
اسلام آباد ( اے پی ایس ) 17ستمبر۔وفاقی وزیر اطلاعات شیری رحمن نے اس بات کا انکشاف کیاہے کہ بلوچستان کے ضلع نصیر آباد میں غیرت کے نام پر قتل ہونے والی پانچ خواتین میںسے دو کو زندہ درگور کیاگیا تھا۔ بدھ کے روز اس معاملے پر ہونے والے ایک اہم اجلاس کے بعد صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ابتدائی تحقیق کے مطابق دونوں خواتین کے کپڑوں میں گولیاں لگنے کے نشان ہیں اور یہ بھی سچ ہے کہ ان پر ٹریکٹر چلایاگیا تھا۔وفاقی وزیر کے مطابق اجلاس میں فیصلہ ہوا کہ حکومت اس واقعے میں ملوث ملزمان کو گرفتار کرکے سزا دے گی۔ انہوں نے کہاکہ ضلع کے ایس پی اور ایس ایچ او پہلے ہی معطل کیے جاچکے ہیں جبکہ کچھ لوگوں کو گرفتار بھی کیا گیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ نصیر آباد میں زندہ درگور کی گئی خواتین کے اہل خانہ اب اس کیس میں استغاثہ بننے کو تیار ہوگئے ہیں جنہیں مکمل تحفظ فراہم کیا جارہا ہے۔شیری رحمن نے اس بات کا اعتراف کیا کہ خواتین کو خاندانی ناموس کے نام پر قتل سے بچانے کے لیے موجودہ قوانین میں سقم ہیں جنہیں دور کرنے کے لیے نئی قانون سازی کی جائے گی۔ انہوں نے بتایا کہ نئے قانون کے تحت تشدد کا شکار ہونے والی خواتین کے واقعات میں ریاست خود استغاثہ بن سکے گی تاکہ خواتین کو انصاف میسر آسکے ۔واضح رہے کہ پانچ خواتین کو بلوچستان کے ایک صحرائی علاقے میں غیرت کے نام قتل کرنے کی خبریں دو ماہ پہلے سامنے آئی تھیں ۔اطلاعات کے مطاق قتل کی گئیں تین نوعمر لڑکیاں اپنی پسند کی شادیاں کرنا چاہتی تھیں۔وفاقی وزیر اطلاعات شیری رحمن نے اگرچہ اس واقعے میں ملوث عناصر کو انصاف کے کٹہرے میں لانے کا عزم ظاہر کیا ہے تاہم انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیمیں یہ الزام عائد کررہی ہیں کیونکہ ملزمان سیاسی طور پر ایک بااثر قبیلے سے تعلق رکھتے ہیں لہذا انہیں اس مقدمے میں غیر جانبدارانہ تحقیقات کے حوالے سے تحفظات ہیں۔د±نیا بھر کے ممالک خواتین کی اسمگلنگ ، انھیں قحبہ خانوں میں فروخت اور جبری جسم فروشی کے مکرو دھندے میں ملوث ہیں ۔برطانیہ کے اخبار آبزرور نے خبر دی ہے کہ برطانیہ میں اسمگل شدہ خواتین کی نیلامی کی جاتی ہے۔ رپوورٹس کے مطابق بیرون ملک سے خواتین کی اسمگلنگ کے خلاف وسیع پیمانے پر کئے جانے والے آپریشن میں یہ روح فر سا انکشاف ہوا ہے کہ ان میں سے بعض کو نیلامی کے ذریعے فروخت کیا گیا ہے۔ خریدنے والوں نے کچھ ہی دنوں بعد انہیں قحبہ خانوں میں جبری جسم فروشی پر مجبور کر دیا۔ ایمرج شائر میں پولیس نے 73 مشتبہ جسم فروشی کے اڈوں پر چھاپے مارے اور سات خواتین کو بر آمد کرلیا۔ ان میں کچھ تو بہت زیادہ زخمی بھی تھیں۔ عورتوں کے تازک جسم پر زخموں کے یہ تحفے قحبہ خانوں سے فراریت کی ناکامی کا تحفہ تھا۔آج کے مہذ ب معاشرے میں خواتین کے ساتھ روا رکھے جانے والا گھناو¿نا سلوک ہیبت ناک، شرمناک اور دلوں کو ہلا دینے والا ہے۔ اسمگل شدہ خواتین کا جبری استحصال اور جسم فروشی کا دھندا گاو¿ں سے بڑے شہروںتک پھیلا ہوا ہے۔ انہیں کمرے سے باہر جھانکنے کی آزادی بھی نہیں ہوتی ۔ ستم یہ کہ انہیں ایک ہی دن میں تقریباً 50 سے ساٹھ افراد کی حوس پوری کرنی پڑتی ہے جس سے اسمگلنگ میں ملوث افرادکو ہزاروں پاو¿نڈ کی آمدنی ہوتی ہے۔برطانیہ کے وزیر داخلہ نے پولیس فورسز اور پریس و آرگنائزڈ کرائم برائنچ (سوکا) کو ہدایت کی ہے کہ وہ اس جرم کو اپنی ترجیحات میں سب سے اوپر لائیں کہ ہزاروں بچوں اور عورتوں کو “جدید غلامی” میں فروخت کیا جا رہا ہے۔یہ خواتین مشرقی یورپ سے اسمگل کی جاتی ہیں۔ مشرقی یورپ کے جرائم پیشہ افراد انہیں مغربی یورپ میں لے آتے ہیں بالخصوص برطانیہ میں جہاں یہ جرم اس بڑے پیمانے پر ہے کہ پولیس اور “سوکا” اپنے ایک چوتھائی وسائل اسٹریٹ کرائم اور خواتین کی اسمگلنگ سے نمٹنے پر خرچ کر رہے ہیں۔حکومت نے جنسی تجارت کے لئے انسانی اسمگلنگ کے خلاف ایک مہم کا آغاز کیا ہوا ہے جس کا نام “پینٹا میٹر “2 ہے۔ ڈنام سے شروع کئے جانے والے اس آپریشن کا مقصد خواتین اور بچوں کو جنسی تجارت کے لئے مجبور کرنے والے گروہوں کے سرغنوں کو نشانہ بنانے کے علاوہ اس گھناو¿نے کاروبار کا شکار ہونے والوں کی مدد اور اس مسئلے کے حوالے سے عوامی آگاہی بڑھانا ہے۔گزشتہ برس بھی اسی طرز کا چار ماہ پر محیط آپریشن شروع کیا گیا تھا جس میں 135 افراد پر انسانی اسمگلنگ سمیت دیگر الزامات میں فرد جرم عائد کی گئی تھی جبکہ 500 قحبہ خانوں، مساج پارلرز، گھروں اور دیگر جگہوں سے 90کے قریب عورتوں اور لڑکیوں کو بازیاب کرایا گیا تھا۔ ان میں سے نصف کے لگ بھگ خواتین مشرقی یورپ ، مشرقی بعید اور جنوبی امریکا سے آئی تھیں۔نیلام ہونے والی خواتین کے ساتھ ایک نگراں ہوتا ہے۔ مختلف گروہوں کے لوگ جانوروں کی طرح عورتوں کا جائزہ لیتے ہیں۔ پھر “بولی”شروع ہوتی ہے ۔ بعض اوقات بولی کی رقم بے حد معمولی یعنی ایک ہزار یورو ہوتی ہے۔ (یاد رہے کہ ہالینڈ میں کم سے کم الاو¿نس ایک ہزار یورو کے لگ بھگ ہے) مغربی یورپ اور برطانیہ لائی جانے والی زیادہ تر خواتین مشرقی یورپ ، افریقہ اور مشرق بعید سے تعلق رکھتی ہیں جنہیں سوشلزم کی چھتر چھایہ سے نکالنے کے بعد بہتر زندگی اور روزگار کا جھانسا دیا جاتا ہے لیکن مغربی یورپ پہنچنے کے بعد ان سے پاسپورٹ اور دوسری تمام دستاویرات لے لی جاتی ہیں اور پھر اکثر ان کو نہایت غلیظ مکانوں میں رکھا جاتا ہے۔ بعد میں ان کوگھروں میں منتقل کر دیا جاتا ہے۔ ایک اندازے کے مطابق مشرقی یورپ افریقہ اور مشرق بعید سے حالیہ اسمگل شدہ دس ہزار عورتوں کو برطانیہ میں فی کس ڈھائی ہزار پونڈکے عوض منظم گروہوں کو فروخت کیا گیا ہے اور اس وقت وہ جنسی غلامی میں بندھی ہوئی ہیں۔ایک رپورٹ کے مطابق پولینڈ اور رومانیہ سے تارکین وطن کے ایک سیل کی وجہ سے یورپ اور بالخصوص برطانیہ میں جرائم میں خوفناک اضافہ ہو گیا ہے۔ اس بات سے برطانیہ کے ہوم آفس اور پولیس کے یہ خدشات درست ثابت ہو رہے ہیں کہ جرائم پیشہ افراد پولینڈ اور رومانیہ سے لندن منتقل ہو رہے ہیں۔پولیس کو تشویش ہے کہ جرائم پیشہ افراد دس سال سے کم عمر بچوں کو استعمال کر رہے ہیں جن کے خلاف مقدمہ قائم نہیں کیا جا سکتا۔ جرائم کی یہ کمائی واپس رومانیہ بھیجی جا رہی ہے۔ ادھر رومانیہ کی پولیس نے اعتراف کیا ہے کہ رومانیہ کے جرائم پیشہ لوگ برطانیہ بھاگ گئے ہیں ۔ یہ لوگ جرائم سے جو کمائی کرتے ہیں وہ رقم رومانیہ کے بینکوں میں جاتی ہے۔ ان سے لگڑری کاریں اور بنگلے خریدے جاتے ہیں۔ رومانیہ کی پولیس انہیں ضبط کرنا چاہتی ہے لیکن شواہد کی عدم موجودگی میں ایسا نہیں کر سکتی۔جنسی تجارت کا یہ مسئلہ مغرب کا اپنا پیدا کیا ہوا ہے۔ مشرقی یورپ میں سو شلزم کے ہوتے ہوئے وہاں ایک بھی ایسا جرم پیدا نہیں ہوا تھا مگر اب سرمایہ دارانہ نظام کی خوبیوں میں سے ایک خوبی جنسی تجارت بن گئی ہے۔ سو اب مغرب کو تلخ سچائیوں کا سامنا کرنے، انہیں پہچان کر قبول کرنے اور پھر اسے نقصان دہ ہونے کا اعلان کرنے کا حوصلہ ہونا چاہئے۔گذشتہ ہفتے بلوچستان میں 5 خواتین کو زندہ درگور کیے جانے کے خلاف پیر کو خواتین کی مختلف تنظیموں کے پارلیمنٹ ہاو¿س کے سامنے شدید احتجاجی مظاہرہ کیا تھایہ خواتین سینٹ اجلاس کے لئے آنے والے سینیٹروں کی گاڑیوں کو روکتی رہیں اور ان سے اس واقعہ کی ایف آئی آر کے اندراج اور ایوان بالا میں مذمتی قرارداد منظور کر نے کے مطالبے کیے مظاہرین ،سینیٹر اسرار اللہ زہدی اور قائم مقام چیئر مین سینٹ جان محمد جمالی کے خلاف نعرے لگا رہی تھیں اسرار اللہ زہدی کے استعفیٰ سمیت یہ خواتین قبائلی سرداروں کی حکومت نہیں چلے گی نہیں چلے گی خواتین کو زندہ دفن کر نے والوں پر لعنت بے شمار کے نعرے لگا رہی تھیں وفاقی وزیر سرحدی امور و ریاستی نجم الدین خان ،سینٹ میں آزاد اپوزیشن نے لیڈر سینیٹر پروفیسر خورشید احمد ،عوامی نیشنل پارٹی کے سینیٹر حاجی عدیل خان ،مسلم لیگ ق کے سینیٹر جمال لغاری،سینیٹر بی بی یاسمین شاہ نے خواتین تنظیموں کو اس مسئلے کو سینٹ میں بھر پور انداز میں اٹھانے کی یقین دہانی کرائی متذکرہ اراکین سینٹ نے کہا کہ اس بارے میں اتفاق رائے سے قرار داد منظور کی جائے گی کوئی مذہب روایات اس قسم کے واقعات کی اجازت نہیں دیتا مظاہرہ کر نے والی تنظیموں میں پتن ڈویلپمنٹ فورم،ساو¿تھ ایشین وویمن میڈیا ایسوسی ایشن خواتین تنظیموں کے احتجاجی مظاہرے میں حصہ لیا خواتین کے شدید احتجاج کے پیش نظر پارلیمنٹ ہاو¿س کے مرکزی داخلی گیٹ بند کر دئیے گئے تھے۔بلوچستان سے تعلق رکھنے سینیٹر اسرار اللہ زہری نے کہا کہ ’بلوچ قبیلے نے قبائلی روایات کو مدنظر رکھتے ہوئے پانچ عورتوں کو زندہ دفن کیا ہے اس لیے اس معاملے کو نہ ا±چھالا جائے۔‘ حزب اختلاف سے تعلق رکھنے والی سینیٹر یاسمین شاہ نے کہا کہ پانچ عورتوں کو زندہ دفن کرنے کے واقعہ کا کوئی نوٹس نہیں لیا گیا۔ انہوں نے مختلف اخبارات میں چھپنے والی خبروں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس واقعہ میں پاکستان پیپلز پارٹی کے ایک وزیر کا بھائی بھی ملوث ہے اس لیے قانون نافذ کرنے والے ادارے ان کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کر رہے۔ ان عورتوں کا قصور صرف اتنا ہے کہ وہ اپنی مرضی سے شادی کرنا چاہتی تھیں جس کا انہیں اسلام نے بھی حق دیا ہے۔ قائم مقام چیئرمین سینیٹ جان محمد جمالی نے کہا کہ ’اس ایوان میں بات کرنا بہت آسان ہے آپ ا±س علاقے میں جائیں اور وہاں کے حالات دیکھ کر پھر ایوان میں بات کریں۔‘ جان محمد جمالی نے کہا کہ جس علاقے میں یہ واقعہ ہوا ہے وہ ان کے علاقے کے قریب میں ہوا ہے اس لیے جب تک اس کی رپورٹ نہ آجائے اس وقت تک وہ بھی اس پر بات نہیں کر سکتے۔ سینیٹ میں قائد حزب اختلاف کامل علی آغا نے کہا کہ ملک میں آئین اور قانون موجود ہے اور ان کی موجودگی میں اگر اس طرح کے واقعات ہوں گے تو پھر دنیا میں ملک کی ساکھ متاثر ہوگی۔ اس معاملے کو سینیٹ کی کمیٹی کے سپرد کر دیا جائے جو اس کی تحقیقات کرکے رپورٹ ایوان میں پیش کرے۔ سینیٹ میں قائد ایوان رضا ربانی نے کہا تھاکہ چونکہ یہ ایک صوبائی معاملہ ہے اس لیے حکومت نے صوبائی حکومت سے کہا ہے کہ وہ اس واقعہ کی رپورٹ مکمل کرکے وفاقی حکومت کو بھجوائیں۔ اگر اس واقعہ میں پاکستان پیپلز پارٹی سے تعلق رکھنے والے وزیر کا کوئی رشتہ دار بھی ملوث ہو تو ا±س کے خلاف بھی قانونی کارروائی کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ وہ پیر کے روز ایوان میں ایک بیان دیں گے اور اگر ایوان کے ارکان اس سے متفق نہ ہوئے تو اس کو ایوان کی انسانی حقوق کے بارے میں کمیٹی کے سپرد کردیا جائے۔ سندھ اسمبلی نے بھی بلوچستان کے علاقے جعفر آباد میں پانچ خواتین کے قتل کی مذمت کی اور مطالبہ کیا تھا کہ ایسے واقعات کی روک تھام کے لیئے اقدامات کیئے جائیں۔ صوبائی وزیر اطلاعات شازیہ عطا مری نے قرار داد پیش کرتے ہوئے کہا تھاکہ صوبائی اسمبلی اس غیر قانونی، غیر اسلامی اور غیراخلاقی واقعہ کی مذمت کرتی ہے اور وفاقی حکومت سے مطالبہ کرتی ہے کہ ملوث ملزمان کو بے نقاب کیا جائے اور مستقبل میں ایسے واقعات روکنے کے اقدامات کیے جائیں۔ صوبائی اسمبلی کے قرار داد کو متفقہ طور پر منظور کرلیا گیا تھا۔ شازیہ مری، حمیرا علوانی، فرحین مغل، نرگس این ڈی خان اور دیگر اراکین اسمبلی نے واقعہ کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ کسی کو جان سے مارنے کو روایت قرار نہیں دیا جاسکتا اور اسلام بھی اس کی اجازت نہیں دیتا ہے ۔ صوبائی وزیر نادر مگسی کا کہنا تھا کہ بلوچوں میں ایسی کوئی روایت نہیں ہے اور جہالت کی وجہ سے یہ رجحان پایا جاتا ہے۔ اس کے خاتمے کے لیئے شعور اور تعلیم کی ضرورت ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ان کے پاس ایسے معاملات فیصلے کے لیے آتے ہیں۔ انہوں نے ایک سال کے اندر کوئی ایک سو خواتین کی زندگیاں بچائی ہیں۔ نادر مگسی کے مطابق جب فیصلوں میں لڑکیوں کو ان کے والدین کے حوالے کیا جاتا ہے تو ان لڑکیوں کی مرضی ضرور معلوم کرنی چاہیئے۔ دوسری جانب انسانی حقوق کمیشن کے چیئرمین اقبال حیدر نے سینٹر اسرار زہری اور قائم مقام چئرمین جان جمالی کے بیانات کی مذمت کی اور وفاقی حکومت سے مطالبہ کیا کہ اس واقعہ پر آنکھ بند نہ رکھی جائیں ۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ واقعہ کی ایف آئی آر درج کرکے ملزمان کو کیف کردار تک پہنچایا جائے۔وکلاء برائے انسانی حقوق تنظیم کے رہنما ضیا اعوان نے بھی واقعہ کی مذمت کی ہے اور کہا کہ گزشتہ آٹھ سال میں خواتین کے ساتھ غیر انسانی سلوک کے کئی واقعات رونما ہوچکے ہیں جو اس بات کی گواہی ہیں کہ خواتین کے حوالے سے قوانین پر عمل درآمد نہیں ہو رہا ہے۔ تنظیم کی جانب سے جاری کیئے گئے اعداد و شمار کے مطابق آٹھ سال کے دوران اکسٹھ ہزار خواتین تشدد کا شکار ہوئیں، ساڑھے گیارہ ہزار سے زائد خواتین کو بے رحمانہ قتل کیا گیا، تین سو گیارہ خواتین کو زنا کے بعد قتل کیا گیا۔ چار ہزار خواتین سے زیادتی کی گئی اور سولہ سو خواتین اجتماعی زیادتی کا شکار ہوئیں۔ چھ ہزار سے زائد خواتین کو کاری اور چار سو کے قریب خواتین اور بچیوں کو ونی قرار دیا گیا۔ پاکستان میں غیرت کے نام پر قتل کے واقعات میں اب اضافہ ہو رہا ہے بلوچستان میں غیر سرکاری تنظیموں کے مطابق اس سال کے پہلے چھ ماہ میں غیرت کے نام پر دس مردوں اور ستاون خواتین کو ہلاک کیا گیا ہے جبکہ گزشتہ سال کی رپورٹ کے مطابق ستر سے اسی افراد کو ہلاک کیا گیا تھا۔ ان واقعات میں اب اضافہ ہو رہا ہے اور حکام کو چاہیے کہ ان واقعات میں ملوث افراد کو قانون کے مطابق سزا دی جائے۔ نصیر آباد میں مبینہ طور پر پانچ خواتین کو زندہ دفن کرنے کی خبر نہ صرف پاکستانی بلکہ غیر ملکی ذرائع ابلاغ میں بھی نمایاں طور پر پیش کی گئی۔نصیر آباد سے پولیس حکام نے ابتدائی طور پر اس واقعہ کے بارے میں بتایا تھا کہ زمین کے تنازعے پر یہ قتل ہوا ہے اور اب گرفتار افراد نے تسلیم کیا کہ انہوں نے سیاہ کاری کے الزام میں ان خواتین کو ہلاک کیا ہے۔اس واقعہ کے بارے میں علاقے سے تعلق رکھنے والے پاکستان پیپلز پارٹی کے پارلیمانی لیڈر اور صوبائی وزیر صادق عمرانی نے صحافیوں سے باتیں کرتے ہوے کہا کہ اس واقعہ کو میڈیا اور غیر سرکاری تنظیموں نے خواہ مخواہ ہوا دی ہے۔ اگر کوئی ایسا واقعہ ہوا ہے تو قانون کے مطابق سب کچھ ہونا چاہیے۔ انہوں نے اس وقت موقع پر لوگوں سے پوچھا کہ اگر وہ اپنے گھر کی کسی خاتون کو کسی غیر مرد کے ساتھ دیکھیں تو وہ کیا کریں گے ۔انہوں نے کہا کہ وہ کسی طور اس مقدمے میں اثر انداز نہیں ہو رہے۔ کوئٹہ میں دو روز پہلے غیر سرکاری تنظیموں اور سول سوسائٹی کے افراد نے اس واقعہ کے خلاف احتجاجی مظاہرہ بھی کیا ہے۔ سندھ اسمبلی کے علاوہ سینیٹ میں اس واقعہ کے مذمت کی گئی لیکن بلوچستان اسمبلی میں اس بارے میں کسی نے آواز نہیں اٹھائی۔ماہرین اور عام لوگوں کے مطابق جن علاقوں میں ایسے واقعات زیادہ ہو تے ہیں وہاں تعلیم کا فروغ اور لوگوں کے معاشی مسائل کا حل انتہائی ضروری ہے۔ اے پی ایس
No comments:
Post a Comment