International News Agency in english.urdu news feature,Interviews,editorial,audio,video & Photo Service from Rawalpindi/Islamabad,Pakistan.Managing editor M.Rafiq,Editor M.Ali. Chief editor Chaudhry Ahsan Premee email: apsislamabad@gmail.com,+92300 5261843 مینجنگ ایڈ یٹر محمد رفیق، ایڈیٹر محمد علی، چیف ایڈیٹرچو دھری احسن پر یمی

Wednesday, September 10, 2008

ایوان صدر ”جئے بھٹو،زندہ ہے بی بی زندہ ہے “ تحریر : چودھری احسن پریمی اے پی ایس


پیپلزپارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری نے صدارت کاحلف اٹھا لیا۔ حلف برداری کی پروقار تقریب ایوان صدر میں منعقد ہوئی۔ ایوان صدر ”جئے بھٹو،زندہ ہے بی بی زندہ ہے “کے نعروں سے گونج اٹھا۔بعد ازاں صد ر آصف زرداری نے افغان ہم منصب حامد کرزئی کے ہمراہ مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ قوم مسئلہ کشمیر پر جلد خوشخبری سنے گی متاثرین دہشتگردی کے لئے عالمی فنڈ قائم کرائیں گے شر پسند ملک کے ایک انچ حصے پر بھی قبضہ نہیں کر سکتے،انہوں نے واضح کیا کہ پیپلز پارٹی کی حکومت کی پالیسیاں میڈیا کیخلاف نہیں،جبکہ مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے افغان صدر حامد کرزئی نے کہا کہ دہشت گردی کیخلا ف جنگ میں سویلین ہلاکتیں قبول نہیں ،تفصیلات کے مطابق نو منتخب صدر آصف علی زرداری سے چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس عبدالحمید ڈوگر نے حلف لیا۔ تقریب میں وزیراعظم یوسف رضا گیلانی، وفاقی کابینہ کے ارکان، چیئرمین سینیٹ، اسپیکر قومی اسمبلی، تینوں مسلح افواج کے سربراہان، چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی ،چاروں صوبوں کے گورنرز، وزرائے اعلیٰ، سیاسی جماعتوں کے رہنما، اراکین پارلیمنٹ، آصف زرداری کے والد حاکم علی زرداری، مخدوم امین فہیم، اسفندیار ولی، مولانا فضل الرحمن، مولانا سمیع الحق، منیر اورکزئی،ڈاکٹر فاروق ستار، آفتاب شیر پاو اور غیرملکی سفارت کاروں نے بھی شرکت کی۔ تقریب میں افغانستان کے صدر حامد کرزئی نے بھی خصوصی طور پرشرکت کی۔ جنہیں آصف زرداری نے شرکت کی دعوت خود دی تھی۔ مسلم لیگ ن کے صدر اور وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف اور مرکزی رہنما بھی تقریب میں شریک تھے۔ مسلم لیگ (ق) کا کوئی نمائندہ شریک نہیں ہوا۔ البتہ فارورڈ بلاک کے بعض ارکان موجود تھے۔ پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری ان کی بہنیں آصفہ بھٹو زرداری، بختاور بھٹو زرداری، بینظیر بھٹو شہید کی بہن صنم بھٹو اور زندگی کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والی سیکڑوں اہم شخصیات تقریب میں موجود تھیں۔ ایک بج کر 26 منٹ پر حلف برداری کیلئے بگل بجنے کے بعد آصف علی زرداری وزیراعظم گیلانی اور محمد میاں سومرو کے ہمراہ دربار ہال میں داخل ہوئے۔آصف علی زرداری نے آتے ہی حاضرین کو ہاتھ کے اشارے سے سلام کیا اور ہاتھ ہلا کر ان کا خیر مقدم کیا۔بعد ازاں قومی ترانہ بجایا گیا۔ جس کے احترام میں تمام حاضرین کھڑے ہوگئے اور اس کے بعد چیف جسٹس عبدالحمید ڈوگر نے آصف علی زرداری سے 1973ء کے آئین کے مطابق حلف لیا اور حلف نامے پر دونوں نے دستخط کئے۔ بعد ازاں وزیراعظم یوسف رضا گیلانی‘محمد میاں سومرو اور دیگر رہنماو¿ں نے فرداً فرداً آصف علی زرداری کو حلف اٹھانے پر مبارکباد دی۔ آصف علی زرداری کے ریاستی سربراہ کی حیثیت سے حلف لینے کے بعد انہیں تینوں مسلح افواج کی جانب سے ایوان صدر میں گارڈ آف آنر پیش کیا گیا جبکہ اس موقع پر پاک فوج کے سربراہ جنرل اشفاق پرویز کیانی، چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی جنرل طارق مجید ، ایئر چیف مارشل تنویر محمود احمد اورنیول چیف ایڈمرل افضل طاہر سمیت اہم شخصیات موجود تھیں اوراس موقع پر تینوں سروسز کے دستوں نے نو منتخب صدر کو سلامی دی ۔افغان صدر حامد کرزئی کے ساتھ منگل کو ایوان صدر میں اپنی پہلی نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے آصف علی زرداری نے کہا کہ سابق صدر کو معاف کرنے کا فیصلہ پارلیمنٹ کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ میں ذاتی طور پر کسی کے خلاف نہیں ہوں۔ پیپلز پارٹی انتقامی کارروائیوں پر یقین نہیں رکھتی۔ انہوں نے کہا کہ میں نے عہدہ صدارت بے نظیر بھٹو کے نام پر قبول کیا ہے۔ پیپلز پارٹی اور میں خود دہشت گردی کا شکار ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کشمیر کے بارے میں ہمارے رابطے جاری ہیں۔ مسئلہ کشمیر پر جلد خوشخبری ملے گی۔ انہوں نے کہا کہ مجھے کشمیر پر بیک ڈور رابطوں کا علم ہے‘ کشمیر پر جلد پارلیمانی کمیٹی تشکیل دے دی جائے گی اور اس ضمن میں پارلیمنٹ کو اعتماد میں لیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ متاثرین دہشت گردی کے لئے بین الاقوامی فنڈ قائم کراو¿ں گا۔ صدر آصف علی زرداری نے کہا کہ پیپلز پارٹی انتقام کی سیاست پر یقین نہیں رکھتی ہم معاف کر دیتے ہیں اور آگے بڑھتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی کی حکومت کی پالیسی میڈیا کے خلاف نہیں ہے۔ ہم میڈیا کے خلاف اقدامات کا ارادہ نہیں رکھتے۔ حکومت صحافیوں کی بہبود کے لئے اقدامات کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ شرپسند ملک کے ایک انچ حصے پر بھی قبضہ نہیں کرسکتے ہیں۔ پاکستان ہمسایہ ملکوں کا بہتر مستقبل دیکھنے کا خواہش مند ہے۔ صدر آصف زرداری نے کہا کہ پاکستان کا صدر بنانے پر عوام کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔ میں نے صدارت کا عہدہ بے نظیربھٹو کے نام پر قبول کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم مسائل کے حل کے لئے اپنے ہمسایوں کی مدد کریں گے۔ ہم جانتے ہیں کہ ہمیں مسائل کا سامنا ہے۔ پاکستانی قوم مسائل کا ڈٹ کر مقابلہ کرنے کی اہلیت رکھتی ہے۔ آج ہم فخر سے کہہ سکتے ہیں کہ ہم جمہوری لوگ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں عوام کے مسائل کا بخوبی علم ہے۔ حکومت کو مہنگائی ختم کرنے کے لئے ضروریات اور سپلائی‘ طلب و رسد میں فرق کو ختم کرنا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ قبائلی علاقوں میں دہشت گردی ختم کرنے کے لئے اقدامات کئے جارہے ہیں اور بات چیت بھی ہورہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ میں اپنا پہلا سرکاری دورہ چین کا کرنا چاہوں گا اور چینی قیادت اور عوام کو پاکستانی عوام کی نیک خواہشات پیش کروں گا۔ اس موقع پر افغان صدر حامد کرزئی نے آصف زرداری کو صدر پاکستان کا منصب سنبھالنے پر مبارک باد دی اور حلف برداری تقریب میں شرکت کی دعوت دینے پر شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اور افغانستان جڑواں ممالک ہیں ایک دوسرے کے لئے لازم و ملزوم ہیں اسی لئے دونوں ممالک ایک جیسے مسائل اور ایک جیسے دشمنوں کا سامنا کر رہے ہیں۔ انہوں نے یقین دلایا کہ ہم خطے اور دونوں ملکوں کے درمیان قیام امن کی کوششوں کو مل کر آگے بڑھائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ آصف زرداری سے دہشت گردی کے خلاف جنگ سمیت تمام ایشوز پر بات چیت ہوئی ہے میں نے محسوس کیا ہے کہ آصف زرداری ذمہ دار اور وڑن والی شخصیت ہیں۔ ان سے ملاقات کے بعد مجھے نئی امید نظر آئی ہے۔ صدر زرداری نے کہا کہ امن و استحکام کیلئے پاکستان اور افغانستان کو مل کر کام کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ عوام کی مدد سے ہی جیتی جاسکتی ہے۔ حکومت دہشت گردی ختم کرنے کیلئے جامع منصوبے پر عمل کررہی ہے۔ ہم دہشت گردی کے نتیجے میں پیدا ہونے والے مسائل سے آگاہ ہیں۔ صدر پاکستان خود دہشت گردی کا شکار ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم تو صرف اپنا دفاع کر رہے ہیں کسی کو نہیں مار رہے۔ پیپلز پارٹی کے ورکرز اور بی بی محترمہ نے کسی کو نہیں مارا بلکہ انہیں شہید کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ میں اقوام متحدہ اور عالمی برادری سے کہوں گا کہ متاثرین دہشت گردی کیلئے عالمی فنڈ قائم کریں۔ انہوں نے کہا کہ امریکی حملوں پر ہم نے امریکا سے شدید احتجاج کیا ہے۔ امریکی حملوں میں بے گناہ لوگ مر رہے ہیں۔ آصف زرداری نے کہا کہ میں ذاتی طور پر کسی کے خلاف نہیں ہوں۔ سابق صدر کو معاف کرنے کا فیصلہ پارلیمینٹ کرے گی۔ جہاں تک 58(2)B کا تعلق ہے میں پہلے ہی کہہ چکا ہوں کہ صدر پارلیمینٹ کا خادم ہوگا۔ صدارتی اختیارات پر پارلیمینٹ کا ہر فیصلہ قبول کروں گا۔ صدر زرداری نے کہا کہ نواز شریف کشمیر سمیت تمام قومی امور پر ساتھ دیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ایوان صدر کے بجٹ میں کمی کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ ملک کو توانائی کی کمی کے سنگین مسئلے کا سامنا ہے۔ ہم نہ صرف ایران سے گیس پائپ لائن منصوبے کی تکمیل چاہتے ہیں بلکہ اپنی توانائی کی ضروریات کو پورا کرنے کیلئے دنیا سے سستی گیس اور پٹرولیم مصنوعات حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ صدر زرداری نے کہا کہ بے نظیر بھٹو قتل کیس کی اقوام متحدہ سے تحقیقات کرانے کے معاملے پر پارلیمینٹ قرارداد منظور کر چکی ہے۔ میں اقوام متحدہ میں اس معاملے پر بات چیت کروں گا اور انہیں کہوں گا کہ میں دہشت گردی کا شکار ہوا ہوں۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ افغانستان میں امریکی فورسز اقوام متحدہ کے چارٹر کے تحت آئی ہیں۔ ہم نے دہشت گردوں سے کہا ہے کہ وہ ہتھیار پھینک دیں تا کہ امن قائم ہوسکے۔ ہم ان سے بات چیت بھی کر رہے ہیں۔ پاکستان اور افغانستان نے دہشت گردی کے خلاف جنگ اور دیگر شعبوں میں تعاون کو مزید مستحکم کر نے کے عزم کا اظہار کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں سویلین ہلاکتیں ناقابل قبول ہیں‘ دہشت گردی کے خلاف جنگ عوام کو ساتھ ملائے بغیر نہیں جیتی جاسکتی اور افغان صدر حامد کرزئی نے کہا ہے کہ افغانستان ہر قدم پر خطے میں امن اور استحکام کیلئے پاکستان کے ساتھ ہے‘ ہم دونوں ملکوں میں دہشت گردوں کی پناہ گاہوں کی بات کرتے ہیں اور ہمارا موقف ہے کہ ان کو نشانہ بنایا جائے۔ ایک سوال پر حامد کرزئی نے کہاکہ دونوں ملکوں کے درمیان امور کی اہمیت پر بات چیت ہوئی ہے دہشت گردی کے خلاف جنگ پر بات ہوئی ان کا جذبہ اور ویڑن موجود ہے یہ ویڑن پورے خطہ کیلئے ہے مجھے ان سے بڑی امیدیں ہیں وزیراعظم سے بھی بات ہوئی حکومت پاکستان خطہ میں امن کیلئے پر عزم ہیں اور استحکام چاہتے ہیں کیونکہ پاکستان میں بھی استحکام اس طرح آسکتا ہے کہ ہم دہشت گردی کو شکست دیں ایک اورسوال پر حامد کرزئی نے کہاکہ کئی مرتبہ کہا ہے کہ شہریوں کی بجائے دہشت گردوں کی پناہ گاہوں پر کارروائی ہونی چاہئے،چاہے وہ افغانستان میں ہوں یا پاکستان میں‘ دونوں ممالک ان کا شکار ہیں۔ پاکستان کے 12 ویں صدر کے عہدے کا حلف اٹھانے والے پیپلزپارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری ملک کے دوسرے بلوچ صدر ہیں اور وہ 7 زبانوں پر عبور رکھتے ہیں۔ آصف علی زرداری دو بار قومی اسمبلی کے رکن، وفاقی وزیر اور ایک بار سینیٹ کے رکن رہ چکے ہیں۔ پاکستان میں پہلی موبائل فون سروس متعارف کرانے، غیر ملکی نشریاتی اداروں کو براڈ کاسٹنگ کے حقوق دینے، غیر ملکی کمپنیوں کو پاکستان میں بجلی پیدا کرنے کے شعبہ میں سرمایہ کاری پر راغب کرنے اور پاکستان میں براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری میں اضافہ میں نمایاں کردار ادا کیا۔ وہ ایران، پاکستان، بھارت گیس پائپ لائن منصوبہ سازوں میں بھی شامل ہیں۔ ان سے قبل فاروق لغاری بلوچ صدر تھے۔ آصف علی زرداری بلوچی، سندھی، پنجابی، سرائیکی، اردو اور انگریزی سمیت 7 زبانوں پر عبور رکھتے ہیں۔وہ 26 جولائی 1955ء کو سندھ کے معروف بلوچ خاندان کے بزرگ سیاستدان حاکم علی زرداری کے گھر پیدا ہوئے، وہ سندھ میں مسلمانوں کے پہلے تعلیمی ادارہ کے بانی خان بہادر حسن علی آفندی کے نواسے ہیں۔سندھ مدرسہ سے گریجویشن حاصل کرنے والے معروف طلباء میں شامل آصف علی زرداری نے اپنی ابتدائی تعلیم کراچی گرامراسکول، ثانوی تعلیم کیڈٹ کالج پٹارو اور بزنس کی تعلیم لندن سے حاصل کی۔ ان کی شادی 1987ء میں محترمہ بے نظیر بھٹو سے ہوئی، ان کے ہاں تین بچے بلاول، بختاور اور آصفہ پیدا ہوئے۔ آصف علی زرداری 1990-93ءاور 1993-96ءمیں قومی اسمبلی کے دو مرتبہ رکن منتخب ہوئے ، 1993-96ء میں وفاقی وزیر ماحولیات بنے، وہ وفاقی وزیر برائے سرمایہ کاری بھی رہے۔ آصف زرداری 1997ءمیں سینیٹر منتخب ہوئے اور 1999ء میں پرویز مشرف کے اقتدار سنبھالنے پر سینیٹ کے تحلیل ہونے تک ایوان بالا کے رکن کی حیثیت سے خدمات انجام دیں۔ وہ محترمہ بے نظیر بھٹو کی شہادت کے بعد جنوری 2008ء میں پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین منتخب ہوئے۔ آصف زرداری کا سیاسی کیریئر شہید بے نظیر بھٹو کے ساتھ کام کرنے کے دو عشروں تک پھیلا ہوا ہے۔ اس عرصہ میں انہوں نے ان پالیسیوں کی تشکیل میں مدد دی جن سے ذرائع ابلاغ کو آزادی حاصل ہوئی۔ شہید بے نظیر بھٹو کے دوسرے دور حکومت میں انڈیپینڈنٹ پاور پروڈیوسرز (آئی پی پیز) کی اجازت دی گئی۔ انہوں نے نجی شعبہ میں ایف ایم ریڈیو متعارف کرانے کی بھی حوصلہ افزائی کی۔ انہوں نے ساڑھے گیارہ سال جیل میں گزارے اورجیل میں رہتے ہوئے رکن قومی اسمبلی اور سینیٹر منتخب ہوئے۔ پیپلز پارٹی چھوڑنے یا بیرون ملک جانے کی اس وقت کی حکومت کی متعدد پیشکشوں کے باوجود انہوں نے پارٹی سے وابستگی اور انصاف اور جمہوری منتخب قیادت کی بحالی کیلئے جدوجہد جاری رکھی۔ بے نظیر بھٹو کی شہادت کے بعد پاکستان پیپلز پارٹی کی سنٹرل ایگزیکٹو کمیٹی نے انہیں پارٹی کے چیئرمین کے عہدہ پر کام کرنے کی پیشکش کی۔ اگرچہ وہ بلامقابلہ منتخب ہوئے تھے انہوں نے اس عہدہ کیلئے بلاول بھٹو زرداری کو نامزد کیا اور پارٹی کا شریک چیئرمین بننا قبول کیا۔ انہوں نے بے نظیر بھٹو کی مفاہمتی پالیسیوں کو اختیار کرتے ہوئے وفاقی سطح پر قومی اتفاق رائے پیدا کرنے کیلئے صف اول کا کردار ادا کیا۔ آصف علی زرداری کی زیر قیادت پارٹی نے یوسف رضا گیلانی کو وزیراعظم کے عہدہ کیلئے نامزد کیا جو بلامقابلہ پاکستان کے وزیراعظم منتخب ہوئے۔ پاکستان کی سیاسی تاریخ میں پہلی مرتبہ کوئی وزیراعظم اتفاق رائے سے منتخب ہوا۔ آصف زرداری نے ڈاکٹر فہمیدہ مرزا کو پاکستان کی پہلی خاتون اسپیکر بھی نامزد کیا اور تمام سرکاری پالیسی سازوں میں خواتین اور اقلیتوں کی حمایت اور انہیں بااختیار بنانے کی کوششیں جاری رکھیں۔ آصف علی زرداری کی قیادت کے تحت پاکستان پیپلز پارٹی نے اتحادی جماعتوں کے ساتھ تفصیلی مذاکرات اور سیاسی سفارتکاری کے ذریعے پرویز مشرف سے قوم کو نجات دلائی۔ آصف زرداری نے پاکستان کی بڑی سیاسی جماعتوں کو متحد کیا۔ آصف علی زرداری نے عہدہ صدارت سنبھالنے کے فوراً بعد وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی اور قریبی رفقائے کار سے کابینہ میں ردوبدل اور نئے ارکان پارلیمینٹ کی شمولیت کے سلسلے میں صلاح و مشورہ شروع کردیا ہے۔ صدرمملکت اور پیپلزپارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری نے وزیراعظم کو ہدایت کی ہے کہ مسلم لیگ (ن) کے وزراءکا مزید چار پانچ دن انتظار کیا جائے اس کے بعد ان کے استعفے منظور کرکے محکمے نئے وزراء کو دے دیئے جائیں۔ توقع ہے کہ نئی کابینہ ستمبر کے تیسرے ہفتہ میں حلف اٹھائے گی۔ نئی کابینہ ایک سینئر وزیر‘ 24 وزارء اور 14 وزرائے مملکت پر مشتمل ہوسکتی ہے۔ جن اراکین قومی اسمبلی اور سینیٹ کے نام زیر غور ہیں ان میں سینیٹر وقار احمد‘ سینیٹر ڈاکٹر بابر اعوان‘ میر ہزار خان بجارانی‘ نبیل گبول‘ فریال تالپور‘ فرزانہ راجہ‘ ڈاکٹر نفیسہ شاہ‘ مہرین انور راجہ‘ ثمینہ خالد گھرکی‘ کشمالہ طارق‘ ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان‘ ایم کیو ایم کی خوش بخت شجاعت‘ سید حیدرعباس رضوی‘ جمعیت العلمائے اسلام کے مولانا مفتی اجمل خان‘ آفتاب احمد شیرپاو¿‘ ڈاکٹر ارباب عالمگیر‘ عبدالقیوم جتوئی‘ دیوان عاشق حسین بخاری‘ میر دوست محمد مزاری‘ ساجد حسین‘ عظیم دولتانہ‘ سید عنایت علی شاہ‘ روشن دین جونیجو‘ سید ناصر علی شاہ‘ صمصان علی بخاری‘ یعقوب بزنجو‘ غلام دستگیر راجڑ‘ سردار سلیم حیدر خان‘ نوابزادہ ملک احمد خان‘ مسعود عباس‘ حنا ربانی کھر شامل ہیں۔ ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ اگر مخدوم امین فہیم نے قبول کیا تو انہیں سینئر وزیر بنایا جاسکتا ہے۔ ذرائع نے بتایا کہ موجودہ کابینہ میں اکثر وزراءکے محکمے تبدیل کردیئے جائیں گے۔ ذرائع نے بتایا کہ وزیراعظم کے دو مشیروں علامہ حامد سعید کاظمی اور منظور وٹو کو بھی وفاقی وزیر بنادیا جائے گا جبکہ دو مشیر اور دو معاون خصوصی بھی شامل کئے جائیں گے۔ ذرائع نے بتایا کہ پیپلزپارٹی سے تعلق رکھنے والے سرکردہ وکلاء کو ڈپٹی اٹارنی جنرل‘ ایڈووکیٹ جنرل‘ ڈپٹی ایڈووکیٹ جنرل اسٹینڈنگ کونسل بنایا جائیگا۔ کئی وکلاءکو ہائیکورٹس کا جج بھی بنائے جانے کا امکان ہے۔ ذرائع نے بتایا کہ بہت سے موجودہ وفاقی سیکریٹری تبدیل کردیئے جائیں گے‘ ایڈیشنل سیکریٹریز وفاقی سیکریٹریز بنادیئے جائیں گے جبکہ کارپوریشنوں کے چیئرمین اور ڈی جی بھی تبدیل ہوں گے۔ ذرائع نے بتایا کہ دو تین صوبوں کے چیف سیکریٹریز اور انسپکٹر جنرل پولیس بھی تبدیل ہوں گے۔ صدر آصف علی زرداری نے کہا ہے کہ ایوان صدر میں عاجزی لایا ہوں۔ صدر پارلیمنٹ کا خادم ہو گا۔ صدارتی اختیارات پر پارلیمنٹ کا ہر فیصلہ قبول کروں گا۔ نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ نواز شریف کشمیر سمیت تمام قومی امور پر ساتھ دیں گے۔ میں حکومت سے کہتا ہوں حکومت گندم کی نئی قیمت کو یقنی بنائے۔ پیپلز پارٹی انتقامی سیاست پر یقین رکھتی ہے۔ میں نے عہدہ صدارت بینظیر بھٹو شہید کے نام پر قبول کیا ہے۔ آصف زرداری 17 ستمبر کو چین اور 23ستمبر کو نیویارک میں اقوام متحدہ کے اجلاس سے خطاب کریں گے۔صدر زرداری دورہ امریکا کے سلسلے میں 22ستمبر کو نیویارک پہنچیں گے جہاں ان کی اعلیٰ امریکی حکام سے ملاقاتیں بھی متوقع ہیں۔ اقوام متحدہ کے 23ستمبر کو ہونے والے اجلاس میں صدر آصف علی زرداری اپنے وفد کے ساتھ پاکستان کی نمائندگی کریں گے۔ اے پی ایس اسلام آباد





No comments: