International News Agency in english.urdu news feature,Interviews,editorial,audio,video & Photo Service from Rawalpindi/Islamabad,Pakistan.Managing editor M.Rafiq,Editor M.Ali. Chief editor Chaudhry Ahsan Premee email: apsislamabad@gmail.com,+92300 5261843 مینجنگ ایڈ یٹر محمد رفیق، ایڈیٹر محمد علی، چیف ایڈیٹرچو دھری احسن پر یمی

Monday, September 15, 2008

پاک امریکا تعلقات اور پاکستان کے سیاسی نظام کو خطرہ ۔ تحریر : اے پی ایس





پاکستان اورامریکا کے دوستانہ تعلقات خراب ہوچکے ہیں اورباہمی اعتماد اٹھ چکا ہے، امریکا اورمغربی ممالک کے اخبارات اوررسائل وجرائدمیں پاکستان کیخلاف تسلسل سے رپورٹس شائع ہورہی ہیں۔ جبکہ متحدہ قومی موومنٹ کے قائد الطاف حسین نے کہا ہے کہ ہم 61 برسوں میں آج تک لوڈشیڈنگ کامسئلہ حل نہیں کرسکے لیکن امریکا اور نیٹوسے لڑنے کی باتیں کی جارہی ہیں لڑنے اورجنگ کی باتیں کرنیوالے سیاستدانوں اوردانشوروں کوہوش کے ناخن لینے چاہئیں، ملک میں جمہوری حکومت قائم ہوچکی ہے لہٰذا صدرمملکت، وزیراعظم، وفاقی وزراءاورتمام حکومتی مناصب پر فائز شخصیات عہدکریں کہ وہ نہ صرف جمہوریت کی حفاظت کریں گے، ایک پائی بھی چوری نہیں کریں گے اور ملک کے نظام کوبہترکریں گے۔ کراچی کا ہر شخص لاتعداد مسائل کا شکار ہے جس میں بنیادی مسئلہ بجلی کی لوڈشیڈنگ کا ہے، مہنگائی آسمان سے باتیں کررہی ہے، آٹا ایسے نایاب ہوتا جا رہا ہے جیسے دوسری جنگ عظیم میں برطانیہ اوردیگرمغربی ممالک میں لوگ بوریاں بھر کر کر نسی لیکرجاتے تھے اور ایک ڈبل روٹی لیکرآتے تھے، شہرمیں اغوابرائے تاوان کی وارداتیں بڑھ گئی ہیں، بگڑتی ہوئی صورتحال کے باعث تاجر اور صنعتکار اپنا سرمایہ دوسرے ممالک میں منتقل کررہے ہیں، اربوں ڈالرکاسرمایہ ملک سے باہر منتقل ہوچکاہے، قبائلی علاقوں کی صورتحال دن بدن سنگین ہوتی جارہی ہے، مختلف شہروں میں خودکش حملے ہورہے ہیں، مساجد تک میں بم دھماکے کئے جارہے ہیں اور نمازیوں کو شہید کیا جا رہا ہے طالبان شریعت کے نام پر خودکش حملے اورعوام پر جبرکررہے ہیں، سوات اور فاٹا میں تمام گرلز اسکول جلائے جاچکے ہیں۔ انہوں نے سوال کیاکہ کیا لڑکیوں کا تعلیم حاصل کرنا اورتعلیم کے بعد ڈاکٹر یا انجینئر بننا یا کسی ادارے میں ملازمت کرنا غیرشرعی بات ہے؟ انہوں نے کہا کہ کہا کہ حدیث رسول ہے کہ ” علم حاصل کرناہرمسلمان مردوعورت پرفرض ہے“۔ انہوں نے کہا کہ بعض عناصر نے مجھے احمدیوں اور عیسائیوں کاا ایجنٹ قرار دیا لیکن مجھے الزامات کی پرواہ نہیں، میں حق بات کہتا رہوں گا۔ الطاف حسین نے کہاکہ 61 برس گزرگئے لیکن ہم عوام کے بنیادی مسائل حل نہیں کرسکے، آئی ایم ایف، ورلڈبینک اورغیرملکوں کی خیرات کے محتاج ہیں، کرپشن عروج پرہے، 61 برسوں میں لاء اینڈآرڈرکوبہترنہ کرسکے، لوڈشیڈنگ کامسئلہ حل نہیں ہوسکا، قوم کو آٹا نہیں دے سکے، آج تک بھیک پرچل رہے ہیں لیکن امریکا اورنیٹوسے لڑنے کی باتیں کی جارہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم 61 سال سے عیدکے خطبوں میں کشمیرکا ذکر سن رہے ہیں لیکن کشمیر کا مسئلہ آج تک حل نہیں ہوا، 60 مسلم ممالک سے ہرسال لاکھوں مسلمان حج پرجاتے ہیں، کشمیر و فلسطین کی آزادی کیلئے دعائیں مانگتے ہیں لیکن آج تک فلسطین کا مسئلہ حل نہیں ہوا۔ انہوں نے کہاکہ ہماری دعائیں اسلئے قبول نہیں ہوتیں کیونکہ وہ عمل سے خالی ہیں اورجودعائیں عمل سے خالی ہوں وہ اس مردہ جسم کی طرح ہوتی ہیں جس سے روح نکل چکی ہو۔انہوں نے کہاکہ کشمیر کی باتیں کرنے والی جماعتوں نے کشمیر کے نام پر مال توبہت کمایا لیکن جب وہاں زلزلہ آیا تو یہ جماعتیں غائب ہوگئیں، مدد کیلئے اگر کوئی جماعت کشمیر پہنچی تو وہ ایم کیو ایم تھی، ایم کیو ایم کو پختونوں کا دشمن کہا جاتا ہے لیکن اسی ایم کیو انے صوبہ سرحد میں جب زلزلہ آیا تو مدد کی۔ انہوں نے کہا کہ ضرورت اس بات کی ہے کہ ٹیکسوں کی وصولی اور امن عامہ کو بہتر بنایا جائے تاکہ تاجر وصنعتکار اپنا سرمایہ بیرونی ممالک سے واپس ملک میں لائیں اورملک کی خدمت کرسکیں۔ الطاف حسین نے کہا کہ ہمیں 5 سال کام کاموقع ملا تو ہم نے، ہمارے سٹی ناظم مصطفےٰ کمال نے شہرکی خدمت کی اور اتنے ترقیاتی کام کئے جتنے پہلے کبھی نہیں ہوئے تھے۔ انہوں نے کہاکہ آج سٹی ناظم کراچی، ڈسٹرکٹ ناظم حیدرآباد اور دیگر ٹاو?نز اورتعلقہ ناظمین کے اختیارات اور فنڈز کم کردیے گئے ہیں، ہمیں پیپلزپارٹی سے بے پناہ شکایتیں تھیں لیکن ہم نے ملک کوبحرانوں سے نکالنے کیلئے سندھ اور وفاق میں پیپلز پارٹی کی غیرمشروط حمایت کی، صدارتی الیکشن میں بھی پیپلزپارٹی کی حمایت کی، ہمارے پاس جو تھا وہ ہم نے پیپلز پارٹی کو دیدیا، اب ہمارے پاس دینے کوکچھ نہیں ہے، اب دینے کا اختیار پیپلز پارٹی کے پاس ہے، اب ان کا فرض ہے کہ وہ ان مسائل کو سمجھیں اور سب کے ساتھ انصاف کریں۔جبکہ صدر آصف علی زر داری اور وزیر اعظم سید یوسف رضا گیلانی نے کہا ہے کہ ملکی سا لمیت اور خود مختاری کو ہر قیمت پر یقینی بنایا جائیگا پاکستانی علاقے میں کارروائی کا حق صرف پاکستانی افواج کو ہے وزیر اعظم سید یوسف رضا گیلانی نے گذشتہ اتوار کو صدر آصف علی زر داری سے ٹیلیفونک رابطہ کیا اور ملکی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا ٹیلیفونک رابطے کے دور ان وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی نے کہاکہ پاکستانی حدود کی خلاف ورزی ملکی خود مختاری میں داخل اندازی ہے صدر آصف علی زر داری نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہاکہ اس معاملے کو برطانوی حکومت کے سامنے اٹھائینگے اور انہیں دہشت گردی کے خلاف پاکستان کے کر دار کے بارے میں آگا ہ کرینگے صدر نے کہاکہ پاکستانی حدو د کے اندر کسی بھی قسم کارروائی کر نے کا حق صرف پاکستان کو حاصل ہے اور اگر اتحادی افواج کے پاس کوئی معلومات ہوں تو وہ پاکستانی حکومت کو آگاہ کریں ٹیلیفونک رابطے میں دونوں رہنماو¿ں نے قبائلی علاقوں میں امن وامان کی صورتحال اور ان علاقوں میں غیر ملکی افواج کے میزائل کے حملوں کے حوالے سے تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا ہے دونوں رہنماو¿ں نے اس بات پر اتفاق کیا کہ ملکی سالمیت اور خود مختاری کو ہر قیمت پر یقینی بنایا جائیگا ۔ شمالی اور جنوبی وزیرستان اور پاک افغان سرحد کے قریب امریکی لڑاکا طیاروں کی نگرانی کے لئے پاک فضائیہ نے مکمل نگرانی شروع کردی ہے، امریکی طیاروں کی حرکات کو مانیٹر کرنے کے لئے مسلسل پروازیں جاری ہیں جبکہ قبائلی عمائدین کا کہنا ہے کہ مبینہ طور پر افغانستان سے کئی عسکریت پسند افغان فوج کی زیر نگرانی پاکستانی قبائلی علاقوں میں داخل ہورہے ہیں جس کی وجہ سے پاک فوج کیلئے مزاحمت میں اضافہ ہو سکتا ہے ،دوسری جانب قبائلیوں کی جانب سے پاک فوج کے جوانوں اورفضائیہ کے شاہینوں کا پرتپاک خیرمقدم کیا گیا اور قبائلی عمائدین کا مشترکہ لشکر بنانے کیلئے گرینڈ جرگہ بلانے پر غور شروع کردیا ہے، اتوار کی شام مقامی قبائلی عمائدین کی جانب سے ممکنہ امریکی حملے کی صورت میں لشکر کی تشکیل کے لئے بلائے گئے جرگہ کے بعد بتایا گیا کہ شمالی وزیرستان اور انگور اڈا میں امریکی جاسوس طیاروں کی پروازوں اور میزائل حملوں کے بعد علاقے میں حالات انتہائی کشیدہ ہیں، باجوڑ ، شکئی ، ڈمہ ڈولہ ، چینا بانڈے ، میرانشاہ اور واناکے علاقے کی جانب امریکی طیاروں نے پروازوں کی کوشش کی لیکن پھر پاکستانی طیاروں کی آمد کے ساتھ ہی امریکی طیارے واپس افغانستان روانہ ہوگئے۔مقامی قبائلی عمائدین کا کہنا ہے کہ ا±نکے تحفظ کے لئے حکومتی اقدامات ناکافی ہیں پاک فوج کے سربراہ کی طرح حکومت بھی قبائلیوں کے جان و مال اور پاک سرزمین کے تحفظ کے لئے آگے بڑھے ،انہوں نے یقین دلایا کہ بہادر قبائلی عوام پاکستانی قوم و افواج کے شانہ بشانہ دشمن کا مقابلہ کرتے ہوئے پاک دھرتی کے ایک ایک انچ کا دفاع کریں گے جبکہ قبائلیوں کامشترکہ لشکر تشکیل دینے کے لئے قبائلی علاقے کے تمام قبائل کا گرینڈ جرگہ بلانے پر بھی سنجیدگی سے غور کیا جا رہا ہے ۔غیر ملکی جریدے کے مطابق دونوں امریکی ایف 18ہارنیٹ طیارے بگرام ائیر بیس سے پاک افغان سرحد کی نگرانی کے لئے بھیجے گئے لیکن انہوں نے پاک افغان سرحد سے فضائی حدود کی خلاف ورزی کرتے ہوئے شمالی وزیر ستان اور باجوڑ کی جانب بھی 11منٹ تک پروازیں کیں جس پر پاک فضائیہ کے دو ایف سولہ طیاروں کی آمد کے فورا بعد امریکی طیارے افغانستان روانہ ہوگئے ۔ مقامی قبائلی عمائدین کا کہنا ہے کہ دوسری جانب پاک افغان سرحد پرامریکی جاسوس طیاروں کی پروازیں جاری ہیں اور مبینہ طور پر افغانستان سے کئی عسکریت پسند افغان فوج کی زیر نگرانی پاکستانی قبائلی علاقوں میں داخل ہوئے ہیں جس کے باعث آئندہ دنوں میں پاک فوج کو زیادہ مزاحمت کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔جبکہ مریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ کی رپورٹ کے مطابق اب تک یہ بات واضح ہے کہ پاک فوج اور سیکیورٹی فورسز میں دہشت گردوں کو ختم کرنے کی صلاحیت نہیں ہے اور شاید یہ چند طالبان کمانڈروں کی حمایت بھی کر رہے ہیں۔ ”امریکا کے طالبان اور القاعدہ کے ٹھکانوں پر خطر اور ضروری حملے“ کے عنوان سے شائع ہونیوالے مضمون میں کہا گیا ہے کہ پاک آرمی نے انتہا پسندوں کے ساتھ ایسے امن معاہدے کئے ہیں جو انہیں افغانستان میں جا کر حملے کرنے سے نہیں روکتے۔ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ پاکستانی انٹیلی جنس سروس 7 جولائی کو کابل میں بھارتی سفارتخانے پر ہونے والے خود کش حملے میں ملوث ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مذکورہ صورتحال میں امریکی صدر کا وہ مبینہ فیصلہ انتہائی ضروری ہوگیا تھا جس کے تحت امریکی فورسز نے قبائلی علاقوں پر حملے کرنا تھا۔ امریکی اخبار نے خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹیڈ پریس کے حوالے سے بتایا ہے کہ گزشتہ ماہ امریکا کے پریڈیٹر طیاروں نے قبائلی علاقوں میں مجموعی طور پر 7 میزائل حملے کئے ہیں جس میں امریکی اسپیشل سروسز کی زمینی کارروائی بھی شامل ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کو بدتر معاشی بحران سے نکالنے اور قبائلی علاقوں میں اقتصادی ترقی کے ساتھ انسداد دہشت گردی کے بامقصد پروگرام کیلئے پاکستان کے نو منتخب صدر آصف علی زرداری کو زبردست امریکی حمایت کی ضرورت پڑے گی۔ رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس بات کا خطرہ موجود ہے کہ امریکی حملوں کے نتیجے میں پاکستان اور امریکا کی فوجوں کے درمیان تعلقات ختم ہوجائیں یا پھر آصف زرداری کی منتخب جمہوری حکومت غیر مستحکم ہوجائے۔ یہ حکومت اس حد تک دوستانہ ہے جس کی امریکا صرف امید ہی کرسکتا ہے۔ کچھ ماہرین دلائل دیتے ہیں کہ امریکی حملے طالبان کی حمایت میں اضافے کر رہے ہیں تاہم امریکی کمانڈروں کا کہنا ہے کہ افغانستان میں اس وقت تک کامیابی نہیں مل سکتی جب تک پاکستان میں طالبان کے ٹھکانے کم نہ ہوجائیں۔ پاک امریکا تعلقات اور پاکستان کے سیاسی نظام کو کسی اور سے نہیں بلکہ سب سے زیادہ خطرہ اس بات سے ہے کہ قبائلی علاقوں میں گیارہ ستمبر سے بھی زیادہ خطرناک حملوں کی منصوبہ بندی کی جائے۔ امریکی کمانڈوز اور میزائل حملوں کے ساتھ بہترین انٹیلی جنس شامل ہونا چاہئے اور اس عمل میں شہریوں کی کم سے کم ہلاکت کو یقینی بنایا جائے۔ امریکا کے نائب وزیر خارجہ برائے جنوب اور و سطی ایشیا رچرڈ باو¿چر نے کہا ہے کہ پاکستان اور امریکا کے مابین تعلقات میں کوئی دراڑ نہیں ہے اور دونوں ممالک نے باہمی قریبی رابطہ برقرار رکھا ہوا ہے امریکا پاکستان سے اپنے تعلقات کی اب بھی قدر کرتا ہے کیونکہ اسلام آباددہشتگردی کے خلاف جنگ میں قابل تعریف اتحادی رہا ہے اسلام آباد اور واشنگٹن کے درمیان تعلقات میں تلخی سے متعلق سوچنے کی کوئی بظاہر وجہ نہیں ہے۔ دونوں ممالک متعدد شعبوں میں ایک دوسرے سے تعاون کررہے ہیں اور میرے خیال میں یہ دعویٰ کرنا درست نہیں ہوگا کہ دونوں کے مابین تعلقات میں کوئی خرابی پیدا ہوگئی ہے رچرڈ باو¿چر نے کہا کہ امریکی قیادت آئندہ ایک دو ہفتے میں پاکستان سے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں شرکت کیلئے آنیوالے وفد مثبت بات چیت کریگی اور مجھے یقین ہے کہ ہمارا تبادلہ خیال تعلقات کا احاطہ کرے گا۔بھارت پاکستان کی پھیلی ہوئی جوہری تنصیبات کو آسانی سے ہدف نہیں بناسکتا،پاکستان کی جدید نیوکلیئر کمانڈ کی کچھ حفاظتی پرتیں خفیہ امریکی پروگرام کی مددسے نصب کی گئی ہیں۔یہ بات نیویارک ٹائمز کی ایک حالیہ رپورٹ میں کہی گئی ہے۔ تفصیلات کے مطابق رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ” مسئلہ یہ ہے کہ شمالی کوریا کے مقابلے میں پاکستان کے پاس جوہری مواد کابڑا ذخیرہ موجود ہے اور یہ مزید مواد زیادہ تیزی سے تیار کرسکتا ہے۔اس کی جوہری تنصیبات پھیلی ہوئی ہیں،اس لیے بھارت ان سب پر آسانی سے حملہ نہیں کرسکتا ۔پاکستان کا خفیہ ادارے، آئی ایس آئی کی ہمدردیاں انتہائی منقسم ہیں،ان میں بہت سے طالبان اور انتہاپسندی کی کارروائیوں کی حمایت کرتا ہے۔اور پاک فوج کا بڑا حصہ زیادہ بہتر نہیں ہے ۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ” حقیقت یہ ہے کہ غیرمستحکم جوہری طاقتوں کے بارے میں خدشات نے واشنگٹن کے حکام کی سوچ کو تبدیل کرنا شروع کردیا ہے،جو بنیادی طور پر اس ناخوشگوار منظرنامے پر اپنی توجہ مرکوز کیے ہوئے ہیں کہ جوہری ہتھیارکسی حکومت سے براہ راست کسی دہشت گرد گروپ کو منتقل ہوسکتا ہے۔ نئی توجہ اس بات پر مرکوز ہے کہ حکومت میں جوہری ہتھیاروں کا کنٹرول کن ہاتھوں میں ہوگا، خاص طور پر ایسے وقت میں جب ملک میں شدید ابتری کی صورتحال ہو۔ رپورٹ کے مطابق پاکستان کے پاس جدید نیوکلیئرکمانڈ اتھارٹی ہے،جو تحفظ کے حوالے سے تہہ درتہہ نظام پر مشتمل ہے ،ان میں سے کچھ تہوں کو خفیہ امریکی پروگرام کی مدد سے نصب کیا گیا جس پر 10کروڑڈالر پہلے ہی خرچ کیے جاچکے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق پاکستانی جوہری ہتھیاروں کی مانیٹرنگ کرنے والے ایک سینئرامریکی انٹیلی جنس عہدیدار نے جو ریکارڈ پر آکر بات کرنے سے گریزاں ہے، کا کہنا ہے کہ ”آج ہمارا سب سے بڑامسئلہ ریاستوں کے اندر ایسے گروہ ہوسکتے ہیں ،جو سیاسی افراتفری سے فائدہ اٹھا کر وہ کچھ قبضہ کرسکتے ہیں جو وہ چاہتے ہیں۔چاہئے اسے فروخت کردیں یا اسے ملک کی قیادت حاصل کرنے کی جدوجہد میں کامیابی کے لیے استعمال کریں۔رپورٹ کے مطابق خوفزدہ ہونے کی ایک وجہ اس وقت تک ہے جب تک فوج ان(جوہری ہتھیاروں)کی انچارج ہے۔رپورٹ کے مطابق اس (فوج)کے رہنما مشرف کے پیروکار ہیں تاہم ان کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ وہ پیشہ وارنہ فوجی ہیں،اوراس طرح وہ ذمہ دار شخصیات ہیں۔لیکن اس وقت ملک کی متحدہ قیادت اہمیت رکھتا ہے ۔رپورٹ کے مطابق اس بات پر غور کرتے ہوئے کہ کس قدر بھاری ٹیکنالوجی پہلے ہی ان دونوں ممالک سے خفیہ طور پر نکل چکی ہے،موجود تاریخ خاص کر پاکستان اور شمالی کوریا دونوں کے بارے میں یقین دہانی کا اعادہ نہیں کرتا۔امریکا کی جانب سے فاٹا کے قبائلی علاقوں پر حملے کی دھمکی کے بعد شمالی و جنوبی وزیرستان ایجنسی کے قبائلیوں نے جنگی حکمت عملی پر کام تیزی سے شروع کردیا جبکہ فاٹا میں جنرل کیا نی کی تصویر کی مانگ میں اضافہ ہو گیاہے اور گذشتہ اتوار کو جنرل کیا نی کی ایک تصویر 200روپے میں فروخت ہو ئی، بلند و بالا پہاڑوں کے سر وں پر زمین دوز مورچوں کی تعمیر کے کام میں تیزی لانے کے علاوہ پہاڑوں کے دامن میں غاروں کی تعمیر پر بھی کام تیزی سے جاری ہے اور فرنگی دور میں بنائے جانیوالے پہلے سے موجود غاروں کی صفائی کا کام بھی تیزی سے جاری ہے، فرنگیوں سے نمٹنے کیلئے بھی قبائلیوں نے پہاڑوں اور جنگلوں میں غاریں بنا کر ان کے خلاف چھاپہ مار جنگ شروع کی تھی جس کی وجہ سے فرنگیوں کو بھی بر صغیر پاک و ہند سے پاو¿ں اکڑنے کی پہل وزیرستان سے ہوئی تھی، مورچوں اور غارو ں کی تعمیر کے کام میں عام لوگ بہت زیادہ حصہ لے رہے ہیں، چیف آف آرمی سٹا ف جنرل پرویز کیا نی کی طرف سے پاکستان کے قبائلی علاقوں میں کسی بیرونی قوت کو کارروائی کی اجازت نہ دینے کے بیان نے جنرل کیانی کی مقبو لیت میں بے پناہ اضافہ کر دیا ہے اوران کی تصاویر دھڑا دھڑ فروخت ہو رہی ہیں۔ جمہوری عمل کو تکمیل اور آصف علی زرداری کے صدر مملکت ہونے کے بعد پاکستان کے اندرونی اور بیرونی حالات کے پیش نظر پاکستان کی خارجہ پالیسی میں نمایاں تبدیلیاں متوقع ہیں صدر مملکت آصف علی زرداری 20 ستمبر کو پارلیمنٹ سے کیے جانے والے خطاب میں خود مختار اور قومی خارجہ پالیسی کے واضح قومی اصولوں کا اعلان کرینگے، صدر کے حالیہ برطانیہ جمہوریہ، چین اور اقوام متحدہ میں کیے جانے والے خطاب انتہائی اہمیت کے حامل ہیں۔ پاکستان ایک آزاد خود مختار اور جمہوری ملک ہے اور صدر مملکت آصف علی زرداری کی زیر قیادت خود مختار خارجہ پالیسی کا آغاز ہوگا۔اے پی ایس

No comments: