International News Agency in english.urdu news feature,Interviews,editorial,audio,video & Photo Service from Rawalpindi/Islamabad,Pakistan.Managing editor M.Rafiq,Editor M.Ali. Chief editor Chaudhry Ahsan Premee email: apsislamabad@gmail.com,+92300 5261843 مینجنگ ایڈ یٹر محمد رفیق، ایڈیٹر محمد علی، چیف ایڈیٹرچو دھری احسن پر یمی

Thursday, September 18, 2008

موساد کی سا بقہ ایجنٹ زپی لیونی اسرائیل کی نئی وزیر اعظم ۔تحریر: اے پی ایس



فلسطینی برسوں سے اپنی علیحدہ ریاست کے لیے بر سر پیکار ہیں

زپی لیونی کی سیاسی زندگی کا آغاز انیس سو ننانوے میں ہوا ۔اسرائیل کی حکمران قدیمہ پارٹی نےوزیر اعظم ایہود اولمرت کی جگہ وزیر خارجہ اور موساد کی سابق ایجنٹ زپی لیونی کو جماعت کا نیا سربراہ منتخب کر لیا ہے۔وزیر خارجہ نے ریڈیو پر اپنی ایک تقریر میں اپنے حامیوں سے کہا ہے کہ اچھے لوگوں کو فتح نصیب ہوئی ہے۔وزیر اعظم ایہو اولمرت اپنے خلاف لگائے جانے والے بدعنوانی کے الزامات کی وجہ سے پارٹی کی سربراہی سے مستعفی ہو رہے ہیں۔زپی لیونی جن کی عمر پچاس سال ہے اگر مخلوط حکومت بنانے میں کامیاب ہو جاتی ہیں تو وہ تیس سال بعد اسرائیل کی دوسری خاتون وزیر اعظم ہونے کا اعزاز حاصل کریں گی۔ قبل ازیں ٹی وی پر کرائے جانے والے رائے عامہ کے جائزوں میں زپی لیونی کو اپنے مد مقابل شول موفاذ پر واضح برتری حاصل تھی۔ایہود اولمرت مخلوط حکومت کی تشکیل تک نگران وزیر اعظم کے طور پر کام کرتے رہیں گے۔ مخلوط حکومت کے قیام میں کئی ہفتے اور کئی مہینے بھی لگ سکتے ہیں۔ اسرائیل میں پولیس نے بدعنوانی کے ایک معاملے میں وزیر اعظم ایہود اولمرت سے پانچویں بار پوچھ گچھ کی ہے۔وزیراعظم اولمرت نے ان الزامات سے انکار کیا ہے کہ انہوں نے ایک امریکی تاجر سے عطیات لیے اور اپنے بیرونی دوروں کے لیے حکومتی اور خیراتی اداروں سے دوبار پیسے لیے تھے۔ بدعنوانی کے دو واقعات کے تحت جاری تفتیش کے دباو¿ کے تحت گزشتہ ہفتے اولمرت نے کہا تھا کہ وہ جلد ہی وزارت عظمیٰ سے سبکدوش ہوجائیں گے۔ اولمرت نے کہا تھا کہ ستمبر میں ان کی قدیمہ پارٹی کی نئی قیادت کے لیے ہونے والے انتخابات میں وہ امیدوار نہیں ہونگے۔ تاہم اگر قدیمہ پارٹی کے نئے رہنما ایک اتحادی حکومت نہیں بناسکے تو اولمرت آئندہ عام انتخابات تک وزیراعظم رہیں گے۔ وزیر اعظم بننے سے قبل اولمرت کو بدعنوانیوں کے چھ معاملات میں تحقیقات کا سامنا رہا ہے تاہم ان کے خلاف فرد جرم عائد نہیں کیا گیا ہے۔ ایک حالیہ کیس میں وزیر اعظم اولمرت پر الزام لگایا گیا ہے کہ انہوں نے اپنے ایک بیرونی سفر کے لیے دو بار پیسے لیے درخواست دی اور اپنے رشتہ داروں کے بیرونی دوروں کے لیے سرکاری پیسوں کا استعمال کیا۔ ایک اور معاملے میں امریکی تاجر مورِس تالانسکی نے اس بات کا انکشاف کیا تھا کہ انہوں نے وزیر اعظم اولمرت کو لفافوں میں بھر کر پیسے دیے۔ مورِس تالانسکی کا کہنا ہے کہ شاید یہ پیسہ قیمتی تعیش پر خرچ کیا گیا ہوگا۔ تاہم ایہود اولمرت کا کہنا ہے کہ انہوں نے لیِکود پارٹی کی قیادت اور یروشلم کے میئر کے لیے اپنی انتخابی مہم میں استعمال کے لیے جائز پیسے لیے تھے۔ تاہم انہوں نے کہا ہے کہ اگر الزامات ثابت ہوجاتے ہیں تو وہ مستعفیٰ ہوجائیں گے۔ ایہود اولمرت اب قدیمہ پارٹی کے رہنما ہیں۔ ستمبر میں قدیمہ پارٹی کی قیادت کے لیے انتخابی دوڑ میں وزیر خارجہ ثِپی لیونی اور ٹرانسپورٹ منسٹر شال موفاذ آگے ہیں۔اسرائیل نے فلسطینی رہنما محمود عباس کو سیاسی تقویت دینے کے لیے جذب خیر سگالی کے طور پر ایک سو اٹھانوے فلسطینی قیدی رہا کر دیے تھے۔ان قیدیوں میں دو ایسے افراد بھی شامل ہیں جو کہ بالترتیب انیس سو ستتر اور انہتر سے اسرائیلی شہریوں کے قتل کے جرم میں قید تھے اور ان کا شمار طویل ترین قید گزارنے والے افراد میں ہوتا ہے۔ اسرائیلی وزیراعظم ایہود اولمرٹ کے اگلے مہینے اپنی مدت ختم ہونے کے بعد اس عہدے کے ایک امیدوار شاول مفاذ نے قیدیوں کی رہائی کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا تھا کہ یہ فیصلہ اسرائیل کی کمزوری ظاہر کرتا ہے۔ جیل حکام کا کہنا تھا کہ اتوار کے دن قیدیوں کو معمول کے طبی معائنے کے بعد ریڈ کراس کے نمائندوں سے ملوایا گیا۔فلسطین کے وزیر جیل خانہ جات اشرف اجرمی کا کہنا ہے کہ ان قیدیوں کو رملہ کے قریب بیت النون چیک پوائنٹ پر رہا کر دیا گیا ہے جہاں سے انہیں سرکاری جشن میں شرکت کے لیے محمود عباس کے صدارتی کمپاو¿نڈ لے جایا گیا۔ فرانسیسی خبررساں ادارے سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا ’قیدیوں کی رہائی کے بعد ان کا استقبال ایک قومی جشن کے طور پر کیا جائے گا‘۔ یہ رہائی ایک ایسے وقت میں عمل میں آئی ہے جبکہ امریکی وزیرِ خارجہ کونڈولیزا رائس خطے کے دورے پر تھیں۔ امریکہ چاہتا تھا کہ اس سال کے اختتام تک مشرق وسطی میں امن معاہدہ طے پا جائے۔ فلسطین عر ب اردن میں اسرائیل کی غیر قانونی آبادیوں کی توسیع سے نا خوش ہے اور کونڈولیزا رائس اپنے گزشتہ دورے کے موقع پر اسرائیل پالیسی پر تنقید کر چکی ہیں۔ اسرائیلی پولیس نے وزیر اعظم اہود اولمرٹ پر بدعنوانی کے مقدمے میں فردِ جرم عائد کرنے کی سفارش کی تھی۔اب وزیر اعظم کے خلاف مقدمہ قائم کرنے کا حتمی فیصلہ اٹارنی جنرل مینی معزوز کریں گے۔ اسرائیلی وزیر اعظم پہلے ہی اعلان کر چکے ہیں کہ اپنے خلاف بدعنوانی کے مقدمات کی وجہ سے اسی ماہ مستعفی ہو جائیں گے۔انہوں نے اپنے خلاف لگائے جانے والے کرپشن کے الزامات کی ہمیشہ تردید کی ہے۔ اسرائیلی میں حکمران پارٹی قدیمہ کی قیادت کا فیصلہ سترہ ستمبر کو ہونے والے اجلاس میں کیا جائے گا۔پولیس کا کہنا ہے کہ اس کے پاس ایسے شواہد موجود ہیں جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ وزیر اعظم اولمرٹ نے امریکی بزنس مین مورس ٹلانکسی سے لاکھوں ڈالر رشوت لی۔ وزیر اعظم اولمرٹ پر یہ بھی الزام ہے کہ انہوں نے دوہرے کلیم بھر کے مختلف سرکاری اداروں سے سفر کے اخراجات حاصل کیے۔ان میں زیادہ تر الزامات اس دور سے متعلق ہیں جب وہ وزیر اعظم بننے سے پہلے یروشلم کے میئر اور وفاقی حکومت میں تجارت اور صنعت کے وزیر تھے۔ وزیر اعظم اولمرٹ کے وکلاءکا کہنا ہے کہ فردِ جرم سے متعلق پولیس سفارشات بے معنی ہیں۔گزشتہ ہفتے ایران نے اسرائیلی وزیر کی جانب سے ایرانی صدر کو اغوا کرنے کی دھمکی دینے پر اقوام متحدہ سے مذمت کی ہے۔اسرائیلی وزیر نے تجویز دی تھی کہ ایرانی صدر محمد احمدی نڑاد کو اغوا کر کے ہیگ میں بین القوامی جرائم کی عدالت میں پیش کیا جائے۔اقوام متحدہ میں ایران کے سفیر نے اس تجویز کو ’اشتعال انگیز اور پ±ر کینہ‘ قرار دیتے ہوئے اقوام متحدہ سے کہا کہ وہ اس کا نوٹس لے۔ اسرائیلی وزیر رفیع ایتان نے کہا تھا کہ ایرانی صدر کو گھسیٹ کے جرائم کی عالمی عدالت میں پیش کیا جانا چاہیے کیونکہ وہ یہودی ریاست کے خلاف وہی زبان استعمال کر رہے ہیں جو ہٹلر نے یہودیوں کے خلاف استعمال کی تھی۔ اسرائیلی وزیر نے جرمنی کے مشہور جریدے ’ڈر شپیگل‘ کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا تھا ایک ایسا آپریشن کیا جا سکتا ہے جس میں ایرانی صدر احمدی نڑاد کو اغوا کر کے عالمی عدالت ہیگ میں پیش کیا جائے۔ رفیع ایتان سیاست میں انے سے پہلے انٹیلیجنس کے سربراہ تھے اور انیس سو ساٹھ میں ارجنٹائن سے نازی ایڈولف ایچمان کے اغوا میں شامل تھے۔ ایرانی سفیر محمد خازئی نے کہا کہ اغوا کی یہ دھمکی عالمی اصولوں کی صریحاً خلاف ورزی ہے۔ آیت اللہ خمینی نے کہا تھا کہ اسرائیل ایک ایسا ناسور ہے جسے تاریخ سے مٹانا ناگزیر ہے ۔ایرانی صدر احمدی نڑاد نے حال ہی میں ایرانی کے روحانی پیشوا آیت اللہ خمینی کا حوالہ دیتے ہوئے یہ پیش گوئی کی تھی جلد ہی اسرائیل کا وجود صفحہ ہستی سے مٹ جائے گا۔ آبادکاروں نے اپنے حصے سے دو گنا سے بھی زیادہ علاقے پر قبضہ کر لیا ہواہے ۔اسرائیل کی ایک تنظیم کا کہنا ہے کہ اسرائیل نے مغربی کنارے کی ہزاروں ایکڑ زمین پر قبضہ کر لیا ہے۔ حقوق کی تنظیم کا کہنا ہے کہ اس زمین پر قبضہ یہ کہہ کر کیا گیا ہے کہ اسرائیلی آبادکاری کو تحفظ فراہم کرنا ہے۔ اس تنظیم کا کہنا ہے کہ چند آبادکاروں نے اپنے حصے سے دو گنا سے بھی زیادہ علاقے پر قبضہ کر لیا ہے۔ واضح رہے کہ بین الاقوامی قوانین میں مغربی کنارے میں یہودی آبادکاری غیر قانونی ہے۔ تنظیم کے مطابق آبادکاریوں سے دو گنا زائد علاقے پر قبضہ کیا گیا ہے اور فلسطینیوں کو ان علاقوں میں آنے کی اجازت نہیں ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ غیر سرکاری طور پر زمین پر قبضہ پچھلے تیس سال سے جاری ہے۔ لیکن اب اسرائیلی فوج زمین پر قبضہ یہ کہہ کر کر رہی ہے کہ ایسا سکیورٹی کے تحت کیا جا رہا ہے۔ اس زمین میں سے آدھی زمین فلسطینیوں کی نجی ملکیت ہے لیکن اس کے باوجود ان کو وہاں جانے کی اجازت نہیں ہے۔ جون میں اسرائیلی کابینہ نے لبنان کے اسلام پسند گروپ حزب اللہ کے ساتھ اس معاہدے کی منظوری دے دی کہ دو اسرائیلی فوجیوں کے بدلے میں پانچ لبنانی قیدیوں اور متعدد فلسطینیوں کو رہا کردیا جائے۔اسرائیل کے ان دو فوجیوں کو حزب اللہ نے دو سال پہلے پکڑ لیا تھا اور ان کی رہائی کی کوشش میں اسرائیل نے لبنان پر چڑھائی کردی تھی لیکن وہ اپنے مقصد میں کامیاب نہیں ہو سکا تھا۔ اسرائیلی ریڈیو کے مطابق اسرائیلی کابینہ نے قیدیوں کے تبادلے کی پچیس میں سے بائیس ووٹوں سے منظوری دی گئی تھی۔ قیدیوں کے تبادلے کا معاہدہ جرمنی کی مدد سے طے پایا تھا۔ رہا ہونے والے لبنانی قیدیوں میں سمیر القنطار بھی شامل ہو ئے تھے جوانیس سو اناسی سے اسرائیل کی قید میں ہیں۔ انہیں ایک خونی چھاپہ مار حملے میں حصہ لینے کی وجہ سے پکڑا گیا تھا۔اسرائیلی وزیر اعظم ایہود المرت نے کہا تھا کہ ہمیں اندیشہ ہے کہ ہمارے فوجی ہلاک ہو چکے ہونگے لیکن پھر بھی یہ تبادلہ ہونا چاہیے۔ حزب اللہ نے اس طرح کا کوئی عندیہ نہیں دیا تھاکہ دونوں فوجی زندہ ہیں۔ ریڈکراس کو ان فوجیوں سے ملنے کی اجازی نہیں دی گئی تھی اور اسرائیل میں زیادہ تر لوگوں کا خیال تھا کہ وہ ہلاک ہو چکے ہیں۔ مبصرین کے مطابق اسرائیل نے پہلی بار کہا کہ اس کے دونوں فوجی زندہ نہیں۔ ناقدین کہتے رہے ہیں اسرائیل کو ہلاک ہو جانے والے فوجیوں کے بدلے قیدی نہیں چھوڑنے چاہیے۔ مجوزہ منصوبے کے مطابق اسرائیل پانچ لبنانیوں کے علاوہ تقریباً دس شدت پسندوں کی لاشیں بھی حوالے کرے گا۔ اسرائیلی فوجیوں کے پکڑے جانے کے بعد حزب اللہ اور اسرائیل کے درمیان چونتیس دن لڑائی ہوئی تھی۔ جرمنی اس لڑائی کے بعد سے قیدیوں کے تبادلے کی کوشش کر تا رہا ۔ یکم جون کو حزب اللہ نے لڑائی میں ہلاک ہونے والے پانچ اسرائیلی فوجیوں کی لاشیں اسرائیل کے حوالے کر دی تھیں۔ اسرائیل نے ان فوجیوں کی لاشوں کے بدلے ایک لبنانی کو رہا کیا تھا جو حزب اللہ کے لیے جاسوسی کرنے پر چھ سال سے جیل میں تھا۔ ایک اسرائیل فوجی گلاد شلت حماس کا قیدی ہے۔ اسے غزہ کی پٹی کے قریب ایک چھاپے کے دوران پکڑا گیا تھا۔ حماس کا کہنا تھا کہ وہ اس فوجی کو اسرائیل کے ساتھ قیدیوں میں تبادلے میں رہا کرنے پر غور کرے گی۔ جولائی میںاسرائیل کے انسانی حقوق کے ایک گروپ کی جانب سے جاری کی گئی ویڈیو فلم پر اسرائیل حکومت نے تفتیش شروع کر دی تھی۔ ویڈیو فوٹیج کو دیکھنے سے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ایک فوجی، ایک زیرِ حراست فلسطینی کو گولی مار رہا ہے۔ ویڈیو میں گولی چلتے ہی تصویر دھندلی ہو جاتی ہے لیکن فلسطینی شخص کو یہ کہتے ہوئے سنا جا سکتا ہے کہ ایک ربڑ کی گولی میری بائیں ایڑی میں لگی ہے اور اس کا فوجی ڈاکٹر علاج کر رہا ہے۔ اسرائیل کی دفاعی فورسز نے اس واقعہ کو سنجیدہ اور فوج کے اقدار کے خلاف قرار دیا تھا۔ انسانی حقوق کے گروپ بی تسلیم کے مطابق یہ واقعہ سات جولائی کو غرب اردن میں پیش آیا تھا۔بی تسلیم نے بتایا ہے کہ ویڈیو میں دکھایا گیا ہے کہ بہت قریب سے ایک فوجی زیرِحراست فلسطینی کو ربڑ چڑھی ہوئی سٹیل کی گولی مار رہا ہے جس کے ہاتھ بندھے ہوئے ہیں اور آنکھوں پر پٹی بندھی ہوئی ہے۔ چودہ برس کی ایک لڑکی نے نلن شہر میں اپنے گھر کی ایک کھڑکی سے یہ ویڈیو بنایا تھا۔ اس شہر میں اسرائیل کی جانب سے غرب اردن کی ناکہ بندی کے خلاف پرتشدد مظاہرے ہوتے رہے ہیں ۔ بی تسلیم کے مطابق انہیں یہ ویڈیو ٹیپ ملا تھا اور اس معاملے میں تفتیش کے لیے انہوں نے اس ٹیپ کی ایک نقل ملڑی پولیس کی تفتیشی یونٹ کو بھیجی تھی۔ اسرائیل حکومت کا کہنا ہے کہ غرب اردن کی ناکہ بندی اس لیے کی گئی کہ خود کش بمباروں کو روکا جا سکے ۔مقامی میڈیا نے فلسطینی شخص اشرف ابو رحمان کے حوالے سے لکھا کہ ’ایک احتجاجی مظاہرے کے دوران فوجیوں نے مجھے پکڑ لیا اور گرفتار کر لیا۔ اور کچھ دیر بعد میں نے گولی کی آواز سنی اور اپنے جسم میں آگ محسوس کی۔ میں ڈر گیا تھا اور مجھے یہ نہیںپتہ چل پا رہا تھا کہ ہوا کیا ہے۔‘ یروشلم پوسٹ کی جانب سے جاری کیے گئے ایک بیان میں اسرائیل کے دفاعی ادارے نے کہا کہ ’ فوج کے قوانین حراست میں لیے گئے لوگوں کے ساتھ برا سلوک کی اجازت نہیں دیتے اور فوجیوں اس بات کے پابند ہیں کہ ان کا احترام کریں اور ان کی حفاظت کریں۔‘ اسرائیل حکومت کا کہنا تھا کہ غرب اردن پر ناکہ بندی اس لیے کی گئی ہے کہ خود کش بمباروں کو روکا جا سکے لیکن تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ناکہ بندی کا مقصد صرف زمین پر قبضہ کرنا ہے۔ اسرائیل نے 1967 کی جنگ میں غرب اردن اور غزہ کی پٹی پر قبضہ کر لیا تھا۔ فی الوقت وہاں ہزاروں اسرائیلیوں کے علاوہ بڑی تعداد میں فوج موجود ہے۔ اگست میں اسرائیل کے وزیر دفاع ایہود باراک نے اس بات کا اعتراف کیا تھا کہ غزہ میں فوجی کارروائی سے فلسطینیوں کے راکٹ حملے بند نہیں ہوں گے۔ جنگ بندی سے قبل انہوں نے کہا تھا کہ غزہ پر فوجی حملہ ضروری ہے۔ ایہود باراک نے کہا کہ مصر کی ثالثی سے سات ہفتوں سے جاری جنگ بندی سے کئی برس بعد پہلی بار حملے بند ہوئے ہیں۔اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ تین برس قبل جب اس نے غزہ سے اپنی فوج واپس بلائی تھی تب سے فلسطین کی طرف سے چھ ہزار راکٹ اور مارٹر گولے داغے گئے ہیں۔ اسرائیلی وزیر دفاع کا کہنا تھا کہ اگر فوج نے غزہ پر حملہ کیا ہوتا اور’حماس کی انتظامیہ کو اس طرح ختم کر دیا جاتا کہ اس کا ایک بھی دفتر اور کارکن نہ بچتا تو یہ غیر لوگوں پر ان کی مرضی کے خلاف قابو پانے کے مترادف ہوتا‘۔ ایہود بارک نے کہا کہ ایسے حالات سے حماس کے لیے فلسطینیوں کی حمایت میں اضافہ ہوتا اور فلسطین کے صدر محمود عباس کی پارٹی الفتح کمزور ہوتی۔ انہوں نے کہا کہ فلسطین کی طرف سے اسرائیل میں داغے جانے والے راکٹ کی تعداد میں کمی آئی ہے اور سینکڑوں کے بجائے اب محض چند رہ گئے ہیں۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ یہ جنگ بندی سال بھر جاری رہے گی۔اسرائیل نے دو ہزار سات میں حماس کے کنٹرول کے بعد سے غزہ کا محاصرہ کر رکھا ہے اور عام ضروری اشیاء کے علاوہ دوسری چیزوں کو اندر جانے کی اجازت نہیں ہے۔ اسرائیل نے سنہ انیس سو سرسٹھ کی جنگ میں مغربی کنارے سمیت عرب ممالک کے کئی علاقوں پر قبضہ کر لیا تھا۔ دو ہزار پانچ میں اس نے غزہ میں کئی یہودی بستیوں کو مسمار کر دیا تھا اور فوج واپس بلا لی تھی۔ دو ہزار سات میں فلسطین اور اسرائیل کے درمیان امن مذاکرات پر نظر ثانی کے بعد سے اسرائیل کے حملوں میں اب تک پانچ سو سے زیادہ لوگ مارے گئے ہیں جس میں بیشتر فلسطینی شہری ہیں۔ امریکی شہر اناپولس میں اسرائیلی اور فلسطینی رہنماو¿ں کے درمیان اس بات پر اتفاق ہونے کے بعد سے کہ سن دو ہزار آٹھ کے اواخر تک ایک امن معاہدہ کو حتمی شکل دینے کی کوشش کی جائے گی رائس نے ساتویں مرتبہ مشرق وسطی کا دورہ کیا۔یہ اطلاعات تھیں کہ فریقین کے درمیان ایک ابتدائی معاہدے کی تفصیلات جاری کی جاسکتی ہیں لیکن رائس نے اس امکان کو زیادہ اہمیت نہیں دی۔ انہوں نے کہا کہ بات چیت پوری شدت کے ساتھ جاری ہے لیکن اس بارے میں کافی شبہ ہے کہ اس مدت میں کوئی معاہدہ ہو پائے گا۔ رائس غرب اردن کے شہر رملہ میں اسرائیلی وزیر خارجہ زپی لیونی اور فلسطینی رہنما احمد قرئع کے ساتھ بات چیت کی۔ایہود اولمرٹ خود تنازعات میں گھرے ہوئے ہیں جن کی وجہ سے انہوں نے مستعفی ہونے کا اعلان کر دیا ہے اور عام خیال یہ ہی ہے کہ زپی لیونی ان کی جگہ وزیر اعظم کا عہدہ سنبھالیں گی۔ محترمہ لیونی یہ واضح کرچکی ہیں کہ وہ جلدبازی کوئی امن معاہدہ کرنے کے حق میں نہیں ہیں کیونکہ اس سے غلط فہمیاں پیدا ہوسکتی ہیں اور تشدد پھوٹ سکتا ہے۔ زپی لیونی کے ساتھ ایک مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے امریکی وزیر خارجہ نے اپنی حکومت کا یہ موقف دہرایا کہ اسرائیل کی جانب سے نئی یہودی بستیوں کی تعمیر سے امن کے عمل کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔ امن کے لیے کام کرنے والے ایک اسرائیلی ادارے ’پیس ناو کے مطابق رواں سال کے پہلے چھ مہینوں میں گزشتہ برس کی اسی مدت کے مقابلے نئی بستیوں کی تعمیر کی رفتار تقریباً دوگنی ہوئی ہے۔ لیکن اسرائیلی وزیر نے کہا کہ ان بستیوں کی تعمیر سے نہ تو بات چیت پر اثر پڑے گا اور نہ ہی مستقبل میں قائم ہونے والی فلسطینی ریاست کی سرحدوں پر۔ اے پی ایس




No comments: