International News Agency in english.urdu news feature,Interviews,editorial,audio,video & Photo Service from Rawalpindi/Islamabad,Pakistan.Managing editor M.Rafiq,Editor M.Ali. Chief editor Chaudhry Ahsan Premee email: apsislamabad@gmail.com,+92300 5261843 مینجنگ ایڈ یٹر محمد رفیق، ایڈیٹر محمد علی، چیف ایڈیٹرچو دھری احسن پر یمی

Sunday, September 28, 2008

ملک دشمن عالمی طاقتوں سے پاکستان کے و جود کو خطرہ ہے ۔ تحریر : اے پی ایس



پاکستان کے بعض اخبارات نے آصف زرداری کے دورہ نیویاک کو کامیاب قرار دیا ہے ۔ جبکہ پاکستان کے بیشتر اخبارات نے نیویارک میں ہونے والے فرینڈز آف پاکستان کےاس اجلاس کو اپنی شہ سرخی کا موضوع بنایا ہے جس میں پاکستان کی اقتصادی امداد کےلیے کنسورشیم بنانے کا وعدہ کیاگیا ہے۔اخبارات نے فرینڈز آف پاکستان کے اجلاس کی خبر کےساتھ ساتھ اس اجلاس کے بارے میں تجزیاتی رپورٹس اور ردعمل کو بھی اخبارات میں نمایاں جگہ دی ہے جبکہ بعض اخبارات کے اداریوں کا موضوع پاکستانی صدر آصف علی زرداری کے اقوام متحدہ کے اجلاس سے خطاب رہا اور کچھ نے پاکستانی صدر کی بھارتی وزیر اعظم سے ملاقات کے حوالے سے اپنا اداریہ لکھا۔ روزنامہ جنگ کی سرخی کے الفاظ ہیں ’عالمی مالیاتی ادارے پاکستان کو بھر پور اقتصادی امداد دینگے، فرینڈز آف پاکستان کی یقین دہانی ‘ جبکہ انگریزی اخبار ڈان نے اسی اجلاس کی سرخی یوں جمائی ہے ’پاکستان کے ہمددر ممالک نے اس کو اقتصادی بحران سے بچانے کے لیے تجاویز پیش کیں‘۔ روزنامہ جنگ میں شائع ہونے والی تجزیاتی رپورٹ میں کہا گیا کہ’ پاکستان جمہوریت کے حوالے سے امریکہ، برطانیہ، یورپی یونین، چین، سعودی عرب متحدہ عرب امارات اور جاپان سے مستقل بنیادوں پر اقصادی تعاون حاصل کرنے میں کامیاب ہوگیا ہے اور فرینڈز آف پاکستان کو ایک مستقل ادارہ بنانے کا فیصلہ کرلیا گیا ہے۔ نوائے وقت نے زرداری صاحب یہ نہ کھپے کے عنوان سے اپنے اداریہ میں کہا کہ صدر زرداری کو اب ایسے کونسے حالات نظر آ رہے ہیں کہ بھارت کے ساتھ تجارتی، ثفاقتی تعلقات کو استوار کرنا انہوں نے اپنی اوالین ترجیح میں شامل کرلیا ہے۔اسی رپورٹ میں یہ کہا گیا کہ سفارتی حلقوں میں اسے آصف زرداری کے حالیہ دورہ نیویارک کی سب سے اہم کامیابی قرار دیا جارہا ہے۔ اردو روزنامہ ایکسپریس نے صدر آصف علی زرداری کے اقوام متحدہ سے اجلاس کو عکسری اور سفارتی ماہرین کی آراء پرمبنی خبر یوں شائع کی ہے۔’ صدر زرداری کادورہ کامیاب رہا، عوام کو بیوقوف بنایاجا رہا ہے۔‘ اردو روزنامے آج کل نے اپنے ادارے میں کہا کہ صدر آصف زرادری کے اقوام متحدہ کے اجلاس میں خطاب کو دنیا بھر میں سراہا گیا ہے کیونکہ صدر زرداری نے اپنے خطاب میں پاکستان کو درپیش دہشتگردی کے سنگین مسئلے کو احسن انداز میں پیش کیا ہے جبکہ انگریزی اخبار دی نیشن نے صدر زرداری کے خطاب پر نکتہ چینی کی اور اخبار لکھتا ہے کہ آصف زرداری کے خطاب کا بڑا حصہ سابق وزیر اعظم اور ان کی اہلیہ بینظیر بھٹو کے ذکر پر مبنی تھا اور دہشتگردی کے سوا کسی دوسرے مسئلہ پر بات نہیں کی گئی۔ انگریزی اخبار ڈان نے آصف علی زرداری اور منموہن سنگھ کی ملاقات کے بارے میں اپنے اداریہ کا عنوان’ نئی شروعات ‘ رکھا ہے ۔ اخبار لکھتا ہے کہ امید ہے کہ زرداری اور منموہن ملاقات ان نقصانات کا ازالہ کرنے میں مددگار ہوگی جس سے دونوں ملکوں کے درمیان گزشتہ چند ماہ میں باہمی تعلقات متاثر ہوئے ہیں۔ اخبار نے دونوں ملکوں کے درمیان چار مقامات سے تجارتی راستے کھونے کے اعلان کو خوش آئند قرار دیا اور کہا اس اعلان پر عمل درآمد وقت کی ضرورت ہے۔ اردو اخبار نوائے وقت نے’زرداری صاحب یہ نہ کھپے‘ کے عنوان سے اپنے اداریہ میں کہا کہ صدر زرداری کو اب ایسے کونسے حالات نظر آ رہے ہیں کہ بھارت کے ساتھ تجارتی، ثفاقتی تعلقات کو استوار کرنا انہوں نے اپنی اوالین ترجیح میں شامل کرلیا ہے۔ اخبار کے مطابق پاکستان اور بھارت تجارت کے راستے کھولنے کے عزم کو عملی جامہ پہنایا گیا تو پھر اکھنڈ بھارت کے خواب کی تعبیر کے لیے واہگہ والی لکیر مٹانےاور دیوار برلن کو گرانے کی ضرورت نہیں پڑےگی۔ پاکستان کے مختلف اخبارت میں صدر آصف علی زرداری کی امریکی نائب صدر کی امیدوار سارہ پیلن سے ملاقات کے حوالے سے کارٹون بھی شائع کیے ہیں۔جبکہ حسین عبد اللہ ہارون نے نیویارک میں اقوام متحدہ کے صدر دفاتر میں سیکرٹری جنرل کو اپنی اسناد پیش کرنے کے بعد ذرائع ابلاغ کو بتایا تھاکہ انہوں نے سیکرٹری جنرل سے بینظیر بھٹو کے قتل کی تحقیقات کےلیے تحقیقاتی کمیشن قائم کرنے کا اعلان کرنے کے لیے کہا ہے۔ اقوام متحدہ کیطرف سے بینظیر بھٹو کے قتل کی تحقیقات اب صرف سیکرٹری جنرل کے حکم پر اقوام متحدہ کر رہی ہے نہ کہ سلامتی کونسل-اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل پاکستانی حکومت کی ہی مرضی و مشاورت سے تحققیقاتی کمیشن کا سربراہ اور اراکین مقرر کریں گے- اس تحقیقات کے لیے فنڈز پاکستان کو مہیا کرنے ہیں۔ سندھ اسمبلی کے سابق سپیکر حسین ہارون کو اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل نمائندے کے طور پر تعینات کیاگیا ہے۔حسین ہارون کے پیشرو اور ایک سینئر سفارتکار منیر اکرم کو بینظیر بھٹو کے قتل کی تحقیقات اقوام متحدہ سے کروانے کے معاملے پر پیپلز پارٹی کی قیادت سے اختلافات کے بعد ’ریٹائر‘ کر دیا گیا تھا۔ پاکستان پیپلزپارٹی کی موجودہ حکومت کے دور میں دو سینئر سفارت کاروں ، منیر اکرم اور ریاض محمد خان کو ان کے عہدوں سے ہٹایا گیا ہے۔ منیر اکرم اور ریاض محمد خان نے پاکستانی وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کو خط لکھ کرانہیں مشورہ دیا تھا کہ سابق وزیر اعظم بینظیر بھٹو کے قتل کی تحقیقات اقوام متحدہ سے کروانا نہ صرف بے سود بلکہ پاکستان کیلیے نقصان دہ ہوگا- ان دو سفار تکاروں کا موقف تھا کہ اقوام متحدہ سے تحققیقات کروانے سے ایک ’پینڈورا‘ باکس کھل جائے گا جس کے نتیجے میں پاکستان کے اہم مفادات کو بھی نقصان پہنچے گا۔سفارت کاروں کا موقف تھا کہ کہ بینظیر قتل تحقیقات کا معاملہ اگر سکیورٹی کونسل میں پہنچ گیا تو مزید گڑ بڑ ہو سکتی ہے اور سکیورٹی کونسل کے مقرر کردہ تحقیقاتی کمیشن کے اراکین پاکستان میں جس سے بھی پوچھ گچھ کرنا چاہیں کرسکتے ہیں اور جس ادارے میں جانا چاہیں جا سکتے ہیں- دونوں سفارت کاروں کا موقف تھا کہ بینظیر بھٹو کے قتل کی تحقیقات کیلئے فنڈز کہاں سے فراہم کیے جائیں گے- اقوام متحدہ نے ابھی تک لبنان کے سابق وزیر اعظم رفیق الحریری کے قتل کی تحقیقات کروائی ہے جس پر ساڑھے تین سو ملین ڈالر کی رقم خرچ کی جا چکی ہے اور تاحال اس تحقیق کا کوئی نتیجہ بر آمد نہیں ہوا ہے۔ پاکستان نے رفیق الحریری کی تحققیات اقوام متحدہ سے کروانے کی مخالفت کی تھی جبکہ امریکہ، فرانس اور برطانیہ بھی رفیق الحریری کے قتل کی تحقیقات میں دلچسپی رکھتے تھے۔ لبنانی وزیر اعظم کے قتل میں پڑوسی ملک شام پر الزام لگایا جا رہا تھا جبکہ بینظیر بھٹو کے قتل کا الزام کسی دوسرے ملک پر نہیں ہے- جبکہ افغانستان کے وزیرِ دفاع عبدالرحیم وردک نے چند روز قبل کہا تھاکہ افغانستان اور پاکستان کی سر حدی علاقوں میں کارروائیاں کرنے کے لیے ایک مشترکہ فوج بنانے پر پاکستانی حکام سے مذاکرات ہوئے ہیں۔واشنگٹن میں اخبار نویسوں سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا تھا کہ ان کی حکومت ایسی مشترکہ فوج کی تشکیل کرنے پر غور کر رہی ہے جس میں افغانستان میں تعینات امریکی فوج کے ارکان بھی شامل ہوں گے۔ انہوں نے یہ بھی کہا تھاکہ پاکستان، افغانستان اور افغانستان میں تعینات نیٹو اور امریکی فوج کو مشترکہ دشمن کا سامنا ہے اور اس کے لیے مشترکہ فوج تشکیل دینے کی ضرورت ہے۔ امریکی اور افغان حکام کا کہنا ہے کہ افغانستان میں طالبان اور القاعدہ کی کارروائیاں اس لیے زور پکڑ رہی ہیں کہ ان تنظیموں کے ارکان کی سرحد کے آر پار نقل و حمل میں کوئی روکاوٹ نہیں ہے۔ جبکہ حال ہی میں امریکہ کی جائنٹ سٹاف کمیٹی کے چیف ایڈمرل مولن نے افغانستان اور پاکستان کے سرحدی علاقوں میں حکمت عمل تبدیل کرنے کی بات کی تھی۔ امریکی وزیر دفاع رابرٹ گیٹس نے کہا ہے کہ دہشتگردوں کا پیچھا کرتے ہوئے سرحد عبور کرنا یو این منشور کے خلاف نہیں۔ امریکی فوجی اپنی حفاظت میں پاکستان کے اندر دہشگردوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنانے کا حق رکھتے ہیں لیکن دہشتگردی کے خلاف جنگ میں ضروری ہے پاکستان میں اس اپنی مرضی سے شامل رہے۔ پاکستان کے صدر آصف زرداری نے ایک روز قبل ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ امریکی فوجیوں کا پاکستانی سرحدوں کے اندر آنا اقوام متحدہ کے منشور کی خلاف ورزی ہے۔ رابرٹ گیٹس نے کہا کہ شدت پسندوں کے خلاف کاروائیوں کے لیے پاکستان سے تعاون مزید بڑھانا چاہیے کیونکہ ان کی کاروائیوں سے پاکستان اور امریکہ کے وجود کو خطرہ ہے۔ جبکہ امریکہ کے وزیر دفاع نے کہا ہے کہ اگلے سال موسم بہار سے پہلے افغانستان میں مزید فوج نہیں بھیجی جا سکتی۔گزشتہ ہفتے افغانستان میں امریکی فوج کے کمانڈر نے مطالبہ کیا تھا کہ دس ہزار مزید فوجی افغانستان بھیجے جائیں مسٹر گیٹس کا کہنا تھا کہ افغانستان میں جاری لڑائی کے کیلئے صرف امریکی کمک بڑھانے پر انحصار نہیں کرنا چاہیے بلکہ اس کے لیے افغانستان کی اپنی فوج کو مزید مستحکم کیا جانا چاہئے اور اسلامی شدت پسندوں کے خلاف کاروائیوں کے لیے پاکستان سے تعاون مزید بڑھانا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی سرحد کے اندر بھی صورت حال ایسی ہی ہے جیسے عراق اور افغانستان میں ہے اس لیے اگر پاکستانی فوج کی طرف سے بھی کارروائی کی جائے تو اس کو پر زور ہونا چاہیے لیکن اس کے ساتھ ساتھ اس علاقے کی اقتصادی ترقی پر توجہ دینی چاہیِے۔رابرٹ گیٹس نے کہا کہ اگر امریکہ کو ا س وقت کہیں سے خطرہ ہے تو وہ پاکستان کے قبائلی علاقوں سے ہے اس کے علاوہ انھوں نے کہا کہ پاکستان کی صورت حال افغانستان کی جنگ پر اثر انداز ہو رہی ہے۔ امریکی فوجیوں کو پہنچا یایا جانے والا چالیس فیصد تیل اور اسی فیصد دوسرا سامان پاکستان کے راستے ہی افغانستان پہنچتا ہے۔ اس کے ساتھ ہی وائس چیرمین آف جائنٹ چیف آف سٹاف جیمس کارٹ رائٹ نے بتایا کہ ہم پچھلے تین ہفتے سے متبادل راستہ ڈھونڈنے کی کوشش کر رہے ہیں۔پاکستان کے صدر آصف زرداری نے نیو یارک میں امریکی صدر جارج بش سے ملاقات کی ہے ۔اس حوالے سے پاکستان کی وزیر اطلاعات نے دونوں رہنماو¿ں کے درمیان اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس سے قبل ہونے والی اس ملاقات کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ ملاقات انتہائی خوشگوار انداز میں ہوئی اور امریکی صدر نے دہشتگری کے خلاف آصف زرداری کے عزم کی تعریف کی ہے۔ شیری رحمان نے بتایا کہ صدر بش نے اسلام آباد میں ہونیوالے میریئٹ ہوٹل پر بم حملے میں ہلاک ہونیوالے پاکستانیوں کی ہلاکتوں پر تعزیت کی اور، بقول شیری رحمان، صدر زرداری کو دہشتگردی کیخلاف ڈٹ کر کھڑے ہوجانے پر انہیں خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ وہ (آصف زرداری) ذاتی طور پر دہشتگردی کے نقصانات اٹھانے کے باوجود بڑی ہمت سے کھڑے ہیں۔ صدر آصف زرداری جن کے بارے میں بتایا گیا تھا کہ وہ صرف پانچ وفاقی وزراء کے ساتھ امریکہ کا دورہ کر رہے تھے اب انہوں نے اپنے وفد میں بائیس صحافیوں کا بھی اضافہ کرلیا ہے۔ اس حوالے سے ملک بھر کے چند اخبارات کے علاوہ ہزاروں کی تعداد میں شا ئع ہونے والے اخبارات اور نیوز ایجنسیوں کے ما لکان اور ا یڈیٹرز اور رپورٹرز نے بھر پور طریقے سے مذمت کر تے ہو ئے وزارت اطلاعات سمیت دیگر ذمہ داروں کے خلاف احتجاج کرتے ہو ئے کہا کہ سرکاری وسائل پر ایسے سفارشی نام نہاد صحا فیوں کو بھی ساتھ لے جا یا گیا جنھیں کبھی دو لفظ بھی نہیں لکھے۔جبکہ انھوں نے مطا لبہ کیا کہ ایک طویل عرصے سے چند قومی اخبارات کے علاوہ منظور نذر اور ڈمی اور سفارشی صحافیوں کو ساتھ لیکر جانے کا کلچر بن گیا ہوا ہے جو ملک بھر کے ہزاروں کی تعداد میں شا ئع ہونے والے اخبارات میں کام کرنے والے صحا فیوں کا حق ما ر رہے ہیں انھوں نے مزید کہا کہ اس میں اختیارات کا نا جا ئز استعمال کرنے والے اور سرکاری وسائل سے سفارشی اور ڈمی صحافیوں کو صدر اور وزیر اعظم کے غیر ملکی دوروں پر لے جا نے پرپبلک ا کا ئونٹس کمیٹی ذمہ داروں سے اس کا جواب ما نگے۔ جبکہ ملک بھر کے پرنٹ میڈیا کے صحا فیوں نے یہ بھی مطا لبہ کیا ہے کہ کہ چند نام نہاد اینکر پرسنز جو کہ سرکاری ٹی وی سمیت نجی چینلز میں بھی کام کر تے ہیں۔وہ ان دوروں میں جا کر ملک بھر کے صحا فیوں کا حق مار رہے ہیں۔جبکہ وفاقی وزیر اطلاعات نے تصدیق کی تھی کہ صدر زرداری کے وفد میں بائیس صحافیوں کا اضافہ کیا گیا جن کے تمام اخراجات حکومت پاکستان ادا کرے گی- اے پی ایس







No comments: