International News Agency in english.urdu news feature,Interviews,editorial,audio,video & Photo Service from Rawalpindi/Islamabad,Pakistan.Managing editor M.Rafiq,Editor M.Ali. Chief editor Chaudhry Ahsan Premee email: apsislamabad@gmail.com,+92300 5261843 مینجنگ ایڈ یٹر محمد رفیق، ایڈیٹر محمد علی، چیف ایڈیٹرچو دھری احسن پر یمی

Tuesday, September 2, 2008

صدارتی انتخاب، سرحد و بلوچستان کے ارکان پارلیمان کی بڑی تعداد نے آصف زرداری کی حمایت کردی



اسلام آباد: صدارتی انتخاب کیلئے سرحد اور بلوچستان کے ارکان پارلیمان کی بڑ ی تعداد نے آصف علی زرداری کی حمایت کردی ،ان ارکان کا تعلق مختلف جماعتوں سے ہے۔اس طرح الیکٹورل کالج کے حمایتی ووٹوں کی تعدادمیں اضافہ ہو گیا اور آصف زرداری کے صدر بننے کے امکانات روشن ہو گئے وزیراعظم اور دیگر پارٹی رہنماؤں کی رابطہ مہم کامیاب ہوتی نظر آ رہی ہے متعدد ارکان حمایت کیلئے تیارہو گئے ہیں۔ق لیگ میں ایک اور فارورڈ بلاک تشکیل پا گیا،جان جمالی کی8ارکان سمیت وزیراعظم سے ملاقات کی اورآصف زرداری کی قیادت پر اعتماد کا اظہارکیا ،اس موقع پریوسف گیلانی نے وفد کا شکریہ ادا کیا۔تفصیلات کے مطابقچھ ستمبر کوہونے والے صدارتی انتخابات میں قومی اسمبلی وسینیٹ اور چاروں صوبائی اسمبلیوں نے پاکستان پیپلزپارٹی اس کی ہم خیال اوراتحادی جماعتوں کی طرف سے حمایت کے بعد آصف علی زرداری کے صدر منتخب ہونے کے امکانات روشن ہوگئے ہیں اورچھ ستمبرکا معرکہ بھی پیپلزپارٹی کے حق میں جاتا نظرآتا ہے۔ آصف علی زرداری، وزیراعظم یوسف رضاگیلانی اور دیگر پارٹی رہنماؤں کی کاوشوں اور رابطوں کے نتیجے میں حامی ارکان کی تعدادمیں اضافہ ہوگیا ہے۔ اسمبلیوں اور سینیٹ کے موجودہ پارٹی پوزیشن کے نتیجے میں آصف علی زرداری کو 476 ووٹ مل سکتے ہیں جبکہ مدمقابل ن لیگ کے امیدوار جسٹس ریٹائرڈ سعید الزماں صدیقی کے ووٹوں کی تعداد کم ہوکر 144 رہ گئی ہے۔ مسلم لیگ ق کے صدارتی امیدوار مشاہدحسین سید کو 80 ووٹ ملنے کا امکان ہے۔ حالیہ اعدادوشمار سے یہ ظاہرہوتاہے کہ اگر مسلم لیگ(ن) اور مسلم لیگ(ق) اپنے کسی ایک امیدوار پر متفق ہوجائیں تو بھی ان کے ووٹوں کی تعداد224 سے تجاوز نہیں کرسکتی کیونکہ ووٹوں کی گنتی صوبائی اسمبلیوں کے ممبران کی تعداد کے مساوی ہونے کے فارمولے سے شمار کی جائے گی۔ 1988ء کے رولز کے آرٹیکل41 کے تحت چاروں صوبائی اسمبلیوں سینیٹ اور قومی اسمبلی کے الیکٹورل کالج کی تعداد 1170 بنتی ہے جبکہ اس فارمولے کے تحت ٹوٹل ووٹرز کی تعداد 702ہے موجودہ قومی اسمبلی میں2 سیٹیں خالی ہیں لہذا موجودہ الیکٹورل کالج 700 ممبران پر مشتمل ہے۔ قومی اسمبلی میں الیکٹورل کالج کے ممبران کی تعداد 342 سینیٹ 100 پنجاب اسمبلی 371 سندھ اسمبلی 168 این ڈبلیو ایف پی 124 جبکہ بلوچستان اسمبلی کے ممبران کی تعداد65 ہے چونکہ بلوچستان اسمبلی ملک کی سب سے چھوٹی اسمبلی ہے لہذا دیگر تین صوبائی اسمبلیوں کے ممبران کی تعداد کو 65 پر تقسیم کیاجائے گا۔ جس کے تحت پنجاب کے5.7 ایم پی اے ایک ووٹ کے برابر ہوں گے، سندھ 2.8 اور این ڈبلیو ایف پی کی اسمبلی کے 1.9 ایم پی اے ایک ووٹ کے برابر ہوں گے۔ پی پی پی کی سربراہی میں قائم اتحاد کو پنجاب اور سینیٹ کے علاوہ قومی اسمبلی اور دیگر صوبائی اسمبلیوں میں اہمیت حاصل ہے۔ موجودہ پارٹی پوزیشن کے تحت آصف علی زرداری کو قومی اسمبلی میں217 سینیٹ 54 پنجاب 26 سندھ 60 این ڈبلیو ایف پی میں 58 اور بلوچستان اسمبلی سے 61 ووٹ ملیں گے جوکہ ٹوٹل 476 بنتے ہیں۔ ان کے مقابلے میں مسلم لیگ(ن) کے سعیدالزماں صدیقی کو قومی اسمبلی میں 92 سینیٹ 16 پنجاب 30 سرحد سے 6 اور بلوچستان سے کوئی ووٹ نہیں ملے گا۔ اس طرح ان کے کل ووٹوں کی تعداد 144 ہے۔ مسلم لیگ(ق) کے صدارتی امیدوار مشاہد حسین سید کو قومی اسمبلی میں 31 سینیٹ 30 پنجاب 9 سندھ 5 سرحد 1 اور بلوچستان اسمبلی سے 4الیکٹورل ووٹ حاصل ہونگے اور ان کے کل حاصل کردہ ممکنہ ووٹوں کی تعداد80 بنتی ہے۔ لہذا موجودہ صورتحال کے تحت آصف علی زرداری نمبرگیمز کے لحاظ سے تمام امیدواروں سے اکثریت حاصل کررہے ہیں اوراگر پیپلزپارٹی اور اس کی ہم خیال تمام جماعتوں کے امیدوار ووٹنگ میں حصہ لیں تو آصف علی زرداری کی کامیابی یقینی نظرآرہی ہے۔ وزیراعظم سیّد یوسف رضا گیلانی کو پاکستان مسلم لیگ (ق) کے 8 ارکان پارلیمنٹ نے صدارتی انتخاب میںآ صف علی زرداری کی بھرپور حمایت اور تعاون کی یقین دہانی کرائی ہے۔

Print Version

No comments: