International News Agency in english.urdu news feature,Interviews,editorial,audio,video & Photo Service from Rawalpindi/Islamabad,Pakistan.Managing editor M.Rafiq,Editor M.Ali. Chief editor Chaudhry Ahsan Premee email: apsislamabad@gmail.com,+92300 5261843 مینجنگ ایڈ یٹر محمد رفیق، ایڈیٹر محمد علی، چیف ایڈیٹرچو دھری احسن پر یمی

Monday, September 15, 2008

امریکہ:مالی بحران۔ دنیا بھر کے مالیاتی نظام کو شدید دھچکا ۔تحریر: اے پی ایس






امریکہ میں شدید مالی بحران جاری ہے جس میں بڑی کمپنیاں مشکلات سے دوچار ہیں اور اس کا دنیا بھر میں رد عمل حصص کی گرتی ہوئی قیمتوں میں دیکھا جا سکتا ہے۔ کہا جا رہا ہے کہ امریکی وال سٹریٹ میں سن انیس سو بیس کے بعد سب سے زیادہ غیر معمولی چوبیس گھنٹے گزرے ہیں جن میں دنیا کی بڑی بڑی کمپنیوں مالی مشکلات سے نمٹنے کے لیے مدد مانگ رہی ہیں۔ اسی دوران شعبے میں دنیا کے سرکردہ بینک اور مالیاتی ادارے مشکلات سے دوچار اداروں کی مدد کے لیے ستر ارب ڈالر کے خصوصی ادھار فنڈ کے قیام پر متفق ہوگئے ہیں۔ امریکہ میں سرمایہ کار ادارے لیہمین برادرز دیوالیہ ہونے سے بچنے کی درخواست کرنے کی تیاری کر رہا ہے۔ اس سے دنیا بھر کے مالیاتی نظام کو شدید دھچکا لگے گا کیونکہ مختلف بینک لیہمین برادرز سے کیے گئے اپنے پیچدہ سودوں کو ختم کرنا شروع کر دیں گے۔ اسی طرح دنیا کی سب سے بڑی انشورنس کمپنی اے آئی جی بھی اطلاعات کے مطابق امریکہ کے مرکزی ریزرو بینک سے تقریباً چالیس ارب ڈالر کے فنڈ کا مطالبہ کر ہی ہے۔ یورپ میں اٹلی کی فضائی کمپنی الایطالیہ کو بچانے کے لیے توقع ہے کہ پیر کے روز بات چیت جاری رہے گی۔ الایطالیہ پر دو ارب ڈالر کے قرضے ہیں اور وہ ایک دیوالیہ کمشنر کے زیر انتظام کام کر رہی ہے اسی طرح کی ایک اور ڈرامائی پیشرفت میں اطلاعات کے مطابق دنیا کی سب سے بڑی بروکریج فرم میرل لِنچ نے اس بات پر اتفاق کر لیا ہے کہ بنک آف امریکہ اسے اپنی ملکیت میں لے لے۔ نیو یارک ٹائمز اور وال سٹریٹ جرنل کے مطابق یہ سودہ پچاس ارب ڈالر میں طے ہوا ہے۔ امریکہ میں مالی بحران کے دوران کئی ممالک میں حصص کی قیمتیں تیزی سے گری ہیں۔ آسٹریلیا میں انڈکس دو اعشاریہ پانچ فیصد نیچے گیا اور سنگاپور میں یہ تین فیصد سے زیادہ گرا۔ تائیوان میں چار اور انڈیا میں پانچ فیصد سے زیادہ کمی آئی۔ لندن میں مرکزی انڈیکس تقریباً تین اور فرانس میں ڈھائی فیصد گرا ہے۔ یورپ میں اٹلی کی فضائی کمپنی الایطالیہ کو بچانے کے لیے توقع ہے کہ پیر کے روز بات چیت جاری رہے گی۔ الایطالیہ پر دو ارب ڈالر کے قرضے ہیں اور وہ ایک دیوالیہ کمشنر کے زیر انتظام کام کر رہی ہے۔ کمپنی کے ملازمین اس کوشش میں ہیں کہ کمپنی کو بچانے کے لیے لوگوں کی نوکریاں نہ ختم ہوں اور نہ ہی تنخواہوں میں کمی کی جائے۔ توقع ہے کہ اس عمل میں ہزاروں لوگوں کی نوکریاں جا سکتی ہیں۔ لیہمین برادرز کے دیوالیہ ہونے کے عمل میں کئی ہفتوں سے لے کر کئی مہینوں کا وقت لگ سکتا ہے اور اس سے مختلف بینک اور مالیاتی ادارے انتہائی غیر یقینی صورت حال سے دوچار ہو جائیں گے۔ اگر امریکی حکومت نے اپنی پالیسی سے بالکل مختلف فیصلہ کرتے ہوئے امریکی ٹیکس دہندگان کا پیسہ اس بینک کو بچانے کے لیے نہ لگایا تو اس بینک کو پیر کو حصص بازار کھلنے پر دیوالیہ ہونے سے بچنے کی درخواست دینی پڑے گی ۔لیہمین برادرز کے دو ممکنہ خریدار بینکوں برطانیہ کے بارکلیز اور بینک آف امریکہ کے پیچھے ہٹ جانے کے بعد لیہمین برادرز کے دیوالیہ ہوجانے کا امکان بہت بڑھ گیا ہے۔ امریکہ کے حصص بازار وال اسٹریٹ کے پیر کو کھلنے سے پہلے اگر لیہمن برادرز کو کوئی سرمایہ کار نہ ملا تو اسے دیوالیہ ہونے سے بچنے کی درخواست دینی پڑے گی۔ لیہمین برادرز کے دنیا بھر میں پچیس ہزار ملازمین ہیں جن میں سے پانچ ہزار صرف برطانیہ میں اس کی شاخوں میں ملازمت کرتے ہیں۔ برطانوی نشریاتی ادارے کے بزنس ایڈیٹر کے مطابق بارکلیز بینک کی طرف سے لیہمین کے سودے سے پیچھے ہٹنا امریکہ کے اس چوتھے بڑے بینک کو بچانے کے لیے کی جانے والی کوششوں کے لیے ایک بڑا دھچکا ہے۔ لیہمین برادرز نے گھروں کی خریداری کے لیے جاری کیے گئے قرضوں میں کروڑوں ڈالر کا نقصان اٹھایا ہے۔ دنیا کی سب سے بڑی حصص مارکیٹ وال اسٹریٹ امریکہ میں سن انیس سو تیس کی شدید کساد بازاری کے بعد سے اب تک کوئی مالیاتی ادارہ دیوالیہ پن کے دہانے پر نہیں آیا۔ جو لائی میںکیلفورنیا میں قائم گھروں کے لیے قرضے مہیا کرنے والا ایک بڑا بینک انّڈی میک بھی بیٹھ گیا تھا۔اس بینک سے کھاتہ داروں کی طرف سے مسلسل اپنی رقوم نکلونے کے بعد اس کا انتظام ریگولیٹرز نے سنبھال لیا تھا کیونکہ یہ خطرہ پیدا ہو گیا تھا کہ کہیں یہ مزید رقوم مہیا کرنے میں ناکام نہ ہو جائے۔ ریگولیٹرز کا کہنا تھا کہ امریکی کی تاریخ میں یہ دوسرا بڑا مالی ادارہ تھا جو کہ فیل ہو گیا ۔بینک کے بنیادی نگران آفس آف ترفٹ سپرویڑن کا کہنا تھا کہ گزشتہ گیارہ دنوں میں کھاتہ داروں نے ایک اعشاریہ تین ارب ڈالر کی رقوم نکلوائی ہیں۔ دریں اثناء نیو یارک کی اسٹاک مارکیٹ میں امریکہ کی دو بڑی قرضے فراہم کرنے والی کمپنیوں کے حصص کی قیمتوں میں شدید کمی دیکھی گئی ہے جس کی وجہ سے ان کے حصص کی قدر نصف رہ گئی ہے۔ قرضے فراہم کرنے والی ان ’ کمپنیوں فیڈرل ہوم لون مورٹگیج کارپوریشن، فریڈی میک‘ اور فیڈرل نیشنل مورٹگیج ایسوسی ایشن، فینی مے‘ کے حصص کی قیمتیں اس خوف کے باعث گرنا شروع ہوئیں کہ شائد ان کمپنیوں کا انتظام حکومت کو سنبھالنا پڑ جائے۔ فریڈی میک اور فینی مے کمپنیوں کے حصص کی قمیتیں گرنے پر صدر بش کو کہنا پڑا تھا کہ یہ دونوں کمپنیاں امریکہ کے اہم ادارے ہیں اور اعلیٰ حکومتی حکام اس مسئلہ سے نمٹنے کی کوشش کر میں مصروف ہیں۔دونوں کمپنیاں مشترکہ طور پر امریکہ میں فروخت ہونے والے نصف گھروں کے لیے قرضے فراہم کرتی ہیں ۔ان دونوں کمپنیوں کے بغیر کروڑوں امریکی گھر خریدنے سے محروم ہو جائیں گے۔ امریکہ میں فروخت ہونے والے نصف گھروں کے لیے قرضے اور گارنٹی یہی دو کمپنیاں مہیا کرتی ہیں۔یہ اپنی ہیت کے اعتبار سے دو غیر معمولی کمپنیاں ہیں جنہیں حکومت کی سرپرستی بھی حاصل اور ان کے حصص کا کاروبار حصص بازار میں بھی ہوتا ہے۔ خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ امریکہ میں ہاو¿سنگ مارکیٹ میں حالیہ بحران کی وجہ سے ان کمپنیوں کے پاس قرضے فراہم کرنے کے لیے پیسہ نہ رہے۔ ان دونوں کمپنیوں کی حصص کی قدر اسی فیصد تک کم ہو گئی۔ نیویارک ٹائمز میں یہ خبر شائع ہونے سے کہ حکومت ان کمپنیوں کو بچانے کے لیے اقدامات پر غور کر رہی ہے ان کے حصص کی قیمتیں تیزی سے نیچے گرنے لگیں۔ سرمایہ کاروں کو خطرہ ہے کہ حکومت کی طرف سے ان کمپنیوں کا انتظام سنبھالنے سے مورٹگیج یا قرضے حاصل کرنے والوں کو تو تحفظ مل جائے گا لیکن ان کا سرمایہ ختم ہو جائے گا۔ تاہم حکومت کی طرف سے فوری طور پر رد عمل سامنے آیا اور وزیر خزانہ ہینک پالسن نے اس بات کا اشارہ دیا کہ ان کمپنیوں کی تنظیم نو میں ان کو موجودہ حالت میں برقرار رکھا جائے گا۔ ان دونوں کمپنیوں کا خسارہ بہت سے حلقوں کے لیے انتہائی تشویش کی بات ہے کیونکہ کئی دیگر سرمایہ کار کمپنیوں نے ان کے حصص میں سرمایہ کاری کر رکھی ہے۔ ان کمپنیوں کے نقصان کا اثر پوری دنیا کی اقتصادیات پر پڑنے کا اندیشہ ہے۔ امریکی معیشت ایک بحرانی کیفیت سے دوچار ہے ۔امریکہ کے مالیاتی ادارے فیڈرل ریزور نے ملک میں اقتصادی مشکلات کے پیش نظر بینکوں کو دیئے جانے والے قرضوں کی شرح سود میں مزید کمی کر دی ہوئی ہے اور اسے دو اعشاریہ پانچ فیصد سے کم کر کے دو فیصد کر دیا گیا ہے۔گزشتہ سال ستمبر کے مہینے سے لے کر امریکہ قرضوں کی شرح سود میں ساتویں مرتبہ کمی کر چکا ہے اور اسے مرحلہ وار پانچ اعشاریہ دو پانچ فیصد سے کم کر کے دو فیصد تک کر دیا گیا ہے۔ فیڈرل ریزور کی طرف سے کئے جانے والے اعلان پر منقسم رائے پائی جاتی ہے کہ اس میں ایسا کوئی اشارہ دیا گیا ہے کہ شرح سود میں آخری کمی ہو گی۔ امریکہ کی معیشت ہاوسنگ مارکیٹ میں شدید مندی کے باعث بحرانی کیفیت کا شکار ہے۔ ساتویں مرتبہ شرح سود میں کمی کے بعد کمیٹی کو ظاہری طور پر یہ امید ہو گئی کہ اس کے بعد شرح سود میں مزید کمی نہ کرنی پڑے۔ پہلے سہ ماہی میں ملک کی کل قومی پیداوار میں اضافے کے اشارے ملے جس سے یہ امید پیدا ہوئی کہ امریکہ میں اس سال مسلسل دو سہ ماہیوں میں پیداوار میں ترقی منفی نہیں ہو گی اور معیشت کو سنبھالہ دینے کے لیے بنائے گئے پیکج کار گر ثابت ہوں گے۔ امریکہ میں حکومت کی طرف سے ٹیکسوں کی مدد میں دی جانے والی چھوٹ کی رقم لوگ تک پہنچا شروع ہو گئی ہیں جس سے اس سال گرمیوں میں معیشت میں تیزی آنے کی امید ہے۔ فیڈرل ریزور کی طرف سے جاری ہونےوالے بیان کے مطابق یہ شرح سود میں یہ کمی بہت ضروری تھی۔ اپریل میں ایک رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ ماہرین اقتصادیات کا خیال ہے کہ شرح سود میں مزید کمی تو کر دی جائے گی لیکن خوراک اور تیل کی قیمتوں میں اضافے سے افراط زر کا بھی خطرہ ہے ۔امریکہ کا مالیاتی ادارہ فیڈرل ریزرو بینکوں کو دیے جانے والے قرضوں پر شرح سود میں مزید کمی کرنےپر غور کر رہا ہے۔ اس سے قبل بھی فیڈرل ریزرو نے قرضوں کی شرح سود میں کمی کی تھی۔ اس فیصلے کا مقصد امریکی معیشت کوسہارادینا تھا۔ اس کے بعد یورپ اور نیو یارک میں حصص کی قیمتوں میں بہتری آئی تھی، اب ماہرین اقتصادیات کا خیال ہے کہ فیڈرل ریزرو اس میں 25 ۔0ءکی شرح سے مزید کمی کر دے گا۔ امریکی مالیاتی ادارے فیڈرل ریزرونے حکومت کے ساتھ مل کر گرتی ہوئی اقتصادی صورتحال کو سنبھالنے کے لیے اقدامات کیے ہیں لیکن اب تک بینکوں اور لوگوں کوگھروں کی خرید و فروخت کے لیے قرضے دینے والے امریکی مالیاتی اداروں میں آنے والے بحران میں کو ئی قابل ذکر کمی نہیں آئی ہے۔ ماہرین اقتصادیات کا خیال ہے کہ شرح سود میں مزید کمی تو آجائے گی لیکن خوراک اور تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کی وجہ سے افراط زر کا خطرہ ہے۔ امریکی صدر بش کہہ چکے ہیں کہ امریکی اپنے ملک کی اقتصادی حالت کے بارے میں پریشان ہیں اور تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتیں ان کے خدشات میں اضافہ کر رہی ہے۔ امریکی صدارتی امیدوار ہیلری کلنٹن اور جان مکین تیل پر ٹیکسوں میں کمی کی حمایت کا اظہار کر چکے ہیں جبکہ بارک اوباما اس کے خلاف ہیں۔ صدر بش نے اس کو خارج ازامکان قرار نہیں دیا ہے۔ امریکی مالیاتی اداروں نے sub-prime lending کی یعنی ایسے لوگوں کو قرض دیے جو مالی لحاظ سے اس کے اہل نہ تھے، نتیجتاً بڑے پیمانے پر قرضوں کی واپسی نہ ہوئی اور کئی مالیاتی ادارے یا دیوالیہ ہوگئے یا ہونے کے قریب ہیں۔ صورتحال اس وقت زیادہ خراب ہوئی جب امریکہ میں ہر پانچ میں سے ایک گھر کے لیے قرضہ دینے والے ادارے ’کنٹری وائڈ فنانشل‘ نے اعلان کیا کہ قرضوں کے لیے مختص ساڑھے گیارہ ارب ڈالر کو وہ اب اپنے روزمرہ کے امور نمٹانے کے لیے مختص کر رہا ہے۔ اس سے قبل اس ادارے نے کہا تھا کہ گھروں کے لیے حاصل کیے گئے قرضوں کی ادائیگیوں میں بےقاعدگیاں عروج پر پہنچ چکی ہیں۔ اس ادارے کے ایسے اعلانات کے بعد حصص بازاروں میں سرمایہ کاری کرنے والوں کے اعتماد کو زبردست ٹھیس پہنچی، جس کے نتیجے میں امریکی ہاو¿سنگ سیکٹر کو شدید مالی دھچکا لگا۔ صدر بش کو توقع تھی کہ ٹیکس مراعات سے کساد بازاری کا خطرہ ٹل جائے گا ۔امریکی صدر جارج بش نے اپنے ملک کی مسائل سے دوچار معیشت کو سنبھالا دینے کے لیے اربوں ڈالر کے ایک ایسے خصوصی پیکج پر زور دیا ہے جس میں کاروباری اور عام افراد کو ٹیکسوں میں رعایت دینا شامل ہے۔