
پاکستان کے صدر آصف علی زرداری پارلیمنٹ سے اپنے پہلے خوشگوار خطاب اور اسی رات میریٹ ہوٹل اسلام آباد سانحہ کے سوگ کے ساتھ اقوام متحدہ کے سالانہ اجلاس میں شرکت کے سلسلہ میں امریکا چلے گئے۔ صدر بننے کے بعد ان کا یہ پہلا دورہ امریکا تھا جہاں وہ نیو یارک میں امریکا کے صدر جارج ڈبلیو بش اور دیگر عالمی رہنماوں سے پاکستان کے موجودہ اقتصادی حالات اور دہشت گردی کے حالیہ واقعات خاص کر میریٹ اسلام آباد کے افسوسناک حادثہ کے پس منظر میں فاٹا سمیت باہمی دلچسپی کے دیگر امور پر تفصیلی بات چیت کی۔ نیویارک میں اقوام متحدہ کے سالانہ اجلاس میں امریکی صدر جارج بش کا یہ الوداعی خطاب تھا۔ اس کے بعد وہ دو ماہ بعد 5 نومبر کو ہونے والے امریکا کے صدارتی انتخاب کے بعد اپنی صدارتی ذمہ داریوں سے سبکدوش ہو جائیں گے تاہم اس کے باوجود عالمی سطح پر امریکی صدر بش کے ساتھ صدر آصف زرداری کی ملاقات کو خاصی اہمیت دی گئی ہے۔ اس ملاقات میں پاکستان میں جمہوریت کے استحکام اور امن و امان کی صورتحال کی بہتری کے حوالے سے بھی کئی اہم امور زیربحث آئے ہیں۔ جبکہ امریکی صدر کی طرف سے پاکستان کو دہشت گردی کے خلاف پہلے سے بھی زیادہ بھرپور کردار ادا کرنے کے لئے کہا گیا ہے اور اس کے بدلے میں پاکستان کو زیادہ سے زیادہ اقتصادی امداد کی یقین دہانی بھی کرائی گئی ہے ۔ اس سلسلے میں امریکا اور برطانیہ کی طرف سے نیو یارک ہی میں اقوام متحدہ کی عمارت میں ”فرینڈز آف پاکستان“ کے نام سے ایک کانفرنس بھی منعقد کی گئی ۔ جس میں دنیا کے 8بڑے ممالک کے علاوہ سعودی عرب اور دیگر کئی اسلامی ممالک کے سربراہ اور نمائندے بھی شریک ہوئے۔ اس کانفرنس میں پاکستان کے موجودہ اقتصادی بحران کے فوری حل کے لئے ”بیل آرٹ پیکیج“ پر غور کیا کیا گیا۔ جس کے تحت پاکستان کو طویل المیعاد اور مختصر المیعاد پروگرام کے تحت 8ارب سے 10ارب ڈالر کی اقتصادی امداد کا اعلان متوقع ہے۔ اس کانفرنس میں پاکستان میں دہشت گردی کے بڑھتے ہوئے واقعات پر اجتماعی طور پر تشویش کا اظہار بھی کیا گیا اور اس حوالے سے پاکستان کو مالی، اقتصادی، صنعتی و تجارتی اور تکنیکی شعبوں میں بھرپور اور عملی تعاون کی یقین دہانی کرائی گئی ہے۔ پاکستان کے موجودہ اقتصادی حالات اور دہشت گردی کے حالیہ افسوسناک واقعہ کے تناظر میں صدر آصف زرداری کا دورہ نیو یارک کافی اہمیت کا حامل تھا۔ اس سے پاکستان کے آئندہ سیاسی اور اقتصادی حالات پر یقینا بڑے دور رس اثرات مرتب ہوں گے ۔ اس حوالے سے مستقبل میں پاکستان میں سرحد اور دیگر مقامات پر دہشت گردی کے خلاف آپریشن مزید تیز کر دیا جائے گا۔ صدر مملکت آصف علی زرداری نے دہشت گردوں کے خلاف جنگ کو پاکستان کی جنگ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستانی فوج کو اپنا کام کرنے دیا جائے اورامریکی فوجیوں سے کہا ہے کہ وہ پاکستانی سرزمین سے دور رہیں، انہوں نے کہا کہ ہم دہشت گردی کے خاتمہ کا ٹھوس عزم رکھتے ہیں، انہوں نے واضح کیا کہ غیر ملکی فورسز کا پاکستانی علاقہ میں داخلہ اقوام متحدہ کے منشور کی خلاف ورزی ہے،انہوں نے دنیا کی مدد سے دہشت گردوں کو شکست دینے کے عزم کا بھی اظہار کیا،قبل ازیں صدر کا نیو یارک پہنچنے پر پ±رتپاک خیر مقدم کیا گیا ،صدر زرداری کی صدر بش سے بھی ملاقات ہوئی۔،احمدی نڑاد، نکولس سرکوزی، منموہن ، وین جیاباو¿، عبداللہ گل، حامد کرزئی و دیگر رہنماو¿ں سے بھی ملاقات کی۔ صدر زرداری نے امریکا میں ایک ٹی وی چینل کودیئے گئے انٹرویو میں کہا کہ پاکستان اپنی سرزمین پر داخل ہونے والی کسی بھی امریکی فورسز کو واپس جانے کیلئے کہے گا جنہیں واپس جانا ہو گا پاکستان دہشت گردی کے خاتمہ کا ٹھوس عزم رکھتا ہے اور صرف ہماری افواج ہی اپنی سرزمین پر دہشت گردی کے خاتمہ کیلئے کارروائی کی ذمہ دار ہیں اور کسی بھی غیر ملکی فورسز کا پاکستانی علاقہ میں داخلہ اقوام متحدہ کے منشور کی خلاف ورزی ہو گی۔ انہوں نے اس اعتماد کا اظہار کیا کہ پاکستان اتحادی ممالک کے تعاون سے دہشت گردی کی لعنت کو شکست دے سکتا ہے۔ پاکستان دنیا کے تعاون سے دہشت گردی کے خاتمہ کی صلاحیت رکھتا ہے اور ہم اس کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ دہشت گرد پاکستان میں جمہوریت کو چیلنج کر رہے ہیں، پاکستانی عوام اور دنیا کو چیلنج کر رہے ہیں۔ اسلام آباد میں میریٹ ہوٹل کے بم دھماکے کی شدید مذمت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ انہیں دہشت گردی کے اس واقعہ میں قیمتی جانی نقصان پر بڑا دکھ ہوا ہے۔ صدر مملکت نے کہا کہ پاکستان دہشت گردی کے خاتمہ کیلئے دنیا کے ساتھ متحد ہے اور دہشت گردوں کو دنیا کے ساتھ مل کر شکست دی جائے گی۔ صدر زرداری نے کہا کہ حکومت میں آنے کے فوراً بعد ہم نے تمام صورتحال کی ازسرنو تشریح کی اور دہشت گردی کے خلاف جنگ کو اپنی جنگ قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ میرے لئے یہ سیاسی طاقت کا سوال ہے کہ لوگوں کے پاس جا کر انہیں بتایا جائے کہ یہ ہماری جنگ ہے۔ پاکستان دہشت گردی کے خاتمہ کی پہلے ہی کوششیں کر رہا ہے، ہم دہشت گردوں کو گرفتار کریں گے، ہمیں انٹیلیجنس دی جائے، ہم اپنا فرض ادا کریں گے اور پاکستانی فورسز بہتر طور پر کام کر سکتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم اپنی سرزمین پر داخل ہونے والے کسی بھی امریکی فوجی کو واپس بھیج دیں گے۔قبل ازیں صدر آصف علی زرداری اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 63ویں اجلاس میں شرکت کیلئے 5 روزہ دورہ پر پیر کو نیویارک پہنچے ۔ سینئر امریکی حکام نے امریکہ پہنچنے پر صدر کا پرتپاک خیر مقدم کیا۔ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی، وزیر اطلاعات شیری رحمان، وفاقی وزیر خزانہ نوید قمر، قومی سلامتی کے مشیر محمود درانی اور اعلیٰ حکام بھی ان کے ہمراہ تھے۔ صدر زرداری نے امریکہ میں قیام کے دوران انتہائی مصروف وقت گزارا۔ اپنی آمد کے بعد پہلے روز امریکی صدر بش کی جانب سے جنرل اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کرنے والے سربراہان مملکت و حکومت کے اعزاز میں دیئے جانے والے استقبالیہ میں بھی انھوں نے شرکت کی۔ اسی روز امریکہ کے نائب وزیر خزانہ نے بھی صدر مملکت سے ملاقات کی۔ صدر زرداری اور امریکی صدر جارج ڈبلیو بش کے درمیان باضابطہ ملاقات بھی ہوئی جس میں پاکستان اورامریکہ کے باہمی تعلقات، دوطرفہ امور، دنیا کو درپیش دہشت گردی اور انتہا پسندی جیسے خطرات اور باہمی دلچسپی کے دیگر معاملات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ امریکی صدر بش نے صدر زرداری سے ملاقات کے دوران انہیں یقین دلایا کہ ہم پاکستان کی خود مختاری کا احترام کرتے ہیں ،دو طرفہ تعلقات کو مضبوط اور مستحکم بنانا چاہتے ہیں،معاشی استحکا م کیلئے بھرپور مدد کرینگے،جبکہ پاکستانی صدر آصف زرداری کا کہنا تھا کہ عالمی امن کے لئے مل کر کام کیا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ سنگین مسائل کا سامناہے لیکن ہم انہیں خود حل کر لیں گے، دونوں رہنماو¿ں کی ملاقات نیویارک میں خوشگوار ماحول میں ہوئی، اس دوران دہشت گردی کے خلاف دو طرفہ تعاون‘ اقتصادی اور معاشی تعاون اور دوطرفہ تعلقات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 63 ویں اجلاس کے موقع پر صدر آصف علی زرداری سے اپنی پہلی ملاقات کے دوران بات چیت کرتے ہوئے صدر بش نے دہشت گردی کے خلاف پاکستان کے دفاع کے حق کو بھی تسلیم کیا۔ انہوں نے اسلام آباد میں حالیہ دہشت گرد حملے کے نتیجے میں ہونے والے جانی نقصان پر تعزیت کی۔ انہوں نے کہا کہ ہم پاکستان کو خودمختار دیکھنا چاہتے ہیں اور مسائل کو مل کر حل کریں گے۔ امریکی صدر نے کہا کہ وہ پاکستان کے ساتھ تعلقات کو مضبوط اور مستحکم بنانا چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہماری دوستی بہت پرانی ہے اور دونوں ملک مل کر کام کریں گے۔ انہوں نے امریکہ آنے پر صدر زرداری کا شکریہ بھی ادا کیا۔ ملاقات میں وزیر خارجہ شاہ محمودقریشی‘ وزیر خزانہ سید نوید قمر‘ وزیر اطلاعات شیری رحمن اور قومی سلامتی کے مشیر محمود علی درانی نے صدر زرداری جبکہ امریکی وزیر خارجہ کونڈولیزا رائس اور دیگر اعلیٰ حکام نے امریکی صدر کی معاونت کی۔ ملاقات کے دوران دہشت گردی کے خلاف دو طرفہ تعاون‘ اقتصادی اور معاشی تعاون اور دوطرفہ تعلقات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔دونوں صدور کی ملاقات والڈورف ایسٹوریا ہوٹل میں ہوئی جہاں امریکی صدر کا قیام ہے یہ ملاقات تقریباً ایک گھنٹے جاری رہی۔ امریکی صدر نے پاکستان کے نو منتخب صدر کو خوش آمدید کہا اور اپنے ملک کی جانب سے تعاون کا یقین دلایا۔ دونوں رہنماو¿ں میں دو طرفہ تعلقات پر تبادلہ خیال ہوا۔ صدر بش نے اختتام ہفتہ پر اسلام آباد میں ہونے والے بم دھماکے میں جانی نقصان پر گہرے دکھ کا اظہار کیا۔ صدر زرداری پر اعتماد تھے کہ پاکستان درپیش مسائل پر قابو پا لے گا۔ انہوں نے کہا کہ ملک کو جو مسائل درپیش ہیں ان کا جواب جمہوریت ہے۔صدر بش نے صدر زرداری کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ” میں آپ کی آمد کا شکرگزار ہوں اور میں آپ سے ملاقات کا انتظار کر رہا تھا آخر پاکستان ایک قریبی اور اہم دوست ہے“۔ بیجنگ اولمپکس کے موقع پر بلاول بھٹو زرداری اور ان کی دو بہنوں سے ملاقات کو یاد کرتے ہوئے صدر بش نے کہا کہ انہیں صدر زرداری کے بارے میں دلچسپ انداز میں اس وقت معلوم ہوا تھا جب ان کے بچوں سے اولمپکس کے موقع پر ملاقات ہوئی تھی۔ انہوں نے کہا کہ ” اس سے مجھے آپ کا وہ عظیم دکھ بھی یاد آیا جس سے آپ اہلیہ کو کھو دینے کے موقع پر گزرے اور میں اس بات پر آپ کا بہت شکرگزار ہوں کہ آپ اپنی اہلیہ کے ورثے کے احترام میں عوامی خدمت میں شامل رہے ہیں“۔ انہوں نے کہا کہ وہ اس بات پر تبادلہ خیال کریں گے کہ خوشحالی کو پھیلانے میں کس طرح مدد کی جائے ہم دنیا بھر میں اپنے دوستوں کے لئے اچھی زندگی کے خواہش مند ہیں۔ ہم ان کیلئے معاشی خوشحالی چاہتے ہیں اور ہم مل کر کام کر سکتے ہیں اور یقیناً ہم سیکورٹی کے متعلق بھی بات کریں گے۔ امریکی صدر نے کہا کہ آپ نے اپنے ملک کے تحفظ کے فرض اور پاکستان کی سالمیت کے حق کے حوالے سے بہت ٹھوس گفتگو کی ہے۔ امریکا کی موجودہ معاشی مشکلات کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے صدر بش نے کہا کہ عالمی رہنما سوچ رہے ہیں کہ آیا امریکا کے پاس موجودہ معاشی بحران سے نمٹنے کا کوئی ٹھیک منصوبہ ہے یا نہیں۔ میں نے انہیں یقین دلایا ہے کہ سیکرٹری پالسن نے اس سنگین مسئلے سے نمٹنے کیلئے بہت مضبوط منصوبہ بنایا ہے اور اب وہ ہماری کانگریس کے متعلق سوچ رہے ہیں میں نے انہیں یہ بھی یقین دلایا ہے کہ میں نے کانگریس میں دونوں سیاسی جماعتوں کے رہنماو¿ں سے بات کر لی ہے اور ان میں فورا کچھ کرنے کی خواہش موجود ہے۔ صدر بش نے یادہانی کرائی کہ جب قانون سازی کا عمل ہوتا ہے تو قدرتی طور پر کچھ لو اور کچھ دو ہوتا ہے۔ صدر زرداری نے صدر بش کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ میں آپ کے خیالات کا شکریہ ادا کرتا ہوں، ہمیشہ کی طرح آپ نے دنیا پر ثابت کر دیا ہے کہ ہم پاکستانی آپ کے دل میں رہتے ہیں۔ ہم آپ کے احساسات، امریکی آئیڈیل کا احترام کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جمہوریت کا حلقہ مکمل ہو چکا ہے اور اس میں دنیا بھر سے تمام دوستوں کی مدد شامل رہی ہے اور ہم جمہوریت کیلئے مدد کرنے پر شکر گزار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جمہوریت سب باتوں کا جواب ہے ہم تمام مسائل حل کر لیں گے، ہم ایک صورتحال کا شکار ہیں ہمارے مسائل ہیں لیکن ہم انہیں حل کر لیں گے اور چیلنج پر پورا اتریں گے۔ میری اہلیہ کی وراثت یہی ہے۔ جمہوریت یہی ہے کہ مشکل فیصلے کئے جائیں اور اپنے ملک کے عوام کیلئے درست کام کیا جائے۔ اس مشکل وقت میں ہمیں ایک دوسرے کے قریب آنا چاہیے، ہم دنیا کے ساتھ اپنی ذمہ داری میں حصہ دار بنیں گے۔اطلاعات کے مطابق ملاقات میں صدر بش نے پاکستانی حدود میں امریکی حملوں کا کوئی ذکر نہیں کیا۔صدرآصف زرداری کی ملاقات کو دو حصوں پر مشتمل قرار دیا جاسکتا ہے ایک وہ حصہ جب دونوں صدر کے معاونین شامل تھے اور صدر بش اور ورزاء نے صحافیوں کے سامنے ایک دوسرے ملک کیلئے ابتدائی کلمات ادا کئے ملاقات کا دوسرا حصہ وہ تھا۔جب صدر زرداری اور صدربش کے درمیان 20 منٹ کی ون ٹو ون ملاقات ہوئی ۔ قبل ازیں صدر آصف علی زرداری نے گزشتہ شب صدر بش کی جانب سے دیئے گئے عشائیہ میں شرکت کی۔ صدر بش نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 63 ویں اجلاس میں شرکت کیلئے آنے والے سربراہان مملکت و ریاست کے اعزاز میں عشائیہ دیا تھا جس میں کئی ممالک کے سربراہان نے شرکت کی۔ امریکی صدر جارج ڈبلیو بش نے کہا ہے کہ پاکستان اور سعودی عرب دہشت گردی سے نمٹنے کیلئے موثر کردار ادا کر رہے ہیں، اسلام آباد کے میریٹ ہوٹل میں خود کش حملہ کھلی جارحیت ہے اور دہشت گردی کی کارروائی ہے، افغانستان میں طالبان کو دوبارہ برسراقتدار نہیں آنے دیا جائے گا، شام اور ایران دونوں دہشت گردوں کی حمایت کر رہے ہیں۔ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے اپنا آخری خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ دہشت گرد قرآن پاک، توریت اور بائبل کے احکامات کی خلاف ورزی کر رہے ہیں اور دہشت گردوں کو انصاف کے کٹہرے میں لانا کوئی دہشت گردی نہیں۔ انہوں نے کہا کہ اسلام آباد بم دھماکہ دہشت گردی کی کارروائی ہے اور دہشت گردی کے خاتمہ کیلئے امریکہ جمہوری قوتوں کا ساتھ دیتا رہے گا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اور سعودی عرب نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں انتہائی موثر کردار ادا کیا ہے اور ان کا کردار لائق تحسین ہے۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردوں کے خلاف اقوام عالم کو متحد ہونا ہو گا اور قرارداد پاس کرنے کی بجائے اس کی روک تھام کیلئے موثر اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایران اور شام دہشت گردوں کی حمایت کر رہے ہیں اور شمالی کوریا اور ا یران کو ایٹمی ہتھیاروں کے حصول سے روکنے کیلئے مزید سخت پابندیاں لگانا ہوں گی۔ انہوں نے کہا کہ افغانستان کو ایک بار پھر طالبان کی جنت نہیں بننے دیں گے اور طالبان اب کبھی دوبارہ برسراقتدار نہیں آ سکتے۔ انہوں نے کہا کہ آزاد ریاست فلسطینیوں کا حق ہے اور انہیں اس حق سے محروم نہیں رکھا جا سکتا۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بان کی مون نے جنرل اسمبلی کے اجلاس کا افتتاح کرتے ہوئے عالمی رہنماو¿ں پر زور دیا ہے کہ وہ عالمی سطح پر درپیش مشکلات اور مسائل کے پیش نظر ملکی مفاد کی بجائے پوری دنیا کے مفادات کو مدنظر رکھیں۔ انہوں نے کہا کہ دنیا کو آج حقیقی معنوں میں عالمی قیادت کی ضرورت ہے۔ توانائی، خوراک اور معیشت کے بحرانوں پر قابو پانے کیلئے مشترکہ اقدامات کئے جائیں۔ جبکہ صدر آصف علی زرداری نے یہ بھی کہاہے کہ پاکستان اس وقت حالت جنگ میں ہے اور حالات کا مقابلہ کرنے کیلئے نیا پلان بنانا ہو گا صدر بش نے پاکستان کی خود مختاری کے احترام کا یقین دلایا ہے مسئلہ کشمیر کور ایشو ہے اور اس مسئلے کو جنرل اسمبلی کے اجلاس اور بھارتی وزیراعظم سے ملاقات کے دوران اجاگر کیا جائے گا دورہ امریکہ سرکاری نہیں پہلا دورہ چین کا ہو گا آئی ایس آئی کے کردار پر امریکی حکام نے کوئی بات نہیں کی جسٹس افتخار چوہدری کی بحالی کا معاملہ پارلیمنٹ ہی طے کرے گی دہشت گردی پر امریکہ اور پاکستان کا موقف ایک ہے۔ ان خیالات کا اظہار صدر مملکت نے نیو یارک میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا صدر مملکت نے کہاکہ میں نے اہم علاقائی رہنماوں سے ملاقات کی ہے جس کے مفید نتائج سامنے آئے ہیں ایک سوال پر آصف علی زرداری نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ ہماری اپنی جنگ ہے جس کے خلاف ہم لڑ رہے ہیں او رپاکستانی عوام ہمارے ساتھ دے رہی ہے صدر بش کے ساتھ اپنی ملاقات کے بارے میں انہوں نے کہاکہ میرا امریکہ کا یہ غیر سرکاری دورہ ہے میں دراصل اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں خطاب کرنے آیا ہوں اس لئے میں ان سے بہت سے معاملات پر بات نہیں کرسکا۔ تاہم ملاقات میں صدر بش نے پاکستان کی خود مختاری کے احترام کا یقین دلایا ہے ایک سوال پر انہوں نے کہاکہ ہم یہاں مدد مانگنے نہیں آئے تاہم پاکستان کو کسی امدادی پیکج کی پیشکش نہیں کی گئی اور نہ ہی اس سلسلے میں کوئی بات ہوئی ہے انہوں نے کہا کہ امریکہ کا دورہ میرا سرکاری نہیں پہلا سرکاری دورہ چین کا ہو گا جب میرا امریکہ کا سرکاری دورہ ہو گا اس میں تمام معاملات کو سلجھایا جائے گا آئی ایس آئی کے بارے میں سوال پر صدر مملکت نے کہاکہ آئی ایس آئی کے کردار پر امریکی حکام نے کوئی بات نہیں کی ایرانی صدر احمدی نڑاد کے بارے میں آصف علی زرداری سے پوچھے گئے اس سوال پر کہ کیا آپ بھی ان کی طرح جرات کا مظاہرہ کریں گے جواب میں صدر زرداری نے کہا کہ میں تو اپنے آپ کو بہت کمزور سمجھتا ہوں لیکن کیس کی وکالت میں ہر صورت کرنے کو تیا رہوں ۔جب میں جنرل اسمبلی میں بے نظیر کی تصویر کے ساتھ کھڑا ہو کر خطاب کروں گا تو یہ میرا بہت بڑا امتحان ہو گا انہوں نے کہاکہ پاکستان اس وقت حالت جنگ میں ہے اور پاکستان کے عوام اور پاکستان کمزور نہیں ہیں پاکستان کے عوام متحد ہو کر اس آزمائش کا مل کر مقابلہ کریں گے کشمیر کے مسئلے کے بارے میں انہوں نے کہاکہ یہ ایک کور ایشو ہے اور اس پر ہمارا موقف وہی ہے جو ذوالفقار علی بھٹو اور بے نظیر بھٹو کا تھا ایرانی صدر کے ساتھ ملاقات اور گیس پائپ لائن کے بارے میں سوال پر انہوں نے کہاکہ اس معاملے میں بات چیت ہوئی ہے آئندہ وزراء کے درمیان ملاقاتوں میں گیس پائپ لائن کا معاملہ طے کیاجائے گا اور اسے آگے بڑھایاجائے گا انہو ںنے کہاکہ یہ سات بلین کا پراجیکٹ ہے اور ہمیں اپنے مسائل کو بھی دیکھنا ہو گا اس بارے میں ایران کا تعاون ہمارے ساتھ ہے اور اس سلسلے میں بات چیت آگے بڑھی ہے انہوں نے اس بارے میں کوئی وضاحت نہیں کی کہ آیا صدر بش سے ملاقات کے دوران انہوں نے فاٹا میں جاری امریکی حملے روکنے کی کوئی یقین دہانی کرائی ہے صدر آصف علی زرداری نے کہا کہ صدر بش نے پاکستان میں معاشی بحران میں تعاون کا یقین دلایا ہے ۔ ایک سوال پر صدر مملکت نے کہا کہ دہشت گردی خواہشوں اور امیدوں سے فتح نہیں ہو سکتی اس کے لیے عملی مظاہر ہ کرنا ہو گا ۔ صدر زرداری نے کہا کہ وہاں ملاقاتوں کے دوران میں اس خواہش کا اظہار کیا کہ امریکی اور یورپی سرمایہ کار پاکستان میں سرمایہ کاری کریں انہوں نے کہا کہ یورپی اور امریکی پا کستان کی حمایت کرتے ہیں ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ پاکستان ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی اخلاقی اور قانونی مدد جاری رکھے ہوئے ہے۔ صدر زرداری نے کہا کہ میں جنرل اسمبلی کے اجلاس میں اس انداز سے بات کروں گا جو بے نظیر بھٹو چاہتی تھیں انہوں نے کہا کہ کشمیر پاکستان کا ایک اہم ایشو ہے اور اجلاس میں وہ اس مسئلے کو سامنے رکھیں جس میں ذوالفقار علی بھٹو نے اس حوالے سے اپنے موقف کا اظہار کیا تھا ۔ میں بھی اسی موقف کو لے کر آگے چلوں گا اور بھارتی وزیراعظم ڈاکٹر من موہن سنگھ سے بھی مسئلہ کشمیر سمیت پاکستان اور بھارت کے تعلقات کو بڑھانے اور دیگر منصوبوں پر تبادلہ خیال ہو گا انہوں نے کہا دہشت گردی کے خلاف جنگ پاکستان پر ایک بہت بڑی مصیبت ہے جسٹس افتخار چوہدری کی بحالی کے سوال پر صدر آصف علی زرداری نے کہا کہ اس کا فیصلہ پارلیمنٹ کرے گی ن لیگ اور پی پی پی کے اتحاد کے بارے میں صدر مملکت نے کہا کہ میں اب بھی میاں نواز شریف کو اپنا بڑا بھائی سمجھتا ہوں لیکن ن لیگ والے یہ سب کچھ ختم کرنا جا رہی ہے اور جو ایک اچھا ماحول بنا ہوا ہے اس کو خراب کیا جائے ۔انہوں نے دہشت گردی کی مذمت کی۔جبکہ پاکستان کے صدر آصف زرداری اور بھارتی وزیر اعظم منموہن سنگھ کے درمیان ہونے والی ملاقات میں طے پایا ہے کہ پاکستان اور بھارت تین ماہ کے اندر امن مذاکرات کا سلسلہ دوبارہ شروع کریں گے۔اقوام متحدہ کے تریسٹھویں اجلاس کے موقع پر وزیر اعظم منموہن سنگھ اور آصف زرداری کے درمیان نیویارک کے ملینیم ہوٹل میں ہونی والی ملاقات کے بعد جاری ہونے والی ایک مشترکہ اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ دونوں رہنماوں نے امن مذاکرات کے رکے ہوئے عمل کو دوبارہ شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ مشترکہ اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ دونوں ممالک میں تشدد،جارحیت اور دہشت گردی کی کوئی جگہ نہیں اور دونوں ممالک ان مسائل سے نمٹنے کے لیے مشترکہ جدوجہد جاری رکھیں گے۔ مشترکہ اعلامیہ میں کہا گیا کہ دونوں ملکوں کے سیکرٹری خارجہ اگلے تین ماہ میں ملاقات کریں گے اور تصفیہ طلب معاملات کے حل کے لیے جامع مذاکرات کے پانچویں دور کی تاریخ طے کریں گے۔ مشترکہ اعلامیہ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ جنگ بندی پر سختی سے عملدرآمد کیا جانا چاہیئے اور انسداددہشت گردی میکنزم کے بارے میں ایک خصوصی اجلاس بلانا چاہیئے انسداد دہشت گردی میکنزم میں کابل بم دھماکے پر بھی تبادلہ خیال کیا جائے گا۔دونوں رہنماو¿ں نے دہشت گرد حملوں میں ملوث عناصر کے خلاف نمٹنے کے لیے ٹھوس اقدامات اٹھانے پر بھی اتفا ق کیا ۔ دونوں رہنماو¿ں نے اس بات پر اتفاق کیا کہ حالیہ مہینوں میں دونوں ممالک کے درمیان جاری امن عمل کو نقصان پہنچا ہے پاکستان اور بھارت نے سرحد پار تجارت پر بھی اتفاق کیا ۔ ملاقات کے بعد آصف زرداری نے کہا کہ وہ وزیر اعظم منموہن سنگھ سے انتہائی متاثر ہوئے ہیں اور بھارت میں جو اقتصادی ترقی ہوئی وہ ڈاکٹر منموہن سنگھ کے مرہون منت ہے۔ صدر زرداری نے کہا کہ پاکستان مسئلہ کشمیر کو دوطرفہ بات چیت کے ذریعے حل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں لیکن اگر ضرورت پڑی تو پاکستان اقوام متحدہ میں جانے کا حق رکھتا ہے۔ بھارتی وزیر اعظم من موہن سنگھ نے کہا کہ صدر زرداری سے کشمیر اور دہشتگردی سمیت تمام اہم مسائل اور دونوں ملکوں کے درمیاں تعلقات کو مزید بہتر بنانے پر بات چیت ہوئی۔ بھارتی وزیر اعظم من موہن سنگھ نے کہا کہ صدر زرداری سے سندھ طاس معاہدے کی روشنی میں پاکستان کے ساتھ پانی کے مسئلے پر بات چیت ہوئی ہے اور سندھ طاس معاہدے پر اس کی روح کے مطابق عملدرآمد کیا جائے گا ۔ بھارتی وزیراعظم نے پاکستانی واٹر کمیشن کو دورے کی دعوت بھی دی ۔ بھارتی وزیر اعظم کیساتھ ملاقات سے قبل صدر آصف زرداری نے پریس کانفرنس میں کہا تھا کہ کشمیر بھارت اور پاکستان کے درمیاں ایک انتہائی اہم مسئلہ ہے اور کشمیر میں اٹھنے والی حالیہ احتجابی لہر مقامی لوگوں کی تحریک ہے۔ انہوں نے کہا کہ بے نظیر بھٹو نے بھارت اور پاکستان کے درمیان جو امن کا پیغام دیا تھا اور وہ بینظیر بھٹو کے فلسقے کو عمل تک ضرور لے جائیں گے۔ ۔صدر آصف زرداری نے امریکی نائب صدر کی امیدوار سارہ پیلن سے ملاقات میں ان کی تعر یف کرتے ہوئے کہا کہ آپ انتہائی حسین ہیں اور انہیں دیکھنے کے بعد انہیں سمجھ آیا ہے کہ پورا امریکہ ان کا دیوانہ کیوں ہے۔امریکی ریاست الاسکا کی گورنر اور امریکی نائب صدر کی امیدوار سارہ پیلن خارجہ پالیسی میں اپنی ناتجربہ کاری کو ختم کرنے کے لیے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کے لیے آنے والے عالمی لیڈروں سے ملاقاتیں کر رہی تھیں۔امریکی ذرائع ابلاغ کے مطابق جب سارہ پیلن پاکستانی صدر آصف زرداری سے ملاقات کے لیے نیویارک کے ہوٹل پہنچیں تو ان کا استقبال پاکستان کی خاتون وزیر شیری رحمان نے یہ کہہ کر کیا کہ یہ کیسے ممکن ہے کہ اتنی مصروف شخصیت اتنی خوبصورت بھی لگے۔سارہ ابھی شیری رحمن کا شکریہ ہی ادا کر رہی تھیں کہ چہرے پر مسکراہٹ سجائے صدر آصف زرداری کمرے میں داخل ہوئے اور ان سے ہاتھ ملایا۔آصف زرداری نے کہا ’ آپ انتہائی حسین ہیں اور اب پتہ چلا ہے کہ امریکی عوام آپکی دیوانہ کیوں ہے۔سارہ پیلن نے مسکراتے ہوئے جواب دیا’ آپ کتنے اچھے ہیں‘۔جب دونوں رہنما ہاتھ ملا کر اپنی نشستوں پر بیٹھنے لگے تو پاکستانی وفد کے ایک رکن نے دونوں رہنماو¿ں کو مشورہ دیا کہ وہ فوٹوگرافروں کو تصویر کا موقع دینے کے لیے ہاتھ ملاتے رہیں۔ آصف زرداری نے ہنستے ہوئے کہا کہ اگر اس نے اسی طرح اصرار کیا تو میں گلے بھی لگا سکتا ہوں جس پر سارہ پیلن مسکرا دیں۔جبکہ پاکستان کے صدر آصف علی زرداری نے اقوام متحدہ سے اپنے خطاب میں زور دیا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ صرف طاقت کے استعمال سے نہیں جیتی جا سکتی۔ صدر آصف زرداری نے جنرل اسمبلی سے خطاب کے دوران سابق وزیر اعظم بے نظیر بھٹو کی تصویر پوڈیم پر رکھی اور اپنے خطاب کے آغاز ہی میں دنیا بھر سے آئے وفود کو بتایا کہ خود ان کا خاندان دہشت گردی کا شکار ہوا ہے۔ اور اقوام متحدہ سے درخواست کی کہ وہ انصاف کے نام پر جلد از جلد بے نظیر بھٹو کے قتل کی تحقیقات کا حکم دے۔ ”اگر ایک ملک کے صدر اور اس کے بچوں کو اقوام متحدہ کے ذریعے انصاف نہیں مل سکتا تو دنیا کے غریب لوگوں کو یہ کیسے یقین آئے گا کہ اقوام متحدہ کمزوروں کا دفاع کر سکتی ہے۔” صدر زرداری نے بھٹو ڈاکٹرین یا بھٹو کے منشور کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ یہ اس صدی کا مارشل پلان ہے۔ مارشل پلان کا نقطہ نظر تھا کہ معاشی طور پر مضبوط یورپ کمیونزم کا بہتر طور سے مقابلہ کر سکتا ہے جبکہ بھٹو ڈاکٹرین کے مطابق معاشی طور پر مضبوط پاکستان، انتہا پسندی اور دہشت گردی سے بہتر طور سے نمٹ سکتا ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ یہ ایک خونی جنگ ہے جس میں پاکستان نے اپنے ہزاروں معصوم شہری اور فوجی گنوائے ہیں۔ اور اس جنگ کی بنیادیں سوویت یونین کی افغانستان سے واپسی کے دنوں میں ڈالی گئی تھیں۔ ’دنیا نے سوویت یونین کی ہار کے بعد افغانستان کو بھلا دیا اور پاکستان کو تیس لاکھ پناہ گزینوں کا بوجھ اٹھانا پڑا۔ ان کےکیمپ تشدد اور انتہا پسندی کی درسگاہوں میں بدل گئے۔”
صدر زرداری نے زور دیا کے دہشت گردی کا مقابلہ صرف طاقت سے نہیں کیا جاسکتا بلکہ یہ دل و دماغ کی جنگ ہے جسے معاشی ترقی سے جوڑنا ہوگا۔’اس جنگ کو معاشی میدان میں لڑنا ہوگا ۔ہمیں غریبوں کو امید دلانی ہوگی۔ ان کے مستقبل کو روشن بنانا ہوگا۔ انہیں نوکریاں چاہئیں۔ ان کے بچوں کو تعلیم چاہیے۔ انہیں خوراک چاہیے۔ توانائی چاہیے۔ اور ہمیں لوگوں کو ان کی اپنی حکومت میں حصہ دار بنانا ہوگا ۔” انہوں نے مزید کہا کہ یہ تمام اقدامات پاکستان اکیلے نہیں اٹھا سکتا بلکہ اس میں اسے دنیا کی مدد چاہیے۔ اس کے ساتھ ساتھ انہوں نے یہ بھی کہا کہ پاکستان کی خود مختاری کا احترام بھی ضروری ہے۔ ’ہم اس کی اجازت نہیں دے سکتے کہ ہمارے دوست ہماری زمین اور ہماری خود مختاری کو پامال کریں۔ پاکستان کی سرزمین پر کئے گئے حملوں سے دراصل انہیں عناصر کو فائدہ ہوتا ہے جن کے خلاف ہم یہ مشترکہ جنگ لڑ رہے ہیں ۔” انہوں نے کہا کہ پاکستان کی حکومت بات چیت سے مسائل حل کرے گی۔ ’ہم بہت تحمل سے فاٹا اور اپنے پختونخواہ صوبے کے رہنماو¿ں کو اس پر آمادہ کریں گے کہ وہ دہشت گردی کی پشت پناہی ترک کر کے قانون کی پابندی شروع کریں۔ ” اس کے ساتھ ہی صدر زرداری نے واضح کیا کہ جہاں ضرورت پڑے گی، حکومت طاقت کا استعمال بھی کرے گی۔ جموں اور کشمیر کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے بھارتی وزیر اعظم من موہن سنگھ سے اپنی ملاقات کا ذکر کیا اور کہا کہ خطے کی ترقی کے لیے ضروری ہے کہ دونوں ممالک آپس میں بات چیت کریں اور ایک دوسرے کے نقطہ نظر کو سمجھیں۔ ’ہمیں ایک دوسرے کی عزت کرنی ہوگی اور ایک دوسرے سے مل کر پر امن طریقے سے باہمی مسائل حل کرنے ہونگے تاکہ ہم جنوبی ایشیا کو تجارت اور ٹیکنالوجی کی منڈی بنا سکیں۔” اقوام متحدہ سے خطاب سے پہلے صدر زرداری نے امریکی وزیر خارجہ کونڈولیزا رائس اور برطانوی وزیر خارجہ ڈیوڈ ملی بینڈ سے بھی ملاقاتیں کیں۔ امریکی وزیر خارجہ سے ملاقات کے بعد صدر زرداری نے بتایا کہ پاکستانی افواج نے افغان سرحد پر امریکی ہیلی کاپٹروں پر فائرنگ نہیں کی تھی بلکہ انہیں روشنی کے گولے یا فلیئیرز پھینک کر سرحد کی نشاندہی کی تھی۔ امریکی وزیر خارجہ رائس نے بھی اس موقع پر اعتراف کیا کہ پاکستان اور افغانستان کی سرحد کا کئی مقامات پر تعین کرنا بہت مشکل ہوتا ہے۔ ا یسوسی ایٹڈ پریس سروس،اسلام آباد
صدر زرداری نے زور دیا کے دہشت گردی کا مقابلہ صرف طاقت سے نہیں کیا جاسکتا بلکہ یہ دل و دماغ کی جنگ ہے جسے معاشی ترقی سے جوڑنا ہوگا۔’اس جنگ کو معاشی میدان میں لڑنا ہوگا ۔ہمیں غریبوں کو امید دلانی ہوگی۔ ان کے مستقبل کو روشن بنانا ہوگا۔ انہیں نوکریاں چاہئیں۔ ان کے بچوں کو تعلیم چاہیے۔ انہیں خوراک چاہیے۔ توانائی چاہیے۔ اور ہمیں لوگوں کو ان کی اپنی حکومت میں حصہ دار بنانا ہوگا ۔” انہوں نے مزید کہا کہ یہ تمام اقدامات پاکستان اکیلے نہیں اٹھا سکتا بلکہ اس میں اسے دنیا کی مدد چاہیے۔ اس کے ساتھ ساتھ انہوں نے یہ بھی کہا کہ پاکستان کی خود مختاری کا احترام بھی ضروری ہے۔ ’ہم اس کی اجازت نہیں دے سکتے کہ ہمارے دوست ہماری زمین اور ہماری خود مختاری کو پامال کریں۔ پاکستان کی سرزمین پر کئے گئے حملوں سے دراصل انہیں عناصر کو فائدہ ہوتا ہے جن کے خلاف ہم یہ مشترکہ جنگ لڑ رہے ہیں ۔” انہوں نے کہا کہ پاکستان کی حکومت بات چیت سے مسائل حل کرے گی۔ ’ہم بہت تحمل سے فاٹا اور اپنے پختونخواہ صوبے کے رہنماو¿ں کو اس پر آمادہ کریں گے کہ وہ دہشت گردی کی پشت پناہی ترک کر کے قانون کی پابندی شروع کریں۔ ” اس کے ساتھ ہی صدر زرداری نے واضح کیا کہ جہاں ضرورت پڑے گی، حکومت طاقت کا استعمال بھی کرے گی۔ جموں اور کشمیر کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے بھارتی وزیر اعظم من موہن سنگھ سے اپنی ملاقات کا ذکر کیا اور کہا کہ خطے کی ترقی کے لیے ضروری ہے کہ دونوں ممالک آپس میں بات چیت کریں اور ایک دوسرے کے نقطہ نظر کو سمجھیں۔ ’ہمیں ایک دوسرے کی عزت کرنی ہوگی اور ایک دوسرے سے مل کر پر امن طریقے سے باہمی مسائل حل کرنے ہونگے تاکہ ہم جنوبی ایشیا کو تجارت اور ٹیکنالوجی کی منڈی بنا سکیں۔” اقوام متحدہ سے خطاب سے پہلے صدر زرداری نے امریکی وزیر خارجہ کونڈولیزا رائس اور برطانوی وزیر خارجہ ڈیوڈ ملی بینڈ سے بھی ملاقاتیں کیں۔ امریکی وزیر خارجہ سے ملاقات کے بعد صدر زرداری نے بتایا کہ پاکستانی افواج نے افغان سرحد پر امریکی ہیلی کاپٹروں پر فائرنگ نہیں کی تھی بلکہ انہیں روشنی کے گولے یا فلیئیرز پھینک کر سرحد کی نشاندہی کی تھی۔ امریکی وزیر خارجہ رائس نے بھی اس موقع پر اعتراف کیا کہ پاکستان اور افغانستان کی سرحد کا کئی مقامات پر تعین کرنا بہت مشکل ہوتا ہے۔ ا یسوسی ایٹڈ پریس سروس،اسلام آباد
No comments:
Post a Comment