International News Agency in english.urdu news feature,Interviews,editorial,audio,video & Photo Service from Rawalpindi/Islamabad,Pakistan.Managing editor M.Rafiq,Editor M.Ali. Chief editor Chaudhry Ahsan Premee email: apsislamabad@gmail.com,+92300 5261843 مینجنگ ایڈ یٹر محمد رفیق، ایڈیٹر محمد علی، چیف ایڈیٹرچو دھری احسن پر یمی

Thursday, September 11, 2008

جموں و کشمیر کے عوام آصف زرداری سے خوشبری کے منتظر۔۔ تحریر اے پی ایس


کرہ ارض کے تقریباً دو سو ممالک کی سیکورٹی پر سالانہ 11کھرب ڈالر سے زائد خرچ کرنے کے باوجود بھی دنیا کو محفوظ نہیں بنایا جاسکا ۔ ایک نئی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ گلوبل سیکورٹی کے حالیہ اعداد و شمار کے مطابق امریکا اپنی سلامتی کے لئے دفاعی اخراجات کی مد میں تقریباً 650ارب ڈالر سالانہ خرچ کرتا ہے جبکہ باقی ممالک سیکورٹی پر مجموعی طور پر 500ارب ڈالر خرچ کرتے ہیں۔ اس قدر بھاری دفاعی اخراجات کے باوجود امریکا اپنی سیکورٹی کو یقینی نہیں بنا سکا ۔ دفاعی ماہرین نے کہا ہے کہ دنیا بھر میں امریکی مفادات خطرے میں ہیں۔گلوبل سیکورٹی کے مطابق چین اپنی سلامتی پر سالانہ 65ارب ڈالر، روس 50 ارب ڈالر، فرانس 45ارب ڈالر ، برطانیہ 42.2ارب ڈالر جبکہ جاپان دفاعی اخراجات کی مد میں 41.75ارب ڈالر خرچ کرتا ہے۔ عمان ، قطر اور سعودی عرب جی ڈی پی کا سب سے زیادہ یعنی 10فیصد سے زائد اپنے دفاع پر خرچ کرتے ہیں۔ سارک ممالک سیکورٹی پر مجموعی طور پر سالانہ 24عرب 75کروڑ ڈالر خرچ کرتے ہیں۔بھارت جی ڈی پی کے 2.5فیصد کے حساب سے سلانہ 19ارب ڈالر ، بنگلہ دیش ایک ارب ڈالر ، سری لنکا 600ملین ڈالر ، نیپال 105ملین ڈالر ، مالدیپ 45ملین ڈالر جبکہ بھوٹان 8.3 ملین ڈالر کے دفاعی اخراجات کرتا ہے۔ پاکستان جی ڈی پی کے3.2 فیصد کے حساب سے 4ارب 50کروڑ ڈالر سے زائد کے دفاعی اخراجات کرتا ہے۔ دفاعی مبصرین کا کہنا ہے کہ عسکری اخراجات نے دنیا کو بھوک ، ننگ اور افلاس کے سوا کچھ نہیں دیا۔ بڑی طاقتیں ملک گیری اور عالمی وسائل پر قبضے کی حوس ختم کر دیں تو دنیا کو جنت نظیر بنایا جا سکتا ہے۔ جبکہ امریکی اخبار نیو یارک ٹائمز نے انکشاف کیا ہے کہ صدر بش نے دو ماہ پہلے پاکستان پر زمینی حملوں کی اجازت دے دی تھی۔ نیو یارک ٹائمز نے سینئر امریکی عہدیدار کے حوالے سے لکھا ہے کہ پاکستان کے قبائلی علاقوں میں صور تحال امریکہ کے لیے نا قابل برداشت ہو چکی ہے ۔ حکام کا کہنا تھا کہ امریکی صدر بش نے رواں سال جولائی میں پاکستان کی رضا مندی کے بغیر حملے کی اجازت دی تھی۔ امریکی حکام کے مطابق پاکستان پر حملوں کا حکم جاری ہو چکا ہے تاہم امریکی حکام نے یہ نہیں بتایا کہ کس حکومتی عہدیدار نے اس کی منظوری دی تھی۔اسرائیلی آرمی چیف مقبوضہ کشمیر کے غیر اعلانیہ دورے پر سری نگر پہنچ گئے۔مقبوضہ کشمیر کے خفیہ دورے سے قبل اسرائیلی فوج کے سربراہ میجر جنرل ایوی مذرہی نے نئی دہلی میں بھارت کی بری فوج کے سربراہ جنرل دیپک کپور کے علاوہ بھارتی فضائیہ کے سربراہ اور نیول چیف سے ملاقات کی۔ بین الاقوامی ذرائع ابلاغ کے مطابق اسرائیل کی بری فوج کے سربراہ کے مقبوضہ کشمیر کے خفیہ دورے کے بارے میں سری نگر میں حکام نے خاموشی اختیار کر رکھی ہے اور انہوں بنے اسرائیلی آرمی چیف کے دورہ کشمیر کی نہ تو تردید اور نہ ہی تصدیق کی ہے ۔ اسرائیلی فوج کے سربراہ بھارت کے تین روزہ دورے پر منگل کو نئی دہلی پہنچے تھے جہاں انہوں نے بھارت کی فوجی قیادت سے دونوں ملکوں کو افواج کے درمیان جنگی مشقوں اور تربیت کے معاملے پر تبادلہ خیال کیا۔ انہوں نے بھارتی فوج کو انسداد دہشت گردی اور علیحدگی کی تحریکوں سے نمٹنے کے لیے تربیت کی بھی پیشکش کی ہے۔ جبکہ کل جماعتی حریت کانفرنس کے چیئر مین سید علی گیلانی نے واضح کیا ہے کہ آمدورفت کے لئے لائن آف کنٹرول میں نرمی اور تجارت کا آغاز اس وقت تک ہمارے لیے قابل قبول نہیں جب تک مقبوضہ جموںو کشمیر کے عوام کو حق خودارادیت نہیں مل جاتا اور اس حق کے حصول تک ہم اپنی جدوجہد جاری رکھیں گے ایک نجی ٹی وی کے ساتھ انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ ہم 1947ء سے لے کر آج تک حق خود ارادیت کے لئے جدوجہد کر رہے ہیں جبکہ بھارت کی حکومت اور عوام نے بھی ہمارے ساتھ وعدہ کر رکھا ہے کہ ہمیں پیدائشی حق دیا جائے گا اور توقع فراہم کیا جائے گا کہ پاکستان اور بھارت میں سے کسی ایک کے ساتھ ملنے کا انتخاب کریں آنجہانی پنڈت نہرو نے بھی حق خودارادیت دینے کا وعدہ کیا تھا اور اقوام متحدہ میں بھی 18 قراردادیں پاس ہو چکی ہیں جن کو بھارت نے تسلیم کیا ہے عالمی برادری اس کی گواہ ہے ان قراردادوں میں جموں کشمیر کی متنازعہ حیثت تسلیم کی گئی ہے اور مسئلہ کشمیر کے پائیدار ، مستقل اور پرامن حل کے لیے استصواب رائے کا مشورہ دیا گیا ہے جموں کشمیر کے عوام یہی بنیادی حق حاصل کرنے کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں اس کے لیے 6 لاکھ کے قریب جانو کی قربانیاں دی جا چکی ہیں اکتوبر اور نومبر 1947 ء صرف جموں صوبے میں 5لاکھ کے قریب کشمیریوں کو گاجر ،مولی کی طرح کاٹا گیا اور 10 لاکھ کے قریب لوگوں نے ہجرت کی اور گزشتہ 20سال کے عرصے میں ایک لاکھ سے زائد لوگ شہید ہو چکے ہیں جن میں زیادہ تر سویلین ہیں ان میں خواتین ، بچے ، بڑے سب شامل ہیں اور ہزاروں ہستیاں خاک میں بدل دی گئی ہیں 10 ہزار لوگو ں کو گرفتار کر کے لاپتہ کر دیا گیا ہے ہمارے لیے خوشی اس وقت ہو گی جب ہمیں اپنا حق خودارادیت مل جائے گا۔ ایک سوال پر سید علی گیلانی نے کہا کہ آصف علی زرداری سے ہی پوچھا جانا چاہیے کہ وہ جموں کشمیر کے عوام کو کس نوعیت کی خوشخبری سنانا چاہتے ہیں انہوں نے کہا کہ حق خودارادیت کے لیے ہمیں اپنی جدوجہد جاری رکھنا ہے اس لیے تمام کشمیری یکسو ہو گئے ہیں ہماری جدوجہد پرامن ہو گی جس میں نہ بندوق نہ لاٹھی ہو گی اور نہ کسی قسم کی کوئی تخریبی کارروائی ہو گی انہوں نے کہا کہ آج 62 سالوں سے ہمارا خون بہایا جا رہا ہے ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ اس مرحلے پر ہمارے لیے کوئی قلیل المدتی پروگرام نہیں ہے بلکہ ہمارا اصل ٹارگٹ یہی ہے کہ ہم حق خودارادیت کے حصول کے لیے یکسو ہو جائیں اگر کسی معیشت کے یہاں کے جو معاشی مسائل ہیں یا روڈ کامسئلہ ہے کوئی بھی مسئلہ ہمارے بنیادی موقف پر اثر انداز نہیں ہونا چاہیے مثلاً اگر کوئی یہ کہے کہ آمدورفت کے لیے سرحد پر نرمی ہو اور تجارت کا آغاز کیا جائے اور اس کو مستقل بانڈری لائن قرار دیا جائے تو حالات ہمارے لیے کسی بھی حیثیت میں قابل قبول نہیں ہو سکتے ہیں۔ جبکہ مقبوضہ کشمیر میں جاری عوامی تحریک کو دبانے کیلئے ریاستی پولیس کی جانب سے سخت اقدامات کا باضابطہ آغاز کرتے ہوئے بڑے پیمانے پر گرفتاریوں کاسلسلہ شروع کرنے کے علاوہ ہر شخص کو تھانہ میں حاضری دینے کاپابند بنانے کیلئے کارروائی شروع کردی گئی ہے۔ اس سلسلے میں بٹہ مالو سرینگر میں متعلقہ پولیس اسٹیشن کی جانب سے دکانداروں،این جی اوز،طلبائ،سرکاری ملازمین اور اکثر گھروںسے ایک فردکو تھانے میں حاضر ہونے کا سمن جاری کردیاگیاہے۔بٹہ مالو کے لوگوں نے بتایا کہ متعلقہ پولیس اسٹیشن کے آفیسر نے علاقے کے سبھی لوگوں کو باری باری تھانے میں حاضر رہنے کاحکم نامہ صادر کیا ہے۔لوگوں نے بتایا کہ ایس ایچ او بٹہ مالو نے محلوں میں بڑے پیمانے پر گرفتاریاں عمل میں لانے کیلئے کارروائی کاآغاز کیا ہے۔ ایس ایچ اوبٹہ مالو نے دفعہ336آر پی سی کے تحت ایک عام سمن جاری کرکے بنہ پورہ،داریان،کاشی محلہ،نیو کالونی،باغیابمنہ،ایس ڈی کالونی،فردوس آباد، ٹینگہ پورہ،باراں پتھر،داندرکھاہ اور دوسرے محلہ جات میں عام لوگوں کو تھانے میں حاضر ہونے کی ہدایات جاری کی ہیں۔جن افراد کے خلاف تھانہ بٹہ مالو سے سمن جاری کیاگیا ہے ان میں سرکاری ملازمین، دکاندار،طلباء کے علاوہ غیر سرکاری تنظیموں (NGO) سے وابستہ افراد بھی شامل ہیں۔ پولیس تھانہ بٹہ مالو کی جانب سے جاری عام سمن کی رو سے ”ملزمین“کو اتوار،جمعہ اور بدھ کے روز تھانے میں حاضرہونے کی تاکید کی گئی ہے۔ 336آر پی سی کی دفعہ توڑ پھوڑ،سرکاری املاک کو تباہ کرنے اور لوگوں کو دھونس دباو کے ذریعے تنگ طلب کرنے جیسی صورتوں میں ملزمین کیخلاف عائد کیا جاتا ہے لیکن بٹہ مالو پولیس اسٹیشن کی طرف سے ہر کس وناکس کیخلاف یہ دفعہ عائد کی گئی ہے ۔اس معاملے کو لے کر بٹہ مالو میں زبردست تشویش اور پولیس کیخلاف غم وغصے کی لہر پھیل گئی ہے۔عبدالصمد نامی شہری نے بتایا کہ پولیس نے انکے بیٹے کیخلاف سمن جاری کیا ہے اور انہیں اتوار کوتھانے میں حاضر ہونے کیلئے کہا گیا ہے ۔انہوں نے کہاکہ ان کا بیٹا طالب علم ہے اورابھی کمسن ہے لہٰذاوہ پولیس کے سامنے حاضر ہونے سے گھبرا رہا ہے۔بٹہ مالو میں عام لوگوں نے پولیس کی اس کارروائی کوزور زبردستی سے تعبیر کرتے ہوئے سخت احتجاج کرنے کاانتباہ دیا ہے۔مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ ہم ہر ظلم برداشت نہیں کریں گے،انہیں بتایا جائے کہ انہیںکس وجہ سے تھانے میں بلایا جارہاہے اور ہم پر کس جرم کے تحت کیس دائر کئے جارہے ہیں ۔دریں اثناءجنوبی کشمیر کے پلوامہ، شوپیان اور اسلام آباد کے علاقوں میں فوج اور پولیس نے عوامی تحریک میں شرکت کرنے والے افراد کیخلاف بڑے پیمانے پر چھاپوں اور گرفتاریون کاسلسلہ شروع کردیا ہے۔ادھر آبی گذر سرینگر میں بھی پولیس نے نوجوانوں کو تھانے میں حاضر ہونے کی ہدایات دی ہیں جس کے نتیجے میں عام لوگ زبردست تشویش میں مبتلا ہوگئے ہیں۔اس سلسلے میں متعلقہ پولیس افسران سے بارہا رابطہ کرنے کی کوشش کی تاہم ان سے رابطہ ممکن نہ ہوسکا۔بھارتی ریاست اڑیسہ میں انتہا پسند ہندووں کے حملوں کے خوف سے عیسائی آبادی جنگل میں پنا لینے پر مجبور ہوگئی ہے۔ اڑیسہ میں انتہا پسند ہندو لیڈر کے قتل کے بعد شروع ہونے والے فسادات میں اب تک انتہا پسند جماعت وشوا ہندو پریشد 24عیسائیوں کو ہلاک کرچکی ہے جبکہ قریبی جنگل میں اب بھی عیسائیوں کی لاشیں پڑی ہوئی ہیں۔ ہندو بلوایوں نے عیسائیوں کی عبادت گاہوں اور دیگر املاک کو بھی نذر آتش کردیا۔عیسائی آبادی انتہا پسند ہندووں کے خوف سے نقل مکانی کرچکی ہے جبکہ سینکڑوں خاندانوں نے قریبی جنگل میں پناہ لے رکھی ہے۔ اڑیسہ کے بیشتر اضلاع میں گزشتہ دو ہفتوں سے صورتحال شدید کشیدہ ہے جبکہ فسادات نے ریاست مدھیہ پردیش کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے۔ انتظامیہ اب تک ہندو انتہا پسندوں کی وحشیانہ کارروائیاں روکنے میں مکمل ناکام ہے ۔اے پی ایس

No comments: