
چیف آف آرمی اسٹاف جنرل اشفاق پرویز کیانی اور امریکی فوج کے چےئرمین جوائنٹ چیف آف اسٹاف ایڈمرل مائیک مولن کے درمیان غیر معمولی ملاقات ہو ئی ہے ۔ملاقات میں جنرل کیانی نے سرحدی خلاف ورزیوں اوراس پر ہونے والے شدید احتجاج سے ایڈمرل مائیک مولن کو آگاہ کیا۔راولپنڈی میں جی ایچ کیو میں ہونے والی ملاقات میں دونوں فوجی سربراہوں کے درمیان دہشت گردی کے خلاف جنگ اورپاک افغان سرحدی امورپرتبادلہ خیال کیا گیا ۔جنرل اشفاق پرویز کیانی نے مئوقف اختیار کیا کہ پاکستانی حدودد میں امریکا کو کسی قسم کی کارروائی کی اجازت ہے اور نہ ہی دونوں ممالک کے درمیان ایسا کوئی معاہدہ ہے۔جنرل پرویز کیانی نے ایڈمرل مائیک مولن پر واضح کیا ہے کہ سرحدوں کے اندر کارروائی کا اختیار صرف پاک فوج ہی کو ہے۔جنرل اشفاق کیانی نے کہا ہے کہ انگور اڈہ جیسے واقعات سے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاک امریکا تعاون متاثرہوگا۔جنرل اشفاق پرویز کیانی سے ملاقات کے بعدامریکی ایڈمرل مائیک مولن کی وزیراعظم یوسف رضا گیلانی سے اسلام آبادمیں ملاقات کی ہے ۔جبکہ اس موقع پر چیف آف آرمی اسٹاف جنرل اشفاق پرویز کیانی بھی موجود تھے۔ مبصرین ایڈمرل مولن کے اس اچانک دورے کو ان کی جانب سے پاکستانی سرحدی حدود کے اندر مشتبہ شدت پسندوں کے خلاف فوجی کارروائی کرنے کے اعلان کے بعد دہشت گردی کے خلاف جنگ میں امریکہ کی اہم ترین اتحادی فوج کے درمیان پیدا ہونے والی غلط فہمیوں کو دور کرنے کی کوشش قرار دے رہے ہیں۔ پاکستان کی سرحدی حدود کی خلاف ورزیوں پر بڑھتی ہوئی کشیدگی کے پس منظر میں امریکی فوج کی جائنٹ چیف آف سٹاف کمیٹی کے چیئرمین ایڈمرل مائیکل مولن گزشتہ منگل کی رات کو پاکستان کے ایک اہم دورے پر اسلام آباد پہنچے تھے۔ دریں اثناءامریکہ کے وزیر خارجہ رابرٹ گیٹس بھی کابل کے دورے پر ہیں جہاں پر انہوں نے منگل کے روز افغان صدر حامد کرزئی سے ملاقات کی ہے۔ مبصرین کا خیال جبکہ بعض کا دعوی ہے کہ مغربی پروپیگنڈے کا ہدف ایٹمی پروگرام اور ملک کی سالمیت ہے۔ ممتاز امریکی اخبارات و جرائد مسلسل پاکستان کے خلاف گمراہ کن پروپیگنڈا کررہے ہیں جس میں پاکستان کے ایٹمی ہتھیاروں کو غیر محفوظ قرار دیا گیا ہے۔ 1999ء میں امریکا کے نیول وار کالج میں ایک منصوبہ تیار کیا گیا تھا جس کا اصل مقصد یہ تھا کہ پاکستان کے نہ صرف ایٹمی ہتھیار ختم کئے جائیں بلکہ پاکستان کو دنیا کے نقشے سے غائب کردیا جائے۔ امریکی تھنک ٹینکس اکثر پاکستان کے خلاف زہریلا پروپیگنڈا کرتے رہتے ہیں اور ان کے مطابق امریکا کا اصل نشانہ دہشتگرد نہیں بلکہ دہشتگردی کے خلاف جنگ کی آڑ میں پاکستان کا ایٹمی پروگرام اور پاکستان کی سالمیت ہے۔ امریکی تھنک ٹینک کی رپورٹ کو کے مطابق پاکستان کو2020ءتک صفحہ ہستی سے ختم کردیا جائے گا۔ اس طرح کی رپورٹوں پر سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت ہے،حالات جس سمت جارہے ہیں اور امریکی پالیسیاں کھلم کھلا پاکستان کے خلاف منصوبہ بندی کررہی ہیں اس کے نتائج پاکستان کے لئے تباہ کن بھی ہوسکتے ہیں۔ اس میں شک نہیں کہ امریکی تھنک ٹینکس یہ سمجھتے ہیں کہ امریکا کو جنوبی ایشیا سے خطرہ ہے۔ امریکی تھنک ٹینکس کو بڑی آزادی حاصل ہے اور اس کے پاس ہر طرح کی سہولتیں بھی ہیں جس کا فائدہ اٹھاتے ہوئے وہ غیر ذمہ دارانہ رپورٹیں جاری کرتے ہیں اور غلط نتائج بھی اخذ کرتے ہیںسوویت یونین کے خاتمے کے بعد امریکا میں اسلام پر مرکزی توجہ مبذول ہوگئی جو اب بھی جاری ہے۔9/11 کے بعد یہ تاثر بھی پیدا ہوا کہ چین امریکا کے لئے مستقبل میں بڑا خطرہ ہوسکتا ہے اور اسلام اور اسلامی آئیڈیالوجی کسی بھی مرحلے پر چین کے ساتھ مل کر امریکا کے لئے بڑا خطرہ ثابت ہوسکتے ہیں لہذااس ممکنہ خطرے کے توڑ کیلئے بھارت سے تعلقات استوار کئے جائیں۔ لندن یونیورسٹی کے انٹرنیشنل لاءکے پروفیسر کی لکھی ہوئی ایک کتاب میں یہ انکشاف کیا گیا ہے کہ اس وقت کے برطانوی وزیراعظم ٹونی بلیئر اور صدر بش کے درمیان30 جنوری 2003ءکو ایک خفیہ بات چیت ہوئی جس میں صدر بش نے ٹونی بلیئر کوبتایا کہ عراق کے بعد ایران، شمالی کوریا، سعودی عرب اور پاکستان کی باری آئے گی جبکہ ٹونی بلیئر اور وائٹ ہاوس نے اس انکشاف کی تردید نہیں کی۔ اسی تناظر میں بعض امریکی اعلیٰ عہدیداروں نے واضح طور پر یہ کہنا شروع کیا کہ موجودہ صدی امریکا کی ہے اور اس دوران مکمل امریکی بالادستی دنیا بھر میں قائم ہونی چاہئے۔ واشنگٹن کے اولین مقاصد میں پاکستان کی جوہری طاقت کو ختم کرنا، پاکستان کے نظریاتی تشخص کو کمزور کرنا، چین سے پاکستان کو الگ کرنا اور افغانستان میں جاری مزاحمت کو ختم کرنا شامل ہیں۔ یہ امریکا کے طویل مدتی اہداف ہیں جس کے توڑ کیلئے کام کرنے کی ضرورت ہے۔ اے پی ایس۔
No comments:
Post a Comment