صدر بش کا کہنا ہے کہ معاشی ترقی کا پیکج اتنا بڑا ہونا چاہیے کہ اس سے امریکی کی وسیع معیشت کو فائدہ پہنچے۔ وائٹ ہاو¿س کا کہنا ہے کہ پیکج مجموعی ملکی پیداوار کا کم از کم ایک فیصد ہونا چاہیے جو کہ ایک سو پینتالیس ارب ڈالر بنتا ہے۔ امریکہ کی مضبوط معیشت کو صحتمند رکھنے کے لیے یہ اقتصادی پیکج بہت ضروری ہے۔ ’معاشی ترقی اور روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنے کے لیے کانگریس اور حکومت کو اس پیکج کے لیے جتنی جلدی ممکن ہو مل کر کام کرنا چاہیے۔‘ امریکی معیشت بڑھتے ہوئے افراط زر، ہاو¿سنگ قرضوں کی مارکیٹ میں شدید بحران، تیل کی بلند قیمتوں اور سرمایہ کاروں کے متزلزل اعتماد کی وجہ سے ان دنوں شدید مندی میں مبتلا ہے اور بیشتر ماہرین کے مطابق دنیا کی اس سب سے بڑی معیشت کے کساد بازاری میں چلے جانے کا خدشہ ہے۔ صدر بش کے ٹیکس مراعات کے مجوزہ اعلان کے باوجود نیویارک حصص بازار سمیت دنیا کی بڑی سٹاک مارکٹیوں میں مندی ہی غالب رہی تھی۔ صرف رہائشی قرضوں کی ہی مارکیٹ میں شدید بحران کی بدولت سٹی گروپ اور میرل لنچ جیسے بڑے بڑے امریکی اور یورپی بینکوں کو گزشتہ تین ماہ میں ڈیڑھ سو ارب ڈالر تک کا خسارہ ہوچکا ہے۔ امریکی صدر بش نے یہ بھی کہا تھا کہ دو بڑی امریکی مارگیج کمپنیوں فریڈی میک اور فینی مے کو سرکاری تحویل میں لے لیا گیا ہے کیونکہ ان کی وجہ سے امریکی معیشت ناقابل قبول خطرات سے دوچار تھی۔امریکی مارگیج مارکیٹ میں ان دو کمپنیوں کا حصہ پچاس فیصد سے زیادہ ہے اور ان کو امریکی ہاو¿سنگ مارکیٹ کے حالیہ بحران کے دوران اربوں ڈالر کا نقصان پہنچا ہے۔ امریکی ہاو¿سنگ مارکیٹ کے ایک تازہ سروے کے مطابق نو فیصد سے زائد مالکان مالی مشکلات کی وجہ سے یا تو اپنی قسطیں بروقت ادا نہیں کر رہے یا پھر انہیں اپنے گھر بینکوں کی طرف سے تحویل میں لیے جانے کا خطرہ ہے۔ مرکزی حکومت کی طرف سے ان دو کمپنیوں کو سرکاری تحویل میں لیے جانے کا اقدام امریکی تاریخ میں کسی مالیاتی ادارے کو بچانے کی سب سے بڑی کوشش ہے۔ فریڈی میک اور فینی مے کو سرکاری تحویل میں لینے کا اعلان اتوار کو امریکی سیکریٹری خزانہ ہنری پالسن نے کیا۔صدر بش کا کہنا ہے کہ ان مالیاتی کمپنیوں کو اچھی حالت میں لانا اور ان کے کاروباری طور طریقوں کی اصلاحات کرنا ہمارے مالیاتی نظام کی صحت کے لیے بہت اہم ہے۔ انہوں نے کہا کہ اب جو اقدامات کیے گئے ہیں وہ عارضی ہیں اور شارٹ ٹرم میں ہاو¿سنگ مارکیٹ کو سہارا دیں گے۔امریکہ میں بش انتظامیہ اور ایوانِ نمائندگان کے رہنماو¿ں کے درمیان ایک معاہدہ طے پا گیا ہواہے جس کے تحت بگڑتی ہوئی اقتصادی صورتِ حال کو قابو میں کرنے کے لیے کئی اقدامات کیے جائیں گے۔اس منصوبے کے تحت 150 ارب ڈالر کا اقتصادی پیکج دیا جائے گا جو ترقی کی شرح میں اضافے کے لیے ٹیکس کی چھوٹ دے گا۔ایوانِ نمائندگان کی سپیکر نینسی پلوسی نے کہا کہ کانگریس جلد ہی اس معاہدے پر عمل کرے گی ’تاکہ ربیٹ یعنی ٹیکس میں چھوٹ کے چیک ڈاک سے بھیجے جا سکیں۔‘ اس منصوبے سے 117 ملین امریکی خاندان مستفید ہوں گے اور ہر ایک فرد کے لیے 600 ڈالر جبکہ شادی شدہ جوڑوں کے لیے 1200 ڈالر ٹیکس کی چھوٹ ہو گی۔ بچوں والے جوڑوں کو 300 ڈالر فی بچہ اضافی ملے گا۔ واشنگٹن کی کوشش ہے کہ جتنا جلدی ممکن ہو سکے امریکی معیشت کو کساد بازاری سے بچایا جا سکے۔یہ اعلان پوری دنیا کی اقتصادی منڈیوں میں آنے والے شدید بحران کے بعد کیا گیا جس کے بعد تشویش پیدا ہو گئی تھی کہ امریکی معیشت خسارے کی طرف بڑھ رہی ہے۔ صدر جارج بش کا کہنا تھا کہ ان اقدامات سے معیشت کو سہارا ملے گا۔ انہوں نے ایوانِ نمائندگان سے اپیل کی ہے کہ اسے جتنا جلدی ممکن ہو فوراً منظور کر لیا جائے۔ دو دن قبل فیڈرل ریزرو نے امریکی شرح سود کو 4.25 فیصد سے کم کر کے 3.5 فیصد تک کر دیا تھا جو 25 سالوں میں سب سے بڑی کمی ہے۔ماہرینِ اقتصادیات کا کہنا ہے کہ پیکج کو جلد عملی شکل دی جائے کیونکہ ایسا نہ ہو کہ معیشت کی مدد کرنے میں بہت دیر ہو جائے۔جون میں کہا گیا تھاکہ آئندہ اٹھارہ ماہ میں تیل کی قیمت دو سو ڈالر تک پہنچ سکتی ہے ۔امریکہ کے توانائی کے سیکرٹری سیمویل بوڈمین نے کہا تھا کہ تیل کی قیمت میں ریکارڈ اضافہ پریشان کن ہے لیکن کوئی بحران نہیں ہے۔تیل کی قیمت ایک دن میں ریکارڈ اضافے کے بعد تقریباً ایک سو انتالیس ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی تھی اور خیال ظاہر کیا جا رہا تھا کہ بڑھتی ہوئی مانگ اور سیاسی کشیدگی کے باعث جولائی میں یہ ایک سو پچاس ڈالر فی بیرل بھی ہوسکتی ہے۔ سیمویل بوڈمین نے کہا کہ دنیا میں تیل کی پیداوار کے لیے مزید سرمایہ کاری کی ضرورت ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ تیل کی فروخت میں سبسڈی دینے کی ضرورت نہیں ہے۔ سیمویل بوڈمین کا کہنا تھا کہ تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتیں کسی بحران کی علامت نہیں، پریشان کن ضرور ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر آپ غور کریں تو گزشتہ تین برسوں میں مسلسل تیل کی پیداوار پچاسی ملین بیرل روزانہ رہی ہے جبکہ تیل کی مانگ میں کافی اضافہ ہوا ہے۔ امریکی توانائی کے سیکرٹری جاپان میں جہاں وہ ترقی یافتہ ممالک کی تنظیم جی ایٹ کے وزراءکی ایک میٹنگ میں شرکت کی جی ایٹ ممالک کے علاوہ چین، ہندوستان اور جنوبی کوریا کے وزراءبھی اس میٹنگ میں شریک ہو ئے جس کا مقصد تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کو کنٹرول کرنے کے طریق کار پر غور کرنا تھا۔نیو یارک میں ہلکے خام تیل کی قیمت جمعہ کو ایک سو اڑتیس عشاریہ چوّن ڈالر تھی جو کاروبار بند ہونے کے بعد ایک سو انتالیس عشاریہ بارہ ڈالر ہوگئی۔ خام تیل کی قیمت پہلے ہی جب ایک سو پینتیس ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی تھی۔ تیل کی قیمت میں اضافہ اس وقت ہوا جب ڈالر کی قیمت اور وال سٹریٹ میں حصص کی قیمتوں میں کمی آئی اور امریکہ میں بیس سال میں سب سے زیادہ بیروزگاری دیکھی جا رہی ہے۔ گذشتہ اپریل میںعالمی بنک کے سربراہ رابرٹ زوئلک کا کہنا تھا کہ دنیا بھر میں اشیائے خوردونوش کی بڑھتی ہوئی قیمتیں دس کروڑ غریب افراد کو مزید غربت کی گہرائیوں میں دھکیل سکتی ہیں۔ان کا یہ بیان بین الاقوامی مالیاتی ادارے آئی ایم ایف کی اس تنبیہ کے بعد سامنے آیا ہے جس میں خبردار کیا گیا تھا کہ اگر کھانے پینے کی اشیاءکی قیمتوں میں اضافہ جاری رہا تو لاکھوں لوگ فاقہ کشی پر مجبور ہو جائیں گے اور یہی نہیں بلکہ اشیائے خوردونوش کی قیمتوں میں مسلسل اضافے سے پیدا ہونے والی معاشرتی بے چینی کسی تنازعہ کا پیش خیمہ بھی ثابت ہو سکتی ہے۔ رابرٹ زوئلک کا کہنا تھا کہ’ ایک محتاط اندازے کے مطابق گزشتہ تین برس میں اشیائے خوردونوش کی قیمتوں کے دوگنا ہونے سے ممکنہ طور پر کم آمدن والے ممالک کے دس کروڑ افراد مزید غربت کا شکار ہو سکتے ہیں‘۔ انہوں نے کہا کہ خوراک کے اس عالمی بحران سے نمٹنے کے لیے نئے اقدامات کی ضرورت ہے۔ انہوں نے امیر ممالک پر زور دیا کہ وہ نہ صرف عالمی خوراک پروگرام کے لیے پانچ سو ملین ڈالر کی امداد کا بھی انتظام کریں بلکہ بنیادی خوراک اور فصلوں کی پیداوار کے لیے فنڈ فراہم کریں۔ ادھر عالمی بنک سے جڑی مختلف ایجنسیوں کی حال ہی میں جاری ہونے والی رپورٹ میں پاکستان کو بھی ان چھتیس ممالک کی فہرست میں شامل کیا گیا ہے جہاں خوراک کے شدید بحران کا خطرہ موجود ہے اور جنہیں مزید ابتر صورتحال سے بچانے کے لیے بیرونی مدد درکار ہے۔ قیمتوں میں ہوشربا اضافہ ہوا جن میںگندم: 130%سویا: 87%چاول: 74%مکئی: 31% جبکہ پاکستان میں ماضی قریب میں آنے والا سیلاب اور غیر یقینی ملکی صورتحال بھی ملک میں اشیائے خوردو نوش کی کمی کی وجہ بنی ہیں۔ تاہم 2008 میں پاکستان میں گندم کی فصل اچھی ہونے کا امکان تھا جو کہ ایک خود آئند بات تھی۔ لیکن پاکستان میں خوراک کے بحران سے یوں محسوس ہوتا ہے کہ یہ زرعی ملک نہیں۔دنیا بھر میں حالیہ مہینوں میں اشیائے خورد ونوش کی قیمتوں میں تیزی سے اضافہ ہوا جبکہ عالمی بنک کے مطابق گندم، چاول اور مکئی کی قیمتوں میں اضافے سے گزشتہ تین برس میں دنیا میں کھانے پینے کی اشیاءکی قیمتیں تراسّی فیصد بڑھ گئی ہیں۔ قیمتوں میں اس ہوشربا اضافے کے بعد مصر، آئیوری کوسٹ، ایتھوپیا اور فلپائن سمیت متعدد ممالک میں مظاہرے اور فسادات بھی ہوئے ہیں۔ ایسے ہی ایک واقعے میں گزشتہ ہفتے ہیٹی میں اشیائے خوردونوش کی کمیابی کے خلاف مظاہرے کے دوران تشدد سے پانچ افراد مارے گئے تھے۔ قیمتوں میں اضافوں کے بعد بھارت، چین ،ویت نام اور مصر میں چاول کی برآمد پر پابندی بھی عائد کی گئی ہے جس کا اثر بنگلہ دیش، فلپائن اور افغانستان جیسے ممالک پر پڑا ہے جو کہ چاول کے درآمد کنندگان ہیں۔ اے پی ایس








No comments: