقات ہوئی ہے ۔چوہدری پرویز الٰہی اپنے بیٹے مونس الٰہی کے ہمراہ ہفتہ کے دن دو بجے ورجنیا کے ڈلیس ایئر پورٹ سے امریکہ کی ایک مقامی ایئر لائن کے ذریعے نیو یارک پہنچے ، جہاں ان کی آصف علی زرداری کے ساتھ خفیہ طور پر تفصیلی ملاقات ہوئی ۔چوہدری پرویز الٰہی اسی رات اہم ملاقات کر کے واپس واشنگٹن پہنچ گئے جہاں سے وہ گزشتہ روز شام پانچ بجے برٹش ایئر ویز کے ذریعے واپس پاکستان کے لیے روانہ ہو گئے۔جبکہ قائد حزب اختلاف چوہدری نثار نے کہا ہے کہ آصف علی زرداری نے دورہ امریکہ میں اپنی پالیسی واضح کر دی ہے پارلیمنٹ پر ایک بار پھر پرویز مشرف پالیسی مسلط کی جا رہی ہے۔ آصف علی زرداری کو چاہیے تھا کہ یہاں پارلیمنٹ سے پالیسی لے کر جاتے اور وہاں جا کر صرف آگاہ کرتے لیکن آصف علی زرداری نے بش کی زبان بول کرنا امید کیا ہے۔ بے نظیر بھٹو کے قتل کے بارے میں کہا گیاتھا کہ اس میں طالبان ملوث نہیں امریکی دورے کے بعد کہا جا رہا ہے کہ اس میں بیت اللہ مسعود ملوث ہے۔ ان خیالات کا اظہار قائد حزب اختلاف نے اسلام آباد میں ایک گزشتہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ صدر پاکستان کے حالیہ دورہ امریکہ کا ذکر کرتے ہوئے چوہدری نثار احمد نے کہا کہ سمجھ نہیں آتی کہ ایک با عزت قوم کے سربراہ کے طور پر قوم کا نظریہ اقوام متحدہ میں کیوں نہیں پیش کیا گیا ۔ پاکستانی شہری ہونے کے ناطے میںاور ہر محب وطن پاکستانی یہ کہتا ہے کہ ہمیں ایسا صدر چاہیے جس سے پاکستان کے عوام خوش ہوںا ور جو پاکستان کے مفادات کا تحفظ کر سکے ۔ پارلیمنٹ پر ایک بار پھر مشرف پالیسی مسلط کی جا رہی ہے۔ پیپلز پارٹی کے صدارت کا ذکر کرتے ہوئے چوہدری نثار نے کہا کہ آصف علی زرداری ابھی تک پیپلز پارٹی کے شریک چیئر مین ہیں اور اس سے اس بات کا خدشہ ہے کہ ان کے ارشادات کی روشنی میں پی پی پارلیمنٹیر ینز کو پارلیمنٹ میں کسی حد تک آزادی ہو گی اور وہ دوسرے پارلیمنٹرین کی طرح اپنی سوچ وضع کر سکیں گے۔ خارجہ پالیسی کا ذکر کرتے ہوئے چوہدری نثار نے کہا کہ ایران ہر کڑی آزمائش میں پاکستان کے ساتھ ہمیشہ کھڑا رہا لیکن ہماری خارجی پالیسی کی ترجیحات میں ایران کے بارے میں خاطر خواہ ذکر ہی نہیں۔ انہوں نے کہا کہ آصف علی زرداری کی بات خوشکن تھی کہ صدر بننے کے بعد وہ پہلے چین کا دورہ کرتے لیکن وعدہ کی پاسداری نہ کرتے ہوئے وہ لندن اور امریکہ کے دورے پر چلے گئے ۔ انہوں نے کہا کہ جو بیان حکومت کو دینا چاہیے وہ آرمی چیف سے دلوایا جاتا ہے ۔ اسی طرح چین خود جانا تھا لیکن آرمی چیف کو بھجوا دیا گیا ۔ اقتصادی حالات کا ذکر کرتے ہوئے چوہدری نثار نے کہا کہ موجودہ اقتصادی صور تحال پر پارلیمنٹ میں ایک سحر حاصل گفتگو ہونی چاہیے ۔ انہوں نے کہا کہ اس سے پہلے ہی ایسے حالات آئے لیکن ان پر احسن طریقے سے قابو پایا گیا ۔انہوں نے کہا کہ عین اس موقع پر ایڈ دی جارہی ہے جب ہمیں زیادہ سے زیادہ فوجی کارروائی کرنے کا بھی دباو¿ ہے اور اس سے ایک بار پھر آئی، ایم ایف پروگرام کو قوم پر مسلط کیا جا ئے گا۔خود کش دھماکوں کا ذکر کرتے ہوئے قائد حزب اختلاف نے کہا کہ ابھی تک یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ ان دھماکوں کے پیچھے کون سے غیر ملکی ہاتھ اور ملکی عناصر شامل ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ عوام کو پہلیاں بھجوائی جا رہی ہیں۔ بے نظیر بھٹو کے قتل کے بعد آصف علی زرداری نے کہا کہ اس میں طالبان کا ہاتھ نہیں اور آج امریکہ سے واپسی پر کہا جا رہا ہے کہ بیت اللہ مسعود شامل ہے۔جبکہ حکومت نے گندم کی امدادی قیمت625 روپے سے بڑھا کر 950روپے فی40 کلو گرام کر دی ہے۔ ملک میں افراط زر میں اضافے کی وجہ سے مہنگائی میں اضافہ ہوا ہے حکومت نے فوڈ سیکورٹی کے لئے اہم اقدامات کیے ہیں اس سال کاشتکاری مہم کا آغاز کیا جا رہا ہے۔ اور چاروں صوبوں کے وزراء اعلیٰ کو بھی ہدایت ہے کہ وہ کاشت کاری مہم کا خود افتتاح کریںکسانوں کو بے نظیر زرعی کارڈ جاری کر نے اور ضرورت مند لوگوں کے لئے ایک ہزار روپے ماہانہ دینے کا بھی اعلان کیاجبکہ اسلام آباد میں وفاقی کابینہ کے اجلاس کے بعدمیڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے وزیر اعظم سید یوسف رضا گیلانی نے کہا کہ حکومت نے گندم کی امدادی قیمت625 روپے سے بڑھا کر 950روپے فی40 کلو گرام کر دی ہے انہوں نے کہا کہ گندم کی امدادی قیمت میں اضافے سے اس کی 80فیصد تک اسمگلنگ کم ہو جائے گی انہوں نے کہا کہ کسانوں کی سہولت کے لئے بے نظیر زرعی کارڈ کے اجراء کا فیصلہ کیا گیا ہے وزیر اعظم نے کہا کہ حکومت فصلوں کی انشورنس سکیم شروع کر رہی ہے جس کا پریمیم 1.5 فیصد ہو گا چھوٹے کسانوں کی پریمیم کی رقم حکومت خود ادا کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ گرین ٹریکٹر ز اسکیم کا جائزہ لینے کے لئے کمیٹی قائم کر دی گئی ہے اس اسکیم سے کسانوں کو سستے ٹریکٹرز بھی مل سکیں گے وزیر اعظم نے کاشتکاروں سے اپیل کی کہ گندم کی پیداوار میں 3من فی ایکڑ اضافے کی کوشش کی جائے تا کہ 2کروڑ 50لاکھ ٹن گندم کا پیداواری ہدف حاصل کیا جا سکے وزیر اعظم نے کہا کہ وہ خود گندم کی بوائی مہم کا افتتاح کریں گے اور چاروں صوبوں کے وزراء اعلیٰ کو بھی اس کی تقلید کر نے کو کہا جائے گا تا کہ لوگوں میں زیادہ گندم اگانے کے حوالے سے ضروری آگاہی پیدا کی جا سکے ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ کاشتکار بے نظیر زرعی کارڈ سکیم کے تحت زرعی ترقیاتی بنک کے ساتھ ساتھ کمرشل بینکوں سے بھی قرضہ حاصل کر سکیں گے وہ یہ قرض فصل کاٹنے کے بعد واپس کریں گے وزیر اعظم نے صوبوں اور وزارت داخلہ کو ہدایت کی کہ وہ گندم اور دیگر اجناس کی اسمگلنگ کے خاتمے کے لئے ضروری اقدامات کریں انہو ںنے اس بات کی بھی یقین دہانی کر ائی کہ اس سال کے آخر تک ملک میں پانی کی کوئی کمی نہیں ہو گی اور آئندہ سال کے آخر تک ملک سے لوڈ شیڈنگ کا خاتمہ کر دیا جائے گا ۔ اور کسانوں کی سہولت کے لئے بے نظیر زرعی کارڈ سکیم متعارف کرائی جا رہی ہے اور اس کے علاوہ 34 ارب روپے سے بے نظیر انکم سپورٹس پروگرام شروع کر دیا گیا ہے وزیراعظم نے کہا کہ معاشی حالات کو بہتر بنانے کے لئے حکومت مشکل فیصلے کر رہی ہے پہلا سال مشکل ہو گا پھر بہتری آئے گی انہو ںنے کہا کہ کسانوں کو کھاد اور دیگر ضروری اشیاء کی فراہمی پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے وزیر اعظم نے کہا کہ ابھی تک ڈھائی کروڑ افراد نے نادرا شناختی کارڈ نہیں بنوائے حالانکہ ہم نے بغیر فیس کے بنوانے کا اعلان کر رکھا ہے وزیر اعظم نے کہا کہ جن افراد کے پاس نادرا شناختی کارڈ نہیں ہوں گے وہ حکومت کی طرف سے خصوصی سہولیات سے مستفید نہیں ہو سکیں گے وزیر اعظم نے کہا کہ حکومت غریبوں کو ریلیف دینے کے لئے مختلف سکیمیں شروع کر رہی ہے وزیر اعظم نے کہا کہ گڈ گورننس لانے کے لئے اپنی پالیسیوں کو بہتر بنانا ہے وزیر اعظم نے کہا کہ ہم ایک مستحکم حکومت بنانا چاہتے ہیں اب مانگے تانگے سے کام نہیں چلے گا انہوں نے کہا کہ ایک مستحکم بنیاد کے لئے مشکل فیصلے کر نا پڑ رہے ہیں ہمیں ملک کا مفاد دیکھنا ہے اور دیکھنا ہے کہ ملک کو صحیح سمت پر کیسے لانا ہے وزیر اعظم نے کہا کہ کسانوں کی تمام مشکلات کا ازالہ کیا جائے گا اور ان کی تمام شکایات بہت جلد دور ہو جائیں گی وزیر اعظم نے کہا کہ ترقیاتی کام شروع ہو چکے ہیں پانی کی کمی کے لئے ہم نے چھوٹے ڈیموں پر کام شروع کر دیا ہے اور بہت جلد پانی کی کمی پر قابو پا لیا جئاے گا ایک سوال پر وزیر اعظم نے کہا کہ جب نئی فصل کی گندم مارکیٹ میں آئے گی اگر اس کی قیمت مارکیٹ میں 950سے کم ہوئی تو حکومت اسے 950روپے پر ہی خریدے گی اس موقع پر وزیر اعظم سید یوسف رضا گیلانی نے ضرورت مند لوگوں کے لئے ایک ہزار روپے ماہانہ دینے کا اعلان کیا جس کے تحت 3.4ملین روپے تقسیم کیے جائیں گے اور ان پیسوں کو گھر کی خاتون خانہ ہی وصول کر سکیں گی تا کہ ان کو احساس ہو کہ یہ گھر ان کو چلانا ہے انہوں نے کہا کہ صحیح ضرورت مند لوگوں تک پہنچنے میں شروع میں دشواری ہو گی لیکن ہم جلد ہی ایک صحیح نظام بنانے میں کامیاب ہو جائیں گے۔ اس سے پہلے وزیر اعظم سید یوسف رضا گیلانی کی زیرصدارت وفاقی کابینہ کا خصوصی اجلاس ہوا جس میں قبائلی علاقوں اور ملک بھر میں امن و امان کی صورتحال خوراک،پانی اور بجلی کے بحرانوں سمیت دیگر معاملات پر تفصیلی غور کیا گیا اس موقع پر گندم کی نئی امدادی قیمت اور گندم کی پیداوار میں اضافے کے لئے مختلف اقدامات کا بھی جائزہ لیا گیا۔اے پی ایس




سیا لکوٹ کی خبریں: امجد ساگر:اے پی ایس سیالکوٹ

۔نوجوان ملک کے لئے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں ۔مسلم سٹوڈنٹس فیڈریشن کے زیر اہتمام افطار پارٹی کا انعقاد کیا گیا جس میں پارٹی کے تمام لیڈروں نے مشترکہ بیان میںکہا کہ رمضان المبارک کا مقدس مہینہ اپنے اختتام پر ہے ۔ہمیں اس ماہ کے بعد بھی اتنے خلوص سے ہی رہنا ہوگا جتنا اس مقدس مہینے میں رہنا لازم ہے ۔انہوںنے حکومت سے پر زور اپیل کی ہے کہ طلباءکیلئے منظم پالیسیاں ترتیب دے ۔مسلم سٹوڈنٹس فیڈریشن کے راہنما ابراہیم بٹ نے کہاکہ نوجوان ملک کے لئے ریڑھ کی حیثیت رکھتے ہیں انہوںنے سٹی سیالکوٹ کے نو منتخب عہدیدران کیلئے نیک خواہشات کا اظہار کرتے ہوئے مزید کہاکہ تمام عہدیدران پارٹی کو فعال بنانے میں اپنا بھر پور کراد ادا کریں ۔تقریب میں ضلعی صدر حافظ خاور مغل ،مظفر جنجوعہ ، وحید بٹ ،حافظ خرم اور نعمان گھمن خصوصی طور پر مدعو تھے ۔اس کے علاوہ طلباءکی کثیر تعدار نے شرکت کی ۔جماعت اہل سنت کے اوقات نماز عید الفطر مرکزی جامع مسجد الکوثر گوالمنڈی کینٹ پیر مفتی خادم حسین قادری 9بجے، مرکزی مسجد خضری جھلکی مولاناذاکر حسین قادری 9بجے ،مرکزی جامع سلطانیہ دھیلے قادی غلام رسول قادری 9بجے ،مرکزی جامع مسجد سلطانیہ چھانگے پیر زادہ قاری ضیاءمحی الدین قادری 9بجے مرکزی جامو مسجد پیر بھولے شاہ بن نظام پورہ صوفی منظور علی نقشبندی 9بجے ، مرکزی جامع مسجد نور کینٹ قاری نصیر احمد نقشبندی 9بجے مرکزی جامو مسجد غوثیہ کینٹ پیر سید نذیر محمد سرود گیلانی 9بجے ،مرکزی جامع غوثیہ قادریہ پنسیر شریف پیر میاں محمد رفیق قادری 9بجے ، مرکزی جامع مسجد قادریہ چک براہم صاحبزارہ میاں غلام مصطفی قادری 9بجے ،مرکزی جامع مسجد غوثیہ رضویہ چپراڑ حافظ محمد ہمایوں قادری عطاری 9بجے ،مرکزی جامع مسجد گل بہار پیر کلیم اللہ شاہ گیلانی قادری 9بجے ۔اداکی جائے گی ۔
(3)سیالکوٹ ( بیورورپورٹ 3086)تحصیل ناظم سیالکوٹ امتیاز الدین ڈار کی قیادت میں نائب ناظمین کی قیادت میں گزشتہ روز ڈسٹرکٹ پولیس افسر محمد امین وینس سے ان کے دفتر میں ملاقات کی او تحصیل کونسل کے نائب ناظمین کے خلاف بے بنیاد اورجھوٹا مقدمہ درج کرنے پر احتجاج ریکار کروایا ۔یاد رہے گزشتہ روز تحصیل نائب ناظمین طارق بیگ اورڈاکٹر محمد افتحاد کو ایک جھوٹے مقدمہ میں نامزد کیا گیا ہے ۔نائب ناظمین کے احتجاج پر ڈی سی او نے انہی تعاون اور انصاف دلایاجائے ۔
(4)سیالکوٹ ( بیورورپورٹ 3086)ضلع کے چار مقامات پرمختلف تنازعات کی بنا پر چار افراد کوشدید زخمی کردیاگیا ۔تھانہ کوتوالی کے موضع مظفر پورہ میں لین دین کے تنازعہ پر علی سمیت 3افراد نے چھری سے حملہ کرکے محمد جمیل کو زخمی کر دیا۔تھانہ صدر ڈسکہ کے موضع دھیرووال میں تلع کلامی پر محمد بوٹا کے بھانو پنڈی میں سابقہ لڑائی جھگڑے کی رنجش پر ڈنڈوں سے حملہ کرکے عبدالحمید کو زخمی کردیا تھ انہ ستراہ کے موضع رام پو رمیں سابقہ مقدمہ بازی کے رنجش پر عبدالرشید سمیت 10افراد فائرنگ کرکے احسان اللہ کو شدید زخمی کردیا پولیس نے ملزمان کے خلاف مقدمات درج کئے ہیں ۔
(5)سیالکوٹ ( بیورورپورٹ 3086) پولیس نے سماج دشمن عناصر کے خلاف مہم کے دوران متعدد افراد کو گرفتار کرکے ان کے خلاف مقدمات درج کئے ہیں ،پولیس تھانہ نیکا پورہ نے سجاد سے 11گرام ہیروین ،شاہد سے 15گرام ہیروین تھانہ اگوکی پولیس نے مظفر پورہ سے فیصل عباس سے 1028گرام چرس ،اگوکی سے امجد سے پستول ، مراد پو رپولیس ے جعفر سے 5بوتل شراب اوربیگووال پولیس نے موضع جھاڑ بانوالہ سے کامران پستول برآمد کرکے مقدمات درج کرکے ملزمان کو گرفتارکرکے جیل بھیجوا دیا۔
(6)سیالکوٹ ( بیورورپورٹ 3086)ڈسٹرکٹ پولیس افسر سیالکوٹ محمد امین وینس نے کہاکہ پولیس تھانہ اگوکی کے ایس ایچ او رانا زاہد کی نگرانی میں پولیس نے وزیرآباد روڈ پر نول موڑ پر ناکہ لگاکر چیکنگ شروع کی اس دوران ایک کارکو روک کر جب چیک کیا تو کار میں بھاری مقداد میں ناجائز اسلحہ جس میں 7رائفل 2روئفل بارہ بور ، 31پستول تیس بور اور 28ہزار گولیاں برآم دکرکے کار میںسوار کاشف اقبال والد محمد اقبال سکنہ بوچک سمبڑیال کو گرفتار کرکے اس کے خلاف مقدمہ درج کیا ہے ۔ڈی ،پی ،او سیالکوٹ نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ یہ اسلحہ عیدالفطر پر تقریب کاری کیلئے استعمال ہوسکتاتھا۔ ملزم کاشف کافی عرصہ سے ناجائز اسلحہ کاکاروبار کرررہاہے ملزم سے تفتیش جاری ہے مزید اہم انکشافات کی توقع ہے ڈی پی او کے ریڈنگ یارلی میں حصپ لینے والے پولیس ملازمین کی حوصلہ افزائی کیلئے انعام دینے کا اعلان کیاہے ۔
(7)سیالکوٹ ( بیورورپورٹ 3086)ای ڈی او ایجوکیشن کے دفتر میں ایک پرائیویٹ کی جعلی رجسٹریشن پکڑی گئی ۔تفصیلات کے مطابق ضلع سیالکوٹ کی تحصیل پسرور کے ایک پرائیویٹ سکول اے ایس پبلک سکول فتح پور کا ماسٹر محمد صادق جب ای ڈی او ایجوکیشن سیالکوٹ کے دفتر میں پانچوں اور آٹھویں کلاس کے طلبہ کاداخلہ جمع کروانے کیلئے آئے تو اسسٹنٹ حاجی محمد اسلم نے کاغذات کی جانچ پڑتال جس سے پتہ چلا کہ ان کی رجسٹریشن بوگس ہے اور انہوں نے اسسٹنٹ ڈائریکٹر ایجوکیشن محمد افضل بٹ کے جعلی دستخط کئے ہوئے ہیں فائل کی ویریفیکشین سے پتہ چلا کہ ان کے کاغذات میں درج آرڈر نمبر غلط ہے اوران ک اریکارڈ رجسٹریشن دفتر میں موجود نہیں ہے حاجی محمد اسلم نے فون پر رابطہ کرنے پر بتایاکے خبر درست ہے اب ای ،ڈی ،او ایجوکیشن جس کی بھی ڈیوٹی لگائیں گے وہ تحقیقات کرکے حقائق سامنے لائے گا ۔
(8)سیالکوٹ ( بیورورپورٹ 3086)ای ڈی او ایجوکیشن ضلع سیالکوٹ خالد حسین گوررائیہ او رڈپٹی ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفسر زنانہ تحصیل پسرور کی ملی بھگت سے غیر قانونی ہونے والی ٹرانسفر کینسل ہونے کے باوجود اقصی نامی ٹیچر گارنمنٹ سکول وینس حاضر نہیں ہوئی ۔پنجاب ٹیچر ز یونین ضلع سیالکوٹ کے ضلعی سیکرٹری اطلاعات محمد امتیاز طاہر نے اخبار نویسوں کو تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ اقصی نامی ٹیچر گارنمنٹ سکول وینس مرکز پھوکلیان سکول فندز سے لاکھوں روپے خورد برد کرنے کے الزام میں اس کے خلاف انکوائری زیر التوا ہے انڈرانکوائری ہونے کے باوجود ای ڈی او ایجوکیشن ضلع سیالکوٹ خالد حسین گوررائیہ نے اقصی نامی ٹیچر کو آرڈر نمبر 4698-99ایڈمن مورخہ 02-09-08کو گورنمنٹ ایلیمنٹری سکول سے خانپور سیداں تحصیل پسرور ٹرنسفر کردیا ۔بعد ازاں پنجاب ٹیچر ز یونین کونسل کے عہدیدان کے دبائواو راس معاملہ کو ہائی الائٹ کرنے پر ای ڈہ او ایجوکیشن خالد گورائیہ نے اقصی نامی ٹیچر کی ٹرانسفر آرڈر نمبر 4831-32ایڈمن مورخہ 06-09-08کوکینسل لیکن ٹرانسفر کینسل ہونے کے باوجود اقصی نامی ٹیچر تاحال اپنے سکول گورنمنٹ ایلیمنٹری سکول حاضر نہیں ہوئی پنجاب ٹیچر یونین کے عہدیدان کا ای ڈی او سے رابچہ کرنے پر معلوم ہوا کہ پنجاب ٹیچر یونین کے عہدیداران کی آنکھوں میں مٹی جھونکنے ہوئے اقصی نامی ٹیچر کا ٹرانسفر کیس انکوائری کے باوجود ای ڈیا و ایجوکیشن نے اپنءریکمنڈیشن کے ساتھ انٹر ڈسٹرکٹ ٹرانسفر ضلع نارووال کے کئے سیکرٹری سکولز کو بھیج دیا ۔پنجاب ٹیچریونین کے صدر چوہدری انعام ،محمد امتیاز ، ملک اعظم ، مرزا شبیر ، عبدالقیوم ، اعظم گجر ، ارشد علی ، رشید اقبال محمد علی استراہ اور دیکر عہدیداران نے ڈی سی او سیالکوٹ عطا محمد سے مطالبہ کیا کہ اس سارے معاملے کی تحقیقات کی جائے اورمحکمہ تعلیم کے آفسران کو اقصی نامی ٹیچر کو سکول حاضر کیا جائے
(9)سیالکوٹ ( بیورورپورٹ 3086)تھانہ کو توالی کے علاقہ پورن نگر میں 2ڈاکو ئوں نے گن پوائنٹ پر صحافی سے بقدی اور موبائیل چھین کے لے گئے ۔ تفصیلات کے مطابق صحافی سید انجم شاہ سے دو نامعلام افراد نے اسلحی کی روز پر روک کے جان سے مارنے کے دھمکی دیتے ہوئے 8500روپےءاورموبائیل فون چھین لیا اور فرادہوگئے صحافیوں نے مقدمہ درج اور ملزما ن کے خلاف کاروائی ک امطالبہ کیا ۔
(10)سیالکوٹ ( بیورورپورٹ 3086)ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر کے حکم پر پولیس تھانہ سول لائن نے بدنام زمانہ منشیات فروش کو بھاری مقدار میں ولائتی شراب سمیت گرفتار کرلیا ،ڈی پی او کیطرف سے اعلی کارکردگی پر پولیس کو انعام بتایاگیا ہے کہ پولیس تھانہ سول لائن کو خبر ہوئی کہ بدنام زمانہ منشیات فروش ایوب مسیح ولائتی شراب لارہاہے جو عید پر فروخت کی جائے گی ، جس پر تھا نہ سول لائن کے ایس ایچ او رانا الیاس نے ڈی ایس پی سٹی وسیم اختر کی قیادت میں بھاری نفدی کے ہمرا مختلف مقامات پر ناکہ بندی کی اور ہنٹر پورہ کے قربت سے ایوب مسیح کو 110بوتل ولائتی شراب سمیت گرفتار کرلیا پولیس کی اعلی کارکاردگی پر دسٹرکٹ پولیس آفیسر سیالکوٹ محمد امین وینس نے نقد انعام کا اعلان کیا ہے ۔
(11)سیالکوٹ ( رپورٹ امجد ساگر 3086)ڈپٹی ایجوکیشن آفیسرڈسکہ نے کرپشن اوربد عنوانی کی انتہا کرتے ہوئے لاکھوں روپے اکھٹاکرنے کا سلسلہ جاری رکھاہوا ہے باوثوق زرائع کے مطابق ن لیگ کی سیاسی سفارش سے تعینات ہونے والے ڈپٹی ایجوکیشن آفیسر یاسین ورک بچوں کی کتابوں کی ڈلیوری کے بھی 3لاکھ 70ہزار روپے ڈکار گیا واضع رہے کہ حکومت پنجاب نے کتابوں کی ترسیل اور کرایہ کیلئے فی سکول 300روپے کی ادائیگی کی جو 3لاکھ 70ہزار روپے نیتی ہے جس میں چند سکولوں کی تو صرف 300روپے نہ دینے پ راکتفاکیا لیکن زیارہ سکولوں سے 300روپے وصول کئے گئے ۔باوثوق زراےع کے مطابق ڈپٹی ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر ڈسکہ یاسیمن ورک نے پڑھالکھا پنجاب کے تحت مختلف مراکز میں بچوں کو حکومت پنجاب کی طرف سے مفت ملنے والی کتابیں بھجوانے کیلئے ٹرانسیوٹیشین کی حد میں دو لاکھ اٹھارہ ہزار آتھ سو روپے سرکاری خزانہ سے وصول کئے جن میں مرکز بمبانوالہ کیلئے ایجوکیشن آفیسر محمد اسلم بھٹی نے کتابیں وصول کیں اور 16ہزار 5سو روپے سرکاری خزانے سے وصول کئے مرکز ستراہ کیلئے 19ہزار 5سو روپے ، موترہ کے لئے 30ہزار 3سو روپے ، مرکز ڈسکہ مردانہ کیلئے 28ہزار9سو روپے ,ستراہ زنامہ کیلئے 16ہزار 5سو روپے ، موترہ زنانہ کیلئے 25ہزار 5سوروپے ، سمبڑیال زنانہ کیلئے 33ہزار 9سوروپے اور مردانہ کیلئے 31ہزار 5سو روپے وصول کئے جبکہ ان مراکز کے ہیڈ قدیر احمد ، اقبال باجوہ ، لیاقت شیخ ،طلعت یاسین ، رخسانہ ، غفت بانو ، نگہت یاسمین اور طاہر تبسم کو صرف پانچ پانچ ہزار روپے ادا کئے ای طرح 21ایجوکیٹرز جن میںاللہ دتی ،حافظ عزیز الرحمن ، ابراہیم انور ، عرفان ،ارشد ،جاوید ، افضل ، شاہد ،عبدالقدو، شہباز ، فرح ناز ، طارق ، نصیر ، تنویر ، نصار ، ریاض ، رزاق ، افتخار ساہی ، و یگر سٹاف ت وبقایا جات ادانہیں کئے ۔ جن ہوں نے وصولی کے لئے ڈی سی او سیالکوٹ سے رابطہ کیا علاوہ ازیں یاسمین ورک نے تحصیل ڈسکہ کے 139طلباءاو طلبات کے وظیفہ کے رقم 6لاکھ 67ہزار 2سو روپے ادا نہیں کئے ۔بچوں کے والدیں دفتر کے چکر لگا لگا کر ٹھک ہار کر اپنے گھروں پر بیٹھ گئے ہیں ۔ شہر کے سیاسی ،سماجی ، حلقوں نے وزیراعلی پنجاب ،صوبائی وزیر تعلیم اوردیکر احکام سے مطالبہ کیا ہے کہ سیاسی اثر وسوخ کی وجہ سے ڈسکہ میں تعنینات کرپٹ افسر کے خلاف کاروئی کی جائے ۔ اور کرپٹ افسر کی پشت پنائی کرنے والے مقامی سیاست دانوں کا بھی محاسبہ کیاجائے جو سرکاری خزانے کو نقصان پہنچانے سے ڈرتے ہیں ، رابطہ کرنے پر ڈپٹی ڈسٹرکٹ ایجوکیش آفیسر محمد یاسین ورک نے بتایاکہ ایجوکیٹرز کو بقایاجات کی ادادگی کے لئے چیک بن گیاہے ۔ان کو آج 30ستمبر کو رقم ادا کردی جائے گی ،وظائف حاصل کرنے والے متعدد بچوں کو بھی رقم اداکردی گئی ،چند ایسے بچے رھ گئے ہیں جن کے ایڈیس نہیں ملے ۔پرائیویٹ سکول کے اساتذہ کہتے ہیں کہ رقم ہمیں دے دو ہم بچوں تک پہنچا دیں گئے ۔ای ڈی او ایجوکیشن سیالکوٹ خالد کورائیہ نے بتایا کہ اگر ڈپٹی ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفسر یاسین ورک نے کرپشن کی اور ثابت ہوگئی تو ان کے خلاف کاروئی ضرور ہوگی ،علاوہ ازیں معلوم ہوا ہے کہ وظفے سے پیسے بھی ہڑپ کرلئے گئے ہیں سال 2006کے وظیفے کے 6لاکھ 60ہزار روپے محکمہ تعلیم کی جانب سے یاسین ورک نے حاصل کئے اس وقت آج کی تحصیل سمبڑیال تحصیل ڈسکہ کی حصہ تھی ۔وہاں کے وظیفہ حاصلکرنے والے طلبا ءو طلبات کے حصہ میں تیں لاکھ بیس ہزرا چار سو روپے آتے تھے ،یاسین ورک نے وہاں کے ڈپٹی ایجوکیشن آفیسر محمد حسین کو 2لاکھ بیاسی ہزار ایک سو روپے رہے کرتین لاکھ بیس ہزار چار وسو روپے کی وصولی پر ستخط کے لئے تاہم اس مہینے کی چار تاریخ کو تعینات ہونے والے سمبڑیال کے ڈپٹی ایجوکیشن آفیسر رانا سر بلند خان نے آکر وظائف کے متعلق معاملات کاجائزہ لے کر ڈپٹی ایجوکیشن آفیسر سے ا یک خط کے زریعے وظایف کی بقایا رکم مانگی جس پ رگزشتہ روز اتور ہونے کے باوجود 15ہزار روپے کی رانا سر بلند سے رابطہ کرکے انہیں پندرھ ہزار کی رقم دی ،جسے رانا سربلند خان نے اسی وقت طلبہ کو بلا کر تقسیم کردئے ۔زارین اثنا 29ستمبر بروز پیر کو اسی سلسلہ میں انکوائری بلائی گئی ۔جس میں را ن اسر بلند نے اس معاملے کو تفصیل سے بیان کی ۔ اور ڈی پی او آفس کے اہم ترین آفیسر سیف انور چیمہ ڈی او سی کو مزید بتایا کہ سمبڑیال کے ابھی بھی 19طلباءطلبات کے وظایف نہیں دئے جاسکے ۔علاوہ یہ بھی معلوم ہو ا ہے کہ کتابوں کی ڈیلوری کی رقم میں سے ڈپٹی ایجوکیشن آفیسر زنانہ کو بھی یاسین ورک نے کوئی ادائیدگی کرنا مناسب نہیں سمجھا جب کہ ڈپٹی ایجوکیشن آفسیر کے حصہ میں ایک لاکھ چالیس ہزار ورپے آتے تھے جو ادانہیں کئے گئے ۔
(12)سیالکوٹ ( بیورورپورٹ 3086)سیالکوٹ میںتھانہ اگوکی پولیس نے علاقہ غیر سے عید کے موقعہ پر دہشت گردی کیلئے لائے گئے اسلحہ کی بھاری کھیپ پکڑ کر ایک ملزم کو گرفتار کرلیا ہے اور اسلحہ سے بھری ملزم کی کار کو بھی قبضہ میںلے لیا ہے ۔ اس امر کا انکشاف ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر سیالکوٹ کیپٹن (ر) محمد امین وینس نے ڈی ایس پی صدر سرکل محمد اکرم خان کے ہمراہ اپنے دفتر میں پریس کانفرنس کے دوران کیا ۔ انہوں نے بتایاکہ گرفتار ملزم کاشف اقبال سے تفتیش جاری ہے اور وہ علاقہ غیر سے اپنی ہونڈ اسٹی کا رنمبریLEB-6544پر سات کلاشنکوفیں ، دو رائفلیں ، 31پستول ، 26ہزار گولیاں اور78میگزین لے کر سیالکوٹ لایا جسے تھانہ اگوکی پولیس کے سب انسپکٹر محمد اختر نے نول موڑ کے قریب ناکہ لگا کر چیکنگ کیلئے روکا اور کار کے اندر سے اسلحہ اور گولیاں برآمد کرکے ملزم کو گرفتار کرلیا ۔ ڈی پی او کاکہنا ہے کہ ملزم کاشف اقبال تھانہ سمبڑیال کے موضع بلوچک کا رہائشی ہے اور اس سے پوچھ گچھ جاری ہے کیونکہ برآمد ہونےو الا اسلحہ عید کے موقعہ پر تخریب کاری اور دہشت گردی میں استعمال کیلئے لایاگیا تھا لیکن پولیس کی بروقت کاروائی سے سازش ناکام ہوگئی اور ملزم کو گرفتار کرکے اسلحہ برآمد کرلیا گیا۔ ڈی پی او کیپٹن (ر) محمد امین وینس نے بتایا کہ ضلع میں شہریوں کے جان ومال کے تحفظ کیلئے پولیس کی جرائم پیشہ عناصر سے جنگ دن رات جاری ہے اور ضلع بھر میں اہم مقامات پر ایک سو کلوز سرکٹ کیمرے لگائے جارہے ہیں جبکہ ضلع بھر کی124یونین کونسلوں میں موٹر سائیکل پولیس سکواڈ کے ملازمین کو اشتہاریوں ، عدالتی مفروروں اور ریکارڈ یافتہ ملزمان کی گرفتاریوں کا ٹاسک دیدیا گیا ہے اور اس حوالے یونین کونسلوں کی سطح پر مجرمان اور جرائم پیشہ عناصر کا ریکارڈ کمپیوٹر ائزڈ کرکے بیٹ بکیں تیار کرکے یونین کونسلوں میں تعینات پولیس کے عملہ کے حوالے کردی گئی ہیں ۔ ڈی پی او نے بتایا کہ اب اشتہاریوں ، عدالتی مفروروں اورریکامن برڈ یافتہ جرائم پیشہ عناصر کی مقامی سطح پر ہی سرکوبی ہوسکے گی جس سے جرائم میں نمایاں کمی واقع ہوگی اور پولیس کی کارکردگی بھی بہتر ہوگی ۔ انہوں نے بتایا کہ کلوز سرکٹ کیمروں کی تنصیب سے 24گھنٹے مانیٹر نگ کی جائے گی اور اس سے وارداتوں میںنمایاں کمی واقع ہوگی اور جرائم پیشہ عناصر کوجلد ازجلد گرفتار کرنے میںمدد ملے گی ۔انہوں نے مزید کہا کہ عوام کے تعاون سے ضلع سیالکوٹ کو کرائم فری بنایا جارہا ہے اور تھانوں میں کمپیوٹر فراہم کردیئے گئے ہیںتاکہ ریکارڈ کمپیوٹرائزڈ ہوسکے ۔ دریں اثناءسول جج سیالکوٹ محمد سلیمان گھمن نے پچاس ہزار کے مچلکوں پر گرفتار ملزم کاشف اقبال کی ضمانت بعدازگرفتاری منظوری کرتے ہوئے ا سکی رہائی کے احکامات جاری کردیئے ۔ اس سے قبل صحافیوں کو ملزم کے قبضہ سے برآمد ہونے والااسلحہ گولیاں اور کار کا معائنہ بھی کروایا گیا ۔
(13)سیالکوٹ ( بیورورپورٹ 3086)لاری اڈا پولیس نے مقابلہ کے بعد بدنام زمانہ منشیات فروش کو گرفتار کرکے ڈیڑھ کلوگرام چرس برآمد کرلی ۔عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ ملزم دانیال شاپر بیگ میں لاکھوں روپے مالیت کی اعلی کوالٹی کی ڈیڑھ کلو گرام چرس فروخت کیلئے لے کر جارہا تھا جسے لاری اڈا پر پولیس چوکی کے انچارج اسسٹنٹ سب انسپکٹر محمد علی نے کاروائی کرکے گرفتار کرلیااور اس کے قبضہ سے منشیات برآمد کرکے ملز م کے خلاف مقدمہ درج کرکے کاروائی شروع کردی ہے ۔ پولیس کے مطابق ملزم عادی منشیات فروش ہے ۔
(14)سیالکوٹ ( بیورورپورٹ 3086)ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج سیالکوٹ سید حامد حسین نے ڈسٹرکٹ جیل سیالکوٹ کے ماہانہ دورہ کے دوران معمولی مقدمات میں ملوث 90حوالاتیوں کی ذاتی مچلکوں پر ضمانتیں منظور کرکے رہائی کے احکامات جاری کردیئے ہیں ۔سوموار کے روز ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج سید حامد حسین نے ڈسٹرکٹ جیل سیالکوٹ کا دورہ کیااور سپریٹنڈنٹ جیل ملک مشتاق اعوان اور ڈپٹی سپریٹنڈنٹ جیل اشتیاق گل کے ہمراہ پوری جیل کا اڑھائی گھنٹے سے زائد تفصیلی معائنہ کیااورقیدیوں سے ملاقاتیں کرکے ان کے مسائل سنے اور موقعہ پر ہی ان کے حل کیلئے احکامات جاری کئے ۔ انہوں جیل کے لنگر خانہ ، ہسپتال ، کمپیوٹرسینٹرکا بھی دورہ کیا اور سزائے موت کے قیدیوں سے بھی ان کے مسائل سنے ۔ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج جیل میں مقید 58خواتین قیدیوں میں عید گفٹ اور کپڑے تقسیم کئے جبکہ60 مرد قیدیوں میں بھی عیدگفٹ تقسیم کئے ۔ قبل ازیں ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج نے جیل میں معمولی نوعیت کے مقدمات میں ملوث 90قیدیوں جہانگیر ، صفدرحسین ، زاہد ، نعیم ، عبدالغفور ، اکبر ، محمد اشرف ، صغیر ، سیف اللہ ، علیم احمد ، الطاف ، پرویز ، شاہد ، نوید ، اکرم ، اعجاز ، فضل قمر ، ارشد ، امجد علی ،عبدالرشید ، گلفام ، ندیم ، محمد محسن ، رجب علی ، نویدا ، ندیم، رفیق ، رفاقت ، سلیم ، شاہد ، ذیشان ، حمید ، غلام شبیر ، عامر شہزاد ، فہد ، کاشف ، بشیر ، اظہر ، افضال ، عارف ، امداد ، شیر زمان ، مائیکل صدیق ، رفاقت ، مدثر ، رزاق ، اللہ بخش ، ناصر ، بابر ، عرفان ، امجد ، عبدالرزاق ، منور ، شوکت ، اللہ دتہ ، نوید ، شہباز ، عاصم ، وسیم ، اصغر ، نذیر ، صدیق ، دائود مسیح ، رضوان ، عبدالرشید ، آصف ، شوکت مسیح ، عادل بٹ ، جعفر حسین اور ندیم کے علاوہ ناظر مسیح ، شہباز احمد کی ذاتی مچلکوں پر رہائی کے احکامات جاری کئے ۔ سپریٹنڈنٹ جیل نے بتایا کہ سیالکوٹ ڈسٹرکٹ جیل انگریز دور کی ڈیڑھ سو سال پرانی جیل ہے جو1863ءمیں تعمیر ہوئی اور یہاں 722قیدیوںکو رکھنے کی گنجائش ہے لیکن اس وقت ضلع نارووال کے ایک ہزار کے قریب قیدیوں سمیت مجموعی طور پر 2800سے زائد قیدی مقید ہیں جن میں سزائے موت کے284قیدی بھی شامل ہیں تاہم گنجائش سے زائد قیدیوں کے باوجود تمام قیدیوں کو جیل مینوئل کے تحت تمام سہولیات میسر ہیں ۔ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج سیالکوٹ سید حامد حسین نے جیل میں سیکورٹی انتظامات کا جائزہ بھی لیا اور جیل انتظامات پر اطمینان کا اظہار کیا ۔
(15)سیالکوٹ ( بیورورپورٹ 3086)تھانہ سٹی ڈسکہ پولیس نے سٹیڈیم روڈ کی رہائشی محمد اقبال کی درخواست پر اس کی بیوی کے زیورات خورد برد کرنے کے الزام میں ملزم شوکت علی اورپروین بی بی نامی خاتون کے خلاف مقدمہ درج کرکے کاروائی شروع کردی ہے ۔پولیس رپورٹ کے مطابق محمد اقبال نے زیورات امانتا رکھے تھے جن کی واپسی کا مطالبہ کیا تو ملزمان نے زیورات واپس کرنے سے انکار کردیا ۔ پولیس نے ملزمان کی گرفتاریوں کیلئے چھاپے مارنے شروع کردئیے ہیں تاحال کوئی گرفتاری عمل میں نہ لائی جاسکی ہے ۔
(16)سیالکوٹ ( بیورورپورٹ 3086)وزارت داخلہ کے احکامات کے بعدسیالکوٹ میں مقیم بلجیم ، اٹلی اور ائیر لینڈ کے رہائشی چار شہریوں کی حفاظت کیلئے خصوصی اقدامات کردئیے گئے ہیں ۔ سرکاری ذرائع کا کہنا ہے کہ سیالکوٹ کی مختلف صنعتی فرموں میں معائنہ کا رکی حیثیت سے فرائض منصبی ادا کرنے والے چاروں غیر ملکی باشندوں کو آمدورفعت کے دوران اختیاط برتنے کی ہدایت کی گئی ہے ۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ سیکورٹی سخت کرنے کا مقصد ان غیر ملکی باشندوں کو کسی حادثہ سے بچانا ہے ۔
(17)سیالکوٹ ( بیورورپورٹ 3086)تحصیل ناظم سیالکوٹ کے دفتر میں ٹیکس انسپکٹر خواجہ شجاعت جمیل پر تشدد اور ان کے ساتھ غنڈہ گردی کے خلاف اتفاق لیبر یونین ٹی ایم اے سیالکوٹ کا ایک ہنگامی اجلاس سینئر نائب صدر محمد شاہد بٹ کی صدارت میں منعقد ہو ا جس میں ٹیکس انسپکٹر شجاعت جیل پر تشدد کرنے والے نائب ناظمین مرزا طارق بیگ اور ڈاکٹر افتخار سمیت دیگر ملزمان کے خلاف سخت الفاظ میںمذمت کرتے ہوئے نعرے بازی کی گئی اور وزیرا علی پنجاب میاں شہبا زشریف سے ملزمان کو فوری گرفتار کرکے کاروائی کرنے کی اپیل کی گئی ۔ اجلاس میں متفقہ طو رپر ملزما ن کی عدم گرفتاری کی صورت میں ٹی ایم اے کے دفاتر کی تالہ بندی اور سڑکوں پر احتجاجی جلوس نکالنے کا اعلان بھی کیا گیا ۔ اجلاس میں عہدیداروں اور یونین کے ممبران کی کثیرتعداد نے شرکت کی ۔
(18)سیالکوٹ ( بیورورپورٹ 3086)سیالکوٹ پولیس نے مختلف مقامات سے چھ ملزمان کو گرفتارکرکے ناجائز اسلحہ ، منشیات اور شراب کی بوتلیں برآمد کرلی ہیں۔تفصیلات کے مطابق تھانہ سبز پیر پولیس نے سبز کوٹ سے ملزم محمد جمیل کے قبضہ سے پستول ، تھانہ نیکاپورہ پولیس نے چوک علامہ اقبال سے ملزم سجاد کے قبضہ سے ہیروئن ، ملزم شاہد کے قبضہ سے115گرام ہیروئن ، اگوکی پولیس نے ملزم امجد کے قبضہ سے پستول ، تھانہ مراد پور پولیس نے ملزم جعفر کے قبضہ سے 20بوتل شراب اور تھانہ بیگووالہ پولیس نے ملزم کامران کے قبضہ سے پستول برآمد کرکے ان کے خلاف علیحدہ علیحدہ مقدمات درج کرلئے ہیں ۔
(19)سیالکوٹ ( بیورورپورٹ 3086)تھانہ اگوکی پولیس نے مظفر پور سے منشیات فروش کو بھاری منشیات سمیت گرفتار کرلیا ۔ پولیس کے مطابق ملزم فضل جس کے خلاف منشیات فروشی کے پہلے بھی مقدمات درج ہیںڈیڑھ کلو گرام چرس فروخت کیلئے لے کر مظفر پور جارہا تھا جسے پولیس نے مخبری پر کاروائی کرکے گرفتار کرلیااور ملزم کے قبضہ سے منشیات برآمد کرکے ملزم کے خلاف مقدمہ درج کرلیا ہے ۔ محلہ داروںنے پولیس کاروائی کو سراہا ہے ۔
(20)سیالکوٹ ( بیورورپورٹ 3086)تھانہ سمبڑیال کے علاقہ میں بھائی نے زرعی بنک کا ٹریکٹر بہن کے علم میںلائے بغیر فروخت کرکے لاکھوں روپے کی رقم خوردبردکرلی ۔ پولیس رپورٹ کے مطابق خورشید بی بی کے بھائی رفاقت علی نے چند سال قبل زرعی ترقی بنک سے مشترکہ اراضی پر ٹریکٹرقرضہ کے طور پر لیا تاہم جب رفاقت علی فوت ہوگیا تو اس کی عدم موجودگی میں خورشید بی بی کے دوسرے بھائی عاشق نے خورشید بی بی کی اجازت کے بغیر ہی ٹریکٹر فروخت کردیااور لاکھوں روپے وصول کرکے رقم خوردبرد کرلی تاہم جب اس حوالے سے خورشید بی بی نے بھائی سے پوچھا تو ملزم نے اسے سنگین نتائج کی دھمکیاں دیں ۔ پولیس نے ملزم کی گرفتاری کیلئے چھاپے مارنے شروع کردیئے ہیں ۔
(21)سیالکوٹ ( بیورورپورٹ 3086)تھانہ نیکاپورہ کے علاقہ سے اغوا ہونے والا شہری ملزمان کے چنگل سے آزاد ہوکر گھر واپس پہنچ گیا ۔ پولیس کے مطابق گنہ خورد کے ثناءاللہ کا بھائی کچھ عرصہ قبل تھانہ نیکاپورہ کے علاقہ سے نامعلوم ملزمان نے اغوا کرلیا تھا جسے ملزمان نے گزشتہ اعلی صبح تھانہ صدر کے علاقہ میں ویران جگہ پر آزاد کردیا جس کے بعد وہ گھر واپس پہنچ گیا ۔ پولیس نے کاروائی شروع کردی ہے تاہم ملزمان کا کوئی سراغ نہ مل سکا ہے ۔ ورثاءکا کہنا ہے کہ مغوی کی رہائی تاوان کی رقم دینے کے بعد عمل میں آئی ہے ۔
(22)سیالکوٹ ( بیورورپورٹ 3086)سیالکوٹ میں مختلف مقامات پر ڈکیتی ، راہزنی اور چوری کی وارداتوں میں 62لاکھ روپے سے زائد مالیت کے زیورات ، نقدی ، موبائل فون ، کار ، اشیاءخوردونوش اور دیگر سامان لوٹ کر فرار ہوگئے ۔ تفصیلات کے مطابق تھانہ مراد پور کے علاقہ دسری میں چھ ڈاکو ایک شہری کے گھر داخل ہوگئے اور اسلحہ کی نوک پر اہل خانہ کو یرغمال بنا کر گھر سے ہزاروں روپے مالیت کے زیورات ونقدی لوٹ کرفرار ہوگئے ۔ تھانہ کوٹلی لوہاراں کے علاقہ چک منڈاہر میں دو ڈاکوئوں نے اسلحہ کی نوک پر محمد شہزاد سمیت متعدد راہ گیروں سے ہزاروں روپے کی نقدی ، موبائل فون اور دیگر سامان چھین لیا ۔اسی تھانہ کے علاقہ چک رومالہ میں دو ڈاکوئوں نے اسلحہ کی نوک پر عمران سے ہزاروںروپے کی نقدی اور موبائل فون چھین کر فرار ہوگئے ۔ تھانہ کینٹ کے علاقہ بڑتھ میں بیرون ملک مقیم شہری محمد بشیر کے گھر سے اہل خانہ کی عدم موجودگی کا فائدہ اٹھاکر نامعلوم چور تین بیٹوں کے جہیز کے 20لاکھ روپے مالیت کے زیورات ، دو لاکھ روپے کی نقدی اور دیگر سامان چوری کرکے لے گئے ۔ تھانہ سول لائن کے علاقہ حکیم خادم علی روڈ سے بسم اللہ گودام سینٹر سے نامعلوم چور رات کی تاریکی میں28لاکھ روپے سے زائد مالیت کے چاول ، دالیں اور دیگر اشیاءخوردونوش لے کر فرار ہوگئے ۔ تھانہ کوتوالی کے علاقہ رامتلائی سے رضوان کی موٹر سائیکل نامعلوم چور لے گئے ۔ تھانہ پھلورہ کے علاقہ جاہڑ میں ایک شہری بابرکی دس لاکھ روپے مالیت کی نئی کار نمبریLWZ-3954ہونڈا سٹی نامعلوم چور لے گئے ۔پولیس مصروف کاروائی ہے ۔
(23)سیالکوٹ ( بیورورپورٹ 3086)بڈیانہ پولیس نے مقابلہ کے بعد ڈکیتی کے دوران دو شہریوں کے قتل سمیت درجنوں ڈکیتی وراہزنی کی وارداتوں میں مطلوب خطرناک دو اشتہاری مجرمان کو گرفتار کرکے اسلحہ برآمد کرلیا ہے ۔ ایس ایچ او بڈیانہ انسپکٹر رانا ذوالفقار علی نے بتایا ہے کہ پولیس پارٹی نے چھاپہ مار کر دو خطرناک اشتہاری مجرمان بشیر عرف بشیراں اور محمد رفیع عرف منشی کو اسلحہ سمیت گرفتار کرکے کاروائی شروع کردی ہے ۔ انہوں نے مزید بتایا کہ ملزمان انتہائی خطرناک ہیںاور انہیںمزاحمت کے بعد گرفتار کیا گیا ہے کیونکہ ملزمان نے پولیس پارٹی پر فائرنگ بھی کی تھی تاہم دوران تفتیش ملزمان نے ڈکیتی کی وارداتوں میں دوشہریوں کے قتل سمیت ڈکیتی اور راہزنی کی20سے زائد وارداتوں کا اعتراف کیا ہے ۔ دریں اثناءڈی پی او سیالکوٹ نے پولیس کارکردگی کوسراہا ہے اور کہا ہے کہ دونوں اشتہاری مجرمان علاقہ میں دہشت کی علامت بنے ہوئے تھے اور پولیس کی کاروائی کو عوام نے بھی سراہا ہے ۔
(24)سیالکوٹ ( بیورورپورٹ 3086)تھانہ صدر پسرور کے علاقہ کوٹلی حاجی پور میں ڈکیتی کے مقدمہ کا خطرناک اشتہاری مجرم پولیس کا گھیرا توڑ کر فرار ہوگیا ۔ پولیس کے مطابق اشتہاری مجرم فیصل کی اطلاع ملنے پر اس کی گرفتاری کیلئے ملزم کے بھائی شاہ نواز کے گھر چھاپہ مارا تاہم پولیس کو دیکھ کر دونوں ملزمان چھت کے راستہ رات کی تاریکی کا فائدہ اٹھا کر فرار ہوگئے۔ پولیس نےمقدمہ درج کرکے کاروائی شروع کردی ہے تاحال ملزمان کی گرفتاری عمل میںنہ لائی جاسکی ہے ۔
(25)سیالکوٹ ( بیورورپورٹ 3086)تھانہ صدر پسرور کے موجع بونکے بکی میں بارہ ملزمان نے سابقہ تلخ کلامی پر حملہ آور ہوکر باپ بیٹے سمیت چار افراد کو تشدد کرکے لہولہان کردیااور فرار ہوگئے۔ عینی شاہدین کے مطابق ظفر اللہ اور نواز وغیرہ بارہ افراد نے باہم صلاح مشورہ ہوکر اپنے ہی گائوں کے مختار کے گھر داخل ہوگئے اورکلہاڑی کے وارکرکے مختار اورا س کے والد محمد اسلم کو لہولہان کردیا تاہم جب انہیں بچانے کیلئے عبدالرئوف اور عبدالغفور نے مداخلت کی تو ملزمان نے انہیںبھی مار مار کر شدید زخمی کردیااور موقعہ سے قتل کردینے کی دھمکیاں دیتے ہوئے فرار ہوگئے ۔ زخمیوں کو سول ہسپتال داخل کروادیاگیا جبکہ پولیس نے مقدمہ درج کرکے ملزمان کی گرفتاریوں کیلئے چھاپے مارنے شروع کردیئے ہیں تاحال کوئی گرفتاری عمل میںنہ لائی جاسکی ہے ۔
(26)سیالکوٹ ( بیورورپورٹ 3086)تھانہ ستراہ کے موضع رام پور میں آٹھ ملزمان کی فائرنگ سے دو افراد شدید زخمی ہوگئے ۔ پولیس کے مطابق زخمیوں محمد افضل اور احسان کو مقامی ہسپتال میں داخل کروادیا جاچکا ہے جہاں ان کی حالت خطرے سے باہر ہے تاہم ملز م عبدالوحید اور اس کے دےگر سات ساتھیوں کی گرفتاریوں کیلئے چھاپے مارے جارہے ہیں۔ عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ ملزمان کی فائرنگ سے علاقہ میں خوف وہراس پھیل گیااور لوگ گھروں سے باہر نکل آئے جس کے بعد ملزمان موقعہ سےا سلحہ لہراتے ہوئے فرار ہوگئے ۔
(27)سیالکوٹ ( بیورورپورٹ 3086)تھانہ ستراہ کے موضع کوٹلی نوشہرہ میں اشتہاری مجرم تین ساتھیوں سمیت پولیس کا گھیرا توڑ کر فرار ہوگیا ۔ عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ قتل کے مقدمہ میںمطلوب خطرناک اشتہاری مجرم غیاث محمد کی گرفتاری کیلئے پولیس کی بھاری نفری نے گائوں میں شیر محمد کے گھر چھاپہ مارا جہاں مجرم اشتہاری غیاث محمد ، شیر محمداور دیگر دو ساتھی سعداللہ اور ظفر اقبال موجود تھے تاہم پولیس کو دیکھ کر ملزمان موقعہ سے پولیس پر فائرنگ کرتے ہوئے فرار ہوگئے جن کا تعاقب بھی کیا گیا لیکن ملزمان کی گرفتاریاں عمل میں نہ لائی جاسکیں ۔پولیس نے ملزمان کے خلاف مقدمہ درج کرکے ان کی تلاش شروع کردی ہے ۔
(28)سیالکوٹ ( بیورورپورٹ 3086)ڈی ایس پی پسرور سلیم صادق کے حکم پر تھانہ سبز پیر پولیس نے لڑائی جھگڑے کے مقدمہ میں ملوث ملزم کو پناہ دینے کے الزام میں ایک ملزم کو گرفتار کرلیا ہے ۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ملزم علی رضا کو لڑائی جھگڑے کے مقدمہ میں مطلوب ہے کو ا سکے بھائی حسنین رضا نے گھر میںپناہ دی جس کی گرفتاری کیلئے چھاپہ ماراگیا تو ملزم حسنین رضا نے بھائی علی رضا کو فرار کروایا تاہم بعد میں پولیس نے مزلم حسین رضا کو گرفتار کرکے مقدمہ درج کرکے تفتیش شروع کردی ہے ۔
(29)سیالکوٹ ( بیورورپورٹ 3086)اپڈا سب ڈویثرن کوٹلی لوہاراں میں ایس ڈی او اور لائن مین کی ملی بھگت سے گھریلو اور کمرشل تین سو سے زائد ڈیمانڈ نوٹسز کے اجراءکا انکشاف ہوا ہے ۔باخبر زرائع کا کہنا ہے کہ محکمہ واپڈا کوٹلی لوہاراں میں تعینات ایس ڈی او سیم کاشف اور لائن مین جاوید کی ملی بھگت سے جاری کئے جانے والے ڈیمانڈ نوٹسز کی تخمینہ رپورٹ اور اجراءپر جعلی دستخط کرکے عوام سے لاکھون روپے وصول کئے گئے ہیں اور محکمہ کو بھاری نقصان پہنچایا گیا ہے ۔ واپڈا کے ایک اہلکا رنے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا ہے کہ ایس ڈی او اور متعلقہ لائن مین خراب اور ناقابل مرمت میٹروں کو تبدیل کرکے پیسے خود ہڑپ کرلیتے ہیں اور ہر فائل کی اندراج کا ایک سو روپے الگ وصول کیا جاتا ہے ۔ اس قدر وسیع کرپشن کا رازافشاں ہونے پر ایس ڈی او پندرہ دن کی چھٹی لے کر چلا گیا ہے جبکہ سرکاری ٹیلی فون بھی بند کردیا گیا ہے ۔ مقامی رفاعی تنظیموں اور مقامی ناظم عبدالمنان سڈل نے ارباب اختیار سے اپیل کی ہے کہ کرپٹ افسراور عملہ کے خلاف محکمانہ کاروائی عمل میں لائی جائے ۔
(30)سیالکوٹ ( بیورورپورٹ 3086)ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج سیالکوٹ سیدحامد حسین نے دربار امام علی الحق کے قریب ایک شہری طارق شاہ جو دربار امام علی الحق شہید کا سجادہ نشین بھی ہے کی ملکیتی اراضی پر قبضہ کرنے کی دھمکیاں دینے اور جگہ کو سیل کرنے کی کوشش کرنے کے الزامات پر مبنی تحصیل ناظم سیالکوٹ امتیا زالدین ڈار کے خلاف دائر کردہ رٹ درخواست پر ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر سیالکوٹ کیپٹن (ر) محمد امین وینس اور ایس ایچ او تھانہ نیکاپورہ سے رپورٹ طلب کرلی ہے اور سماعت13اکتوبر تک ملتوی کردی ہے ۔ شہری طارق شاہ نے اپنے وکیل رانامحمدنعیم جاوید کی وساطت سے دائر کردہ رٹ درخواست میں الزام لگایا ہے کہ تحصیل ناظم امتیاز الدین ڈار تحصیل میونسپل ایڈمنسٹریشن کو اپنے ذاتی مفادات کیلئے استعمال کرکے اس کی زمین پر ناجائز طو رپر قبضہ کرنا چاہتا ہے ۔
(31)سیالکوٹ ( بیورورپورٹ 3086)مظفر پور میں ادھار دی ہوئی پندرہ ہزار روپے رقم کی واپس مانگنے پر ملزمان نے دھلائی کے بعد بیس ہزار روپے اور طلائی چین چھین لی۔ بتایا گیا ہے کہ تھانہ اگوکی کے علاقہ مظفرپور میں بیوہ گلزار بیگم کا محنت کش بیٹا محمد جمیل نصیر عرف دانی کو دی ہوئی پندرہ ہزار روپے کی رقم واپس لینے گیا تو وہاں ملزمان پرنس اور علی وغیرہ نے چھری کے پے در پے وار کر کے محمد جمیل کو لہولہان کر دیا اور اس کی جیب سے بیس ہزار روپے اور گلے سے طلائی چین لے کر فرار ہو گئے۔ پولیس نے زخمی کو ہسپتال میں داخل کروا کر ملزمان کے خلاف مقدمہ درجکر لیا ہے۔
(32)سیالکوٹ ( بیورورپورٹ 3086)ایڈیشنل سیشن جج سیالکوٹ محمد شیراز کیانی نے تھانہ کوٹلی سید امیر کے مقدمہ قتل میں ملوث احسان الٰہی ولد لیاقت علی کو شک کا فائدہ دیتے ہوئے بری کر دیا ہے۔ ملزم پر الزام تھا کہ اس نے 7جنوری 2007کو 8/9سالہ شازیہ اختر دختر اللہ دتہ کو اینٹ مار کر قتل کیا تھا۔
(33)سیالکوٹ ( بیورورپورٹ 3086)سول جج سیالکوٹ محمد شعیب عدیل نے تھانہ مراد پور کے مقدمہ ناجائز اسلحہ میںملوث ملزم نعیم الرحمن کو جرم ثابت ہو جانے پر ایک ساہ قید بامشقت کی سزا کا حکم دیا ہے۔
(34)سیالکوٹ ( بیورورپورٹ 3086)بہن کے ساتھ سکول سے بچوں کو ے جانے والے خاتون کو کار سوار نامعلوم ملزمان اسلحہ کے زور پر اغواءکر کے لے گئے۔ بتای اگیا ہے کہ تھانہ صدر سیالکوٹ کے علاقہ میانی میں محمد اکبر یٰسین کی بیوی صائمہ بی بی اپنی بہن عابدہ بی بی کے ہمراہ سکول سے بچوں کو لینے جا رہی تھی کہ سکول کے قریب کار سوار نامعلوم ملزمان اسلحہ کے زور پر صائمہ بی بی کو زبردستی اغواءکر کے لے گئے ۔ پولیس نے مقدمہ درج کر کے مغویہ کی تلاش شروع کر دی ہے۔

مکتوب گو جرانوالہ ۔ تحریر : امجد ساگر اے پی ایس


































































صوبائی سیکرٹری اطلاعات مرکزی جمعیت علماءپاکستان الحاج مولانا محمد اکبر نقشبندی نے کہا ہے کہ رمضان المبارک کا عظیم تحفہ قرن مجید ہے جو ایک مکمل ضابطہ حیات اور امن و سلامتی کا سرچشمہ نے جب تک مسلمان قرن حکیم کے قوانین پر عمل پیرا رہے بڑی سے بڑی طاقت بھی ان کے مدمقابل نہ ٹھہر سکی مگر جب مسلمانوں نے قرن پاک سے انحراف کیا تو ذلت و رسوائی انکا مقدر بن گئی ۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے مسجد انوار مدینہ جامعہ کیلانیہ میں جشن نزول قرن عبدالوحید ربانی ‘قاری محمد سلیم زاہد الحاج سرفراز احمد تارڑ ‘مفتی محمد حسین صدیقی ‘قاری مدثر حسین مجددی ‘پیر محمد اشرف شاکر ‘مولانا محمد عارف چشتی ‘محمد جمیل اعظم بٹ ‘عمران تارڑ اور دیگر نے خطاب کیا۔ مولانا محمد اکبر نقشبندی نے کہا کہ بدترین نتائج بھگتنے کے باوجود سابقہ اور موجودہ حکومت ایک ایسی امریکہ نواز پالیسی پر مل پیرا ہے ۔ جس سے اب تک نقصان اور تباہی کے سوا کچھ نہیں ملا امریکہ مطلب کا دوست ہے ہمیںملکی مفاد میں دہشت گردی کیخلاف امریکی جنگ میں اپنے کردار پر نظرثانی کرنا ہو گی ۔تنظیم مشائخ عظام پاکستان کے امیر صوفی مسعود احمد صدیقی لاثانی سرکار نے کہا ہے کہ نئی نسل کو قر کے سائنسی علوم سے روشناس ہونے اور جدید ٹیکنالوجی میں مہارت حاصل کرنے اور اﷲ اور رسول کے احکامات ”غور وفکر کرو اور علم حاصل کرو“ پر پوری شدت اوت تندہی سے عمل کرنے کی ضرورت ہے ۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے تنظیم کے معاملات اور امور کا تفصیلی جائزہ لینے کیلئے منعقدہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ ضلعی امیر گوجرانوالہ صوفی محمد اسلم خان ‘نائب امیر پیر گلزار احمد ‘پیر احمد شاہ ‘قیصر محمود حاجی اور دیگر عہدیدار موجود تھے ۔ لاثانی سرکار نے کہا کہ عصر حاضر میں مسلمانوں کو بہت سے چیلنجوں کا مقابلہ کرنے اور جدید عہد کے تقاضوں کی تکمیل کیلئے نوجوان نسل کو علم و ہنر کے ہتھاروں سے مسلح کرنے ‘دینی و دنیوی اور سماجی ضرورتوں کے مطابق کردار سازی اور تربیت کے اقدامات کرنا بھی ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ملک کے اندرونی و بیرونی حالات اور خلفشار کے پیش نظر نوجوانوں پر ذمہ داریوں کے بوجھ میں اضافہ ہو گیا ہے ۔ جس سے عہدہ برÈءہونے کیلئے حکمرانوں ‘سیاسی اور مذہبی جماعتوں تنظیموں کے فرائض بھی بڑھ گئے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ ایسی صورتحال میں تنظیم مشائخ عظام ایسے باکردار اور تربیت یافتہ نوجوان تیار کر رہی ہے جو ان تمام تقاضوں پر پورا اترتے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ ملک بھر کے نوجوانوں کو تنظیم مشائخ عظام کے پلیٹ فارم پر È کر دین و ملت اور ملک و قوم کیلئے اپنی صلاحیتوں اور خدمت کا دائرہ وسیع کرنا چاہیے ۔سیکرٹری ریجنل ٹرانسپورٹ اتھارٹی سپیشل مجسٹریٹ پرائس کنٹرول عبدالغفور چوہدری نے کہا ہے کہ حکومتی ہدایت پر ڈی سی او گوجرانوالہ کی نگرانی میں گراں فروشوں کیخلاف Èپریشن جاری رہیگا اس میں حائل سیاسی رکاوٹ کو برداشت نہیں کرینگے ۔ انہوں نے کہا کہ ذخیرہ اندوزوں اور گراں فروشوں کی پشت پناہی کرنے والے قومی مجرم ہیں ۔ یہ معافی کے مستحق نہیں کار سرکار مداخلت کرنیوالے ٹائون نائب ناظم طارق جاوید بٹ اور اس کے حواری حکومتی گراف کو عوامی نظروں میں زیرو کرنے کیلئے منفی پراپیگنڈہ کے تحت کار سرکار میں مداخلت کر کے مہنگائی کو پروان چڑھانے کے چکروں میں ہیں ۔ ہم عوامی خادم ہیں ہم دن رات عوام کی خدمت میں مصروف ہیں ہم یوٹیلٹی بلز ادا کرتے ہیں ۔ ہمیں تنخواہیں ملتی ہیں عوام کو ریلیف دینا ہمارا اولین فریضہ ہے ۔ انہوں نے اعلی حکام سے مطالبہ کیا کہ کار سرکار میں مداخلت کے ملزمان کیخلاف دہشت گردی ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کیا جائے ۔پاکستان شریعت کونسل کے سیکرٹری جنرل مولانا زاہد الراشدی نے کہا ہے کہ مختلف علاقوں میں دینی مدارس کی حیثیت بجلی کے ٹرانسفارمرز جیسی ہوتی ہے کہ وہ ہوتے تو سب کیلئے ہیں لیکن ان سے روشنی اور حرارت وہی گھرانے حاصل کر پاتے ہیں جو باقاعدہ کنکشن لیتے ہیں وہ گذشتہ روز ایمن Èباد وہنڈو روڈ پر واقع چننیاں موڑ میں ایک نئے دینی مدرسہ ”تعلیم الاسلام “ کا سنگ بنیاد رکھنے کی تقریب سے خطاب کر رہے تھے ۔ انہوں نے کہا کہ تعلیم کا فروغ سوسائٹی کے تمام طبقوں کی مشترکہ ذمہ داری ہے اور جناب نبی اکرم نے اس ذمہ داری سے گریز کرنیوالوں کو قابل سزا قرار دیا ہے ۔ تقریب سے مولانا عبدالرئوف فاروقی اور مولانا شاہنواز فاروقی کے علاوہ مدرسہ تعلیم الاسلام کے بانی مولانا قاری سعید الرحمن فاروقی نے بھی خطاب کیا۔ جبکہ مولانا زاہد الراشدی نے سینکڑوں افراد کی موجودگی میں مدرسہ تعلیم الاسلام چننیاں موڑ کا سنگ بنیاد رکھ کر اس کی جلد تکمیل اور Èبادی کیلئے دعا کی ۔پاکستان شریعت کونسل کے سیکرٹری جنرل مولانا زاہد الراشدی عید الفطر کی نماز شہر کی قدیمی عید گاہ نزد قبرستان کلاں میں ٹھیک نو بجے(پرانے Èٹھ بجے) پڑھائینگے ۔ جبکہ ان کا خطاب ساڑھے Èٹھ بجے شروع ہو جائیگا۔ مصنوعی مہنگائی کے خاتمہ اور گراں فروشوں کی پشت پناہی کرنیوالے ٹائون نائب ناظم اور اس کے ساتھیوں نے کار سرکار مداخلت اور افسران کو ہراساں کرنیوالوں کیخلاف عوامی سیاسی سماجی حلقوں نے کارروائی کا مطالبہ کیا ہے ۔ گوجرانوالہ کی سماجی و سیاسی شخصیات نے ٹائون نائب انظم اور اس کے ساتھیوں کی اوچھی حرکت کی پرزور مذمت کرتے ہوئے ڈی Èئی جی گوجرانوالہ ذوالفقار احمد چیمہ اور ڈی سی او گوجرانوالہ سے مطالبہ کیا ہے انہیں فوری گرفتار کیا جائے اگر انہیں گرفتار نہ کیا گیا تو مہنگائی کو کنٹرول کرنیوالے افسران خود کو غیر محفوظ سمجھیں گے ۔پاکستان تحریک انصاف عوامی امنگوں کی ترجمان ہے اور عمران خان وقت کی Èواز بن کر ابھرے ہیں وہ دن دور نہیں جب تحریک انصاف پاکستان کو ایک Èزاد اسلامی فلاحی مملکت بنانے کا خواب پورا کریگی ۔ ان خیالات کا اظہار سردار عبدالماجد عارف ضلعی نائب صدر پاکستان تحریک انصاف گوجرانوالہ نے سیٹلائٹ ٹائون مارکیٹ گوجرانوالہ میں منعقدہ ممبر شپ کیمپ کے موقع پر کیا۔ انہوں نے کہا کہ گوجرانوالہ کو پاکستان تحریک انصاف کا قلعہ بنایا جائیگا۔ عمران خان سے عوام کی لازوال محبت اس امر کا ثبوت ہے کہ عوام ملک میں حقیقی تبدیلی چاہتے ہیں اس موقع پر معین احمد بٹ ایڈووکیٹ Èرگنائزر ممبر شپ کیمپ رانا توقیر ‘چوہدری نذیر ‘ریاست کمبوہ ‘و ایمی خان موجود تھے ۔ لوگوں کی ایک بہت بڑی تعداد نے کیمپ میں شرکت کر کے پارٹی کی رکنیت سازی حاصل کی اور پارٹی کے منشور کو سراہا ۔بااثر افراد نے غریب کھوکھے کے مالک کا جینا حرام کر دیا۔ تفصیل کے مطابق رتہ جھال کے قریب چھچھروالی کا رہائشی بابا رمضان نے کھوکھا لگا رکھا ہے اور اپنے بچوں کیلئے روزی روٹی کماتا ہے اور علاقہ کے بااثر افراد محمد یوسف اور لال دین وغیرہ نے معمولی سی بات پر اس کا جینا حرام کر دیا ہے کبھی ٹرالی ٹریکٹر قریب سے گذار کر ایسے پریشان کرتے ہیں اور کبھی کھوکھے کو Èگ لگانے کی باتیں کرتے ہیں ۔ انہوں نے ”دن“ کی وساطت سے اعلی حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ مذکورہ افراد کی اصلاح کی جائے انہوں نے ڈی Èئی جی گوجرانوالہ سمیت افسران بالا سے اصلاح و احوال کا مطالبہ کیا ہے ۔گوجرانوالہ ایوان صنعت و تجارت کے صدر ریاض محمود باجوہ ‘سینئر نائب صدر شیخ محمد طارق نے انکم ٹیکس ریٹرن جمع کرانے کی Èخری تاریخ جو کہ تیس ستمبر 2008 ءہے پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ محکمہ انکم ٹیکس گوجرانوالہ سے انکم ٹیکس کی مد میں اکٹھے ہونیوالے ریونیو میں خاضی کمی ہونے کا اندیشہ ہے جس کی بڑی وجہ گوجرانوالہ سے بہت سارے صنعتکار و تاجر حضرات اعتکاف و عمرہ کی سعادت کیلئے چلے گئے ہیں اور جو یہاں موجود ہیں وہ رمضان المبارک میں اوقات کار میں کمی اور عید کی تیاریوں میں مصروفیات کی بناءپر اپنی انکم ٹیکس ریٹرن وقت پر جمع نہیں کروا سکے گے ۔ جس سے محکمہ انکم ٹیکس ریونیو میں وہ اعدادوشمار حاصل نہیں کر پائینگے جس کا حکومت نے ٹارگٹ رکھا ہوا ہے ۔ انہوں نے محکمہ انکم ٹیکس کے احکام سے اپیل کی کہ ان ساری وجوہات کو مدنظر رکھتے ہوئے محکمہ کو چاہیے کہ فورا ہی انکم ٹیکس ریٹرن Èخری تاریخ تیس اکتوبر تک بڑھا دی جائے تاکہ کاروباری اور تاجر پیشہ حضرات انکم ٹیکس ریٹرن مقررہ تاریخ تک جمع نہیں کرا سکے وہ بھی جمع کرا سکیں اس اقدام سے اور بھی کافی لوگ ٹیکس نیٹ میں شامل ہو جائینگے ۔ جس سے حکومت کے ریونیو میں اضافہ ہو گا اور حکومت اپنا ٹارگٹ بھی Èسانی سے پورا کر سکے گی ۔عوام کی بہتر طریقہ سے خدمت کر کے خلفائے راشدین کے دور کی یاد تازہ کرینگے ۔ غریب عوام کی خدمت کرنے میں کوئی کسر نہیں اٹھا رکھیں گے ۔ ان خیالات کا اظہار ایس ایچ او تھانہ اروپ چوہدری محمد نواز نے گذشتہ روز مسجد میں لگائی جانیوالی کھلی کچہری میں عوام سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ انصاف کے حصول کیلئے تھانے کے دروازے غریب عوام کیلئے دن رات کھلے ہیں اور ظالم اور جاگیرداروں کیلئے بند ہیں ۔ عام غریب شہری کو عزت اور پذیرائی ملے گی ۔ میرٹ کا بھول بھالا کرینگے ۔ علاقہ میں جرائم پیشہ افراد کی سرکوبی کر کے جرم کا قلع قمع کرینگے اور معاشرہ کو منشیات کی لعنت سے پاک کر کے امن و امان کا گہوارہ بنانے کیلئے ہر ممکن کوشش کرینگے ۔ مسلم لیگ (ق) کے ضلعی رہنما اور این اے96کے ٹکٹ ہولڈر شیخ نوید نے سابق وزیراعظم چوہدری شجاعت حسین کی قیادت میں مسلم لیگ (ق) کے دو تھنک ٹینک کے دورہ چین کو کامیاب قرار دیتے ہوئے اس بات پر زور دیا ہے کہ پاکستان اور چین کو مل کر مسائل حل اور امن قائم کرنے کےلئے کام کرنا چاہیے۔ مسلم لیگ (ق) کے کارکنوں کے ایک وفد سے بات چیت کرتے ہوئے شیخ نوید نے کہا کہ پاکستان کی خود مختاری کو تسلیم کرانے کےلئے ہمیں اپنے خیر خواہوں سے دوستی کو مزید مضبوط کرنا ہو گا۔ قومی سلامتی اور نظریہ پاکستان کے تحفظ کےلئے قومی یکجہتی کو فروغ دینا ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ حکومتی پالیسیاں غیر واضح ہیں۔ حکمران ملکی حالات اور عوام کی مشکلات پر غور کریں۔ مسلم لیگ (ق) کی قیادت اپنے وعدوں کی پاسداری کرتے ہوئے عوام کی خوشحالی اور ملکی سلامتی کےلئے اپنی جدوجہد جاری رکھے گی۔ممتاز شاعر تنوےرصہبائی گذشتہ روز قضائے الہی سے انتقال کرگئے جنہےں سےنکڑوںسوگواروں کی موجودگی مےں جگنہ قبرستان مےںسپردخاک کردےاگےا۔ نمازجنازہ مےں پروفےسرمحمداقبال جاوےد، پروفےسرمحمدمشتاق،سےدمحمودبسمل، جان کاشمےری، اقبال نجمی، فرزند علی شوق اورعلم و ادب سے تعلق رکھنے والے افراد نے کثےرتعداد مےں شرکت کی۔ مرحوم کی رسم قل گذشتہ بروز پےر صبح آٹھ بجے انکی رہائش گاہ واقع ٹرنکانوالہ بازاربالمقابل اےشےن ٹےنٹ سروس سےالکوٹ روڈ گوجرانوالہ مےںاداکی گئی۔ تنوےر صہبائی مرحوم مےانوالی مےں 1949مےں پےداہوئے اورمحکمہ تعلےم مےں بطورسےنئر لائبرےرےن خدمات بھی انجام دےتے رہے۔عید کی خریداری کی وجہ سے شہر کے تمام تجارتی مراکز اور مارکیٹوں میں سفید کپڑوں میں ملبوس پولیس اہلکار تعینات کر دیئے گئے ہیں جبکہ تمام تھانہ انچارج اور ڈی ایس پی بھی تجارتی مراکز میں پیدل گشت کرینگے ۔عید الفطر کی Èمد کے پیش نظر گوجرانوالہ سے اپنے اپنے Èبائی علاقوں کو جانیوالے شہریوں کا سلسلہ گذشتہ روز سے مزید زور پکڑ گیا جس کی وجہ سے بسوں اور ویگنوں کے اڈوں پر بے پناہ رش دیکھنے میں Èیا۔ محکمہ ٹرانسپورٹ کی جانب سے اوور چارجنگ روکنے کیلئے کمیٹیاں قائم کرنے کے باوجود بین الاضلاعی اڈوں پر مسافروں سے زائد کرائے وصول کرنے کا سلسلہ جاری رہا۔ تفصیل کے مطابق گوجرانوالہ سے دیگر شہروں کو جانیوالے مسافروں کا سلسلہ گذشتہ روز زور و شور سے جاری ہو گیا۔ اکثر سرکاری ملازمین نے عید کی چھٹیوں کیساتھ دو چھٹیاں خود لے لیں اس طرح اپنے اپنے Èبائی علاقوں کو جانیوالے سرکاری ملازمین 8 دن کے بعد اپنے اپنے دفتروں میں حاضری دینگے ۔ دوسری طرف سرکاری ملازمین کیساتھ ساتھ مزدور اور دیگر طبقہ کے افراد بھی اپنے اپنے Èبائی علاقوں کو روانہ ہونا شروع ہو گئے ۔ زائد کرائے وصول کرنے پر مسافروں کو شدید مسائل کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے ۔ بعض اڈوں پر بسوں کی تعداد پوری نہ ہونے کے باعث بھی مسافروں کو سفر کرنے میں شدید پریشانی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے ۔ مسافروں نے شدید احتجاج کرتے ہوئے کہا کہ زائد کرائے وصول کرنیوالوں اور بسوں کی تعداد پوری نہ کرنیوالوں کیخلاف بھرپور قانونی کارروائی کی جائے۔واپڈا ٹائون میں ملازمین کے مینجمنٹ کمیٹی کیساتھ کامیاب مذاکرات کے بعد ایمپلائز یونین نے اپنے مطالبات منظور ہونے پر مینجمنٹ کمیٹی کے نائب صدر میاں احسان اور معززین رہائشی ‘چیئرمین مقصود احمد مغل ‘خالق انجم محبوب ‘عمران الحسن بٹ کی کاوشوں کو سراہا اور ایمپلائز یونین کو عید الائونس اور تنخواہ کی فوری فراہمی کو خوش ئند قرار دیا ۔ ایمپلائز یونین کے نائب صدر چوہدری محمد ریاض ‘مہر یوسف ‘طالب حسین ‘محمد منیر نے مطالبات منظور اور مراعات دینے کی یقین دہانی پر تمام ملازمین کو اپنے فرائض ادا کرنے کا اعلان کیا۔ مذاکرات کامیاب بنانے میں اہم کردار ادا کرنیوالوں کا شکریہ ادا کیا۔سابق ڈائریکٹر جنرل انٹی کرپشن پنجاب خواجہ صدیق اکبر کے چھوٹے بھائی ڈاکٹر خواجہ عمر فاروق کی رسم چہلم ان کی رہائش گاہ 58 اے سیٹلائٹ ٹائون میں ادا کی گئی ۔ رسم چہلم میں سابق وفاقی وزیر خواجہ محمد صف سیکرٹری لوکل گورنمنٹ خواجہ نعیم ‘خرم دستگیر خان ایم این اے ‘ریٹائرڈ بریگیڈیئر خواجہ ہمایوں ‘سابق کمشنر اسلام باد خواجہ طارق ‘سابق وزیر اعلی پنجاب مشیر میاں اظہر حسن ڈار ‘میاں سعودالحسن ڈار سابق ایم پی اے ‘ناظم میاں ودود حسن ڈار ‘میاں مشتاق حسین پگانوالہ ‘سابق میئر الحاج محمد اسلم بٹ ‘سابق ڈپٹی میئر حاجی سیف الدین بھٹی ‘خصوصی عدالت کے سابق جج خواجہ جاوید احمد ‘ممتاز صنعتکار خواجہ خالد عزیز ‘سٹی سیکرٹری اطلاعات پی پی پی چوہدری محمد صادق ‘میر محمد سرور ‘ملک عبدالخالق ‘میاں منظور حسین ‘میاں نیئر منظور ‘خواجہ محمد عثمان ‘پیر غلام فرید سابق ایم پی اے ‘سابق نائب ناظم تحصیل صدر گوجرانوالہ ‘سردار انعام الحق ‘ڈاکٹر فرخ بشیر ناگی ‘خواجہ قمر راٹھور ‘نعیم اﷲ بٹر ‘میاں محمد افضل ایڈووکیٹ ‘ڈاکٹر صف جاوید سمیت صنعتکاران ‘تاجروں ‘سیاسی و سماجی شخصیات کے علاوہ ہر مکتبہ فکر سے تعلق رکھنے والے افراد نے کثیر تعداد میں شرکت کی ۔ مرحوم کی رسم چہلم کی دعا مغفرت مولانا قاری محمد عبداﷲ نے کروائی ۔پاکستان پیپلز پارٹی ضلع گوجرانوالہ کے سیکرٹری اطلاعات محمد نعمان عزیز ایڈووکیٹ اور سٹی گوجرانوالہ کے سیکرٹری اطلاعات چوہدری محمد صادق نے ایک مشترکہ بیان میں کہا ہے کہ صدر صف علی زرداری نے اقوام متحدہ میں خطاب کے موقع پر دہشت گردی اور بدامنی پر پاکستان کا موقف جس انداز اور جرات سے پیش کیا ہے اس پر وہ خراج تحسین کے مستحق ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ صدر صف علی زرداری نے امریکی مداخلت کو امریکہ میں ہی مسترد کر دیا اور پاکستان کے اندرونی معاملات اور سرحدوں کی خلاف ورزی کی مذمت کی ۔ جس سے پوری قوم کے سر فخر سے بلند ہو گئے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی معاشی مضبوطی اور استحکام کیلئے دنیا کے امیراور بڑے ممالک کی طرف سے فرینڈز ف پاکستان کا قیام اور پاکستان کی بھرپور امداد کا اعلان صدر صف علی زرداری کی شاندار سفارتی کوششوں کا نتیجہ ہے ۔ ج ان کی سفارتی کوششوں اور جمہوری استحکام کی وجہ سے پاکستان کے دوستوں میں اضافہ ہو رہا ہے ۔ ان رہنمائوں نے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی کی حکومت شہید قائد عوام ذوالفقار علی بھٹو اور شہید جمہوریت محترمہ بے نظیر بھٹو کی خارجہ پالیسی کو اپناتے ہوئے پاکستان کے دنیا بھر کے تمام ممالک سے بہترین تعلقات بنائے گی اور خصوصا عرب ممالک سے قریبی اور برادرانہ تعلقات بڑھائیگی ۔ انہوں نے صدر صف علی زرداری کے دورہ امریکہ پر تنقید کرنیوالوں کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ان کے انہیں بیانات اور پالیسیوں کی وجہ سے قوم سے ان کو مسترد کر دیا ہے ۔ چنداحساس کمتری کے شکار سیاستدان پاکستان کی ترقی نہیں دیکھ سکتے ۔ پاکستان کو دنیا کے شانہ بشانہ چلنا ہو گا۔ل پاکستان طلباءاجتماع طلباءکے حقوق کی واز بلند کریگا۔ جمعیتہ طلباءاسلام کے زیر اہتمام ل پاکستان طلباءاجتماع تیرہ ‘چودہ ‘پندرہ اکتوبر کو مینار پاکستان لاہور میں منعقد ہو گا۔ تفصیلات کے مطابق جمعیتہ طلباءاسلام صوبہ پنجاب کے سیکرٹری اطلاعات حافظ خرم شہزاد نے طلباءاجتماع کے سلسلہ میں مختلف مقامات پر خطاب اور علماءکرام سے ملاقاتوں کے دوران کیا۔ انہوں نے علامہ زاہد الراشدی ‘مفتی محمد عیسی خان ‘مولانا سید عبدالمالک شاہ ‘بابر رضوان باجوہ ‘مولانا شیخ امتیاز حسین ‘عثمان منصوری ‘عثمان عمر ہاشمی ‘قاری عبیداﷲ عامر ‘مولانا صبغت اﷲ مروت سے خصوصی ملاقاتیں کی اور ل پاکستان طلباءاجتماع کے دعوت نامے دیئے ۔اس موقعہ پر انہوں نے بتایا کہ طلباءاجتماع ملک میں طلباءکا سب سے بڑا اجتماع ثابت ہو گا۔ جس میں پاکستان و ہندوستان کے علماء‘دینی مدارس اور کالجز و یونیورسٹیز کے طلباء‘جمعیت علماءاسلام کے قائدین ‘اسلامی ممالک کے سفراءبھرپور شرکت کرینگے ۔ اجتماع کی تیاریوں کیلئے کمیٹیاں تشکیل دیدی گئی ہیں ۔انہوں نے یہ بھی بتایا کہ اجتماع کا دوسرا دن چودہ اکتوبر مفکر اسلام مولانا مفتی محمود کے نام سے منسوب ہو گا اور اس دن عظیم الشان مفتی محمود کانفرنس ہو گی ۔ جس میں مفتی محمود کے علمی ‘مذہبی ‘ملی و سیاسی خدمات کو خراج تحسین پیش کیا جائیگا کیونکہ چودہ اکتوبر مفتی محمود کا یوم وفات ہے ۔بھٹو کا روٹی ‘کپڑا اور مکان والا مشن پورا کیا جائیگا۔ پیپلز پارٹی عوام کی حالت بدل کر دم لے گی ۔ ان خیالات کا اظہار مقررین نے بلو بٹ صدر پی پی پی گوجرانوالہ کینٹ کی طرف سے دیئے گئے افطار ڈنر سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ میاں اظہر حسن ڈار نے کہا کہ صف علی زرداری کی قائدانہ صلاحیتیں سب تسلیم کرتے ہیں ۔ روٹی ‘کپڑا اور مکان کا نعرہ محص نعرہ نہیں بلکہ شہید ذوالفقار علی بھٹو کا مشن تھا جسے ہر حال میں پورا کیا جائیگا۔ اس کیلئے پیپلز پارٹی کو وقت درکار ہے ۔ خالد پرویز بلو بٹ نے کہا کہ صف علی زرداری سے عوام کو بے حد توقعات وابستہ ہیں ۔ دہشت گردی قومی ترقی کی راہ میں اس وقت سب سے بڑی رکاوٹ ہے ۔ ہماری بہن محترمہ بے نظیر بھٹو خود اس دہشت گردی کا شکار ہوئی ہیں ۔ پاکستان کی تمام سیاسی جماعتوں کواپنے ذاتی مفادات کو بالائے طاق کھتے ہوئے پیپلز پارٹی کیساتھ تعاون کرنا چاہیے ۔ حالیہ خود کش حملوں سے پاکستان کا شدید نقصان ہوا ہے ۔ تقریب میں میاں سعید ‘ضلعی فنانس سیکرٹری ‘چوہدری اشرف جندرہ ‘مرزا فاروق ‘سہیل خاں ‘مشتاق ‘بادل شیخ افضل ‘خالد حسینی غا مجید ‘ریاض خان ‘نوید بٹ ‘طارق چشتی ‘سمیع اﷲ بٹ ‘نعمان بٹ ‘راحیل بٹ ‘جمشید بٹ اور مصطفے بٹ سمیت پیپلز پارٹی کے درجنوں متحرک کارکنوں نے شرکت کی ۔اے پی ایس

حکمران ،بش اور کرزئی کی بجائے عوام کو خوش کریں،چودھری نثار



اسلام آباد (اے پی ایس)قائد حزب اختلاف اور مسلم لیگ ن کے مرکزی رہنما چوہدری نثارعلی خان نے موجودہ حکومت کی خارجہ اور اقتصادی پالیسیوں خاص طور پر صدر آصف علی زرداری کے دورہ امریکہ کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ہمیں امریکی صدر بش اور افغان صدر حامد کرزئی کو خوش نہیں کرنا بلکہ پاکستان کے عوام کو خوش کرنا ہے۔اسلام آباد میں پیر کے روزایک نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے چوہدری نثار نے کہا کہ یہ اچھا ہوتا اگر صدر زرداری ملک میں اپنی خارجہ پالیسی وضع کرتے اور بعد میں امریکہ جا کر اس کااظہار کرتے۔ لیکن چوہدری نثار کے بقول پاکستانی صدر نے اس کے برعکس پاکستان کی خارجہ پالیسی امریکہ میں وضع کی۔ملک کی خارجہ پالیسی کے حوالے سے قائد حزب اختلاف نے کہا کہ پاکستان کو یہ واضح کرنے کی ضرورت ہے کہ ایران پاکستان کی خارجہ پالیسی کی ترجیحات میں کہا ں آتا ہے۔انہوں نے کہا کہ خطے کی موجودہ صورت حال میں ایران انتہائی اہم ملک ہے اور اسے ارادی یا غیر ارادی طور پر نظر انداز کیا جا رہے۔ اس موقع پر انہوں نے کہا کہ موجودہ صورت حال کے تناظر میں پارلیمان کو اعتماد میں لینا انتہائی ضروری ہے۔ چوہدری نثار نے کہا کہ یہ اچھا ہوتا اگر آصف زرداری اپنے وعدے کے مطابق پہلا دورہ چین کا کرتے اور ان کے بقو ل اگر وہ ایسا کرتے تو اس سے چینی حکام اور عوام کے لیے ایک مثبت پیغام جاتا۔ انہوں نے کہا کہ دنیا کے دیگر ممالک کا دورہ کرنے کے بعد یہ کہنا غلط ہو گا کہ پاکستانی صدر کا پہلا باضابطہ دورہ چین کا ہی ہوگا۔پاکستان کی اقتصادی مشکلات کا ذکر کرتے ہوئے چوہدری نثار نے کہا کہ اگرحکومت موجودہ حالات میں بین الاقوامی مالیاتی ادارے IMF سے مددلیتی ہے تو اس کا مطلب پاکستان کو واپس ماضی کی جانب دھکیلناہوگا۔پاکستان میں ہونے والے دہشت گردی کے واقعات کے حوالے سے چوہدری نثار نے کہا کہ حکومت یہ بتائے کہ ان دھماکوں کے پیچھے کو ن سی طاقت ہے انہوں نے کہا کہ طاقت سے دہشت گردی کے ان واقعات کو نہیں روکا جا سکتا۔اس موقع پرقائد حز ب اختلاف چوہدری نثار نے کہا کہ صدر زرداری اپنی اہلیہ اورسابق وزیراعظم بے نظیر بھٹوکے قتل کے حوالے سے کہہ چکے ہیں کہہ ان کے قتل میں طالبان ملوث نہیں ہیں اور وہ اس قتل کے حوالے سے مسلم لیگ ق اور سابق صدر پرویز مشرف کو ذمہ دار ٹھہراتے رہے ہیں ۔جبکہ امریکا کے دورے کے بعد صدر زرداری کہہ رہے ہیں کہ بے نظیر بھٹوکے قتل میں بیت اللہ مسحود ملوث ہیں۔اے پی ایس

کیا قوانین جا گیرداروں اور وڈیروں پر لاگو نہیں ہوتے؟۔تحریر: اے پی ایس



ریاستی سطح پر خواتین کے تحفظ کے لیے بنائے گئے قوانین کے با وجود ملک میں خاندانی غیرت اور دیگر واقعات میں خواتین کے قتل میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے ۔گزشتہ چھ ماہ کے دوران 225 خواتین کو غیرت کے نام پر قتل کیا گیا جبکہ خاندانی تنازعات اور دیگر واقعات میں قتل کی گئی خواتین کی تعداد 722 ہے۔ پاکستان کے مختلف علاقوں میں غیرت کے نام پر کیے جانے والے قتل کے نام مختلف ہیں لیکن روایات ایک سی ہیں اور انجام بھی یعنی الزامات کے تحت خواتین کا قتل۔ جنوری 2008 سے جون 2008 کے دوران کاروکاری کے الزامات کے تحت قتل کی گئی خواتین کے علاوہ مقامی عدالتوں میں درج ان خواتین کے مقدمات میں سے صرف دو ملزمان کو سزا مل سکی ہے جبکہ بقیہ تمام مقدمات زیر سماعت ہیں۔ ملک میں عدالتی نظام کی کمزوریوں کی وجہ سے کارو کاری کے الزامات کے تحت قتل کی گئی خواتین کے مقدمات عدالتوں میں طویل عرصے تک چلتے ہیں جس کی وجہ سے فوری انصاف کی امید ختم ہو جاتی ہے ۔ بلوچستان میں زندہ درگور کی جانے والی خواتین سمیت دیگر واقعات کی تفصیل بھی میڈیا مین آچکی ہے۔واضح رہے کہ پاکستان میں انسانی حقوق کی تنظیمیں کاروکاری،غیرت کے نام پر قتل اور خواتین سے روا رکھے جانے والے دیگر غیر انسانی سلوک کے خلاف سالوں سے آواز اٹھا رہی ہیں۔حالیہ چند سالوں میں پارلیمان میں ایسی قانون سازی بھی کی گئی ہے جن میں خواتین کے ساتھ غیر انسانی سلوک کی حوصلہ شکنی کے قوانین موجود ہیں لیکن اس کے باوجود کے قتل کے واقعات میں کمی نہیں آسکی ہے۔ کاروکاری یا غیرت کے نام پر قتل کے واقعات کی شرح دیہی علاقوں میں زیادہ ہے اور زیادہ تر واقعات اندرونِ سندھ ،پنجاب اور بلوچستان میں پیش آتے ہیں جہاں جاگیر دارانہ نظام موجود ہے ۔ ملک میں ان واقعات کی روک تھام کے لیے قوانین تو موجود ہیں لیکن یہ قوانین ان جا گیرداروں اور وڈیروں پر لاگو نہیں ہوتے ۔ نہ وہ تھانوں کی سنتے ہیں اور نہ ہی افسران کی بلکہ ان کے منظور ِ نظر افراد ہی وہاں قانون کے رکھوالے ہوتے ہیں ایسے میں کتنے ہی قوانین بنا لیے جائیں یا شواہد پیدا کر لیے جائیں یا میڈیا کے ذریعے کتنی ہی آگاہی پیدا کی جائے جب تک ان علاقوں میں ان قوانین کا نفاذ نہیں ہوگا تبدیلی کی توقع کرنا لا حاصل ہے ۔اگرچہ خواتین کے ساتھ غیر انسانی سلوک کی داستان افسردہ اور ہزاروں سال پرانی ہے اور اس کی اہم وجہ ہم پر مسلط جاگیردارانہ نظام ہے ” آپ کو یہ جان کر حیرت ہو گی کہ بلوچستان میں ایک قبیلے کے فرد نے دوسرے قبیلے کے فرد کے کتے کو مار دیا تھا جس کے بعد ایک جرگہ بٹھایا گیا جس نے پندرہ لڑکیاں سزا میں دینے کا فیصلہ کیا یہ ہے عورت کی حیثیت اور قدر ہمارے اسلامی جمہوریہ پاکستان میں “۔اس غیر انسانی سلوک کو سماجی حمایت حاصل نہیں ہے بلکہ جاگیر داریک دوسرے کی حمایت کر کے اس فرسودہ نظام کو مل کر تحفظ دیتے ہیں ۔ جو خاموش ہیں وہ صرف ڈر اور خوف کی وجہ سے ۔ لوگ اگرچہ خواتین کو تحفظ کے حوالے سے سڑکوں پر صرف مظاہرہ کرتے دیکھتے ہیں۔ وہ اس بات سے لا علم ہیں کہ انھوں نے گزشتہ سات آٹھ سالوں میں با قاعدہ ڈرافٹ تیار کر کے پوری پارلیمان کو دیا جو بدقسمتی سے سیاست کی بھینٹ چڑھ گیا انسا نیت کے سب سے مظلوم طبقہ خواتین کو ان واقعات میں کمی لانے کے حوالے سے انہیں حکومت سے کوئی توقع نہیں کیونکہ توقعات ان سے رکھی جاتی ہیں جو وعدوں کا پاس رکھنا جانتے ہیں ۔ حکومت نے اب تک صرف وعدے ہی کیے ہیں اور پھر بھول گئے ہیں۔اے پی ایس



Sunday, September 28, 2008

Kashmala urges foreign investors to make investment in Pakistan





BEIJING:MNA Kashmala Tariq who is representing Pakistan at the 2008 Summer Davos of the World Economic Forum (WEF) being held in Tianjin urged foreign investors to play their due role in making investments in Pakistan to address the socio-economic problems of the people. “I have held very fruitful meetings with CEOs of a number of key business tycoons including one dealing with solar energy and another business magnate from Holland that is keen to make investment in dairy and mobile banking in Pakistan, Kashmala Tariq told official news agency in an interview on Sunday. She pointed out that while addressing a number of plannery sessions of the WEF and holding meetings with Chief Executive Officers and business tycoons of multi-national companies from around the world who were attending the Forum, she emphasized them to make investment in Pakistan as there are number of international companies who were already doing roaring business in her country. Speaking on war on terror in which Pakistan is the front line state, she said her country is committed and will continue to play its important role to eliminate extremism and terrorism from all farm of its manifestations. Kashmala Tariq said that by setting up joint ventures with Pakistani counterparts, the international investors would also contribute greatly to eliminate the extremism and terrorism as nemployment, deprivation and lack of basic amenities are some of the reasons behind this menace.
Referring to law and order situation, she said that there are still a number of international companies doing excellent business and if any businessmen intend to make investment in joint ventures with Pakistani business they would be able to earn huge profit. “The government will give guarantee for their investments and facilitate them in all aspects”, she added. MNA Kashmala suggested to the internationally acclaimed companies that for the women empowerment, it is necessary that they should come forward and allocate a quota of 30 or 50 percent for women in employment to help address their socio-economic challenges being faced by them. To address the challenges of poverty and deprivation is possible only through economic empowerment of women in the world, she observed. She informed that at the WEF the presence of women was 14 per cent and demanded to provide them maximum participation. Meanwhile, the Chinese Premier Wen Jiabao who inaugurated the 2-day WEF on Saturday said that his country has full confidence and capability to overcome various difficulties to ensure sound and fast economic growth. Wen said China is in the stage of rapid industrialization and urbanization, and has huge potential for economic growth. The important period of strategic opportunities for China’s development will last quite a long time. an even longer period of time, said Premier Wen Jiabao.