International News Agency in english.urdu news feature,Interviews,editorial,audio,video & Photo Service from Rawalpindi/Islamabad,Pakistan.Managing editor M.Rafiq,Editor M.Ali. Chief editor Chaudhry Ahsan Premee email: apsislamabad@gmail.com,+92300 5261843 مینجنگ ایڈ یٹر محمد رفیق، ایڈیٹر محمد علی، چیف ایڈیٹرچو دھری احسن پر یمی

Friday, September 12, 2008

ڈی سی اوز کی کھلی کچہریاں۔ تحریر : محمد اکرم خان فریدی








وزیر اعلی پنجاب میاں شہباز شریف صاحب ! آپکی حالےہ کارکردگی سے محسوس تو ہو رہا ہے کہ آپ ملک و قوم کو موجودہ مسائل سے نکالنے کے لئے سر توڑ کوشش تو کر رہے ہےں لےکن بعض افسران کی ناقص کارکردگےاں آپکی کاوشوں پر پانی پھےر رہی ہےں۔آپ کی ہدایت پر ضلعی سپہ سالار کھلی کچہرےاں تولگا رہے ہےں لےکن اِن کھلی کچہرےوں کی کارکردگی کم اور مےڈےا کورےج زےادہ نظر آتی ہے۔شائد ےہی وجہ ہے کہ عوام کا کھلی کچہرےوں سے اعتماد اُٹھتا جا رہا ہے۔اسکی سب سے بڑی مثال ےہ ہے کہ مےں گزشتہ دنوں شےخوپورہ مےں تھا جہاں اعلان سنا کہ ڈی سی او شےخوپورہ اتوار کے روز ضلع کونسل ہال مےں کھلی کچہری لگائےں گے۔اتوار کا دِن تھا اور ڈی سی او صاحب عوامی مسائل سننے کے لئے ضلع کونسل ہال پہنچے جہاں لوگوں کی تعداد بہت کم تھی۔اِتنی کم تعداد دےکھ کر تو ےہی اندازہ لگاےا جا سکتا تھا کہ ےا تو شےخوپورہ مےں عوامی مسائل ختم ہو گئے ہےں اور ےا پھر لوگوں کا انتظامےہ پر سے اعتماد اُٹھ گےا ہے۔بہر حال مےرے اندر اےک جستجو پےدا ہوئی کہ مےں دےکھوں کہ کےا شےخوپورہ کے عوام کے مسائل ختم ہو گئے ہےں ےا پھر عوام کا کھلی کچہرےوں پر سے اعتماد اُٹھ گےا ہے۔مےں نے عام شہرےوں سے ملاقاتےں کےں اور اُن سے پوچھا کہ کےا ضلعی انتظامےہ آپکے مسائل حل کر رہی ہے تو مےرے سوالات کے جوابات مےں شہرےوں نے مجھے چند مسائل سے آگا ہ کےا کہ شےخوپورہ شہر کے اندر سرگودھا روڈ پر جگہ جگہ ٹرانسپورٹروں نے ناجائز اڈے قائم کر رکھے ہےں لےکن ضلعی انتظامےہ کی حےران کُن خاموشی کے پےچھے کےا راز ہے ےہ ہم شہری نہےں جانتے علاوہ ازےںجناح پارک چوک شےخوپورہ مےں سرِ عام نشہ فروخت ہو رہا ہوتا ہے،سڑکوں اور بازاروں مےں ناجائز تجاوزات کی بھر مار ہے ،ڈی اےچ کےو ہسپتال مےں مرےضوں کے ساتھ جانوروں جےسا سلوک کےا جاتا ہے،محکمہ لوکل گورنمنٹ اور پبلک ہےلتھ کروڑوں روپے کے فنڈز مےں خورد بُرد کرنے مےں ملوث ہےں،رےسٹورنٹس پر گندگی اور مکھےوں کی بھرمار سے شہری بےمار ہو رہے ہےں،اکثرو بےشتر روز مرہ کی اشےاءمہنگے داموں فروخت ہو رہی ہےں،قصاب مردہ جانور زبح کر کے فروخت کر رہے ہےں،دکانوں پر آٹے کی قلت دکھائی دےتی ہے،ضلع بھر مےں موجود بے شمار فےکٹرےاں آلودگی پھےلا رہی ہےں،ڈی سی او صاحب کے دفتر کے قرےب رجسٹری برانچ مےں دِن بھر شہرےوں کو لوٹا جاتا ہے،شہر بھر مےں غےر قانونی پےٹرول اےجنسےوں کی بھرمار ہے،جعلی زرعی ادوےات کی فروخت جاری ہے،عمارتو ں اور سڑکوں کی تعمےر مےں غےر معےاری مےٹےرےل استعمال ہو رہا ہے،بسوں اور وےگنوں مےں اوورلوڈنگ معمول بن گےا ہے ،رہزنی اور ڈکےتی کی وارداتوں مےں اضافہ ہو رہا ہے۔عوام کو روزمرہ زندگی مےں پےش آنے والی مزکورہ بالا مشکلات کے علاوہ اور بھی بہت سارے مسائل کے بارے مےں معلومات ملےں۔ےہ اُس شہر کے مسائل تھے جہاں ڈی سی او صاحب اکثرو بےشتر کھلی کچہرےاں لگانے مےں مصروف رہتے ہےں لےکن عوام کو رےلےف نہےں مل رہا۔دراصل ےہ ہمارے سسٹم کی خرابی ہے ۔اےک ضلع کا ڈی سی او ڈسٹرکٹ انفارمےشن آفےسر کو کال کرتا ہے ،کھلی کچہری لگا کر تصوےرےں بنواتا ہے،اور اگلے روز اخبارات مےں خبرےں آ جاتی ہےں کہ ڈی سی او نے فلاں قصبہ مےں کھلی کچہری لگائی اور عوام کے مسائل حل کئے۔اےسی کھلی کچہرےاں خبرےں لگوا کر وزےر اعلیٰ کو سب اچھا کی رپورٹ بھجوانے کے لئے تو بہت موثر ہےں لےکن عوامی مسائل کے حل کا اےسی کچہرےوں کے ساتھ کوئی تعلق نہےں ہوتا ۔کےونکہ اگر عوام کے مسائل حل ہوتے ہوں تو ڈی سی اوز کی کھلی کچہرےوں مےں اےک عوامی ہجوم ضرور نظر آئے۔کچھ دوستوں کے ساتھ شےخوپورہ کے بڑھتے ہوئے عوامی مسائل کا زکر ہو رہا تھا تو مےری بات کاٹتے ہوئے مےرے اےک دوست کہنے لگے کہ اگر شےخوپورہ مےں ڈی سی او صاحب DMGگروپ کے لگا دئےے جائےں تو بہت حد تک عوامی مسائل مےں کمی آجائے گی جبکہ مےرا موقف ےہ تھا کہ ڈی سی او چاہے DMGگروپ کا ہو ےا پھر پی آئی اے سے مائیگرےٹڈ ہو ،اسکے اختےارات تو مکمل ہوتے ہےں اس لئے شےخوپورہ کے ڈی سی او کو اپنے اختےارات استعمال کرتے ہوئے عوامی مسائل کو مےڈےا کورےج کی حد تک ہی نہےں بلکہ عملی طور پر انکا حل سوچنا چاہئے۔بہر حال مےں نے اپنے اِس کالم مےں ضلع شےخوپورہ کے جو مسائل تحرےر کئے ہےں اگر تو ضلعی انتظامےہ انکو حل کرنے مےں کامےاب ہوجائے تو مےں سمجھوں گا کہ مےاں شہباز شرےف صاحب کی کوششےں رنگ لے آئی ہےں اور اگر ےہ مسائل حل نہےں ہوتے تو مےاں شہباز شرےف صاحب کو چاہئے کہ وہ عوامی مسائل کے حل کے لئے اضلاع میں اےسے آفےسرز تعےنات کرےں جن مےں شہباز شر ےف کے جذبے کو آگے بڑھانے کا حوصلہ ہو۔اے پی ایس

No comments: