International News Agency in english.urdu news feature,Interviews,editorial,audio,video & Photo Service from Rawalpindi/Islamabad,Pakistan.Managing editor M.Rafiq,Editor M.Ali. Chief editor Chaudhry Ahsan Premee email: apsislamabad@gmail.com,+92300 5261843 مینجنگ ایڈ یٹر محمد رفیق، ایڈیٹر محمد علی، چیف ایڈیٹرچو دھری احسن پر یمی

Friday, September 12, 2008

بیسٹ سولجز آف دی ایئر جنرل کیانی ۔ تحریر : اے پی ایس اسلام آباد



برطانیہ اور افغانستان نے پاکستان میں امریکی حملوں کی پالیسی کی حمایت کی ہے جبکہ نیٹو نے دہشت گردی کیخلاف اس نئی امریکی حکمت عملی کا حصہ بننے سے صاف انکار کردیا ہے۔ لندن میں امریکی صدر جارج ڈبلیو بش کے ساتھ مشترکہ ویڈیو کانفرنس سے خطاب سے قبل 10 ڈاوننگ اسٹریٹ میں صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے برطانوی وزیر اعظم گورڈن براون نے کہا کہ پاک افغان سرحد پر طالبان کی سرگرمیوں کو روکنے کیلئے نئی حکمت عملی اپنانے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان پر دباو ڈالا جائیگا کہ وہ قبائلی علاقوں میں کارروائی کی اجازت دے، دہشت گردی پاکستان اور امریکا کا مشترکہ مسئلہ ہے اور ہمیں اس سے نمٹنے کیلئے بھی مشترکہ حکمت عملی اختیار کرنا ہوگی۔ انہوں نے بتایا کہ پاکستان کے نئے صدر آصف زرداری کو انہوں نے فون پر مبارکباد دی ہے اور انہیں آئندہ ہفتے برطانیہ دورے کی دعوت دی ہے، جب وہ برطانیہ آئیں گے تو ان سے کہا جائیگا کہ وہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ساتھ دیں۔ دوسری جانب افغان صدر حامد کرزئی نے بھی پاکستان میں کارروائی کیلئے امریکی حکمت عملی کی حمایت کی ہے۔ کابل میں صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے افغان صدر نے کہا کہ ہم نے تقریباً ساڑھے تین سال قبل امریکا کو یہی تجویز دی تھی اور ان سے کہا تھا کہ وہ دہشت گردی کیخلاف جنگ سے متعلق اپنی توجہ پاکستان پر مرکوز رکھیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم اس نئی امریکی حکمت عملی کی حمایت کرتے ہیں، ہمارا موقف صاف اور واضع ہے، ہمیں مشترکہ طور پر دہشت گردوں کے تربیتی مراکز اور محفوظ ٹھکانوں کو تباہ کرنا ہوگا۔ دوسری جانب برسلز میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے نیٹو افواج کے ترجمان جیمس اپاتھورائی نے نئی امریکی حکمت عملی کی مخالفت کرتے ہوئے کہا ہے کہ نیٹو پاکستان میں حملوں سے متعلق امریکی تجویز میں شامل نہیں ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ ہماری پالیسی واضح ہے، ہم مینڈیٹ کے مطابق کام کرتے ہیں اور یہ مینڈیٹ افغان سرحد پر ختم ہوجاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ 18 اور 19 ستمبر کو لندن میں نیٹو کے وزرائے دفاع کا اجلاس ہو رہا ہے جس میں امریکا کی پاک افغان سرحد سے متعلق نئی حکمت عملی پر بحث کی جائے گی لیکن جو بات ہم واضح کرنا چاہتے ہیں وہ یہ ہے کہ ہم اپنی فوج پاکستان نہیں بھیجیں گے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کو بین الاقوامی برادری اور افغانستان کے ساتھ مل کر اس خطرے سے نمٹنے کیلئے موثر اقدامات کرنا چاہئیں جس کا اسے سامنا ہے۔ دوسری جانب امریکی اخبار نیو یارک ٹائمز نے ایک رپورٹ میں اعلیٰ ترین امریکی عہدیدار کے حوالے سے بتایا ہے کہ پاکستان کے قبائلی علاقوں میں صورتحال نا قابل برداشت ہو چکی ہے اور اس سلسلے میں امریکی صدر جارج ڈبلیو بش نے جولائی میں امریکی کمانڈوز کو پاکستان میں زمینی کارروائی کی اجازت دی تھی۔ نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر امریکی عہدیدار نے بتایا کہ احکامات جاری ہونے کے بعد ہمیں جارحانہ رویہ اختیار کرنا پڑ رہا ہے، اس سلسلے میں جب بھی پاکستان میں کوئی کارروائی کی جائے گی اس کے بارے میں پاکستان کو آگاہ کردیا جائیگا اور اجازت طلب نہیں کی جائے گی۔ سینئر امریکی عہدیدار کا کہنا ہے کہ پاکستانی حکومت نے خفیہ طور پر امریکا کی اسپیشل آپریشن فورسز کو محدود زمینی کارروائی کی اجازت دی ہے تاہم یہ اجازت ہر کارروائی کیلئے نہیں ہے۔ انہوں نے یہ نہیں بتایا کہ پاکستانی حکومت کے کس عہدیدار نے اس طرح کی اجازت دی۔ انہوں نے کہا کہ صورتحال نازک ہے کیونکہ پاکستان خود دہشت گردوں کی نرسریاں تباہ نہیں کر پا رہا۔ نیو یارک ٹائمز کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ پاکستان کے قبائلی علاقوں میں امریکی فوج کی جانب سے کسی بھی نئی زمینی کارروائی سے امریکی فوجیوں کو قتل کئے جانے یا ان کی اغوا کے امکانات بڑھ جائیں گے۔ پاکستان کے صدر آصف زرداری چاہتے ہیں کہ پاک فوج قبائل میں عسکریت پسندوں کیخلاف جارحانہ کارروائی کرتے لیکن وہ اس بات کا خطرہ مول نہیں لے سکتے کہ انہیں بھی پرویز مشرف کی طرح امریکا کے خاص آدمی کی طرح دیکھا جائے۔ جبکہ افواج پاکستان کے ترجمان نے کہا ہے کہ غیر ملکی افواج کی پاکستانی سرحدوں کی خلاف ورزی کی صورت میں پاک فوج کو جوابی کاروائی کے احکامات دے دیے گئے ہیں،امریکہ پر واضح کردیا کہ عسکریت پسندوں کے خلاف خود ایکشن لیں گے۔برطانوی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے میجر جنرل اطہر عباس نے کہا کہ امریکی فوج پر واضح کردیاگیا ہے کہ اس کے ساتھ تعاون کے معاہدے میں سرحد پار مداخلت کی کوئی گنجائش نہیں ہے،ہم نے اتحادی فوج کو بتادیا ہے اب اگر ایسا کوئی واقعہ ہوا تو دفاع کا حق محفوظ رکھتے ہیں۔جب ان سے سوال کیا گیا کہ کیا امریکی حملے کا باضابطہ جواب دیا جائے گا تو انہوں نے کہا کہ ہاں یہی احکامات ہیں کہ اگر اب پاکستانی علاقوں میں مداخلت ہوئی تو سرحدی فوجیں جوابی کاروائی کریں گی۔نیٹو فوج کو تیل کی فراہمی روکنے کے سوال پر ترجمان نے موقف اختیارکیا کہ اس کا فیصلہ حکومت کرے گی،ہم یہ دیکھیں گے کہ اتحادی فوج کی طرف سے خلاف ورزی کب اور کس نوعیت کی ہوتی ہے۔اس سوال پر کہ کیا پاکستان آئندہ امریکہ کے ساتھ حالت جنگ میں ہوگا ترجمان نے کہا کہ وہ اس بارے میں کچھ کہنے کی پوزیشن میں نہیں ہیں اسکا فیصلہ فوج نہیں حکومت کرے گی۔انہوں نے کہاکہ ہم نے امریکہ پر واضح کردیاکہ عسکریت پسندوں کے خلاف خود ایکشن لیں گے کیونکہ ہم نے پچھلے دنوں کی گئی کاروائیوں میں بڑی کامیابیاں حاصل کی ہیں۔ وزیر خارجہ نے گذشتہ بدھ کی شام جنرل اشفاق پرویز کیانی کے بیان کی بھرپور حمایت کرتے ہوئے اسے پاکستان کے خلاف مہم جوئی کے حوالے سے پاکستان کی پالیسی کا اعادہ قرار دیا ہے۔ ایک اور پیش رفت کے طور پر پاکستان نے بھارت کے ساتھ تعلقات اور مسئلہ کشمیر سے نمٹنے کیلئے پارلیمنٹ میں کاکس قائم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ دریں اثناء پاکستان اور افغانستان نے مستقبل میں مختلف سطحوں پر تعلقات کار کیلئے شرائط کیلئے اپنے روڈ میپ پر کامیابی سے کام مکمل کر لیا ہے۔ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے گذشتہ جمعرات کی شام دفتر خارجہ میں میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے انکشاف کیا ہے کہ دونوں ممالک نے مذاکرات کے ذریعے اختلافات پر قابو پانے پر اور اپنے عوام کی بہتری اور خطے میں امن کیلئے کام کرنے پر اتفاق کر لیا ہے ۔ وزیر خارجہ نے سینئر اخبار نویسوں کے اعزاز میں افطار ڈنر میں اپنے مختصر بیان میں انہوں نے افغانستان اور پاکستان کے مابین مکمل تعلقات کی بحالی کیلئے طریقہ کار کی وضاحت کی،انہوں نے میڈیا کو بتایا کہ افغان وزیرخارجہ ڈاکٹر رنگین داد فر نے جمعرات کی دوپہر ان سے رابطہ کرکے متعدد مسائل پر تبادلہ خیال کیا۔ انہوں نے بتایا کہ افغان وزیرخارجہ نے تمام فورمز پر دونوں ممالک کے مابین دوبارہ تعلقات کی تجویز پیش کی۔ اس تجویز کے جواب میں روڈ میپ پر اتفاق کیا گیا جس کے مطابق دونوں ممالک کے وزراءخارجہ اس ماہ کے آخر میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے موقع پر ملاقات کریں گے۔ عید الفطر کے فوراً بعد ایک منی جرگہ منعقد کیا جائے گا۔ منی جرگے کے ارکان کی فہرست کا پہلے ہی تبادلہ ہو چکا ہے۔ ریجنل اکنامک کو آپریشن کانفرنس آن افغانستان اسلام آباد میں منعقد ہوگی۔ کانفرنس کے انعقاد کیلئے اس سال نومبر کے دوسرے حصے پر غور کیا جا رہا ہے۔ پاکستان افغان مشترکہ معاشی کمیشن کابل میں منعقد ہوگا۔ کمیشن کے اجلاس کی تاریخ طے کرنے کیلئے افغان وزیر خزانہ اپنے پاکستانی ہم منصب سے رابطے میں رہیں گے۔جبکہ چیف آف آرمی اسٹاف جنرل اشفاق پرویز کیانی کی زیر صدارت ہونیوالی 2 روزہ کور کمانڈرز کانفرنس میں داخلی ، سلامتی اور جیو اسٹرٹیجک صورتحال اور سرحدی خلاف ورزی کے واقعات کا جائزہ لیا گیا۔ عسکری ذرائع کے مطابق جی ایچ کیو راولپنڈی میں ہونے والی کانفرنس میں تمام کور کمانڈرز اور پرنسپل اسٹاف افسران نے شرکت کی ۔ دو روزہ کانفرنس کے پہلے روز جمعرات کو فوج کے پیشہ وارانہ امور ،جنگی تربیتی مشقیں اور فوجی جوانوں کی فلاح و بہبود سے متعلق امور زیر غور آئے ۔ذرائع کا کہنا ہے کہ سرحدوں کی صورت حال کا بھی جائزہ لیا گیا جبکہ ڈائریکٹر جنرل ملٹری آپریشن نے سوات اور قبائلی علاقوں میں سیکورٹی کی صورت حال اور شر پسندوں کے خلاف سیکورٹی فورسز کی کاروائیوں بارے میں بریفنگ دی ۔ عسکری ذرائع نے مزید بتایا کہ اس کے علاوہ پاک افغان سرحدی معاملات اور اتحادی افواج کی طرف سے پاکستان کی سرحدوں کی خلاف ورزی کے واقعات کا بھی جائزہ لیا گیا اور ملکی سالمیت اور خود مختاری کے عزم کو دہرایا گیا ۔ دو روزہ کانفرنس جمعہ کو اختتام پذیر ہو گئی۔ پاکستان کے سولہ کروڑ عوام اور سیاسی جماعتوں کے رہنماو¿ں نے آرمی چیف جنرل اشفاق پرویز کیانی کی جانب سے سرحدوں کے دفاع کا عزم کرنے کے بیان کا خیرمقدم کیا ہے ۔ جمعیت علماء اسلام (س) کے سربراہ سینیٹر مولانا سمیع الحق نے جنرل کیانی کے اس بیان کو پاکستان کے سترہ کروڑ عوام کے دلوں کی ترجمانی قرار دیتے ہوئے کہا کہ عین اس وقت جبکہ پاکستانی قوم پاکستان کی سلامتی اور خود مختاری کے بارے میں نہایت مایوسی کا شکار ہے جنرل کیانی کے اس بیان سے انہیں حوصلہ ملے گا ۔ مولانا سمیع الحق نے اس مرحلہ پر افواج پاکستان اور نئے حکمرانوں سے مطالبہ کیا ہے کہ پاکستان قبائلی علاقوں میں دہشت گردی کے نام پر عوام کے خلاف جاری پاکستان فوج کے آپریشنوں کو یک لخت ختم کرکے پاکستانی عوام کے دلوں کو موہ لیں۔ پاکستان مسلم لیگ (ق) کے سیکریٹری جنرل سینیٹر مشاہد حسین سید نے کہا ہے کہ امریکی دھمکیوں پر غور کیلئے پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس بلا کر تفصیلی مشاورت سے متفقہ پالیسی تشکیل دی جائے جو نہ صرف عوام کی امنگوں کی عکاس بلکہ ملکی سرحدوں کی حفاظت کی بھی ضامن ہو۔ جمعرات کو ایک انٹرویو میں امریکی فوج کے سربراہ کے بیان پر اپنے ردعمل کا اِظہار کرتے ہوئے ا±نہوں نے کہا کہ حکومت ‘ فوج اور تمام سیاسی قوتوں کو اسکی مذمت کرنی چاہئے فوج اور سویلین حکومت کا موقف ایک ہونا چاہئے اور امریکہ کو باور کرایاجائے کہ وہ اپنی ناکامیوں اور غلطیوں کا ملبہ ہم پرنہ ڈالے۔ ا±نہوں نے کہاکہ جنرل اشفاق پرویزکیانی نے دوٹوک الفاظ میں واضح کہا ہے کہ امریکہ سے کوئی معاہدہ نہیں ہے ا±نکے اس بیان سے بھی واضح ہوگیا ہے کہ 27 اگست کو امریکی فوجی سربراہ کے ساتھ انکی ملاقات میں کوئی خفیہ معاہدہ نہیں ہوا۔ مسلم لیگ (ن) کے سیکرٹری اطلاعات احسن اقبال نے رمضان المبارک کے مقدس مہینے کے دوران نیٹو افواج کی طرف سے جاری حملوں اور اسکے نتیجے میں معصوم اور بے گناہ شہریوں کی ہلاکتوں کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے اسے پاکستان کی سالمیت کیلئے بڑا چیلنج قرار دیا۔ ا±نہوں نے کہا کہ پاکستان اور اسکی سرزمین کو امریکی صدارتی انتخابات کیلئے ہرگز اکھاڑہ اور تھیٹر نہیں بننے دیا جائیگا اور وطن کی سالمیت اور دفاع کیلئے سیاسی سفارتی اور دفاعی سطح پر کوئی بھی دقیقہ فروگزاشت نہیں کیا جانا چاہئے۔ جبکہ سابق سیکرٹری خارجہ تنویر احمد خان نے معروف امریکی اخبار نیویارک ٹائمز کے اس انکشاف پرکہ امریکی صدر بش نے پرویز مشرف کے دور جولائی 2008میں ایک ایگزیکٹو آر ڈر پر دستخط کیے تھے جس کے تحت امریکی و اتحادی افواج کو پاکستان کی سرزمین پر جنگجووں کے خلاف کارروائی کی اجازت دی گئی تھی کہا ہے کہ اس خبر میں بالواسطہ طور پر یہ کہا گیا ہے کہ اس مفاہمت میں پاکستانیو ں کی مرضی شامل تھی اور ایسا لگتا ہے کہ یہ طے ہوا ہے کہ امریکی ہماری سرزمین پر حملے سے پہلے کبھی کبھی اطلاع فراہم کریں گے،اجازت نہیں مانگیں گے۔ امریکہ میں پاکستان کے سفیر حسین حقانی نے امریکہ کی نیشنل سکیورٹی کونسل کے اعلیٰ حکام سے وائٹ ہاوس میں ملاقاتیں کی ہیں جن میں امریکی حکام نے یقین دہانی کرائی ہے کہ آئندہ پاکستان کی حدود میں حملے نہیں کئے جائیں گے اعلیٰ امریکی حکام نے یہ یقین دلایا ہے کہ امریکہ کا اس قسم کا کوئی ارادہ نہیں ہے کہ وہاں پر کوئی فوجی کارروائی کی جائے یا کمانڈوز بھیجے جائیں۔ امریکی حکام کا یہ کہنا تھا کہ امریکہ پاکستان کو اپنا ایک پارٹنرسمجھتا ہے اور اس کی خود مختاری کا احترام کرتا ہے حسین حقانی نے ایک سوال کے جواب میں یہ بھی بتایا کہ اخبارات میں چھپنے والی یہ اطلاعات بالکل غلط ہیں کہ صدر بش نے اس قسم کی کوئی منظوری دی ہے جس کے تحت امریکی فوجی حکام سے یہ کہا گیا ہے کہ وہ پاکستانی علاقے میں جا کر کارروائی کریں۔ انہوں نے یہ بھی بتایا ہے کہ بہت جلد نیٹو اس سلسلے میں ایک وضاحتی بیان بھی جاری کرے ۔جبکہ دفاعی ماہر جنرل (ر) طلعت مسعود نے کہا ہے کہ چیف آف آرمی اسٹاف جنرل اشفاق پرویز کیانی کی طرف سے سرحدی خلاف ورزی برداشت نہ کرنے کے بیان پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ کم بولتے ہیں اور جب کوئی بات کرتے ہیں تو سوچ سمجھ کر کرتے ہیں۔ لہذا یہ انتہائی اہم ہے اس سے امریکہ کو پاکستان کے ساتھ اتحاد قائم رکھنے میں مشکلات پیش ہو سکتی ہیں۔ اس سے طرفین کو شدید نقصان ہو سکتا ہے اور امریکہ کی طرف سے یک طرفہ کارروائی مزید خطرناک ہو سکتی ہے۔ ایسے ہی اگر پاکستان نے امریکہ اور اتحادی فوجوں کے لئے لاجسٹک سپورٹ بند کر دی تو اس سے بہت دوررس اثرات مرتب ہو سکتے ہیں اور اس سے امریکی آپریشن کمزور پڑ سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ میرا خیال ہے کہ پاکستان فوج میں جواب دینے کی بھرپور صلاحیت موجود ہے۔جبکہ وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی نے کہا ہے کہ پاکستان کی خودمختاری ہرچیز پر مقدم ہے‘ قوم امریکی کمانڈر کے بیان سے فکرمند نہ ہو‘ ملکی دفاع مضبوط ہاتھوں میں ہے‘ ہم ذمہ دار قوم ہیں‘ پاکستان کی سرزمین کے دفاع کے لئے چیف آف آرمی اسٹاف جنرل اشفاق پرویز کیانی کا بیان میرا بیان ہے۔ ہم ایک ہیں‘ ایک رہیں گے‘ آرمی چیف نے جو کچھ کہا ہم اس کی توثیق کرتے ہیں‘ پاکستان کی سرزمین پر غیرملکی افواج کو کسی کارروائی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ جنرل کیانی نے ایک بار پھر پاکستان کے عوام کے دل جیت لئے ہیں اگرچہ جنرل کیا نی نے اس سال کو سولجر کا سال قرار دیا ہواہے لیکن پا کستان کے سولہ کروڑ عوام نے جنرل کیانی کو بیسٹ سولجر آف دی ایئر قرار دیا ہے ۔اے پی ایس

No comments: