

(اسلا م آباد (اے پی ایس
شمالی اور جنوبی وزیرستان میں امریکہ کی جانب سے میزائل حملوں میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے پاکستان کے قبائلی علاقے شمالی وزیرستان میں افغان سرحد کے قریب امریکی جاسوس طیاروں سے ایک مکان اور پرائمری سکول پر میزائل گرائے گئے ہیں جس کے نتیجہ میں بارہ افراد ہلاک ہوگئے۔ہلاک ہونے والوں میں زیادہ تر مقامی طالبان بتائے جاتے ہیں۔ مقامی انتظامیہ کے ذرائع کا کہنا ہے یہ واقعہ جمعہ کو صبح ساڑھے پانج بجے کے قریب شمالی وزیرستان کے صدر مقام میرانشاہ سے کوئی دو کلومیٹر دور مشرق کی جانب علاقہ ٹول خیل میں شادم خان نامی قبیلے میں پیش آیا۔ شمالی وزیرستان میں یہ تازہ ترین حملہ اس وقت ہوا ہے جب پاکستان میں پہلے ہی ان اطلاعات کے بعد ایک بحث چھڑی ہوئی ہے جن میں امریکی صدر جارج ب±ش کے بارے میں کہا گیا ہے کہ انہوں پاکستان میں وہاں کی حکومت کی اجازت کے بغیر حملوں کی منظوری دی تھی۔مقامی لوگوں کے مطابق قریبی گھروں کو بھی شدید نقصان پہنچا ہے۔مقامی لوگوں کے مطابق ملبہ سے کچھ لاشوں کو نکال لیا گیا ہے جن میں زیادہ تر مقامی طالبان بتائے جاتے ہیں۔ یاد رہے کہ گزشتہ ایک مہینے سے شمالی اور جنوبی وزیرستان میں امریکہ کی جانب سے میزائل حملوں میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ جس کے نتیجہ میں ساٹھ سے زیادہ لوگ ہلاک ہوگئے ہیں۔ اس پہلے شمالی وزیرستان کے علاقے ڈانڈے درپہ خیل میں افغان طالبان کمانڈر جلال الدین حقانی کے گھر اور مدرسہ پر حملہ ہوا تھا جس میں بیس سے زیادہ لوگ ہلاک ہوگئے تھے اس حملے سے پانچ دن پہلے جنوبی وزیرستان کے علاقہ انگور اڈہ میں امریکہ اور اتحادیوں کے حملے میں بیس عام شہری ہلاک ہوگئے تھے۔ رائٹرز کے مطابق افغانستان میں مزاحمت کاروں کے بڑھتے ہوئے حملوں کے باعث پاکستانی حکومت پر دباو¿ بڑھ رہا ہے کہ وہ اپنے علاقوں میں شدت پسندوں کے خلاف کارروائی تیز کرے۔ اسی دوران پاکستان کی حدود میں امریکی جاسوسی طیاروں سے میزائیلوں کے حملوں میں بھی اضافہ ہوا ہے اور صرف اس سال تقریباً بارہ ایسے حملے ہو چکے ہیں۔ رائٹرز کے مطابق اس کے ساتھ ساتھ سن دو ہزار ایک میں افغانستان میں غیر ملکی افواج کی تعیناتی کے بعد عام معلومات کے مطابق پہلی بار حال ہی میں امریکی کمانڈو نے پہلی بار پاکستانی حدود میں داخل ہو کر حملہ کیا جس میں کئی لوگ ہلاک ہوئے۔برطانوی نشر یاتی ادارے سے بات کرتے ہوئے ایک سینیئر اہلکار نے، جن کا نام ظاہر نہیں کیا گیا، بتایا ہے کہ گزشتہ دو ماہ میں صدر بش نے امریکی فوجیوں کو افغانستان کی سرحد پار کر کے پاکستان آنے کی اجازت دینے پر رضامندی ظاہر کی تھی۔ یاد رہے کہ اس ماہ آغاز میں امریکی فوج نے پاکستان کی سرحد کے اندر گھس کر کارروائی کی تھی جو کہ بظاہر صدر بش کی طرف سے خفیہ احکامات جاری ہونے کے بعد عمل میں آئی تھی۔ اس سے قبل جمعرات کو امریکی اخبار نیویارک ٹائمز نے بھی اپنی ایک رپورٹ میں لکھا تھا کہ امریکہ کے صدر جارج بش نے افغانستان میں سرگرم امریکی سپیشل فورسز کو گزشتہ جولائی میں پاکستان کی حدود کے اندر طالبان اور القاعدہ کے مبینہ ٹھاکانوں پر زمینی کارروائیاں کرنے کی اجازت دے دی تھی۔ نیویارک ٹائمز نے یہ خبر ایک سے زیادہ سینیئر امریکی عملداروں کے حوالے سے شائع کی تھی۔ درین اثناءافغانستان میں امریکہ کے چیئرمین جائنٹ چیف آف سٹاف ایڈمرل مائیک مولن نے کہا ہے کہ پاکستان میں طالبان اور القاعدہ کے محفوظ ٹھکانے ختم کرنے کے لیے نئی حکمت عملی اختیار کرنا ہو گی۔ نیویارک ٹائمز میں جمعرات کو شائع ہونے والے خبر میں ایک اعلیٰ امریکی اہلکار جس کا نام ظاہر نہیں کیا گیا کے حوالے سے کہا گیا ہے پاکستان کے قبائلی علاقوں میں صورت حال ناقابل برداشت ہے اور ہمیں زیادہ مو¿ثر ہونا پڑے گا۔ اس بارے میں حکامات جاری کیئے جا چکے ہیں۔‘ ستمبر گیارہ کے حملوں کی برسی کے موقع پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اب کوئی ایسی حکمت عملی اختیار کرنا ہو گی جو افغانستان کے ساتھ ساتھ پاکستان کے قبائلی علاقوں کا بھی احاطہ کرے۔ دریں اثنائ وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی نے کہا ہے کہ پاکستان کی سرزمین پر غیر ملکی فوجوں کو کسی کارروائی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ امریکی فوج نے پاکستان کے اندر ایک گاو¿ں میں کارروائی کی تھی جس میں کئی دیہاتی بھی ہلاک ہو گئے تھے ۔وزیراعظم نے چیف آف آرمی سٹاف جنرل اشفاق پرویز کیانی کے اس بیان کی مکمل تائید کی جس میں انہوں نے کہا ہے کہ افواج پاکستان ملک کی سرحدوں کا بھرپور دفاع کریں گی اور کسی غیر ملکی فوج کو پاکستان میں کارروائی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ پاکستان فوج کے چیف آف آرمی اسٹاف جنرل اشفاق پرویز کیانی نے اپنے بیان میں کہا تھا کہ افغانستان میں اتحادی فوجوں کی کارروائیوں کے بارے میں جو اصول وضع کیئے گئے تھے ان کے تحت امریکی فوج کو پاکستان کی سرحدی حدود کے اندر کارروائیاں کرنے کا اختیار حاصل نہیں تھا۔ جنرل اشفاق پرویز کیانی نے واضح کیا کہ پاکستان کی سرحدی خودمختاری کا ہر قیمت پر دفاع کیا جائے گا۔پاکستان فوج کے سربراہ نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ پاکستان کی حدود کے اندر شدت پسندوں کے خلاف کارروائیاں کرنے کا اختیار صرف پاکستان کی سکیورٹی فورسز کو حاصل ہے۔ انہوں نے اس تاثر کو مسترد کیا کہ اتحادی افواج کے ساتھ پاکستان کے اندر فوجی کارروائیاں کرنے کا معاہدہ یا اتفاق ہو گیا ہے۔صدر بش کی طرف سے پاکستان کی سرحد کے اندر طالبان اور القاعدہ کے مبینہ ٹھاکانوں پر زمینی کارروائی کی اجازت دینے کی خبروں کے حوالے سے امریکہ میں پاکستان کے سفیر حسین حقانی نے امریکہ کی نیشنل سکیورٹی کونسل اور وائٹ ہاو¿س کے اعلیٰ اہلکاروں سے ملاقات کی ہے۔واشنگٹن میں پاکستانی سفارتخانے کے ترجمان ندیم کیانی نے کہا ہے کہ بش انتظامیہ نے پاکستانی سفیر کو یقین دلایا ہے کہ دہشت گردوں کے ٹھکانوں پر حملہ کرنے کے لیے پاکستان کی سرزمین پر فوجیں اتارنے کے بارے میں کوئی احکامات جاری نہیں کیے گئے۔ ندیم کیانی نے نیو یارک ٹائمز کی خبر کو غلط بتاتے ہوئے کہا کہ بش انتظامیہ نے واضح طور پر کہا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں دونوں ملک ساتھ ہیں اور مل کر اس کا مقابلہ کریں گے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ پاکستانی سفیر کو اس بات کی بھی یقین دلایا ہے کہ تین ستمبر جیسے واقعات دوبارہ نہیں دہرائے جائیں گے۔ یاد رہے کہ تین ستمبر کو امریکی فوج نے پاکستان کی سرمزمین پر اتر کر مبینہ دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کی تھی۔دوسری طرف دفتر خارجہ کے سینیئر اہلکار رچرڈ باو¿چر نے نیو یارک ٹائمز کی خبر پر تبصرہ کرنے سے انکار کیا لیکن ساتھ ساتھ یہ بھی کہا کہ ’ہم پاکستان کے ساتھ پوری طرح مل کر کام کر رہے ہیں۔‘ تاہم پینٹاگون کے ایک سینیئر اہلکار نے کہا ہے کہ نیو یارک ٹائمز کی خبر تقریباً کافی حد تک درست ہے اور صدر بش نے حملے کی اجازت دی تھی۔ پاکستان میں اخبارات اٹھا کر دیکھیں تو روزانہ قبائلی علاقوں میں بڑی تعداد میں ہلاکتوں کا ذکر پڑھنے کو ملتا ہے۔ کہیں دس تو کہیں بیس ہلاک جبکہ زخمیوں کی تو کوئی گنتی ہی نہیں ہے۔ قبائلی علاقوں میں جنگ جاری ہے بلکہ پھیلتی جا رہی ہے۔ سات برس قبل امریکہ میں ٹوئِن ٹاورز پر گیارہ ستمبر کے حملوں کے بعد سے پاکستان کے قبائلی علاقے تو شدت پسندی سے متاثر تھے ہی حالیہ برسوں میں صوبہ سرحد کے بندوبستی علاقے بھی اس کے نرغے میں آچکے ہیں۔ دو تین اضلاع ہی ایسے ہوں گے جہاں سرگرمیاں نہیں دیکھی جا رہیں، باقی تمام صوبہ اس سے متاثر ہے۔ قبائلی علاقوں میں پہلی مرتبہ باجوڑ کے عوام نقل مکانی پر مجبور ہوئے۔ لاکھوں نے گھر بار چھوڑ کر محفوظ مقامات پر قائم کیمپوں کو اپنا عارضی مسکن بنایا۔ اٹھارہ فروری کے عام انتخابات کے نتیجے میں قائم ہونے والی نئی حکومت کو بھی اس بڑھتی ہوئی ’طالبانائزیشن’ کا احساس ہے۔ نئے صدر آصف علی زرداری اعتراف کرچکے ہیں کہ اس وقت شدت پسندوں کو برتری حاصل ہے۔ تاہم حلف اٹھانے کے فوراً بعد انہوں نے اپنے اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ شدت پسندوں کو ایک انچ زمین پر بھی قبضہ کرنے نہیں دیں گے۔ اراکین پارلیمان حکومت سے بار بار انہیں بند کمرے کے اجلاس میں ہی سہی بریفنگ کے ذریعے اعتماد میں لینے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ فوجی قیادت بھی اس اہم موضوع پر ایوان میں بحث کے حق میں ہے لیکن ابھی تک حکومت کی جانب سے ایسی کسی تیاری کے آثار نہیں ہیں۔ مقامی قبائلیوں کے بعد اس وقت کوئی مشکل میں ہے تو وہ ہیں صحافی۔ گیارہ ستمبر کے بعد سے قبائلی علاقوں تک رسائی غیرمقامی پاکستانی صحافیوں کے لیے ایک بہت بڑا چیلنج بنا ہے۔ ابتدائی دنوں میں تو ہر کوئی قبائلی علاقے پہنچ جاتا تھا۔ حکومت تو پہلے بھی صحافی کے جانے پر اس کے تحفظ کی ضمانت دینے سے قاصر تھی لیکن اب تو مقامی طالبان نے بھی ان کے داخلے پر پابندی عائد کر دی ہے۔ قبائلی علاقوں کی کوریج محض فریقین کے بیانات اور دعووں کی بنیاد پر ہو رہی ہے۔ نہ تو حکومت اور نہ ہی طالبان کی شاید خواہش ہے کہ اصل صورتحال سے عوام آگاہ ہوسکے۔ امید کی ایک کرن اس وقت دہشت گردی کے خلاف جنگ پر قومی اتفاق رائے پیدا کرنے کی کوششیں ہوسکتی ہیں۔ اراکین پارلیمان حکومت سے بار بار انہیں بند کمرے کے اجلاس میں ہی بریفنگ کے ذریعے اعتماد میں لینے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ فوجی قیادت بھی اس اہم موضوع پر ایوان میں بحث کے حق میں ہے لیکن ابھی تک حکومت کی جانب سے ایسی کسی تیاری کے آثار نہیں ہیں۔ دو ہزار ایک سے لے کر اب تک دہشت گردی کے خلاف جنگ کے خاتمے کے آثار پیدا نہیں ہوئے ہیں۔ حالات صرف خراب ہی ہوئے ہیں۔ ایسے میں نام نہاد دہشت گردی کی جنگ پرمستقبل قریب میں جلد قابو پانے کے امکانات کم ہی ہیں۔ اے پی ایس
No comments:
Post a Comment